Ayahs 6:123–130رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے کام کا اہل نہ رہے تو وہ مردہ اور بیکار شمار ہوگا اسی طرح انسان بھی ایک مخلوق ہے اور اس کی ذمہ داری بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی کہاں سے شروع ہوئی اس کا خاتمہ کیا ہے اور سب کاروبار حیات کا نتیجہ کیا ہوگا اس سب پر نگاہ کرکے ایسا کردار اپنائے جو اسے انجام کار کامیابی سے ہمکنار کردے اور ایسے لوگوں کا دامن تھامے جو اس موضوع پر صحیح رہنمائی کرسکتے ہوں یہی وجہ ہے کہ نبوت پر ایمان ضروری ہے کہ انبیاء کے بغیر اس وسیع میدان کی پہنایوں میں کسی کی نگاہ کام نہیں کرسکتی اسی عظیم مقصد نے انسانیت کو ساری مخلوق میں فضیلت عطا کردی ورنہ جن بےدین دانشور کہلانے والوں نے انسان کو محض ایک ہوشیار جانور قرار دیا ہے انہوں نے انسان کو گدھے اور درندوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے اگر انسان کا مقصد حیات صرف کھانا پینا گھر بنانا یا اولاد پیدا کرنا اور مرجانا ہی ہے تو پھر اس میدان میں بیشمار جانور اس سے بازی لے جاسکتے ہیں کہ بہترین قدرتی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اس سے زیادہ صحت مند اور طاقتور ہوتے ہیں اچھی خوراک پسند کرکے کھاتے ہیں گھر بناتے اور بچے پالتے ہیں جب کہ یہ ہزار قسم کی مشینوں کا متاہج ہے وہ بےتکلف زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے بھلے برے یعنی نفع یا نقصان دینے والی چیزوں سے واقف ہوتے ہیں علاوہ ازیں جانوروں کا گوشت کھال ہڈیاں تک دوسروں کے کام آتی ہیں حتی کہ نباتات میں بھی یہ اوصاف موجود ہیں کہ پھل پھول لکڑی اور چھال تک مفید ہوتی ہے ان سب چیزوں کی منفعت صرف دنیا کی زندگی کے لیے ہے جب کہ انسان کا کردار خالق کائنات کے قرب کو پانے کی اہلیت رکھتا ہے دنیا کی ساری مخلوق کی زندگی صرف دنیا کے ساتھ ہے جب کہ انسان ہمیشہ کے لیے ہے اگر وہ ابدی کامیابی کے لیے کام نہیں کر رہا جس کی بنیاد ایمان ہے تو اس کی روح ایک مردہ لاش ہے جسے جسم کی قبر گھسیٹ رہی اور ایمان ایک نور ہے اس اعتبار سے بھی کہ راہ حیات روشن کردیتا ہے اور انسان اس طویل سفر کے نشیب و فراز دیکھ سکتا ہے پھر گڑھوں میں گرنے کی بجائے درست راستہ اختیار کرسکتا ہے جب کہ کافر نور ایمان سے محرومی کے باعث ضلالت و گمراہی کے گڑھوں میں گرتا رہتا ہے اور بالآخر تباہ ہوجاتا ہے اور اس معنی میں بھی نور ہے کہ نبی رحمت ﷺ کے قلب اطہر کی نورانیت قبول ایمان کے سبب مومن کے قلب سے رابطہ پیدا کرتی ہے پھر جس قدر اطاعت کرتا ہے یہ روشنی بڑھتی رہتی ہے حتی کہ وہ قوت پیدا کرلیتا ہے کہ اس سے ملنے والے بھی راستہ پانے لگتے ہیں یعنی وہ اس نور کو لیکر امور دنیا میں سرگرم رہتا ہے اور میدان عمل میں راہ حق کو واضح کرتا چلا جاتا ہے محض گوشہ گیری میں اختیار نہیں کرتا اگر کشفاً دیکھا جائے تو ہر مومن کے دل کی تار رسول اللہ ﷺ کے قلب اطہر سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس میں کمی یا زیادتی کا مدار اتباع اور اطاعت پر ہوتا ہے۔
نور ایمان اور تصوف :
جن لوگوں کو ایمان کے ساتھ آپ ﷺ سے شرف صحبت نصیب ہوا۔ ان کے قلوب روشنی کے مینار بن گئے اور وہ شرف صحابیت سے مشرف ہوئے جو نبوت کے بعد اعلی ترین درجہ ہے اسی کے طفیل انہیں کمال اطاعت بھی نصیب ہوا یہ دولت سینہ بسینہ تابعین تبع تابعین اور مشائخ عظام نے مجالس سے ہی حاصل کی یہی سارا تصوف ہے اور تمام مجاہدوں کا ماحصل۔ اور یہی سب سے بڑا فائدہ ہے جو مومن سے انسانیت کو نصیب ہوتا ہے کہ اس کے ہمنشین بھی دلوں کی روشنی حاصل کرتے رہتے ہیں۔
اس کے مقابل جو اس روشنی سے محروم ہیں یعنی کفار اور اسی تاریکی میں سرگرداں ہیں اس سے نکل بھی نہیں پار ہے وہ ہرگز ان کے برابر نہیں ہوسکتے بلکہ کفر کی تاریکی نے ان کے مزاج ہی بدل دئیے ہیں اور انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ اس تاریکی پر مزید سیاہی چڑھانا ہی بہت بڑا کام ہے ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے یہی بات ان کے مزاجوں میں پیدا کردی ہے لہذا وہ اسی میں غرق ہوتے جا رہے ہیں اور اس مرض کا شکار عموماً امرا ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہوتے ہیں چناچہ جب وہ گناہوں میں ڈوب گئے تو اللہ نے ان کے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا فرما دیا جو اس امت میں نہیں پہلے بھی ہوتا رہا ہے چناچہ انہوں نے اپنی برائیوں کو پھیلانے کی چالیں چلیں تو غریب اور عام لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس برائی اور کفر میں مبتلا ہوتے چلے گئے اس لیے نہ تو لوگوں کی کثرت کو دیکھا جائے گا اور نہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ بڑے بڑے لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ معیار صرف اور صرف حق ہے جو بھی حق پر ہو اس کا ساتھ اختیار کرنا چاہئے کفار بظاہر تو سب کچھ حق کو مٹانے کے لیے کرتے ہیں مگر یہ تدبیریں خود ان کے خلاف پڑتی ہیں کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے یہ اپنی دائمی زندگی کو ناکامیوں اور نامرادیوں سے بھر رہے ہیں۔
ذرا ان کا حال دیکھئے جب ان کے پاس اللہ کریم کا پیغام پہنچا اور اللہ کا نبی ﷺ نوید حیات لایا تو کہنے لگے بھئی ہم جب مانیں گے جب وہی بات جو آپ سے ہوتی ہے ہم سے کبھی ہو آخر ہم بھی تو انسان ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی وساطت سے ہی بات سنیں۔
نبوت و رسالت :
یہ نادان اور جاہل لوگ نبوت و رسالت کی عظمت سے نا آشنا ہیں ان کا خیال خام ہے کہ ہم مالدار سردار ہیں یا ہمارے پاس اقتدار ہے یا اور کوئی خاندانی یا نسبی وجاہت ہے تو ہم سے بھی بات ہوجائے حالانکہ مکالمہ الہی کے سزاوار صرانبیا ہوتے ہیں اور یہ عہدہ انعام باری ہے جو وہ اپنی پسند سے عطا فرماتے ہیں کوئی بھی انسان خاندانی وجاہت یا اقتدار یا علم و فن اور محنت و مجاہدہ سے نبی نہیں بن سکتا یہ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ رسالت کیسے عطا فرماتا ہے اور نبی کیسے بناتا ہے یعنی انبیاء بیشک انسان ہی ہوتے ہیں مگر وہ معیار انسانیت ہوتے ہیں تخلیقی طور پر ایک خاص استعداد کے مالک ہوتے ہیں اور معصوم عن الخطا یعنی ان کے مقدس وجودوں میں خطا کا مادہ ہی نہیں ہوتا غیر معصوم ساری زندگی خطا نہ کرے خطا کا امکان تو موجود رہتا ہے۔ اس لیے وہ حامل وحی نہیں ہوسکتا یہ دولت صرف ان کو نصیب ہوتی ہے جنہیں اللہ کریم عطا فرمائیں تم بھی انسان ہو تو پھر اپنا بچپن لڑکپن اور جوانی اللہ کریم کے نبی ﷺ کے مقابل لاؤ دیکھو کتنے فاصلے ہیں یہی دھوکا ان حضرات کو بھی لگتا ہے جو اپنے کو انسان سمجھ کر بشریت انبیاء کا انکار کردیتے ہیں اور واقعی اگر ہم اپنی اس حالت کے ساتھ انسان ہیں تو نبی ﷺ کو بہرحال افضل ہونا چاہئے مگر حق یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ انسان کامل ہیں اور ہم میں جو ادا آپ کی غلامی اور نسبت کی ہے وہ انسانیت ہے اور جو عقیدہ یا کردار آپ کے نور سے محروم ہے وہ مھض حیوانیت ہے ان کا یہ مطالبہ نہ صرف انکار ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی جیسا جرم عظیم ہے اس کے بدلے انہیں سخت عزاب کے ساتھ نہایت ذلت بھی ملے گی اور ان کی ساری اکڑ خاک میں مل جائے گی آخرت میں تو ایسا یقیناً ہوگا تاریخ عالم نے اس دنیا میں بھی گستاخان رسالت کا غرور خاک میں ملتے دیکھا ہے بعض لوگ تو محض دیکھا دیکھی ان کے ساتھ شامل تھے آخر توبہ نصیب ہوئی اور خدام رسالت میں پناہ ملی مگر جو لوگ ہر حال میں مخالفت پہ تل گئے تھے وہ سب ذلت کی موت سے دو چار ہو کر باعث عبرت بن گئے۔
شرح صدر فیضان صحبت کا اثر ہے :
اللہ کریم جسے ہدایت دینا چاہیں اس کا سینہ قبول اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو بھی انسان اللہ سے ہدایت کا طالب ہو یا اس کے دل میں ہدایت کی طلب پیدا ہو تو اللہ کریم اسے ایسے اسباب مہیا فرما دیتے ہیں جن کی وجہ سے اس کا دل روشن ہو کر اس قابل ہوجاتا ہے کہ اللہ کی بات قبول کرسکے اس کی مثال صحابہ کرام ہیں جنہیں حق تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب فرمائی تو ان کے سینے احکام الہی کو اس طرح قبول کرتے تھے کہ کبھی کسی کو نہ وسوسہ پیدا ہوا اور نہ اعتراض ان کے سوالات تشریح اور وضاحت کے لیے تو ہوتے تھے مگر انہیں کبھی اعتراض پیدا نہ ہوا اس کی وجہ ان کا شرح صدر تھا یعنی دل کی وہ حالت کہ حق کو فوراً قبول کرلیتا تھا اور باطل کو رد کردیتا تھا اسی لیے اللہ نے انہیں معیار حق قرار دے دیا یہی نعمت وارثان نبوت کی مجالس میں تقسیم ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے جو محنت و مجاہدہ شیخ کی صحبت میں رہ کر یا اس کے طریقے سے کیا جاتا ہے اسے اصطلاح میں تصوف کہا جاتا ہے اور یہی معیار بھی ہے کہ اگر دل میں نیکی کی طلب اور خشوع خضوع پیدا ہورہا ہے تو جس شخص کی مجلس میں یہ دولت ملے وہ اکسیر ہے ورنہ محض کشف اور عجائبات کا ظہور کوئی مقصد نہیں۔ اور شبہات دور کرنے کا طریقہ بھی اسی نعمت کا حصول ہے ورنہ محض دلائل اور مباحثہ سے کبھی یقین کی دولت نہیں ملتی یہی حال اس کے برعکس کا ہے اگر اللہ کریم ناراض ہوں جس کا سبب بھی انسان کی اختیار کردہ راہ اور اس کا عمل ہی ہوتا ہے تو پھر سینہ اسلام کے لیے تنگ ہوجاتا ہے اتنا تنگ کہ قبول اسلام ہی اسے دنیا میں مشکل ترین کام نظر آتا ہے اور اطاعت الہی دشوار ترین محسوس ہوتی ہے اور اس کے دل پر نجاست اور تاریکی کی تہ بڑھتی چلی جاتی ہے یہ وہ نامرادی ہے جو اہل اللہ کی مخالفت کا ثمر ہے کہ دل تباہ ہو کر گناہوں میں غرق ہوجاتے ہیں۔
اس لیے مذکورہ راستہ ہی آپ ﷺ کے رب کا پسندیدہ اور سیدھا راستہ ہے یعنی نیک لوگوں کا ساتھ ہی نیک عمل تک پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور اہل ھق سے ہی ہدایت ملتی ہے اگر کسی شخص کے اپنے عقاید یا اعمال درست نہ ہوں تو وہ خود اس دولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دوسروں کو اس سے کیا حصہ دے سکتا ہے لہذا اہل اللہ کی مجالس میں حصول حق کی خاطر حاضری ضروری ہے محض دنیاوی فوائد کو مقصد بنا لینے والے صحیح راستے پر نہیں ہوسکتے اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو باتیں بہت واضح کرکے ارشاد فرما دی گئی ہیں لیکن محض کج بحثی کرنے والوں کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔
کشف بہت بڑا انعام بھی ہے :
ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ کے پاس سلامتی کے گھر ہیں یعنی آخرت میں جنت اور دنیا میں رضائے الہی کی طلب اور ان کے اس کردار کی وجہ سے کہ انہوں نے ایمان قبول کیا اور اہل حق کی مجلس اختیار کی انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے وہ دنیا میں بھی پریشان نہیں ہوتے یہاں صاحب معارف القرآن نے لکھا ہے کہ دنیا میں اللہ کریم آخرت کی نعمتوں کو مستحضر فرما دیتے ہیں جس کی وجہ سے اگر دنیا میں تکلیف بھی آئے تو ان نعمتوں کے مقابل ہیچ نظر آتی ہے جیسے دنیا کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ کس قدر تکالی فبرداشت کرلیتے ہیں مہینہ بھر کی تھکن کو تنخواہ کی امید پر برداشت کرتے ہیں اور منصب و اقتدار کے لیے کیسے کیسے جتن کرتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کسی پر آخرت اور اس کی نعمتوں کو منکشف فرما دیں تو دنیاوی تکالیف کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی جب کہ یہ صرف نور ایمان اور فیوضات نبوت سے ہی ممکن ہے۔
دوسرا انعام انہیں معیت باری کا نصیب ہتا ہے اور تمام امور میں اللہ کی تائید اور مدد شامل ہوتی ہے اگر بظاہر تکلیف یا ناکامی بھی ہو تو رضائے دوست ہونے کی وجہ سے لذت سے خالی نہیں ہوتی۔ صورتا مصیبت مگر حقیقتاً ایک گونہ انبساط لیے ہوئے ہوتی ہے۔
شیطان سے رابطہ :
رہا دوسر فریق یعنی کفار تو یہ اکیلے نہیں بلکہ دل کی سیاہی شیطان کے ساتھ رابطہ پیدا کرتی ہے اور یہ لوگ اس سے راہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں اور بعض خواہشات کی تکمیل بھی چاہتے ہیں اس کی وضاحت اس روز ہوجائے گی جب ہم ان سب کو اکٹھا جمع کریں گے اور جنوں سے یعنی شیاطین سے سوال ہوگا کہ تم نے تو بہت سے انسان اپنے تابع کرلیے تو ان کے دوست انسان پکار اٹھیں گے کہ بیشک ہم نے ایک دوسرے سے فائدے حاصل کئے شیطان الجن نے یہ فائدہ حاصل کیا کہ بہت سے انسانوں کو گمراہ کرکے اپنے پیچھے لگا لیا اور انسانوں میں سے جو شیطان بن گئے انہوں نے تکمیل خواہشات کی راہیں سیکھیں اور شیطان کے اثر سے مختلف شعبدے حاصل کرکے لوگوں پر رعب جمایا اور ان کے مال عزتیں برباد کیں یہی بدکاروں سے عجائبات کے ظاہر ہونے کا راز ہے چناچہ دونوں آخرت سے محروم ہو کر اور گناہوں سے لد کر کفر کی ظلمت لیے اس انجام کو پہنچ گئے ہیں جو ان اعمال پر مقرر تھا تو ارشاد ہوگا کہ اب تم دونوں گروہوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا اللہ کے سوا کوئی وہاں سے نکال نہیں سکتا اور اللہ نے کافر کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے کہ اسے جہنم سے کبھی نہ نکالے گا اور اس کے فیصلے بہت درست ہوتے ہیں کہ وہ حکمت والا بھی ہے اور دانا تر بھی۔
آخرت کا ساتھ : ہم ظالموں کو ظالموں کے ساتھ ملا دیتے ہیں کہ ان کے اعمال ایک جیسے ہوتے ہیں اس کی کوئی صورتیں مفسرین کرام نے نقل فرمائی ہیں ایک مفہوم تو یہ ہے آخرت کا حشر نسل رنگ وطن یا زبان وغیرہ کی بنیاد پر نہ ہوگا بلکہ عقائد اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا کافر کافر کے ساتھ جمع ہوگا اور مومن مومن کے ساتھ خواہ دنیا میں ان کا رنگ ونسل کا فرق ہو یا زمانے کا اسی لیے بعض گناہوں پر فرعون اور ہامان کے ساتھ حشر ہونے کی وعید حدیث شریف میں ملتی ہے پھر کافروں کے بھی درجے ہوں گے اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے اور عموماً سب ہی ایک جیسے ہوں گے کہ سب کا تعلق شیطان سے تھا جس نے انہیں پوری طرح تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ایسے ہی مومن بھی اپنے اپنے درجے کے لوگوں کے ساتھ کوئی عبادت گذاروں سے ہوگا تو کوئی مجاہدین میں سے کسی نے علمی خدمات انجام دی ہوں گی تو دوسروں نے مال قربان کئے ہوں گے غرض یہ کہ دنیا کی تقسیم اور پارٹی بندی یا رنگ و نسل کا اعتبار نہیں نہ اس کی کوئی حیثیت ہوگی۔
دوسرا مفہوم اس کا دنیا میں بھی نگاہوں کے سامنے ہے کہ ہر مزاج کے آدمی کو ایسے ہی افراد کی مجلس نصیب ہوتی ہے اگر دل میں نیکی کی طلب پیدا ہوجائے تو اللہ کریم نیک لوگوں کی صحبت میں پہنچا دیتا ہے جس کے باعث مزید توفیق ارزاں ہوتی ہے اور شرح صدر اور دل کی روشنی نصیب ہوتی ہے مگر دل میں کھوٹ ہو تو مجالس بھی بری ملتی ہیں جو مزید گمراہی میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہیں ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ کسی حاکم پر راضی ہو تو اسے نیک عامل اور وزراء عطا کرتا ہے اور حکومت میں انصاف اور ترقی کا دور دورہ ہوتا ہے اگر خفا ہو تو برا عملہ دیتا ہے جو اسے چاہے بھی تو اچھا کام کرنے نہیں دیتے۔
یہی حال قوموں کا ہے کہ بدکاروں پر برے حاکم مسلط کردئیے جاتے ہیں تیسرا مفہوم یہی ہے کہ ظالموں پر ظالم ہی مسلط کرکے انہیں سزا دی جاتی ہے پھر ان پر کوئی اور مسلط ہوجاتا ہے یا بڑا ظالم عذاب الہی کی گرفت میں آجاتا ہے دنیا بھی اخروی انجام کا شیشہ دکھاتی ہے فرق اتنا ہے کہ یہاں توبہ کی فرصت موجود ہے اگر کوئی واپس آنا چاہے تو راستہ بند نہیں جبکہ آخرت میں واپسی کا راستہ نہیں ہوگا۔
Ayahs 6:131–141رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی کے طور پر مبعوث نہیں ہوا بلکہ انبیاء انسانوں میں سے آئے اور جنات بھی انہی کی اطاعت کے مکلف تھے سوال یہ ہے کہ جنات تو ہزاروں سال پہلے سے بھی زمین پر آباد تھے پھر آدم (علیہ السلام) سے پہلے ان میں نبوت کا ہونا ضروری ٹھہرا بعض مفسرین نے ایک نام بھی نقل فرمایا ہ ہے یوسف بن یاسف کہ یہ جن تھے اور نبی تھے تفسیر مظہری میں یہ امکان کے طور پر ہے کہ ہندوؤں نے جو مذہب اپنا رکھا ہے ممکن ہے جنات کا مذہب ہو اور ان میں سے کسی نبی کی تعلیمات ہوں جو بعد میں شرک سے بھر دی گئیں کہ ان کے بتوں کی صورت عجیب و غریب ہوتی ہے کسی کے متعدد ہاتھ کسی کے کئی سر اور کسی کی سونڈ ہاتھی کی طرح وگیرہ ممکن ہے یہ جنات کی شکلیں ہوں نیز ان کی مذہبی حکایات بھی دیومالا قسم کی ہیں مگر یہ صرف امکان ہے اس پر کوئی دلیل نہیں۔
کیا جنات میں بھی نبوت و رسالت تھی :
حق یہ ہے کہ نبوت کی استعداد صرف بنی آدم کو عطا ہوئی اور ازل میں انبیاء سے عہد لیا گیا جو سب اولاد آدم (علیہ السلام) تھے نیز اس استعداد کا اثر ساری انسانیت میں ہے کہ جو بھی نبی کے ساتھ ایمان لائے اس کا دل تجلیات باری کو پالیتا ہے اگر کسی صاحب حال کی صحبت نصیب ہو تو روحانی ترقی کی سب منازل طے کرسکتا ہے یہی انسان کے باقی مخلوق سے افضل ہونے کا راز بھی ہے اگر جنات میں بھی نبوت ہوتی تو ان سے یہ استعداد سلب نہ ہوتی مگر تجربہ یہ ہے کہ جنات انوارات کو اصلاً برداشت ہی نہیں کرسکتے جل جاتے ہیں ہاں ان جنات کو جنہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو جنوں تک پہنچایا عرفاً رسول کہہ دیا جاتا ہے یعنی رسولوں کے رسول اور آدم (علیہ السلام) سے قبل جو بات احادیث میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین پر جنات فساد کرتے تو آسمان سے فرشتوں کو بھیج دیا جاتا جو ظالموں کو سزا دیتے اور کسی نیک اور شریف کو بحکم الہی ان پر حاکم مقرر کردیتے جو انہیں ظلم و جور سے روکتا رفتہ رفتہ پھر خرابیاں پیدا ہوتیں تو ان کا یہی حل ہوتا تھا سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اسی تجربہ کی بنا پر فرشتوں نے عرض کیا تھا کہ زمین پر جو مخلوق پیدا ہوگی وہ قتل و غارت اور فساد بپا کرے گی ان جنوں کو جنہیں امیر مقرر کیا جاتا تھا عرفاً رسول یعنی بات پہنچانے والے کہہ دیا جاتا ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو الہام سے نوازا گیا مگر ارشاد ہوا۔ واوحینا الی ام موسیٰ حالانکہ شرعی اصطلاح میں وحی اس خطاب کو کہا جاتا جو اللہ کی طرف سے اس کے نبی کو ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ ام موسیٰ نبی نہ تھیں دوسری بات یہ ہے کہ پورے قرآن میں جنات کے ساتھ جنت کا وعدہ نہیں بلکہ اطاعت کرکے وہ دوزخ سے بچ سکتے ہیں جب کہ گناہ پر دوزخ کی وعید موجود ہے اگر جنات میں نبوت ہوتی تو جنت کے خلود کا وعدہ بھی ضرور ہوتا۔ اسی لیے علماء کا قول ہے کہ جنات ہمیشہ نہ رہیں گے بلکہ جو سزا پا کر جہنم داخل ہوئے ان کے علاوہ دوسروں کو فن ا کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالثواب۔ ان سب کی گمراہی کا سبب یہ تھا کہ لذات دنیا سے دھوکا کھا گئے اور ان کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا جو عمر عزیز قرب الہی کو پانے کے لیے تھی اسے فانی دنیا کی طلب میں ضائع کر بیٹھے آج اقرار کر رہے ہیں کہ بیشک ہم کافر تھے ۔
اور یہ سب اہتمام اس لیے کہ رب العلمین (تیرا رب) سبحان اللہ براہ راست شرف رسول اللہ ﷺ کا ہے اور ان کے طفیل ہر مومن کا کہ رب العلمین فرمائے تیرا رب یہ اتنا بڑا انعام ہے جس کا اندازہ کوئی صاحب دل ہی کرپاتا ہے۔ کسی کو بھی لاکھوں گناہوں کے باوجود غفلت میں تباہ نہیں کرتا ہمیشہ ہر قوم ہر زمانے میں برائی پر تنبیہ کی جاتی ہے پھر نہ ماننے والے عذاب الہی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور سب کی درجہ بندی کی جاتی ہے سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا جو جس درجے میں ہو نیکی یا برائی میں اس درجے کے لوگوں سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ رب جلیل ہر ایک کے ہر عمل اور ارادے سے باخبر ہیں۔
تیرا رب تو مستغنی اور بےنیاز ہے کوئی اس کی عبادت و اطاعت کرے یا نہ کرے اس کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ ذوالرحمۃ بھی ہے اسے نہ مخلوق کو پیدا کرنے کی حاجت تھی اور نہ کسی کی بندگی کا محتاج یہ محض اس کی رحمت ہے کہ مخلوق کو وجود بخشا اور بیشمار نعمتیں اس کے لیے پیدا فرما دیں انسان تو غرض سے کام کرتا ہے غریب اگر پیسے کے لیے امیر کا محتاج ہے تو امیر کام کے لیے غریب کا منتظر اگر کسی کو دوسرے سے غرض نہ ہو تو اس کی پرواہ ہی نہیں کرتا حالانکہ سب کسی نہ کسی احتیاج میں مبتلا رہتے ہیں مگر اللہ بےنیاز ہے کسی سے اس کی کوئی غرض وابستہ نہیں یہ محض اس کی رحمت ہے کہ عدم سے وجود بخشا اعضا وجوارح عقل و خرد اور بیشمار نعمتیں عطا کیں پھر مزید رحمت فرماتے ہوئے انبیاء مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں اور ایک حسین انجام یعنی اپنا قرب اور رضا عطا فرمایا ورنہ نظام کائنات تمہارے سامنے ہے آج تم خود کو دنیا کی رونق سمجھتے ہو تو تم سے پہلے بھی یہی سمجھتے تھے مگر وہ چلے گئے اور اس نظام کو کوئی فرق نہیں پڑا تم بھی چلے جاؤ گے لوگ تمہیں بھول جائیں گے اور تمہارا جانا بھی کوئی خلا پیدا نہ کرے گا اسی طرح اللہ اس بات پہ بھی قادر ہے کہ آن واحد میں تم کو اٹھا لے اور نئی قوم پیدا کردے جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ پھر بھی کرسکتا ہے اس لیے خوب جان لو کہ جب تم نظام دنیا کو نہیں روک سکتے تو حیات انسانی کے اخروی اور ابدی نتائج سے کیسے بچ سکوگے ہرگز نہیں بلکہ قیامت جس کا اللہ کریم نے وعدہ کرلیا ہے ضرور قائم ہوگی اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
اور اے میرے حبیب اپنی قوم سے فرما دیجئے کہ اگر میری اطاعت منظور نہیں تو پھر اپنی خواہش پہ عمل کیے جاؤ میں بھی اپنے راستے پر رواں ہوں عنقریب نتیجہ سامنے آجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ نتیجہ کس کے حق میں ہے آخرت میں تو یقیناً مگر دنیا میں بھی یہ بات سب نے دیکھ لی کہ حق غالب ہوتا چلا گیا اور کفر کی تاریکیاں جن پہ انہیں بہت ناز تھا مٹتے مٹتے مٹ گئیں یہ اس لیے کہ اللہ کی طرف سے ظالموں کا کبھی بھلا نہیں ہوتا اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
ذرا ان کی تقسیم دیکھو اپنے محاصل میں اپنی دولت اور اپنے جانوروں میں حصے مقرر کرتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ان بتوں یا افراد کے لیے جنہیں وہ اپنے زعم باطل میں اللہ کا شریک مانتے ہیں اور اگر فصل کم ہو تو بتوں کا حصہ کم نہیں کرتے بلکہ اللہ کا حصہ بھی ان کے نام کرکے ان کا پورا کرلیتے ہیں مگر بتوں کی شئے اللہ کے نام پر نہیں کرتے اللہ کا شریک ٹھہرانا ہی بہت بڑا ظلم تھا انہوں نے شرکاء کو اللہ کریم کی ذات پر بھی اہمیت دے رکھی ہے ان کا یہ فیصلہ اپنی برائی پہ خود گواہ ہے۔
قتل اولاد قبیح تر فعل ہے :
ان کی اس خباثت اور ظلم کا اثر دیکھیں کہ اپنی اولاد کو قتل کرنا باعث فخر سمجھتے ہیں دنیا میں جس قدر بھی قبیح اور ظالمانہ فعل ہیں ان میں بہت ہی برا کام معصوم بچوں کا قتل ہے اور جب والدین ہی اولاد کو قتل کرنے لگیں تو اس کی برائی کئی گنا بڑھ جاتی ہے مگر شرک کی خباثت نے انہیں یہ کام باعث فخر کر دکھایا اسی طرح ان کا سارا دین تباہ اور برباد ہو کر رسومات بد کا پلندہ بن گیا یہ جسمانی قتل ہے لیکن طلب دنیا میں اندھا ہو کر اولاد کو دین سے ناواقف رکھنا اور محض دنیا کمانے کے لیے ان پر دنیاوی فنون ہی کا جنوں سوار کردینا روحانی قتل ہے جس میں آج کا مسلمان بھی شریک ہے مشرکوں کی بچپن میں قتل کی گئی اولاد جہنم سے بچ جائے گی جبکہ یہ روحانی مقتول سخت خطرہ میں ہیں اس طرح تو یہ اس سے بڑھ کا ناانصافی ہے اللہ کریم ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔ اگر یہ اللہ کریم سے تعلق قائم کرتے تو اس ظلم میں مبتلا نہ ہوتے یعنی ان کی نیکی نسلوں کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتی لیکن اگر انہوں نے یہ راستہ چھوڑ ہی دیا ہے تو آپ بھی ان کی کوئی پرواہ نہ کریں یہ بہت سخت تنبیہ ہے کہ جو اللہ کے دین کو کوئی اہمیت نہ دے بارگاہ رسالت میں اس کی بھی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں۔
اب ذرا ان کی رسومات کو دیکھیں جن کو انہوں نے مذہب کا درجہ دے رکھا ہے کہ کبھی کسی غلے یا پھل کو اور کبھی کسی جانور کو ایک خاص طبقہ کے لیے ممنوع قرار دے لیتے ہیں محض اپنے گمان سے ، کوئی دلیل اس پر نہیں ہوتی اور کہہ دیتے ہیں کہ اس میں سے مرد کھا سکتے ہیں عورتوں کو اجازت نہیں یا بعض جانوروں پر سواری ممنوع ہوجاتی ہے کہ یہ بتوں کے نام پر ہے اور بعض پر اللہ کا نام لینا ہی منع کردیتے ہیں نہ وہ اللہ کے نام کا ہوتا ہے نہ ذبح کرتے وقت اللہ کریم کا نام لیتے ہیں اور یہ سب کچھ محض افترا اور بہتان ہے کہ دین تو احکام الہی کا نام ہے اپنی طرف سے رسم جاری کرکے اسے دین کہنا تو اللہ پر بہتان تراشی ہے غالباً یہ دور حاضرہ کے نذرانے کہ بعض جانور یا غلہ صرف پیر استعمال کرسکتے ہیں دوسروں پہ منع ہیں یا جانوروں کو بزرگوں کے نام پہ خاص کردینا یا شیعہ کا گھوڑے کو حضرت حسین ؓ کے نام کرکے اس پر سوار نہ ہونا انہیں جہالت کی رسومات کا عکس ہے تو ایسے لوگ اپنے کرتوتوں پر مرتب ہونے والی سزا کو ضرور پائیں گے۔
ان کی ایک رسم دیکھیں کہ جانور ذبح کرتے ہیں اگر حاملہ ہو اور پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے اسے بھی ذبح کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ صرف مردوں پہ حلال ہے عورتوں پہ حرام اور اگر بچہ مردہ نکلے تو سب پر حلال ان سب خرافات کی سزا پائیں گے کہ اللہ کریم ان کے اعمال سے واقف ہیں اور چندے مہلت بھی حکمت الہی ہے کہ وہ ذات حکیم بھی ہے۔
عہد جہالت کی رسومات :
جہالت میں اولاد کو قتل کرنا اور اللہ کریم کے دئیے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام کرلینا کیا کم نقصان ہے کہ اس ظلم کو مذہب کہہ کر اللہ پر بہتان لگانے کے مجرم بھی ہوئے اور ایسے گمراہ ہوئے کہ ہدایت سے بہت دور چلے گئے۔
اس دور میں جو رسم غیر اللہ کے نذرانوں کی تھیں ان کی صورت کچھ اس طرح سے تھی۔
پہلی صورت : زمین کی آمدن سے کچھ حصہ اللہ کا رکھتے اور کچھ بتوں یا جنوں کا اگر کمی ہوتی تو اللہ کا حصہ نہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے مگر غیر اللہ کا ضرور پورا کرتے یا اتفاقا اللہ کے حصے کی چیز غیر اللہ کے حصے میں مل جاتی تو خیر اگر غیر اللہ کی شے اللہ کے حصے میں مل جاتی واپس کرتے تھے جیسے آج ہمارا حال ہے کہ کوئی مصروفیت یا بیماری آجائے تو سب سے پہلے زد عبادات پہ پڑتی ہے نماز کیوں نہیں پڑھی طبیعت ٹھیک نہ تھی کاروبار بھی کیا کھانا بھی کھالیا آرام بھی کرلیا اور طبیعت کی گرانی کی زد اللہ کی عبادت پہ یہی حال مصروفیت میں ہے اللہ کریم معاف فرمائیں اور ہدایت نصیب فرمائیں ۔ آمین۔
دوسری رسم : جانور بتوں کے نام پہ مختص کردیتے بحیرہ ، سائبہ کے ناموں سے اور اسے اللہ کریم کی خوشنودی خیال کرتے تھے۔
تیسری رسم : بچیوں کو زندہ گاڑنے کی تھی۔
چوتھی رسم : یہ تھی کہ بعض کھیت یا باغ بتوں کے نام کردیتے ان میں عورتوں کا حق نہیں رہتا تھا۔
پانچویں رسم : بعض جانور اسی طرح مخصوص کردیتے ان میں بھی عورتوں کا حق نہیں مانتے تھے۔
چھٹی رسم : یہ تھی کہ بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور پر سواری وغیرہ نہ کرتے۔
ساتویں رسم : یہ تھی کہ بعض جانوروں پہ اللہ کا نام لینا ممنوع تھا ذبح کرتے یا سوار ہوتے یا دودھ نکالتے تو کبھی اللہ کا نام نہ لیتے۔
آٹھویں رسم : بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور کو ذبح کرتے اگر پیٹ سے بچہ نکلتا تو اسے بھی ذبح کرتے اور صرف مرد کھاتے اگر مردہ نکلتا تو سب کے لیے حلال جانتے۔
نویں رسم : بعض جانوروں کا دودھ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام جانتے۔
اور دسویں رسم : بتوں کے نام چھورے ہوئے جانوروں کی تعظیم کرنا عبادت سمجھتے تھے یہ سب دیکھ کر ہمیں اپنی رسومات اور نظریات کا اندازہ کرلینا چاہئے کہ ہم کس جگہ کھڑے ہیں۔
Ayahs 6:142–145رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 ۔ تا ۔ 145:
اسرار و معارف :
غیر اللہ کے نام کی نذر کا ابطال :
بتوں اور غیر اللہ کے نام پر مختص کرنے کی ضرورت تب پیش آتی جب ان میں سے کوئی تخلیق میں بھی حصہ دار ہوتا چیزوں کو پیدا کرنے میں اللہ نے اس سے مدد حاصل کی ہوتی لیکن ایسا تو ہرگز نہیں بلکہ وہ اکیلا خالق ہے اور سب کائنات مخلوق یہ اسی کی قدرت کاملہ ہے کہ بعض میوہ دار بیلیں بنا دیں جو بلندی پر چڑھتی ہیں اور جس قدر بلند ہوں اچھا پھل آتا ہے جیسے انگور اور بعض زمین پر پھیلتی ہیں اگر بلندی پہ چڑھا دو تو پھل ہی نہ آئے یا آئے تو بوجھ ہی برداشت نہ کرسکیں جیسے خربوزہ وغیرہ اور اسی زمین پر درخت اگا دئیے جو بیلوں سے یکسر مختلف انداز رکھتے ہیں ساتھ میں کھیتیاں پیدا کردیں۔
مٹی ایک ہے موسم یکساں پانی ایک سا مگر باغوں میں جا کر اس کی صنعت کا اندازہ کرلو۔ کہیں زیتون پیدا کرکے بہترین روغن سے بھر دیا اور کہیں انار پیدا فرما کر بہترین جام سے پر کردیا بعض پھل بظاہر ایک سے مگر ذائقہ اور اثر مختلف بعض ظاہر بالکل مختلف مگر ذائقہ یا اثر ایک سا پھر گرمیوں سردیوں میں موسم کے اعتبار سے جسم انسانی کے لیے بہترین اثر رکھنے والے یہ سب تو اس کی قدرت کاملہ سے ہوتا ہے کیا یہ بت یا جن یا اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو یہ قانون فطرت میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں ہرگز نہیں تو پھر ان کے ناموں کی نذر کیسی۔ جب یہ پھل لائیں تو یہ سارا نظام تمہاری خدمت کے لیے ہے کھاؤ پیو استعمال کرو۔ مگر یاد رکھو اس نے امارت و غربت دے کر آزمایا ہے اگر کسی کے پاس باغات یا کھیت ہیں تو اسے غربا کو بھول نہ جانا چاہئے بلکہ اللہ کے نام پر انہیں بھی دو اور مھض نام و نمود کے لیے اللہ کا دیا ہوا رزق ضائع نہ کرو کہ فضول اور بےجا خرچ کرنے والے لوگ اللہ کو پسند نہیں جس طرح ان چیزوں اور ان کے اوصاف جداگانہ ہیں اسی طرح ہر طالب پر جداگانہ فیوضات کا نزول ہوتا ہے سب لوگ ایک سے نہیں بن سکتے مگر یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ ان برکات پر اللہ کا شکر ادا کریں اور تفاخر میں مبتلا نہ ہوں اداء شکر یہ ہے کہ دوسروں تک پہنچانے کی سعی کریں۔
اس آیہ کریمہ سے بھی فصل اور کھیتی کی زکوۃ کا حکم ثابت کیا گیا ہے جس کی مقدار دوسری جگہ ارشاد ہے اسلام نے نظام زکوۃ ایسا خوبصورت بنایا ہے کہ محنت کرنے والے کے حق کو محفوظ رکھا ہے اگرچہ محنت پہ پھل تو اللہ ہی دیتے ہیں چناچہ کوئی خزانہ یا سونے چاندی کی کان مل جائے تو پانچواں حصہ زکوہ فرض ہوجاتی ہے مگر کھیتی اور باغ میں دسواں حصہ اگر پانی بھی دے تو بیسواں حصہ اسی طرح کاروبار یا ملازمت سے روپیہ پیسہ کمائے تو چالیسواں حصہ گو اس میں محنت اور بڑھ جاتی ہے۔ اور ساڑھے باون تولہ چاندی سے کم میں زکوۃ نہیں اسی طرح سو بکریوں اور پانچ اونٹوں سے کم میں بھی زکوۃ نہیں مگر زمین کا کوئی نصاب نہیں تھوڑا حاصل ہو یا بہت اس میں زکوۃ ہے۔
جس طرح وہ نباتات کا خالق ہے اسی طرح حیوانات بھی اس کی مخلوق ہیں چھوٹے ہوں یا بڑے کوئی سواری اور باربرداری کے لیے ہے تو کوئی گوشت یا دودھ دینے کے لیے یہ سب چیزیں اللہ کریم نے تمہاری خاطر پیدا فرمائی ہیں لہذا بلا تکلف کھاؤ پیو کہ تمہارا ہی رزق مقرر کی گئی ہیں مگر کھانے یا استعمال کا ڈھنگ وہ نہ اپناؤ جو شیطان سکھائے یہ اس لیے بھی درست نہیں کہ بنائے اور عطا تو رب کریم کرے مگر حکم اس پر شیطان کا مانو اور اس لیے بھی کہ وہ تمہارا بھی دشمن ہے ایسا واضھ دشمن جس کی دشمنی کسی دلیل کی محتاج نہیں تو وہ تمہیں کوئی اچھی بات نہیں سکھائے گا۔
جانور عموماً آٹھ کنبوں میں پیدا فرمائے گئے ہیں جن کا دودھ اور گوشت استعمال میں لایا جاتا ہے دو جوڑے بھیڑ ، بکری کی قسم سے اور دو گائے بھینس یا اونٹ کی قسم سے ۔
اب ان سے کہیے کہ ذرا یہ بتائیں ان کے نر حرام ہیں یا مادہ یا بچے یا وہ بچے جو ماداؤں کے پیٹ میں ہیں۔ لیکن کسی علمی دلیل سے بتاؤ محض اٹکل سے نہیں اگر تمہارے پاس کوئی صداقت ہے تو وہ ذریعہ بتاؤ جو تمہارے علم کا ہے کیا تم پر وحی آئی یا کسی نبی کی تعلیمات میں یہ بات ہے ان دونوں باتوں سے تو تم ہو ہی منکر پھر کیا اللہ کریم نے تمہارے ساتھ براہ راست بات کی ہے جب ایسا بھی نہیں تو اس حلت و حرمت اور رسومات کو عبادت قرار دینے پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو پھر یاد رکھو تم اللہ کی ذات پر بہتان تراشی کر رہے ہو کسی کام کو بطور عبادت مقرر کرنا تو اس کا کام ہے مگر تم اس کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے مقرر کرکے جھوٹ باندھ رہے ہو بھلا اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا اور تمہارا یہ جھوٹ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے یاد رکھو ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق ہی نہیں بخشتے اور وہ ہمیشہ کی بربادی میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 6:146–151رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151
اسرار و معارف :
آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے لیے نہ ہو تو اللہ کریم خطائیں معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔
یا پھر اس سے پہلے اللہ کریم کی اطلاع کے مطابق پہلی امتوں میں سے یہود پر بکری یا گائے وغیرہ کی چربی اس حال میں ھرام کردی گئی تھی کہ جانور درست ذبح کیا گیا ہو مگر وہ چربی جو پشت پر یا انتڑیوں پر لگی ہو یا ہڈی سے ملی ہوئی ہو حرام نہ تھی اس کے علاوہ ہر طرح کی چربی حرام تھی یہ تنگی بھی ان کی اپنی لائی ہوئی تھی کہ احکام الہی پر عمل کرنے کی بجائے میں میخ نکالنے لگ جاتے تھے تو پابندیاں بڑھتی گئیں اور ان کی شرارتیں خود ان کے لیے وبال بن گئیں اور اللہ کریم ہی کی بات بلاشبہ سچی ہوتی ہے۔
اگر یہ مھض اس بات پر آپ کی تکذیب کریں کہ ہم مان تو رہے نہیں پھر ہم پر ہلاکت کا عذاب کیوں نہیں آتا تو کہہ دیجئے تمہارا پالنے والا بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے وہ کیسے کیسے گناہوں پر درگزر فرمتا ہے اور مہلت دیتا رہتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھو اگر تم باز نہ آئے تو جرم کا خاصہ ہے کہ اس پر عذاب مرتب ہوتا ہے کوئی طاقت اس قانون کو تبدیل نہیں کرسکتی کہ وہ مجرموں سے عذاب ہٹا دے۔
یہ تو ایسا بھی کہیں گے کہ اللہ کو منظور نہ ہوتا تو ہم کیسے شرک کرسکتے تھے یا ہمارے آباؤ اجداد کیسے یہ کام کرسکتے تھے کہ اپنی طرف سے چیزوں کو حرام و حلال قرار دیں یہ ایسا دھوکا ہے جو ان سے پہلے کافروں کو بھی لگا اور وہ بھی یہی کہتے تھے حتی کہ یہی کہتے کہتے تباہ ہوگئے اور عذاب الہی میں گرفتار ہوئے ان سے کہیے اس بات پہ کوئی علمی دلیل بھی ہے اگر ایسا ہے تو پیش کرو ورنہ یہ بات تو ظاہ رہے کہ مت محض گمان اور تخمینے پر گمراہ ہو رہے ہو اللہ کریم نے تو حجت تمام کردی ایسی کہ تم لاجواب ہوجاؤگے اس نے بتادیا کہ دنیادار عمل ہے نیکی اور بدی واضح ہے انبیاء نے ہر دور میں اور ہر قوم تک یہ وضاحت پہنچا دی اب اگر کوئی نیکی کا راستہ چھوڑ کر برائی پہ چلتا ہے تو یہ اس کا اپنا کام ہے اس بات پہ خوش نہ ہو کہ اللہ مجھ سے کروا رہا ہے ہاں اگر تم اللہ کریم سے تعلق پیدا کرتے اس کی طرف متوجہ ہوتے تو وہ چاہتا تو یقیناً سب کو ہدایت نصیب ہوسکتی تھی مگر پیروی تو شیطان کی کرو اور الزام اللہ کریم کو دو یہ درست نہیں۔
ہاں اگر تمہارے پاس شہادت ہے تو میدان میں لاؤ کہ جو چیزیں تم حرام سمجھتے ہو یہ اللہ نے حرام کی ہیں کوئی ایسا گواہ جو چشم دید گواہ کی طرح ثابت کردے لیکن اے میرے حبیب اگر یہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے پہ بھی تیار ہوجائیں تو آپ کے پاس اللہ کی وحی آتی ہے آپ کا علم یقینی ہے ان کی بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں۔
رسومات بد کی قباحت :
جو لوگ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں یعنی اپنی طرف سے رسومات ایجاد کرکے انہیں ثواب کا باعث جانتے اور عباد ت کا درجہ دیتے ہیں یہ کب اس قابل ہیں کہ آپ ان کی بات پر توجہ دیں ایسے لوگوں کی کسی بات کا اعتبار نہ کریں کہ انہیں نہ قیامت کا یقین ہے اور نہ توحید کی عظمت سے آشنا ہیں بلکہ اللہ کے برابر دوسروں کو بھی جانتے ہیں اپنی ضروریات ان سے طلب کرتے ہیں اور غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے رسومات ایجاد کرکے انہیں دین سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔