Ayahs 6:31–41رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا تو اس کے نہ ماننے سے حقیقت تو بدلنے سے رہی یہ تو واقع ہو کر رہے گی ہاں ماننے والے اس کا انتظار کریں گے زندگی کے ہر عمل میں یوم حساب کو سامنے رکھیں گے جبکہ نہ ماننے والوں پہ اچانک قیامت ٹوٹ پڑے گی کہ ان کا خیال تو یہ تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ تب انہیں احساس ہوگا کہ یہ تو بہت عظیم امر تھا جس میں ہم سے بہت زیادہ کوتاہی ہوئی اور ہم نے اپنا ہی بڑا نقصان کرلیا بلکہ بحالت کفر تو نیکی ہو نہیں سکتی اور میدان حشر میں ہر عمل بھی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کریگا جیسے آجکل کے سائنسی دور میں تو ہر آواز کی بھی شکل ہے جو ایک فیتے میں مرتسم ہوجاتی ہے پھر اسے وی۔ سی ۔ آر مشین میں چلائیں تو دوبارہ صورت اور حرکات کے ساتھ آواز بھی صاف سنائی دینے لگتی ہے یہی حال اس سے بہت اعلی صورت میں وہاں ہوگا اور ہر گناہ کسی نہ کسی ڈراؤنی شکل میں متشکل ہو کر موجود ہوگا جنہیں اٹھا کر انہیں حساب کے لیے جانا ہوگا جبکہ نیک اعمال حسین صورتوں میں اور خوبصورت سواریوں کی شکل میں حاضر ہوں گے اور عمل کرنے والے کو سوار کرا کے لے جائیں گے تب انہیں احساس ہوگا کہ انہوں نے اپنے اوپر بوجھ لاد کر کس قدر غلطی کی۔ اور واقعی بہت بڑا بوجھ ہے جو انہیں اٹھانا پڑ رہا ہے۔
دنیا :
دنیا کی زندگی سوائے کھیل اور وقت لذات کے کچھ بھی تو نہیں ہاں جو لوگ اللہ کریم سے تعلق استوار کرلیتے ہیں اور اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اخروی زندگی ہی بہترین زندگی ہے جسے نافرمانوں نے وقتی لذات پہ قربان کردیا۔ یہاں دنیا کی زندگی سے زندگی کا وہ اسلوب یا وطیرہ مراد ہے جو اللہ سے غافل کردے ورنہ آخرت کی اعلی اور بہترین زندگی حاصل کرنے کا موقع بھی تو دنیا میں ہی ہے کہ نہ دنیا سے پہلے عالم امر میں کچھ کرسکتا ہے نہ دنیا سے جانے کے بعد یہی زندگی اگر یاد الہی سے روشن ہوجائے اور اسے بسر کرنے کے لیے وہ انداز اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تو یہ ذکر الہی شمار ہوتی ہے اور جب انسان دنیا میں رہ کر اور آخرت کو سامنے رکھ کر عمل کرتا ہے تو اس کی زندگی لہو لعب نہیں رہتی بلکہ دنیا میں بسنے کے باوجود وہ آخرت کے لیے جی رہا ہوتا ہے اور یہ عمل آسان نہیں ہے جب تک دل اس کو قبول نہ کرے محض باتوں سے کچھ نہیں بنتا اسی لیے انبیاء جہاں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں وہاں دعوت سے آغاز فرماتے ہیں اور جو قبول کرے اسکا تزکیہ کرتے ہیں یعنی دل میں ایسی کیفیات سمو دیتے ہیں کہ دنیا کی لذت پر آخرت کی محبت یا دنیا کی لذت پر اللہ کی محبت غالب آجاتی ہے اور پھر اسے اللہ کی کتاب اور اس کے معانی یعنی حکمت سکھاتے ہیں جو دنیا میں زندگی گذارنے کا ایک لائحہ عمل ہوتا ہے اور جس کی تلاش اس کے دل میں پیدا ہوچکی ہے یہ زندگی تو ایسی ہے کہ اگر نصیب ہو تو اس کے دراز تر ہونے کی دعا کی جائے اور اگر اس سے محروم ہے تو بہت بڑی نعمت کھو دی جس کا کوئی بدل نہیں اتنی سی بات تو معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ عارضی اور ناپائیدار لذت پر دائمی اور ابدی راحتوں کو قربان کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔
آیات مذکورہ میں نبی رحمت ﷺ کی عظمت شان ایک خاص انداز میں بیان فرمائی گئی ہے یوں تو اللہ کریم ہر بات سے ہر آن آگاہ ہیں مگر کسی بھی بات کا تذکرہ اس انداز میں فرمانا کہ ہمیں اس کی خبر ہے یا ہم اس سے آگاہ ہیں واقعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کہ اے میرے حبیب ﷺ ان کی یادہ گوئی سے جو آپ کے دل پر گزرتی ہے وہ ہم خوب جانتے ہیں مگر آپ یہ بھی دیکھ لیجیے کہ یہ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ یہ ظالم تو میری باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور محض ضد میں آ کر ایسا کرتے ہیں ورنہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ حق یہی ہے محض دنیا کے فائدے کے لیے یا انا کی تسکین کے لیے ایسا کرتے ہیں جحود کا معنی ہی ایسا انکار ہے جس کو دل تو درست جانتا ہو مگر بظاہر اسے قبول نہ کیا جائے۔
اس پر مفسرین نے اخنس بن شریف اور ابوجہل کا واقعہ لکھا ہے کہ اس نے تنہائی میں پوچھا کہ اب کوئی تیسرا ہماری بات نہیں سن رہا کیا تم مجھے وہ بات بتاؤ گے جو محمد ﷺ کے بارے تمہارے دل میں ہے آیا سچے ہیں یا جھوٹے تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ بلاشبہ سچے ہیں تم نہیں دیکھتے کہ جس نے عمر بھر کبھی کسی انسان پر جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے مگر بات یہ ہے کہ مان لینے سے بنو قصی کے پاس ہی سب کچھ چلا جائے گا ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
بات کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے تو آپ کی تکذیب بھی اللہ کی تکذیب ہوگی اور یہ پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہا ہے جس پر سوائے صبر کے چارہ نہیں جو انہوں نے بھی کیا آپ بھی ان کی ہر طرح کی ایذا پر صبر کریں پھر ان انبیاء کو اللہ کریم کی طرف سے مدد پہنچی جو یقیناً آپ کو بھی پہنچے گی کہ اللہ کے فیصلوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نہ نافذ ہونے سے کوئی روک سکتا ہے آپ کو پہلے گزرنے والے انبیاء میں سے بعض کے حالات بتائے بھی گئے ہیں اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ ہر انسان کو اپنے لیے انجام منتخب کرنے کا موقع بخشا ہے جو انکار کرنے والوں کے پاس بھی ہے اور ہر آدمی امتحان سے گزرتا ہے جس طرح آپ کے متبعین گزر رہے ہیں مگر انجام کار منکرین کے حصے میں تباہی اور مومنین کے حصے میں کامیابی یقینی ہے۔
نبی رحمت ﷺ کو کفار کے انجام پر بھی دکھ ہوتا تھا اور آپ کا جی چاہتا تھا کہ کاش یہ اس تباہی سے بچ جائیں کمال شفقت دیکھئے وہ ایذا دیتے تھے اور آپ ان کے لیے متفکر ہوتے تھے۔ ارشاد ہوا انسان خود مکلف ہے اللہ کریم نے شور سے نوازا ہے آپ جیسی عظیم و شفیق ہستی کو مبعوث فرمایا اپنا ذاتی کلام نازل فرمایا اب بھی اگر کوئی بربادی کی راہ اپناتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے آپ اس کے لیے متفکر نہ ہوا کریں ہاں اگر آپ کرسکتے ہیں یعنی اگر اللہ کی تائید کے بغیر کچھ ممکن ہے تو پھر آپ زمین میں سرنگ لگا کر یا آسمان پہ سیڑھی لگا کر ان کے مطالبات کو پورا کرنے کا اہتمام کیجیے کہ مشرکین کہتے تھے اگر یہ سچے رسول ہیں تو مکہ میں نہر لے آئیں یا آسمان پہ سیڑھی بن جائے ہم فرشتوں کو اترتا ہوا دیکھیں وغیرہ ذالک آپ ﷺ کے دل میں آتی کہ اگر ایسا ہونے پر یہ دوزخ سے بچ سکتے تھے تو کاش اللہ کریم ایسا ہی کردیتے جواباً ارشاد ہے کہ آپ اسے اپنے دل کا روگ نہ بنائیں کہ معجزات رسول در اصل واللہ کا کام ہے جو نبی کے ہاتھ پہ ظاہر ہوتا ہے اور معجزہ بھی اسی لیے کہلاتا ہے کہ وہ کام عقلاً محال ہوتا ہے پھر اس کا اظہار بھی اثبات نبوت ہی کے لیے ہوتا ہے یہی حال کرامت کا ہے کہ صادر ولی کے ہاتھ پر ہوتی ہے مگر نبی کے کامل اتباع کی وجہ سے اسی لیے نبی کا معجزہ ہی شمار ہوگی نیز فعل یہ بھی ذات باری کا ہے اور اس کا اظہار بھی حق کو ثابت کرنے کے لیے ہوتا ہے مگر یہ بات بھی اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کن لوگوں کے لیے اس کے اظہار کی ضرورت ہے نتائج تو ہمیشہ اس فیصلے پہ مرتب ہوتے ہیں جو ہر انسان شعوری طور پر کرتا ہے اگر اس کا فیصلہ منفی ہے تو وہ معجزے کا بھی انکار کردے گا اور یہ قانون ہے کہ جو قوم معجزہ طلب کرتی ہے اس پر وہی معجزہ ظاہر کردیا جائے تو نہ ماننے پہ فوراً تباہ کردی جاتی ہے اس لیے یہاں معجزہ ظاہر نہ کرنا بھی آپ کے طفیل ان پر ایک طرح کی رحمت ہے کہ انہیں مزید مہلت دی جا رہی ہے لہذا آپ نادانوں جیسی بات کو سوچیں بھی نہیں لفظ جہالت اردو میں تو کبھی اچھے معنوں میں نہیں آتا مگر عربی میں نادانی کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ اور یہاں آپ ﷺ کی قلبی فکر پہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا تھا دعا تک نہیں فرمائی ہاں جی چاہتا تھا کہ یہ بچ سکیں تو کیا ہی اچھا ہو تو ارشاد ہوا کہ اگر اللہ نے تکوینی طور پر یا اپنے حکم سے سب کو راہ راست پہ لانا ہوتا تو کچھ مشکل نہ تھا مگر ایسی بات نہیں ہے یہ فیصلہ ہر انسان اپنے لیے خود کرتا ہے اور حق بات قبول کرنے کے لیے پہلے تو سننا ضروری ہے مگر دل کی سیاہی سننے تک سے محروم کردیتی ہے انسان جسم کے ساتھ زندہ رہتا ہے مگر روحانی طور پر یا قلبی طور پر مر چکا ہوتا ہے اور مردے تو اللہ کریم ہی ایک خاص وقت تک پہ دوبارہ اٹھائیں گے اور پھر سب کو اسی کی بارگاہ میں تو جانا ہے۔
آج تو یہ کہتے ہیں کہ جو معجزات ہم نے طلب کیے وہ ان پر کیوں نازل نہیں ہوتے یا ان کا اظہار کیوں نہیں ہوا فرما دیجیے اللہ تو قادر ہے جو چاہے اور جب چاہے کرسکتا ہے تمہارے منہ مانگے معجزات ظاہر نہ کرکے بھی تم پہ مہربانی فرما رہا ہے تم ہی ان باتوں کو نہیں جانتے۔
کیا یہ سب اس کی قدرت کے مظاہر نہیں ہیں کہ بیشمار زمینی مخلوق یا ہوا میں اڑنے والے پرندے کیا کسی طرح تم سے کم ہیں کیا ان سب کی قسمیں اور جنسیں نہیں ہیں کھانا پینا بچے نسل گھر سب کچھ ہی تو ہے اور جان لو کہ تمہیں بےحساب نظر آتے ہیں مگر ایک متنفس کا ذرہ ذرہ حساب اللہ کی کتاب تک میں لکھا ہوا ہے اگرچہ اس کا علم ذاتی اس سے بھی وسیع تر ہے اگر تم ان کو دیکھ کر اس کی عظمت وکبریائی سے آگاہ نہیں ہوسکتے تو پھر تم کیسے انسان ہو۔
حقوق کی اہمیت :
یاد رکھو ان سب کو بھی یوم حشر اللہ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حیوان مکلف نہیں ہیں حلال حرام وغیرہ نہ پوچھا جائے گا مگر کسی جانور نے بھی دوسرے جانور کو مارا ہوگا تو اسے سزا دی جائے گی بدلہ دلوا کر سب کو فنا کردیا جائے گا تو اندازہ فرمائیے کہ انسانوں کے حقوق کیسے ضائع ہوسکتے ہیں جو لوگ ظلماً دوسروں کا مال کھاتے ہیں ، رشوت لیتے ہیں عزت لوٹتے ہیں یا وہ ملازم جو تنخواہ لیتے ہیں کام پورا نہیں کرتے کس طرح بچ سکیں گے جبکہ انسان ان سب چیزوں کے لیے مکلف بھی ہے۔
اللہ کی عظمت کیوں نظر نہیں آتی :
جو لوگ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں در اصل یہ بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں کہ یہ اندھیروں کے باسی ہیں ظاہر کے کان یا زبان تو جانور کے پاس بھی ہیں انسان کے سینے میں بہت قیمتی دل ہے جو روشن ہو تو سنتا ہے بات کرتا ہے نور سے محروم ہوجائے تاریکی میں ڈوب جائے تو یہ سب قوتیں کھو بیٹھتا ہے اور جب دل کا یہ حال ہو تو اللہ کی طرف سے ہدایت نصیب نہیں ہوتی ہاں اگر اللہ چاہیں تو سیدھے راستے پہ چلانے کی قدرت بھی انہیں کے پاس ہے جبکہ دوسری جگہ ارشاد فرما دیا کہ اللہ کریم انہی لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان بہم پہنچاتے جو ہدایت طلب کرتے ہیں زبردستی نہیں کی جاتی آپ انہیں سے فرمائیے کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تمہیں قیامت آ لے تو کیا اللہ کے سوا کسی کو پکاروگے۔ اور یہ تو انسانی زندگی کا ترجبہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان سخت مایوسی کے عالم میں گھر جائے تو صرف اللہ کو پکارتا ہے ایسے ہی عربوں کا تجربہ بھی تھا فرمایا آئندہ بھی اگر تم سچے ہوتے تو ایسے اوقات میں بھی ان کو پکارتے جن کی عبادت اللہ کے سوا کرتے ہو مگر تم ایسا کرتے نہیں ہو بلکہ انہیں یکسر بھول جاتے ہو حالانکہ تم نے انہیں اللہ کے برابر درجہ دے رکھا ہوتا ہے مگر ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اس لیے کہ اللہ ہی مصیبت اور پریشانی دور کرتا ہے کسی دوسرے کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ ہر انسان کے دل کی گہرائی میں پیوست ہوتی ہے اور اگر کوئی ناگہانی مصیبت آئے تو مشرک بھی اپنے فرض کردہ معبودوں کو فراموش کردیتا ہے اور بےاختیار اللہ کریم ہی کو پکارتا ہے۔
Ayahs 6:42–50رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50:
اسرار و معارف :
اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں نہ کرسکے کیوں اللہ کو نہ پکارا کیوں اس کی بارگاہ میں توبہ نہ کی اس لیے کہ ان کے قلوب سخت ہوچکے تھے اس قدر سخت کہ مصائب میں گرفتار ہو کر بھی اللہ کی یاد سے محروم ہی رہے یعنی دل کی سختی اور تاریکی اتنا عجیب مرض ہے کہ انسان فطری صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ وہ کچھ دیکھتا ہے جو ابلیس اسے دکھاتا ہے اور یوں شیطان کو موقع ملتا ہے کہ برائیوں کو سجا کر انہیں دکھاتا ہے پھر ایسے لوگ قتل و غارتگری اور دوسرے ظالمانہ اعمال پر شرمندہ ہونے کی بجائے ان پر فخر کرتے ہیں۔
اس طرح جب لوگ احکام الہی کو بالکل فراموش کردیں تو بعض اوقات دنیوی دولت ان پر عام کردی جاتی ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ شدت میں نہ سہی تو نعمت کی فراوانی میں جذبہ تشکر ہی بیدار ہوجائے اور اپنے مالک حقیقی کے شکر گذار بندے بن جائیں مگر یہ سب کچھ تو دل کی سیاہی میں ڈوب چکا ہوتا ہے لہذا ایسے بد نصیب لوگ اسے بھی اپنا کمال سمجھ کر اس پر فخر کرنے اور اکڑنے لگتے ہیں حدیث شریف میں وارد ہے کہ کسی کے پاس دنیا کی نعمتیں بھی ہیں اور وہ بدستور گناہ کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ کی گرفت میں آنے کو ہے۔
یوں جب دونوں طرح سے وہ لوگ ناکام رہے نہ توبہ نصیب ہوئی نہ دلوں کی اصلاح کرسکے تو اچانک عذاب الہی نے آ لیا کوئی قوم غرق ہوئی کسی پر آگ برسائی گئی کہیں زمین ہی الٹ دی گئی الغرض متعدد اقوام کی تباہی کے حالات بیان ہوئے ہیں ان سب کے ساتھ یہی کچھ ہوا اور جب پکڑے گئے تو پھر کوئی آسرا تک باقی نہ تھا یعنی ان کے دامن میں سوائے نا امیدی کے کچھ نہ تھا اس طرح غلط کار لوگ اپنے کردار کے انجام کو پہنچے کہ ان کے نشاں تک مٹ گئے اور یوں تمام طرح کی خوبیاں صرف اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی ظالموں کی تباہی بھی دوسری مخلوق کے لیے اس کی رحمت اور تقاضائے ربوبیت ہے لہذا اسی کی حمد بیان کی جانی چاہئے۔
آپ انہیں یاد دلائیے کہ یہ سماعت بصارت اگر اللہ کریم واپس لے لیں جس نے انسان کو یہ حسیں دی ہیں اگر وہی سلب کرے یا جس طرح ظاہر کی آنکھ یا کان ہے اسی طرح دل میں بھی سننے اور دیکھنے کی قوت ہے بات سمجھنے کی استعداد ہے یہ سارے اوصاف جو بدن کو عطا ہوئے ہیں علیحدہ سے انسانی دل کو بھی بخشے گئے ہیں لہذا اگر ظاہر کے اوصاف تو باقی رہنے دے مگر بد اعمالی سے خفا ہو کر دل پر مہر کردے یعنی دل کو ان اوصاف سے محروم کردے تو اللہ کے سوا کوئی معبود تمہاری نظر میں ہے جو پھر سے یہ نعمتیں اللہ کے مقابلے میں عطا کردے گا ؟ یقیناً نہیں جب یہ بات ممکن نہیں تو یہ بھی ہرگز درست نہ ہوگی کہ اللہ کو چھوڑ کر یا اس کے برابر جان کر کسی کی عبادت و اطاعت کی جائے دیکھئے ہم کس قدر صاف اور واضح دلائل بیان کرتے ہیں مگر یہ ان سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور محرومی کا شکار ہیں۔
تکالیف نیک لوگوں پر بھی آتی ہیں :
شاید انہیں یہ خیال ہوگا کہ عذاب آیا تو کیا فرق پڑے گا نیک و بد سب ہلاکت کا شکار ہوں گے انہیں کہئے ایسا اندھیر نہیں ہوا کرتا بلکہ تباہی اچانک آ لے یا دیکھتے دیکھتے آجائے یہ ہمیشہ بدکاروں پہ آتی ہے اور اللہ کے اطاعت شعار بندے اس سے محفوظ رہتے ہیں چونکہ مسلط ہی بطور سزا کی جاتی ہے اس لیے نیک کام کرنے والے اس کا نشانہ نہیں بنتے یہ حال ان قوموں کی تاریخ سے عیاں ہے جن پر عمومی عذاب مسلط کیے گئے رہ گئی یہ بات کہ تکالیف تو نیک بندوں پہ بھی آتی ہیں تو وہ بطور سزا نہیں بلکہ مزید انعام کا ذریعہ بنتی ہیں اور تلافی مافات و ترقی درجات میں سے ایک پہلے اپنے اندر لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ جبکہ بدکاروں اور کافروں پہ تکالیف از قسم عقوبات یعنی بطور سزا وارد ہوتی ہیں۔
نبی کیلئے اظہار معجزہ ضروری نہیں نہ ولی کیلئے اظہار کرامت :
نبی رحمت ﷺ کا وجود باجود خود ایک بہت بڑا معجزہ تھا آپ کا بچپن لڑکپن اور بےمثال جوانی آپ کا حسن آپ کا خلق اور آپ کے کمالا جن کا اظہار وقتاً فوقتاً اہل مکہ کے روبرو ہوتا رہا پھر یکایک ایسا کلام آپ کی زبان پاک پر جاری ہو جو حق بھی تھا اور حسن کلام کے اعتبار سے بھی اس نے عرب کے فصحاء کو خاموش کردیا واقعہ معراج شریف ، مشرکین کے سوالات بیت المقدس اور قافلہ کے بارے اور آپ ﷺ کے جوابات جو سو فیصد درست تھے پھر بیشمار معجزات ایک شق القمر ہی کو لیجئے تو چاند کو دو ٹکڑوں میں صرف اہل مکہ ہی نے نہ دیکھا دنیا سے اس کی شہادت ملتی ہے حتی کہ آج جو تصاویر اتاری گئی ہیں ان میں بھی ایک خط واضح ہے کہ کبھی دو ٹکڑے ہو کر جڑا ہو۔ یہ سب درست مگر اس کے باوجود منصب رسالت کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ بنبی یا رسول کا ہرگز یہ کام نہیں کہ جو واہی تباہی مطالبات کفار کی طرف سے ہوں انہیں ضرور پورا کرے یا اس سے ان معجزات کا اظہار ضرور ہو یہ تو محض اللہ کی رحمت ہوتی ہے کہ لوگوں کی ہدایت کا مزید سامان کردیا جاتا ہے اور فعل باری کا ظہور نبی کے ہاتھ پر ہوتا ہے لیکن اگر کسی نبی سے زندگی بھر کوئی معجزہ ظاہر نہ ہو کیا وہ نبی نہ ہوگا یہ درست نہیں وہ ضرور نبی ہوگا بشرطیکہ اللہ کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہو جس کی دلیل وہ علوم ہیں جنہیں اصطلاحاً الہیات کا نام دیا جاتا ہے یعنی ذات وصفات باری دنیا و آخرت عقائد اعمال اور ان کے نتائج کا علم لہذا منصب نبوت کا فریضہ یہ ہے کہ صحیح عقیدہ تعلیم فرمایا جائے اور درست اعمال کی طرف راہنمائی فرما کر ان کے نتائج کی خوش خبری بھی دے اور غلط نظریات نیز اعمال بد کی سزا سے بروقت متنبہ کردے اس کے بعد فیصلہ کرنا ہر آدمی کا اپنا کام ہے جو ان کی بات کا یقین کرکے اپنی اصلاح کرلیتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں کہ نہ گذشتہ پہ پشیطمان ہوں گے نہ آئندہ سے خوفزدہ اور جو اس کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں وہ در اصل ہماری بات کو جھٹلاتے ہیں کہ نبی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا اللہ کا پیغام پہنچاتا ہے لہذا اس نافرمانی کے نتیجے میں انہیں عذاب ہی سے دوچار ہونا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں تو واضح عذاب ہوگا اور یہی کام مشائخ بہ نیابت نبی انجام دیتے ہیں۔
انبیاء دنیوی حاجات پوری کرنے کیلئے مبعوث نہیں ہوتے :
اسی طرح انبیاء سے یہ مطالبہ کہ مانے والوں کا گھر دولت سے بھر دیں یا آئندہ کے حالات سے ضرور باخبر کریں کہ کل برزخ کیا ہوں گے یا کونسی چیز خریدی جائے تو زیادہ نفع ہوگا وغیرہ یہ سب جہالت ہے اگرچہ یہ سب نعمتیں نصیب بھی ہوں مگر آپ فرمائیے میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ اللہ کے خزانے میرے پاس ہیں یا میں غیب کا علم رکھتا ہوں۔
کہانت وغیرہ :
یاد رہے کہ برکات ہوں یا علوم اللہ کی طرف سے جس قدر یہ نعمتیں سب مخلوق کو تقسیم فرمائی گئیں۔ نبی رحمت ﷺ کی ذات گرامی کو اکیلے ان سب کے مجموعے سے بھی بڑھ کر عطا ہوئیں کتنی زیادہ یہ اندازہ کرنا بھی انسانی بس سے بہر ہے اس سب کے باوجود نہ نبی یہ دعوی لیکر مبعوث ہوتا ہے کہ اللہ کے خزانے میرے ذاتی اختیار میں ہیں اور نہ اس شرط پہ ایمان قبول ہوتا ہے کہ اگر دنیا کی دولت ملے تب تو ہم ایمان لاتے ہیں ورنہ نہیں یہ تو مذاہب باطلہ کی خصوصیت ہے کہ عبادات و عقائد کے ساتھ دنیا کی نعمتوں کو جوڑ کر لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے دوسری بات جو مذاہب باطلہ کے کمالات میں شمار ہوتی ہے وہ کہانت اور جفر و رمل وغیرہ علوم ہیں جن میں سے بعض تو محض شیطانی قوتوں کی کارستانی شمار ہوتے اور بعض علم طب کی طرح انسانی تجربات اور اندازوں پہ انحصار رکھتے ہیں ان علوم کے ماہرین بعض ایسی باتیں بیان کردیتے ہیں جو دوسروں کے علم میں نہیں ہوتیں اس لیے لوگ ان کی غیب دانی کے قائل ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ نہ یہ علم غیب ہے اور نہ وہ علوم جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو عطا ہوتے ہیں نہ ان کی وجہ سے وہ عالم الغیب کہلاتے ہیں اگرچہ وہ علوم غیبیہ ہوتے ہیں کاہن یا جوتشی وغیرہ کے علوم کی حد تو وہی ہے جو آلات سے بھی انسانی رسائی کے اندر ہو جیسے یہاں بیٹھ کر دوسرے شہر کی بات زمین پر واقع ہونے والی بات جو گذر چکی ہو یا کبھی کبھائی کوئی اندازہ آئندہ کے بارے مگر آسمان کے دروازے ان پر نہیں کھلتے مگر جو علوم انبیاء کے ہیں اگرچہ امور غیب سے متعلق ہوتے ہیں جیسے ذات باری فرشتے آخرت برزخ ثواب و عذاب وغیرہ مگر قرآنی اصطلاح میں اسے اطلاع عن الغیب (یعنی غیب پر اطلاع پانا ) کہا گیا اور علم غیب صرف اللہ کا وصف ہے کہ وہ ذاتی طور پر جانتا ہے کسی ذریعے اور سبب کا محتاج نہیں اس طرح اگرچہ یہ بھی تمام امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ جس قدر لوم اللہ کی طرف سے تقسیم ہوئے ان سب کے مجموعے سے بھی زیادہ علوم نبی رحمت ﷺ کو عطا ہوئے مگر یہ سب اطلاع عن الغیب ہے اس لیے فرمایا انہیں کے لیے میرا یہ دعوی بھی نہیں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور یہ جو تم ایک فرضی تصور رکھتے ہو کہ اگر نبی ہوتا تو کھاتا پیتا کیوں یا شادی کیوں کرتا یا سوتا جاگتا نہیں تو یہ اوصاف انسانی ہیں اور میرا یہ دعوی بھی نہیں کہ میں فرشتہ ہوں یا مجھ میں سرے سے انسانی اوصاف نہیں ہیں میرا ایک ہی دعوی ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحٰ نازل ہوتی ہے اور اس کی آزمائش یہ ہے کہ اگر میں جس بات کا حکم دیتا ہوں اس پر خود عمل نہ کرتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ اگر یہ بات اللہ کی طرف سے ہوتی اور یہ بندہ اللہ کا رسول ہوتا تو اس پر ضرور عمل کرتا لہذا میرا دعوی بھی تمہارے سامنے ہے اور میرا عمل بھی یہی میری سب سے بڑی پہچان ہے کسی کو دعا دیتا ہوں ، فتح کی بشارت دیتا ہوں یا عذاب سے متنبہ کرتا ہوں تو اپنی طرف سے نہیں کرتا اللہ کی بات ہوتی ہے جو میں اس تک پہنچاتا ہوں اور یہی سب سے بڑا کمال بھی ہے دولت کا اہتمام تو شاید کوئی بادشاہ بھی کرسکے دنیا کے کاموں میں تو کسی امیر کی سفارش بھی کام آسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ سے شرف ہمکلامی صرف اور صرف بواسطہ رسول ﷺ نصیب ہوسکتی ہے یہ تعلق کا اصل سبب ہے اس کے ساتھ جو نفع دنیا میں ہوتا ہے وہ شرط نہیں ہاں زائد ہے اور ضرور ہوتا ہے۔
ولی کی پہچان :
یہاں سے اصول ہاتھ آیا کہ اولیاء اللہ کے بارے میں جو تصور ہے کہ ان کے پاس جانے سے دولت ملتی ہے یا اولاد ملتی ہے یا یہ غائبانہ مدد کرتے ہیں یہ بھی یکسر باطل ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ وہ عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں اور جنگلوں میں پائے جاتے ہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں بلکہ ان کی بھی صرف ایک ہی پہچان ہے کہ ان کے دل اس نور سے روشن ہوتے ہیں جو نبی رحمت ﷺ نے تقسیم فرمایا اور ان کے پاس بیٹھنے سے دل منور ہوجاتا ہے وہ خود اطاعت شعار ہوتے ہیں ان کے پاس بیٹھنے والوں کو توفیق اطاعت ارزاں ہوتی ہے اور یہی بہت بڑی نعمت بھی ہے۔
ان سے کہئے کہ وحی الہی کا اتباع کرنے والا دو عالم میں دیکھنے والا اور بینا ہوتا ہے اور اس کا انکار کرنے والا اندھا مومن ہر کام کے اس انجام پہ بھی نظر رکھتا ہے جو قیامت کے روز پیش آئے گا مگر کافر اس انجام سے بھی بیخبر ہے جو دنیا میں سامنے آنے والا ہے لہذا سوچو اور فکر کرو کہ اندھے اور بینا کبھی ایک جیسے نہیں ہوا کرتے ابھی دار دنیا میں ہو توبہ کی فرصت ہے شاید تمہاری فکر کسی کام آجائے اور تمہیں توبہ نصیب ہوجائے کہ دل کا اندھا پن سب سے تباہ کن مرض ہے۔ اللہ اس سے پناہ دے آمین۔
Ayahs 6:51–55رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔
اسرار و معارف :
بحث سے اعراض :
آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں انہیں یہ سمجھائیے کہ اس روز کوئی ایسا معبود یا کوئی اسی ہستی جس کی آس اللہ کے سوا لگا رکھی ہو کام نہ آئے گی نہ مدد کرسکے گی نہ نسفارش لہذا اس روز کیلئے صرف اللہ کی عبادت اختیار کریں اور اس کی اطاعت کو شعار بنائیں۔ اس حکم میں مبلغین کے لیے بھی بہت اچھا سبق ہے کہ محض بحث کرنا مقصد نہیں بلکہ افہام و تفہیم کے لیے کی جائے اگر اس کی امید نہ ہو تو وقت ضائع نہ کیا جائے۔
عزت کا معیار :
انکار کے بھی کئی انداز ہوتے ہیں اور غلط کار انسان بھی ایسی راہ تلاش کرنا چاہتا ہے کہ کم از کم معاشرے میں وہ خود کو سچا ثابت کرسکے مشرکین مکہ نے بھی ایک ایسا بہانہ تلاش کیا۔ کہنے لگے ہم ان کی بات ضرور سنتے جواب دیتے سمجھنے سمجھانے کی کوشش کرتے مگر ان کے پاس تو ایسے لوگ جمع رہتے ہیں جو یا تو کبھی ہمارے غلام تھے یا مفلس اور غربا تو ہم ان میں بیٹھ کر کیسے بات کریں یہ ایک موقع تھا جب سیدنا فاروق اعظم نے بھی عرض کیا کہ ہم سب تو غلام ہیں آپ حکم دیں سب الگ ہوجائیں گے یہ آپ کی بات سن لیں خدام تو اس میں بھی خوش ہوں گے مفسرین کرام نے متعدد صحابہ کے نام گنوائے ہیں اور یہ سب لوگ باعتبار دولت دنیا غریب تے ۔ اور جو لوگ اسلام کے نور سے محروم ہیں ان کے نزدیک دولت دنیا ہی معیار شرافت ہے اگرچہ کسی کا ایمان و عمل بالکل تباہ ہوچکا ہو دولت مند نہ ہونے کی وجہ سے رذیل شمار کیا جاتا ہے انسانی زندگی کو حیوانی معیار پر تولنا اللہ کریم کے نزدیک اس کی توہین ہے بلکہ جو شخص ایمان و عمل اخلاق و کردار میں انسانی معیار پر پورا اترے عنداللہ وہ قابل عزت ہے ورنہ کھانا پینا توالد تناسل اور گھر بار تو جانور بھی بنا لیتے ہیں۔ اگر انسانی سوچ بھی اسی جگہ تک پہنچی تو کیا فرق پڑ انسانیت تو اس شعور کا نام ہے جس سے ذات وصفات باری کی پہچان نصیب ہوتی ہے جن صحابہ کو مشرکین مفلس جان کر اٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے اللہ نے روک دیا اور فرمایا یہی تو میرے بندے ہیں جن کا کوئی لمحہ میری یاد سے خالی نہیں اور یہ اتنے اولو العزم لوگ ہیں کہ زمین پہ بستے ہیں مگر دیدار باری کے طالب ہیں ان سے بڑھ کر معزز کون ہوگا کہ اطلس و حریر میں لپٹے ہوئے بدن جن کے اندر دل میری یاد سے خالی اور ویران ہیں ان کے لیے یہ جگہ خالی کردیں ہرگز نہیں اللہ کے نزدیک دولت دنیا کی کوئی حیثیت نہیں اگر ہوتی تو کافر کو کچھ بھی نہ ملتا یہ ایک الگ نظام ہے جس میں تنگی و فراخی رزق ، صحت و بیماری جوانی اور بڑھایا اپنے اپنے وقت پر آتے اور جاتے رہتے ہیں مگر معیار انسانیت و شرافت انسان کا وہ دلی تعلق ہے جو الہ سے استوار ہوتا ہے چناچہ انہیں بات کرنا ہوگی تو ان کے ہوتے ہوئے کرلیں گے نہیں کرنا چاہتے تو آپ نے ان کے حساب کی ذمہ داری تو نہیں لے رکھی انہیں خود حساب دینا ہے اور نہ ان کی کوئی مداخلت آپ کے حساب کی ذمہ داری تو نہیں لے رکھی انہیں خود حساب دینا ہے اور نہ ان کی کوئی مداخلت آپ کے حساب میں ہے یعنی آپ نے جو کرنا ہے وہ بھی اللہ کے لیے ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ بھی اللہ کے حضور جوابدہ ہیں پھر یہ بلا جواز تکلف کیسا کہ آپ انہیں اہمیت دیں جو کسی اہمیت کا حق نہیں رکھتے اور انہیں اٹھا دیا جائے جو اللہ کے حضور ایک بہتر بڑا مرتبہ رکھتے ہیں ک ہر آن اسی کی یاد میں اور اس کی طلب میں تڑپ رہے ہیں اگر ایسا ہو تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی جو نہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے نہ آپ ﷺ کی شان کے ساتھ زیب دیتی ہے چناچہ یہ موقع تاھ کہ سیدنا عمر نے توبہ کی اور اپنی رائے سے رجوع کیا اگرچہ کفار کو تبلیغ کا موقع فراہم کرنا چاہتے تھے مگر مومنین کی تذلیل کرکے ایسا کرنا اللہ کو گوارا نہ تھا۔
مومنین و مخلصین کا دنیا کے اعتبار سے غریب ہونا کفار و مشرکین کے لیے ایک اور آزمائش کا سبب بھی ہے کہ جب تک معیار انسانیت کے بارے میں رائے درست نہ ہو اور یہی خیال رہے کہ اچھا انسان یا شریف شہری وہی ہے جس کے پاس دولت ہو مکان اور کارخانے ہوں یا دنیا میں استعمال کرنے کے اسباب کثرت سے ہوں تب تک ایمان کی لذت سے آشنا نہ ہوسکے گا اس لیے بھی یہ ضروری ہے کہ انسان کی پرکھ یا معیار اس کے عقائد و اعمال اخلاق و کردار ہوں اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو اصلاح پذیر ہونے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی لہذا اہل اللہ کا دنیا کے لحاظ سے غریب ہونا اللہ کے نزدیک ان کی عزت کم نہیں کرتا بسا اوقات بڑھا دیتا ہے اور اگر انہیں دولت دنیا مل بھی جائے جیسا کہ بعد میں صحابہ کرام بہت زیادہ امیر بھی ہوگئے تے تو بھی ان کے ہاں معیار انسانیت و شرافت نیکی اور تقوی ہی قرار پاتا ہے یہ تو قوموں کی بدنصیبی ہے جب معیار بدل جاتے ہیں اور نری دولت ہی شرافت قرار پاتی ہے جیسے آج تقریباً باقی دنیا کے ساتھ ملک عزیز میں بھی یہی حال ہے کہ حکومت چناؤ کرے تو بھی اور عوام ووٹ دیں تو بھی ہر دو کو امراء میں ہی شرافت نظر آتی ہے خواہ وہ اللہ کے نام سے بھی واقف نہ ہوں حرام کھاتے ہوں بدکار ہوں کچھ بھی ہوں بس دولت مند ہوں تو شہر کی اہم شخصیت قرار پاتے ہیں یہ صورت حال ابتلائے الہی ہے ایک آزمائش ہے کہ اس قسم کے متکبر امراء ان شخصیات پہ نظر کرکے جو واقعی نیک اور صالح ہوں مگر غریب ہوں کہہ اٹھتے ہیں انہیں تم خوش نصیب کہتے ہو کیا یہ لوگ جن پر اللہ کا احسان ہے اور وہ بھی ہمارے مقابلے میں یعنی اگر احسان ہے یا رضامندی ہے تو وہ ہمارے ساتھ ہے کہ ہمارے پاس دولت ہے اقتدار ہے ان کے پاس کیا ہے نادان یہ بھول جاتے ہیں کہ تم اس کی یاد سے محروم اور اس کی اطاعت سے بیگانہ ہو تم سے کیسے خوش ہوگا خوش تو ان سے ہے جن کو جسموں پر اگرچہ کم قیمت لباس ہے مگر دلوں میں تجلیات باری رقصان ہیں جس مبارک نام سے تمہاری زباں تک واقف نہیں رہی اس سے ان کے بدن کا رواں رواں روشن ہے اور تمہاری دولت و اقتدار جس کے ساتھ اللہ کی نافرمانی جمع ہے تمہیں کس گڑے میں پھینکے گی تم اس کا خیال کیوں نہیں کرتے تمہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اللہ کریم تو شکر گزار بندوں کی آہو کو رائیگاں نہیں جانے دے گا وہ لمحے جو اس کی طلب میں بسر ہوئے وہ راتیں جو اس کی یاد میں کٹیں وہ دن جو اس کی طلب میں بیتے اور وہ مبارک افراد جن کے ہر کام میں اس کی رضامندی کی طلب نظر آتی ہے بھلا اس کی نگاہ کرم سے محروم رہ سکتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا انہیں کے دل آباد ہوں گے اور ہمیشہ کی خوشی بھی انہیں کے حصہ میں آئے گی اپنے اس فیصلے کے لیے اللہ کریم کو امراء سے کسی مشورہ کی ضرورت بھی نہیں۔
بلکہ اس سے بڑھ کر آپ مومنین کو خوشخبری دیجئے جب بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوں تو انہیں کہئے تم پر سلامتی ہو یعنی ایک تو یہ بشارت کہ کفار ملحدین طرح طرح کی مصیبتوں کا شکار ہوں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مگر تم ہر طرح سے مامون ہو کہ تمہارے رب نے تم پر رحمت کرنے اور تمہیں انعامات سے مسسل نوازتے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیجئے کہ بتقاضائے بشریت اگر خطا ہوجائے جہالت سے نادانی سے اگر گناہ کر بیٹھو تو فوراً توبہ کرو اور اپنی اصلاح کرلو کہ مطلق گناہ نہ کرنا تو انبیاء کا وصف ہے یا فرشتے کا باقی سب سے ممکن ہے اگرچہ ساری عمر کسی سے صادر نہ ہو مگر خطرہ تو ہے اور اگر ہوجائے تو علماء کا قول ہے کہ ہر گناہ جہالت ہے لہذا فوراً توبہ کرنی چاہئے اگر توبہ کرکے توڑ دی پھر گناہ صادر ہوگیا تو بھی اس کا علاج توبہ ہی ہے اور توبہ سے مراد یہ ہے کہ جو ہوچکا اس پر ندامت ہو اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرے تو اللہ کریم بہت بڑا بخشنے والا ہے ہمارا اندازِ بیان تو اسی طرح سے تفصیل کے ساتھ اور عام فہم ہوتا ہے کہ ان ارشادات اور نزول کتاب کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی کے راستے میں جس قدر خطرات ہیں سب سامنے آجائیں اور واضح ہوجائیں پھر کوئی اندھا بن کر گڑھوں میں گرے تو یہ اس کی اپنی پسند ہوگی ورنہ نیکی و بدی شرافت و رذالت بھلائی اور برائی نیز اعمال اور ان کے نتائج دنیا میں اور اس کے بعد حقیقی اور ابدی زندگی میں کیا ہوں گے یہ واضح کردیا گیا ہے۔
Ayahs 6:56–60رکوع نمبر 7 ۔ آیات 56 ۔ تا 60 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں صاف طریقہ سے بتا دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو مجھے ان کی اطاعت سے روک دیا گیا ہے اس لی کہ اللہ کریم کو کبھی یہ بات گوارہ نہیں ہوسکتی کہ بندہ تو اس کا ہو اور اپنی ضروریات کسی اور کے دروازے پر لے جائے پھر حال یہ ہے کہ ہر ضرورت پوری بھی اللہ ہی کرتا ہے یہ انسان کی کوتاہ بینی ہے کہ اس کے صلے میں احساس تشکر دوسروں کے در پہ نچھاور کرے اور یہ محض تمہارے نفس کا فریب ہے اگر خدانخواستہ تمہاری تائید کروں تو میں غلطی کرنے والوں میں سے ہوجاؤں گا اور سیدھی راہ چھوٹ جائے گی یہ بات پھر بھی درست ثابت نہ ہوسکے گی لہذا میں ایسی بات کیوں کروں۔
اور پھر میرے پاس تو میرے پروردگار کی طرف سے واضح دلائل موجود ہیں نزول وحی سے کلام ، اللہ کی کتاب اور علوم الہیات کا بہت بڑا خزانہ جس کو تم پہچان ہی نہیں سکے بلکہ محض انکار کیے جا رہے ہو اور اس پر مزید ناشکری کے مرتکب ہوتے ہو جب کہتے ہو کہ اگر اس کے انکار کا نتیجہ عذاب ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا میں نے یہ دعوی تو نہیں کیا کہ عذاب وثواب میرے پاس ہے میں تمہیں یہ بات سمجھانے کی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ فیصلہ صادر فرمانا خود اللہ کا کام ہے اس میں کسی کو مجال دم زدن نہیں یہ اس کی مرضٰ تمہیں کتنی مہلت دیتا ہے یا کس کو توبہ کی توفیق ارزاں ہوتی ہے کون کب اور کس عذاب میں گرفتار ہوتا ہے کہ اللہ کریم ہمیشہ کھری کھری بات کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ اگر عذاب وثواب میرے پاس ہوتے اور تم یوں نقد طلب کرتے تو میں دیر نہ کرتا بلکہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا لیکن یہ سرے سے میری ذمہ داری ہے نہ میرے فرائض میں داخل میرا کام اللہ کی بات اللہ کے بندوں تک پہنچانا ہے کس نے کیا جواب دیا مجھے بتانے کی ضرورت بھی نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ کس نے کتنی زیادتی کی اس کی ذات سے ہرگز چھپا ہوا نہیں۔
اوصاف باری :
مذہب باطلہ نے انسانی ضروریات کے مطابق مختلف چیزوں میں مختلف اوصاف کا یقین کرکے متعدد ایسے وجود قبول کرلیے جن میں سے ہر ایک عبادت کا مستحق ٹھہرا مگر مذہب حقہ اسلام نے اس بات کو صاف کردیا کہ ہر طرح کا کمال اور تمام اوصاف مثلاً پیدا کرنا رزق دینا۔ ضروریات سے واقف ہونا۔ علم یعنی ہر ایک کے ہر حال کی خبر اور قدرت یعنی ہر کام کو ذاتی طور پر کرسکنا بغیر کسی احتیاج کے یہ صرف ایک ہستی میں ہیں اور وہی اکیلا معبود برحق ہے کوئی نبی ، کوئی فرشتہ تک ان اوصاف میں اس کا شریک نہیں سب اس کی مخلوق ہے اور جس کے پاس کوئی کمال بھی ہے وہ اسی کا عطا کیا ہوا ہے لیکن اس کی ساری صفات بھی ذاتی ہیں مخلوق نہ تھی اس نے پیدا کی مگر وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا جیسے اس کی ذات ازلی و ابدی ہے ویسے ہی اس کی ساری صفات بھی ہمیشہ سے ہیں ہمیشہ رہیں گی مگر سب اوصاف کو یہاں دو صفات میں سمو دیا گیا ہے غالبا اس لیے کہ انسان اگر اصلاح پذیر ہونا چاہے تو ان دو کا یقین اسے پوری زندگی کے لیے رہنمائی مہیا فرما دیتا ہے اول علم اور دوسرے قدرت۔
تو پہلے علم کے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ یعنی علوم غیبیہ میں مکلوق کو اصلاً دخل نہیں۔ یہاں کچھ الجھاؤ پیدا ہوتا ہے کہ بعض باتیں جن کو لوگ سن کر غیب کا علم یقین کرلیتے ہیں وہ تو مخلوق میں بھی ثابت ہیں جیسے حکیم ، ڈاکٹر ، یا سائنسدان بعض پیشگوئیاں کردیتے ہیں جو سچ ثابت ہوتی ہیں اس کی اصل یہ ہے کہ یہ سب لوگ کسی نہ کسی اثر سے اندازہ لگاتے ہیں جو کبھی غلط بھی ہوسکتا ہے اور ٹھیک بھی مگر وہ اثر اتنا خفیف ہوتا ہے کہ عام آدمی محسوس نہیں کرپاتا لہذا یہ غیب کا علم تو نہ رہا اس کے جاننے کا سبب تو موجود ہوتا ہے دوسری قسم کا علم کہانت یا رملی نجومی وغیرہ کا علم ہے جس کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ بعض کا سبب شیطان سے تعلق ہوتا ہے اور اس کے بتانے سے کئی باتیں کاہن جان لیتے ہیں جو یہاں سے دور واقع ہوئی ہوتی ہیں یا پھر نجومیوں یا ہاتھ دیکھنے والوں کا فن ہے جس کے اندازے ہوتے ہیں جو غلط بھی ہوسکتے ہیں اور ٹھیک بھی بہرحال ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ضرور موجود ہوتا ہے سب سب سے مضبوط علم انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور اہل اللہ کا ہوتا ہے نبی دو جہان کی خبر دیتا ہے حقائق اخرویہ سے آگاہ فرماتا ہے اور واقعی غیب کی باتیں بتاتا بھی ہے اور غیب ہی پر ایمان لانا شرط بھی ہے مگر اصطلاح قرآن میں اسے بھی علم غیب اس لیے نہیں کہا جاتا کہ نبی کو غیب پر اطلاع دی جاتی ہے اور جو علم اطلاع پانے سے حاصل ہوا اطلاع عن الغیب کہلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا ہے کہ نہ کسی اثر کا محتاج ہے نہ اطلاع کا جو ہوچکا ہورہا ہے یا ہوگا سب کچھ اس کے علم میں حاضر و موجود ہے حتی کہ کش کی و تری صحراؤں کی وسعتوں میں ریت کے کتنے ذرے ہیں اور سمندر میں کتنے قطرے سب جانتا ہے کوئی پتہ خشک ہو کر جھڑتا ہے تو اس کے علم میں ہے زمین کی اندھیری تہوں میں کوئی دانہ اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں بلکہ کوئی چھوٹی بڑی خشک و تر ایسی چیز نہیں جو لوح محفوظ تک میں موجود نہ ہو کائنات تو اس میں لکھی پڑی ہے اور اللہ کا علم اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔
رہی قدرت کی بات تو انسان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ بغیر نیند زندہ نہیں رہ سکتا نیند جو موت کی بہن ہے اللہ ہی ایسا قادر ہے جو نیند میں انسان پر موت ایسی حالت وارد کردیتا ہے اور اسے بھلے برے سیاہ سفید کی کوئی خبر نہیں رہتی اور دن بھر کی ہر حرکت کو وہ دیکھتا ہے یعنی جو کچھ کرکے تم سوئے تھے اس کے علم میں ہے تم اس کے قبضہ قدرت میں ہو پھر تمہیں زندہ کردیتا ہے کہ جو مہلت حیات دی تھی پوری کرلو تمہاری راہنمائی کے اسباب موجود ہیں اگر واپس آنا چاہو تو باب توبہ کھلا ہے ورنہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں پلٹ کر میرے حجور ہی پیش ہونا ہے تمہیں تمہارے اعمال کا ایک ایک حرف بتا دوں گا ایک ایک حرکت سے آگاہ کردوں گا۔