Ayahs 6:92–95رکوع نمبر 11 ۔ آیات 92 تا 95 ۔
اسرار و معارف :
نبی کی بشریت :
اسلام نے پوری دنیائے کفر کو چیلنج کرتے ہوئے ساری انسانیت کو ایک معبود برحق کے ساتھ ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی اور اس طرح سب کافر اسلام دشمنی پہ جمع ہوگئے سوائے ان خوش نصیب لوگوں کے جنہیں نور ایمان نصیب ہوا اور ظلمت کفر سے نجات ملی مگر یہودی اسلام دشمنی میں اول روز سے پیش پیش رہے حتی کہ مشرکین مکہ بھی علمائے یہود سے اعتراض سیکھ کر حضور اکرم ﷺ پہ پیش کرتے تھے اور اس غرض سے مدینہ آتے جاتے رہتے کہ اکثر یہودی عالم وہاں رہتے تھے آخر یہودی علما کے سربراہ نے انہیں کہا کہ کسی بشر پر یا کسی انسان پر اللہ کی طرف سے کبھی کوئی چیز نازل ہی نہیں ہوئی یہ ایسی ہی بات تھی جیسے جہلا کہہ دیتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا غالباً ایسا کہنے والے خود اپنی ذات کو یا ارد گرد کے افراد کو معیار انسانیت سمجھ لیتے ہیں جو درست نہیں بلکہ اصل معیار نبی کی ذات ہے اور کمال انسانیت ہی کا نام ہے محمد رسول اللہ ﷺ کہ مکلف مخلوق چار قسم کی ہے فرشتہ شیطان جن اور انسان۔ ظاہر ہے فرشتوں میں نبوت نہیں اور نہ جنوں میں ثابت ہے شیطان سراسر ظلمت ہے باقی صرف انسان ہے جسے یہ نعمت بخشی گئی ہاں ہر بنی آدم انسان نہیں بلکہ اولاد آدم میں جو جس قدر نبی پاک ﷺ کے تابع ہے اس درجہ کا انسان ہے ورنہ انسانیت سے محروم ہے لہذا نبی تو نہ صرف انسان ہوتا ہے بلکہ معیار انسانیت ہوتا ہے لہذا جواباً ارشاد ہوا کہ اگر اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری تو موسیٰ (علیہ السلام) پر وہ روشن اور واضح کتاب جو لوگوں کے لیے باعث ہدایت تھی کس نے نازل کی تھی نور اور ہدی یہ دو ایسے اوصاف ہیں جو تمام آسمانی کتب کا خاصہ ہیں کہ کلام الہی ہونے کے سبب بھی نور ہیں اور ہر طرح کی ظلمت کے مقابلے میں روشن اور زندگی کے جملہ امور کے لیے واضح راہنمائی کی حامل ہوتی ہیں مگر سب کا اپنا دور اور زمانہ تھا اگرچہ ایمان تو اب بھی سب کے ساتھ ویسا ہی ضروری ہے مگر اتباع آخری کتاب اور آخری نبی ﷺ کا ہوگا۔
اس کتاب نے تمہیں ایسے اعلی علوم سکھائے جو اس کے بغیر نہ تم جان سکتے تھے نہ تمہارے باپ دادا کی رسائی وہاں تک تھی مگر تم ایسے بدبخت تھے کہ اس کتاب کو بھی ورق ورق کرکے رکھا جہاں اپنے مطلب کی بات آئی ورق نکال کر کتاب سے ثابت کردیا اور جہاں اپنے مطلب کی بات آئی ورق نکال کر کتاب سے ثابت کردیا اور جہاں اپنی پسند کے خلاف کچھ کرنا پڑا جیسے آقائے نامدار ﷺ کی نبوت کا ذکر موجود تھا مگر چھپا لیا۔ اس کردار کے لوگ بھلا آپ پر نازل شدہ کلام کی تصدیق کب کریں گے ہاں انہیں فرما دیجئے کہ وہ کتاب بھی اللہ ہی نے نازل فرمائی تھی اور اپنے بندے اور ایک انسان پر یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر مدلل جواب دینے کے بعد آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور انہیں اپنی خرافات کہنے دیں۔
کتاب کے مطابق عمل کرے نہ یہ کہ اپنے عمل کا جواز گھڑتا پھرے :
یہ بات واضح ہوگئی کہ محض مقصد بر آوری کے لیے کتاب اللہ کے حوالے تلاش کرنا درست نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہے اگر اپنا عمل اس کے مطابق ہو تو اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر کوتاہی ہورہی ہو تو اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے کتاب کی ناروا تاویلیں کرکے اپنے عمل کو جائز ثابت کرنا ظلم ہے یہ کتاب جو ہم نے نازل فرمائی بہت بڑی برکتیں رکھتی ہے ایک ایک ضرورت کا وہ حل پیش فرماتا ہے جو آسان ترین بھی ہے اور اللہ کریم کا پسندیدہ بھی اور ان تمام صداقتوں کی امین بھی ہے جو پہلی کتابوں میں تھیں عقائد توحید و رسالت یا مبداء و معاد ثواب و عذاب زندگی اور آخرت میں کوئی تبدیلی نہیں کرتی اور یہ اس لیے نازل فرمائی گئی کہ آپ ام القری یعنی مکہ مکرمہ جو اس مقام پر ہے جو روئے زمین کا مرکز ہے جہاں سے زمین پھیلائی گئی لہذا تمام انسانی آبادیوں کی اصل ہے کے باسیوں کو بھی اور اردگرد یعنی جہاں تک زمین پھیلائی گئی اور اس پر جو انسان آباد ہیں سب کو اخروی اور ابدی نقصان سے بروقت خبردار کردیں سبحان اللہ کتنا بڑا احسان ہے رب کریم کا اور کس قدر عظیم مشقت ہے حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی کے لیے۔
صداقت کتاب کی دلیل :
جن لوگوں میں آخرت کا شعور باقی ہوگا وہ تو آپ کی بات فوراً قبول کریں گے اور اللہ کی اطاعت اور پنجگانہ عبادت پورے خلوص سے شروع کردیں گے بلکہ اس کی ھفاظت کریں گے یعنی ایسے امور سے اجتناب کریں گے جو عبادت سے روکنے یا اللہ کریم کی ناراضگی کا سبب بن سکتے ہوں۔ دوسری دلیل قرآن کے کتاب الہی ہونے کی خود آپ ﷺ کی ذات گرامی ہے کہ جس ہستی نے کبھی کسی انسان پر غلط بیانی نہ کی ہو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر یہ بات نازل فرمائی ہے حالانکہ اللہ نے نازل نہ کی ہو یہ آپ جیسا کریم اور صادق و امین نہیں کہہ سکتا یہ تو کوئی بہت بڑا بدکار اور ظالم شخص ہی کہہ سکتا ہے کہ اللہ پر جھوٹ بولنے سے بڑا اور کیا جرم ہوسکتا ہے یا یہ کہہ دے جو کچھ اللہ نے نازل فرمایا ہے میں بھی ایسا کلام پیش کرسکتا ہوں ایسا کرنے والے لوگ تو انتہائی درجہ کے ظالم اور بدکار ہوتے ہیں حتی کہ انہیں اگر موت کی دہلیز پہ دیکھا جائے یعنی وہ روحانی اور باطنی کیفیت اگر دیکھی جاسکے جب موت کے فرشتے یعنی ملک الموت کے کارندے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ یہ خبر بھی دیتے ہیں کہ اب جان حوالے کردو آج سے تم اس ذلت کے عذاب میں پڑنے جا رہے ہو جو اللہ کریم پر جھوٹ بولنے کی سزا ہے اور اس تکبر کی سزا بھی جو تم نے احکامِ الہی کے مقابلے میں اختیار کیا تھا۔ یاد رہے مرنے والے کی ظاہری حالت سے اندازہ نہیں کیا جاسکتا بعض اوقات مومنین پر بھی بظاہر تکلیف نظر آتی ہے مگر حقیقت میں یہ چن دلمحوں کی تکلیف ان کے لیے بیشمار خطاؤں کی بخشش کا سبب ہوتی ہے اس لیے میں نے روحانی اور باطنی کیفیت کے الفاظ لکھ دئیے ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ مشاہدہ نصیب ہوتا ہے اسی ذریعے سے تو ساری کتاب بھی حاصل کرتے ہیں ایسے ہی اہل اللہ کو بھی انبیاء کی اطاعت اور نسبت سے یہ دولت حسب حال نصیب ہوتی ہے۔
پھر جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے یعنی یوم حساب بھی بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ تم تو ویسے ہی اکیلے ننگے بدن برہنہ سر آگئے جیسے میں نے پیدا کیا تھا اور وہ مال اور اقتدار جس پر اکڑتے تھے وہ کیا ہوا سب چھوڑ آئے ہو تمہارے ساتھ تو کوئی ایسے سفارشی بھی نہیں جن کو تم اللہ کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے تھے جن کی غلامی پہ تمہیں ناز ہوا کرتا تھا آج تو تمہاری دوستیاں ٹوٹ گئیں وہ تم سے جان چھڑاتے ہیں اور تم ان سے بیزار ہو تعلیماتِ نبوت کے مقابلے میں جو اوہام تم نے گھڑ رکھے تھے سب تباہ ہوگئے اور کوئی تمہارے کام نہ آسکا۔
Ayahs 6:96–101رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے یہ کتنی عجیب کاریگری ہے کہ بےجان سے جاندار کو پیدا کردیتا ہے اور جاندار سے آگے چلانے کے لیے پھر بےجان قطرے کو سبب بنا دیتا ہے اس طرح پیدا ہونے والی مخلوق کو کیوں شریک ٹھہراتے ہو یہ کیسی واہیات بات ہے جسے تم نے اختیار کر رکھا ہے یہ تو زمینی نظام ہے ذرا آسمان کی طرف نگاہ کرو اور دیکھو کون ہے جو ظلمت شب سے سپیدہ سحر کو پیدا کر رہا ہے تاریکی تو روشنی کی دشمن تھی اس کی کوکھ سے روشنیوں کو جنم دینے والا کون ہے اور خود شب کی تاریکی اگرچہ لوگوں کو بھاتی نہ ہو مگر اللہ نے یہ بھی بہت بڑی نعمت پیدا فرما دی کہ دن بھر کے تھکے ہارے انسان رات کو آرام پاتے ہیں ان کی توانائیاں پھر سے جمع ہو کر نئے دن کو کام کرنے کے قابل ہوجاتی ہیں ذرا عقل کو کام میں لاؤ اور سوچو کہ اگر رات نہ ہوتی تو کیا روئے زمین کے انسان مل کر بھی آرام کا کوئی وقت طے کرسکتے تھے یا جو آرام رات دیتی ہے اسے دن کی روشنی میں پا سکتے تھے ہرگز ممکن نہ تھا۔
شمسی و قمری حساب :
یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ذرا دیکھو چاند اور سورج کو کس طرح ایک مقرر راستے پر اور مقررہ اوقات میں پابند کردیا کہ دیگر بیشمار فوائد کے ساتھ وقت کا شمار ہی کتنی بڑی نعمت ہے یہ اتنے بڑے روشن کرے اس پابندی سے حرکت کرتے ہیں کہ دن رات گھنٹے منٹ اور سیکنڈ تک اوقات کا شمار ممکن ہے یہاں چاند اور سورج دونوں کو وقت کے شمار کے لیے فرمایا گیا ہے اس لیے شمسی حساب سے تاریخ یا مہ و سال کا حساب منع اور گناہ نہیںٰ ہاں عبادات کو قمری حساب پر معین فرمایا جس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ چاند کے طلوع و غروب سے ہر آدمی آسانی سے حساب کرسکتا ہے چونکہ رمضان اور حج وغیرہ عبادات کا مدار قمری شمار پر ہے اس لیے اس کی حفاظت ضروری اور ترک سخت گناہ ہے مگر روز مرہ کی باتوں میں شمسی حساب منع نہیں ہاں اس کا ترک گناہ نہ ہوگا یہ سب اس غالب اور قدرت والے واحد لاشریک کے مقرر کردہ امور ہیں ورنہ مخلوق تو آج بھی اتنی ہی عاجز ہے جتنی روز اول تھی بھلا سارے لوگ مل کر بھی چاند یا سورج کی حرکت میں جلدی یا تاخیر کرسکتے ہیں ہرگز نہیں اللہ کریم ایسا قادر ہے کہ ایک ایک ستارے کا وقت طلوع و غروب اور راہ سفر اس طرح مقرر فرما دیا کہ تم خشکی میں یا سمندر میں رات کی تاریکیوں میں انہیں دیکھ کر راستہ معین کرلیتے ہو۔ یہ ایسی زبردست نشانیاں ہیں کہ ذرا علم و شعور ہو تو انسان کے پاس عظمت باری کے اقرار کے سوا چارہ نہیں۔
ذرا اپنا حال دیکھو اس قادر مطلق نے تمہیں ایک نفس سے حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور پھر تم میں طریق توالد و تناسل جاری کردیا یہ پیدائش صلب پدر ہو کہ شکم مادر زندگی ہو یا موت سب تمہارے چند روزہ ٹھکانے بنائے اور آخرت کو تمہاری منزل بنا دیا تم خود اثنائے راہ میں ہو ذرا آگے جانے والوں کو دیکھو اور پیچھے آنے والوں پہ نگاہ کرو اگر تم میں ذرا سوچنے کا مادہ باقی ہے تو تمہیں واضح دلائل مل جائیں گے۔ بارش پر غور کرو کس طرح پانیوں کو بلندی پہ لے جاتا ہے بادل کو ہوا اڑائے پھرتی ہے مگر جب پانی برستا ہے تو زمین بھی سنبھالنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ کن بلندیوں سے لا کر اسے زمین کی تہوں میں پہنچا دیا اور اسے تمام نباتات کے اگنے کا سبب بنا دیا کبھی سمندر تھا پھر بادل میں نظر آیا فضا میں تیرتے ہوئے قطروں کی شکل میں برسا اب نباتات اور درختوں میں جان بن کر دوڑ رہا ہے سبرزے اور چارے میں موجود ہے غلے اور دانے موتیوں کی طرح پروئے ہوئے آ رہے ہیں کھجور کے پھلوں کے گچھے بن گئے اور رنگارنگ کے پھل انگور ، زیتون انار الگ بہار دینے لگے پانی تو ایک ہی تھا کہاں کہاں پہنچا کیا کیا بنا کچے اور پکے پھل لے کر دیکھو کتنی بڑی تبدیلی سے دوچار ہوچکا ہوتا ہے۔ بھلا یہ کون کرتا ہے صرف اللہ تو کیا صرف تمہاری ضرورتوں کے لیے اسے دوسروں کی مدد بھی درکار ہے تم جنوں کو اس کا شریک سمجھ لیتے ہو جو خود ایک عاجز مخلوق ہیں اور کبھی جہالت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس کرلیتے ہو کبھی اس کے بیٹے بناتے ہو کبھی بیٹیاں تسلیم کرتے ہو وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے اور کوئی اس کا ثانی ہے نہ ہمسر وہ تمہاری فرض کردہ جاہلانہ باتوں سے بہت ہی بلند ہے۔
Ayahs 6:102–111رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی بھی ہونی چاہئے اور اگر یہ سب سلسلہ ہوا تو پھر مخلوق خالق کی ہمسری کا دعوی کرسکتی ہے ہرگز نہیں اسی لیے وہ اکیلا ہے بےمثل و بےمثال ہے کوئی اس کی بیوی ہے نہ بیٹا بلکہ سب کچھ ہی اس کی صنعت اور مخلوق ہے تم سب کا پیدا کرنے اور پالنے والا ایسی ہی عظیم شان کا مالک ہے لہذا اس کے سوا کسی کو حق نہیں کہ معبود کہلائے نہ کوئی ہے اور نہ تمہیں زیب دیتا ہے کہ مخلوق مخلوق ہی کی عبادت شروع کردے اس لیے صرف خالق کل کی عبادت کرو اور یاد رکھو جس نے سب مخلوق کو پیدا فرمایا ہے سب کا کارساز بھی وہی ہے اگر اس کی بارگاہ سے منہ موڑ کر کسی بھی دوسرے کی عبادت کرتے بھی رہو تو وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکے گا اس لیے مخلوق ہونے کی وجہ سے خود محتاج ہوگا۔
رویت باری :
ساری مخلوق کی نگاہیں مل کر بھی اس کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتیں لیکن وہ بیک وقت ان سب لطیف نگاہوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور محیط ہے اس لیے کہ وہ بہت باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے کائنات کا کوئی ذرہ کسی لمحے اس کی ذات سے اوجھل نہیں اور دوسری کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس قدر وسیع علم کی متحمل ہوسکے۔ اس لیے کہ مخلوق کی نگاہ بھی تو ایک حاسہ ہے جو محسوس اشیاء کو ہی دیکھ سکتی ہے مگر اس کی ذات تو وہم و خرد سے بھی بالا تر ہے کہ وہ لا محدود ہے اور قیاس و خرد محدود ہاں ایک بات بہت اہم یہاں زیر بحث لائی گئی ہے کہ کیا دنیا میں رویت باری ممکن ہے ؟ اس کا سیدھا جواب علماء حق نے دیا ہے کہ اس عالم دنیا میں حق تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ اور رویت نہیں ہوسکتی اور اس پر بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا رب ارنی۔ تو فرمایا۔ لن ترانی۔ کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے تو پھر کسی اور کو کیا دعوی ہوسکتا ہے شب معراج جو دیدار نبی اکرم ﷺ کو ہوا وہ اس دنیا کے امور سے متعلق نہیں کہ علما کے مطابق دنیا آسمان کے اندر ہے اور اس کے آگے کا عالم آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور آخرت میں تو مومنین کو میدان حشر میں بھی اور جنت میں بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا جس پر بہت احادیث مبارکہ دلالت فرماتی ہیں بلکہ جنت کی نعمتوں میں سب سے اعلی نعمت ہی دیدار باری ہے۔ ایک بات جو بہت وزن رکھتی ہے وہ یہ کہ حدیث احسان میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کریم کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا نہ کرسکو تو یہ یقین ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے یہاں دو درجے ارشاد ہوئے ہیں پہلا درجہ یہ ہے کہ عبادت کرنے کا حق یہ ہے کہ گویا تم ذات باری کو دیکھ رہے ہو اب اگر یہ کہا جائے یہ تو محض تصور کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے تو جو کام ممکن ہی نہ ہو وہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تصور کیا ہی نہیں جاسکتا اس کے بارے آپ ﷺ کیوں ارشاد فرما رہے ہیں تو بڑی سیدھی سی بات یہ ہے کہ چشم ظاہر سے عالم دنیا میں دیدار باری ممکن نہیں لیکن اگر دل بینا ہو تو دل کی نگاہ سے دیکھا بھی جاسکتا ہے بشرطیکہ اللہ کریم خود کسی کو کوئی ذرہ جمال دکھانا چاہیں اور تصور بھی کیا جاسکتا ہے مگر ہر آدمی ایسا نہیں کرسکتا یہ اللہ کے خاص بندوں کا مقام ہے اور دوسروں کے لیے انتہائے کمال یہ ہے کہ وہ یقین حاصل کرلیں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے رہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی تو مسئلہ وہاں بھی یہی ہے کہ چشم باطن تو ان کی منور تھی فرشتوں کو تجلیات باری کو دیکھ رہے تھے سوال چشم ظاہر سے نظارہ کرنے کا تھا جس پر ارشاد ہوا کہ چشم ظاہر کو اس عالم میں یہ قوت نصیب نہیں ہاں آخرت میں یہ قوت عطا کردی جائے گی جیسا کہ تفسیر مظہری اور دیگر تفاسیر میں ہے کہ اگر رویت باری چشم ظاہر سے ہو تو پھر صرف انسانی آنکھ ہی نہیں ہر نگاہ دیکھے گی اور ہر وجود حسن لازوال کا اثر قبول کریگا اور تاب نہ لاتے ہوئے سب فنا ہوجائیں گے اس لیے ارشاد ہوا لن ترانی ورنہ چشم باطن یا دل کی نگاہ نصیب ہو تو آخرت کا مشاہدہ بھی ممکن ہے اور ملائکہ سے کلام بھی انوارات و تجلیات تو نظر آتی ہی ہیں کسی پر انتہائے لطف ہو تو جمال ذات کا شمہ نصیب ہوجانا بھی ممکن ہے واللہ اعلم بالثواب اور آخرت میں اہل جنت کو اللہ کا دیدار ضرور نصیب ہوگا مگر وہاں بھی نگاہیں اس کی ذات کا احاطہ نہ کرسکیں گی کہ مخلوق لاکھوں قوتیں پانے کے باوجود مخلوق ہی ہے اور اس کی ذات مخلوق کی گرفت و احاطہ سے بالا تر ہاں وہ ہر ذرے سے باخبر ہے اور ہر آن ہر شے کا علم رکھتا ہے
ختم نبوت :
لوگو اس کی عظمت پہ بیشمار واضح اور روشن دلائل آ چکے انسانیت تک یہ سب کچھ پہنچ چکا پھر آپ کی بعثت آپ کے کمالات و معجزات اور اللہ کا کلام یہ سب کچھ تمہارے پاس ہے اب مزید کچھ نازل نہیں ہوگا کوئی نئی دعوت نہیں آئے گی یہ بھی ختم نبوت پہ بہت بڑی دلیل ہے کہ جو کچھ نشانات ظاہر فرمانا منظور تھے وہ ہوچکے اب آپ انہیں یہ سمجھا دیں کہ بات تمہاری طرف ہے جس نے ان چیزوں پہ غور کیا اور اللہ کی اطاعت اختیار کی اس نے اپنا اپنی ذات کا بھلا اور فائدہ کرلیا مقصد حیات کو پا لیا اور جس نے آنکھیں بند کرلیں یعنی اس قدر واضح دلائل ہیں کہ جو نہ دیکھنا چاہے گویا اس نے آنکھ ہی بند کرلی تو اس نے بھی اپنا ہی نقصان کیا ، رہی میری حیثیت تو فرما دیجیے کہ میں تم پر داروغہ یا محافظ مقرر نہیں ہوں کہ تمہیں خواہ مخواہ لے کر بارگاہ الہی میں پیش کرنا ہے بلکہ میرا کام سب انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا اور جو قبول کریں اور ہدایت کے طالب ہوں ان کی تربیت فرمانا ہے۔
قرب نبوت :
یہ ہمارا کرم ہے کہ اس قدر روشن دلائل مہیا فرم ادئیے اور آپ کا امی ہونے کے باوجود اس قدر اعلی کلام جس کا مضمون ، معانی اور بیان ایسا روشن ہے کہ بڑے بڑے فضلا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز اور فلاسفر و حکماء حیران لیکن ان کی کجروی بھی دیکھیں کہتے ہیں آپ نے کہیں سے سیکھ لیا حالانکہ آپ کی حیات مبارکہ تو ان کے سامنے ہے مگر کج رو ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں اور ہمارا مقصد بھی ہر ایک سے منوانا نہیں بلکہ جو طالب حق ہوں اور طلب علم رکھتے ہوں ان کی رہنمائی ہے ورنہ طاقت سے منوانا منظور ہوتا تو کس کی مجال تھی کہ شرک میں مبتلا ہوتا جو انسان ایک ایک سانس کے لیے محتاج ہے وہ بھلا کیا روگردانی کی جرات کرے گا ہاں خود ہم نے یہ آزمائش رکھی اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ اطاعت یا خود سری میں سے ایک راہ پسند کرلے لہذا آپ کے ذمہ ان کی حفاظت نہیں ہے اس طرح کہ کوئی انسان بھی گمراہ نہ ہو بلکہ جو شرک اور گمراہی کو اپنائیں آپ ان سے اپنا رخ انورپھیر لیں ان کی ہرگز کوئی پرواہ نہ کریں یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ نبی رحمت ﷺ سے انہی لوگوں کو تعلق نصیب ہوگا جن میں خلوص دل سے اللہ کریم کی طلب پیدا ہوگی ورنہ محض رسومات جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی بلکہ اکثر رسوم ایسی ہوتی ہیں جو بارگاہ نبوت سے دور کردینے کا باعث بنتی ہیں۔ اعاذنا اللہ منھا۔
بدکلامی منع ہے :
ان آیات میں ایک سنہری اصول ارشاد ہوا کہ مشرکین جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں ان کو برا بھلا نہ کہا جائے۔ سب ، ایسے الفاظ کو کہا جاتا ہے جن سے کسی کو منسوب کیا جائے تو وہ ناپسند کرے یا سننے والوں میں اس کی تحقیر ہو اور عرف میں گالی کو کہتے ہیں تو فرمایا اگر تم ان کے لیے نازیبا کلمات استعمال کروگے تو وہ اللہ کی عظمت سے بےبہرہ ہونے کی وجہ سے اس کی شان میں گستاخی کریں گے اس لیے کہ انسانی مزاج ایسا بنایا گیا ہے کہ ہر آدمی اپنے کردار اور فکر کو ہی جائز قرار دیتا ہے اور اسی کو پسند کرتا ہے اور جب تک اللہ کی طلب پیدا نہ ہو انسان اس بات سے دست بردار نہیں ہوتا لہذا دلائل بیان کرو ، کردار سے واجح کرو مگر سلجھے ہوئے اور پسندیدہ انداز میں طعن وتشنیع سے نہیں اس میں واعظین کے لیے مقام عبرت ہے جو مسلمانوں پہ بھی بےدھڑک فتوے صادر کرتے چلے جاتے ہیں ہاں اگر وہ قبول نہیں کرتے تو انہیں بھی لوٹ کر رب العالمین ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے پھر وہ ان پر واضح فرما دے گا کہ ان کا اپنایا ہوا راستہ اور کردار کیسا تھا۔
یہ نادان ابھی قسمیں کھا کھا کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی نشان آجائے تو ضرور ایمان لے آئیں گے یعنی اب تک جو کچھ نازل ہوچکا جس قدر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام آئیے جو معجزات لائے پھر خود نبی رحمت ﷺ کی بعثت یہ سب کچھ گویا کچھ ہوا ہی نہیں تو انہیں کہ دو کہ اللہ قادر ہے چاہے تو مزید نشان نازل کرے مگر ایسا ہوگا نہیں اس لیے نہیں کہ اللہ کریم کر نہیں سکتا اس لیے کہ اب جو آپ کی بعثت اور دلائل پہ مطمئن نہیں ہو پا رہا اللہ کریم کو ایسے لوگوں کی پرواہ بھی نہیں ہے اور اے مسلمانوں تمہیں کیا خبر کہ یہ ایمان لے آئیں گے ہم بتاتے ہیں کہ اگر اور کوئی بہت بڑا معجزہ بھی ظاہر ہوجائے تو یہ ایمان نہ لائیں گے اس لیے کہ جس دل نے آپ ﷺ کی محبت کو جگہ نہیں دی جس آنکھ کو آپ کا جمال متاثر نہیں کرسکا اسے اللہ کی طرف سے ہمیشہ کے لیے محروم ہی کردیا جاتا ہے یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس دروازے سے ہٹ جانے والے کو اللہ کریم کبھی اپنے دروازے کا راستہ دیکھنے کی توفیق ہی ارزاں نہیں فرماتے۔ بلکہ ایسے لوگ اس جرم کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے گمراہیوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
Ayahs 6:112–122رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا پر جلدی نہ پا سکے ہوں مگر کردار کی نرمی مزاج میں قبولیت کی استعداد کو باقی رکھتی ہے اور جیسے ہی کوئی لو ان کی طرف لپکتی ہے ان کا دل روشن ہوجاتا ہے اور انہیں ہدایت نصیب ہوتی ہے آنکھ کھلتی ہے تو ہر تنکا عظمت باری پہ دلالت کرتا ہوا نظر آتا ہے اگر یہ نعمت نصیب نہ ہو پھر سارے دلائل محض اتمام حجت کا کام کرتے ہیں یہی مفہوم یہاں ارشاد ہورہا ہے کہ جن لوگوں کو آپ کے ارشادات اور آپ کی ذات سے ہدایت نہیں ہوپا رہی ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں اللہ کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی استعداد کھو چکے ہیں ایسے لوگوں پر اگر فرشتے بھی نازل ہوں ان سے باتیں کریں مردوں کو زندہ کردیا جائے وہ خود انہیں برزخ کے احوال سنائیں بلکہ مغیبات آخرت یعنی خود جنت و دوزخ کو بھی ان کے سامنے کردیا جائے یہ پھر بھی نہ مانیں گے اور جب تک اللہ کریم نہ چاہے یہ کیسے مانیں گے جب کہ اللہ کریم زبردستی مسلط نہیں فرماتے جب تک نہاں کا نہ دل میں تڑپ پیدا نہ ہوا اور وہ ان کے گناہوں کے بوجھ تلے دب گئی ہے لہذا ان کے لیے کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی مفید نہیں یہ خود اس قدر جہالت میں مبتلا ہیں کہ اصل بات کو سمجھ ہی نہیں رہے۔
تاریک شریعت سے عجائبات کا ظہور :
یہ قاعدہ ہے کہ شیطان جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ان بدبختوں کو انبیاء سے دشمنی ہی نصیب ہوتی ہے جس کا بنیادی سبب ان کی شیطنت ہے حتی کہ یہ آپس میں بات کرتے ہیں تو ایک دوسرے کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیتے ہیں شیطان اگرچہ ایک تھا مگر اس کی اطاعت کرنے والے جنات اور انسانوں کو بھی شیطان کہا گیا ہے کہ ان میں بھی وہی عادات و خصائل پیدا ہوجاتے ہیں اور اسی عذاب میں اس کے شریک ٹھہرتے ہیں نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ شیطان آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے اور بات کرتے ہیں اس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوگیا کہ بعض تارک شریعت لوگوں سے عجائبات کا ظہور کیسے ہوتا ہے ظاہر ہے جہاں تک شیطان کی رسائی ہوگی اس کی مدد کردیں گے یہی جادو اور ٹونے ٹوٹکے کے اثر کا راز ہے مثلا کسی شیطان نے کسی انسان کو مس کرکے تکلیف میں مبتلا کردیا اس نے علاج کے لیے کسی ایسے شخص کا دروازہ کھٹکھٹایا جو انسانوں میں شیطان ہے اس نے چند کفریہ جملے پڑھ کر پھونک مار دی یا کسی بدعت یا مشرکانہ رسم کو ادا کرنے کا حکم دیا ظاہر ہے شیطان چھوڑ دے گا یوں اس کی اولیائی کا سکہ جما کر لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے لہذا اگر کوئی دم ہی کرانا چاہے تو یہ بھی مسنون طریقہ علاج ہے مگر شرعی حدود کے اندر کلام جائز ہو طریقہ شرعی ہو ورنہ ہرگز ایسی خرافات میں نہ پڑنا چاہئے۔
اللہ کریم حکما روکنا چاہیں وہ تو قادر ہیں مگر یہ لوگ ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے کہ اللہ کو یہ منظور نہیں بلکہ یہی تو آزمائش ہے لہذا آپ ایسے لوگوں کی کوئی پرواہ نہ کریں نہ ان کے افعال کو کوئی اہمیت دیں اور دوسرے ایسے لوگ جن کے قلوب آخرت کے یقین سے خالی ہیں وہ بھی ان کے جھوٹ اور ملمع شدہ باتوں کو ہی پسند کریں گے یہی ان کی دلی کیفیت کا تقاضا ہے آپ انہیں کرلینے دیں جس راستے پہ چل نکلے ہیں وہ آخر ایک دن اپنی منزل پر بھی پہنچیں گے۔
قرآن کریم زندہ جاوید معجزہ ہے :
آپ انہیں واضح طور پر بتا دیجئے کہ میں نے اعلانِ نبوت فرمایا تم اس کا انکار کرنے لگے مگر اللہ نے مجھ پر ایسی کتاب نازل فرما کر جس میں سب امور کی وضاحت موجود ہے میرے حق میں فیصلہ دے دیا میری تائید فرما دی کہ ایک ایسی ہستی جس نے ساری عمر کسی سے ایک لفظ پڑھا نہ ہو کسی شاعر یا ادیب کی مجلس میں نہ بیٹھا ہو یکایک ایسا کلام ارشاد فرمائے جس کا ادبی پایہ بھی بےمثال ہو نہ صرف دنیا بلکہ اس دنیا سے پہلے اور اس کے بعد کے احوال کو تفصیل سے زیر بحث لاتا ہو انسانی زندگی کی ہر ضرورت کا جواب اپنے اندر رکھتا ہو اور دنیا بھر کے بڑے بڑے ادیبوں کی جرات کلام اس کے سامنے جواب دے جائے کیا یہ سب بہت بڑا معجزہ نہیں کیا اس سے بڑا کوئی اور فیصلہ ہوسکتا ہے ہرگز نہیں اور پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ اہل کتاب جو مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں یہ تو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آپ پر جو کچھ نازل ہوا یہ اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے اس لیے کہ ان کے پاس پہلے آسمانی کتب موجود ہیں یہ کلام الہی کی عظمت اور اسلوب بیان سے واقف ہیں نیز ان کی کتب میں نزول کتاب اور آپ کی بعثت کی نوید بھی موجود ہے آپ کا حلیہ مبارک تک تفصیل سے موجود ہے لہذا کسی کے لیے بھی اس امر میں معمولی شک کرنے کی گنجائش موجود نہیں آپ کی رسالت اور کتاب اللہ کا حق ہونا روز روشن سے بڑھ کر واضح ہے۔
اس کے اوصاف بھی اس کی صداقت اور عظمت کے گواہ ہیں اول یہ کلام رب العالمین کامل اور مکمل ہے انسان اور اس کے خالق کے درمیان تعلق کے لیے انسانی زندگی کس راستے سے گزرے کیا کیا نشیب و فراز ہیں اور وہ کیونکر عبور ہوں یہ اتنا بڑا سوال ہے کہ کسی بھی انسان کے لیے اس کا جواب دینا ممکن ہی نہیں بڑے بڑے دانشور اور محقق انسانی زندگی کے کسی ایک شعبے پر داد تحقیق دیتے رہے اسی ایک موضوع پر بےشمارکتب تصنیف ہوئیں مگر سوال پھر بھی تشنہ جواب رہا اور جو نتیجہ نکلا وہ یقینی بھی نہ تھا محض انسانی اندازے تھے جو بعد میں ہونے والی تحقیق سے غلط ثابت ہوئے اور تبدیل کیے گئے یہ اللہ کی کتاب کا خاصہ ہے کہ نہ صرف ایک پہلو بلکہ کامل انسانی زندگی کی خبر دی اس کی ضرورتوں سے آگاہ فرمایا اور ہر ضرورت کی تکمیل کا وہ طریقہ بھی بتا دیا جو رب کریم کو پسند ہے اور یہی انسانی زندگی کی کامیابی ہے یہ سب کچھ اس قدر مکمل ہے کہ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔
اس ضمن میں تاریخ عالم بھی زیر بحث آئی اقوام کے کردار اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج کا ذکر ہوا آئندہ کے لیے خبر دی کہ کس عقیدے اور کون سے عمل پر کیا نتیجہ مرتب ہوگا اور یہ سب کچھ اس حد تک مکمل ہے کہ آئندہ نزول کتاب اور بعثت نبی کی ضرورت باقی نہ رہی اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور سب حق ہے سچائی ہے کوئی بیان جو گذشتہ سے متعلق ہو یا کوئی خبر جو آئندہ کے بارے ہو سب بالکل سچی ہیں یعنی صدق کھرے پن کے ساتھ اور عدلاً تیسرا وصف عدل ہے جس کے دو پہلو ہیں اول انصاف یعنی نہ تو کسی مستحق کا حق ضائع ہو اور نہ کوئی جرم کرکے چھپ سکے ہر دو طرح سے پورا پورا انصاف مل سکے ک دوسرے اعتدال کہ احکام اور زندگی کی راہیں اس قدر سخت اور شدید نہ ہوں جن کو انسانی مزاج برداشت ہی نہ کرسکے یا بہت مشکل سے برداشت کرے اور نہ بالکل ایسی کہ محض خواہشات نفس کی تابع ہوجائیں۔
مدعا یہ ہے کہ کلام باری حکمتوں سے پر اور صداقتوں کا خزینہ ہے یہاں تک کہ آنے والی نسلوں اور قوموں کے لیے ہر عہد اور ہر زمانے کے لیے ہر قوم اور ہر فرد کے لیے قابل عمل اور زندگی کا خوبصورت ترین لائحہ عمل ہے یہ کام صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے مخلوق کے بس کا ہے ہی نہیں یہ سب صداقتیں آپ کے دعوائے نبوت کی روشن دلیل ہیں۔ رہے کفار کے نامناسب اعتراضات اور بہانے تو اللہ کریم ان کی بھی ہر بات کو سن رہے ہیں اور ہر ایک کے عمل سے واقف ہیں۔
ان کا حال یہ ہے اور نہ صرف ان کا بلکہ روئے زمین پر بسنے والی اس اکثریت کا جو اللہ کے کلام کو قبول نہیں کر رہی یہی حال ہے کہ جو بھی ان کی رائے قبول کرے گا اسے اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے اس لیے کہ ان کے پاس صرف اندازے اور اوہام ہیں جن کی کوئی اصل نہیں جن رسومات کو انہوں نے مذہبی تقدس دے رکھا ہے یہ بھی صرف ان کی اپنی رائے ہے جس کے سبب یہ خود گمراہ ہیں اور اے مخاطب کبھی ایسی اکثریت کو خاطر میں نہ لانا چاہئے جو حق پر نہ ہو اس لیے کہ فیصلہ اللہ کریم نے فرمانا ہے جو بدکاروں کی عملی زندگی ان کے عقیدے اور سوچ تک سے واقف ہے لہذا وہ اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکیں گے ایسے ہی ان سے بھی اچھی طرح آگاہ ہے جو اس کی متعین کردہ راہ پر چلتے ہیں وہ انہیں اپنے کرم سے نوازے گا۔
ان کے کردار کا حال یہ ہے کہ اللہ کریم نے حلال جانوروں کو اپنے نام پر یعنی عند الذبح اپنا نام لینے کی ہدایت فرمائی اگر اللہ کا نام نہ لیا جائے یا از خود مرجائے تو حلال نہ ہوگا مگر کفار اس سے مھروم ہیں ان کی اٹکل یہ ہے کہ مسلمان جسے خود مارتے ہیں کھالیتے ہیں اور جو اللہ کا مارا ہوا ہو وہ نہیں کھاتے اس طرح کفار حرام کھاتے ہیں یا پھر بتوں پر چڑھاوا یا ان کے نام ذبح کے وقت لیکر اسے نجس کردیتے ہیں مگر تمہیں تو اس کی کتاب پر یقین حاصل ہے لہذا تمہارے پاس ایک اصول ہے کہ جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا وہ حلال اور درست ورنہ جو صورتیں حرام ہونے کی ہیں اللہ نے تم پر کھول کر بیان کردی ہیں اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ حالت اضطرار میں یعنی جان بچانے کے لیے اس قدر لے لینا کہ آدمی مرنے سے بچ سکے تو اس کا گناہ نہ ہوگا ورنہ کسی بھی صورت میں حرام کے قریب مت پھٹکو یہ اللہ کا قانون ہے جس کی خلاف ورزی پر پیٹ تو بھر جائے گا مگر اللہ کی ناراضگی مرتب ہوگی یہ اس بات سے بیخبر ہیں اور محض اپنی غلط رائے پر عمل کرکے گمراہ ہو رہے ہیں مگر ان کی گمراہی ان لوگوں کے اعمال تو ضائع نہیں کرسکتی جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اللہ کریم ان سے خوب واقف ہیں اصل راستہ ہی یہی ہے کہ اللہ کریم کی نافرمانی چھوڑ دی جائے خواہ وہ ظاہراً ہو یا باطناً کہ حرام کھانا بظاہر گناہ ہے اور حلال کو حرام خیال کرنا باطن کا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال جاننا کفر ہے اور اسلام سلامتی کا راستہ ہے جو ظاہر و باطن کی نافرمانی سے منع کرتا ہے اس لیے کہ نافرمان اپنے کیے کی سزا سے نہیں بچ سکے گا بہت جلد وہ اپنے کردار کے نتائج کو اپنے سامنے پا لے گا۔
حرام کھانے کا اثر :
مومن کو چاہئے کہ وہ ایسے جانور کا گوشت کبھی نہ کھائے جو شرعی طور پر حلال نہ ہو اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ گوشت اس کی جسمانی صحت کے لیے مضر ہے اگرچہ ہر طرح کا حرام صحت انسانی کے لیے بھی نقصان دہ ہے مگر بہت بڑا نقصان حرام کی وہ ظلمت ہے جو دل پر طاری ہوجاتی ہے اور دل شیطان کی باتیں سننے لگتا ہے جن کا اثر آپ کے سامنے ہے کہ جو لوگ آپ سے یعنی ایمان رکھنے والوں سے یا رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرتے ہیں اور ناحق کرتے ہیں کلام الہی کے مقابلے میں محض رسومات اور ذاتی رائے کو لے آتے ہیں ان کے دلوں میں یہ ساری بات شیطان ہی تو ڈالتا ہے جو حرام کھانے کے اثر کی وجہ سے ان کا دل قبول کرلیتا ہے اور یہ اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں اگر تم لوگ ان کی بات ماننے لگو تو شرک میں مبتلا ہوجاؤ کہ اول تو ان کی باتیں ہیں شرک لیے ہوئے ہوتی ہیں اور دوسرے اللہ کے مقابلے میں کسی کی بات ماننا بھی شرک ہے جو بہت بڑی تباہی کا سبب ہے۔