6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 6:61–70

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر تمام لوگ اپنے مال برحق اللہ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ بھلا تم کو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں کون نجات دیتا ہے تم اس کی عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارت ہو (کہ) اگر ہم کو اس (آفت) سے نجات دیں تو ہم ضرور آپ کے شکر گزار ہوں گے

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اللہ تم کو اس سے نجات دیتے ہیں اور ہر سختی سے ، پھر تم شرک کرنے لگتے ہو

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ وہ اس قادر ہیں کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج دیں یا تم کو مختلف گروہ کردیں اور آپس میں لڑا کر مزہ چکھا دیں دیکھئے ہم کس طرح دلائل بیان فرماتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سچ ہے۔ فرمادیجئے میں تم پر داروغہ نہیں ہوں

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں (ناجائز) بحث کر رہے ہوں تو ان سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر (یہ بات) شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیز گار لوگوں پر ان کے حساب میں سے کوئی چیز نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنارکھا ہے انہیں چھوڑ دیں اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے ان کو نصیحت فرماتے رہیے کہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے۔ اللہ کے سوا ان کا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر (روئے زمین کی) ہر چیز بطور معاوضہ دینا چاہے تو اس سے قبول نہ ہوگی۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے اعمال کے سبب ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور درد دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔ اسرار و معارف : نگراں فرشتے : اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان کی مدد اور ہر لمحہ اس پر مہربانی فرماتا رہا اب یہاں آ کر سب واضح ہوجائے گا کہ حکم دینے کا حق یعنی فیصلہ کرنا یہ اسی کا کام ہے اور کوئی اس کی بارگاہ میں دم نہیں مار سکتا۔ یہ بھی یاد رکھو کہ اسے حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی ، کوئی دشواری پیش نہیں آئے بلکہ ساری مخلوق کا حساب جب چاہیں گے تو بڑے کم وقت میں نمٹا لیں گے۔ ان سے کہئے تم ہی کہو جب تم مصائب میں گھر جاتے ہو بعض اوقات سمندروں کی پھری موجوں پہ یا صحراؤں کی وسعتوں میں کھوجاتے ہو تو کون تمہیں اس مصیبت سے نجات بخشتا ہے کیا تم گڑگڑا گڑگڑا کر اور چپکے چپکے اللہ ہی کو نہیں پکارتے نہ صرف پکارتے ہو کہہ دیتے ہو کہ ہمیں اس مصیبت سے بچا لے ہم ساری زندگی تیری اطاعت میں بسر کردیں گے تیرے شکر گذار بندے بن جائیں گے۔ اللہ کا تصور : مشرکین عرب میں یہ بات عام تھی کہ سمندری طوفان میں گھر جاتے یا کسی ویرانے میں پھنس جاتے تو اللہ کو پکارا کرتے تھے اور اس لمحے بتوں وگیرہ سے بھروسہ اٹھ جاتا تھا کہہ دیتے کہ بتوں کی پوجا کسی کام نہ آئی اب اگر اللہ نے بچا لیا تو کبھی دوبارہ ایسا نہ کریں گے دوسری بات اور غالباً اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تصور ایک ایسی غیبی طاقت کا تصور جو انسان کے ہر حال سے ہر وقت واقف ہو اور ہر جگہ اس کی مدد کرسکتی ہو یہ انسانی مزاج کا حصہ ہے اگر کسی کا مزاج بالکل مسخ نہ ہوچکا ہو تو وہ ویسے نہ سہی مگر جب کبھی مصیبت آ لے ضرور اور بےساختہ اسے پکار اٹھتا ہے اور وہ طاقت اللہ ہی تو ہے لہذا یہ بھی خوب جانتا ہے کہ جب اس سے مدد چاہتا ہوں تو مجھے اس کی اطاعت کرنا ہوگی بھلا نافرمانی کرکے مدد مانگنا کب زیب دیتا ہے اور اطاعت کرنا ہی بہترین شکر گذاری ہے یہ سب سمجھتے ہوئے آدمی بےساختہ کہہ اٹھتا ہے اللہ میری مدد فرما میں تیرا شکر گذار بندہ بن کر رہوں گا۔ امراض کا علاج : یہ ہمارے عہد کی مصیبت ہے کہ لوگ اپنے دعوی اسلام کے باوجود اللہ کریم کو مصیبت میں پکارنا بھی بھول چکے ہیں اور زمانہ حال ایجادات کی چکاچوند نے انسانوں کو پاگل کردیا ہے ذرا سی تکلیف ہو تو ان کا ملجا و ماوی ڈاکٹر یا سیاستدان اور بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی سائنسدان یا صاحب اقتدار سے آگے انہیں کچھ نظر نہیں آتا حالانکہ ہر بیماری بھی تب اثر کرتی ہے جب محافظ فرشتے اسکے لیے راستہ چھورتے ہیں ورنہ کوئی حادثہ یا بیماری انسان کے قریب نہیں آسکتی اب اس کی دوا کرنے کے دو پہلو ہیں اول توبہ اور رجوع الی اللہ سب سے پہلے اللہ کو پکارے گناہ اور کوتاہیوں کی معافی طلب کرے آئندہ کے لیے نیکی کی توفیق طلب کرے تاکہ محافظوں کو پھر سے چوکس رہنے کا حکم ہو اور بیماری کو بھگا دیں دوسرے اسباب ظاہری اختیار کرے دو لے علاج کرے اچھے طبیب بہتر ڈاکٹر کو دکھائے مگر اللہ کا حکم جان کر اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ شفا دینا اس کا کام ہے ورنہ داؤں کی تاچیر الٹ جاتی ہے مگر ہماری حالت قابل رحم حد تک بگڑ چکی ہے کہ جس چیز کو اولیت دینی چاہئے تھی ہم فراموش کرچکے ہیں اور جو دوسرے درجے میں تھی صرف وہ ہمارا مقصد بن چکی ہے حالانکہ ہر دکھ ہر بیماری اول تو کسی نہ کسی گناہ کا اثر ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے گناہ سرزد نہیں ہوتا محض درجات بلند کرنے کے لیے کوئی مصیبت بھیج دی جاتی ہے لہذا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اللہ کریم کی بارگاہ میں عاجزی کی جائے ورنہ یہ بات تو سامنے ہے جب یہ مادی ترقی نہ تھی یہ اسباب نہ تھے یہ مشینیں نہ تھیں تو لوگ نسبتاً زیادہ صحت مند تھے اور آج سے پچاس برس پہلے کے لوگ آج کے انسان سے طاقت صحت عمر ہر لحاظ میں بہتر تھے جیسے جیسے جدید ٹیکنالوجی آ رہی ہے امراض بھی ایسے پیچیدہ تر پیش آ رہے ہیں کہ جن سے گلو خلاصی کی کوئی تدبیر انسان کو میسر نہیں آ رہی جہاں جسمانی امراض بڑھیں وہاں اخلاقیات میں بھی تباہی آئی اور ہر قسم کی برائی روز افزوں ترقی پر ہے ایمان تباہ ہوگئے یہ سب اللہ کریم سے بیگانگی اور اس کی یاد کو پس پشت ڈالنے کا وہ معمولی نتیجہ اور اثر ہے جو اس مادی دنیا میں محسوس ہورہا ہے ابدی اور دائمی زندگی میں کیا ہوگا اس اللہ ہی کی پناہ مانگنا چاہئے لہذا انہیں بتائیے کہ مصائب سے نکلنے کا راستہ اللہ کی اطاعت ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمہیں ہر بیماری سے صحت اور سختی سے پناہ دیتا ہے مگر انسان ایسا ناشکر گذار اور ناسپاس ہے کہ جب اپنے ماحول میں پلٹ کر آتا ہے تو وہ سب کچھ بھول کر پھر سے شرک وکفر اور نافرمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات اگر تنہائی میں بیٹھ کر سوچے تو دنیا کا ہر آدمی اپنی زندگی میں محسوس کرسکے گا اس پر ضرور ایسے لمحات آئے ہوں گے جب اس نے اپنی تنہائیوں میں اللہ کو پکارا ہوگا اطاعت کے وعدے کئے ہوں گے مگر پریشانی دور ہوگئی تو سب کچھ بھول گیا۔ گناہ کا اثر : انہیں بتا دیجئے کہ اللہ ہر چیز پہ قادر ہے اگر تم کفر و معصیت پر مصر رہے مسلسل برائی کرتے رہے تو تم پر اوپر سے عذاب مسلط کردے گا یا پاؤں کے نیچے سے مصیبت پیدا کردے گا یا پھر تمہیں ایسے گروہوں میں بانٹ دے گا جو ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے عذاب بن جائیں گے۔ لفظ شیعہ : اوپر کے عذاب کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں جیسے بارش یا پانی کا بےحساب برس کر غرق کا سبب بن جانا ، بعض قوموں پر آگ برسی اور بعض پر آسمان سے پتھر برسائے گئے یا ابرہہ کے لشکر پر ابابیل مسلط کردئیے کوئی بھی ایسا طوفان جو تباہ کردے نیچے کے عذاب کے حالات بھی تاریخ کا حصہ ہیں قوم نوح (علیہ السلام) پر آسمان سے پانی برسا اور زمین نے بھی پانی چھوڑ دیا یا فرعون کا لشکر کہ غرق ہو کر تباہ ہوا یا لوط (علیہ السلام) کی قوم کہ بستیاں الٹ کر غرق ہوگئیں یا قارون کی مثال مفسرین کرام نے نقل فرمائی ہے جو زمین میں دھنس گیا اس کے ساتھ ائمہ تفسیر نے ایک اور تفسیر بھی ارشاد فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح بیج اگتا ہے درخت بنتا ہے پھر پھل دیتا ہے اسی طرح ہر عمل بھی جلد یا بدیر اپنا پھل دیتا ہے کفر یا گناہ اور نافرمانی بھی اگر مسلسل کی جائے تو اس پر یقیناً پھل آتا ہے جو ان متذکرہ صورتوں میں سے کوئی ایک یا سب صورتیں بھی ممکن ہوسکتی ہیں اور اس کی یہ صورت بھی ہوتی ہے کہ اوپر سے عذاب مسلط کرنے کے لیے ظالم اور بےرحم حاکم مسلط کردئیے جائیں جن کے پاس فریاد لے کر جاؤ تو بجائے انصاف کے ٹھوکریں کھانے کو ملیں نیز پاؤں تلے سے عذاب یا نیچے سے عذاب کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ اپنے ملازم اور نوکر ہوں یا حکومت یا ملازم طبقہ ، کام چور خائن اور بد دیانت ہوجائیں اس طرح عذاب جمع ہوگئے اور تیسری صورت فرمایا اللہ تمہیں گروہوں میں بانٹ دے ایسے گروہ جو ایک دوسرے کے گلے کاٹتے پھریں ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو ایذا دیتے رہیں شیعہ کے معنی بھی مطلق گروہ کے ہیں اور قرآن حکیم نے اسے آٹھ مقامات پر ان گروہوں کے حق میں استعمال فرمایا جو فسادی اور اہل نار ہیں نویں جگہ اسی سے تشیع الفاحشۃ برائی پھیلانے کے معنوں میں لیا ایک جگہ ان میں ، ان من شیعتہ لابراھیم ، ارشاد فرمایا یہاں بھی اگر وہ قوم مراد لی جائے جس میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ہی معنی درست ہوسکتے ہیں کہ کتاب اللہ نے اس لفظ کو ہر جگہ بدکردار گروہ پر ہی استعمال فرمایا جیسے یہاں بطور عذاب شیعہ یعنی گروہوں میں بانٹ دینے کی سزا ارشاد فرمائی اور پھر وہ گروہ ایک دوسرے کو مبتلائے عذاب رکھیں۔ اگر آج ہم اپنی حالت پہ غور کریں تو شاید ہمارے گناہوں اور اللہ کریم سے دوری کی وجہ سے یہ تینوں سزائیں ہم پر بیک وقت مسلط ہیں یو تو دنیا میں کوئی قوم اور کوئی ملک ایسا نہیں جو آج مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا نہ ہو ابھی کینسر کا علاج دریافت نہ کرسکے تھے کہ پوری کافر دنیا کو ایڈز کے عذاب میں مبتلا کردیا یہ ایسا دہشتناک عذاب ہے کہ صرف امریکہ میں ان لوگوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ چکی ہے جو اس مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں موت کا انتظار کر رہے ہیں پوری جدید تحقیق کے پاس ان کا کوئی علاج نہیں آپ اندازہ کرسکتے ہیں ایسے شخص کے لمحات کس قدر اذیت ناک ہوں گے اب انہیں ان لوگوں کی فکر ہے جن کو یہ مرض لاحق ہوچکا ہے مگر پتہ نہیں چل رہا اس کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب مریض بےبس ہوجاتا ہے یہ تو ایک پہلو ہے اخلاقی تباہی ذہنی اذیت اور آسمانی آفتیں آئے دن ان پہ نازل ہوتیہی رہتی ہیں یہ سب ان کے کفر کے منطقی نتیجے ہیں مر ہم جو اسلام کے مدعی ہیں کیا اللہ کے ساتھ ہمارا معاملہ بھی اتنا ہی بگڑ چکا ہے کہ حکومت کی طرف سے آج کوئی تحفظ نہیں ماتحت رشوت طلب کرتے ہیں اور لے کر بھی کام نہیں کرتے اس کے ساتھ پوری قوم متعدد قومی ، لسانی صوبائی ، اور مذہبی گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہے مساجد میں جاؤ تو میدان جنگ کا منظر ہے سیاسی پلیٹ فارم پر کرسیاں برسائی جا رہی ہیں ہر طرف فساد بپا ہے کہ بجز اللہ کوئی جائے پناہ نہیں اور ہمارے دانشور جلتی پر سوشلزم کا تیل چھڑک رہے ہیں مگر یاد رکھئے اللہ کے عذابوں سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ توبہ کا راستہ ہے خلوص دل کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں واپسی رسول اللہ ﷺ سے غلامی کو تازہ کیا جائے گذشتہ پر اظہار ندامت کے ساتھ آئندہ کمر ہمت اطاعت و غلامی پہ باندھ لی جائے تو آج بھی حالات بدل سکتے ہیں۔ فرمایا ہم تو اسی طرح باتوں کی وضاحت کردیتے ہیں کوئی بات کسی سے ڈھکے چھپے انداز میں بیان نہیں کی جاتی اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ لوگ سمجھ سکیں اور بات کی اصلیت کو پالیں۔ اصولی باتوں میں اختلاف پیدا کرنے سے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے اختلافات کی بات چلی تو تھوڑا سا اشارہ اس طرف بھی ہوجائے کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے۔ اختلاف امتی رحمۃ۔ میری امت کا اختلاف رحمت ہے یہ وہ اختلاف ہے جو اصطلاحاً تو ایسا کہلاتا ہے مگر درحقیقت اختلاف نہیں ہوتا بلکہ کتاب اللہ کو سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں خلوص نیت سے سمجھنے کی کوشش ہے ظاہر ہے ایسے میں اصولی باتوں میں جن کا فیصلہ کردیا گیا کبھی اختلاف نہیں ہوسکتا صرف ان تشریحات میں جن میں اجتہاد کی گنجائش ہوگی وہاں بھی محض رائے کا اختلاف اور اس درجہ کا ہوگا کہ غلط دوسرے کو بھی نہیں کہا جائے گا ہاں اپنی رائے کو اس کی نسبت راجح یعنی معنی کے زیادہ قریب جانتے ہیں فقہا اور علماء میں اسی قسم کا اختلاف ہوتا ہے اس میں کسی لڑائی بھڑائی کی ضرورت نہیں کہ سرے سے ایک دوسرے کو غلط سمجھا ہی نہیں جاتا۔ اس سے تو بات کے تمام پہلو نکھر کر سامنے آجاتے ہیں اسی لیے اسے رحمت قرار دیا گیا ہے رہ گیا اکتلاف جس نے فرقہ بندی کردی تو علیحدہ فرقہ کہلانے کے لیے اصول میں اختلاف پیدا ہوگا ظاہر ہے دونوں فریق کبھی حق پر نہیں ہوسکتے جیسے شیعہ اور مسلمان کہ توحید ، رسالت ، آخرت ، حشر نشر۔ جنت و دوزخ سے لے کر حرام و حلال اور کتاب و سنت تک حتی کہ کلمہ اور نماز تک الگ الگ ہے اسی طرح قادیانی کہ عقیدہ نبوت میں امت سے علیحدہ ہوگئے اب اس کام سے حکماً روکنا یا خلاف اسلام عقیدے اور عمل کو اسلام کہنے سے منع کرنا ارباب اختیار کے ذمہ ہے ہر شخص کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ قانون کو ہاتھ میں لے لے ہاں یہ ضروری ہے کہ مسلمان ایسے لوگوں سے الگ ہوجائیں ان امور کی وجہ سے انہیں قتل کرنا یا ان کا مال لوٹنا یا آبرو لوٹنا جائز نہ ہوگا مگر یہ ازحد ضروری ہوگا کہ ان سے علیحدگی اختیار کی جائے حکومت پر فرض ہے کہ ہر ایسے آدمی یا ادارے کا احتساب کرے جو اسلام کے نام پر غیر اسلامی چیزوں یا امور کو رواج دینا چاہتا ہے علاوہ ازیں دیوبندی ، بریلوی یا مقلد غیر مقلد کا اختلاف محض آراء کا اختلاف ہے اسے کفر و اسلام کا معرکہ بنانا جائز نہیں۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ ایک بہت بڑا ایسا طبقہ وجود میں آ چکا ہے جن کا رزق مساجد سے وابستہ ہے اور ضروریات زندگی مدارس کی محتاج یا آباؤ اجداد کی گدیوں سے حاصل ہونے والے رزق پہ بسر کرنا ان کی زندگی ہے لہذا جب سے مذہب ذریعہ معاش کے طور پر اپنایا گیا ہے اس میں رقابت ایک دوسرے پر الزام تراشی اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اپنی ضرورت کا احساس زندہ رکھنے پہ پوری کوشش صرف ہو رہی ہے برصغیر میں انگریز کی سو سالہ غلامی میں دیگر مصائب کے ساتھ یہ بیماری بھی امت مسلمہ کے گلے پڑی ہے ورنہ قبل ازیں علما جرنیل اور سیاستدان امرا وزراء نظر آتے ہیں انگریز نے عمداً حکومت کے دروازے علما پر بند کردئیے اس کے دو نتیجے سامنے آئے قابل لوگ دینی تعلیم سے بےبہرہ رہ گئے وار ان علوم کی طرف چل پڑے جن سے دنیا میں کوئی مقام مل سکے ک دین کی طرف ایک محدودے چند اچھے لوگ آئے تو عہ علمی گھرانوں کے چشم و چراغ تھے اکثریت رطب و یابس ہی بھر گئی اور دوسرے حکمران طبقہ دینی معلومات سے بےبہرہ ہوگیا صد افسوس کہ آزادی کے بعد بھی نصاب تعلیم درست نہ کیا گیا مگر کون کرتا ارباب اختیار تو دین کو اہمیت دینے ہی سے بیزار بیٹھے تھے لہذا ساری قوم اس کے نتائج بھگت رہی ہے اللہ ہمیں معاف فرمائے اور پھر سے دل زندہ عطا کرے آمین۔ فرمایا اگر آپ کی قوم نے اسلام کا کتاب اللہ اور ان حقائق کا انکار بھی کردیا تو کیا کسی کا انکار حقیقت الامر کو بدل سکتا ہے ہرگز نہیں انہیں انکار کرکے دیکھ لینے دیں اس کی حقانیت کا تجربہ بھی انہیں ہوتا چلا جائے گا۔ ہاں آپ یہ واضح فرم ادیجئے کہ میں تم لوگوں کا ٹھیکے دار نہیں ہوں تم پر بطور وکیل مقرر نہیں ہوں کہ تم جو چاہو کرو میں بچا لوں گا یا تمہاری اصلاح مجھ پر فرض ہے ہرگز نہیں ہاں تم اللہ کریم کے دروازے پر آنا چاہو تو تمہاری راہنمائی میرا کام ہے تمہاری سفارش میں کروں گا لیکن اگر تم اللہ کا در چھوڑ دوگے تو میں تمہاری ذمہ داری سے آزاد ہوں یہ خوب سمجھ لو۔ رہی یہ بات کہ یہ سب کچھ کب واقع ہوگا انسان کا مزاج ایسا ہے کہ جب دل تاریک ہوجائے تو مکمل تباہی تک جو کچھ اس پہ گزرتی ہے وہ اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور اسے عذاب نہیں جانتا جیسے آج ہم پر بحیثیت قوم تینوں طرح کا عذاب مسلط ہے مگر ہم اس کے مختلف دنیوی علاج دریافت کرتے پھر رہے ہیں توبہ کرکے اور اپنی اصلاح کرکے اس سے جان بچانے کا سوچ بھی نہیں رہے ایسے ہی کفار مکہ اگرچہ مختلف شداید میں مبتلا تھے مگر آخری تباہی کا انتظار کرتے اور سوال کرتے کہ اگر آپ کی بات سچ ہے تو پھر وہ تباہی کب آئے گی عذاب کہاں ہے۔ فرمایا انہیں بتا دیجئے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ایک حد معین ہوتی ہے جیسے ہر پھل اپنا عرصہ پورا کرکے پکتا ہے اسی طرح ہر کام کا نتیجہ بھی اپنے وقت پہ ضرور سامنے آتا ہے اگر تم باز نہ آئے تو وہ وقت بھی آجائے گا اور تم کھلی آنکھوں دیکھ لوگے۔ بے دین لوگوں سے الگ رہنا چاہئے : ان آیات مبارکہ میں ایک بہت اچھا اصول ارشاد فرما دیا گیا ہے یوں تو دین کا تمسخر اڑانا بہت بڑا ظلم ہے اور مسلمانوں کو اس سے روکنے کے لیے ہی جہاد جیسی نعمت عطا ہوئی ہے مگر یہ حکومت اور حکومتی اداروں کا کام ہے ہر فرد قانون کو نافذ کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا لہذا انفرادی حیثیت سے قاعدہ یہ ہوگا کہ اے مکاطب اگر ایسے لوگوں کو پاؤ جو امور دینیہ میں نکتہ چینی کرتے ہیں یا خواہ مخواہ کی بحثیں کرکے دین کے احکام بگاڑتے ہیں یا ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان سے کنارہ کشی اور علیحدگی اختیار کرو۔ اس کی دو صورتیں پہلی صورت مشرکین مکہ اور یہودو نصاری کی طرف سے پیش آتی کہ احکام الہی کا مذاق اڑاتے اور انہیں غلط بتاتے تھے اس لیے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کا اقرار نہیں کیا تھا۔ دوسری صورت غالباً سب سے پہلے مسیلمہ کذاب کی طرف سے پیش آئی جس نے آپ ﷺ کی نبوت کا اقرار بھی کیا اور ساتھ اپنی نبوت کا دعوی بھی۔ اس نے اعلان تو عہد نبوی میں کیا کذاب آپ ﷺ ہی نے اسے فرمایا تھا مگر اس کا فیصلہ عہد صدیقی میں ہوا کہ آپ ﷺ کا بہت جلد وصال ہوگیا۔ پہلا طریقہ بھی سخت گستاخی ہے حکومت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں سے جہاد کرے حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ۔ کہ اس قسم کی خرافات مٹ جائیں اور خالص اللہ کے لیے دین رہ جائے مگر انفرادی طور پر افراد کا کام یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اور ایسی جگہوں سے اجتناب کریں رہی دوسری قسم کہ کفریہ عقائد و اعمال گھڑ کر انہیں اسلام کہا جائے یہ بہت بڑا ظلم ہے اور خلافت صدیقی کے بعد دوسرا اجماع صحابہ کرام کا اسی بات پر ہوا تھا کہ کوئی دین میں بہت بڑی تبدیلی کرتا ہے جیسے مسیلمہ کذاب کا دعوی نبوت یا نسبتاً چھوٹی جیسے زکوۃ ادا کرنے سے بعض قبائل کا انکار سب کے خلاف ریاست اسلامی کو جہاد کرنا ہوگا چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور ان کا قلع قمع کردیا گیا نہ صرف مسیلمہ بلکہ سات کے قریب اشخاص نے جن میں دو عورتیں بھی تھیں عہد صحابہ میں نبوت کے دعاوی کیے سب کا ایک فیصلہ کیا گیا جہاد۔ چناچہ ایک آدھ مرد اور ایک خاتون کو توبہ نصیب ہوئی باقی اپنے انجام کو پہنچے یہ کام یہ کام تو ریاست کا تھا۔ افراد دوسرے درجے کے لوگوں سے بھی لڑ تو نہیں سکتے مگر ان سے الگ ضرور ہوجائیں اور کبھی ان کا ساتھ نہ دیں خصوصاً اس وقت جب وہ دین سے مذاق یا غیر دین کو دین بتا رہے ہوں تو الگ رہنا اور بھی زیادہ ضروری ہے جیسے ہمارے یہاں اہل تشیع یا روافض نے دین کے نام پر بیشمار رسومات ایجاد کرلی ہیں ہر سال اس پر فساد ہوتے ہیں مگر اس کا صحیح حل یہ ہے کہ تمام اہل اسلام اس سے الگ ہوجائیں خصوصاً ان کی عبادات وغیرہ میں اصلاً کوئی دلچسپی نہ لیں ایسے ہی قادیانی کہ مسیلمہ کذاب کی طرح الگ نبوت کے قائل ہوگئے تو ان دونوں میں سے اگر کوئی دین میں کج بحثی شروع کردیتا ہے یا رسومات کو دین بتانے پہ مصر ہے تو انفرادی طور پر ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان سے الگ رہے خصوصاً جب وہ اس امر میں مشغول ہوں تو قطعا ان کی مجالس میں نہ جائے اگر کوئی دنیا کا کام یا مجبوری بھی ہو تو اس وقت بات کرے جب وہ یہ کام نہ کر رہے ہوں اور دوسرے امور میں مشغول ہوں یہ ایسا حکیمانہ علاج ہے کہ اگر مسلمان اس پر عمل پیرا ہوں تو رفض کی ساری تحریک کی قوت ختم ہوجائے اور اس میں کوئی دم خم نہ رہے کہ اس کی رونق صرف دیکھنے والوں کے دم سے ہے۔ اگر کوئی غلطی سے چلا بھی جائے اور شیطان اسے یہ نصیحت فراموش کرا دے تو جیسے یاد آجائے فوراً الگ ہوجائے اور بدکاروں کے پاس بیٹھنا حرام ہے لہذا اسے چھوڑ ہی دینا ضروری ہے محض مجلس کے لیے یا وقت کاٹنے کے لیے کسی بدکار کی محفل میں نہ بیٹھے ہاں اگر مجبوراً جانو ہو جیسے کسی کے ہاں ملازم ہے تو کام کرنے جائے گا یا کسی سے لین دین ہے تو حساب چکانے جائے گا تو صرف بقدر ضرورت جائے اس میں اگر جانے والا کود نیک ہے تو کوئی حرج نہیں یا پھر ایسے لوگ جاسکتے ہیں جو انہیں بھی تبلیغ کرسکیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات پہنچا سکیں تاکہ وہ بھی سنبھل سکیں ان سے بھی کوشش تو کی جائے کہ ان کی اصلاح ہو ورنہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے مذہب کو کھیل سمجھا ہے چھوڑ دیا جائے انہیں مطلق کوئی اہمیت نہ دی جائے کہ ایسے نالائق ہیں کہ چند روزہ دنیا کی لذت نے انہیں اپنا بنا لیا اور یہ اس کا دھوکا کھا گئے یہ اسی پر خوش ہیں انہیں یہ بات ضرور یاد دلاتے رہئے کہ جو کوئی بھی جیسا عمل کرے گا نتیجہ بھی اسی کو بھگتنا ہوگا اور یہ جان لو کہ اللہ کے مقابلے میں کسی کو نہ کوئی دوست مل سکے گا نہ سفارشی کہ سفارش تو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوگی ان لوگوں کے لیے ہوگی جو اطاعت کے لیے کوشاں رہے مگر بتقاضائے بشریت غلطیاں بھی سرزد ہوئیں یا اعمال اس درجہ کے نہ کرسکے جو مطلوب تھا جن لوگوں نے انکار کی راہ اپنائی بھلا ان کی مدد یاسفارش کون کرسکتا ہے ان کو تو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی جو پینے کے لیے کھولتے ہوئے پانی اور رہنے کے لیے دردناک عذابوں کی صورت کے ٹھکانے ہوں گے اور یہ سب اس کفر کا پھل اور نتیجہ ہے جو زندگی میں ان لوگوں نے اختیار کیا ۔
Ayahs 6:71–83

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے اور نہ برا اور جب ہم کو اللہ نے سیدھا راستہ دکھایا ہے تو کیا ہم الٹے پھرجائیں جیسے کسی کو شیطان (جنات) نے جنگل میں پریشان کردیا ہو (اور) اس کے کچھ دوست ہوں جو اس کو سیدھے راستے کی طرف بلائیں کہ یہاں ہمارے پاس آؤ۔ فرما دیجئے کہ یقینا اللہ کی ہدایت ہی ، ہدایت ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم جہانوں کے پروردگار کے فرماں بردار ہوں

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اسی (اللہ) سے ڈرتے رہو اور وہی ہے کہ اس کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور جس دن فرماتا ہے کہ ہوجا پس ہوجاتا ہے اس (اللہ) کا ارشاد حق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن اسی کی بادشاہت ہوگی وہ پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا جاننے والا ہے اور وہ حکمت والا خبر رکھنے والا ہے

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا ، کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گم اہی میں ہو

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھلائی اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں (عارفین) میں سے ہوجائیں

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پس جب ان کو رات نے ڈھانپ لیا تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا (اور) فرمایا یہ میرا پروردگار ہے پس وہ غروب ہوگیا تو فرمایا میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا پروردگار ہے۔ پس جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمانے لگے اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائے گا تو بیشک میں بھٹکنے والوں میں ہوجاؤں گا

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا پروردگار ہے یہ سب سے بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوگیا تو فرمایا اے میری قوم ! بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

بیشک میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اسی (اللہ) کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی۔ فرمایا کیا تم اللہ کے بارے مجھ سے بحث کرتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے سیدھی راہ دکھائی اور میں ان سے جن کو تم اس کا شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا۔ ہاں ! اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے (گھیرے ہوئے) ہے کیا تم نصیحت اختیار نہیں کرتے ہو ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور بھلا میں ان سے جن کو تم (اللہ کا) شریک بناتے ہو کیوں ڈروں اور تم (اس بات سے) نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک بنایا ہے جن کے بارے اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ اب دونوں فریقوں میں سے کون سا (فریق) امن کا مستحق ہے ؟ اگر تم جانتے ہو تو (بتاؤ)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ نہیں ملایا ، ایسے ہی لوگوں کے لئے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی تھی ہم جس کے چاہیں درجات بلند فرمادیتے ہیں بیشک آپ کا پروردگار حکمت والا علم والا ہے

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83: اسرار و معارف : جن مسلط ہونا : امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و نقصان کا خالق بھی ہے لہذا اس بات میں کمی کی جائے اور کسی بھی دوسرے کی بات اس کے مقابلے میں قبول کی جائے تو یہ صریح گمراہی ہوگی جس کی امید ہی اے کفار تمہیں ہم سے یعنی مسلمانوں سے نہ رکھنی چاہئے یہاں تو ایک ہی بات ہے کہ اللہ بات بلا حیل و حجت قبول کرلی جائے کیونکہ کسی بھی دوسرے کی بات اللہ کے مقابلے میں ماننے کا کچھ حاصل نہیں کہ اللہ کے بغیر نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ کسی طرح کا نقصان کرسکتا ہے اگر ایسا کیا جائے تو اسلام کو پانے کے ک بعد پھر اوندھے منہ گمراہی میں گرنے کے مترادف ہے اور آدمی کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کسی پر شیطان یا جن مسلط ہو کر اسے پاگل بنا دے اور وہ دیوانہ وار بھاگتا پھر رہا ہو پھر اسے کچھ لوگ راستے کی طرف بلاتے بھی رہیں تو کچھ سمجھ نہیں آتی۔ آپ انہیں بتلا دیجئے کہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے سوا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بات کے بارے میں رائے قائم کرے یہ نیکی ہے یا بھلائی ہے بلکہ اس کا معیار صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ جس بات کو اللہ کریم نیکی فرماتے ہیں وہی نیکی ہے اور جسے وہ درست قرار دیں وہی درست ہے لہذا ہمارے لیے تو بڑا سادہ سا حکم ہے کہ اللہ کی بات جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے سب کی ضرورتوں سے نہ صرف واقف ہے سب کی ضرورتیں پوری فرما رہا ہے صدق دل سے قبول کرلیں۔ اور اپنی پوری قوت اس کی اطاعت پہ صرف کردیں۔ نیز اس کی عبادت کرتے رہیں کہ توفیق اطاعت بھی نصیب ہو اور تقوی اختیار کریں یعنی اس کے ساتھ قریبی تعلق استوار کریں کہ اس کی نافرمانی پہ حیا دامن گیر ہوجائے اس لیے کہ وہی عظیم ذات ہے جس کے روبرو سب کو پیش ہونا ہے وہ ایسا قادر ہے جس نے آسمان بنائے زمین کو پیدا فرمایا اور ان کی تخلیق میں کوئی کمی رہنے نہیں دی جب کچھ بھی نہ تھا اتنی بڑی کارگہ حیات تعمیر فرما دی وہ جب چاہے گا تو محض حکم دے گا سب کچھ پھر سے پیدا ہوجائے گا کہ اس کی بات ہی سچ ہے اور اس نے اس سب کی خبر دی ہے بلکہ جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوگی تو کوئی حکومت کا دعوی کرنے والا بھی نہ رہے گا سب تسلیم کرلیں گے کہ حکومت اسی کو سزاوار ہے وہ جملہ حالات سے باخبر ہے پوشیدہ ہوں یا ظاہر اور وہ دانا تر ہے اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ مہلت پاتے ہیں ورنہ کسی بات سے بیخبر نہیں۔ واذقال ابراہیم لابیہ۔۔۔ 74 تا 82: پہلاتاج پہننے ولا اشخص : اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بطور مثال ارشاد ہوا کہ جب وہ مبعوث ہوئے تھے لوگوں کا یہی حال تھا اللہ کو فراموش کرچکے تھے اور حکومت وقت یا بادشاہ کو ہی اپنا رب تسلیم کرلیا تھا جس کا نام مفسرین نے نمرود بن کنعان نقل فرمایا ہے تفسیر مظہری میں ہے کہ یہ پہلا شخص تھا جس نے تاج پہنا اور اپنی خدائی کا دعوی کیا یہ لوگ بہت سے بتوں کے ساتھ ستاروں کی پرستش بھی کرتے تھے کہ بادشاہ نے دعوی خدائی کے ساتھ اسی طرح کی رسومات جاری کر رکھی تھیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے گھر سے کام شروع کیا اور آذر سے جو ان کے والد اور نمرود کے وزیر تھے ، ارشاد فرمایا کہ آپ نے بتوں کی عبادت کو شعار بنا رکھا ہے اور ساری قوم اس میں مبتلا ہے حالانکہ اس پر کوئی بھی دلیل نہیں آپ خود پتھر وغیرہ کو تراش کر بت بناتے ہیں اور پھر اس کی عبادت شروع کردیتے ہیں جو اپنے وجود کے بننے میں آپ کا محتاج ہے بھلا وہ آپ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا اور آپ کا معبود کیسے بن گیا بلکہ میں تو صاف دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی ساری قوم ہی غلط راستہ اختیار کرچکی ہے۔ کشف : ابراہیم (علیہ السلام) کو تہم نے ارض و سما کے عجائبات کا مشاہدہ کرادیا مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک چٹان پر کھڑے تھے جب زمینوں اور آسمانوں کی سب کائنات اللہ کریم نے ان کے سامنے کھول دی کہ ایک ایک چیز ایک ایک ذرہ ایک ایک پتہ کس طرح سے قدرت باری کے تحت اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق عمل کر رہا ہے اشیاء میں اثر اور اعمال کے نتائج کیسے مرتب ہوتے ہیں فرشتے کیا کردار ادا کرتے ہیں سورج چاند ستارے اور ہوائیں کیا کر رہی ہیں اعمال کیسے لکھے جا رہے ہیں لوگ ان کے نتیجے میں کہاں کہاں اور کن کن ٹھکانوں پہ پہنچیں گے حتی کہ جنت میں اپنی منزل بھی انہوں نے ملاحظہ فرمائی اور اسی سارے مشاہدے اور علم کو اصطلاحاً کشف کہا جاتا ہے کشف والہام یا القاء و وجدان یہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست علم ھاصل کرنے کے ذرائع ہیں انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کو ہمیشہ اسی ذریعہ سے تعلیم فرمایا جاتا ہے لہذا یہ حصول علم کے تمام دوسرے ذرائع سے اعلی و افضل ذریعہ ہے اور یہی نعمت ولی اللہ کو نبی کے اتباع کے طفیل نصیب ہوتی ہے مگر دو واضح اور بہت بڑے فرق ہیں اول نبی براہ راست اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے جب کہ ولی بھی اللہ ہی کی اطاعت کرتا ہے مگر نبی کے واسطے سے کرتا ہے دوسرے نبی کا کشف الہام القا وجدان حتی کہ خواب بھی وحی کہلاتا ہے یعنی یعنی ایسا قطعی اور یقینی جس پر عمل کرنا نبی اور اس کی امت کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے ولی کا کشف وحی الہی کا درجہ ہرگز نہیں رکھتا بلکہ ولی اللہ کو غلطی لگنے کا امکان ہوتا ہے لہذا وہ نبی کی خبر سے متصادم ہو تو باطل ٹھہرے گا اور دوسرے یہ کہ ولی کا کشف اس کی اپنی ذات کے لیے دلیل ہے دوسرے لوگ اس کے ماننے کے مکلف نہیں ہوتے فرمایا یہ نعمت ہم نے اس لیے دی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو عین الیقین یعنی یقین کا وہ درجہ بھی حاصل ہوجائے جو آنکھوں دیکھ لینے سے ہوتا ہے یقین تو انہیں پہلے بھی تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جان کر قطعی یقین تھا مگر اسی پر ایک قسم اور بڑھا دی گئی یہی حال ولی اللہ کے مشاہدات اور کشف کا ہے کہ انہیں یقین کامل میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور احکام الہی اور ارشادات نبوی کی مزید وضاحت حاصل ہوجاتی ہے۔ طریق تبلیغ : پھر انہوں نے ستارہ پرستی کو ایسے عام فہم دلائل سے رد فرمایا اور اس کا باطل ہونا ثابت فرمادیا جو عام عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے انبیاء (علیہ السلام) کا کمال یہی ہوتا ہے گہرے منطقی دلائل میں الجھنا پسند نہیں فرماتے بلکہ عام فہم اور دو ہی طرح کے دلائل پسند فرماتے ہیں اول نقلی جو پہلی کتب میں نقل ہوئے ہوں یا موجودہ کتاب میں نازل ہوئے ہوں دوم عقلی ایسے جنہیں ایک عام آدمی کی عقل بھی قبول کرسکے۔ بتوں کا باطل ہونا تو بڑی سادہ اور سیدھی بات تھی مگر ستارہ پرستی کے لیے آپ نے طریق کار تھوڑا سا تبدیل فرما لیا کہ جب رات ہوئی تو ایک روشن ستارہ ابھرا یوں تو آسمان ستاروں سے بھر جاتا ہے مگر بعض خاص ستارے بہت روشن ہوتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بقول تمہارے یہ میرا رب ہے۔ یعنی اگر ستارہ پرستی حق ہے تو پھر اس کی پجا کی جائے جو سب پر چھا رہا ہے مگر کچھ دیر بعد وہ تو غروب ہوگیا تو فرمایا یہ تو خود فانی ہے اپنی ذات کو ایک حال پہ قائم رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا میں اسے اپنی ضرورتیں پوری کرنے والا کیسے مان لوں میں کسی ایسی ہستی سے محبت نہیں کرسکتا پھر چان دطلوع ہوا تو فرمایا ستاروں کی نسبت تو یہ زیادہ مناسب ہے اسے رب تسلیم کرنا چاہئے مگر وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا اور فرمایا کہ یہ سب چلنے والے کام کرنے والے اور خدمت پر مامور نظر آتے ہیں یقیناً کوئی ہستی انہیں چلانے والی بھی ہوگی چونکہ یہ نظام ایسا مربوط ہے اور اس باقاعدگی سے چل رہا ہے کہ صاف اعلان کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ رب یعنی چلانے والا ، بنانے اور قائم رکھنے والا سب کا ایک ہی ہے یقیناً انسان کا آپ کا اور میر ا رب بھی وہی ہے اور اس وسیع کائنات میں درست راہ عمل کا بتانا بھی اسی کو سزاوار ہے اگر وہ ہدایت کا سامان نہ کرے یا انسان اس کی ہدایت کو قبول نہ کرے تو یقینا ایسے لوگوں میں شامل ہوجائے گا جو بھٹک چکے ہیں جو راستہ کھو چکے ہیں۔ پھر سورج کے طلوع کا منظر دیکھا فرمایا یہ بہت بڑا ہے اس کے سامنے سب ستارے ماند پڑگئے شاید یہ رب ہے مگر وہ بھی نہ رہا اور پھر سے تاریکی چھانے لگی تو فرمایا کہ لوگو تم اس عظیم ذات کے ساتھ ستاروں کو شریک گردانتے ہو جو ان سب کا خالق مالک اور قائم رکھنے والا ہے مگر میں ایسا ہرگز نہ کروں گا میں تمہارے اس عقیدے سے یکسر بیزاری و علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں اور پورے خلوص اور پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جو زمین اور آسمانوں کا بنانے والا ہے اور کبھی ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتا جو اس کی ذات یا اس کی صفات میں کسی بھی دوسرے کو شریک مانتے ہوں یہ سب کچھ آپ نے بہت پیارے اور عام فہم انداز میں لوگوں تک پہنچایا جس میں تین باتیں بطور خاص سمجھنے کی ہیں کہ اول تو خلوص اور یقین کامل ضروری ہے ان دونوں چیزوں کا حصول انبیا کو براہ راست اللہ سے نصیب ہوتا ہے اور دوسرے لوگ ان کی مجلس و صحبت سے حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جس طرح علوم نبوت نسلاً بعد نسلً منتقل ہوتے ہیں ایسے ہی برکات صحبت بھی اور یہی عظیم نعمت ہے جو اہل اللہ کی مجالس میں نصیب ہوتی ہے۔ دوسرے تبلیغ کے لیے اپنوں سے ابتدا کرے اور عوام تک پہنچے اسی محبت اور درد کے ساتھ اپنوں کو دعوت دی جاتی ہے نیز نہ ماننے والوں پہ یہ حقیقت بھی واضح کردے کہ مومن و کافر دو الگ طبقے انسانیت کے دو فریق اور دو قومیں ہیں جن کی دوستی و رشتہ داری آپس ہی میں ممکن ہے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں یعنی مومن کی مومنوں سے اور کافر کی کافروں سے تیسرے بات بہت آسان اور عام فہم انداز میں کی جائے اور خواہ مخواہ کا فلسفہ درمیان میں لا کر اسے مشکل نہ بنایا جائے ورنہ وہ بات اپنا اثر کھو دے گی۔ اہل اللہ کا کمال : قوم نے مخالفت کی راہ اپنائی نہ صرف انکار کیا بلکہ جھگڑا کرنے لگے اور اپنے مفروضہ خداؤں کے غضب کا حوالہ دینے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی وحی مجھ پہ نازل ہوتی ہے اس کی طرف سے ہدایت مجھے نصیب ہے تم چاہتے تو مجھ سے یہ دولت حاصل کرتے مگر تم بالکل غلط اور الٹ رویے کا اظہار کر رہے ہو کہ اللہ کی ذات اور صفات کے متعلق مجھے سمجھانا چاہتے ہو بجائے سیکھنے کے مجھے کچھ سکھانا چاہتے ہو آپ کا یہ ارشاد بھی بہت بڑی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ دنیا کے عظیم ترین دانشور ادیب سائنسدان اور فلاسفر جس موضوع پر چاہیں بات کریں مگر ذات وصفات باری ، آخرت ، روح ، فرشتہ اور عذاب وثواب یا اخروی زندگی کے بارے میں بات نہیں کرسکتے اس موضوع پر ہر زمانے میں صرف ان ہستیوں نے بات کی ہے جو وحی الہی سے سرفراز ہوئے یعنی انبیا علیہم الصلوہ والسلام لہذا آج تم اس قاعدے کے خلاف کیوں چلنا چاہتے ہو رہی بات ڈرنے کی تو جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہو وہ اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا پروردگار ہر حال میں اس سے باخبر بھی ہے اور نفع و نقصان کی قدرت بھی اسی کو ہے۔ فرمایا ذرا غور کرو کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور اس کی ذات وصفات میں دوسروں کو شریک مان رہے ہو جس پر کسی زمانے میں کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکی تو بھلا میں بتوں سے ڈرنے لگوں حالانکہ ان کے باطل ہونے کی علمی اور عقلی ہر طرح کی دلیل موجود ہے اب خود ہی دیکھ لو کہ ان حالات میں ہم دونوں فریقوں میں سے کسے تسلی ہونی چاہئے۔ اس کے بعد ایک قانون ارشاد فرما دی ا کہ جن لوگوں کو دولت ایمان نصیبہوئی اور پھر کسی طرح اسے شرک جیسے ظلم سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ سکون ان ہی کا حصہ ہے ایسے ہی لوگ اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔ عمل اور عقیدے میں باعتبار اثر کے جو بہت بڑا فرق ہے وہ نہایت حسین انداز میں ارشاد فرما دی ا کہ عقیدہ راتہ ہے اور عمل اسے طے کرنا اگر عمل میں کوتاہی ہوگی تو سفر کم طے ہوگا مگر راستہ تو گم نہ ہوگا اگرچہ یہ اچھی بات نہیں اس سے بچنے کی کی کوشش بہت ضروری ہے مگر عقیدے کی خرابی کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ راستہ بدل گیا اب مسلسل عمل بھی اسے منزل پہ نہیں پہنچا سکے گا لہذا یہاں حدیث مبارک کی تشریح کے مطابق ظلم سے مراد عقیدے میں شرک کی آمیزش ہے اور جو اس سے مھفوظ رہا وہ اس لحاظ سے ضرور امن میں ہے کہ راستہ گم نہیں ہوا اللہ کریم توفیق عمل بھی دیں اور ایمان کامل بھی۔
Ayahs 6:84–91

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق (علیہ السلام ، بیٹے) اور یعقوب (علیہ السلام ، پوتے) عطا فرمائے سب کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے (زمانہ میں) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت کی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو اور ہم نیک کام کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) کو ، یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط (علیہم السلام) کو بھی اور ان سب کو اور ان سب کو (ان کے زمانوں کے) تمام جہانوں پر (نبوت سے) بزرگی عطا فرمائی

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے کچھ باپ دادوں کو اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ہم نے ان کو برگزیدہ کیا اور ہم نے ان سب کو راہ راست کی ہدایت کی

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس سے راہنمائی فرماتے ہیں۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے ان سے ضائع ہوجاتے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی پھر اگر یہ سب (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان (باتوں) کے لئے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت عطا فرمائی تھی سو آپ انہی کی ہدایت کی پیروی کریں اور فرما دیں کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہانوں کے لئے نصیحت ہے

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی جاننا چاہیے تھی جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان (بشر) پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تو فرمائیے وہ کتاب کس نے نازل فرمائی جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے جو لوگوں کے لئے نور (روشنی) اور ہدایت تھی جس کو تم نے الگ الگ اوراق (پر نقل) کررکھا ہے اس کے کچھ (حصے) کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سے کو چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ فرمادیجئے کہ اللہ (نے یہ نازل فرمایا ہے) پھر ان کو چھوڑ دیں کہ اپنی بیہودگی میں کھیلتے رہیں

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔ اسرار و معارف : کمال انبیاء (علیہم السلام) : ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ اور پیشہ ور مقررین میں صاف نظر آتا ہے اہل اللہ کی بات عام فہم ، دل میں اترنے والی ہوتی ہے اس لیے اکثر لوگوں کی عملی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنتی ہے جبکہ دوسرے مقررین یا مصنفین خوبصورت جملوں ، جچے تلے الفاظ ور انداز بیان سے لوگوں کو واہ واہ کہنے پہ مجبور سا کردیتے ہیں مگر نہ عام آدمی بات سمجھ پاتا ہے نہ کوئی مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے نیز یہ کسی انسان کا ذاتی کمال نہیں بلکہ یہ کمال انبیاء کو عطا ہوتا ہے پھر ان کے متبعین کو جس قدر نصیب ہو ان کی اطاعت کے نفیل ہی نصیب ہوتا ہے یہ اللہ کریم کی پسند کہ کس کو کیا عطا فرماتے ہیں فرمایا ہم جس کا چاہیں درجہ بڑھا دیں یعنی اسے کمال عطا فرما دیں اور جس قدر چاہیں عطا کردیں کہ اللہ کریم دانا تر ہے اور خوب جاننے والا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ کس کو کیا انعام دیا جائے۔ اللہ کی راہ پر دی ہوئی قربانی ضائع نہیں جاتی : ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے لیے گھر وطن رشتہ دار قربان کردئیے تو اللہ نے انہیں بہتر گھر بہتر وطن اور بہترین رشتہ دار عطا فرمائے انہیں اولاد میں اسحاق (علیہ السلام) اور ان کو یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمائے جو سب نبوت سے سرفراز فرمائے گئے ایسے ہی ان کے اجداد میں نوح (علیہ السلام) تھے جو اللہ کریم کے نبی تھے اگرچہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور اسی نسبت سے نفع و نقصان اٹھاتا ہے مگر ہدایت اور نور ایمان نصیب ہو تو اہل اللہ کی اولاد میں سے ہونا یا اپنی اولاد میں سے کسی کو اس نعمت کا نصیب ہونا بھی بہت برکات کا سبب بنتا ہے اسی لیے یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد اور ان کی اولاد اور بھتیجوں کی نبوت کا تذکرہ فرمایا گیا کہ ان کی ذریت میں حضرت داود ، حضرت سلیمان حضرت یوسف اور حضرت ہارون (علیہم السلام) سب اللہ کے برگزیدہ نبی تھے ارشاد ہوتا ہے کہ خلوص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو ہمیشہ ایسے ہی نوازا جاتا ہے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانیاں بھی مثالی تھیں تو ان کو انعامات بھی مثالی عطا فرمائے گئے حضرت زکریا ان کے فرزند حضرت یحییٰ اور عیسیٰ و الیاس (علیہم السلام) سب ہی اللہ کے مقرب بندے اور عظمت نبوت سے سرفراز تھے یہ ایک شاخ تھی جو بنی اسرائیل میں نبوت کی امین رہی اور سب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں تھے حضرت یسع یونس اور لوط (علیہم السلام) وار دوسری طرف سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی تھے جن کی اولاد میں آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت تمام ہوئی اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ہمیشہ کے لیے نور نبوت انہی کے خاندان میں رہا اور ان حضرات کے خاندانوں میں سے ہی لوگ چنے جاتے رہے بعض کے اجداد میں سے اور کبھی اولاد بھائیوں میں اللہ کے انعامات تقسیم ہوتے رہے ذات باری کا انتخاب یہ ہوتا ہے کہ جسے پسند فرمایا جائے اسے سیدھے راستے کا علم بھی عطا فرمایا جاتا ہے اور توفیق عمل بھی۔ ان آیات میں سترہ انبیاء کا ذکر فرمایا گیا اور ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ ان کے رشتہ داروں میں بھی بہت سے حضرات انعامات الہی سے سرفراز ہوئے جن میں نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں باقی سب ذریت یعنی اولاد تھی حتی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی شمار فرمایا حالانکہ ان کی صرف والدہ تھیں اور اس طرح نواسے بنتے تھے یہاں علما نے استدلال فرمایا ہے کہ حضرت علی کی وہ اولاد جو حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے تھی یا علی بن العاص جو حضرت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی ذریت ہیں یاد رہے یہ وہی علی ابن العاص ہیں جنہیں فتح مکہ کے روز آپ نے اٹھا کر بیت اللہ شریف میں داخل فرم اکر حکم دیا تھا بتوں کو باہر پھینک دیں یعنی پوتے ہوں نواسے سب ذریت کہلائیں گے۔ ذریت : یہ سب ارشاد فرما کر شرک کی قباحت واضح فرما دی کہ اگر اللہ کے یہ برگزیدہ اور منتخب بندے بھی (معاذ اللہ) شرک کرتے تو ان کی تمام نیکیاں اور ساری عظمتیں خاک میں مل جاتیں اور کچھ بھی ان کے کام نہ آتا نہ صرف یہ اعلی مقام چھن جاتے بلکہ جو نیک اعمال یہ کرچکے تھے وہ بھی رد کردئیے جاتے نبی سے گناہ محال ہے اس لیے کہ نبی معصوم ہتا ہے مگر یہاں شرک کی شدت قباحت واضح کرنے کے لیے فرض محال ارشاد ہوا کہ اگر اتنی بڑی ہستیوں سے ایسا ظلم سرزد ہو تو وہ خدانخواستہ تباہ ہوجائیں چہ جائیکہ عام آدمی شرک میں بھی مبتلا ہو اور امید کرم بھی رکھے یاد رہے شرک صرف بتوں کے روبرو سجدہ ریز ہونے کا نام نہیں اصل شرک جو یہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح فرما دی وہ یہ ہے کہ کسی کو نفع رساں سمجھ کر اللہ کے مقابلے میں اس کی اطاعت کی جائے یا کسی کے خوف سے اللہ کے مقابلے میں اس کی بات مانی جائے تو یہ شرک ہوگا اور ایسا کرنے والا مشرک خواہ زبان سے کلمہ بھی ادا کرتا رہے یہ اللہ کریم کی عطا ہے کہ اپنے کہ اپنے اطاعت شعاروں کو منزل کی راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ کے انعامات ایسے ہی بندوں پہ رہتے ہیں جو ہر طرح کے نفع کی امید بھی اسی سے رکھتے ہیں اور نقصان کا اندیشہ بھی۔ اس کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ مدح صحابہ : مذکورہ بالا ہستیاں وہ تھیں جنہیں ہم نے نبوت ، کتاب اور پوری زندگی کے لیے بہترین راہ عمل عطا فرمائی لہذا ایک نہیں لاکھ سے زیادہ نبی مبعوث ہوئے آپ کوئی انوکھے یا نرالے مبعوث نہیں ہوئے کہ یہ بدبخت آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں پہلے نظیر موجود ہے کہ اللہ کی طرف سے انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں اس کے باوجود اے میرے حبیب ﷺ اگر یہ نہ بھی مانیں تو ہم نے ایسی خوش نصیب قوم بھی مقدر کردی ہے جو آپ کی تصدیق دل و جان سے کریں گے اور کبھی کفر و انکار کی راہ کے پاس بھی نہ پھٹکیں گے مراد مہاجرین و انصار صحابہ کرام اور علماء کے مطابق قیامت تک آنے والے مسلمان بھی اس اعزاز میں شامل ہیں اور یہ سب کے لیے سرمایہ افتخار ہے کہ اللہ کریم نے ان کی تعریف فرمائی ہے رب جلیل ہم سب کو یہ سعادت ہمیشہ کے لیے نصیب فرمائے۔ آمین۔ دین بطور پیشہ : ارشاد ہو ا کہ یہ سب لوگ اللہ کریم کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے لہذا آپ بھی ان کی راہ ہی اپنائیے یعنی جس طرح ان سب حضرات نے مخلوق کی طرف سے ہر ایذا پر صبر کیا اور ہر حال میں اللہ ہی کی اطاعت کی یہی راستہ آپ کا بھی ہے یہاں علما نے بحث کی ہے کہ آپ ﷺ پر اپنی شریعت نازل ہوئی تھی تو پہلوں کی اقتدا کرنے کا حکم کیوں اور پھر اس کے مختلف جواب ارشاد فرمائے ہیں کہ یہ اتباع عقائد توحید رسالت آخرت وغیرہ میں ہے ہر حکم میں نہیں یا جب تک کسی بات کا حکم نازل نہ ہو پہلوں کا اتباع کیا جائے مگر اس کا آسان مفہوم یہی ہے جو عرض کردیا گیا ہے کہ ایک تو کفار کو جواب مل گیا کہ محض باپ دادوں کے پیچھے چلنا مقصود نہیں بلکہ ان کا ہدایت پہ ہونا شرط ہے ہاں وہ ہدایت پر ہوں تو ضرور ان کی راہ اختیار کی جائے گی اور دوسرے یہ کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی اطاعت کو ہر شے پہ مقدم رکھا آپ بھی یہی راہ اختیار فرمائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا کہ یہ اللہ کا کام ہے اور جس کا کام کیا جائے اجرت وہ دیا کرتا ہے لہذا کسی بھی نبی نے دین کی تبلیغ کو بطور پیشہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ ساری ساری زندگی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے رہے یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے دین پہنچانے کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے ان سے الفاظ تو دوسروں تک ضرور پہنچ پاتے ہیں مگر کسی کو ہدایت نصیب ہونا مشکل ہے بلکہ انہیں خود نصیب نہیں تو ان سے کسی کو کیا ملے گی ہاں اللہ کے لیے کام کرتا چلا جائے تو از خود اگر کوئی اس کی خدمت کرے تو حرج نہیں بلکہ مسلمانوں کو چاہئے ایسے حضرات کی خدمت کریں جو اپنا بیشتر وقت دین کی خدمت میں صرف کرتے ہیں مگر خود ان کو ایسی باتوں سے بےنیاز رہ کر کام کرنا چاہئے یہی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا طریق ہے اور یہ کلام تو سارے جہانوں کے لیے باعث ہدایت ہے اور زندگی کے ہر سوال کا ایسا جواب جس سے زندگی بھی خوش گوار ہوجائے اور اللہ کریم کی خوشنودی بھی نصیب ہو۔ آخرت بھی سدھر جائے۔