37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 37:75–113

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو ہم خوب فریاد سننے والے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو بھاری غم سے نجات دی

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان ہی کی اولاد کو باقی رہنے دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں ان (کے ذکر جمیل) کو چھوڑا

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

کہ نوح (علیہ السلام) پر سلام ہو سارے جہان والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

نیکوکاروں کو یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبودیا

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک ان کے بعد والے گروہ میں ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جبکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس صاف دل لائے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا چاہتے ہو ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

بھلا پروردگار عالم کے بارے تمہارا کیا خیال ہے ؟

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

سو انہوں (ابراہیم علیہ السلام) نے ستاروں کو نگاہ پھر کر دیکھا

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر فرمادیا کہ میں بیمار ہونے کو ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

تب وہ لوگ ان کو چھوڑ کر چلے گئے

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

تو وہ ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے سو فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا تم تو بولتے بھی نہیں ہو ؟

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر ان کو (اپنے) داہنے ہاتھ (قوت) سے توڑنا شروع کردیا

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

انہوں (ابراہیم علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

اور تم کو اور جو تم بناتے ہو (اس کو) اللہ نے پیدا فرمایا ہے

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ان کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر ان کو اس دہکتی آگ میں ڈال دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

سو انہوں نے ان کے ساتھ چال چلنا چاہی تو ہم نے ان کو ہی نیچا دکھا دیا

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور وہ فرمانے لگے بیشک میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے راستہ دکھائے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھے ایک نیک فرزند عطا فرما

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو ایک نرم دل بیٹے کی خوشخبری دی

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

سو جب وہ لڑکا ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے ! بیشک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں سو دیکھ لو تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ بولے اے میرے اباجان ! آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ کیجئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

غرض جب دونوں نے (اللہ کا حکم) تسلیم کرلیا اور اس (بیٹے) کو کروٹ پر لٹایا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام)

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

بیشک آپ نے خواب کو سچا کردکھایا یقینا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بلا شبہ یہ بہت بڑی آزمائش تھی

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دے دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں ان (ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر خیر) کو رہنے دیا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) پر سلامتی ہو

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحق (علیہ السلام) کی بشارت دی کہ نبی نیکوکاروں میں سے ہوں گے

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں اور ان کی نسل میں سے کچھ اچھے ہیں اور کچھ اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے ہیں

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ رکھا جبکہ روئے زمین پر کوئی کافر باقی نہ چھوڑا سب طوفان نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیرو کار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ رکھا جبکہ روئے زمین پر کوئی کافر باقی نہ چھوڑا سب طوفان میں غرق ہوگئے اور آئندہ کے لیے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا کہ روئے زمین پر اس کے بعد صرف نوح (علیہ السلام) کی نسل باقی رہی اور مدتوں کے لیے نوح (علیہ السلام) کی عظمت و نیک نامی کا سکہ لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیا کہ جہان بھر کے لوگ ان پر سلام بھیجتے رہتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے نہ صرف اس عالم کے لوگ بلکہ ہر عالم کی مخلوق۔ ہم احسان یعنی خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو اسی طرح نوازا کرتے ہیں اور وہ تو ہمارے بہت ہی پر خلوص بندے تھے۔ اور ان سب کو جو ان کا انکار اور مخالفت کرتے تھے غرق کرکے نابود کردیا۔ پھر ان ہی جیسا حال ابراہیم (علیہ السلام) کو پیش آیا کہ جب انہوں نے دل کی گہرائی سے صرف اللہ ہی کی عبادت کا ارادہ ظاہر فرمایا اور غیر اللہ سے روکا۔ یہاں لفظ و من شیعتہ استعمال فرمایا گیا ہے جبکہ پہلے بارہا گزر چکا ہے اور قرآن حکیم کی کی روش سے یہ واضح ہے کہ گمراہ گروہوں پر شیعہ کا اطلاق فرمایا گیا ہے اور یہاں اکثر مفسرین کرام نے اصول دین اور ورع تقوی میں نوح (علیہ السلام) کے اتباع کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) کو شیعہ کہا جانا تحریر فرمایا ہے یہ ان کی رائے ہے مگر یہاں بات یہ چل رہی تھی کہ حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی نہیں ہوتی دنیا میں بھی حق ہی غالب آتا ہے خواہ کفر کو وقتی طور پر چندے مہلت مل بھی جائے اس کی مثال نوح (علیہ السلام) کے حالات سے دی گئی اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) کفار کے ہاتھوں اسی حال سے گزرے تو یہاں کفار کے سلوک کے باعث جو ان پر بیتی اس کی مشابہت کو اور اس مصیبت کو شیعت فرمایا گیا ہے کہ شیعہ مشایعیت سے ہے جس کا معنی چلنا یا روش ہے چناچہ انہوں نے بھی اپنے باپ سے ابتدا کی جبکہ باپ ہی بچے اور بیٹے کی سب سے پہلی پناہ گاہ ہوتا ہے مگر ان کو حق کی خاطر گھر سے ہی مخالفت کی ابتدا برداشت کرنا پڑی اور والد سے صاف فرما دیا نیز ان کے ساتھ ساری قوم کو بھی کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو کہ یہ بت کوئی فرد یا ہستی تو ہو نہیں سکتے کیا تم جھوٹ گھڑ کے انہیں اللہ کے بجائے صاحب اختیار مان لیتے ہو تو کیا تمہیں اللہ کی ذات میں یا اس کی عظمت اور الوہیت میں کوئی شبہ ہے یا ماننے سے کیا عذر مانع ہے یہ باتیں چلتی رہتی تھیں کہ کفار کا تہوار آگیا جس میں وہ کھانا وغیرہ بنا کر بتوں کے اگے رکھ جاتے اور باہر جا کر رسومات ادا کرتے اور واپس آ کر اسے بابرکت جان کرلے جاتے تھے تو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور خاص دعوت دی کہ ان پر ہمارے مذہب کی بڑائی واضح ہو تو انہوں نے ستاروں میں نگاہ فرمانے کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی قوم نجوم کے علم میں بہت یقین رکھتی تھی تو گویا انہیں اعتبار آجائے کہ واقعی ستاروں کی چال دیکھ کر بیماری کا بتا رہے ہیں جو درست ہی ہوسکتا ہے یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ علم نجوم کیا ہے یہ ایک فن ہے جیسے دست شناسی کہ بعض خاص لکیریں خاص باتوں کی غماض ہوتی ہیں اسی طرح ستاروں کی روش بھی بعض باتوں کو ظاہر کرتی ہے جیسے نبض کی حرکت حکیم کو مرض کے بارے اندازہ کرنے میں مدد دیتی ہے اگر یہاں تک بات رہے تو حرج نہیں ہاں اگر اسی پر بھروسہ کرنے لگے اور اسے موثر بالذات ماننے لگے تو یہ خیال مشرکانہ ہے۔ اللہ اس سے پناہ میں رکھے چناچہ یہ بات سن کر کفار تو چلے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) بت خانے تشریف لے گئے جہاں بتوں کے آگے کھانے چنے ہوئے تھے تو فرمایا کیا ہوا کھاتے کیوں نہیں ہو اور تمہیں کیا ہوگیا کہ بولتے بھی نہیں جواب تک نہیں دیتے ہو مراد بتوں کی بےبسی کا اطہار تھا اور پھر انہیں توڑ پھوڑ دیا کہ کفار پر واضح ہوجائے کہ یہ بےبس پتھر تو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے جب لوگوں کو پتہ چلا تو گھبرا گئے کہ کیا غضب ہوگیا اور پھر ان کے پاس دوڑے آئے کہ یہ زیادتی آپ نے کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم بھی تو پتھر کو توڑ پھوڑ کر گھڑ کر ہی بت بناتے ہو تب وہ کچھ نہیں کرسکتا جب بت بن جائے تو اسے صاحب اختیار مان کر اس کی پوجا کرنے لگتے ہو۔ میں نے بتوں کو صرف اس لیے توڑا ہے کہ تم جان لو یہ جیسے پہلے پتھر تھے ویسے ہی اب بھی ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے بلکہ تمہیں اللہ نے پیدا فرمایا اور ان سب چیزوں کا خالق بھی وہی ہے بلکہ ان کے استعمال کی قوت بھی تمہیں اسی نے دی ہے۔ وہ بہت بگڑے اور کہنے لگے اونچی سی عمارت بنا کر نیچے بہت بڑی آگ جلائی جائے اور وہاں سے انہیں اس آگ میں پھینک دیا جائے تو اس طرح انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سزا دینا چاہی مگر ہم نے خود انہیں کو نیچا دکھایا اور رسوا کردیا جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ نبی کی ہجرت : چنانچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے وہاں سے ہجرت فرمائی اور نبی کا ہجرت کر جانا بھی وہاں کے مکینوں سے ایک نعمت عظمی کا چھن جانا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی ورنہ تو جو شہر بعد میں فتح ہوسکتا ہے اللہ اسے پہلے بھی آپ کے قبضہ میں دے سکتا تھا مگر آپ کے تشریف لے جانے مشرکین پر غضب الہی ٹوٹ پڑا اور تباہ و رسوا ہوگئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ملک چھوڑ دیا کہ ایس جگہ جا رہوں گا جہاں اپنے رب کو یاد کروں اور اس کی عبادت میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے نیز وہی ذات مجھے سیدھی راہ دکھائے گی اور پھر جب عرصہ بیت گیا آپ کے کوئی اولاد نہ تھی تو دعا کی اے اللہ مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔ آپ نے جب ہجرت فرمائی تو آپ کی اہلیہ حضرت سارہ اور بھانجے حضرت لوط ہمراہ تھے صرف یہی ایمان بھی لائے تھے راستے میں فرعون مصر سے پالا پڑا آخر اس نے حضرت سارہ کو خدمت کے لیے ایک خاتون عطا کی جس کا نام حاجرہ تھا ان کے بطن سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹا دیا جس کا نام نامی حضرت اسمعیل رکھا گیا پھر ان ماں بیٹے کو بیت اللہ کی جگہ پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں زمزم بر آمد ہوا۔ اس سب واقع کے بعد جب بیٹا اس عمر کو پہنچا کہ ساتھ دوڑتا پھرتا ہو تو آپ نے خواب دیکھا کہ اسے اللہ کی راہ میں ذبح کر رہا ہوں چناچہ آپ وہاں تشریف لے گئے۔ بیٹے کو تیار کرکے ساتھ لیا اور باہر جا کر بتایا کہ بیٹا میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو انہوں نے جواب دیا یہ تو وحی ہے آپ کو حکم دیا گیا ہے تو بجا آوری کے بغیر چارہ نہیں ضرور عمل کیجیے۔ اگر پوچھنے سے آپ کی مراد میری رائے لینے سے ہے تو انشاء اللہ مجھے آپ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ آپ نے اس عظیم اور بلند ہمت خاتون حضرت حاجرہ جن کے قدموں پہ اک جہاں دوڑتا اور سعی کرتا ہے سے بات نہ کی یہ خواب نبی کا تھا اور اس کو سمجھنا بھی نبی ہی کا کام تھا چناچہ حضرت اسمعیل نے خواب کی بجائے حکم کی اور تعمیل ارشاد کی بات کی اور یہ بھی عرض کردیا کہ میں بھی تو نبی ہوں آپ کو ذبح کرنے کا حکم ملا ہے تو مجھے ہوجانے کا نیز وحی غیر متلو بھی ثابت ہوگئی کہ یہ حکم کسی کتاب میں تو نازل نہ ہوا تھا۔ چنانچہ جب آپ نے سر تسلیم خم کردیا اور بیٹے کو لٹا کر ذبح کردیا آنکھ کھولی تو دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا تھا اور اسمعیل (علیہ السلام) کھڑے مسکرا رہے تھے تو حیران ہوگئے۔ یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ غیب کا جاننا اللہ کا خاصہ ہے اور دوسرے اتنا جانتے ہیں جتنا اللہ بتا دے اور بتلایا ہوا اطلاع عن الغیب یعنی غیب پر اطلاع تو ہوتا ہے علم غیب نہیں یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسمعیل (علیہ السلام) کو دنبہ ذبح ہوجانے تک پتہ نہ چلا اگر یہ مانا جائے کہ آپ جانتے تھے تو خصوصیت کس بات کی یہ تو کوئی بھی کرسکتا ہے کہ ذبح تو دنبہ ہوگا بس آپ بیٹے کو لٹا دیجیے۔ ایسا نہیں ہوا آپ نے ذبح کردیا مگر سلامت دیکھ کر حیران رہ گئے تو آواز آئی اے ابراہیم آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور اکلوتا عزیز ترین بیٹا ذبح کردیا یہ بہت ہی بڑا امتحان تھا یہ ہماری مرضی کہ ہم نے اسے باقی رکھا اور ایک بہت عظمت والا جانور خاص اپنی طرف سے اور جنت سے بھیج کر ذبح کرادیا چناچہ ہم نے ان کی یہ یاد بعد والوں میں بھی باقی رکھی کہ ظہور اسلام تک اہل مکہ قربانی دیتے تھے اسلام نے بھی اس کا حکم دیا اور یوں اس قربانی کی یاد ہر سال تازہ ہوتی رہتی ہے اور سلامتی ہو ابراہیم پر کہ ہم خلوص سے نیکی کرنے والوں کو یہی ابدی سلامی ہی کا صلہ دیا کرتے ہیں اور وہ تو ہمارے بہت ہی کھرے بندے تھے ہم نے انہیں اور بیٹے کی بشارت بھی دی اسحاق (علیہ السلام) اور اسے نبی بھی بنا بلکہ ایسی برکت ڈال دی تھی کہ پشتوں ان میں نبوت چلتی رہی اور ان کی اولاد میں بہت سے نیک اور صالح بندے پیدا ہوئے اگرچہ بعد میں کچھ بڑے بدکار بھی اور اپنے آپ پر ظلم کرنے والے بھی ہوئے۔