37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 37:22–74

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو جمع کرلو اور ان کے ہم مشربوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

اللہ کے سوا۔ پھر ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو (ذرا) ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھا جائے گا

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

کیا ہوا تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ سب کے سب اس روز سرافگندہ (کھڑے) ہوں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

وہ بولیں گے یقینا تم ہی ہمارے پاس دائیں طرف سے آیا کرتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم خود ہی ایمان نہیں لائے تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں بلکہ تم خود ہی سرکش لوگ تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہم سب پر ہمارے پروردگار کی بات ثابت ہوچکی بیشک اب ہم (عذاب کا مزہ) چکھیں گے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

پس ہم نے تمہیں گمراہ کیا کہ ہم خود بھی گمراہ تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

تو وہ سب کے سب اس روز عذاب میں شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

بیشک ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو تکبر کیا کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور وہ کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر دیوانہ کے لئے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

بلکہ (وہ تو) ایک سچا دین لے کر آئے ہیں اور (دوسرے) پیغمبروں کی تصدیق فرماتے ہیں

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بلا شبہ تم سب کو دردناک عذاب چکھنا پڑے گا

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے تم کام کیا کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

ہاں مگر جو اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے ہیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) پھل ، اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں پر آمنے سامنے (بیٹھے) ہوں گے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان میں لطیف مشروب کا دور چل رہا ہوگا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

(جو) سفید رنگ کا (اور) پینے والوں کے لئے بہت مزیدار ہوگا

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس میں سر بھاری ہوگا اور نہ اس سے ان کی عقل میں فتور آئے گا

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس حوریں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی (اور) آنکھیں بڑی بڑی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہے گا (دنیا میں) میرا ایک ملاقاتی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

کہا کرتا تھا بھلا تم بھی ایسی باتوں کو ماننے والے ہو

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا ؟

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کیا تم جھانک کر (اس کو) دیکھنا چاہتے ہو

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

سو وہ جھانکے گا تو اس کو جہنم کے درمیان دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کرنے والا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر (مجھ پر) میرے پروردگار کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوتا

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

سو کیا یہ نہیں کہ ہم آئندہ کبھی مرنے کے نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہاں جو پہلی بار مرتا تھا (سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہ ہوگا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہ بہت بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (کامیابی) کے لئے تو عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ دعوت بہتر ہے یا تھوہر کا درخت

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لئے عذاب کا سبب بنایا

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

یقینا وہ ایک درخت ہے کہ قعر دوزخ سے نکلتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے پھل ایسے ہیں جیسے کہ وہ شیطانوں کے سر

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو یہ لوگ اس میں سے کھائیں گے پھر اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر یقینا اس کے ساتھ ان کو گرم پانی (پیپ) ملا کردیا جائے گا

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر یقینا ان کو دوزخ ہی کی طرف لوٹایا جائے گا

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

کہ انہوں نے اپنے باپ داداکو گمراہی کی حالت میں پایا تھا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

پھر یہ ان ہی کے نقش قدم پر بڑی تیزی سے چلتے رہے

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور یقینا ان سے پہلے بھی اگلے لوگوں میں اکثر گمراہ ہوچکے ہیں

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ان میں ڈرانے والے (پیغمبر) بھیجے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

تو دیکھ لیجئے جن کو ڈرایا گیا تھا ان کا کیا انجام ہوا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

سوائے اللہ کے خاص بندوں کے

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ ہوگا۔ پھر ایک دوسرے پوچھیں گے کہ دنیا میں تو تم لوگ بڑے بڑھ بڑھ کر بولتے تھے اور ہمیں قبول حق سے روکنے کیلئے بڑے زور دار دعوے کرتے تھے آج بتاؤ تو دوسرے کہیں گے تم خود ہی بےایمان تھے اور حق کو قبول کرنے پہ آمادہ نہ تھے بھلا ہم کیا تم کو زبردستی کفر پر روک سکتے تھے ہرگز نہیں یہ تم ہی تھے جو ہر وقت سرکشی اور بغاوت پر آمادہ تھے۔ پھر سب ہی کہنے لگیں گے اب ان باتوں سے کیا حاصل ہم پر اللہ کا ارشاد صادق آیا اب ہمیں اپنے اعمال کا مزہ چکھنا ہی پڑے گا بھلا اگر ہم نے تمہیں گمراہ کیا ہے تو ہم کون سے حق پر تھے جب خود گمراہ تھے تو تمہیں ہدایت کی بات کیسے بتا سکتے تھے۔ شیخ کا بنیادی وصف : شیخ میں بنیادی طور پر ایمان اور عقیدے کی پختگی ضروری ہے ورنہ کسی کمزور عقیدے والے یا بدعقیدہ شخص کو شیخ بنا لیا تو چونکہ وہ خود راہ گم کردہ ہے طالب اور مرید کو بھی گمراہ کردے گا۔ اور پھر حشر کو تو یہ سب مل کر عذاب میں گھر جائیں گے کہ بدکاروں کے اعمال پر ایسا ہی پھل لگا کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ انہیں اللہ کی وحدانیت اور عظمت کی طرف دعوت دی جاتی تو کہا کرتے تھے کہ یہ بات ہمیں گوارا ہی نہیں اور بہت اکڑ دکھاتے تھے نیز کہتے تھے کہ بھلا ایک پاگل شخص اور محض شاعرانہ تخیلات پر بات کرنے والے کی بات مان کر ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں۔ قول نبی کو اسباب کے ترازو میں جانچنے والے : ارشادات نبوی کو جب وہ لوگ اسباب کے حوالے سے دیکھتے تو دنیا میں ہر طرف کفر مسلط تھا حکومتیں اور حکمران زندگی کے ہر شعبہ کے لوگ نہ صرف کفر و شرک میں غرق تھے بلکہ حق کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ اس حال میں وہ لوگ نبی (علیہ السلام) کو پاگل قرار دیتے کہ جس نے ساری دنیا کی مخالفت مول لی ہے اور پھر جب آپ ﷺ غلبہ حق کی نوید سناتے تو وہ کہتے یہ شاعرانہ تعلی ہے اور مھض خیال ہے عملاً ایسا ممکن نہیں اور یہ نہ جان سکے کہ اللہ کا رول ہے جو حق بات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ ہمیشہ ہی اللہ کے رسول سچ ہی بتاتے آئے ہیں اللہ کرے آج کے مسلم بھی اس حقیقت کو جان لیں کہ انکار کرنے والو تمہیں بہت ہی دردناک عذاب بھگتنا پڑے گا اور یہ تمہارے اس کرتوت کی سزا ہوگی ورنہ بلا وجہ کسی کو عذاب نہ ہوگا۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن میں خلوص تھا اپنی انا اور تکبر نہ تھا محض اپنی بڑائی کے لیے دین کے نام پر کفر اختیار نہ کرتے تھے وہ ان عذابوں کی ذلت سے محفوظ ہوں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہر طرح کے فکر سے آزاد کہ انہیں کسی شے کے نہ ملنے کا اندیزہ نہ رہے گا بلکہ یقین حاصل ہوجائے گا کہ ہمیشہ اللہ کی نعمتیں ملتی ہی رہیں گی اور وہ غذا کے محتاج بھی نہ رہیں گے بلکہ جنت میں غذا بقائے حیات کے لیے نہیں محض حصول لذت کے لیے کھائی جائیگی اور انہیں بہت عزت و احترام نصیب ہوگا۔ جنت کی نعمتوں میں ایک دوسرے کے سامنے تخ تبچھا کر بیٹھیں گے اور خوبصورت جام گردش میں ہوں گے نورانی رنگ کے مشروب جو پینے میں انتہائی لذیذ اور جن سے نہ تو آدمی کو نشہ چڑھے نہ بہک جائے اور انہیں خوبصورت موٹی آنکھوں اور نیچی نگاہوں والی بیویوں کی رفاقت میسر ہوگی ایسی حسین کہ گویا پروں کی تہہ سے کسی نے انڈا نکالا ہو۔ وہ بھی آپس میں گپ شپ کریں گے تو ایک جنتی کہے گا میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا وہ مجھے کہا کرتا تھا کہ تم بھی مانتے ہو کہ جب مر کر خاک ہوجائیں گے تو پھر جی اٹھیں گے اور پھر کوئی جہاں آباد ہوگا بھلا یہ بھی کوئی ماننے کی بات ہے تم ایسی باتوں پہ ایمان رکھتے ہو تو ارشاد ہوگا اگر چاہو تو اسے دیکھ لو۔ اہل جنت کی نگاہ : اگرچہ جہنم بہت دور ہوگی مگر جب وہ جنت سے جھانکیں گے تو انہیں جہنم میں جلتا ہوا نظر آئے گا گویا موت کے بعد اہل جنت کی نگاہ میں اتنی وسعت ہوگی اگر یہ وصف زندگی میں نصیب ہوجائے اور اتباع نبوی اور صحبت کامل کے طفیل پہ نگاہ نصیب ہوجائے تو یہی کشف اور مشاہدہ کہلاتی ہے۔ تو اس سے بات کریں گے اور کہیں گے اللہ کی قسم تو تو مجھے بھی تباہی کے گڑھے میں ڈالنے لگا تھا اور اگر محض اللہ کا کرم ہاتھ تھام نہ لیتا تو آج میں بھی مجرموں کے ساتھ پکڑا ہوا آتا۔ یعنی بدکار کی مجلس اور دوستی سے اللہ بچائے کہ یہ باتوں باتوں میں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر آج اللہ کا احسان ہے کہ اب ہمیں موت کا اندیشہ بھی نہیں کہ موت کی منزل بھی دنیا سے یہاں آنے کی راہ میں تھی۔ سو موت کی گھاٹی بھی گزر گئی اور جنت کے داخلے کے بعد اب کبھی بھی عذاب کا اندیشہ نہ رہا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ جب انسان کو محنت ہی کرنا ہے اور زندگی مشقت کرکے بسر کرنا ہے کہ اس کے بغیر تو ممکن نہیں تو پھر ایسی محنت اور اس طرح کی مشقت کرے کہ اس کامیابی کو پا لے ورنہ غلط پر تو عذاب مرتب ہوگا اور بھلا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں یا ان سے نہ صرف محرومی بلکہ عذاب اور غذا میں دوزخ کا درخت زقوم جسے ہم نے ظالموں کی آزمائش بنا دیا ہے۔ گناہ پہ جرات رکھنے والے بھلا یہاں کتنی ہمت دکھاتے ہیں کہ یہ زقوم ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کے اندر پیدا ہوتا ہے اور آگ ہی میں اگتا ہے جس کے پھل بھی ایسے ہیبت ناک ہیں جیسے شیاطین کے سر ہوں کہ تلخی اور کڑواہٹ اپنی جگہ دیکھنے میں بھی بہت مکروہ ہے اور عذاب الہی ایسا ہے کہ یہ اس سے بچ نہ سکیں گے بلکہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر بھر کھائیں گے اور اوپر سے پینے کے لیے جلتا ہوا پانی ملے گا جو اس کے کھانے سے ہونے والے زخموں تک کو جلاتا چلا جائے گا اور پھر آگ کے ڈھیروں میں بسر کرنے جائیں گے یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنے گمراہ اور کافر آباؤ اجداد کی پیروی کی اور ان کے نقش قدم پر چلے جو خود پہلے ہی گمراہی اختیار کیے ہوئے تھے اور ہمارا کرم ایسا کہ انہیں بھی مھروم نہ رکھا انبیاء بھیج کر اس دردناک انجام سے بروقت مطلع فرمایا مگر ان کو بات ماننے میں عار تھی اب اس کا انجام سامنے ہے جبکہ اسی گہ اور اسی وقت یعنی میدان حشر میں ہی اللہ کے مخلص بندے اس سب مصیبت سے محفوظ و مامون ہیں۔