9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsانوار البیان

Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ انکے لئے (اعمال صالحہ میں) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔

(9:121) ولا یقطعون وادیا۔ نہیں طے کرتے وہ کسی وادی کو۔ کتب لہم۔ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے۔ ان کے حساب میں لکھ لیا جاتا ہے۔ احسن۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہت اچھا۔ بہترین۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین (کا علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔

(9:122) لینفروا۔ کہ نکل جائیں۔ نکل کھڑے ہوں۔ (جہاد کے لئے) یا علم دین کے حصول کے لئے۔ یا تبلیغ کے لئے۔ کافۃ۔ اسم فاعل ۔ مفرد۔ مؤنث۔ منصوب ۔ اس صورت میں تاء مبالغہ کے لئے ہوگی۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال منصوب اور نکرہ ہوتا ہے ۔ جس کے معنی ہیں سب کے سب۔ پورے کے پورے۔ لولا۔ کیوں نہ۔ تفصیل کے لئے 6:43 ملاحظہ ہو۔ نفر۔ ماضی مذکر غائب۔ نفر نفور نفار مصدر۔ (باب سمع وضرب) کیوں نہ نکلے۔ کیوں نہ نکل کر جائے۔ لیتفقہوا۔ مضارع منصوب۔ جمع مذکر غائب۔ تفقہ مصدر۔ تاکہ سمجھ حاصل کرتے رہیں دین کے مسائل سیکھتے رہیں۔ لعلہم یحذرون۔ تاکہ وہ (نافرمانیوں سے بچیں ) ۔ ڈریں۔ الحذر (سمع) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا۔ بچنا۔ محتاط رہنا۔ یحذر الاخرۃ (39:9) آخرت سے ڈرتا ہے۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

(9:123) یلونکم۔ مضارع جمع مذکر حاضر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ولی مصدر (باب نصر) جو قوم تمہارے نزدیک بستی ہے۔ جو تمہارے نزدیک ہیں۔ الولاء والتوالی کے اصل معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا نسب یا بلحاظ دین و اعتقاد یا بلحاظ دوستی و نصرت ہو۔ ولیجدوا۔ اور وہ پائیں۔ ان کو پانا چاہیے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ غلظۃ۔ اسم مصدر۔ سختی۔ دل کی سختی۔ قوت۔ سخت مزاجی۔ الغلظۃ کے معنی موٹاپا یا گاڑھا پن کے ہیں۔ ولیجدوا فیکم غلظۃ۔ چاہے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں۔ قرآن میں ہے فاستغلظ فاستوی علی سوقہ (47:29) پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر کھڑی ہوگئی۔ اور سخت و شدید کے معنی میں بھی آیا ہے۔ ثم نضطرہم الی عذاب غلیظ (31:24) پھر ہم عذاب شدید کی طرف مجبور کرکے انہیں لے جائیں گے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ جب کفار کے مقابلہ میں نکلو تو اپنی قوت و سطوت کا بھرپور مظاہرہ کرو اور اس شدو مد سے حملہ کرو کہ دشمن کو دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہ پڑے
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزا کرتے اور) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟ سو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔

(9:124) اذا ما۔ جب کبھی۔ فمنھم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب۔ منافقین کی طرف راجع ہے جن میں سے بعض جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی تو مذاق کے طور پر مسلمانوں سے پوچھتے ” کہو تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا ہے “۔ زادتہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ایکم کی طرف راجع ہے۔ یعنی تم میں سے کون ہے جس کا اس سورة نے ایمان زیادہ کردیا۔ زادت کا فاعل ھذہ ہے جس کا اشارہ سورة کی طرف ہے۔ یستبشرون مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) مصدر ۔ وہ خوش ہوتے ہیں وہ خوشیاں مناتے ہیں (سورۃ کے نزول پر) ۔
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔

(9:125) فزادھم رجسا الی رجسھمیہ سورة ان کی نجاست میں مزید نجاست کا اضافہ کرتی ہے۔ شاعر کا یہ شعر کتنا مناسب حال ہے باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست درباغ لالہ روید و درشور بوم خس
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں ؟

(9:126) یفتنون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ فتن سے ۔ وہ مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں۔ صاحب ضیاء القرآن اس آیۃ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ منافقین جو غفلت اور عناد کا شکار تھے۔ ان کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے سال میں متعدد بار ایسے حالات سے دوچار کردیا جاتا جو ان کو خواب غفلت سے دو چار کردیتے۔ اسلام کے خلاف ان کی سازشیں ناکام ہوتیں۔ بےسروسامانی کے باوجود مسلمان ہر میدان میں اپنے سے طاقت ور دشمنوں کو شکست پر شکست دیتے چلے جاتے۔ حضور ﷺ کی ذات پاک سے ایسے معجزات رونما ہوتے جن کے دیکھنے کے بعد حضور کی صداقت کا یقین ہوجاتا۔ اس کے علاوہ انہیں طرح طرح کی تکالیف اور مالی خساروں میں مبتلا کیا جاتا تاکہ یہ خواب غفلت سے بیدار ہوں۔ لیکن انہیں توبہ کی توفیق نہ ہوتی اور نہ نصیحت قبول کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ۔
Ayah 9:127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے ؟ پھر پھرجاتے ہیں۔ خدا نے انکے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

(9:127) انصرفوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ چل دیتے۔ وہ پلٹ جاتے (حضور ﷺ کی مجلس سے) انصراف (انفعال) سے صرف مادہ۔ الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا۔ محاورہ ہے کہ صوفتہ فانصرف میں سے اسے پھیر دیا وہ پھر گیا۔ صرف اللہ قلوبہم۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دئیے (ایمان سے یا فہم قرآن سے) یہ جملہ منافقین کے لئے بددعائیہ بھی ہوسکتا ہے۔ خدا انکے دلوں کو پھیر دے۔ بانھم۔ میں باء سببیہ ہے۔ بدیں وجہ۔ اس سبب سے۔ کہ انھم قوم لایفقھون یہ لوگ سوء فہم اور عدم تدبر کا شکار ہیں۔ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ کچھ سمجھتے ہی نہیں۔
Ayah 9:128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ (اور) مومنوں پر نہایت شفقت کرنیوالے (اور) مہربان ہیں۔

(9:128) عزیز علیہ۔ شاق گزرتی ہے اس پر ۔ گراں گزرتی ہے اس پر۔ بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے جب اس کا صلہ علیٰ ہو تو شاق اور دشوار کے معنی دیتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو جو ہمیشہ غالب رہے کا معنی دیتا ہے اس کا باب نصر ہے ۔ اور جب ضرب ہو تو اس کا معنی گراں ہونے کا ہوتا ہے۔ ما عنتم۔ میں ما موصولہ ہے۔ عنتم۔ ماضی جمع مذکر عنت سے۔ عنت یعنت (سمع) دشواری میں پڑنا۔ مصیبت میں ہلاک ہونا۔ یعنی تمہارا دشواری میں پڑنا یا کسی مشقت یا تکلیف میں مبتلا ہونا اس پر شاق گزرتا ہے۔ حریص علیکم۔ ای حریص علی ایمانکم وایصال الخیر الیکم۔ یعنی تمہارے لئے ایمان۔ بھلائی اور ہدایت کا نہایت ہی خواہشمند ہے۔ حریص بروزن فعیل۔ حرص کرنے والا۔ تلاش رکھنے والا۔ شدت سے خواہش رکھنے والا۔ اس آیت میں خطاب نہ صرف اہل عرب سے ہے بلکہ ساری دنیا کے عوام الناس سے ہے۔
Ayah 9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور (نہ) مانیں تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

(9:129) تولوا۔ انہوں نے منہ موڑا۔ انہوں نے پشت پھیری۔ تولی سے ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ حسبی۔ حسب۔ مضاف ی ضمیر واحد متکلم۔ مضاف الیہ حسب اسم فعل بمعنی کافی۔ مجھ کو کافی ہے۔ مجھ کو بس ہے۔ حسب یحسب کا مصدر بھی ہے۔