9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsانوار البیان

Ayahs 9:41–42

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت گھروں سے) نکل آؤ اور خدا کے راستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے بشرطیکہ سمجھو !

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال غنیمت سہل اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کرنیگے) اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے۔ یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

(9:41) خفافا۔ سبک بار۔ ہلکے۔ خفیف کی جمع بروزن فعیل صفت مشیہ کا صیغہ ہے۔ ثقالا۔ بوجھل۔ ثقیل کی جمع ہے۔ ہر دو خفافا وثقالا۔ انفروا سے حال ہیں۔ خفافا وثقالا۔ یعنی ہر حال میں خواہ تم جواب ہو یا بوڑھے۔ فقیر ہو یا امر ۔ سوار ہو یا پیادے۔ تندرست ہو یا بیمار۔ تنہا ہو یا عیالدار (روح البیان) جنگ کے سامان کے ساتھ یا بغیر سامان جنگ کے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں انکو اجازت کیوں دی ؟

(9:43) عرضا۔ روبرولانا۔ پیش کرنا۔ پیش افتادہ سامان۔ سامنے رکھا ہوا مال و متاع ۔ یہاں عرضا قریبا بمعنی سہل الحصول مال ہے سفرا قاصدا۔ قریبی سفر۔ قصد سے جس کا معنی ہے وسطی راستہ پر چلنا۔ القصد بعضی المعتدل۔ لا تبعوک۔ لام تاکید۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ ضرور تیری اتباع کرتے ۔ تیرے پیچھے چلتے۔ شقۃ۔ مسافت۔ بقول راغب وہ منزل مقصود جس تک بہ مشقت پہنچا جائے۔ بعدت علیہم الشقۃ۔ مسافت ان کو دور دراز نظر آئی۔ کٹھن سفر ان کو بہت دور کا سفر نظر آیا۔ سیحلفون باللہ۔ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر (کہیں گے) لواستطعنا۔ اگر ہمیں استطاعت ہوتی۔ اگر ہمیں طاقت ہوتی۔ (9:43) عفا اللہ عنک۔ (اے محمد) تجھے اللہ بخشے۔ اللہ تجھے معاف فرمائے۔ خدا تیرا بھلا کرے عفو کے اصل معنی مٹانا ہیں جیسے فعت الریح الدار (ہوا نے گھر کے نشانات مٹا دئیے) اور عفوت عنہ کے معنی ہیں قصدت ازالۃ ذنیہ صارفا عنہ میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کے گناہ مٹانے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن شیخ محمد بن طیب فارسی شارح قاموس سے منقول ہے کہ :۔ عفو کا بغیر گناہ کے نہ ہونا گو عرف میں مشہور ہوگیا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ عفو بمعنی عدم الزوم (لازم نہ ہونا) بھی ہوتا ہے۔ اور اس کے اصل معنی ترک کے ہیں اور اسی پر اس کے سارے معانی گھومتے رہتے ہیں۔ امام فخر الدین رازی نے واحدی ؓ سے نقل کیا ہے کہ عفو کے اصل معنی زیادہ ہونے کے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قل العفو (2:219) کہہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اور حتی عفوا (7:95) یعنی جو ان کی تعداد تھی اس سے زیادہ ہوگئے۔ ان کے اقوال کی روشنی میں عربی محاورہ عفا اللہ سے کسی گناہ کا سرزد ہونا لازم نہیں آتا۔ (بقول شیخ محمد بن طیب مذکورہ بالا) حافظ کا شعر ہے :۔ عفا اللہ عن شر النوائب جزاک اللہ فی الدارین خیرا (اللہ تمہیں زمانہ کی گردشوں کے شر سے بچائے۔ اور دارین میں نیک اجر دے) ۔ اور واحدی کے مطابق اس کا ترجمہ ” اللہ تیرا بھلا کرے “ بھی ہوسکتا ہے۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ جنگ تبوک کے موقعہ پر موسم کی شدت اور مسافت کی مشقت کی وجہ سے بہت سوں نے شرکت سے معذرت پیش کی جو حضور نبی کریم ﷺ نے تقریبا ہر ایک منظور فرمالی۔ اس کی متعدد معقول وجوہات تھیں :۔ (1) حضور اکرم ﷺ کی ذاتی کریم النفسی۔ (2) معقول وجوہات کی بناء پر استثناء سے انکار قرین انصاف نہ تھا۔ (3) عسکری پالیسی کے لحاظ سے بھی ایسے اشخاص کو جبرا ساتھ لیجانا خلاف مصلحت تھا جو دلی جذبہ کے ساتھ جہاد میں شرکت کے متمنی نہ لہٰذا خداوند تعالیٰ کا قول لم اذنت لہم حتی یتبین لک الذین صدقوا و تعلم الکذبین۔ رسول مقبول ﷺ پر کوئی سرزنش نہ تھی بلکہ اس سے مقصد صرف یہ تھا کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو سچے اور جھوٹوں میں تمیز ہوجاتی۔ اسی وجہ سے اس استفسار سے پہلے عفا اللہ عنک کے الفاظ ارشاد فرما دئیے۔ بعض کے نزدیک تو یہ کلمات اظہار تکریم و تعظیم کے لئے ہیں َ اہل عرب کا دستور تھا کہ جب کسی کی عزت و توقیر کا اظہار مقصود ہوتا تو اس کے ساتھ گفتگو کا آغاز ایسے ہی کلمات (عفاک اللہ) سے کیا کرتے تھے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ ان ذلک یدل علی مبالغۃ اللہ فی تعظیمہ وتوقیرہ یعنی ان کلمات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعظیم و توقیر میں مبالغہ کا اظہار فرمایا ہے۔ حتی یتیبین۔ سے قبل وہلا توقفت۔ محذوف ہے۔ اور کیوں نہ تو نے توقف کیا (ان کے پیچھے رہنے کی اجازت دینے میں) یتبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبین (تفعل) مصدر۔ تجھ پر ظاہر ہوجائے۔ کھل کر سامنے آجائے۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا پرہیزگاروں سے واقف ہے۔

(9:44) لا یستاذنکمضارع منفی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر استیذان مصدر۔ تجھ سے اجازت نہیں مانگیں گے۔ لا یستاذنک الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر ان تجاھدوا باموالہم وانفسہم۔ اگر ان یجاھدوا بمعنی فی ان یجاھدوا لیا جاوے تو معنی ہوگا وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اپنے مال اور جانوروں سے جہاد کرنے سے بچنے کی خاطر تم سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں مانگیں گے۔ یا یہ اس طرح ہے ان یستاذنون فی التخلف کراھۃ ان یجاھدوا۔ کہ وہ تجھ سے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کریں کیونکہ وہ اپنے مال اور اجن سے جہاد کرنا نہیں چاہتے۔
Ayahs 9:45–46

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواڈول ہو رہے ہیں۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے انکا اٹھنا (اور نکلنا) پسند ہی نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو۔

(9:45) ارتابت قلوبھم۔ ان کے دل شک میں پڑگئے ۔ ارتابت ماضی واحد مؤنث غائب۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ شک۔ یترددون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ترددو (تفعل) مصدر۔ ڈانواں ڈول ہیں۔ تردد میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تم میں انکے جاسوس بھی ہیں۔ اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

(9:47) خرجوا فیکم۔ ای خرجوا معکم۔ خبالا۔ فساد۔ تباہی۔ خبل یخبل (نصر) سے مصدر ہے۔ وہ خرابی یا فساد کہ جس کے لاحق ہونے سے کسی جاندار میں اضطراب اور بےچینی پیدا ہوجائے۔ مثلاً جنون یا ایسا مرض جو عقل اور فکر پر اثر انداز ہو اے خبال کہتے ہیں۔ لااوضعوا۔ لام تاکید الف لام زائدہ۔ اوضعوا۔ اوضع یوضع ایضل (افعال) آرام سے یا تیز چلنا۔ آرام سے یا تیزی سے اونٹ کا چلانا۔ ماضی جمع مذکر غائب وضع مادہ یہ لفظ مختلف المعانی ہے وضع نیچے رکھنا۔ موصع رکھنے کی جگہ۔ وضع کرنا۔ کم کرنا۔ تواضع۔ انکساری وغیرہ۔ خللکم تمہارے درمیان۔ مضاف مضاف الیہ۔ خلال بمعنی درمیان ۔ بیچ۔ وسط۔ خلل کی جمع۔ جس کے معنی دو چیزوں کے درمیان کشادگی۔ ینغونکم۔ اوضعوا۔ کا حال ہے یعنی وہ تمہارے درمیان بھاگیں دوڑیں گے تمہارے درمیان فتنہ ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہوئے۔ یبغون۔ مضارع جمع مذکر غائب وہی چاہتے ہیں تمہارے لئے۔ ای یبغون لکم۔ سمعون۔ سمع سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ سماع کی جمع ۔ خوب کان لگا کر سننے والے، جاسوس، کان لگا کر سننا۔ کبھی تو جاسوسی کے لئے ہوگا۔ اور کبھی قبول کرنے اور ماننے کیلئے آیۃ ہذا میں اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔

(9:48) ابتغوا۔ ابتغی یبتغی ابتغاء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تلاش کیا۔ انہوں نے چاہا۔ لقد ابتغوا الفتنۃ۔ انہوں نے فتنہ انگیزی میں کوشش کی۔ انہوں نے فتنہ بپا کرنا چاہا۔ من قیل۔ اس سے قبل یعنی جنگ احد کے موقعہ پر جب عبد اللہ بن ابی راستہ میں تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا تھا۔ قلبوا لک الامور۔ قلب یقلب ۔ قلب پلٹنا ۔ الٹنا۔ موڑ دینا۔ پھیر دینا۔ اوپر کے حصہ کو نیچے۔ نیچے کے حصہ کو اوپر۔ اندر کے حصہ کو باہر اور باہر کے حصہ کو اندر کرنا۔ ولب الارض للزراعۃ۔ زراعت کے لئے ہل پھالے سے زمین کو الٹ پلٹ کرنا۔ قلب الامر۔ معاملہ کو الٹ پلٹ کر دیکھنا اور جانچنا کہ اس کا ہر پہلو صاف ظاہر ہوجائے۔ قلب (باب تفعیل) سے مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ معاملہ کو خوب الٹ پلٹ کر پرکھنا اور جانچنا ۔ قلبوا لک الامور۔ ریتے لئے بہت سی باتوں کو خوب الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے۔ (کہ تیرے خلاف ان کو کس طرح استعمال کیا جائے) حتی جاء الحق۔ یہاں تک کہ حو وقوع پذیر ہوگیا۔ (اور ان کی سازشیں اور مکاریاں ناکام ہوگئیں۔ ظھر (ظاہر ہوا۔ آشکارا ہوا۔ غالب آگیا۔ امر اللہ۔ اللہ کا حکم۔ اللہ کا دین۔ وہم کارھون۔ باوجود یکہ وہ خاموش ہی رہے
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے۔ اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

(9:49) ائذن لی۔ تو رخصت سے۔ تو اجازت دے۔ اذن یاذن (سمع) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اذن مصدر جس کے معنی ہیں اجازت دینا۔ لاتفتنی۔ فعل نہی۔ تو مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔ تو مجھے آزمائش میں نہ ڈال۔ تو مجھے گمراہی میں نہ ڈال۔ فتن یفتن (ضرب) فتون سے۔ اصل میں لا تفتن تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم اور اس سے قبل نون وقاریہ جس میں لاتفتن کا نون مدغم ہوا۔ تو مجھے آزمائش میں نہ ڈال یعنی میری مجبوری ایسی ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیں گے تو میں مجبورا تعمیل سے قاصر رہوں گا۔ اس لئے آپ جہاد میں جانے کے لئے حکم ہی نہ دیں تاکہ میں نافرمانی کی آزمائش سے بچ جاؤں۔ الا۔ حرف تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے ہے) یہاں بطور استفتاح کے استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ جب یہ شروع کلام میں آتا ہے تو اپنے مابعد کے مضمون پر زور دیتا ہے اور اس کے تحقق کو ثابت کرتا ہے جیسے الا انہم ھم السفہاء (2:13) خبر دار ہو کہ یہی بیوقوف ہیں۔ آیۃ ہذا میں ہے الا فی الفتنۃ سقطوا۔ خبردار رہو کہ فتنہ میں تو وہ پہلے ہی گر چکے۔ سقطوا۔ وہ گرپڑے۔ سقوط سے ماضی۔ جمع مذکر غائب۔ لمحیطۃ۔ اسم فاعل مؤنث۔ احاطۃ مصدر احاط یحیط اھاطۃ (باب افعال) حوط مادہ ۔ چاروں طرف سے گھیر لینے والی۔
Ayahs 9:50–51

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو انکو بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی (درست) کرلیا تھا۔ اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اسکے کہ جو خدا نے ہمارے لئے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہئے۔

(9:50) نصبکم۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ اصل میں تصیب تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر پہنچے تم کو۔ تسؤہم۔ ساء یسوء سوء (نصر) مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ان کو بری لگتی ہے۔ ان کو غمگین کرتی ہے۔ قد اخذنا امرنا۔ ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ ہم نے پہلے ہی احتیاطی تدبیریں اختیار کرلی تھیں (اس لئے ہمیں یہ تکلیف نہیں پہنچی) ۔ یتولوا۔ پھرجاتے ہیں۔ لوٹ جاتے ہیں۔ تولی سے مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ فرحون۔ خوش۔ اترانے والے۔ صفت مشبہ۔ جمع ۔ فرح واحد۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

(9:52) تربصون۔ تم انتظار کرتے ہو۔ تم راہ دیکھتے ہو۔ تربص یتربص تربص (تفعل) سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ہل تربصون بنا۔ تم ہمارے بارے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو۔ تمہیں ہمارے بارے میں کس بات کی امید ہوسکتی ہے۔ تم ہمارے بارے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو کہ ہمیں پیش آئے گی۔ الا احدی الحسنیین۔ سوائے اس کے کہ یہ وہ اچھی باتوں سے ایک ہوگی۔ یعنی ہمارے بارے میں تم جس نتیجہ کے منتظر ہو یا امید رکھتے ہو وہ دو بھلائیوں میں سے ایک تو ضرور ہوگی۔ یعنی اگر کامیاب ہوگئے تو فتح ہماری اور گار شہید ہوگئے تو آخرت سنور گئی۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ تم نافرمان لوگ ہو۔

(9:53) انفقوا۔ تم خرچ کرو انفاق (افعال) سے امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر۔ یہاں خبر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی تم خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے (تمہاری طرف سے یہ خرچ قبول نہیں کیا جائے گا) اس کی مثال قرآن میں ہے : استغفرلہم اولا تستغفرلہم (9: 80) آپ ان کے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں۔ لن یتقبل۔ مضارع مجہول نفی تاکید بلن۔ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ای لن یتقبل منکم نفقاتکم انفقتم طوعا اوکرھا۔ یعنی بخوشی جو مال بھی خرچ کرو گے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ طوعا۔ فرماں برداری۔ اطاعت۔ مصدر ہے اور کرہ کی ضد ہے اس کا فعل نصر اور سمع دونوں ابواب سے آتا ہے۔ کرھا۔ مصدر ہے۔ ناگوار ہونا۔ ناخوشی۔ مجبوری۔
Ayahs 9:54–55

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہو کر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں انکو عذاب دے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو ( اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔

(9:54) کسالی۔ کسلان کی جمع۔ سست۔ کاہل۔ جیسے سکاری سکران کی جمع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دئیے ہوئے مال کی عدم قبولت کی یہ وجوہات ہیں۔ (1) انجم کفروا باللہ وبرسلہ۔ (2) لا یاتون الصلوۃ الادھم کسالی۔ (3) لا ینفقون الادھم کرھون۔
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

(9:56) یفرقون۔ مضارع جمع مذکر غائب فرق مصدر (سمع) وہ ڈرپوک ہیں۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغار یا (زمین کے اندر) گھُسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

(9:57) لویجدون۔ اگر وہ پائیں۔ وجد یجد (ضرب) وجد۔ ملجا۔ اسم ظرف مکان۔ پناہ کہ جگہ۔ لجا مصدر۔ (باب ضرب۔ فتح۔ سمع) ملجا بھی مصدر ہے۔ مغرت۔ مغار اور مغارۃ کی جمع مغارر بھی اس کی جمع ہے مغار و مغارۃ لوٹ ۔ غار۔ المغار لوٹ کی جگہ۔ بچاؤ کی جگہ۔ زمین کے اندر گھسنے کی جگہ۔ الغرر کے معنی نشیبی زمین کے ہیں۔ مدخلا۔ اسم ظرف مکان۔ داخل ہونے کی جگہ۔ باب افتعال سے مفتعل کے وزن پر۔ لولوا۔ وہ ضرور منہ پھیر لیں گے۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ یجمحون ۔ جمح یجمح (باب فتح) جمح جموح جماح مصدر ۔ گھوڑے کا سرکشی کرنا۔ جموح منہ زور گھوڑا۔ جمحت المراۃ زوجھا۔ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت اس کے گھر سے نکل کر چلی گئی۔ جمح الرجل۔ وہ آدمی خود رائے ہوگیا۔ وہ اپنی قوت کے ساتھ سرپٹ دوڑا۔ وھم یجمحون۔ وہ اپنی تمام قوت کے ساتھ سرپٹ (اس طرف) دوڑیں گے۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر انکو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہوجائیں۔

(9:58) یلمزک۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ طعن کرتا ہے۔ وہ عیب لگاتا ہے ۔ تجھ پر (باب ضرب) لمز۔ مصدر لمزۃ۔ عیب چین۔ پیٹھ پیچے برائی کرنے والا۔ صیغہ مبالغہ۔ لماز کی بھی یہی معنی ہیں قرآن مجید میں ہے۔ ویل لکل ھمزۃ اور لمزۃ دونوں ہم معنی ہیں۔ فی الصدقت۔ صدقات کی تقسیم کے بارے میں۔ اعطوا۔ اعطی یعطی اعطاء سے ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ ان کو دیا گیا۔ ان کو دیا جائے۔ یسخطون۔ سخط یسخط (سمع) سخط سے مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اسکے رسول ﷺ نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر ﷺ (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیدینگے (اور) ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو انکے حق میں بہتر ہوتا)

(9:59) ولوانھم رضوا ما اتہم اللہ ورسولہ۔ جواب لو محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ لکان خیرا لہم۔ راغبون۔ راغب کی جمع رغبت کرنے والے۔ رغب فیہ ورغب الیہ کے معنی ہیں کسی چیز پر رغبت اور حرص کرنا۔ اور اگر عن کے ساتھ آئے تو بےرغبتی کرنا اور انحراف کرنا کے معنی میں ہوتا ہے۔ مثلاً ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم (2:130) اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے انحراف کرے۔ سیؤتینا اللہ ورسولہ۔ اللہ اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائے گا (اور اس کا رسول بھی)
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے۔ اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے) میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(9:60) والعاملین علیہا۔ یعنی صدقہ اور زکوٰۃ کا مال و صول کرنے والا عملہ۔ اہل کار ھا ضمیر کا مرجع الصدقت ہے۔ والمؤلفۃ قلوبھم جن کی تالیف قلوب مقصود ہو۔ الف یالف (ضرب ہم آہنگی کے ساتھ جمع ہونا۔ محاورہ ہے الفت بینھم۔ میں نے ان میں ہم آہنگی پیدا کردی۔ اسی سے الفت (محبت) ہے۔ اسی سے مؤلف ہے جو مختلف اجزاء کو یک جا جمع کردے۔ یہاں المؤلفۃ قلوبھم سے مراد ایسے اشخاص ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت و محبت و رغبت پیدا کرنا مقصود ہو۔ اس کی تین صورتیں تھیں :۔ (1) کفار کے رئیسوں کو اس غرض سے دینا کہ وہ خود بھی غریب مسلمانوں کو اذیت نہ دیں اور دوسروں کو بھی اذیت دینے سے روکیں۔ (2) کفار کو اسلام کی رغبت دلانے کے لئے دینا۔ (3) نومسلموں کی ان کی خاطر داری کے لئے اعانت کرنا۔ المؤلفۃ اسم مفعل واحد مؤنث تالیف (تفعیل) مصدر۔ ملائے گئے۔ جوڑے گئے۔ المؤلفۃ قلوبھم۔ وہ جن کے دل جوڑے گئے۔ الرقاب۔ گردنیں رقبۃ کی جمع ۔ رقبۃ بمعنی گردن۔ جان۔ غلام ۔ رقبہ اصل میں گردن کا نام ہے پھر حملہ بدن انسانی کے لئے اس کا استعمال ہونے لگا۔ اور عرف میں یہ غلاموں کا نام پڑگیا۔ جس طرح کہ رأس (سر) اور ظہر (پشت) کا استعمال سواریوں کے لئے کیا جانے لگا ۔ فی الرقاب۔ ای فی فک الرقاب۔ غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے۔ الغارمین۔ غارم۔ کی جمع ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قرضدار۔ غارم کا مادہ۔ غرم ہے جس کا معنی قرض۔ تاوان۔ اور ہر وہ چیز جس کا ادا کرنا لازم ہو۔ غریم۔ قرضدار اور قرض خواہ دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ ابن السبیل۔ مسافر۔ فریضۃ من اللہ۔ یہ سب مدات زکوۃ کے خرچ کے لئے اللہ کی طرف سے فرض کی گئی ہیں۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لئے۔ اور خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں انکے لئے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم (تیار) ہے۔

(9:61) یؤذون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایذاء (افعال) مصدر۔ ایذا دیتے ہیں دکھ دیتے ہیں۔ اذن۔ اذن۔ کان۔ مجازا اس شخص کو کہتے ہیں جو کان لگا کر سنے اور سن کر مانے کانوں کو کچا۔ ھواذن۔ مبالغہ کا مفہوم پیدا کرنے کے لئے تمام وجود کو جسم کا ایک حصہ کا نام دیدیا گیا ہے۔ گویا کہ وہ اتنا سنتا ہے کہ صرف کان ہی کان ہے۔ جیسے جاسوس کے لئے عین کا لفظ استعمال کرتے ہیں انگریزی میں محاورہ ہے۔ یعنی وہ اس قدر انہماک سے سن رہا تھا گویا اس کے جسم کا ایک ایک حصہ کان کا کام دے رہا ہے اذن خیر لکم۔ اس کی تقدیر یوں بھی ہوسکتی ہے اذن ذی خیر لکم تمہارے ساتھ بھلائی کرنے والے کا کان۔ یا اس کا مطلب یوں بھی ہوسکتا ہے ھو اذن فی الخیر ولیس باذن فی غیر ذلک۔ وہ صرف تمہاری بھلائی کے لئے سنتا ہے کسی اور غررض کے لئے نہیں سنتا۔ یا اس کا یہ مطلب ہے۔ اس کا تمہاری بات سن لینا اور تم سے اعراض کرنا تمہارے لئے ہی اچھا ہے۔ یعنی تمہاری باتوں کو سن لیتا ہے اور پن چھن نہیں کرتا ورنہ تمہاری منافقت آشکارا ہوجائے۔ یؤمن باللہ۔ یعنی (صرف) اللہ کی باتوں پر یقین و ایمان رکھتا ہے۔ یا یؤمن للمؤمنین مومنوں کی باتوں پر اعتبار کرتا ہے (تمہاری باتیں تو محض سن ہی لیتا ہے یہ مت خیال کرو کہ وہ ان کو سچی بھی سمجھتا ہے)
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مومنو ! ) یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اسکے پیغمبر ﷺ خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

(9:62) لیرضوکم۔ یرضوا۔ ارضی یرضی ارضاء (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب۔ اصل میں یرضیون تھا۔ ی پر ضمہ ثقیل ہونے کی بنا پر ماقبل کو دیا۔ پھر ی اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ نون اعرابی بوجہ عمل لام گرگیا یرضوا رہ گیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تاکہ تمہیں وہ راضی کرلیں۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ۔ یرضوہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب لائی گئی ہے۔ حالانکہ اس کے مرجع دو ہیں اللہ اور اس کا رسول۔ اور قاعدہ کے مطابق ضمیر تثنیہ کی ہونی چاہیے تھی۔ واحد کی ضمیر اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی رضا ایک ہی ہے۔ یا کلام تقدیر یوں ہے واللہ احق ان یرضوہ ورسولہ کذلک۔ یعنی اللہ زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے راضی کریں اور اسی طرح اس کا رسول بھی زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے راضی کریں۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا ؟ یہ بڑی رسوائی ہے۔

(9:63) یحادد۔ مضارع واحد مذکر غائب اصل میں یحادد تھا۔ بوجہ عمل من مجزوم ہوا۔ اور وصل کی وجہ سے مکسور کردیا گیا۔ محاددۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ مخالفت کرتا ہے حد۔ ہر چیز کی انتہاء حد فاصل ۔ تیزی ۔ بہادری ۔ کبھی حد بمعنی گناہ۔ اور سزائے گناہ کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے حدیث میں آیا ہے انی اصبت حداً فاقمہ علی میں نے ایک حد کو پالیا ہے تو اب وہ حد مجھ پر قائم کیجئے۔ یعنی مجھ سے گناہ ہوگیا ہے اس کی سزا دیدیجئے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔

(9:64) یحذر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ حذر مصدر (باب سمع) وہ ڈرتا ہے۔ آیہ ہذا میں جمع مذکر غائب کے لئے آیا ہے۔ وہ ڈرتے ہیں۔ تنبئہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب اس کا فاعل سورة ہے وہ ان کو آگاہ کردے وہ ان کو مطلع کر دے۔ بنی ینبی تبنیہ (باب تفعیل) سے۔ نبأ مادہ۔ علیہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم۔ تنبئہم میں ضمیر ہم کا مرجع المؤمنین محذوف ہے اور فی قلوبھم میں ضمیر ھم المنفقین کے لئے ہے۔ یعنی منافق لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں مؤمنین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی سورة نازل نہ ہوجائے کہ ان کے دل کی حالت (منافقت) مومنین پر ظاہر ہوجائے۔ یا ان ہر سہ ضمیر کا مرجع منافقین ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ منافق خوف کھاتے ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے مافی الضمیر کو ظاہر کر دے۔ (اس صورت میں علی بمعنی فی ہوگا۔ ان کے بارے میں) ۔ استھزؤا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ استھزاء (استفعال) سے امر کا صیغہ تہدید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی تم ہنسی اڑاؤ جیسا تم چاہتے ہو۔ جو چاپو کرلو۔ (آخر کار) ان اللہ مخرج ما تحذرون۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ نکال باہر لائے گا ہی۔ (یعنی تمہاری منافقت کو ظاہر کر دے گا) ۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

(9:65) نحوض۔ مضارع جمع متکلم خوض مصدر۔ (باب نصر) ہم تو شغلا کہہ رہے تھے۔ خوض کے اصل معنی ہیں گھسنا۔ قرآن میں اس کا استعمال قابل ذم کام کو مشغلہ بنانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے ہے غور وخوض۔ یعنی کسی معاملہ کی تہ تک پہنچنے اور اس کے اندر گھس کر حقیقت معلوم کرنا۔ نلعب۔ مضارع جمع متکلم لعب مصدر۔ (باب سمع) ہم خوش طبعی اور دل لگی کر رہے تھے۔ کنتم تستھزؤن۔ تم ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر ۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

(9:66) لاتعتذروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اعتذار (افتعال) مصدر۔ تم بہانے مت بناؤ۔ تم عذر نہ کرو۔ طائفۃ۔ یہاں طائفہ سے ہر دو جگہ گروہ مراد ہوسکتا ہے۔ یعنی تم میں سے ایک گروہ کو ہم معاف بھی کردیں ۔ تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے۔ اس صورت میں پہلے گروہ سے مراد طبقہ لیا جاسکتا ہے جو اپنے قول کی اہمیت اور گہرائی کو سمجھے بغیر کم فہم عقل انسانوں کی طرح جو ہر بات کو سطحی طور پر ہی لیتے ہیں اور سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اگر ایسا گروہ استہزاء کا مرتکب ہو تو توبہ کرنے پر ایسے گروہ کو معاف کیا جاسکتا ہے لیکن جو جان بوجھ کر اور اپنے قول کے نتائج سے باخبر ہوتے ہوئے بھی ایسا کرتے ہیں اور پھر توبہ بھی نہیں کرتے تو ایسے گروہ کو تو ہرگز معاف نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ محض مسخرے ہی نہیں بلکہ وہ تو صحیح معنوں میں مجرم ہیں۔ اور اگر پہلے لفظ طائفہ (لفظ جمع) سے مراد شخص واحد لیا جائے جیسا کہ اہل عرب بعض دفعہ ایسا کرلیتے ہیں تو اس طائفہ سے مراد مخاشن بن حمیر الاشجعی ہے جو بلا سمجھے کافروں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا میں شامل ہوجاتا تھا ۔ اگرچہ وہ ان کے دھڑے میں سے تھا لیکن بعض باتوں میں وہ ان کے ساتھ شامل نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا مقابلۃً اس کا گناہ خفیف تھا۔ اس نے توبہ کرلی خداوند تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرکے اسے معاف فرما دیا۔ وہ حقیقی معنوں میں اسلام لے آیا اور جنگ یمامہ میں شہید ہوا۔ مجرمین۔ مجرم۔ اسم فاعل بمعنی اسم صفت استعمال ہوا ہے۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں۔

(9:67) بعضہم من بعض۔ ای متشابھۃ فی النفاق کا بعاض الشیٔ الواحد۔ یعنی نفاق میں ایک دوسرے کے اس طرح مشابہ ہیں گویا ایک ہیشے کے حصے ہیں گویا ایک ہی کل کے پرزے ہیں۔ یقبضون ایدیہم۔ اپنے ہاتھوں کو بھینچ رکھتے ہیں۔ یعنی صدقات اور خرچ فی سبیل اللہ میں بخیلی سے کام لیتے ہیں۔ نسوا اللہ۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ یعنی اس کے ذکر سے غفلت برتی اور اس کے احکام پر عمل نہ کیا۔ فنسیہم۔ پس اس نے ان کو بھلا دیا۔ یعنی اپنی رحمت اور فضل و کرم سے محروم کردیا۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی انکے لائق ہے اور خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

(9:68) ہی حسبھم۔ ان کے لئے یہی کافی ہوگا۔ یعنی عذاب اتنا سخت اور عظیم ہوگا کہ اس سے زیادہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ عذاب مقیم۔ قائم رہنے والا عذاب۔ یعنی دائمی عذاب۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

(9:69) کالذین من قبلکم۔ میں ک محل رفع میں ہے بمعنی تم بھی اپنے سے پہلے آدمیوں کی طرح ہو۔ یا ک محل نصب میں ہے بمعنی تم نے بھی وہی کام کیا جو تم سے پہلوں نے کیا تھا۔ ای انتم کالذین من قبلکم۔ تم بھی اپنے سے پہلوں کی طرح ہو۔ کانوا اشد منکم۔ اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ کانوا کے عمل سے منسوب ہے (اسی وجہ سے اکثر منصوب ہے) تم سے زیادہ طاقے ور تھے اور امل و اولاد کی کثرت میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔ فاستمتعوا۔ انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ استمتاع (استفعال) سے۔ مال و متاع سے فائدہ اٹھانا۔ کام میں لانا۔ برتنا۔ متع مادہ خلاقہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا حصہ۔ فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بخلاقہم۔ تم نے بھی اپنے (دنیاوی) حصہ کا ویسے ہی فائدہ اور لطف اٹھایا۔ جیسا تم سے پہلوں نے اپنے (دنیاوی) حصہ سے فائدہ اور لطف اٹھایا تھا۔ خضتم۔ تم نے بحث و تمحیص۔ خاص یخوض (نصر) خوض سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ خوض کے معنی ہیں فضول بحث۔ بیہودہ گوئی۔ باتیں بنانا۔ اس کے اصل معنی پانی میں گھسنے کے ہیں بطور استعارہ سب کاموں میں گھسنے کیلئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

(9:70) نبأ۔ خبر۔ اطلاع۔ ثمود۔ بوجہ معرفہ و عجر غیرمنصرف ہے اور اسی طرح ابراہیم بھی غیر منصرف ہے۔ اصحب مدین۔ اہل مدین۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ والمر تفکت۔ اسم فاعل جمع مؤنث مجرور المؤتفکۃ واحد ایتفاک (افتعال) مصدر افک مادہ۔ الٹی ہوئی۔ منقلب۔ مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں جو بحیرہ مردار کے ساحل پر آباد تھیں۔ اور جن کے تخت گاہ سندوم شہر یا سدوم تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا حکم نہ ماننے اور ظلم و لواطت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اللہ نے ان کو زمین کا تختہ الٹ دیا اور اوپر سے کنکریلے پتھروں کی بارش کردی۔ اتتھم رسلہم بالبینت کے بعد فکذبوھم فاہلکوا محذوف ہے۔ ان سب کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کی پس ہلاک ہوگئے۔ یا ہلاک کر دئیے گئے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

(9:71) سیرحمہم اللہ میں س تاکید اور مبالغہ کے لئے آیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ان پر اپنی رحمت فرمائے گا۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

(9:72) جنت عدن۔ عدن مصدر اس کا فعل ابواب نصر۔ ضرب سے آتا ہے۔ اس کے معنی ہیں رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ جنت عدن کے معنی ہوئے رہنے بسنے کے باغات یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں اور بعض صفت ۔ جو لوگ علم کہتے ہیں وہ اس کو جنت میں ایک خاص مقام کا نام دیتے ہیں اور اس آیہ شریفہ کو پیش کرتے ہیں۔ جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (19:61) ہمیشگی کی جنتیں جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے درپردہ کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور جو لوگ عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور ثبات کے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے عدن بالمکان اس نے اس جگہ قیام کیا۔ اور عدن سے مراد اقامۃ علیء وجہ الخلود۔ یعنی دائمی طور پر رہنا۔ اسی وجہ سے تمام جنتیں جنت عدن ہیں۔ علامہ قرطبی کے نزدیک عدن جنت کے ایک اعلیٰ درجہ کا نام ہے جو وسط میں ہے اور دوسرے جنت اس کے اردگرد ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنتیں سات ہیں۔ دارالخلد۔ دار الجلال۔ دار السلام۔ جنت عدن۔ جنت الماوی۔ جنت نعیم۔ جنت الفردوس۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :۔ عدن دار اللہ لم تراھا عین ولم تخطر علی تلب بشر لایسکنھا غیر ثلثۃ النبیون۔ والصدیقون والشھدائ۔ یعنی عدن اللہ کا وہ گھر ہے جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور کسی انسان کے دل نے تصور نہیں کیا۔ اس میں صرف تین قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ نبی، صدیق اور شہید۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : طوبی لمن دخلہا۔ خوش بخت ہے وہ جو اس میں داخل ہوا۔ رضوان۔ خوشنودی۔ رضا۔ مرضی۔ رضامندی۔ رضی یرضی کا مصدر ہے (باب سمع) بہت بڑی رضا مندی۔ اور نہایت خوشنودی کو رضوان کہتے ہیں۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اس لئے قرآن عظیم میں رضوان کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے رضا الٰہی کے لئے مخصوص ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

(9:73) جاھد۔ تو جہاد کر۔ تو لڑائی کر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) سے۔ محاورہ ہاتھ اور زبان دونوں سے ہوتا ہے (اس آیۃ سے لے کر وہ تقریر شروع ہوتی ہے جو غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھی) ۔ اغلظ علیہم۔ ان پر سختی کر۔ غلظۃ سے (باب نصر، کرم) بمعنی گاڑھا پن ۔ موٹاپا۔ رقۃ کی ضد ہے۔ ولیجدوا فیکم غلظۃ (8:123) چاہیے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں۔ سختی بمعنی سخت مزاجی۔ اور فاستغلظ فاستوی علی سوقہ (48:29) پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پا سکے اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کونسا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر ﷺ نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولتمند کردیا ہے ؟ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دیگا۔ اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔

(9:74) ما قالوا میں ما نافیہ ہے انہوں نے نہیں کہا۔ ھموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ہم مصدر۔ اباب نصر۔ انہوں نے ارادہ کرلیا۔ انہوں نے قصد کیا۔ لم ینالوا۔ نفی جحد بلم۔ ینالوا نیل سے۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ باب سمع۔ انہوں نے نہ پایا۔ وہ نا پاسکے۔ ھموا بمالم ینالوا۔ انہوں نے ایسی باتوں کا ارادہ کیا جسے وہ ھاصل نہ کرسکے۔ (اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکے) آیہ ہذا میں وہ کیا بات تھی جو انہوں نے کہی۔ لیکن پھر قسم کھا کھا کر کہا کہ انہوں نے نہیں کہی یا وہ کونسا ارادہ تھا جو انہوں نے کیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ اس میں صریحاً معلومات میسر نہیں۔ مگر منافقوں کے متعلق ایک نہیں متعدد ایسی باتیں منسوب تھیں جو کہ وہ مسلمانوں کی عدم موجودگی میں اسلام کو گزند پہنچانے کے لئے یا استہزاء وہ کئی بےسروپا باتیں بکتے تھے لیکن جب ان کو ان باتوں کی تصدیق کے لئے آمنے سامنے لایا جاتا تو نہ صرف انکار کردیتے بلکہ قسمیں کھا کھا کر اپنی برأت ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ اسی طرح اسلام کو گزند پہنچانے کی خاطر وہ کئی منصوبے بناتے لیکن جب ان میں کامیابی نہ ہوتی اور ان کے مذموم عزائم کا انکشاف ہوجاتا تو قسمیں کھا کر کہتے کہ انہوں نے ہرگز ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامہم وھموا بما لم ینالوا۔ حالانکہ یقیناً انہوں نے کفر کا کلمہ بولا تھا اور اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا تھا اور انہوں نے ایسا ارادہ بھی کیا جسے وہ حاصل نہ کرسکے ۔ مانقموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے برا نہ مانا۔ انہوں نے قابل عیب نہ سمجھا۔ نقمت الشیٔ ونقمتہ۔ کسی چیز کو برا سمجھنا۔ یہ کبھی زبان کے ساتھ عیب لگانے اور کبھی عقوبت (سزا دینے) پر بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ (85:8) ان کو مؤمنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ وآیہ ہذا : وما نقموا الا ان اغناہم اللہ ورسولہ من فضلہ (اور انہوں نے مسلمانوں میں عیب ہی کونسا دیکھا سوائے اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے ان کو دولت مند کردیا) ۔ نیزآیا ہے ۔ ہل تنقمون منا الا ان امنا باللہ (5:59) تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو۔ سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور ۔۔ اسی نقمۃ سے بمعنی عذاب و انتقام لیا گیا ہے۔ من فضلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو (9:62) یتوبوا۔ اصل میں یتربون تھا ان حرف شرط کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ یک اصل میں یکون تھا۔ ما قبل جملہ شرط کی جزاء کی وجہ سے مجزوم ہوا۔ اور نون بوجہ اجتماع ساکنین کے گرگیا۔ اور واؤ حرف علت بوجہ حالت جزم گرگئی۔ فان یتوبوا۔ اگر وہ توبہ کرلیں ۔ اپنے کفر و نفاق سے باز آجائیں۔ وان یتولوا۔ اور اگر وہ ایمان اور توبہ سے روگردانی کریں ۔ اور کفر و نفاق پر مصر رہیں۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔

(9:75) عھد اللہ۔ اس نے اللہ سے وعدہ کیا۔ لنصدقن۔ مضارع جمع متکلم۔ با لام تاکید و نون ثقیلہ ۔ یا لام تعلیل کا ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لئے۔ تو ہم ضرور ہی خیرات دیدیں گے۔ صدقہ ادا کردیں گے۔ اصل میں نتصدقن تھا۔ ت کو صاد میں مدغم کیا گیا۔
Ayah 9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے

(9:76) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ رخ گردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ اگر اعراض کے بعد عن آئے تو رخ پھیر لینے اور منہ موڑنے کے۔ اور اجتناب کرنے کے معنی ہوتے ہیں۔ فاعرض عنہم وعظہم (4:63) تم ان سے اعراض برتو۔ اور نصیحت کرتے رہو۔ یا ومن اعرض عن ذکری (20:124) اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا۔ اور بغیر عن بھی کثرت استعمال کی وجہ سے منہ موڑنے کے معنی میں آتا ہے ۔ مثلاً فاعرضوا فارسلنا علیہم (34:16) تو انہوں نے شکر گزاری سے منہ موڑ لیا پس ہم نے چھوڑ دیا ان پر ۔۔ اور اگر اعراض کے بعد علی آئے تو سامنے رکھنا۔ پیش کرنا کے معنی دیتا ہے۔ مثلاً ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر اس نے ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ اور اگر اعرض کے بعد لام آئے تو سامنے آنے کے معنی ہوتے ہیں مثلاً اعرض لی وہ میرے سامنے آیا۔
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

(9:77) فاعقبھم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اعقب یعقب اعقاب (افعال) سے جس کے معنی ہیں اثر چھوڑنا۔ وارث بنانا۔ اعقبھم۔ اس نے ان کو وارث بنادیا۔ اس نے ان میں یہ اثر چھوڑا۔ فاعقبھم میں ضمیر فاعل البخل کے لئے ہے ۔ یعنی ان کے بخل نے ان میں ہمیشہ کے لئے نفاق پیدا کردیا۔ اور وہ منافق ہوگئے۔ یا ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل (بخل) کی عاقبت نفاق کی شکل میں ان کے دلوں میں راسخ کردی اور وہ ہمیشہ کے لئے منافق بن گئے۔ یلقونہ۔ وہ اس سے ملاقات کریں گے۔ وہ اس کی پیشی میں جائیں گے۔ الی یوم یلقونہ۔ یعنی قیامت کے دن تک ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون ۔ یعنی بخل نے یا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے نفاق کو کیوں بھر دیا اس کی یہ دو وجوہ بیان ہوئی ہیں۔ (1) انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی۔ (2) کہ وہ اس دوران کذب بیانی کرتے رہے۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے ؟

(9:78) سرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا بھید۔ ان کا راز۔ نجوہم۔ ان کی سرگوشیاں۔ اصل میں نجائ کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں۔ اور انجیتہ و نجیتہ کے معنی (الگ کردینے) نجات دینے کے ہیں۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے : فانجینا الذین امنوا (27:53) اور جو لوگ ایمان لائے۔ ہم نے ان کو نجات دی۔ النجوۃ کے معنی بلند جگہ کے ہیں جو بلندی کی وجہ سے اپنے ماحول سے الگ معلوم ہو۔ ناجیتہ میں نے اس سے سرگوشی میں کہا۔ یعنی اپنے بھید کو دوسروں سے الگ رکھنے (چھپانے کے لئے) اور اسے افشاء ہونے سے بچانے کے لئے۔ قرآن میں آیا ہے :۔ یایھا الذین امنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول (58:9) اے مومنو ! جب تم سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرو۔ یا پھر اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوکم صدقۃ (58:12) جب تم رسول اللہ ﷺ کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے مساکین کو کچھ دیا کرو۔ نجوی وہ سرگوشی جو کہ برائی پر مبنی ہو اور اس کو مشورہ سے طے کیا جاوے۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور (بیچارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور اس تھوڑی سی کمائی میں سے بھی خرچ کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے اور ہنستے ہیں خدا ان پر ہنستا ہے۔ اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

(9:79) یلمزون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ طعن کرتے ہیں۔ وہ عیب نکالتے ہیں (نیز ملاحظہ ہو 9:58) المطوعین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ المطوع واحد۔ تطوع (تفعل) مصدر۔ اصل میں المتطوعین تھا۔ تاء کو ط میں مدغم کیا۔ تطوع کا صل معنی ہے اطاعت میں بناوٹ کرنا۔ اور عرف شرع میں ایسی طاعت کو کہتے ہیں جو فرض نہ ہو بطور نفل اپنی طرف سے کی جائے لیکن تطوع اپنے اندر استطاعت کا مفہوم رکھتا ہے اس لئے المطوعین کا ترجمہ ہوا۔ خیرات کرنے والے صاحب استطاعت الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقت۔ جو لوگ مومنوں سے ان لوگوں کو جو صاحب استطاعت ہیں اور خوشی خوشی خیرات کرتے ہیں ریاکاری کا الزام لگاتے ہیں۔ والذین لا یجدون الا جھدہم۔ کا عطف المطوعین پر ہے یعنی یہ لوگ ان کی بھی عیب چینی کرتے ہیں جن کے پاس سوائے اپنی محنت و مشقت کے اور کچھ بھی (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے) نہیں ہے۔ فیسخرون منہم ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ٹھٹھہ کرتے ہیں۔ ان پر ہنستے ہیں۔ سخر یسخر (سمع) بہ ومنہ۔ ٹھٹھا کرنا۔ اسی سے ہے۔ المسخرۃ۔ وہ جس سے ٹھٹھا کیا جائے۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر (ان کے لئے) ستر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے خدا اور اسکے رسول ﷺ سے کفر کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(9:80) استغفرلہم اولا تستغفرلہم۔ استغفر فعل امر بمعنی خبر ہے تقدیر کلام یوں ہے استغفرت لہم یا محمد اولم تستغفرلہم فلن یغفر اللہ لہم (اے محمد ﷺ ) آپ ان کے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشے گا۔ سبعاین مرۃ۔ ستر بار۔ ستر کا عدد مقررہ حد یا غائیت کے لئے نہیں بلکہ کثرت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔