9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsانوار البیان

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا ﷺ (کی مرضی) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ (خدا کی راہ میں) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

(9:81) المخلفون۔ وہ جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے۔ اسم مفعول جمع ہے اس کا فاعل بیان نہیں کیا گیا ۔ پیچھے چھوڑ دینے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے یا شیطان یا ان کی سستی یا مؤمنین ہوسکتے ہیں۔ بمقعدہم۔ مقعد اسم ظرف مکان۔ مفرد۔ مقاعد جمع ۔ قعدۃ۔ قعود مصدر۔ باب نصر بیٹھنے کی جگہ۔ یعنی اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے پر (خوش ہیں) ۔ خلف۔ اس کے معنی پیچھے۔ مخالفت دونوں ہوسکتے ہیں۔ خلاف کے معنی ” الٹا “ بھی ہوسکتے ہیں ۔ قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے اوتقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف (5:33) یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹی طرف سے۔ یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں۔ لا تنفروا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم مت نکلو۔ تم مت کوچ کرو۔ نفار اور نفور سے۔ نفرالی الحرب۔ وہ لڑائی کے لئے نکلا۔ الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما (9:39) اگر نہ نکلو گے تو خدا تم کو دردناک عذاب دیگا۔ نفور۔ بمعنی نفرت اور بدکنا بھی ہے جیسے مازادہم الا نفورا (35:42) تو اس سے ان کی نفرت ہی بڑھی۔ یا کانھم حمر مستنفرۃ (74:50) گویا وہ گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں۔ الحر۔ گرمی۔ یعنی اتنی شدید گرمی میں گھر سے نہ نکلو۔ یفقھون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سمجھ جاتے ۔ جان لیتے۔ فقہ مصدر (باب سمع) سمجھنا۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا ساہنس لیں اور (آخرت میں) انکو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔

(9:82) فلیضحکوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر غائب ۔ انہیں چاہیے کہ ہنسیں۔ ولیبکوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب۔ انہیں چاہیے کہ روئیں۔ دونوں فعل امر بمعنی خبر آئے ہیں یعنی سیضحکون قلیلا ویبکون کثیرا۔ وہ تھوڑا ہنسیں گے۔ (اس چند روزہ زندگی میں) اور زیادہ روئیں گے (ابدی زندگی آخرت میں) امر کا صیغہ اس کے حتمی اور واجبی ہونے کے بیان کے لئے آیا ہے۔ یعنی یہ ان کا مال حتمی ہے ضرور ہوکر رہے گا۔ بما کانوا یکسبون۔ ان کے رویے اور ہنسنے کا سبب بیان کیا ہے۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لیجائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے۔ اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہو کر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

رجعک اللہ۔ اللہ تجھے واپس لیجائے۔ امام رازی کے قول کے مطابق الرجع مصیر الشی الی المکان الذی کان فیہ الرجع کسی شے کا اس جگہ کی طرف لوٹتا ہے جہاں وہ پہلے تھی۔ اس صورت میں جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر خدا تمہیں واپس مدینہ لیجائے۔ رجع متعدی ہے اور رجوع لازم ہے گردان ہر دو کی باب ضرب سے آتی ہے۔ الی طائفۃ منھم۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ مخلفون ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ طائفۃ۔ گروہ۔ جماعت۔ ان مخلفون کے دو گروہ بنا دئیے۔ ایک وہ جس کا ذکر فاستاذنوک سے شروع ہونے والا ہے اور دوسرا جس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مؤخر الذکر گروہ میں وہ شامل ہیں جنہوں نے معقول و جو ہات کی بنا پر جہاد میں شرکت نہ کی لیکن پھر بھی جہاد میں اپنی عدم شمولیت پر نادم ہوئے اور توبہ کی جو بارگاہِ الٰہی میں قبول کرلی گئی۔ فان رجعک اللہ الی طائفۃ منھم۔ ای فان درک اللہ الی المدینۃ وفیہا طائفۃ من المتخلفین (بیضاوی) اللہ تعالیٰ اگر تجھے مدینہ واپس لے آئے اور وہاں تو پیچھے رہنے والوں کے ایک گروہ سے ملے۔ فاستاذنوک۔ پھر وہ اجازت طلب کریں تجھ سے۔ للخروج۔ جہاد پر نکلنے کے لئے۔ خرج یخرج (نصر) نکلنا۔ لن تخرجوا معی ابدا۔ تم میرے ساتھ (جہاد کے لئے) ہرگز نہ نکلو گے۔ خالفین۔ جمع خالف کی۔ خالف کا ایک معنی تو ہے پیچھے رہ جانے والا۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ خلف بمعنی فسد ہے جس طرح کہتے ہیں خلف اللبن دودھ خراب ہوگیا۔ یا اہل عرب کہتے ہیں کہ فلان خالفۃ اہل بیتہ۔ فلاں شخص اپنے سارے کنبے سے زیادہ فسادی ہے۔ تو آیۃ کا مطلب یہ ہوگا۔ فاقعدوا مع الفاسدین۔ یعنی فساد کرنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ لیکن اکثریت نے ” پیچھے رہ جانے والے “ ہی ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان میں سے کوئی مر جاّئے تو کبھی اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (ہی مرے) ۔

(9:84) منہم۔ احد کی صفت ہے۔ مات۔ یہ احد کی دوسری صفت ہے۔ مات فعل ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے یعنی ان مخلفین و خالفین میں سے آئندہ اگر کوئی مرجائے (تو تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنا) ۔ ابدا ظرف متعلق نہی۔ کبھی بھی۔ یعنی یہ نہی ہمیشہ کے لئے نافذ العمل ہوگی۔ ولاتقم علی قبرہ۔ ای ولا تقم علی قبرہ ابدا انھم کفروا باللہ ورسولہ۔ جملہ مستانفہ (نیا جملہ) ہے۔ یعنی یہ لوگ جن کی طرف منہم میں اشارہ کیا گیا ہے ساری عمر اللہ اور اللہ کے رسول کے منکر رہے اور اسی حالت فسق وکفر میں مرگئے۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

(9:85) یعذبھم بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال واولاد کے لئے ہے۔ تزھق وہ نکلے یا نکالے گئے۔ (باب فتح) زھوق سے جس کے معنی غم سے جان نکلنے اور کسی شے کے مٹ جانے کے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 9:55 ۔ تذھق انفسہم۔ ان کے دم نکلیں۔ ان کی جانیں نکلیں۔ وہم کفرون۔ میں واؤ حالیہ ہے درآنحالیکہ۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

(9:86) اولوا الطول۔ صاحب دولت و ثروت۔ طول۔ مال ۔ تونگری۔ دولت ۔ انعام ۔ وسعت۔ مقدرت۔ قدرت۔ طال یطول (باب نصر) کا مصدر۔ ذرنا۔ ذر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ (باب سمع، فتح) سے وذر مصدر اس سے ماضی نہیں آتی۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ تو ہمیں چھوڑ دے۔ نکن۔ مضرع جمع متکلم فعل ناقص۔ اصل میں نکون تھا۔ القعدین۔ جہاد میں شریک نہ ہونے والے۔ اور گھروں پر رہ جانے والے۔ بیمار۔ عورتیں اور بچے۔ ایسے پیچھے رہ جانے والے جن کے پاس فی الواقع کوئی معقول اور حقیقی عذر موجود تھا۔ بیماری وغیرہ۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

(9:87) لا یفقھون ۔ مضارع منفی ۔ جمع مذکر غائب۔ فقہ سے وہ سمجھ نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

(9:88) لکن الرسول۔ لکن کی دو صورتیں ہیں۔ (1) لکن (مشدد) سے مخفف بنایا ہوا ہے اس صورت میں یہ حرف ابتداء ہے اور غیر عامل ہوتا ہے اسی لئے اسم پر بھی داخل ہوتا ہے جیسے آیۃ ہذا میں لکن الرسول والذین امنوا معہ اور فعل پر بھی جیسے ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما (3:67) اس صورت میں یہ استدراک کا فائدہ دیتا ہے۔ (2) حرف عاطفہ کا کام بھی دیتا ہے جبکہ اس کے بعد کوئی مفرد آئے مثلاً لکن اللہ یشھد بما انزل الیک (4:166) لیکن یہ بھی استدراک کے لئے آیا ہے۔ (استدراک کا مطلب یہ ہے کہ ماقبل کے حکم کے خلاف مابعد کی طرف کسی حکم کی نسبت کی جائے اسی لئے ضروری ہے کہ لکن (یا اسی طور لکن) سے پہلے کوئی ایسا حکم ہو جو پیچھے آنے والے حکم کی نقیض یا ضد ہو۔ جیسے ما کان ابراہیم یہودیا ۔۔ حنیفا مسلمان (مذکورہ بالا) ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا نہ عیسائی وہ تو تمام علائق سے کٹا ہوا ایک پکا مسلم تھا۔ الخیرات۔ بھلائیاں ۔ خیر کی جمع ۔ منافع الدارین۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(9:89) اعد۔ اعداد سے ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ اس نے تیار کیا۔ تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

(9:90) المعذرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ تعذیر (تفعیل) مصدر۔ جھوٹا عذر پیش کرنے والے۔ معذر۔ وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی حقیقی عذر نہ ہو۔ اور پھر بھی وہ عذر پیش کرے۔ بعض علماء کے نزدیک معذرون دراصل معذرون (باب افتعال) سے ت کو ذال سے بدلا اور ذال کو ذال میں مدغم کیا اور معذرون ہوگیا۔ اس باب سے اس کے معنی ہوں گے۔ صحیح عذر والے۔ ابن کثیر نے بھی یہی مطلب لیا ہے لکھتے ہیں :۔ یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہوسکتے تھے ! مدینہ کے اردگرد کے یہ لوگ آآکر اپنی کمزوری۔ ضعیفی بےطاقتی بیان کرکے اللہ کے رسول سے اجازت لینے آتے کہ اگر حضور ﷺ واقعی انہیں معذور خیال فرما دیں تو اجازت دیدیں یہ بنو غفار کے قبیلے کے لوگ تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں وجاء المعذرون ہے یعنی اہل عذر لوگ۔ یہی مطلب زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اسی جملہ کے بعد ان لوگوں کا بیان ہے جو جھوٹے تھے یہ بیٹھے رہے اور نہ آئے نہ اپنا رک جانے کا سبب پیش کیا نہ حضور ﷺ سے رک جانے کی اجازت چاہی۔ الاعراب۔ گنوار۔ بدو۔ اعراب بادہ نشین کو کہتے ہیں ۔ یہاں پر خاص کر وہ قبائل مراد ہیں جو مدینہ کے اردگرد آباد تھے۔ لیؤذن لہم۔ کہ ان کو اجازت مل جائے۔ وقعد الذین کذبوا اللہ ورسولہ۔ یہ دوسرا گروہ تھا جو گھر بیٹھے رہے۔ اور یہ بھی مناسب نہ سمجھا کہ چلو محض ظاہرداری کے لئے ہی کوئی عذر لنگ پیش کردیں۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(9:91) اذا نصحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب نصح مصدر۔ (باب فتح) جب وہ خلوص رکھیں جب وہ مخلص ہوں۔ ظاہری اور باطنی طور پر مطیع و فرمانبردار ہوں۔ ما علی المحسنین من سبیل (ایسے) نیکوکاروں پر کائی درجہ الزام نہیں۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

(9:92) اتوک۔ ماضی جمع مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ وہ تیرے پاس آئے۔ لتحملہم کہ تو ان کو سواری مہیا کرے۔ حمل سے جمع مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر۔ تفیض۔ وہ بہتی ہے وہ جاری ہے۔ فیض سے باب ضرب۔ اس کا استعمال اگر آنسو اور پانی کے لئے ہو تو اس کا معنی جاری ہونے اور بہنے کے آتے ہیں۔ الدمع۔ آنسو۔ اشک۔ دموع جمع۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

(9:93) السبیل۔ راہ۔ راستہ۔ کھلی سڑک۔ سبل جمع ۔ سبیل اللہ۔ جہاد ۔ مطلب علم، حج، یا ہر امر خیر۔ جس کا حکم باری تعالیٰ سے ملا ہو۔ لیس لک علی سبیل۔ تم مجھ سے باز پرس نہیں کرسکتے۔ یعنی تمہارے لئے مجھ پر کوئی حجت نہیں ہے۔ انما السبیل علی۔ راہ باز پرس صرف ان کے خلاف پائی جاتی ہے۔ الخوالف۔ خالف اور خالفۃ کی جمع ہے۔ خالفۃ کے معنی ہیں پیچھے رہ جانے والی عورت۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

(9:94) یعتذرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اعتذار (افتعال) مصدر۔ وہ معذرت کریں گے۔ وہ بہانے بنائیں گے۔
Ayahs 9:95–96

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

(9:95) اذا انقلبتم الیہم۔ تم ان کی طرف پھرو گے، تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ (ماضی بمعنی مضارع) لتعرضوا عنھم۔ اعرض یعرض اعراض (افعال) عن منہ موڑنا۔ منہ پھیرنا۔ اعراض کرنا۔ درگزر کرنا۔ معاف کرنا۔ یہاں بمعنی۔ تاکہ تم ان کو معاف کردو۔ ان سے درگزر کرو۔ صرف نظر کرو۔ تعرض نہ کرو ۔ اسی معنی میں ہے۔ فاعرض عنھم وعظھم (4:63) تم ان سے اعراض برتو (درگزر کرو) اور نصیحت کرتے رہو۔ منہ پھیرنے ۔ روگردانی کرنے ۔ کنارہ کشی کرنے کے معنی میں آیۃ ہذا میں ہی ہے۔ فاعرضوا عنھم۔ پس تم ان سے منہ پھیر لو۔ کنارہ کشی اختیار کرو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ واعرض عن الجاہلین (7:199) اور جاہلوں سے کنارہ کشی کرو۔ نیز ملاحظہ ہو 9:76) ۔ رجس۔ ناپاک۔ پلید۔ گندہ۔ نجس۔ ماوھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ماوی۔ اسم ظرف اور مصدر۔ اوی یؤدی ایواء (افعال) اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ اوی یاوی (ضرب) وہ بیٹھا ۔ وہ اترا۔ بصورت اسم ظرف، اس کے معنی ہیں ٹھکانہ۔ قیام کا مقام۔ پناہ گاہ۔ یہاں بطور اسم ظرف مکان استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 9:97–98

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

(9:97) الاعراب۔ بدولوگ۔ بادیہ نشین۔ اعرابی۔ نیز ملاحظہ ہو 9:9 ۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ بروزن افعل۔ زیادہ ۔ شدید۔ زیادہ سخت ۔ زیادہ طاقت ور۔ اجدر۔ زیادہ لائق ۔ زیادہ سزاوار۔ زیادہ حقدار۔ زیادہ مستحق۔ ما اجدرہ واجدر بہ۔ صیغہ تعجب۔ وہ اس کے لئے کس قدر زیبا ہے۔ جدرۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ مغرما۔ اسم مصدر۔ منصوب۔ تاوان ۔ الغرم۔ مفت کا تاوان۔ یا جرمانہ۔ دہ مالی نقصان جو انسان کو کسی قسم کی خیانت یا جرم کا ارتکاب کئے بغیر اٹھانا پڑے۔ غرم خذا غرما ومغرما۔ فلاں نے نقصان اٹھایا۔ اغرم فلان غرامۃ اس پر تاوان پڑگیا۔ قرآن مجید میں ہے : انا المغرمون (56:66) (کہ ہائے) ہم مفت تاوان میں پھنس گئے جو مصیبت یا تکلیف انسان کو پہنچتی ہے اسے غرام کہا جاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں آیا ہے : ان عذابھا کان غراما (25:65) کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔ یتخذ ما ینفق مغرما (آیۃ ۃذا) کہ جو خچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں۔ یتربص۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تربص (تفعل) مصدر۔ وہ انتظار کرتا ہے۔ وہ راہ دیکھتا ہے۔ الدوائر۔ دائرۃ کی جمع۔ مصائب ۔ گردشیں۔ (یعنی وہ یتربص بکم الدوائر اس انتظار میں ہیں کہ تم گردش ایام کے چکر میں پھنس جاؤ۔ علیہم دائرۃ السوئ۔ گردش ایام (یا مصائب و آلام) ان ہی کے نصیب میں ہوں (بددعائیہ جملہ ہے) دعائیہ جملہ پر جب علی استعمال ہو تو وہ بددعا میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(9:99) قربت۔ قربۃ کی جمع ہے۔ مرتبہ کا قرب۔ خوشنودی۔ رضا۔ یعنی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ۔ صلوات۔ صلوۃ کی جمع۔ دعائیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینے کا ذریعہ۔ الا انھا یہ اللہ کی طرف سے ان کے اعتقاد کی صحت کی تصدیق کی شہادت ہے۔ اور انھا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب۔ نفضتہم۔ (ان کا راہ خدا میں خرچ) کے لئے ہے الا انھا قربۃ لہم بیشک ان کا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ان کے لئے قرب الٰہی کا موجب ہے۔ سیدخلہم۔ میں س تحقیق اور تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(9:100) السابقون۔ آگے پہنچنے والے۔ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ سابق کی جمع۔ الاولون۔ اول کی جمع۔ السابقون الاولون من المھجرین والانصار۔ (مہاجرین و انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے ایمان و اطاعت میں سبقت اور پہل کی) سے کون حضرات مراد ہیں۔ ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) شعبی کہتے ہیں ان سے مراد مہاجرین و انصار ہیں جنہوں نے جنگ حدیبیہ میں بیعت رضوان کا شرف حاصل کیا۔ (2) حضرت ابو موسیٰ اشعری۔ سعید بن المسیب۔ حسن اور قتادہ ؓ کا قول ہے کہ : ان سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے رسول خدا ﷺ کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی ۔ (3) وہ لوگ جو جنگ بدر میں شہید ہوئے۔ اور اگر انصار کو مہاجرین سے الگ ایک طائفہ لیا جائے تو اس سے مراد وہ انصار ہوں گے جو (1) بیعت عقبہ اولیٰ اور عقبۃ الشانیہ سے مشرف ہوئے تھے۔ (2) جنہوں نے حضرت ابو ذرارہ۔ مصعب بن عمیر ؓ کی تبلیغ و تعلیم پر جب وہ مدینہ شریف آئے تھے ایمان و اسلام قبول کیا۔ بعض نے الانصار کو آراء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو السابقون پر عطف قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا (رہے وہ لوگ) جو مہاجرین میں سے سابقون اولون ہیں اور انصار۔ اور جنہوں نے احسن طریقہ سے ان کی پیروی کی۔ تو راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور وہ راضٰ ہوگئے اللہ تعالیٰ سے۔ لیکن پہلی قرأت جمہور کے نزدیک اصح ہے۔ باحسان۔ عمدگی کے ساتھ احسن طریقہ سے۔ احسان کے معنی غیر کے ساتھ بھلائی کرنے اور کسی اچھی بات کے معلوم کرنے اور نیک کام کے انجام دینے کے ہیں۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

(9:101) وممن حولکم من الاعراب منفقون۔ ای ومن من حولکم من الاعراب منفقون۔ اور ان اعراب میں سے جو تمہارے اردگرد بستے ہیں کچھ منافق ہیں ۔ ومن اہل المدینۃ۔ یہ وقف معانقہ کی صورت ہے۔ اگر علامت اول : پر وصل کیا جاوے اور علامت ثانی پر وقف کیا جائے تو اس کا عطف ممن حولکم پر ہوگا۔ اور مردوا علی النفاقصفت ہوگی منافقون کی اور تقدیر کلام یوں ہوگی ومن حولکم من الاعراب ومن اہل المدینۃ منافقون مردوا علی النفاق (اور تمہارے اردگرد یعنی مدینہ کے اردگرد بسنے والے بدوؤں میں سے اور اہل مدینہ میں سے کچھ منافق ہیں جو پکے ہوگئے ہیں نفاق میں اور اگر علامت اول پر وقف کیا جائے اور علامت ثانی پر وصل کیا جائے تو یہ جملہ مستانفہ (نیا جملہ) ہوگا۔ اور تقدیر کلام یوں ہوگی : ومن اہل المدینۃ (قوم) مردوا علی النفاق (اور اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ ہیں جو نفاق میں پکے ہوگئے ہیں) ۔ اور اب ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور تمہارے اردگرد یعنی مدینہ کے اردگرد بسنے والے ندوؤں میں کچھ منافق ہیں اور اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ ہیں جو نفاق میں پکے ہوگئے ہیں۔ مردوا۔ نافرمان و سرکش ہونا۔ مرد علی النفاق۔ نفاق پر جمے رہنا۔ الماردو المرید جنوں اور انسانوں سے اس اس شیطان کو کہا جاتا ہے جو ہر قسم کی خیر سے عاری ہوچکا ہو۔ یہ شجر امرد سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں وہ درخت جو سب پتے جھڑ جانے سے بالکل ننگا ہوگیا ہو۔ اسی طرح غلام امرد۔ وہ لڑکا جس کی داڑھی مونچھ نہ نکلی ہو اس کا منہ سبزہ سے عارہ ہو۔ الزملۃ المرداء وہ ریت کا ٹیلہ جو ہر قسم کے سبزہ سے عاری ہو۔ قرطبی (رح) نے لکھا ہے اصل المرد الملاسۃ ومنہ صرح ممرد من قواریر (27:44) یعنی المرد۔ اصل میں چکنا اور ہموار ہوتا ہے۔ جیسے شیشے جوڑ کر صاف و ہموار کیا ہوا محل (الملامۃ ہموار اور چکنا ہونا) ۔ صاحب کشاف نے مردوا علی النفاق کا مطلب تمھروا فیہ۔ لکھا ہے یعنی نفاق میں ماہر ہوگئے ہیں۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(9:102) اخرون۔ دوسرے لوگ۔ اور لوگ۔ اخر کی جمع ہے۔ یعنی منافقوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا (اور اپنے کئے پر نادم ہوئے کہ وہ کیوں جہاد کے لئے جنگ تبوک میں شامل نہ ہوئے) ۔
Ayahs 9:103–104

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔ اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے ؟ اور بیشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

(9:103) تطھرھم وتزکیہم بھا۔ مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع اخرون ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صدقۃ ہے۔ یعنی ان کے مالوں سے صدقہ وصول کیجئے کہ اس طرح آپ ان کو پاک و صاف کردیں گے۔ ہل علیہم۔ ان کے لئے دعا کیجئے۔ امرواحد مذکر حاضر۔ سکن۔ تسکین ۔ آرام۔ راحت۔ رحمت۔ برکت۔ جس سے سکون حاصل ہو۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو (سب) تم کو بتائے گا۔

(9:105) ستردون۔ تم پھیرے جاؤ گے۔ تم لوٹائے جاؤ گے۔ رد سے مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ اعملوا۔ ای اعملوا ما شئتم۔ جو جی چاہے تم کرو۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے انکو عذاب دے اور چاہے معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

(9:106) مرجون۔ (رج و۔ رج ی مادہ) رجاء کنارہ۔ جیسے رجا البئر۔ کنویں کا کنارہ۔ اس کی جمع ارجاء ہے قرآن مجید میں ہے والملک علی ارجائھا۔ (69: 17) اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے۔ رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ قرآن میں ہے مالکم لا ترجون للہ وقارا (71:127) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم نے خدا کا وقار دل سے بھلا دیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا معنی لا تخافون کیا ہے یعنی تم کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف ورجاء باہم لازم و ملزوم ہیں۔ جب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی تو ساتھ ہی اس کا ہاتھ سے چلے جانے کا اندیشہ بھی ہوگا۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔ وترجون من اللہ مالا یرجون (4:104) اور تم کو خدا سے وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں۔ مرجون۔ مرجی یعنی مرجو کی جمع ہے۔ اسم مفعول۔ امید وہم کے درمیان لٹکا ہوا معلق جو نتائج کے متعلق خوف ورجا کے درمیان معلق ہیں۔ کہ ان کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہ یعنی جن کا معاملہ بھی طے نہیں ہوا۔ اور اللہ کے حکم کے انتظار میں تاخیر میں پڑا ہوا ہے۔ واخرون مرجون لامر اللہ۔ کچھ اور لوگ ہیں کہ خڈا کے حکم کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے۔ یہ اشارہ ہے کعب بن مالک۔ مرارہ بن الربیع۔ ہلال بن امیہ کی طرف ۔ کسی شرعی عذر کے بغیر یہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے۔ حضور ﷺ کے حکم پر ان سے ہر ایک نے قطع تعلقی کرلی۔ آخر پچاس دن کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ (دیکھو آیات 114-115 ۔ سورة ہذا) ۔ اما۔ بطور حرف تفصیل آیا ہے۔ جیسے انا ھدینہ السبیل اما شاکرا واما کفورا۔ (76:2) ہم نے انسان کو راستہ دکھلا دیا اس کے بعد وہ شکر گزار بندہ بنے یا ناشکرا بن کر رہے۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

(9:107) والذین اتخذوا مسجدا۔ اس کا عطف واخرون مرجون پر ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے ومنھم الذین اتخذوا مسجد (اور ان منافقوں میں وہ لوگ بھی ہیں) جنہوں نے ایک مسجد تیار کی۔ ضرارا۔ کفرا۔ تفریقا۔ ارصادا۔ تمام مفعول لہٗ ہیں ۔ یعنی اس مسجد کی تعمیر کا مقصد رضائے خداوندی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ (1) مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ (2) اس میں بیٹھ کر کفر کو فروغ دینے کی تجویزیں سوچی جائیں۔ (3) مسلمانوں کی جمعیت کو منتشر کیا جائے۔ (4) وہ شخص جو اب تک خدا اور رسول کا دشمن چلا آرہا ہے اسے بطور کمین گاہ استعمال کیا جائے یا یہ مصدر ہیں اور حال کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ ضرارا۔ ضرر سے مشتق ہے۔ ایذا دینا۔ نقصان پہنچانا۔ ضرر پہنچانا۔ ضار یضار (باب مفاعلۃ) سے مصر۔ ارصادا گھات لگانا۔ مرصاد و مرصد گھات لگانے کی جگہ۔ کمین گاہ۔ رصد مادہ۔ من قبل۔ قبل۔ بعد۔ اکثر اضافت کے ساتھ آتے ہیں ۔ جب بغیر اضافت کے ہوں تو ضمہ پر مبنی ہوں گے۔ جیسے آیۃ ہذا میں ۔ بمعنی پہلے سے۔ ولیحلفن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ جمع مذکر غائب (باب ضرب) اور وہ ضرور ہی قسمیں کھائیں گے۔ (یعنی جب ان سے پوچھے کہ یہ شرارت تم نے کیوں کی تو اپنی صفائی میں قسمیں کھانے لگیں گے۔ یشھد۔ شھادۃ۔ مصدر جس کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا۔ موجود ہونا۔ گواہی دینا۔ بیان کرنا۔ جاننا۔ ان سب کا باب ایک ہی ہے۔ سمع یسمع مصادر جدا جدا ہیں۔ شھد اللہ۔ قضی اللہ۔ قال اللہ۔ بین اللہ۔ ویشھد اللہ۔ اللہ یہ فیصلہ دیتا ہے۔ یا کہتا ہے۔ بیان کرتا ہے۔ اس آیۃ میں اس مسجد کا ذکر ہے جو اسلام کو نقصان پہنچانے کی خوطر ابو عامر کے ساتھیوں نے اس کے ایماء پر مسجد قباء کے مضافات میں تیار کی تھی۔ بعد میں حضور ﷺ کے حکم سے اس کو مسمار کردیا گیا تھا۔ چونکہ اس کی بنیاد مسلمانوں کو ضرر پہنچانے پر رکھی گئی تھی اس لئے اس کا نام ہی تاریخ میں مسجد ضرار پڑگیا۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

(9:108) لاتقم فیہ۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو اس میں مت کھڑا ہو یعنی لا تصل فیہ اس میں نماز مت پڑھ۔ قرآن مجید میں نماز کے لئے کہیں قیام کا لفظ استعمال ہوا ہے کہیں رکوع کا اور کہیں سجدہ کا ۔ اسے تسمیۃ الشیء باسم جزئہ (کسی چیز کو اس کے جزء کے نام سے پکارنا) کہتے ہیں۔ فیہ کی ضمیر واحد مذکر مسجد (ضرار) کے لئے ہے۔ مسجد اسس علی التقوی من اول یوم۔ وہ مسجد جس کی اساس (بنیاد) پہلے دن سے ہی تقویٰ پر درست کی گئی ہو۔ ان یتطھروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ تطھر (تفعل) مصدر۔ ان ناصبہ کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوگیا۔ یعنی پاک ہونے کو (پسند کرتے ہیں) ۔ المطھرین۔ اسم فاعل جمع مذکر تطھر مصدر۔ اصل میں المتطھرین تھا۔ تاکہ طاء میں مدغم کیا گیا۔ پاک ہونے والے۔ پاکیزہ رہنے والے۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(9:109) اسس بنیاتہ۔ اسس (باب تفعیل) تاسیس بنیاد رکھنا۔ اس نے بنیاد رکھی۔ بنیانہ۔ بنیان یعنی مبنیۃ ۔ غفران کی طرح مصدر ہے بمعنی مفعول استعمال ہوا ہے ہ ضمیر واحد مذکر دین کے لئے یعنی من اسس بنیان دینہ جس نے اپنے دین کی بنیاد رکھی۔ یا من وضع اساس ما یبنیہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ۔ شفا۔ شفاء کنارہ۔ کنویں وغیرہ کے کنارے کو کہتے ہیں۔ جمع اشفاء (شفو مادہ) اس کا تثنیہ شفوان آتا ہے۔ شفا قرب ہلاکت کے لئے ضرب المثل ہے۔ علی شفاحفرۃ من النار (3:103) آگ کے گڑھے کے کنارے تک۔ اور اشفی فلان علی الہلاک فلاں ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ۔ جرف۔ ندی یا نالے کا وہ کنارہ جس کا نچلہ حصہ پانی بہا کرلے گیا ہو اور اوپر کا حصہ موجود ہو۔ اسے جرفۃ کہتے ہیں۔ ضرف اس کی جمع ہے۔ اسی سے یہ قول ہے فلان یبنی علی جرف عار۔ لایدری مالیل من نھار۔ فلاں شخص دریا کے گرنے والے کنارہ پر مکان بناتا ہے۔ اس کو دن رات میں تمیز نہیں۔ جرف الشیء (نصر) پوری چیز یا اس کا بیشتر حصہ لیجانا۔ یا جرف الطین۔ پھاوڑا یا بیلچہ سے مٹی کھودنا یا کھرچنا۔ ھار۔ اسم فاعل مجرور۔ ھور۔ مادہ۔ قریب السقوط۔ گرنے کے قریب۔ ھار کی اصل ھ اور یا ھائر تھی۔ اول ھ اور کے واؤ کو یا ھائر کے ہمزرہ کو نقل مکانی کرکے راء سے آخر میں کردیا۔ یعنی راء کو مقدم کردیا اور واؤ یا ہمزہ کو مؤخر کردیا۔ ھارو اور ھارء ہوگیا۔ پھر واؤ اور ہمزہ کو یاء سے بدل کر ھاری کردیا اور حالت جر کی وجہ سے ی کو ساقط کردیا اس طرح ھار ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ھ اور کے واؤ یا ھائر کے ہمزہ کو بغیر نقل مکانی کے تخفیفاً حذف کردیا۔ اس صورت میں را پر مختلف حالات میں تینوں اعراب آسکتے ہیں۔ بعض اہل لغت کے نزدیک ھار اسم فاعل کا صیغہ نہیں ہے بلکہ اس کی اصل ھور یا ہیر تھی واؤ۔ اور یاء کو ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے الف سے بدل دیا گیا ھار ہوگیا اس صورت میں پھر اس پر تینوں اعراب آئیں گے۔ جرف ھار موصوف و صفت مل کر مضاف شفا۔ مضاف الیہ۔ انھار۔ وہ گرپڑا۔ انھیار (انفعال) مصدر۔ ماضٰ کا صیغہ واحد مذکر غائب بانی عمارت کے لئے ہے۔ ای من اسس بنیانہ۔ انھار البنائ۔ عمارت کا منہدم ہونا۔ گرنا۔ ظالمین۔ ظلم کرنے والے۔ ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اپنی جگہ سے ہٹا کر غلط جگہ پر رکھنا (ان لوگوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ہی غلط موقع اور غلط محل پر رکھی تھی) ۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

(9:110) لایزال۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ زوال مصدر۔ فعل ناقص ہے۔ دوام اور تسلسل کا معنی دیتا ہے۔ ہمیشہ رہیگا۔ بنیانھم۔ ان کی عمارت۔ بنوا۔ انہوں نے بنائی۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بناء مصدر۔ بنی مادہ۔ ریبۃ۔ ریب سے اسم ہے۔ راب یریب (باب ضرب) شبہ و گمان میں ڈالنا۔ کسی سے کوئی ناپسند چیز دیکھنا۔ ریبۃ شک و شبہ۔ تہمت۔ بےچینی۔ بےیقینی۔ ریب جمع۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا معنی شک و نفاق کیا ہے۔ کلبی کے نزدیک حسرت و ندامت ہے السدی اور المبرد نے اس کا مطلب غم و غصہ لیا ہے ۔ یعنی یہ کیفیات ان کے منصوبہ کے ناکام ہوجانے اور جس عمارت پر انہوں نے اتنی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اس کے منہدم ہوجانے کی وجہ سے ہمیشہ ان کے دل کو بےچین اور مضطرب رکھیں گی۔ الا ان۔ بجز اس کے کہ۔ مگر یہ کہ۔ تقطع۔ پارپ پارہ ہوجائیں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ تقطع (تفعل) سے مضارع۔ واحد مؤنث غائب۔ اصل میں تقتطع تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔ الا ان تقطع قلوبہم۔ ای تجعل قلوبھم قطعاً وتفرق اجزاء اما بالسیف واما بالموت والمعنی ان ھذہ الریبۃ باقیۃ فی قلوبہم الیٰ ان یموتوا علیہا۔ یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ اور ان کے اجزاء بکھر جائیں۔ خواہ تلوار سے یا موت سے۔ مطلب یہ کہ یہ بےچینی۔ بےیقینی۔ اضطراب و حسرت و ندامت کی کیفیت ان کے دلوں پر طاری رہیگی۔ حتی کہ وہ اسی حالت میں مرجائیں گے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

(9:111) اشتری۔ اس نے خرید لیا۔ اس نے خریدا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اشتراء کے معنی خریدنے اور بیچنے دونوں کے آتے ہیں۔ وعدا۔ اسم ومصدر۔ وعدا علیہ حقا۔ حقا وعدا کی صفت ہے اور وعدا بوجہ فعل محذوف منصوب ہے گویا تقدیر کلام یوں ہے۔ وعدہم علیہ (علی ذلک الامر) وعدا حقا۔ اس بات پر اس نے ان کے ساتھ سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ علیہ کے معنی لازم علیہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ وعدہم وعدا حقا لازم علیہ۔ اس نے ان سے ایک سچا وعدہ کر رکھا ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ فی التوراۃ والنجیل والقرآن یعنی اس وعدہ کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن میں ہے ۔ او فی۔ زیادہ وعدہ پورا کرنے والا۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ۔ فاستبشروا۔ خوشیاں مناؤ۔ بشارت پاؤ۔ استبشار (استفعال) سے جس کے معنی بشارت پانے کے ہیں۔ ببیعکم۔ اپنے سودے پر۔ الذی بایعتم اللہ بہ۔ جو سودا تم نے اللہ کے ساتھ کیا ہے ہ ضمیر واحد مذکر۔ سودا کی طرف راجع ہے۔ ذلک۔ ای البیع۔ اور یہی سودائ۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

(9:112) التائبون۔ العابدون۔ الحامدون۔ السائحون۔ الراکعون۔ الساجدون۔ الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر۔ والحافظون لحدود اللہ۔ اب اسم صفت کے صیغے ہیں اور مؤمنین کی صفت ہیں۔ التائبون سے لے کر الناھون تک متعدد صفات کا ذکر آیا ہے لیکن ان میں حرف عطف استعمال نہیں ہوا۔ لیکن والناھون سے پہلے حرف عطف لایا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں :۔ (1) ایسے مواقع پر حرف عطف کا ذکر کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح ہیں۔ اس لئے یہاں مزید کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔ (2) الناھون کا الامرون پر عطف ہے کیونکہ یہ دونوں مل کر ایک مکمل صفت بنتے ہیں۔ (3) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ قریش کی لغت یہ ہے کہ سات کے عدد تک حرف عطف ذکر نہیں کرتے اور جب آٹھواں ذکر کرتے ہیں تو پھر حرف عطف کا ذکر کردیا جاتا ہے۔ الناھون چونکہ آٹھویں صفت ہے اس لئے واؤ کا اضافہ کردیا۔ السائحون کے مفسرین نے متعدد معانی لئے ہیں۔ سیاحت کرنے والے۔ یعنی اقامت دین کے لئے جہاد میں نکلنے والے۔ کفر زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے۔ دعوت دین۔ اصلاح خلق۔ طلب علم صالح۔ مشاہدہ آثار الٰہی۔ تلاش رزق حلال کی خاطر سیاحت کرنے والے۔ ابن کثیر اور اکثر مفسرین سلف۔ صحابہ و تابعین نے السائحون سے مراد روزہ دار لئے ہیں ۔ الناھون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ الناہی واحد۔ نھی مصدر (باب فتح) روکنے والے منع کرنے والے۔ المنکر۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ انکار۔ مصدر۔ وہ قول یا فعل جس کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہو۔ بشر۔ بشر یبشر تبشیر (تفعیل) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو خوشخبری دے۔ تو خبر کر دے۔ یہاں مبشر بہٖ اس کی عظمت کے پیش نظر حذف کردیا گیا ہے۔ گویا وہ ایسی چیز ہے جس کی خوشخبری دی جارہی ہے جسے فہم سمجھ سکتا اور کلام بیان نہیں کرسکتا۔ وبشر للمؤمنین۔ ای بشر یا محمد ﷺ من فعل ھذہ الافعال التسع یعنی جو مومن ان نو صفات سے متصف ہے اس کو خوشخبری دیدیں۔
Ayahs 9:113–114

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے۔ لیکن جب انکو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔

(9:113) ما کان للنبی والذین امنوا۔ زیبا نہیں نبی کے لئے اور نہ ایمان والوں کے لئے ۔ یستغفروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ وہ مغفرت طلب کریں ۔ وہ معانی مانگیں۔ اولی قربی۔ ای اذی قرابۃ لہم قرابت دار۔ رشتہ داری رکھنے والے رشتہ دار۔ قربی اسم مصدر۔ رشتہ داری قرابت۔ موعدۃ۔ اسم مصدر۔ وعدہ۔ ایاہ۔ اس کو۔ اسی سے ۔ واحد مذکر غائب کی ضمیر منصوب منفصل۔ اس کا مرجع حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ ہے۔ تبرا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ بیزار ہوا۔ اس نے بیزاری ظاہر کی ۔ تبرء سے جس کے معنی بیزار ہونے کے ہیں۔ جیسے براء ۃ من اللہ ورسولہ (9:1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے۔ اذاۃ۔ نرم دل۔ بہت آہ کرنے والا۔ اوۃ سے جس کے معنی آہیں بھرنے کے ہیں مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بروزن فعال اہ یلوہ۔ جیسے قام یقوم۔ حلیم۔ بردبار۔ تحمل مزاج باوقار۔ حلم کے معنی ہیں جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگنی بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

(9:115) ما کان اللہ لیضل۔ اللہ کا دستور نہیں۔ اللہ کا طریقہ نہیں کہ وہ گمراہ کر دے۔ ما یتقون۔ جن سے ان کو بچنا چاہیے۔ جن سے وہ بچیں۔ ما موصلہ ہے۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

(9:117) تاب۔ تاب یتوب (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے توبہ کی وہ پھر آیا۔ وہ گناہ سے باز آیا۔ وہ متوجہ ہوا۔ اس نے معاف کیا۔ یہاں (رحمت سے) متوجہ ہونے اور معاف کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ نے رحمت سے توجہ فرمائی۔ اللہ نے معاف فرما دیا۔ توب اور توبۃ سے۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے (بار بار واپس آنا) کے ہوتے ہیں۔ اور جب علیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آتا ہے۔ توبو الی اللہ جمیعا (24:31) سب خدا کے آگے توبہ کرو۔ اور فتاب علیکم وعفا عنکم (2:187) سو اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمایا۔ تاب اللہ علی النبی۔ نبی کریم ﷺ کو معاف کرنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی اور آپ نے ان کو اجازت دیدی تھی۔ اس لغزش کا آپ سے مؤاخذہ نہ کیا گیا جیسا کہ 9:43 میں ارشاد ہوا ہے عفا اللہ عنک لیکن یہ فعل ترک افضل میں آتا ہے کہ افضل یہ تھا کہ خوب چھان بین کرکے صرف مستحق معذور لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جاتی نہ کہ یہ کوئی ایسا قصور تھا جو قابل مؤاخذہ تھا (نیز ملاحظہ ہو 9:43) ۔ بعض کے نزدیک بنی کریم ﷺ کو اس معافی میں تبرکا شامل کیا گیا ہے اور مقصود مہاجرین اور انصار کی شان کو اونچا دکھانا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان کو بلند کرنے کے لئے فان اللہ خمسہ وللرسول (8:41) میں اپنانام تبرکا شامل کرلیا ہے۔ ساعۃ العسرۃ۔ مشکل گھڑی۔ تنگی کا وقت۔ غزوہ تبوک کی طرف اشارہ ہے جب کہ مسلمان سخت مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ سخت گرمی کا موسم تھا۔ سفر طویل اور کٹھن تھا۔ سواریوں کی ازحد قلت تھی ، راشن انتہائی طور پر قلیل اور پینے کا پانی نہایت کمیاب تھا۔ مسلمان قلیل التعداد اور مقابلہ قیصر روم کے لشکر جرار سے تھا۔ کاد۔ ماضی واحد مذکر غائب کود مصدر (باب سمع) افعال مقاربہ میں سے ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ اگر کاد بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع کے ضرور تھا جیسے کہ آیہ ہذا میں ہے کاد یزیغ قلوب فریق منھم۔ ان میں سے ایک گروہ کے دل کجی کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن ابھی کج نہیں ہوئے تھے۔ اور اگر بصورت نفی مذکور ہو تو معلمو ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن عدم و قوع کے قریب تھا۔ جیسے نذبحوھا وما کادوا یفعلون (2:71) انہوں نے اس (گائے) کو ذبح کردیا لیکن ذبح نہ کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ یزیغ۔ مضارع واحد مذکر غائب زیغ سے (باب ضرب) پھرنے لگے تھے۔ پھرجانے کے قریب ہوگئے تھے۔ کاد یزیغ کجی کی طرف مائل ہو چلے تھے۔ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منہم۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کجی کے قریب پہنچ چکے تھے اگرچہ فی الواقع ابھی کج نہیں ہوئے تھے۔ ثم تاب علیہم۔ لقد تاب اللہ علی النبی ۔۔ کے بعد اس تکرار سے مراد تاکید ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب فریق کی طرف راجع ہو۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ پھر اس نے ان لوگوں پر رحم کے ساتھ توجہ کی جن کے دل کج ہو چلے تھے (مگر انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ہی کا ساتھ دیا) بھم میں ضمیر مذکر غائب ثم تاب علیہم کے مطابق یا تو النبی والمھاجرین والانصار کی طرف راجع ہے یا فریق کیلئے ہے رؤوف۔ مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے مفعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayahs 9:118–119

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! خدا سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔

(9:118) وعلی الثلثۃ کا عطف النبی پر ہے ای وتاب علی الثلثۃ اور اس نے ان تینوں کو بھی معاف کردیا۔ ان تینوں پر بھی نظر رحمت فرما دی۔ الذین خلفوا۔ جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ یعنی کعب بن مالک۔ بلال بن امیہ۔ مرارۃ بن الربیع۔ بما رحبت۔ میں ما مصدریہ ہے۔ وضاقت علیہم الارض بما رحبت۔ باوجود فراخ ہونے کے ان پر زمین تنگ ہوگئی۔ ضاقت۔ ضیق سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ تنگ ہوگئی۔ رحبت۔ رحب سے (باب کرم) ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ کشادی ہوئی۔ وہ فراخ ہوئی۔ ملجا۔ اسم ظرف مکان۔ پناہ کی جگہ۔ لجا مصدر۔ پناہ پکڑنا۔ (باب فتح۔ سمع) ملجا بھی مصدر ہے۔ ثم تاب علیہم لیتوبوا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہوا۔ اور رحمت سے توجہ کی۔ تاکہ وہ بھی توبہ کریں۔ اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ التواب۔ بار بار توبہ قبول کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ اور اگر بندہ کی صفت ہو تو معنی ہوں گے کثرت سے توبہ کرنے والا۔ یعنی وہ شخص جو کہ یکے بعد دیگرے گناہ چھوڑتے چھوڑتے بالکل گناہوں کو ترک کردے۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں انکو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں خدا کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے کچھ شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(9:120) ما کان لاہل المدینۃ۔ زیبا نہیں تھا درست نہیں تھا۔ مناسب نہ تھا اہل مدینہ کے لئے۔ ان یتخلفوا عن رسول اللہ۔ کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے ٹھہرے رہتے۔ لایرغبوا۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب سمع) عزیز نہ سمجھیں۔ رغب فیہ۔ چاہنا ۔ خواہش کرنا۔ محبت کرنا۔ دلچسپی لینا۔ رغب عن۔ منہ پھر لینا ۔ چھوڑنا۔ اور اض کرنا۔ روگردانی کرنا۔ رغب بہ عن غیرہ کیس کو کسی پر فضیلت دینا ۔ برتری دینا۔ لایرغبوا بانفسھم عن نفسہ وہ اپنی جانوں کو اس کی جان پر فضیلت و برتری نہ دیں۔ اپنی جانوں کو اس کی جان سے عزیز نہ سمجھیں۔ نفسہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رسول اللہ سے۔ ذلک۔ بمعنی یہ اس لئے۔ ظما پیاس۔ تشنگی۔ یہ ظمئی یظمأ کا مصدر ہے جس کے معنی پیاس لگنے کے ہیں۔ ظمان فعلان صیغہ صفت ہے۔ پیاسا۔ تشنہ نصب۔ تھکان ۔ مشقت۔ کوفت۔ تکلیف۔ مخمصۃ۔ بھوک خمصۃ الجوع بھوک کو کسی کو دبلے پیٹ والا کردینا۔ خمیص خالی پیٹ والا۔ لایطئون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وطا مصدر۔ (باب سمع) نہیں پامال کریں گے نہیں چلیں گے۔ موطئا۔ اسم ظرف (باب سمع) پاؤں رکھنے کی جگہ۔ وطاۃ۔ موطأ۔ موطیٔ پاؤں کی جگہ۔ وطیٔ یطا (باب سمع) روندنا۔ یغیظ الکفار۔ جو کفار کے غیظ و غضب کا باعث بنے۔ لاینالون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ نیل سے۔ وہ نہیں پائیں گے۔ وہ نہیں پاتے ہیں۔ وہ نہیں حاصل کرتے ۔ وہ نہیں کامیاب ہوتے۔ لاینالون من عدو نیلا وہ دشمن سے کوئی چیز حاصل نہیں کرتے (از قسم قتل۔ قیدی۔ مال غنیمت وغیرہ) ذلک بانھم ۔۔ عمل صالح۔ اللہ کی راہ میں جو پیاس ۔ تکلیف۔ بھوک وہ اٹھاتے ہیں اور ہر قدم جو رہ اٹھاتے ہیں جو کفار کو ناگوار گزرتا ہے اور ان کے غیظ و غضب کو بھڑکاتا ہے اور ہر وہ فائدہ جو وہ دشمن پر حاصل کرتے ہیں یا اللہ کی راہ میں وہ دشمن سے جو نقصان اٹھاتے ہیں اس ہر فعل کے بدلہ میں ان کے حساب میں یک عمل لکھا جاتا ہے۔