6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsانوار البیان

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے۔ اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں۔ اور اگر تم لوگ ان کے کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔

(6:121) فسق۔ اصلاح شریعت میں فسق کے معنی ہیں۔ حدود شریعت سے نکل جانا۔ گناہ کرنا۔ عموماً عملی گناہ کو فسق کہتے ہیں۔ اور ضروریات دین کے انکار کو کفر۔ عربی میں ہے فسقت الرطبۃ عن قشرھا۔ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ فاسق بھی خیر سے باہر نکل آتا ہے۔ یوحون۔ مضارع جمع مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ وہ وحی کرتے ہیں ۔ وہ دل میں ڈالتے ہیں۔ وہ وسوسہ ڈالتے ہیں۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اس نکل ہی نہ سکے ؟ اس طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انھیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔

(6:122) یمشی بہ فی الناس۔ کا مطلب ہے (ہم نے اس کے لئے نور بنادیا) جس کے اجالے میں (یا جس کی مدد سے) وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔ یا اس کا مطلب یوں بھی ہوسکتا ہے کہ (ہم نے اس کے لئے نور بنادیا) جس کو لے کر وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے (اور اس طرح دوسروں کو بھی روشنی مہیا کرتا ہے) کذلک۔ ای کما زین للؤمن ایمانہ۔ یعنی جس طرح مومن کے لئے اس کا ایمان خوبصورت و دلکش بنادیا گیا اسی طرح کافروں کے لئے ان کا عمل جاذب و دلکش کردیا گیا۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاّریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاّریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بیخبر ہیں۔

(6:123) وکذلک۔ ای وکما جعلنا فی مکۃ صنا ویدھا (اکابرھا) لیمکروا فیہا۔ یعنی جس طرح مکہ میں ہم نے وہاں کے بڑے لوگوں کو (مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارت کرنے والا بنا رکھا تھا اسی طرح ہم نے ہر بستی میں ۔۔ جعلنا۔ ہم نے بنایا۔ ہم نے پیدا کیا۔ اکابر۔ اکبر کی جمع ہے رئیس لوگ۔ مجرمیھا۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب مضاف ھا مضاف الیہ ۔ اصل میں مجرمین تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔ اکابر مجرمیھا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اکابر مضاف مجرمیھا (مضاف مضاف الیہ مل کر) مضاف الیہ۔ اور مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول جعلنا کا۔ اس صورت میں جعلنا کا مفعول اول فی کل قریۃ ہوگا۔ اور ترجمہ یوں ہوگا : جس طرح مکہ میں ہم نے بڑے بڑے مجروموں کو (رسول ۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کرنے والا بنایا ہے۔ اسی طرح ہم ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو (رسول۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں تدبیریں کرنے کے لئے کھڑے کردیتے ہیں ۔ (2) مجرمیھا۔ اکبر کا بدل ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے :۔ جس طرح ہم نے بڑے بڑے لوگوں یعنی مجرموں کو (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کرنے کے لئے مکہ میں بناتا ہے اسی طرح ہم ہر بستی میں بڑے لوگوں یعنی مجرموں کو (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) تدبیریں کرنے کے لئے بنا دیتے ہیں۔ (3) اکبر اور مجرمیھا دونوں جعلنا کے مفعول ہیں۔ اور مطلب آیت یوں ہوگا :۔ جس طرح ہم نے مکہ میں رئیسوں کو اس بستی میں بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم بنا دیتے ہیں تاکہ وہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کریں اسی طرح ہم ہر بستی میں بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم بنا دیتے ہیں تاکہ وہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں شرارتیں کریں۔ (4) مجرمیھا۔ مفعول اول ہے جعلنا کا اور اکابر مفعول ثانی اور یہاں مفعول ثانی کو مقدم کیا گیا ہے ہے ۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے : جس طرح ہم نے مکہ میں یہاں کے مجرموں کو بڑے لوگ بنادیا ہے کہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) تدبیریں کریں اسی طرح ہم ہر بستی میں مجرموں کو بڑے لوگ بنا دیتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں (رسول، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں تدبیریں کریں۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کی ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذاب شدید ہوگا۔ اس لیے کہ مکاّریاں کرتے تھے۔

(6:124) جاء تھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب اکابر مکہ کی طرف راجع ہے (یہ اکابر کفار قریش تھے) ۔ سیصیب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصابۃ (افعال) سے مصدر ۔ پہنچے گا۔ اجرموا۔ انہوں نے جرم کیا۔ اجرام (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ صغار۔ ذلت۔ خواری۔ صغر یصغر (کرم یکرم) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی ذلیل ہونے کے ہیں۔ یہاں بطور اسم بمعنی ذلت خواری مستعمل ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

(6:125) ضیقا۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ اصل میں حرج کے معنی کسی چیز کے مجتمع ہونے کے ہیں۔ اور ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے نبی کنانہ کے ایک شخص سے دریافت فرمایا کہ ما الحرجۃ۔ اس نے جواب دیا الحرجۃ فینا الشھرۃ تکون بین الا شجار التی لاتصل الیہا راعیۃ ولاوحشیۃ ولا شیئ۔ (حرجہ ہمارے ہاں اس درخت کو کہتے ہیں جو درختوں کے جھنڈ کے درمیان ہو کہ وہاں نہ تو چرواہا جاسکے نہ کوئی وحشی جانور اور نہ کوئی اور چیز وہاں پہنچ سکے) ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا :۔ کذلک قلب المنافق لایصل الیہ شیء من الخیر۔ (منافق کا دل بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہاں تک کوئی نیک بات نہیں پہنچتی) ۔ کانما یصعد۔ کان حرف مشبہ بالفعل اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ ما زائدہ ہے اس کے آنے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ کان کا لفظی تصرف باطل ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ اپنے مابعد کو نہ منصوب کرسکتا ہے نہ مرفوع۔ یہاں تشبیہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ بمعنی گویا۔ جیسے مثلاً کان ذیدا اسد گویا زید شیہ ہے۔ یصعد۔ مضارع واحد مذکر غائب تصعد مصدر (باب تفعیل) اصعاد (افعال) چلنا، سیر کرنا۔ پہنچنا۔ اس کے مفعول پر فی آنا ضروری ہے۔ جیسے اصعد فی الارض وہ زمین پر جلا۔ اس نے زمین پر سیر کی۔ (باب تفعیل) سے (صعد یصعد) چڑھا کر اوپر پہنچ جانا۔ مفعول پر فی یا علی آتا ہے۔ تصعد (باب تفعل) میں اس کا معنی دشوار گزرنا اور شاق ہونا کے ہیں جیسے تصعد فی الشیئ۔ وہ چیز مجھ پر شاق گزری۔ لیکن اگر باب تفعل کی ت کو ص میں ادغام کرکے اصعد بنا لیا جائے جس سے مضارع آیۃ ہذا میں آیا ہے تو چڑھ کر پہنچ جانے کا معنی ہوتا ہے اور مفعول پر فی آتا ہے۔ یصعد اصل میں یتصعد تھا۔ ت کوس میں مدغم کیا۔ ص پر شد دیا گیا ۔ کانما یصعد فی السماء گویا وہ (دشواری سے) آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ یجعل علی۔ ڈال دیتا ہے۔ مسلط کردیتا ہے۔ الرجس۔ رجس۔ ناپاک۔ پلید۔ گندہ۔ نجس۔ عذاب۔ عقوبت۔ گناہ۔ الرجس سے مراد شیطان بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر میں ہے۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

(6:126) ھذا۔ اشارہ ہے اس طرف جو قرآن میں آیا ہے۔ یا اشارہ ہے اسلام کی طرف یا اس بیان کی طرف جو دا نے توفیق شرح صدر اور خذلان کے متعلق اوپر فرمایا ہے (بیضاوی) قرآن ۔ اسلام۔ دین حق۔ مستقیما۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے۔ یذکرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) سے ۔ نصیحت پکڑتے ہیں۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

(6:127) دار السلام۔ سلامتی کا گھر یعنی جنت۔ ولیہم۔ ان کا دلی۔ ان کا دوست۔ ان کا حامی و ناصر۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

(6:128) ویوم یحشرھم۔ ای اذکر یوم یحشرھم۔ اور یاد کرو وہ دن جب وہ (اللہ) ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ جمیع جن و انس کے لئے ہے۔ الخازن۔ صاحب مدارک التنزیل اور بیضاوی نے نحشر (نون کے ساتھ صیغہ جمع متکلم پڑھا ہے) یمعشرالجن۔ اس سے پہلے یقول محذوف ہے تقدیر ہے ویقول یمعشرالجن ۔۔ اے جنات کے گروہ۔ یہاں جنات سے مراد شیاطین ہیں۔ المعشر۔ اسم مفرد معاشر جمع ۔ بڑا گروہ۔ استکثرتم۔ تم نے بہت زیادہ (تابع) کرلیا۔ استکبار (استفعال) سے ۔ کسی کام کو بہت زیادہ کرنا۔ اسی باب سے لفظ استحصال ہے بہت زیادہ وصول کرنا۔ یہاں استکثرتم من الانس سے مراد یہ ہے کہ انسانوں میں بہتوں کو تم ضلالت اور سرکشی کی طرف لے گئے تھے۔ اولیئہم من الانس۔ انسانوں میں سے جو ان شیاطین کے دوست ۔ ہمنوا ۔ ان کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ استمتح۔ اس نے فائدہ اٹھایا۔ اس نے کام نکالا۔ اجلت۔ تو نے مدت مقرر کی۔ تاجیل (تفعیل) سے جس کے معنی مدت ٹھہرانے اور دیر کرنے کے ہیں۔ اجل۔ وقت مقررہ۔ مدت مقررہ۔ چونکہ موت کا وقت بھی مقرر ہے اس لئے اجل موت کو بھی کہتے ہیں۔ قال۔ ای قال اللہ۔ مثوی کم۔ مثوی۔ ظرف مکان مفرد۔ مثاوی۔ جمع ٹھکانہ۔ درانہ مدت تک ۔ ٹھہرنے کا مقام ۔ فرودگاہ۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

(6:129) نولی۔ مضارع جمع متکلم۔ تولیۃ (تفعیل) ہم حاکم بنا دیتے ہیں۔ ہم مسلط کردیتے ہیں۔ باہم دوست بنا دیتے ہیں۔ صاحب مدارک نے نولی بعض الظلمین بعضا کی تشریح تین طرح کی ہے :۔ (1) ایک کو دوسرے کے پیچھے دوزخ میں داخل کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ موالاۃ ہوگا۔ کسی کام کا پیہم پے در پے کرنا۔ (2) ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر مسلط کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ حکومت۔ غلبہ۔ تسلط۔ یہ قول عام اہل تفسیر کا ہے۔ (3) ایک کو دوسرے کا درست اور مددگار بنادینا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ دوستی۔ مدد۔ قتادہ کا یہی قول ہے۔ ابن کثیر نے بھی یہی مطلب لیا ہے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

(6:130) یقصون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ قصص مصدر (باب نصر) وہ نقل کرتے ہیں۔ وہ پڑھتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں یا بیان کرتے تھے۔ ینذرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ انذار (افعال) وہ ڈراتے تھے۔ غرتھم۔ غرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہمضمیر جمع مذکر غائب۔ دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں رکھا ہوا تھا۔ ان کو بہکارکھا تھا
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

(6:131) ذلک۔ ذلک خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای الامر ذلک حقیقت یہ ہے ۔ یا بات یہ ہے۔ یہ اشارہ ہے ارسال رسل کی طرف یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اور ان کا لوگوں کو سوء عاقبت سے ڈرانا۔ اس وجہ سے ہے کہ :۔ ان۔ مصدریہ ہے۔ لم یکن۔ نہیں ہے ۔ لم یکن فعل ناقص۔ مضارع مجزوم ۔ نفی جحد بلم کون سے باب نصر۔ مہلک القری۔ بستیوں کو ہلاک کرنے والا۔ یعنی تیرا رب بستیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا۔ مضاف مضاف الیہ ہو کر خبر کان کی۔ بظلم۔ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) بظلم منھم۔ (2) بظلم منہ (من اللہ) جمہور نے اول الذکر کو ترجیح دی ہے۔ غفلون۔ غفلت کرنے والے، بیخبر ۔ مطلب یہ ہے کہ ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بشیر اور نذیر بنا کر اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ کسی بستی یا قوم کو ان کے ظلم و شر اور کفر و شرک کی وجہ سے جبکہ وہ ان بدیوں کے مآل ناواقف اور بیخبر ہوں ہلاک نہیں کرتا۔ (بلکہ باقاعدہ خدا کے فرستادہ جو انہی میں سے ہوتے ہیں ان کو نیک و بد سے مطلع کرتے ہیں۔ اور خدا وند تعالیٰ کے وعدے وعید سے ان کو باخبر کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ اگر بدیوں کے عمداً مرتکب ہوں تو مکافات عمل میں ہلاکت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

(6:132) لکل۔ ای لکل من العکلفین۔ لکل عامل۔ ہر عاقل بالغ عامل کے لئے۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

(6:133) یستخلف۔ مضارع واحد مذکر غائب مجزوم ۔ بو کہ جواب شرط (تمہارا جانشین بنا دے تمہاری جگہ لے آئے۔ مایشائ۔ ما بیانہ ہے۔ جسے چاہے۔ جیسے چاہے۔ ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے۔ لیکن عرف عام میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ ذریۃ کے بارے میں تین اقوال ہیں :۔ (1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں اور اس کی ہمزہ متروک ہوگئی ہے جیسے رویۃ اور بریۃ میں۔ (2) اس کی اصل ذرویۃ سے ہے۔ (3) ذر سے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ فعلیۃ کے وزن پر جیسے قمریۃ۔ ذرای۔ وریات جمع۔ قوم اخرین۔ اخر کی جمع ہے۔ دوسری قوم۔ دوسرے لوگ۔ من ذریۃ قوم اخرین۔ ایک دوسری قوم کی نسل سے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

(6:134) لات۔ ات۔ آنے والا۔ ایتان سے جس کے معنی آنے کے ہیں۔ لام تاکید کے لئے آیا ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عاجز کردینے والے۔ ہرا دینے والے۔ اعجاز (افعال) سے دوسرے کو عاجز بنادینا۔ عاجز کردینا۔ معاحزۃ (مفاعلۃ) مقابلہ کرکے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ یعنی تم اس کو ایسا کرنے سے ہرگز روک نہیں سکتے۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

(6:135) علی مکانتکم۔ علی غایۃ استطاعتکم جتنا تم سے ہوسکے۔ اعملوا علی مکانتکم۔ تم سے جو ہوسکتا ہے کہ گزرو۔ انی عامل۔ ای انی عامل ما امرنی بہ ربی۔ میں تو وہی کرتا رہوں گا جو میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔ یا یوں بھی ہوسکتا ہے انی عامل علی مکانتی۔ جو کچھ مجھ سے ہوسکتا ہے میں کرتا رہوں گا۔ عاقبۃ الدار۔ مضاف مضاف الیہ۔ عاقبۃ۔ عاقبت۔ انجام امر۔ عقب یعقب کا مصدر ہے جس کے معنی پیچھے آنے کے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال ہر شے کے آخر اور انجام کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا استعمال ثواب کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے والعاقبۃ للمتقین (28:3) اور انجام نیک تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔ مگر اضافتہ کی صورت میں کبھی عقوبت کے معنی میں آتا ہے جیسے ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوء (30:10) پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہو۔ الدار (دور۔ مادہ) مکان کو کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے۔ اس کی جمع دیار ہے۔ پھر دار کا لفظ شہر۔ علاقہ۔ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے۔ اور الدار الدنیا اور الدار الاخرۃ (موصوف۔ صفت) نشأہ الولی۔ نشأۃ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے دار الدنیا۔ دار الاخرۃ کو مضاف مضاف الیہ بھی کہا ہے الدار دنیا کے گھر کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کے گھر کے لئے بھی۔ اسی طرح اس آیۃ کے مندرجہ ذیل معنی ہوسکتے ہیں۔ کسی کے لئے انجام اچھا ہوتا ہے اس دنیا کے گھر کا۔ یعنی کس کی دنیوی زندگی کا اچھا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ (ضیاء القرآن) آخرت میں انجام اچھا کس کا ہوتا ہے۔ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن) صاحب روح المعانی کے قول کے مطابق لفظ دار سے مراد دار دینا ہے نہ کہ دار آخرت الخازن یوں رقمطراز ہیں۔ فسوف تعلمون غداً فی یوم القیامۃ لمن تکون عاقبۃ الدار وہی الجنۃ۔ کل قیامت کے دن تم جان لو گے عاقبۃ الامرکس کا ہوگا۔ یعنی جنت کس کے نصیب میں ہوگی۔ ان تمام صورتوں میں من موصلہ ہوگا۔ علامہ زمخشری اور علامہ بیضاوی نے من کو استفہامیہ معنی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک تقدیر کلام یوں ہے : این تکون لہ العاقبۃ التی خلق اللہ تعالیٰ لہا ھذہ الدار۔ عام فہم ترجمہ وہ ہے جو ابن کثیر نے اختیار کیا ہے : قریب میں تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ کہ عاقبت کی بھلائی کس کے لئے ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

(6:136) جعلوا۔ انہوں نے کیا۔ انہوں نے ٹھہرایا۔ انہوں نے مقرر کیا۔ جعلوا للہ شرکاء (6:100) انہوں نے اللہ کے شریک بنائے (وصفی طور پر) اور آیہ ہذا میں : انہوں نے اللہ کے لئے ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے ان کھیتوں اور مویشیوں سے جو اس نے پیدا کئے ہیں (فعلی طور پر۔ ای فعلوا بالفعل) ذرا۔ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ ذرا (باب فتح) سے۔ جس کے معنی پیدا کرنے ۔ ظاہر کرنے اور بکھیرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ الحرث۔ حرث یحرث (ضرب) کا مصدر۔ کھیتی ۔ زراعت۔ کھیت کو حرث کہتے ہیں۔ جیسے نساء کم حرث لکم (2:223) تمہاری بیویاں تمہاری کھتی ہیں۔ الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ۔ بکری۔ گائے۔ بھینس۔ اونٹ۔ نعم کی جمع۔ نصیبا۔ حصہ (اللہ کی نذر و نیاز کے لئے) ۔ سائ۔ برا ہے۔ ساء یسوء (نصر) سوء مصدر۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

(6:137) زین۔ اس نے سنوارا۔ اس نے زینت دی۔ اس نے بھلا کرکے دکھایا۔ تزیین (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل شرکائہم۔ اور قتل اولادھم مفعول۔ یردوھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر ردی۔ مادہ۔ کہ وہ ہلاکت میں ڈال دیں ان کو ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ کثیر من المشرکین کی طرف راجع ہے۔ ردی ہلاک ردی اور ردیان مصدر۔ لازم (باب ضرب) کو دکر چلنا۔ لڑھکنا۔ مقدی۔ ریزہ ریزہ ۔ چورا کردینا۔ کوٹنا۔ ردی مصدر (باب سمع) ہلاک ہونا ارداء (افعال) ہلاک کرنا۔ مشقت ڈال دینا۔ لیردوھم میں لام عاقبت۔ یا لام مآل ہے۔ جو کسی فعل پر مرتب ہونے والے نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یا لام علت ہے۔ لیلبسوا علیہم دینھم۔ تاکہ مشتبہ کردیں ان پر ان کا دین۔ یلبسوا۔ مضارع منصوب لبس مصدر (باب ضرب) تاکہ وہ خلط ملط کردیں۔ گڑ بڑ کردیں۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

(6:138) حجر۔ ممنوع۔ عقل۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے اسے حجر کہنا جانا ہے ۔ اس لئے غطیم کعبہ اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے : ولقد کذت اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی مجر کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے : ہل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) کیا بیشک یہ چیزیں قسم کھانے کے لائق ہیں۔ حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں ۔ یہاں حجر اسم مصدر ہے جو اسم مفعول (محجور) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس طرح ذبح مذبوح کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بزعمہم۔ بزعمھم الباطل من غیر حجۃ۔ اپنے گمان باطل سے بغیر کسی محبت یا دلیل یا حقیقت کے (یعنی یہ بات محض وہ اپنے گمان باطل کی بناء پر رکھتے ہیں) وانعام حرمت ظھورھا و انعام لایذکرون اسم اللہ علیہا۔ اور بعض چوپائے ایسے ہیں جن کی پشتیں (انہوں نے) حرام قرار دے رکھی ہیں۔ یعنی ان پر نہ سواری کرتے ہیں اور نہ بار لادتے ہیں کیونکہ ان کو کسی نہ کسی بت یا دیوتا (بصورت بت یا انسان کے نام منسوب کر رکھا ہے اور بعض چوپائے ایسے ہیں جن کو ذبح کرتے وقت وہ اللہ کا نام نہیں لیتے (اور اگر کسی کا نام لیتے ہیں تو ماسوی اللہ کسی اور بت یا شریک کا نام لیتے ہیں اور اس طرح اس کو شرعاً حرام کردیتے ہیں) ۔ اور پھر یہ ممنوع و مذموم افعال کو منجانب اللہ قرار دیتے ہیں ۔ افتراء علیہ۔ یہ ان کا فعل اللہ تعالیٰ پر محض ایک بہتان اور من گھڑت اور افتراء پروازی ہے۔ خدا نے ایسا کوئی حکم یا اجزات نہیں دے رکھی۔
Ayahs 6:139–140

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچّہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔ اور اگر وہ (بچّہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں۔ (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکو سلو کی سزا دیگا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےسمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کرکے اس کی عطا کی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا ہو گھاٹے میں پڑگئے۔ وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

(6:139) ھذہ۔ (متذکرہ بالا آیت 138) یا وہ جانور جو سائبہ اور بحیرہ کہلاتے تھے جس کے لئے ملاحظہ ہو 5:103 ۔ فھم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب۔ تو مرد اور عورتیں سب (اس میں شریک ہوسکتے ہیں) ۔ سیجزیہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ (اللہ) ان کو (ان کی مشرکانہ کرتوتوں کی) جزا دے گا۔ بدلہ دے گا۔ وصفہم۔ مصدر ۔ مضاف۔ ہم مضاف الیہ۔ ان کے بیان کی۔ ای وصفہم الکذب علی اللہ ان کا جھوٹا اور بےبنیاد بیان اللہ کے خلاف۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (بعض باتوں میں) نہیں ملتے۔ جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ اور بےجا نہ اڑانا۔ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(6:141) معروشت۔ اسم مفعول کی جمع مؤنث۔ معروشۃ واحد۔ عرش سے عشر اس نے لکڑی کا گھر بنایا۔ عرش چھتر۔ ٹٹی۔ عرشت الکرم۔ میں نے انگور کی بیل کے لئے چھتری بنادی۔ (باب ضرب) ہر چھتری کے لئے اونچا ہونا لازم ہے۔ اسی علو کے مفہوم کے لحاظ سے عرش بادشاہ کے تخت کو بھی کہتے ہیں۔ اور مجازاً اقتدار و سلطنت بھی مراد لیتے ہیں۔ معروشت۔ چھتری پر چڑھائی ہو بیلیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے عام بیلیں مراد ہیں خواہ چھتریوں پر چڑھائی گئی ہوں یا نہ۔ مگر اوپر پھیلائی جاتی ہوں۔ مثلاً انگور۔ خربوزہ۔ تربوز۔ کدو وغیرہ۔ غیر معروشت۔ وہ پودا جو چھتری پر نہ چڑھایا جائے۔ جس کی بیل نہ ہو اور اپنے تنہ پر کھڑا ہو۔ مثلاً کھجور کا درخت۔ گیہوں ۔ جو وغیرہ۔ اکلہ۔ اس کا میوہ۔ اس کا پھل۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایسی کھیتیاں جس کے پھل۔ میوہ الگ الگ ہوں اپنے ذائقہ اور کیفیت میں مختلف ہوں۔ یا اپنے مزہ اور غذائیت میں مختلف ہوں ہ ضمیر الزرع کے لئے ہے۔ ثمرہ۔ میں ہ ضمیر ان میں سے ہر ایک کے لئے ہے۔ ای کل واحد من ذلک ۔ اتوا حقہ۔ اور اللہ کا حق ادا کرو۔ یعنی اس میں سے اللہ کی راہ میں دو ۔ یہ عشر کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور صدقہ اور خیرات کے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن زکوۃ نہیں ۔ کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی تھی۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے اور یہاں مراد زکوۃ ہے۔ یوم حصارہ۔ اس کے کاٹنے کے دن۔ یہاں حصار سے مراد وہ کھیتی ہے جو صحیح وقت میں کاٹی گئی ہو۔ فجعلناھا حصیداً (10:24) میں سے مراد وہ کھیتی جو بےوقت فساد اور تباہی کی غرض سے کاٹی گئی ہو۔ قرآن مجید میں ہے منھا قائم وحصید (11:100) ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔ (یہاں تباہ کی گئی بستیاں مراد ہیں) لاتسرفوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اسراف (افعال) سے۔ تم بیجا مت اڑاؤ۔ تم حد سے نہ بڑھو۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی۔ (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

(6:142) ومن الانعام۔ اور پیدا کیا اس نے چوپایوں میں سے۔ حمولۃ۔ لادنے والے جانور۔ بوجھ اٹھانے والے۔ حمل سے صفت مشبہ کا صیغہ ۔ چوپائے ازم قسم اونٹ ۔ گھوڑا۔ گدھا وغیرہ فرسا۔ مصدر بھی ہے لیکن اس جگہ ایسے چھوٹے چوپائے مراد ہیں جو کہ ان پر بوجھ نہیں لادا جاتا جیسے بکریاں بھیڑیں وغیرہ۔ یا ایسے جانور جو فرش پر لٹا کر ذبح کئے جاتے ہیں۔ خطوات۔ خطوۃ کی جمع ۔ قدم۔ شیطان کی پیروی مت کرو۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو ) بھیڑوں میں سے اور دو (دو ) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

(6:143) ثمنیۃ ازواج۔ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یہ حمولۃ وفرشا کا بدل ہے۔ (2) یہ کلوا کا مفعول ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے کلوا مما رزقکم اللہ ثمنیۃ ازواج اس صورت میں ولا تبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین جملہ معترضہ ہے۔ (3) اس کا فعل محذوف ہے ای انشأ ثمنیۃ ازواج اس نے پیدا کئے آٹھ جوڑے۔ ازواج۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ اقران : زوج۔ کی جمع ہے۔ حیوانات کے جوڑے میں نر اور مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں ۔ لہٰذا ثمنیۃ ازواج کے معنی ہوئے آٹھ زوج یعنی آٹھ چوہائے مشتمل بر نر مادہ (پیدا کئے) الضان۔ اسم جنس۔ بھڑ۔ مادہ دنبہ وغیرہ۔ جن پر اون ہو۔ ضائن کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکب ہے ضائتۃ مؤنث۔ ہر دو کی جمع ضان ہے۔ بعض کے نزدیک یہ اسم جمع ہے۔ المعر۔ اسم جنس۔ بکریاں۔ اس کا واحد ماعز ہے اور مؤنث ماعزۃ۔ من الضان اثنین۔ بکریوں میں سے دو چوپائے (ایک نر اور ایک مادہ) ء الذکرین حرم۔ کیا دونوں نر حرام کئے ہیں اس نے (ایک نر ضأن میں سے ایک نر معز میں سے) ؟ اس میں ئٰ الف استخبار ہے یعنی کسی چیز کے متعلق دریافت کرنا خواہ (1) بصورت استفہام ہو یعنی بطور سمجھنے کے۔ جیسے اتجعل فیہا من یفسد فیہا (2:30) کیا تو مقرر کریگا زمین پر اس شخص کو بطور خلیفہ جو اس میں فساد کرے گا۔ یا (2) بطور تہدید یعنی زجرو توبیخ جیسے آیۃ ہذا میں ۔۔ اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین۔ یا وہ (بچہ) جیسے ان دونوں مادنیوں (یعنی مادہ بھیڑ اور مادہ بکری) رحم لئے ہوئے ہیں ؟ یعنی جو ان کے پیٹ میں ہے اس کو اللہ نے حرام کیا ہے ؟ نبئونی بعلم۔ مجھے کسی علمی دلیل سے بتاؤ۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو ) اونٹوں میں سے دو (دو ) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(آیۃ 143-144) اس امر پر توبیخ کی گئی ہے کہ خدا نے ان چاروں قسم کے چاپایوں میں سے (بھیڑ ، بکری، اونٹ، گائے) یا ان کی مادنیوں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کو حرام نہیں کیا۔ یہ محض تمہاری اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں کہ کسی کو سائبہ، بحیرہ وغیرہ کا نام دے کر حرام کرلیا۔ اور کسی کو مردوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام کردیا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا گناہ کی کوئی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہے۔ (اور) اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

(6:145) مسفوحا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ سفح مصدر (باب فتح) بہایا ہوا۔ بہتا ہوا۔ رجس۔ ناپاک ۔ پلید۔ گندہ۔ عذاب۔ بلا ۔ ارجاس۔ جمع۔ فانہ۔ میں ضمیر ہ لحم الخنزیر کی طرف راجع ہے۔ فسقا۔ اسم فعل۔ حالت نصب ۔ گناہ کی چیز۔ فسق کے معنی ہیں دائرہ شریعت سے نکل جانا عربی میں محاورہ ہے فسق الرطب عن قشرہ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ اوفسقا۔ یا ناپاک گوشت (یہاں چونکہ جانوروں کے گوشت کا ذکر ہو رہا ہے اس لئے فسق سے مراد وہ گوشت ہے جو نافرمانی کا سبب بن سکے یا گناہ کا موجب ہوسکے۔ یا ایسا کو کہ وہ شریعت کے احکام کے خلاف ہو) ۔ فسقا کا عطف ہے لحم الخنزیر پر اور فانہ رجس جملہ معترضہ ہے۔ اہل لغیر اللہ بہ فسق کی صفت ہے۔ یعنی (کھانے والے پر حرام ہے) مردار۔ بہتا ہوا خون۔ سور کا گوشت یا وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اہل۔ پکارا گیا۔ اہلال سے ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب۔ اہلال کے معنی نیا چاند دیکھتے وقت آواز لگانے اور پکارنے کے ہیں پھر ہر آواز کے متعلق اس کا استعمال ہونے لگا۔ پس جس جانور کو بھی اللہ کے سوا کسی غیر کی نذر سے نامزد کیا جائے خواہ وہ غیربت ہو یا جن یا خبیث روح یا پیر پیغمبر یا کوئی مکان یا تھان۔ اور اس نیت سے ذبح کیا جاوے کہ اس سے ان کو خوشنودی یا تقرب حاصل ہوگا سو وہ جانور حرام اور ما اہل بہ لغیر اللہ میں داخل ہوگا خواہ بوقت ذبح اللہ کے سوا کسی کا نام لیا جاوے یا نہ۔ اسی طرح وہ جانور بھی جس پر بوقت ذبح اللہ کے سوا کسی کا نام لیا جائے۔ اس زمرہ میں شامل ہے۔ اہل للہ ب۔ ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہنا۔ (الفرائدریہ) اضطر۔ وہ بےاختیار کیا گیا۔ وہ لاچار کیا گیا۔ اخطرار (افتعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اضطرار کے معنی ہیں انسان کو کسی ضرر رساں چیز پور مجبور کرنا۔ عام طور پر اس کا استعمال انسان کو کسی ایسی چیز یا ایسے امر پر مجبور کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ غیر باغ۔ باغ اصل میں باغی تھا۔ ی ساقط ہوگئی۔ حد سے نکل جانے والا۔ حکم عدولی کرنے والا۔ بغی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ عاد۔ زیادتی کرنے والا۔ عدو سے جس کے معنی ظلم کرنے اور حد سے بڑھنے کے ہیں اسم فاعل واحد مذکر عاد اصل میں عدو تھا۔ واؤ پہلے یاء ہوا۔ پھر گرگیا۔ قاعدہ ہے کہ جو واؤ اسم فاعل میں کلمہ کے آخر میں واقع ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو وہ یا ہوکر گرجاتی ہے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کے چربی حرام کو دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی ہو یا ہڈی میں ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

(6:146) ھادوا ماضی جمع مذکر غائب ھود مصدر (باب نصر) یہودی ہوئے یعنی جو یہودی ہیں ھود یہودیوں کی جماعت۔ ذی ظفر۔ جس کے نیچے ہوں۔ پنجہ والے شکار کرنے والے جانور۔ ظفر۔ ناخن۔ خواہ انسان کا ہو یا حیوان کا۔ لیکن آیۃ ہذا میں پنجہ والے شکاری جانور مرا د ہیں۔ الغنم۔ اسم جنس۔ بکری ۔ بکریاں۔ شحومھما۔ ان دونوں (گائے اور بکری) کی چربی۔ شخوم ۔ شحم کی جمع ہے۔ الحوایا۔ انتڑیاں۔ آنتیں۔ حویۃ کی جمع۔ اختلط بعظم۔ او اختلط بعظم۔ ای ما لصق بالعضام من الشحوم۔ وہ چربی جو ہڈیوں سے چمٹی ہوئی ہو۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

(6:147) یرد۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب رد مصدر (باب نصر) لا یرد۔ نہیں لوٹا یا جائے گا۔ باسہ۔ اس کا عذاب۔ مضاف مضاف الیہ۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو (ہم سب شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے۔ کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے ؟ (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو۔ تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہو۔

(6:148) تخرصون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم اٹکلیں مارتے ہو۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ خرص سے باب نصر۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیدیتا۔

(6:149) الحجۃ البالغۃ۔ دلیل کامل۔ الحجۃ الدلیل۔ البالغۃ اسم فاعل۔ واحد مؤنث۔ پہنچی ہوئی۔ پہنچنے والی (حقیقت کو پہنچنے والی۔ انتہا کو پہنچنے والی۔ دلیل تامہ) ۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آکر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

(6:150) ہلم۔ اسم فعل بمعنی امر۔ واحد۔ تنبیہ ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے تذکیر و تانیث ہر حالت میں ہلم ہی آتا ہے۔ لازم بھی ہے۔ متعدی بھی ہے۔ لاؤ۔ حاضر کرو۔ آؤ۔ آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ 33:18 میں ہلم الینا لازم استعمال ہوا ہے۔ یعدلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے عدیل (ہمسر) اوروں کو بھی بناتے ہیں۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں ( ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بد سلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (کیونکہ) تم کو اور ان کو ہمیں رزق دیتے ہیں۔ اور بےحیائی کا کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اور کسی جان (والے کو) جس کے قتل کو خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا۔ مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں تاکید فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

(6:151) تعالوا۔ تم آؤ۔ تعالیٰ سے باب تفاعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی بلند مرتبہ کے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی شخص دوسرے کو تعال کہہ کر بلاتا ہے تو گویا وہ رفعت کے حصول کی طرف دعوت دیتا ہے قرآن حکیم میں جہاں تعالوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے جیسے تعالوا الی کلمۃ (3:64) جو بات یکساں تسلیم کی گئی ہے اس کی طرف آؤ۔ اور تعالوا الی ما انزل اللہ (4:61) جو حکم خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف رجوع کرو۔ تعال۔ ہلم کے ہم معنی ہے۔ اتل اصل میں اتلوا ہے۔ مضارع مجزوم واحد متکلم ۔ میں پڑھ کر سناؤں۔ تلاوۃ سے (ت ل و مادہ تلاۃ (نصر) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنے کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی چیز مائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے۔ اس معنی میں اس کا مصدر تلو تلو آتا ہے اور کبھی یہ متابعت کسی قرأت (پڑھنے اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور و فکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے) اس معنی میں اس کا مصدر تلاوۃ ہے پہلی مثال والقمراذا تلاھا (91:2) اور چاند کی قسم جب وہ سورج کا اتباع کرتا ہے ۔ اور ویتلوہ شاھد منہ (11:17) اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو۔ یعنی ایسا شاہدجو اس کی پیروی کرتا ہے اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے۔ یتلون ایت اللہ (3:113) وہ آیات الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں۔ الـتلاوۃ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع کو تلاوۃ کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ اتباع ان کے اوامرو نواہی (احکام) ترغیب و ترہیب اور جو کچھ ان سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کی اتباع کی صورت میں ۔ مگر یہ لفظ قرأت (پڑھنے) سے خاص ہے یعنی تلاوت کے اندر قرأت کا مفہوم پایا جاتا ہے مگر قرأت کے اندر تلاوت کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔ چناچہ کسی کا خط پڑھنے کے لئے تلوت رقعتک نہیں بولتے۔ جبکہ یہ لفظ صرف قرآن پاک کے کچھ پڑھنے پر بولا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پڑھنے سے اس پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ما حرم ربکم علیکم۔ جو تمہارے رب نے تمہارے لئے حرام کیا ہے۔ (اس کی تفصیل آیۃ ہذا اور آیات نمبر 151 ۔ 152 ۔ 153 میں دی گئی ہے) املاق۔ بروزن افعال مصدر ہے۔ مفلس۔ تنگدست ہونا۔ املق مفلس ہونا۔ املق الدھر مالہ۔ زمانہ نے اس کے مال کو ہاتھ سے نکال دیا۔ کنگال کردیا۔ من املاق تنگدستی کی وجہ سے۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

(6:152) اشدہ۔ اس کی عقل وتمیز اور قوت کا مکمل ہونا۔ اشد کے معنی ہیں قوت و عقل وتمیز کا مکمل ہونا۔ اوفوا۔ تم پورا کرو۔ ایفاء (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ الکیل۔ غلہ سے پیمانہ بھرنا۔ غلہ ناپنا۔ کلت الطعام۔ میں سے اسے غلہ ناپ کردیا ۔ کال یکیل کیلا (ضرب) گیہوں وغیرہ (اناج غلہ) کی مقدار کو کسی پیمانہ سے ناپنا۔ اکتال یکتال اکیتال منہ وعلیہ اپنے لئے ناپنا۔ المکیال۔ ناپنے کا آلہ۔ بالقسط۔ انصاف و عدل کے ساتھ۔ تذکرون۔ تم نصیحت پکڑو۔ تم دھیان رکھو۔ تذکر (تفعل) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

(6:153) فتفرق بکم عن سبیلہ۔ تمہیں متفرق کر دے گی تمہیں جدا جدا کر دے گی۔ اس کا فاعل السبل ہے۔ (سبیل کی جمع) راستے ۔ راہیں۔ ای فتیمل بکم ھذہ الطرق المختلفۃ المضلۃ عن دینہ و طریقہ الذی ارتضاہ لعبادہ۔ کہ یہ مختلف اور گمراہ کن راستے تمہیں اللہ کے اس دین اور طریق مستقیم سے ہٹا دیں جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ ذلکم وصکم بہ۔ ای امرکم ب اتباع دینہ و طریقہ یہ ہے اس کا وہ طریقہ جس کے اتباع کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کردیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکا یقین کریں۔

(6:154) ثم اتینا موسیٰ الکتب۔ یہاں ثم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ ثم پھر ۔ التراخی فی الوقت کے لئے بولا جاتا ہے ۔ یعنی ماقبل سے مابعد کے وقت کے لحاظ سے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ التراخی فی الزنیہ کے لئے بھی بولتے ہیں۔ ایسے موقع پر اس کے معنی ہوں گے مزید برآں۔ اس سے بڑھ کر۔ ان معنوں میں یہ آیۃ 2:29 میں استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموت وہی ذات ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے تمہارے واسطے پیدا کیا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان مکمل کر دئیے۔ یہاں تراخی فی الوقت تو ہو نہیں سکتا کیونکہ سورة والنزعات 79:28 میں آسمان کے پیدا کرنے کے بعد آیۃ 30 میں فرمایا والارض بعد ذلک وجھا (79:30) اس کے بعد اس نے زمین کو بجھایا۔ لیکن یہ محض لغوی بحث ہے درحقیقت قرآن میں کہیں زمین کی پیدائش کا پہلے ذکر ہے اور آسمانوں کی پیدائش کا ذکر بعد میں اور کہیں زمین کے ذکر کو آسمانوں کے ذکر پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ کسی جگہ بھی مقصود کلام یہ نہیں ہے کہ کس کو پہلے بنایا گیا اور کس کو بعد میں۔ بلکہ موقع محل کے مطابق ہر ایک کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو بیضاوی 6:164 ۔ تفہیم القرآن 79:20) ثم عاطفہ ہے۔ اور اس کا عطف وصکم پر ہے۔ اور یہ عطف ایک خبر کے بعد دوسری خبر بتانے کے لئے ہے کہ جب اللہ پاک اپنے قول وان ھذا صراطی مستقیما کے ذریعہ قرآن سے متعلق خبر دے چکا تو مدح توریت پر ثم کے ذریعہ عطف فرمایا۔ کہ اب تمہیں یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی جو کہ تماما علی الذی ۔۔ الخ تھی۔ تماما۔ پورا کرنا۔ پورا ہونا۔ تمام کرنا۔ تمام ہونا۔ کسی شے کے تمام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس حد تک پہنچ چکی کہ اب کسی خارجی شے کی اس کو احتیاج نہیں رہی۔ مکمل ۔ ناقص کی ضد ہے ناقص وہ ہے جو کسی خارجی شے کا محتاج ہو (یہاں پورا ہونا بطور نعمتوں اور نصانح کے ہے) ۔ علی الذین احسن۔ علی کل من احسن۔ ہر وہ شخص جو نیک عمل کرے۔ بھلائی کی روش اختیار کرے۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

(6:155) وھذا کتب۔ یعنی قرآن حکیم۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور اس لئے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دوہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں۔ اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بیخبر تھے۔

(6:156) ان تقولوا۔ ان انزلنہ کی علت ہے یعنی ہم نے اسے نازل فرمایا ۔ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو ۔ طائفتین۔ یعنی یہود اور نصاری۔ ان کنا۔ ان ثقیلہ سے مخفف ہے۔ وانہ کنا اور یہ کہ ہم (ان کے پڑھنے اور پڑھانے سے بالکل بیخبر تھے) ۔ دراستھم۔ ان اک پڑھنا پڑھانا۔ ان کی تلاوت۔ درس یدرس کا مصدر ہے۔ مضاف ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جو ان کتب کے متعلق ہے جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا ہے کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی تھی۔ مضاف الیہ ہے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے راستے پر ہوتے۔ سو تمہارے پس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان کے (لوگوں کو) پھیرے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزادیں گے۔

(6:157) او تقولوا۔ قبل الذکر ان تقولوا پر عطف ہے ای۔ او ان تقولوا۔ یا تم یہ نہ کہہ سکو۔ بینۃ۔ کھلی دلیل۔ واضح دلیل۔ روشن نشانی۔ واحد ۔ بینت جمع۔ صدق عنھا۔ صدق یصدق (ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے اس سے منہ پھیرلیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب راجع۔ الی ایات اللہ۔ صدف۔ روگردانی کرنا۔ منہ موڑنا ۔ کترانا۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں۔ یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں ؟ (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا) ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں۔

(6:158) ینظرون۔ نظر ینظر (نصر) مضارع۔ جمع مذکر غائب۔ وہ انتظار کرتے ہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں۔ ہل ینظرون۔ وہ کس کی انتظار کر رہے ہیں الا ان۔ وائے اس کے کہ۔ یہاں استفہام انکاری ہے۔ بمعنی کہ وہ کسی اور بات کا انتظار نہیں کر رہے بجز اس کے کہ۔ الملئکۃ۔ سے مراد امر ربک بالعذاب۔ تیرے رب کا حکم ان کے عذاب کے لئے۔ ایات۔ سے مراد آیات قاہرہ ہیں۔
Ayahs 6:159–160

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

6:159) فرقوا۔ فرق یفرق تفرق (تفعیل) انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔ یعنی انہوں نے مذہب کے کئی فرقے بنا دئیے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وکانوا شیعا۔ اور ہوگئے کئی گروہ۔ اور گروہوں میں بٹ گئے۔ شیعا۔ جمع ہے شیعۃ کی۔ اصل میں شیاع کے معنی انتشار اور تقویت کے ہیں۔ اس کا اطلاق واحد تثنیہ جمع مذکر اور مؤنث سب پر ہوتا ہے۔ لست منھم فی شئی۔ تو کسی امر میں بھی ان میں سے نہیں ہے۔ یعنی آپ کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ینبئہم۔ نبا ینبی تنبئۃ (تفعیل) وہ بتادے گا۔ وہ خبردار کر دے گا۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔