6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsانوار البیان

Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکہ ڈروں جبکہ تم اس نے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

(6:81) لم ینزل۔ مضارع نفی حجد بلم۔ واحد مذکر غائب۔ اس نے نہیں نازل کیا۔ اس نے نہیں اتارا۔ یعنی جس کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی۔ تم کو کوئی اجازت نامہ نہیں دیا۔ الفریقین۔ موحدین کا فریق اور مشرکین کا فریق۔ حضرت ابراہیم اور اس کے پیروکار ایک فریق ۔ مشرکین مخالفین دوسرا فریق۔ بالامن۔ ای امن من العذاب۔ عذاب سے بےخو فی اور اطمینان۔
Ayahs 6:82–83

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو انکی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

(6:82) لم یلبسوا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب لبس مصدر۔ انہوں نے نہیں ملایا۔ انہوں نے مخلوط نہیں کیا۔ آیت 82 پر حضرت ابراہیم کا کلام ختم ہوا۔
Ayahs 6:84–87

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) بخشے (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ سب نیکو کار تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا ' اور سیدھا راستہ بھی دکھایا تھا۔

(6:84) ذریۃ ذر سے ۔ نسل۔ اولاد۔ ذرۃ ذرہ بھر۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شریک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔

(6:88) حبط عن۔ الحبط (حسب یحسب) کے معنی کسی کام کے ضائع ہوجانے اور اکارت ہونے کے ہیں۔ آیۃ ہذا۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔ ارشاد ہے لیحبطن عملک (39:65) تو یقینا تمہارے عمل برباد ہوجائیں ۔ حبط عنہ ای ذھب عنہ۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفّار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کیلئے) ایسے لوگ مقّرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنیوالے نہیں۔

(6:89) بھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث۔ الکتب۔ والحکم۔ والنبوۃ کی طرف راجع ہے۔ یا اس کا مرجع آیات قرآنی ہیں جو دلائل التوحید والنبوۃ کے متعلق ہیں۔ ھؤلائ۔ یعنی اہل مکہ۔ وکلنا بھا۔ وکلنا۔ ماضی معروف جمع متکلم۔ توکیل (تفعل) مصدر۔ ہم نے مقرر کردیا ہے۔ قوما۔ گروہ۔ جماعت۔ بلا تخصیص نسل و وطن (اس صورت میں جب کہ ایسی قوم بلاواسطہ مخاطب نہ ہو) ایک نسب اور وطن سے تعلق رکھنے والی جماعت (جہاں پیغمبروں نے ان کو خطاب کیا ہو جیسے یا قوم یا اذقال لقومہ) ۔ یہاں اس آیۃ میں قوم سے مراد اصحاب النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔ انصار۔ مہاجرین۔ تابعین ۔ تبع تابعین۔ عربی، عجمی سب مراد ہیں جو اہل ایمان تھے۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدیات دی تھی تو تم انھی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے محض نصیحت ہے۔

(6:90) اولئک سے مراد وہ اٹھارہ انبیاء ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔ اقتدہ۔ تو اس کی پیروی کر۔ تو اس کی اقتدا کر۔ اقتداء کا معنی ہے کسی کے کام کے موافق کوئی کام کرنا۔ علامہ قطب الدین الکشاف کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :۔ ” کہ یہاں اقتداء سے مقصود صرف اخلاق فاضلہ اور صفات کمال ہیں ان جلیل القدر انبیاء کی پیروی کرنا ہے “۔ ہ ضمیر واحد مذکر فبھذا ہم میں ھدی کی طرف راجع ہے۔ اولئک الذین (آیۃ 89) سے لے کر اقتدہ (آیۃ 90) تک ترجمہ یوں ہوگا۔ یہ تھے انبیاء جنہیں ہم نے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کی۔ پس اگر یہ لوگ (اہل مکہ) ان (کتاب و حکمت۔ نبوت یا آیات قرآنی) سے انکار کرتے ہیں۔ تو ہم نے مقرر کردیا ہے ایک ایسی قوم کو (اصحاب النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ انصار۔ مہاجرین وغیرہ) جو ان (کتاب و حکمت ۔ نبوت یا آیات قرآنی) سے منکر نہیں ہے (بلکہ ان پر ایمان رکھتی ہے) یہی (انبیاء علیہم السلام) وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی تو بھی ان کی اس ہدایت کی (جو میں نے ان کو عطا کی) پیروی کر۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن یا تبلیغ قرآن ہے اور اسی طرح ھو ضمیر کا مرجع بھی قرآن ہے۔ ان نافیہ ہے۔ ذکری نصیحت۔ اوپر 6:68 ملاحظہ ہو۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ' جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ اور جسے تم نے علیٰحدہ علیٰحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے۔ ان (کے کچھ حصّے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

(9:91) ما قدروا۔ ماضی منفی معروف۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔ تجعلونہ قراطیس۔ جن کو تم نے متفرق اور مختلف کاغذوں میں لکھ رکھا ہے (تاکہ اپنے مطلب کے اوراق مختلف مواقع پر پیش کئے جاسکیں جیسا کہ ان کے اپنے مفاد میں مناسب ہو) ۔ قراطیس۔ القرطاس ہر وہ چیز جس پر لکھا جائے۔ کاغذ وغیرہ۔ قل اللہ۔ جواب ہے قل من انزل الکتاب الذی جاء بہ موسیٰ کا۔ قل اللہ کو اگر جملہ اسمیہ لیا جائے تو تقدیر ہوگی قل ھو اللہ۔ اور جملہ فعلیہ کے اعتبار سے اس کی تقدیر ہوگی۔ قل انزلہ اللہ۔ خوضہم۔ ان کی بیہودہ گوئی۔ باتیں بنانا۔ گھسنا۔ خاض یخوض کا مصدر ہے خوض کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں بطور استفادہ سب کاموں میں گھسنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

(6:92) لتنذر۔ کہ ڈرائے تو۔ تو ڈرائے گا۔ تو ڈراتا ہے۔ انذار۔ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ ام القری مکہ معظمہ۔ بستیوں کی اصل اور جڑ۔ بستیوں کی ماں۔ من حولہا۔ جو اس کے اردگرد ہے۔ یعنی تمام اہل مشرق و مغرب
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (انکی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں۔ کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

(6:93) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ اشتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ من قال۔ ای من اظلم ممن قال۔ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو کہے۔ ولو تری۔ کاش تو دیکھے۔ کاش تو دیکھ سکے۔ غمرات۔ غمرۃ کی جمع۔ موت کی سختیاں۔ جو سارے اعضاء پر چھا جائیں۔ غمرۃ وہ کثیر پانی جس کی تہ نظر نہ آئے۔ بطور تشبیہ اس سے مراد جہالت۔ غفلت لی جاتی ہے۔ جو قوی پر غالب آجائے۔ باسطوا۔ اصل میں باسطون تھا۔ ایدیہم کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے ن ساقط ہوگیا۔ کھولنے والے۔ بڑھانے والے یعنی کاش تو ان ظالمین کو اس حالت میں دیکھ سکے جب موت کی سختیاں ان پر غالب ہوں گی۔ اور فرشتے (ان کی جان نکالنے کے لئے) ہاپنے ہاتھ ان کی طرف بڑھا رہے ہوں گے۔ اخرجوا انفسکم۔ اس سے پہلے یقولون لہم محذوف ہے۔ اخرجوا انفسکم لاؤ اپنی جانیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ۔ اگر ہوسکتا ہے تو چھڑا لو اپنی جانیں ہمارے ہاتھوں سے اخرجوا فعل امر حاضر۔ انفسکم مفعول بہٖ ۔ تجزون۔ تم بدلہ دئیے جاؤ گے۔ تم جزا دئیے جاؤ گے۔ جزاء سے جمع مذکر حاضر۔ عذاب الھون۔ اسم ہے۔ الھون کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے۔ (1) انسان کا کسی ایسے موقع پر نرمی کا اظہار کرنا کہ جس میں اس کی سبکی نہ ہو۔ یہ قابل ستائش ہے قرآن حکیم میں ہے وعبا والرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا (25:63) اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں۔ (2) ھوان بمعنی ذلت اور رسوائی کے بھی آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر مسلط ہوکر اس کو سبکسار کرے۔ تو یہ قابل مذمت ہے قرآن حکیم میں ہے فاخذتھم صاعقۃ العذاب الھون (41:17) تو ۔۔ کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا۔ اور اگر علی کے ساتھ آئے تو معنی معاملہ کے آسان ہونے کے ہیں جیسے ھو علی ھین (19:31) کہ یہ مجھے آسان ہے۔ سو عذاب الھون بمعنی ذلت کا عذاب۔ تستکبرون۔ استکبار (استفعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم تکبر کرتے تھے۔ تم گھمنڈ کرتے تھے۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال و متاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے شفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

(6:94) جئتمونا۔ تم ہمارے پاس آپہنچے۔ اس میں واؤ اشباع کا اور نا ضمیر جمع متکلم ہے۔ فرادی۔ فرد۔ کی جمع۔ اکیلے اکیلے۔ ایک ایک۔ خولنکم۔ ہم نے تم کو عطا کیا۔ ہم نے تم کو دیا۔ تخویل (تفعیل) سے جس کے معنی ایسی چیزوں کے عطا کرنے کے ہیں جن کی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں فلان خال مال او خائل مال۔ یعنی فلاں مال کی خوب نگہداشت کرنے والا ہے (آیۃ ہذا میں : جو مال و متاع ہم نے تم کو دیا تھا تم سب پیچھے چھوڑ آئے) ماضی جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ فیکم۔ ای امورکم۔ تمہارے معاملات میں۔ شرکاء یعنی شرکاء للہ۔ یعنی جن کو تم یہ سمجھتے تھے کہ تمہاری فلاح و بہبود اور نفع و نقصان میں اللہ کے ساتھ شریک ہیں اور عمل و دخل رکھتے ہیں۔ تقطع۔ کٹ گیا ۔ ٹوٹ گیا۔ قطع قطع ہوگیا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ تقطع (تفعل) سے تقطع بینکم۔ ای تقطع ما بینکم من الوصل۔ بیشک تمہارے درمیان جو رشیہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ ضل۔ کھوگیا۔ گم ہوگیا۔ ضاٗع ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔ بھٹک گیا۔ راہ سے دور جا پڑا۔ ما کنتم تذعمون۔ اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے (وہ کھوگئے)
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ (کر ان سے درخت وغیرہ اگاتا) ہے۔ وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جان دار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

(6:95) فالق۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فلق مصدر۔ پھاڑنے والا۔ بیج اور گٹھلی کو پھاڑ کر سبزہ نکالنے والا۔ (فالق الحب والنوی) تاریکی کو پھاڑ کر صبح کرنے والا۔ فالق الاصباح۔ الحب۔ دانہ۔ غلہ۔ گندم۔ اناج۔ اس کی جمع حبوب ہے۔ عام (دوائی وغیرہ کی گولیوں کو) بھی حب کہتے ہیں۔ النوی۔ النواۃ۔ اس کی واحد۔ کھجور کی گٹھلیاں۔ تؤفکون تم پلٹائے جاتے ہو۔ تم پھیرے جاتے ہو۔ افک سے جس کے معنی کسی شے کے اپنے اصل رض سے پھرنے کے ہیں یہاں اعتقاد میں حق سے باطل کی طرف ۔ قول میں راستی سے دروغ بیانی کی طرف اور فعل میں نکوکاری سے بدکاری کی طرف پھیرا جانا مراد ہے۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ذلکم اللہ فانی تؤفکون۔ یہ ہے اللہ (ان خوبیوں والا) اور (تم دیکھو) تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھیرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔

(6:96) سکنا۔ برائے تسکین۔ آرام۔ راحت۔ برکت ۔ جس سے سکون حاصل ہو۔ سکون سے اسم ہے۔ بسنے کی جگہ۔ آرام و سکون کی جگہ یا وقت۔ محلا للسکون (قرطبی) ۔ حسبانا۔ برائے حساب ۔ شمار۔ حسبان بمعنی حساب و شمار۔ حسب یحسب (نصر) کا مصدر ہے۔ قرآن مجید میں جو یہ آیا ہے ویرسل علیہا حسبانا (18:4) اور بھیج دے اس پر عذاب تو یہاں حسبان کی دو تفسریں کی گئی ہیں۔ (1) ایک آگ یا بھوکا۔ (2) دوسرا عذاب اور حقیقت میں حساب کے مطابق سزا۔ تقدیر۔ اندازہ ۔ مقدار کو مقرر کرنا۔ خواہ کسی نوعیت کے متعلق ہو۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

(6:97) لقوم یعلمون۔ اہل دانش و اہل علم کے لئے۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

(6:98) مستقر۔ ظرف مکان۔ بروزن اسم مفعول استقرار مصدر۔ قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مستودع۔ ظرف مکان۔ بروزن اسم مفعول استبداع (استفعال) مصدر۔ امانت رکھنے کی جگہ۔ حفاظت کی جگہ۔ رحم مادر۔ مستقر اور مستودع کے متعلق علماء کے متعدد اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مستقر سے مراد شکم مادر اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مستقر سے مراد زمین ہے جہاں انسان دنیوی زندگی بسر کرتا ہے اور مستودع سے مراد قبر ہے۔ جہاں مرنے کے بعد حشر تک کا درمیانی عرصہ گزارنا ہوتا ہے۔ اور بعض کے مطابق مستقر سے مراد دنیوی زندگی (ظرف زمان) اور مستودع روانگی کا وقت (ظرف زمان) وداع سے رخصت ہونا۔ اس کی تقدیر ہے۔ فلکم مستقرو مستودع۔ یفقھون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سمجھ رکھتے ہیں۔ سمجھتے ہیں۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برستا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینہ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزوں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) انکے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(6:99) نبات۔ گھاس۔ سبزی۔ زمین کی پیداوار۔ روئیدگی۔ زمین سے پیدا کرنا۔ زمین سے اگنے والی ہر چیز۔ منہ۔ میں ضمیر نبات کی طرف راجع ہے۔ یعنی نباتات سے ہم سرسبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ خضرا۔ سبزہ۔ سبز۔ خضر سے جس کے معنی سبز اور ہرا ہونے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ متراکبا۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ تراکب (تفاعل) مصدر۔ تہ برتہ۔ ایک پر ایک سوار۔ رکب اور رکوب کے معنی کسی جانور پر سوار ہونا۔ اناج کی بالی کے دانے باہم متصل ہوتے ہیں۔ ایک دانہ دوسرے سے وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی اوپر ہوتا ہے کوئی نیچے۔ اس لئے اس کو تراکب کہا گیا ہے۔ گویا تہ برتہ ہونے کے سبب ایک دانہ دوسرے پر سوار ہوتا ہے۔ مکی کا سٹہ۔ اور انار کے دانے بہترین مثال ہیں۔ طلعھا۔ اس کا گابھا۔ اس کا خوشہ۔ اس کا شگوفہ۔ قنوان۔ قنو کی جمع ۔ کھجوروں کے گچھے۔ دانیۃ۔ جھکنے والے۔ لٹکنے والے۔ دلو سے جس کے معنی قریب ہونے کے ہیں۔ جھکنے اور لٹکنے میں بھی قربت کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہواحد مؤنث۔ اعناب۔ عنب کی جمع ، انگور۔ الرمان۔ انار۔ مشتبھا وغیر متشابہ۔ اپنی نوع اور قسم کے لحاظ سے ایک جیسے لیکن اپنی اپنی انفرادی شکل و شبہات کے لحاظ سے الگ الگ۔ مثلاً ایک مکی کا خوشہ بظاہر ہر خوشہ مکی سے مشابہت رکھتا ہے لیکن اس کا سائز دانوں کی قطاروں کی تعداد ، ہر قطار میں دانوں کی تعداد۔ ان کا باہمی فاصلہ وغیرہ ایسی چیزیں جو کسی دو خوشوں میں ایک جیسی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا ہر خوشہ کی انفرادیت اپنی اپنی۔ ینعہ مصدر۔ مجرور۔ مضاف ہ ضمیر مضاف الیہ۔ اس کے پکنے کو ینع (ضرب فتح) پھل پکنا۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کے نسبت بیان کرتے ہے پاک ہے۔ اور (اسکی شان ان سے) بلند ہے۔

(6:100) وخلقھم۔ واؤ حالیہ ہے۔ خلق میں فاعل اللہ ہے۔ ہم ضمیر الجن کی طرف راجع ہے حالانکہ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ خرقوالہ۔ انہوں نے تراشا۔ خرق سے ۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ الخرق (ضرب) کسی چیز کو بلا سوچے سمجھے بھاڑنے کے لئے بھاڑ ڈالنا۔ قرآن میں ہے کہ : اخرقھا لتغرق اہلہا (15:17) کیا تو نے اس کو اس لئے پھاڑا ہے کہ مسافروں کو غرق کر دے۔ خرق۔ خلق کی ضد ہے۔ جس کے معنی اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانے کے ہیں اور خرق کے معنی کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنے کے ہیں۔ آیۃ ہذا میں : اور بےسمجھے (جھوٹ ، بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا گھڑی ہیں۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا (ہے) اس کے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

(6:101) بدیع۔ الابداع۔ کسی کی تقلید اور اقتداء کے بغیر کسی چیز کو ایجاد کرنا۔ اسی سے نئے کھودے ہوئے کنویں کو وکیۃ بدیع کہتے ہیں۔ جب ابداع کا لفظ اللہ عزوجل کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں بغیر آلہ۔ بغیر مادہ اور بغیر زمان و مکان کے کسی شے کو ایجاد کرنا اور یہ معنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مختص ہیں۔ بدیع بمعنی مبدع یعنی اس چیز کا پیدا کرنے والا جس کی سابق میں کوئی مثال نہ ہو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ انی۔ کس طرح، کیونکر، کیسے، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا (2:259) اللہ تعالیٰ ان بستیوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔
Ayahs 6:102–103

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔

(6:102) وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل سے (ضرب) نگران، نگہبان ۔ کارساز ۔ ضامن ۔ گواہ۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ) تم تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (انکی آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

(6:104) بصائر کھلی دلیلیں۔ ظاہر نصیحتیں۔ بصیرۃ کی جمع ۔ جس طرح جسم کے لئے بصارت (بینائی) ہے اسی طرح روح کے لئے بصیرت ہے۔ ابصر۔ اس نے دیکھا۔ (افعال) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ عمی۔ وہ اندھا ہوا۔ عمی مصدر۔ ماضی صیغہ واحد مذکر غائب یہاں کور دل ہونا مراد ہے۔ حفیظ۔ نگہبان۔ حفظ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ کیونکہ وہ کل کا نگہبان ہے۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

(6:105) نصرف الایات۔ ہم پھیر پھیر کر۔ طرح طرح سے آیات (توحید) کو بیان کرتے ہیں ۔ درست۔ درس اور دراسۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نے پڑھا۔ تو نے پڑھ سنایا۔ درس۔ القراء ۃ علی الغیر۔ دوسرے کو پڑھ کر سنانا۔ نبینہ۔ مضارع صیغہ جمع متکلم۔ تبیین (تفعیل) مصدر ۔ ہم ظاہر کردیں۔ ہم کھول دیں۔
Ayahs 6:106–107

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارا کرلو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے دروغہ ہو۔

(6:106) لا الہ الا ھو۔ جملہ معترضہ ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان آگیا ہے۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُنکی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

(6:108) لا تسبوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ سب سے (باب نصر) تم برا مت کہو۔ تم گالیاں نہ دو ۔ عدوا۔ ظلما وعدوانا۔ زیادتی، تعدی، ظلم و ستم۔ حد سے بڑھنا۔ زیادتی کرنا۔ (یعنی برا کہنے لگیں گے خدا کو زیادتی اور بےسمجھے
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو ! ) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ انکے پاس) نشانیاں آبھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

(6:109) جھد۔ تاکید۔ پوری کوشش، مشقت۔ جھد یجھد کا مصدر ہے۔ اقسموا باللہ جھد ایمانھم۔ وہ پوری کوشش سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ایۃ۔ نشانی۔ یہاں نشانی سے مشرکین کی مراد کوئی خاص نشانی ہے جیسے عصا موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ کا مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا۔ کوڑھیوں کو تندرست کرنا وغیرہ۔ محمد بن کعب القرضی اور الکلبی نے کہا ہے کہ مشرکین نے بطور خاص نشانی کے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کوہ صفا سونا ہوجائے۔ ہمارے کچھ مرے ہوئے لوگ زندہ ہوجائیں کہ آپ کی تصدیق کریں مابعد الممات کے متعلق اور ہمیں فرشتے دکھائیے کہ ہم ان سے آپ کی صداقت کے متعلق دریافت کریں۔ انما الایات عند اللہ۔ کہ نشانیاں تو صرف اللہ ہی کے پاس ہیں۔ یہ مشیت ایزدی ہے کہ ان کو ظاہر کرے یا نہ کرے۔ یا کب اور کن حالات میں کرے۔ ما یشعرکم۔ میں مخاطبین اہل ایمان ہیں۔ (گو بعض کے نزدیک یہاں خطاب مشرکین سے ہے) تمہیں کیا خبر۔ تمہیں کیسے سمجھایا جائے۔ یشعر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اشعار (افتعال) سے ۔ آگاہ کرے۔ واقف بنائے ۔ سمجھائے۔ نقلب۔ مضارع جمع متکلم۔ تقلیب (تفعیل) مصدر۔ ہم (حق کی طرف) پھیر دیتے ہیں۔ موڑ دیتے ہیں۔ کما۔ جیسے ۔ جیسا کہ ۔ جس طرح ۔ کما تعلیل کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسا کہ بعض کے نزدیک اس کا استعمال ان آیات میں آیا ہے۔ (1) کما ارسلنا فیکم رسولا منکم (2:151) فاذکرونی ۔۔ (2:152) چونکہ میں نے پیغمبر بھیج دیا تمہیں میں سے ۔۔ اس لئے میری یاد کرو۔ یہاں ارسال رسل ذکر الٰہی کی علت ہے۔ (2) واذکروہ کما ھدکم (2:198) چونکہ اللہ نے تمہیں ہدایت کردی اور ذکر کا طریقہ بتادیا۔ اس لئے اس کی یاد کرو۔ یہاں ہدایت ذکر کی علت ہے۔ (3) ونقلب افئدتھم وابصارھم کما لم یؤمنوا بہ اول مرۃ۔ (آیۃ ہذا) کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس کے ساتھ ایمان نہیں لائے تھے ہم ان کے دلوں اور نظروں کو پھیر دیں گے۔ یہاں ان کے پہلی مرتبہ کے معجزوں (آیات) پر ایمان نہ لانا علت بن گیا ان کے تقلیب قلوب و ابصار کا۔ الکشاف اور ابن کثیر نے اس آیۃ میں کاف کو تعلیل کے معنوں میں لیا ہے۔ المنجد میں سے کہ کاف کبھی تعلیل کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے اذکروا اللہ کما ھدکم (2:198) اللہ کو یاد کرو کیونکہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ لغات القرآن میں ہے کہ :۔ کاف کو تعلیل کے لئے اخفش اور بعض کو فیوں نے قرار دیا ہے اور اکثر اہل عربیت نے انکار کیا ہے۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اس سے مراد یا تو رسول کریم ﷺ کے سابقہ معجزات ہیں مثلاً شق القمر وغیرہ۔ یا سابقہ انبیاء کے معجزات مثلاً عصاء موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کو ڑھوں تندرست کرنا۔ مردوں کو زندہ کرنا۔ نذرھم۔ مضارع جمع متکلم۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وذر مصدر (باب سمع) ہم ناقابل پر واہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا ماضی مستعمل نہیں۔ صرف مضارع اور امر مستعمل ہے۔ طغیانھم۔ ان کی گمراہی۔ ان کی سرکشی ۔ ان کی شرارت۔ ان کی بےراہی۔ یعمھون ۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر ۔ (باب فتح، سمع) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ بھٹکے پھرتے ہیں۔ وہ حیران و پریشان پھرتے ہیں۔ عمہ۔ سرگردانی۔ حیرانی۔ گمراہی۔ تردد۔ لیؤمنن بھا۔ میں کفار کے قول کی نقل ہے۔ انما الایات عند اللہ میں ان کا جواب (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے ہے) اور وما یشعرکم سے لے کر آخر آیۃ 111 تک پارہ 8) مسلمانوں سے خطاب (منجانب اللہ) ہے۔ قل انما الایات عند اللہ سے یعمھون تک عبارت کچھ یوں ہوگی۔ قل انما الایات عند اللہ وما ئشعرکم انھا اذا ھاءت لایؤمنون کما لم یؤمنوا بہ اول مرۃ (بذلک)
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے اور انکو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

ونقلب افئدتھم وابصارھم ونذرھم فی طغیانھم یعمھون ۔ ۔۔ اور آپ کو کیسے سمجھایا جائے کہ جب یہ خاص نشانیاں (جن کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں) آجائیں گے جب بھی یہ ایمان نہ لاویں گے جیسے کہ وہ ایمان نہ لائے تھے جب پہلی مرتبہ (جب اللہ کی طرف سے خاص نشانیاں اس کے انبیاء کی معرفت ظہور میں آئی تھیں) اور (اب ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم ان کے دلوں کو (حق طلبی کے قصد سے) اور ان کی نگاہوں کو (حق بینی کی نظر سے) پھیر دیں گے۔ اور ان کو (ان کی) سرکشی (وکفر) میں حیران و سرگردان چھوڑ دیں گے۔ (ملاحظہ ہو بیان القرآن از مولٰنا اشرف علی تھانوی (رح) اور ضیاء القرآن از پیر کرم شاہ صاحب بھیروی)
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو انکے سامنے لاموجود بھی کردیتے تو بھی ایمان لانے والے نہ تھے الاّ ماشاء اللہ۔ بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں۔

(6:111) حشرنا۔ ہم نے اکٹھا کیا۔ ہم نے جمع کیا ۔ الحشر (نصر) کے معنی ۔ لوگوں کو ان کے ٹھکانے سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی کی طرف لیجانے کے ہیں۔ ایک روایت میں ہے النساء لا یحشرون عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکالا جائے۔ اور یہ انسان اور غیر انسان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے واذا الوحوش حشرت (81:5) اور جب وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں گے قیامت کے دن کو بھی یوم الحشر کہا جاتا ہے کہ سب کو اس روز اکٹھا کیا جائے گا۔ قبلا۔ جمع قبیل واحد۔ جماعت درجمات۔ گروہ درگروہ۔ بعض کے نزدیک قابل کی جمع ۔ یعنی آنکھوں کے سامنے۔ آگے۔ یجھلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ جھل۔ جھالۃ مصدر (باب سمع) وہ انہیں جانتے ۔ وہ جاہل ہیں۔ وہ جہالت کرتے ہیں۔ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا تھا وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمّع کی باتیں دالتے رہتے تھے۔ اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو ۔

(6:112) کذلک۔ ایسے ہی۔ اسی طرح ۔ یعنی جس طرح یہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین جن و انسان سے اس کے دشمن پیدا کئے۔ یوحی۔ مضارع واحد مذکر۔ ایحاء سے وہ دوسوسہ ڈالتا ہے وہ وحی بھیجتا ہے۔ یہاں شیاطین جن و انس کی وسوسہ اندازی کو وحی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ سب باتیں بھی بڑی روزداری اور چپکے چپکے ہوتی ہیں۔ زخرف۔ ملمع ۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت۔ اور کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں۔ اسی لئے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال قول کے لئے ہو تو جھوٹ سے آراستہ کرنے اور ملمع کی باتیں کرنے کے معنی ہوں گے۔ یہاں ملمع اور زیب کے معنی میں آیا ہے۔ غرورا۔ دھوکہ دینے کے لئے۔ تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں۔ ما فعلوہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ شیاطین جن و انس کا لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا۔ اور جھوٹی باتیں ملمع کی صورت میں اذہان میں ڈالنے کی طرف راجع ہے۔ یفترون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ افتراء (افتعال) مصدر۔ وہ دروغ بازی کرتے ہیں۔ وہ افتراء بہتان باندھتے ہیں۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انھیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں۔

(6:113) تصغی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ چھکتی ہے۔ وہ جھکتے ہیں۔ صغو اور صغی سے (باب سمع۔ نصر) اصغی الیٰ حدیثہ۔ کان لگانا۔ کان دھرنا۔ اصغی الیہ سننے کے لئے جھکنا۔ جھکنا۔ مائل کرنا۔ الیہ اور یرضوہ میں ہ ضمیر ان وسوسوں اور ملمع فریب کی باتوں کی طرف راجع ہے جو شیاطین جن و انس ایک دوسرے کو سکھاتے اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ یقترفوا۔ مضارع جمع مذکر غائب اقتراف (افتعال) سے ۔ وہ کمائیں ۔ وہ کریں۔ اقتراف کے اصل معنی درخت سے چھال اتارنے کے ہیں اور زخم سے چھلکا کریدنے کے۔ جو چھال یا چھلکا اتارا جاتا ہے اسے قرب کہتے ہیں۔ اور بطور استعارہ اقترف کمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہ کسب اچھا ہو یا برا جیسے قرآن پاک میں ہے سیجزون بما کانوا یفترفون (6:120) وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ اور و اموال ن اقترفتموھا (9:24) اور مال جو تم کماتے ہو۔ لیکن اس کا بیشتر استعمال برے کام کرنے پر ہوتا ہے۔ ولتصغی الیہ۔ معطوف ہے غرورا پر ۔ کہ دھوکہ میں رکھیں ۔۔ ان کو۔ اور یہ کہ مائل ہوجائیں اس کی طرف ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی طرح ولیرضوہ اور ولیقترفوا کا عطف بھی غرورا پر ہے۔ یعنی اس لئے کہ وہ ان ملمع باتوں کو پسند کرنے لگیں۔ اور جو گناہ وہ کر رہے ہیں وہ کرتے رہیں۔ (اور حق و صداقت کی طرف سے غافل اور دھوکہ میں رہیں)
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضح المطالب کتاب بھیجی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

(6:114) افغیر اللہ انتغی ۔۔ مفصلا سے قبل قل یا محمد ﷺ لھؤلاء المشرکین محذوف ہے ابتغی۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں تلاش کروں۔ میں چاہوں ابتغاء (افتعال) سے۔ حکما۔ منصف ۔ فیصلہ کرنے والا۔ حکم سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد اور جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ خصوصی فیصلہ کرنے والے کو حکم کہتے ہیں اس لئے یہ حاکم سے زیادہ بلیغ ہے۔ مفصلا۔ اسم مفعول تفصیل وار۔ یعنی اوامر ونواہی کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ (6:114) الممترین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ الممتری واحد امتراء (افتعال) مصدر شک میں پڑنے والے ۔ تردد کرنے والے۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سّچائی اور انصاف میں پوری ہیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور وہ سنتا ہے ، جانتا ہے۔

(6:115) کلمت۔ حکم۔ یا ازلی تحریر۔ یا قرآن۔ یا ثواب و عذاب کا وعدہ۔ کلمت سے یہاں مراد قرآن مجید ہے ۔ کیونکہ اہل لغت نے تصریح کی ہے کہ وہ کلمات کثیرہ جو کہ مقصد واحد سے متعلق ہوں ان کو بسا اوقات کلمہ (واحد) کہہ دیا جاتا ہے جس طرح زہیر کا قصدہ جو کہ کشیر اشعار کا مجموعہ ہے۔ اسے کلمہ زہیر بھی کہہ دیتے ہیں۔ یا کلمہ سے مراد خداوندتعالیٰ کی ہر بات ہے جس کے متعلق فرمایا کہ تمہارے رب کی بات سچائی اور عدل پر ختم ہوتی ہے۔ جو کچھ وہ فرماتا ہے وہ امر حق ہے۔ امر حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اور جو خچھ حکم دیتا ہے وہ امر حق ہے۔ امر حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور جو کچھ وہ حکم دیتا ہے وہ عدل کے سوا اور کچھ نہیں ۔ (ابن کثیر)
Ayahs 6:116–118

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ) (محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چل رہے ہیں۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

(6:116) تطع۔ تو حکم مانے۔ تو حکم مانے گا۔ اطاعۃ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تطع۔ اصل میں تطیع تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے ی حذف ہوگئی۔ ان یتبعون اور ان ھم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب خوص سے (باب نصر) وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں ۔ الخصوص۔ پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص بمعنی مخصروص کہتے ہیں۔ اٹکل کرنا اور جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیہ ہذا میں اور آیت (43:20) میں ہے ان ہم الا یخرصون۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو چیز اس نے تمہاے لئے حرام ٹھہرادی ہیں وہ ایک ایک کرکے بیان کردی ہیں (بیشک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہوجاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکار ہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

(6:119) فصل۔ ماضی واحد مذکر غائب تفصیل (تفعیل) مصدر۔ تفصیل وار بیان کردیا ہے۔ الگ الگ بیان کردیا ہے۔ اضطررتم (اضطرار (افتعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر حاضر مادہ ضرر تم مجبور کئے گئے۔ تم مجبور ہوجاؤ۔ تم لاچار ہوجاؤ۔ یا کئے جاؤ۔ الیہ۔ ای الی اکلم۔ اس کے کھانے کے لئے ۔ اس کے کھانے پر۔ کثیرا۔ ای کثیر من الذین یجادلونک فی اکل المیتۃ وغیرہ۔ یعنی ان لوگوں میں جو آپ سے مجادلہ کرتے ہیں مردہ کے کھانے کے متعلق یا دیگر ایسے احکام کے متعلق بہت سارے اپنی خواہشات کی پروی کی وجہ سے اور بےعلمی کے سبب گمراہ ہیں اور صداقت کو نہیں جانتے۔ لیضلون۔ یضلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اضلال (افعال) سے لام برائے تاکید۔ بلاشبہ وہ گمراہ کرتے ہیں۔ المعتدین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب ومجرور۔ المعتدی۔ واحد۔ اعتداء (افتعال) سے مصدر۔ حق سے ہٹنے والے۔ حد سے تجاوز کرنے والے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کردو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔

(6:120) ذروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وذر سے تم چھوڑدو۔ ملاحظہ ہو 6:109 ۔ کانوا یقترفونمضارع جمع مذکر غائب کانوا یقترفون ماضی استمراری (جس کا) وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو 6:114