6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsانوار البیان

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

(6:41) یکشف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کشف مصدر (باب ضرب) وہ دور کرتا ہے۔ تنسون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ نسیان مصدر ۔ جس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں۔ خواہ یہ ترک ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازراہ غفلت۔ یا قصداً کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے۔ حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے۔ نسی ینسی (سمع) ۔ (جب مصیبت کا انتہائی وقت آتا ہے تو بدترین مشرک بھی اپنے دوسرے معبودوں کو بھلا کر صرف اللہ تعالیٰ کا نام ہی پکارتا ہے) ۔
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

(6:42) باسائ۔ سختی ۔ فقر۔ اسم مؤنث۔ بؤس سے مشتق ہے۔ الضرائ۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ بیماری۔ مصیبت۔ اسم ہے۔ باساء اور الضراء دونوں مؤنث ہیں۔ اور ان کا مذکر نہیں آتا۔ یتضرعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تضرع (تفعل) مصدر۔ عاجزی کرتے ہیں گڑگڑاتے ہیں۔ تاکہ عاجزی کریں۔ آیۃ میں فاخذنھم سے قبل فکفروا و کذبوا محذوف ہے۔ یعنی ہم نے رسول بھیجے لیکن انہوں نے انکار کیا اور ان کی نافرمانی کی اور تکذیب کی تو ہم نے ان کو تکالیف میں مبتلا کیا۔ (بیضاوی) لیکن اگر متن کو بعینہٖ لیا جاوے تو معانی ہونگے ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں (تفہیم القرآن) ۔ صاحب کشاف اور صاحب روح المعانی نے اول الذکر کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

(6:43) لولا۔ اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں : (1) امتناعیہ (اگر نہ) لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ لفظاً کوئی تغیر پیدا نہیں کرتا ۔ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ جملہ اسمیہ۔ جملہ فعلیہ۔ پہلے جملہ کا ایک جزو ضرور محذوف ہوتا ہے خواہ خبر ہو یا فعل۔ ابن مالک کا قول ہے کہ لولا کے پہلے جملہ کی خبر اگر عام ہو جیسے کائن ثابت وغیرہ تو واجب الحذف ہے۔ اور اگر عمومی خبر نہ ہو بلکہ کسی مادہ کے ساتھ مقید ہو مثلاً اکل۔ شارب۔ قائم۔ قاعد۔ ذاھب۔ ماشی وغیرہ اور بغیر ذکر کے معلوم نہ ہوسکے تو ذکر واجب ہے۔ جیسے حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے لولاقومک حدیث عھد بالاسلام لھدمت الکعبۃ۔ اگر تیری قوم نئی نئی السلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا۔ (اور ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرتا) اور ذکر کے بغیر اگر خبر معلوم ہوسکتی ہو تو ذکر و حذف دونوں جائز ہیں۔ مثلاً لولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ (4:83) اگر علیکم۔ فضل اللہ کے متعلق ہو تو خبر محذوف ہوگی۔ ورنہ نازل کے متعلق ہو کر فضل اللہ کی خبر ہوگی۔ اور اگر لولا ضمیر پر داخل ہو تو ضمیر مرفوع ہونی ضروری ہے جیسے لولا انتم لکنا مؤمنین (34:31) مبرد کے نزدیک ضمیر کا مرفوع ہونا ضروری نہیں۔ (2) تحضیض اور عرض کے لئے بھی لالا آتا ہے یعنی فعل پر سختی کے ساتھ ابھارنا (تحضیض) نرمی سے کسی کام کی طلب کرنا (عرض) اس وقت لولا کے بعد مضارع آنا چاہیے۔ خواہ لفظاً ہو یا معنی۔ لولا تستغفرون اللہ (27:46) تحضیض اور لولا اخرتنی الی اجل قریب (63: 10) عرض۔ (3) زجرو توبیخ کے لئے۔ اس وقت یہ ماضی پر داخل ہوگا۔ لولا جاء وا علیہ باربعۃ شھداء (24:13) اور فلولا اذجاء ھم باسنا تضرعوا (6:43) (4) استفہام کے لئے لولا انزل علیہ ملک (6:8) اور لولا اخرتنی الی اجل قریب (63:10) لیکن جمہور اہل ادب کے نزدیک اول آیت میں توبیح اور دوسری آیت میں عرض کے لئے ہے۔ فلولا اذجاء ھم باسنا تضرعوا۔ فلولا تضرعوا اذجاء ھم باسنا۔ پھر جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو کیوں نہ انہوں نے زاری کی اور تو نہ کی۔ قست ماضی واحد مؤنث غائب قسوۃ مصدر۔ قسو مادہ ناقص وادی قسا یقسوا (نصر) اصل میں قسوت تھا واؤ ساقط ہو کر قست ہوگیا۔ (دل) سخت پڑگئے۔ خشک ہوگئے حق کو قبول نہیں کرتے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

(6:44) فتحنا علیہم ابواب کل شیئ۔ ہم نے ہر شے کے دروازے ان پر کھول دیئے یعنی ان کو ہمہ قسم کی نعمتوں سے نوازا۔ بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم۔ یکایک۔ مبلسون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مرفوع۔ مبلس واحد۔ مایوس۔ غمگین۔ پشیمان۔ متحیر۔ خاموش۔ جن کو کوئی بات بن پڑی ممکن نہیں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس۔ بلس۔ بیخبر آدمی۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

(6:45) دابر۔ بیج۔ بنیاد۔ پچھاڑی۔ جڑ۔ پیچھا۔ دبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ والحمد للہ رب العلمین۔ حمد الٰہی اس واسطے کہ ظالم قوموں کی بیخ کنی سے خدا کی مخلوق کو نجات نصیب ہوئی۔ اس نعمت پر خدا کی حمد انسان پر لازم ہے۔
Ayahs 6:46–51

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔ نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

(6:52) لاتطرد۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر (باب نصر) طرد سے۔ جس کے معنی ذلیل سمجھ کر ہانکنے اور دور کرنے کئے ہیں۔ دھتکارنا۔ عدوۃ۔ ٹرکا۔ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت۔ العشی۔ (1) زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت۔ اسی بناء پر ظہر اور عصر کو صلانا العشی بولتے ہیں۔ (2) دن کا پچھلا وقت۔ (3) زوال سے لے کر صبح صادق تک کا وقت۔ (4) عشی و عشاء نما مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ فتطردھم۔ کہ تو ان کو اپنے سے دور ہٹا دے۔ تطرد واحد مذکر حاضر منصوب بوجہ جو اب نہی (ما علیک من حسابھم۔ ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری تجھ پر نہیں) فتکون من الظالمین۔ جو اب نہیں۔ (لا تطرد الذین یدعون ربھم) یہ بھی جائز ہے کہ فتطردھم پر عطف ہے بوجہ تسبب کے کہ ظالمین میں سے ہونا بوجہ ان کے اپنے سے دور ہٹانے کے ہے۔ یہ آیت حضرت بلال، جناب۔ سلمان۔ عمار وغیر ہم کے متعلق نازل ہوئی تھی کہ اکابرین مکہ حضور سے کہتے تھے کہ ہم آپ کے پاس حاضر تو ہوں لیکن ان گنواروں ، ناداروں کے ساتھ بیٹھنا ہماری ہتک ہے۔
Ayahs 6:53–54

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

(6:53) فتنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ اس کے علاوہ مصیبت سے بچانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع بھی ہوسکتا ہے ہم آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ من اللہ علیہم۔ خدا نے ان پر بڑا احسان کیا من یمن (نصر) من مصدر احسان کرنا۔ منان احسان کرنے والا۔ المنان۔ خدا تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayahs 6:55–56

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

(6:55) تستبین۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ استبانۃ (استفعال) بین مادہ سے وہ ظاہر ہوجائے ۔ کھل جائے۔ سبیل۔ راستہ۔ راہ۔ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ (6:56) نھیت ماضی مجہول واحد متکلم ۔ نھی۔ روشن اور کھلی دلیلیں۔ ایسی دلیلیں ممانعت کردی گئی ہے۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

(6:57) بینۃ۔ واحد۔ بینات۔ جمع ۔ روشن اور کھلی دلیلیں۔ ایسی دلیلیں جو حق اور باطل کے فرق کو واضح کردیں۔ کذبتم بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ ہے (کشاف) یا اللہ کی جانب سے آئی ہوئی کلام۔ یعنی القران و معجزات الباھرہ وبراہین الواضحۃ (الخازن) ۔ تستعجلون۔ تم جلدی کرتے ہو۔ تم عجلت کرتے ہو۔ یعنی جس عذاب یا پاداش کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو۔ استعجال (استفعال) سے جمع مذکر حاضر۔ یقض۔ قص یقص (نصر) سے مضارع واحد مذکر غائب وہ بیان کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے۔ الفاصلین۔ اسم فاعل جمع مذکر فیصل مصدر۔ فیصلہ کرنے والے۔ حق کو باطل سے الگ کرنے والے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

(6:58) لقضی الامر۔ بات کا فیصلہ ہوگیا ہوتا القضاء کا معنی قولا یا عملاً کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں۔ حکم کرنا ۔ خبردار کرنا۔ تمام کرنا کے معنی میں بھی آتا ہے ملاحظہ ہو (6:2) ۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(6:59) تسقط۔ مضارع واحد مؤنث غائب (باب نصر) وہ گرتی ہے۔ سقوط بمعنی گرنا ہے۔ ورقۃ۔ اسم مفرد۔ نکرہ۔ کوئی ایک پتہ۔ ورق چاندی کا سکہ۔ فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو (18:19) حبۃ۔ وانہ۔ غلہ۔ اناج۔ گندم۔ جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ حبوب جمع۔ رطب ہرا۔ یابس خشک۔ دونوں مجرور بوجہ حرف جار۔ من کے ہیں۔ کتب مبین۔ لوح محفوظ۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

(6:60) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غاین توفی مصدر۔ (باب تفعل) کم ضمیر مفعول ۔ تمہاری جانوں کو لے لیتا ہے۔ یا لے لیگا۔ یہاں توفی کا لفظ نیند کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ نیند بھی موت کی بہن ہے۔ جرحتم۔ تم نے کمایا۔ (باب فتح) جرح سے جس کے معنی زخمی کرنے کمانے اور کسی میں طعن کرنے کے ہیں۔ یہاں کمانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یقال فلان یجرح لعیالہ۔ وہ اپنے کنبے کے لئے کماتا ہے۔ (6:58) ثم یبعثکم فیہ پھر اٹھاتا ہے تم کو (نیند سے) دن کے وقت ہ ضمیر النھار کی طرف راجع ہے۔ لیقضی اجل مسمی۔ تاکہ پوری کردی جائے (اس نیند اور بیداری کے تسلسل سے تمہاری عمر کی) میعاد مقررہ۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

(6:61) حفظۃ۔ حافظ کی جمع۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والے۔ توفتہ رسلنا۔ (فرشتوں کی جماعت) اس کو اٹھا لیتی ہے۔ اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔ لا یفرطون۔ وہ (اس میں) کوتاہی نہیں کرتے ۔ یعنی اللہ کے فرستادے اس کے حکم کی بجاآوری میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ملاحظہ ہو 6:31 ۔ 6:38
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

(6:62) ردوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ رد سے۔ وہ واپس لائے گئے۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ یعنی عبادہ۔ اس کے بندے موت کے بعد اس کے حضور لوٹائے جائیں گے۔ اسرع الحسبین۔ حساب کرنے والوں میں سب سے زیادہ جلد اور تیز حساب کرنے والا۔
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

(6:63) تضرعا۔ عاجزی کرنا۔ گڑگڑانا۔ بروز تفعل مصدر ہے۔ لئن انجنا۔ اگر وہ (اللہ) ہمیں بجات دیدے (یہ ان کی دعا ہے لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین) ۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

(6:64) کرب۔ اسم مصدر۔ نکرہ۔ سخت غم۔ دم گھونٹنے والا غم۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

(6:65) یلبسکم شیعا۔ یلبس مضارع واحد مذکر غائب ۔ لبس مصدر (باب ضرب) کم ضمیر مفعول وہ تم کو ملا دے۔ یعنی باہم دست و گریباں کر دے۔ شیع جمع شیعۃ کی۔ البس علیہ الامر۔ جب بات مشتبہ اور گڈ مڈ ہوجائے۔ ولبس علیہ الامر خلط ملط ہوجانا کہ حقیقت پہچانی نہ جاسکے۔ قرآن میں ہے ولا تلبسوا الحق بالباطل (2:42) اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط مت کرو۔ یلبسکم شیعا تم کو مختلف فرقوں میں بانٹ دے کہ آپس میں الجھ جاؤ اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے لگو۔ یذیق۔ مضارع واحد مذکر غائب اذاقۃ مصدر (باب افعال) وہ چکھائے۔ یبعث۔ یلبس اور یذیق منصوب آئے ہیں بوجہ عمل ان کے۔ باس لڑائی۔ دبدبہ۔ سختی۔ آفت۔ جنگ کی شدت۔ یذیق بعضکم باس بعض۔ تم میں سے ایک فریق کی سختی و ایذا رسانی کا مزہ دوسرے فریق کو چکھائے۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

(6:66) کذب بہ میں ہ ضمیر قرآن حکیم کے لئے ہے۔ وکیل ذمہ دار۔ کار ساز ۔ نگران۔ نگہبان۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

(6:67) مستقر۔ القرار۔ الثبوت۔ نھایۃ۔ غایۃ۔ لکل بناء مستقر۔ یعنی قرآن کی ہر ایک خبر میں ایک حقیقت ایک غایت ہے یا خدا بتائی ہوئی ہر خبر کے لئے اس کے وقوع پذیر ہونے کا وقت اور مکان ہے اور اس میں کوئی تاخیر یا ردوبدل نہیں ہے۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

(6:68) یخرضون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خوض سے (باب نصر) وہ مسغول ہوتے ہیں۔ اردو میں غوروخوض استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ استہزاء اور طعنا آیات زبانی (قرآن حکیم) پر بحث کرتے ہیں یا نکتہ چینی کے لئے انہیں زیر بحث لاتے ہیں۔ یخرضوا۔ مضارع مجزوم ۔ منصوب حتی کے عمل کی وجہ سے۔ اما۔ ان اور ما سے مرکب ہے۔ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) بطور حرف تفصیل۔ جیسے انا ھدینہ السبیل اما شاکراوا ما کفورا (76:3) ہم نے انسان کو راستہ دکھایا اس کے بعد وہ شکر گزار بندہ بنے یا ناشکرا بن جائے۔ (2) شک و ابہام کے موقع پر جیسے جاء اما زید واما عمرو۔ یا تو زید آیا ہے یا عمرو۔ (3) اباحت و تخییر کے لئے ۔ تعلمہ اما الفقہ واما اللغۃ۔ فقہ سیکھ یا لغت ۔ یہاں اگر کے معنی میں ہے۔ ینسینک۔ ینسین مضارع واحد مذکر غائب۔ بانون ثقیلہ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر نسی سے وہ تم کو بھلا ہی دے۔ لاتقعد۔ فعل نہی، واحد مذکر حاضر۔ (باب نصر) قعود تو نہ بیٹھ۔ تجھے بیٹھنا نہ چاہیے۔ الذکری۔ نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ پند۔ موعظت۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے۔ نصیحت کے معنوں میں آیا ہے ۔ وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین (51:55) اور نصیحت مؤمنوں کو نفع دیتی ہے۔ ان ہی معنوں میں یہ اگلی آیت میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں بمعنی یاد آیا ہے۔ یعنی یاد آنے کے بعد۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

(6:69) من حسابھم میں ضمیر ہم کافروں کے لئے یعنی تقویٰ اختیار کرنے والوں پر کافروں کے حساب سے کچھ بوجھ نہ ہوگا۔ انہیں معنوں میں آیۃ 52 میں استعمال ہوا ہے۔ ولکن ذکریٰ ۔ لیکن نصیحت کرنا تقویٰ اختیار کرنے والوں پر فرض ہے ۔ تقدیر کلام یوں ہے ولکن علیہم ذکریٰ ۔ لعلہم یتقون۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب بھی کافروں کے لئے ہے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

(6:70) ذر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر وذر سے (باب سمع و فتح) تو چھوڑ دے۔ غرتھم۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ دنیاوی زندگی نے ان کو بہکا رکھا ہے۔ وذکر بہ۔ اور نصیحت کے ذریعہ سے ۔ یعنی ان مشرکوں کو قرآن کی روشنی میں نصیحت کرو۔ ذکر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کی طرف راجع ہے۔ ان کہ ۔ یہ کہ ۔ ان مبادا کے معنوں میں بھی آتا ہے جیسے ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم ندمین ۔ (49:6) اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو۔ اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو۔ اکثر مفسرین نے یہاں ان کو انہیں معنوں میں لیا ہے۔ لیکن اگر اسے ” کہ “ کے معنی میں لیا جائے جیسا کہ علامہ عبد اللہ یوسف علی نے لیا ہے تو عبارت کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے ہیں اس صورت میں ان کے بعد جملہ ذکر کا مفعول بہٖ ہوگا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : ۔ ومنھم من جعلہ (ای تبسل نفس بما کسبت) مفعولا بہ لذکر۔ ان میں سے بعض نے تبسل نفس بما کسبت کو ذکر کا مفعول بہٖ لیا ہے۔ تبسل۔ وہ گرفتار ہوجائے۔ وہ ہلاکت کے سپرد کی جائے۔ ابسال سے مضارع مجہول واحد مؤنث غائب بسل بمعنی تھلک (ابن عباس) ۔ تحبس۔ (قتادہ) ای فی نار جھنم۔ تحرق بالنار (الضحاک) ۔ تعدل۔ وہ بدلہ دیوے (ضرب) عدل سے جس کے معنی اصل میں مساوی اور برابر کرنے کے ہیں۔ چونکہ بدلہ کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے کہ جس چیز کا بدلہ ہے اس کے برابر ہے۔ اس لئے بدلہ کرنے کے معنی بھی آتے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وذکر بہ ان تبسل نفس ۔۔ الخ۔ اور نصیحت کر قرآن کے ذریعہ سے کہ :۔ پکڑا جائیگا آدمی اپنے عملوں کی وجہ سے اور انہیں ہوگا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارشی۔ اور اگر وہ ہر چیز فدیہ میں دے کرچھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ اولئک۔ وہ لوگ جو دین کو کھیل اور دل لگی سمجھتے ہیں اور جنہیں دنیوی زندگی نے دھوکہ میں رکھا ہوا ہے۔ ابسلوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ، وہ ہلاک کئے گئے وہ ہلاک ہوئے۔ وہ گرفتار کئے گئے۔ وہ پکڑے گئے۔ وہ ثواب سے محروم کئے گئے۔ (اوپر تبسل ملاحظۃ کیا جائے) حمیم۔ نہایت گرم پانی۔ اس سے حمان مشتق ہے جہاں گرم پانی مل سکتا ہے۔ حمیم قریبی دوست کو بھی کہتے ہیں حم سے۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

(6:71) نرد۔ مضارع مجہول جمع متکلم ۔ رد ہرد (باب نصر) سے ہم پھیر دئیے جائیں۔ ہم لوٹائے جائیں۔ ہمیں لوٹا دیا جائے۔ اعقابنا۔ عقب کی جمع مضاف مضاف الیہ ، ہماری ایڑیاں الرد علی الاعقاب بمعنی الرجوع الی الشرک والضلال کالذی استھوتہ الشیاطین۔ لغت مصدر محذوف۔ ای انردردا مثل ردالذی استھوتہ الشیاطین۔ اوندعوا دعاء مثل دعاء الذی استھوتہ الشیطین۔ کیا ہم پھرجائیں مثل پھر نے اس شخص کے جسے شیاطین نے بھٹکا دیا ہو۔ یا پکاریں مثل پکارنے اس شخص کے ۔۔ الخ۔ استھوتہ۔ اس نے اس کو راستہ بھلا دیا۔ استھواء (استفعال) راستہ بھلا دینا۔ فریفتہ کرنا۔ بلندی سے پستی کی طرف لانا۔ حیران۔ حیران ۔ سرا سیمہ۔ بہکا ہوا۔ متردد۔ حیرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الذی کی طرف راجع ہے۔ ائتنا۔ ہمارے پاس آ۔ ائتنا۔ اس کے ساتھی ہوں جو اسے بلا رہے ہوں ہدایت کی طرف۔ اور پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجا
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

(6:72) وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ۔ ای وامرنا لان اقیموا الصلوٰۃ و اتقوہ۔ (اور ہمیں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ) تم نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

(6:73) ویوم یقول کن فیکون۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا (تفہیم القرآن) یوم بمعنی حین (وقت) بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے (وہ وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا) اور جس وقت (بھی) وہ کسی شے کو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ قولہ الحق۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ عین حقیقت ہے۔ جو وہ حکم دیتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔ اس کا قول اٹل ہے قولہ مبتدا۔ الحق خبر۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

(6:74) ارک۔ اری۔ مضارع واحد متکلم رأی یری رأیا ورؤبۃ (فتح مھموز العین ناقص یائی) میں دیکھتا ہوں۔ ک مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھے دیکھتا ہوں۔ میں تجھے پاتا ہوں۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

(6:75) کذلک۔ اسی طرح۔ کما اریناہ فتح الشرک جس طرح ہم نے اس کو شرک کی قباحت (باپ کی اور اس کی قوم کی گمراہی) دکھائی تھی۔ اسی طرح ہم نے چشم بصیرت سے اس کو ملکوت السموت والارض کا مشاہرہ کرا دیا۔ نری۔ مضارع جمع متکلم۔ اری یری (باب افعال) اراء ۃ۔ ہم دکھاتے ہیں یہاں مضارع ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ملکوت۔ مصدر ۔ ملک سے مبالغہ کا صیغہ بذریعہ ایزادی وت اقتدار کامل ۔ غلبہ تامہ حکومت حقیقیہ۔ بقول راغب ۔ ملکوت۔ اللہ کی بادشاہت کے لئے مخصوص ہے۔ ولیکون۔ ای فعلنا ذلک لیکون (ہم نے ایسا اس لئے کیا) کہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔ الموقنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ معرفہ۔ مجرور ۔ الموقن۔ واحد۔ ایقان مصدر۔ عین الیقین کے مرتبہ پر فائز ہونے والے۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

(6:76) جن علی۔ اس نے ڈھانپ لیا۔ اس نے چھپالیا۔ جن سے (باب نصر) افل۔ وہ غائب ہوگیا۔ وہ غروب ہوگیا۔ (ضرب۔ نصر۔ سمع) افول سے بمعنی آفتاب۔ ماہتاب۔ وغیرہ ستاروں کا غروب ہونا۔ افل اسم فاعل جمع افلین۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

(6:77) بازغا۔ درخشاں۔ روشن۔ بزوغ سے بمعنی طلوع ہونا۔ چمکنا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(6:78) ھذا ربی۔ اھزا ربی۔ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان استفہامیہ محذوف ہے اور استفہام انکاری کے طور پر آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میری قوم کیا یہ میرا رب ہے ؟ ہرگز نہیں۔
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

(6:79) وجھت۔ ماضی معروف واحد متکلم ۔ توجیہ مصدر (باب تفعیل) میں نے اپنا رخ پھیرلیا۔ فطر۔ فطر مصدر۔ وہ عدم سے وجود میں لایا۔ اس نے پیدا کیا۔ فطر کے اصل معنی پھاڑ دینے کے ہیں یعنی عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لایا۔ حنیفا۔ الحنف کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ الحنیف بروزن (فعیل) جو باطل کو چھوڑ کر حق و استقامت کی طرف آجائے۔ اس کی جمع حنفاء ہے۔ حنیف حنف سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

(6:80) حاجہ۔ محاجۃ (مفاعلۃ) سے باہم حجت کرنا۔ دلیل بازی کرنا ۔ الحجۃ اس دلیل کو کہتے ہیں جو صحیح مقصد کی وضاحت کرے۔ اور دو متناقض امور میں سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو۔ حاج اس نے حجت بازی کی۔ اس نے جھگڑا کیا۔ ھدان۔ اصل میں ھدانی ہے اس نے مجھے ہدایت دی۔ مجھے ہدایت یافتہ کیا۔ ھدایۃ سے (باب ضرب) الا ان یشاء ربی شیئا۔ اللہ میرا رب ہے کوئی تکلیف مجھے پہنچانا چاہے تو۔ (ورنہ میں ان سے نہیں ڈرتا۔ جن کو تم رب کا شریک ٹھہراتے ہو) ۔ افلا تتذکرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ ہمزہ استفہامیہ۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑو گے۔ تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے (باب تفعل) ۔