4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsانوار البیان

Ayah 4:160

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

(4:160) فبظلم میں باء سببیہ ہے۔ یصدھم۔ صد۔ روکنا ۔ رکنا ۔ صد یصد (نصر) کا مصدر ۔ ان کے (لوگوں کو اللہ کے راستے سے) روکنے کی وجہ سے۔ کثیرا۔ ناسا کثیرا۔ (بہت لوگوں کو) بھی ہوسکتا ہے۔ اور صدا کثیرا (کثرت سے روکنا) بھی۔
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

(4:161) نھوا۔ نھی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ان کو منع کیا گیا۔ ان کو روکا گیا۔ نہی ینہی (فتح) ونہی ینہی نھوا۔ اصل میں نہیوا تھا۔ ماقبل مکسور کی وجہ سے یاء پر ضمہ دشوار تھا۔ اس لئے یہ ضمہ ماقبل کو دیا۔ اب ی اور و ساکنین ہونے کی وجہ سے ی گرگئی۔ جو چیزیں باوجود پہلے حلال ہونے کے اب اہل یہود پر حرام کردی گئی تھیں ان کی وجوہات یہ چار جرائم تھے۔ ان کا ظلم کرنا۔ لوگوں کو راہ حق سے روکنا۔ سود کھانا۔ اور لوگوں کا مال ناحق ہڑپ کرنا۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

(4ـ:162) لکن الراسخون فی العلم منہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب آیہ 160 میں الذین ھادوا کی طرف راجع ہے۔ یؤمنون کا فاعل راسخون فی العلم اور المؤمنون ہیں۔ المقیمین الصلوۃ۔ نماز کو عزم و اہتمام کے ساتھ پڑھنے والے۔ مقیمین اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ المقیمین کا عطف المؤمنون پر ہے۔ نحوی قاعدہ کے مطابق المقیمون ہونا چاہیے تھا اسے اپنے معطوف علیہ کے خلاف اعراب کیوں دیا گیا۔ اس کے متعلق علماء نے متعدد جواب دئیے ہیں۔ لیکن سب سے بہتر وہ توجیہ ہے جو سیبویہ نے کی ہے کہ مقیمین پر نصب تعظیم کی وجہ سے ہے۔ اور اس نے اس کی کئی مثالیں بھی دی ہیں وھذا اصح ما قیل فیہ (قرطبی) ۔ اولئک سنؤتیہم اجرا عظیما۔ (یہی لوگ جنہیں ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے) اشارہ اولئک کے مشار الیہم راسخون فی العلم۔ المؤمنون۔ مقیمین الصلوۃ ۔ مؤتون الزکوۃ۔ المؤمنون باللہ والیوم الاخر ہیں۔ مؤتون۔ اسم فاعل جمع مذکر حاضر۔ الموتی واحد ایتاء مصدر باب افعال ۔ رہنے والے ادا کرنے والے۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

(4:163) اوحینا۔ ہم نے وحی بھیجی۔ ہم نے حکم بھیجا۔ ایحائ۔ افعال۔ سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم وحی مصدر۔ اشارہ سے بتانا۔ اشارہ سے بات کرنا۔ دل میں بات ڈالنا۔ لغت عربی میں وحی کا معنی اشارہ کرنا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی الیہم ان ستجوا بکرۃ وعشیا (19:11) پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ خدا کو صبح و شام یاد کرتے رہا کرو۔ لیکن اس کا اطلاق مختلف مفہوموں پر ہوتا رہتا ہے مثلاً : (1) بطریق الہام کسی چیز کو دل میں ڈال دینا۔ جیدے واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ (28:7) اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ۔ (2) اپنے طبعی اور غیر فطری فرائض کی انجام دہی کے لئے فطری طور پر ہدایت خالق کی طرف سے ہوتی ہے اور اسے وحی تسخیری بھی کہتے ہیں۔ جیسے واوحی ربک الی النحل (16:28) اور تمہارے رب نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا۔ (3) کسی کو پر اسرار طریقہ پر کسی امر کی تعلیم دینے کو بھی وحی کہتے ہیں۔ جیسے وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا۔ (6:113) اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) جنوں اور انسانوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا وہ دھوکہ دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع باتیں ڈالتے رہتے ہیں۔ (4) شریعت میں کلمہ الٰہیہ کو وحی کہا جاتا ہے جو انبیاء و اولیاء کی طرف القاء کیا جاتا ہے۔ اس کی چند صورتیں ہیں۔ مثلا ً فرمایا : ماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب۔ اویرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشاء (42:51) اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ خدا اس سے بات کرے۔ مگر الہام کے ذریعہ سے یا پردہ کے پیچھے سے ۔ یا کوئی فرشتہ بھیج دے۔ تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القاء کرے۔ الہام کی مثال ام موسیٰ کے بارے میں اوپر گزر چکی ہے۔ وحی کی دوسری دو قسمیں بذریعہ فرشتہ یا از پس حجاب بلاواسطہ یہ دونوں انبیاء کے لئے مخصوص ہیں۔ وحی جو فرشتہ کے ذریعہ ہوتی ہے تو فرشتہ ظاہری آنکھوں سے نظر آتا ہے اور اس کا کلام سنائی دیتا ہے جیسا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک معین شکل میں آکر آنحضرت ﷺ تک پیام رسالت پہنچایا کرتے تھے۔ من وراء حجاب جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر اللہ کا کلام سنا تھا۔ ایک اور صورت وحی کی القاء فی الروع یعنی دل میں کسی بات کا ڈال دینا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ان روح القدس نفث فی روعی (روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی) ۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انقطع الوحی وبقیت المبشرات وؤما المؤمن۔ کہ وحی تو منقطع ہوچکی ہے مگر مبشرات یعنی رؤیا مومن باقی رہ گئے ہیں ۔ اتینا داؤد زبورا کا عطف انا اوحینا الیک پر ہے آیت کی تقدیر گویا یوں ہے : انا اوحینا الیک (الکتب) کما اتینا (ای اوحینا الی) داؤد زبورا۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

(4:164) رسلا کا عطف بھی اوحینا الیک (آیۃ ماقبل) پر ہے۔ اور (جیسے وحی بھیجی ہم نے) دوسرے رسولوں پر ۔ یہی صورت رسلا لم نقصصہم کی ہے۔
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

(4:165) حجۃ۔ عذر۔ حجت۔ جمع حجج۔ منذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب ڈرانے والے۔ بعد الرسل۔ یعنی نبیوں اور رسولوں کے بھیجنے کے بعد ان کی بعثت اور کتب سماویہ کے ان پر نازل کرنے کے بعد۔
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

(4:166) لکن اللہ یشھد۔ آیات ماقبل کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ لکن اللہ سے پہلے عبارت انھم لایشھدون (یہ لوگ آپ کی رسالت کی اور کتاب اللہ کے نازل ہونے کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے۔ شھد ب کسی کے متعلق شہادت دینا۔ شھد عند الحاکم بفلان او علیٰ فلان۔ اس نے حاکم کے سامنے فلاں کے متعلق یا فلاں کے خلاف شہادت دی۔ اللہ یشھد بما انزل الیک اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے۔ اس کتاب کی بابت (اس کے حق میں) جو اس نے نازل کی تمہاری طرف۔ انزل بعلمہ۔ کہ اس نے اتارا اسے اپنے علم سے۔ یعنی یہ کلام جو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ کے علم کا جلوہ گاہ ہے۔ (اس میں ان چیزوں کا علم ہے جس پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا) جیسے ارشاد ہے ولا یحیطون بشی من علمہ الا ب ماشاء (2:255) اور وہ اس کی منشاء کے بغیر کسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے) یہاں بھی علم سے مراد اللہ کا خاص علم ہے جو صرف وہی جانتا ہے۔ اور صرف اسی قدر اپنے بندوں کو دیتا ہے جتنا کہ وہ خود چاہے۔
Ayahs 4:167–168

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

(4:167) صدوا۔ صد سے انہوں نے روکا۔
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

(4:169) یسیرا۔ آسان ۔ سہل ۔ یسر مادہ۔ صفت مشبہ واحد مذکر منصوب۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ۔ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(4:170) وان تکفروا فان اللہ ما فی السموت والارض۔ ان تکفروا کے بعد فھو غنی عنکم ولا یتضرر بکم۔ اگر تم انکار کرو گے یا کفر کروگے تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے وہ تمہارے کفرو ایمان سے بالاتر ہے اور تمہارے کفر سے اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔ بلکہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور اس کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔

(4:171) لاتعلوا فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ غلو (باب نصر) تم مبالغہ مت کرو ۔ تم حد سے نہ بڑھو۔ تم زیادتی مت کرو۔ علی اللہ۔ علی اکثر استعلاء کے معنوں میں آتا ہے۔ جیسے حمل علی الدابۃ۔ جانور پر لادا گیا۔ یا اللہ علی کل شیء قدیر۔ اللہ ہر شی پر قادر ہے۔ لیکن یہاں صرف متعلق کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کلمتہ۔ صاحب ضیاء القرآن نے کلمہ کی بڑی اچھی اور عام فہم تشریح کی ہے۔ فرماتے ہیں ” کلمہ کا لغوی معنی تو ہے ما ینطق بہ الانسان جس کے ساتھ نطق کیا جائے یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اس کا اطلاق حقیقی معنوں میں نہیں ہوتا بلکہ مجازاً ہے “۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وجہ مجاز کیا ہے۔ امام غزالی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ :۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کلمہ کے اطلاق کی وجہ یہ ہے کہ ہر مولود کے دو سبب ہوتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کی تخلیق سے متعلق ہو اور وہ اپنی زبان قدرت سے کن فرما کر اذن ظہور دے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ مادہ منویہ شکم مادر میں قرار پکڑے اور وقت معین گزرنے کے بعد اس کی ولادت ہو۔ پہلا سبب اگرچہ حقیقی ہے لیکن نگاہوں سے پوشیدہ ہے اس لئے اسے سبب بعید کہہ لیجئے۔ اور دوسرا سبب کیونکہ عادی اور عام ہے اور اسے ہر ایک جانتا ہے مومن ہو یا غیر مومن اس لئے اسے سبب قریب کہہ لیجئے۔ اب یہاں دلائل قطعیہ سے ثابت ہے کہ سبب قریب یعنی ماد، منویہ موجود نہیں۔ اس لئے اس پر سبب بعید یعنی کلمہ کن کا اطلاق کردیا۔ اور آپ کو کلمۃ اللہ یا کلمۃ منہ کہہ دیا۔ اور عربی لغت میں سبب کا اطلاق مسبب پر عام ہوتا ہے۔ جیسے حضور کریم ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا : انا دعوۃ ابی ابراہیم یعنی میں اہنے پدر بزرگوار ابراہیم کی دعا ہوں۔ حالانکہ آپ دعا نہ تھے دعا کا جواب تھے۔ دعا ابراہیمی چونکہ آپ کی تشریف آوری کا سبب بنی تھی اس لئے آپ پر دعا کا اطلاق کردیا۔ نیز کلمہ کا لفظ بشارت اور آیت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا رہتا ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ آپ وہ بشارت ہیں جو حضرت مریم کو دی گئی۔ یا آپ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی آیت (نشانیوں میں سے ایک روشن نشانی) ہیں۔ روح منہ۔ ضیاء القرآن میں ہے : روح کا معنی ہے ما بعد الحیاۃ جس کے ساتھ زندگی قائم ہو۔ اور زندگی دو قسم کی ہوتی ہے۔ حسی اور معنوی۔ حسی زندگی وہ ہے جس کے ذریعے چلنا پھرنا۔ بولنا سننا۔ سمجھنا یاد کرنا وغیرہ قسم کے افعال صادر ہوتے ہیں اور معنوی زندگی وہ ہے جس سے مکارم اخلاق رحم ۔ محبت۔ سخاوت وغیرہ کا ظہور ہوتا ہے اسی لئے قرآن حکیم کو بھی کئی بار روح کہا گیا ہے۔ کیونکہ وہ حیات معنوی کا سبب ہے۔ وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا (42:52) اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ پر روح یعنی قرآن نازل کیا ۔ حضرت مسیح کیونکہ حیات حسی اور معنوی دونوں کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کو بطور مبالغہ روح یعنی سراپا روح کہہ دیا۔ جیسے ہم بہت کسی خوبصورت انسان کو حسن مجسم کہہ دیتے ہیں۔ المفردات میں ہے۔ کبھی روح کا اطلاق سانس پر ہوتا ہے ۔ جیسے شعر ہے : وقلت لہ ارفعھا الیک واحیہا بروحک واجعل لہا قیتۃ قررا تو میں نے کہا اسے اٹھاؤ۔ اور قدرے نرم پھونک مار کر اسے سلگاؤ اور اس میں تھوڑا سا ایندھن ڈال دو ۔ کبھی روح کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جس کے ذریعہ زندگی۔ حرکت۔ منافع کا حصول اور مضرات سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے۔ آیت کریمہ : ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی (17:85) اور تجھ سے روح کی حقیقت دریافت کرتے ہیں تو ان سے کہہ دیجئے یہ میرے پروردگار کا حکم ہے۔ روح کے دیگر معانی۔ روح۔ جان۔ بھید کی بات۔ فیض غیبی بھی ہیں۔ کبھی روح کو آل کے ساتھ بطور معرفت حضرت جبریل کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہے جیسے تعرج الملئکۃ والروح (70:4) فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ حضرت جبریل کو روح القدس (2:72) اور روح الامین (26:192) سے بھی ذکر کیا ہے منہ۔ اسے ۔ روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف جزئیت کی نہیں بلکہ تشریف اور تفضیل کی ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کا کسی کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا اس چیز کے لئے شرف اور فضل کا اظہار ہے۔ اور ایسی اضافت کا استعمال قرآن حکیم اور کلام عرب میں عام ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ شیطان کو فرماتے ہیں۔ ان عبادی لیس لک علیہم سلطان (15:42) یعنی میرے بندوں پر تو قابو نہیں پاسکتا۔ بندے تو سب اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں ۔ مومن ہوں ، کافر ہوں۔ نیک ہوں یا بد ۔ لیکن اطاعت شعار بندوں کی اضافت اپنی طرف کی اور ان کو اپنا مخصوص اور مخلص بندہ ہونے کا شرف بخشا۔ یہاں بھی روح منہ یا روح اللہ کہہ کر اس خصوصی شرف و مقبولیت کا اظہار مقصود ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بارگاہ الٰہی میں حاصل ہے۔ منہ کے لفظ سے یہ کہنا کہ قرآن سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اللہ کی جزء ہیں بالکل ناحق ہے۔ کیونکہ آپ اس طرح جزئیت ثابت کرنے پر بضد ہوں تو پھر اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت باقی نہیں رہتی کیونکہ قرآن میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق صاف موجود ہے ونفخت فیہ من روحی (15:29) میں نے اپنی روح آدم میں پھونکی۔ صرف آدم ہی نہیں بلکہ تمام اولاد آدم کے متعلق ارشاد ہے ثم جعل نسلہ من سلالۃ من ماء مھین ثم سواء ونفخ فیہ من روحہ (22:908) یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر بچہ آدم کو مادہ منویہ سے تخلیق کرکے اور اس کے اعضاء درست کرکے اس میں اپنی روح پھونکی۔ صرف آدم اور بنی آدم ہی نہیں بلکہ کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کا جزو ماننا پڑے گا۔ جیسے کہ ارشاد باری ہے وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعا منہ (45:13) اس نے اپنی طرف سے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے مطیع کردیا۔ لہٰذا من روحی ۔ من روحہ۔ منہ کے الفاظ سے کسی چیز کی جزئیت ثابت نہیں ہوتی (ضیاء القرآن) القھا۔ اس کو ڈالا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو کہ کلمہ کی طرف راجع ہے۔ ثلثۃ تین ۔ اسم عدد ہے اشارہ ہے عیسائیوں کے مسئلہ تثلیث کی طرف۔ انتھوا۔ تم رک جاؤ۔ تم جھوڑ دو ۔ انتھاء (افتعال) سے جس کے معنی جس کام سے منع کیا جائے اس سے باز رہنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندہ ہوں اور نہ مقرب فرشتے عار رکھتے ہیں اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔

(4:172) لن یستنکف المسیح۔ استنکاف سے مضارع نفی تاکید بلن باب استفعال سے صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ ہرگز عار نہیں سمجھے گا ۔ وہ ہرگز حقیر سمجھ کر سرتابی نہیں کرے گا۔ ومن یستنکف۔ مضارع مجزوم بالشرط جو عار کرے گا۔ یا جو حقیر سمجھ کر سر تابی کریگا۔ جو حقیر سمجھ کر غرور کے ساتھ سرتابی کرے گا۔
Ayahs 4:173–174

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کا پورا بدلہ دے گا۔ اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا اور جنہوں نے (بندہ ہونے سے) عار وانکار اور تکبّر کیا ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے۔ اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے۔

(4:173) فیوفیہم۔ نوفیہ (تفعیل) سے ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو پورا پورا دیگا۔ اجورھم۔ ان کا حق ان کا بدلہ۔ اجور جمع ہے اجر کی مفعول بہ فعل فیوفیہم کا۔ استنکفوا۔ استنکاف سے ماضی کا صیغہ۔ جمع مذکر غائب۔ دیکھو 4:172 (آیہ ما قبل) یستنکف۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسّی) کو مضبوط پکڑے رہے۔ ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔

(4:175) اعتصموا بہ انہوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑا یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اعتصام (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کے بہن کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا اور اگر بہن مرجائے اور اسکے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنیوالے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اسلئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

(4:176) یستفتونک۔ استفتاء (استفعال) مضارع جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ آپ سے فتوی چاہتے ہیں۔ آپ سے مسئلہ معلوم کرتے ہیں ۔ آپ سے حکم پوچھتے ہیں ۔ اس کے بعد فی الکلۃ محذوف کردیا گیا۔ یفتیکم۔ وہ تم کو فتویٰ دیتا ہے حکم دیتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الکلۃ۔ وہ لوگ جو منقطع الطرفین ہوں۔ یعنی نہ اس کے والدین ہوں اور نہ ان کی اولاد ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ کلالہ وہ میت ہے جس کی نہ اولاد ہو نہ باپ بعض اہل لغت نے لکھا ہے کو کلالہ اس وارث کو کہتے ہیں جو میت کا نہ باپ ہو نہ اولاد۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کلالہ اولاد کے علاوہ دوسرے وارثوں کو کہتے ہیں۔ (4:176) ان تصلوا۔ ان نافیہ ہے۔ کہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ۔ تم بھٹک نہ جاؤ۔ تم ٹھیک راہ پر نہ چلو۔ صلال سے جمع مذکر حاضر۔ مضارع معروف۔ اصل میں تضلون تھا۔ ان ناصبہ ہے سبب سے نون اعرابی گرگیا۔