4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsانوار البیان

Ayahs 4:40–41

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دو چند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجر عظیم بخشے گا

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا (حال بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

(4:40) مثقال ۔ وزن۔ مثقال ذرۃ۔ ایک ذرہ کے وزن کے برابر۔ ثقل مادہ۔ باب کرم سے اسم آلہ ہے۔ تک۔ اصل میں تکون تھا۔ ان کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا۔ اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف عطف کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا کون سے مضارع معروف۔ مجزوم بوجہ جواب شرط۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو حسنۃً کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو بڑھا دیگا۔ دو چند کر دے گا۔ من لدنہ۔ اس کی طرف سے (یہاں) اپنی طرف سے۔ لذن۔ ظرف مکان (ربنا اتنا من لدنک رحمۃ) ات رب ہمارے ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔ اور ظرف زمان۔ اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک مقیم رہا۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کر کے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

(4:42) یود۔ مضارع واحد مذکر غائب مودۃ (باب سمع) مصدر۔ وہ پسند کرتا ہے وہ آرزو کرتا ہے یا کرے گا۔ لو تسوی بھم الارض کاش انہیں دبا کر اوپر سے مٹی برابر کردی گئی ہوتی۔ تو سی وہ برابر کردی گئی۔ وہ برابر کردی جائے۔ وہ ملا دی جائے۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ زمین ان کو اپنے اندر لے کر برابر ہوجاتی۔ لو مصدریہ بھی ہوسکتا ہے جملہ ب تاویل مفرد بود کا مفعول ہوگا۔ ای یودون ان یدفنوا۔ حدیثا۔ بات۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ یہ آیت حرمت شراب کی آیت سے منسوخ ہے اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر راستے چلے جا رہے ہو (اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عوتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے منہ اور ہاتھ کا مسح (کر کے) تیمم کرلو بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(4:43) سکاری۔ سکران کی جمع سکر وسکر سکر (سمع) سکرا من الشراب۔ شراب سے مدحوش ہوجانا۔ وانتم سکاری۔ دراں حالیکہ تم شراب کے نشہ میں ہو۔ ولاجنبا۔ اور نہ حالت جنابت میں۔ درآں حال یہ کہ تم پر غسل واجب ہو۔ عابری سبیل۔ عابری۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ گزرنے والے۔ عبور کرنے والے۔ راہ چلتے مسافر۔ عابری۔ اصل میں عابرین تھا بوجہ اضافت نون جمع ساقط ہوگیا۔ الغائط۔ نشیبی وسیع میدان۔ مراد قضائے حاجت کا مقام ۔ یا قضائے حاجت۔ عرب قضائے حاجت کے لئے نشیبی میدان میں جایا کرتے تھے کہ لوگوں کی نظرون سے پوشیدہ رہیں۔ اس لئے بطور کنایہ براز قضائے حاجت کا مقام ہے۔ عمرو بن معدی کرب کا شعر ہے : وکم من غائط دون سلمی اور سلمیٰ سے ادھر اور بھی وسیع میدان میں تیمموا۔ تم قصد کرو۔ تم ارادہ کرو۔ تم تیمم کرو۔ تیمم سے امر کا صیغہ جمع مزکر حاضر۔ تیمم کے معنی لغت میں مطلق قصد کرنے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں پاک مٹی کا یا اس چیز کا جو پاک مٹی کا قائم مقام ہو قصد کرنا۔ اور طہارت کی نیت سے دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر چہرہ اور دونوں ہاتھوں پر مسح کرنا مراد ہے۔ صعیدا۔ زمین ۔ خاک۔ الصعود۔ کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ صعید کا لفظ وجہ الارض۔ یعنی زمین کے بالائی حصہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 4:44

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ

(4:44) ان تضلوا السبیل ۔ کہ تم راہ راست سے ہٹ جاؤ۔ بہک جاؤ۔
Ayah 4:45

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز اور کافی مددگار ہے

(4:45) کفی بااللہ ولیا۔ کفی یکفی (ضرب) کفایۃ الشی۔ کسی شی کا کافی ہونا۔ کسی چیز پر قناعت کرنا اور دوسری چیز سے بےنیاز ہونا۔ علیا۔ صفت مشبہ (فعیل) ولایۃ محافظ۔ حامی۔ بچانے والا۔ کارساز۔ مددگار۔ دوست۔ رفیق۔ کفی باللہ۔ میں اللہ فاعل ہے ب زائدہ کی وجہ سے مکسور ہے۔ ولیا تمیز ہے بطور دوست اللہ ہی کافی ہے۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ (تم سے گفتگو کے وقت) راعنا کہتے ہیں اور اگر یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو انکی حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی درست ہوتی لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

(4:46) ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ھود۔ مصدر۔ باب نصر۔ وہ یہودی ہوئے من الذین ھادوا۔ جو یہودی ہیں ان میں سے بعض لوگ۔ یحرفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تحریف (تفعیل) مصدر۔ تحریف کرتے ہیں۔ بدل ڈالتے ہیں۔ بگاڑ دیتے ہیں۔ تحریف خواہ لفظی ہو یا معنوی یہاں دونوں مراد ہیں۔ الکلم۔ جنس جمع ہے۔ کلمۃ واحد ہے۔ یحرفون الکلم عن مواضعہ کلمات کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں (یہاں کلمات سے مراد کلمات توارۃ ہیں) مواضعہ۔ اسم ظرف جمع موضع واحد۔ وضع مصدر۔ باب فتح۔ رکھنے کے مقامات۔ اصلی جگہوں سے وضع اتار کر رکھ دینا۔ اسمع۔ تو سن۔ سماع وسماعۃ۔ سے امر کا صیغہ۔ واحد مذکر حاضر۔ غیر مسمع۔ مسمع اسم مفعول واحد مذکر۔ باب افعال۔ اسماع مسدر۔ نہ سنا گیا۔ واسمع غیر مسمع۔ سنیئے نہ سنوائے جاؤ۔ کا محاورہ دو طرح بولا جاتا ہے : (1) ایک بددعا کے طور پر۔ سنو تم بہرے ہوجاؤ کچھ نہ سن سکو۔ (2) دوسرا دعا کے طور پر۔ سنو ۔ تمہیں کوئی ناگوار بات نہ سننی پڑے۔ راعنا۔ ہماری رعایت کر۔ ہماری طرف کان لگا۔ ہمارا خیال رکھ۔ مراعاۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ مزید دیکھیں 2:104 ۔ لیا۔ مصدر موڑنا۔ مروڑنا۔ پھیرنا۔ گھمانا۔ لوی یلوی (ضرب) زبان کو مروڑکر۔ یہود ایک تو تورات میں لفظی اور معنوی تحریف کا ارتکاب کرتے تھے۔ کہ اس میں جو حصص حضور نبی کریم ﷺ کی بعثت یا ان کی صفات کے متعلق تھے۔ ان کو حرفا یا معنی تبدیل کردیتے تھے۔ دوسرے جب حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تھے اور ان کو دعوت حق دی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے : (1) سمعنا وعصینا یعنی باآواز بلند تو یہ کہتے ہیں سمعنا (ہم نے سن لیا۔ سمجھ لیا) اور بعد میں آہستہ سے یہ بھی کہہ دیتے عصینا۔ ہم قبول نہیں کرتے۔ ہم انکار کرتے ہیں ہم نہیں مانتے۔ (2) اسمع غیر مسمع۔ جو دعا اور بددعا دونوں کے معنی میں لئے جاسکتے ہیں تشریح اوپر گزرچکی ہے۔ (3) اور کہتے راعنا (معنی اوپر دئیے گئے ہیں۔ مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو (2:104) لیا۔ مصدر ان کے جملہ کلام کے متعلق ہے۔ طعنا فی الدین (دین پر طعنہ زنی کرتے ہوئے) بھی ان کے جملہ کلام کے متعلق ہے اور ان کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔ فرمایا ۔ اگر وہ مندرجہ بالا دو معنی فقرات کی بجائے نیک نیتی سے (1) سمعنا واطعنا (2) اسمع توجہ فرمائیے۔ (3) انظرنا ہم پر نظر فرما دیں۔ ہماری طرف التفات فرما دیں۔ تو انہی کے لئے بہتر اور درست ہوتا۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

(4:47) نطمس۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ جمع متکلم۔ طمس مصدر باب ضرب ونصر۔ کہ ہم صورت بگاڑ دیں۔ طمس کے اصل معنی مٹانا۔ بگاڑنا اور پلٹ دینا کے ہیں متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ فنردھا۔ مضارع جمع متکلم رد سے باب نصر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو وجوھا کی طرف راجع ہے۔ ان کو پھیر دیں ان کا رخ ان کی پیٹھوں کی طرف۔ علی ادبارھا اربار جمع دبر کی ۔ بمعنی پیٹھ۔ پھیر دیں۔ نلعنہم۔ مضارع جمع متکلم لعن مصدر (فتح) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان پر لعنت کریں۔ لعنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے لعنت کی۔ اصحب السبت۔ ہفتہ کے دن والے۔ 536؁ء سے 628؁ء کے درمیان یہودیوں کے نبی یر میاہ اور نبی حز قیل (علیہما السلام) کے وقت میں یہودیوں کو سبت یونی ہفتہ کے دن مچھلی شکار کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ لیکن ایک گروہ نے خلاف ورزی کرتے ہوئے صریحاً خلاف ورزی کی دوسرا گروہ باز رہا لیکن پہلے گروہ کو منع نہ کیا۔ تیسرے گروہ نے سرگرمی سے پہلے گروہ کو اس خلاف ورزی سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا۔ آخر خدا کی لعنت نے ان کو آلیا۔ اور پہلے گروہ کے چہرے مسخ کرکے ان کو بندروں کی شکل دیدی گئی۔
Ayahs 4:48–49

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں ؟ نہیں بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

(4:48) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ افتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ یعنی اس نے گناہ عظیم کا ارتکاب کیا۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

(4:50) وکفی بہ اثما مبینا۔ اور یہی کھلا گناہ ہے ب زائد ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب یہ جملہ یفترون علی اللہ الکذب کے لئے ہے جو اس جملہ میں فاعل ہے۔ نیز ملاحظہ ہو (4:45) اور یہی افتراء علی اللہ ان مفریوں کے لئے بطور ایک صریح گناہ کے کافی ہے۔
Ayah 4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں

(4:51) جبت۔ بت۔ جادوگر شیطان ۔ جادو۔ جبت اور طاغوت سے ہر وہ جنس مراد ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کی جاوے۔ خواہ وہ بت ہو یا آدمی ہو یا جن۔ یا شیطان طاغوت۔ شیطان ۔ حق سے روکنے والا۔ بت ۔ معبود باطل۔ سرکش۔ سخت۔ طاغی۔ طغی مادہ۔ طغی یطغی طغیانا۔ سرکشی کرنا۔ اطغاہ (افعال) اسے سرکشی طغیان پر اجارا۔ ان الانسان لیطغی۔ بیشک انسان سرکش ہوجاتا ہے ھولائ۔ مراد الذین کفروا۔ و۔ یقولون للذین کفروا۔ کافروں سے کہتے ہیں کہ انتم ھولاء اھدی ۔۔ سبیلا۔ تم ہی وہ لوگ ہو جو ایمان سے زیادہ راہ راست پر ہو (الخازن)
Ayah 4:52

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

للذین۔ بمعنی ان کے متعلق ۔ یعنی وہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت زیادہ راہ راست پر ہیں۔
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے کہ تم لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

(4:53) فاذا۔ اگر ایسا ہوتا تو۔ اس وقت۔ حرف جزا ہے، جواب اور جزاء کے لئے آتا ہے۔ لایؤتون۔ نہیں دیتے ہیں۔ نہ دیتے۔ نقیرا۔ اسم منصوب۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کا چھلکا۔ مراد حقیر ترین چیز۔
Ayahs 4:54–55

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور دانائی عنایت فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو ان نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دورزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

(4:54) فقد اتینا ال ابراہیم۔ تو یاد رہے ہم دے چکے ہیں (قبل ازیں) ۔ آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور عظیم سلطنت۔ مثلاً حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو۔ یعنی ایسی ہی نعمت قبل ازیں ال ابراہیم کو بھی تو دی جا چکی ہے۔ پھر یہ مؤمنوں کو وہی نعمت دئیے جانے پر کیوں جلتے ہیں۔ بعض کے نزدیک الناس سے مراد حضرت محمد ﷺ و اصحابہ مراد ہیں۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل اور جل جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

(4:56) نصلیہم۔ ہم ان کو داخل کریں گے۔ نیز ملاحظہ ہو (4:30) کلما۔ کل اور ما سے مرکب ہے۔ اس ترکیب میں ظرفیت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے۔ اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدر ہی ہے یا اسم نکرہ ہے۔ بمعنی وقت کے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ کلما اضاء لہم مشوا فیہا (2:20) اور آیۃ ہذا۔ نضجت۔ واحد مؤنث غائب۔ ماضی معروف نضج مصدر (سمع) پک جائیں گی (ان کی کھالیں) ناضج۔ پکا ہوا گوشت۔ پکا ہوا پھل۔
Ayahs 4:57–58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک خدا سنتا (اور) دیکھتا ہے

(4:57) ظلا ظلیلا۔ ظل۔ سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظلیل صیغہ صفت ہے گھنی چھاؤں۔ ٹھنڈا سایہ۔ ظل کے بعد اسے تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ہم ان کو گھنی چاؤں میں داخل کریں گے۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ ظلال ظلیلا۔ سے مراد عرش کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہ ہوگا۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

(4:59) تاویلا۔ تاویل بروزن تفعیل۔ اول سے مشتق ہے جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں۔ اسی لئے مرجع اور جائے بازگشت کو موئل کہتے ہیں۔ اول الشی الیہ۔ اس کی چیز کو واپس لوٹا دو ۔ یقال فی الدعاء اول اللہ علیک ضالتک خدا تمہاری گمشدہ چیز کو واپس دلادے۔ احسن تاویلا انجام کار بہتر ہے۔ Best and most suitable for final determination
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب ہر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے

(4:60) یزعمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ زعم مصدر۔ باب نصر۔ وہ گمان کرتے ہیں وہ دعوی کرتے ہیں۔ یتحاکمون الی۔ مضارع جمع مذکر غائب (اصل میں یتحاکمون تھا۔ نون اعرابی ان ناصبہ کی وجہ سے ساقط ہوگیا۔ تحاکم۔ تفاعل مصدر۔ تحاکم الی الحاکم۔ باہمی جھگڑے کو کسی حاکم کے پاس فیصلہ کے لئے لے جانا۔ یریدون ۔۔ الطاغوت۔ یعنی دعویٰ تو یہ کرتے ہیں۔ کہ جو کلام آپ پر نازل ہوا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور ادھر باہمی جھگڑے کے فیصلے کے لئے ان لوگوں کے پاس لے جائیں جو اللہ تعالیٰ سے سرکش ہیں۔ وقد امروا ۔۔ بہ۔ حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ انکار کریں۔ باز رہیں ایسے لوگوں سے (طاغوت سے) کیونکہ ان کو تو حکم یہ تھا کہ فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اللہ والرسول (آیۃ ماقبل)
Ayah 4:61

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

(4:61) تعالوا۔ تعالیٰ (تفاعل) جس کے معنی بلند ہونے اور آنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تعال کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بلند مقام کی طرف بلایا جائے ۔ پھر ہر جگہ بلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی رفعت منزل کے ہیں گو یا تعالوا میں رفعت منزل کے حصول کی دعوت ہے قرآن مجید میں جہاں تعلوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے۔ اہل لغت نے تعال کو مطلقاً علم (چلے آؤ۔ آؤ) کے معنی میں لیا ہے۔ یصدون عنک صدودا۔ صد۔ مصدر بمعنی رکنا۔ باز رہنا۔ روک دینا۔ باز رکھنا ۔ فعل لازم و متعدی ہر دو صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ صد یصد (نصر) بواسطہ عن منہ پھیرلینا اعراض کرنا۔ روک دینا ۔ پھیر دینا۔ صدید مصدر (نصر ۔ ضرب) رونا پیٹنا۔ چیخنا۔ تصدید مصدر (تفعیل) تالی بجانا۔ صدودا۔ آخر میں تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت) سے ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

(4:62) ان اردنا۔ میں ان نافیہ ہے۔ توفیقا۔ توفیق کے معنی ہیں دو چیزوں میں مطابقت کرنا۔ اس لئے عرف عام میں تقدیر کے موافق اچھے اعمال سرزد ہونے کا نام توفیق ہے۔ یہاں مراد ٓسلح باہمی اور ملاپ کے ہیں ۔ باہمی مصالحت۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

ان لوگوں کے دلوں میں جو جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کا کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو۔ اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں پر اثر کر جائیں

(4:63) فی انفسکم۔ ان کے اپنے متعلق۔ ان کے لئے۔ بلیغا۔ اثر کرنے والا۔ پہنچنے والا۔ بلاغت والا۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ان سے ان کے حق میں اثر کرنے والی بات کہہ۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

(4:64) اذ ظلموا انفسھم۔ جب وہ ظلم کر بیٹھے تھے اپنی جانوں پر جاء وک تمہارے پاس آجاتے۔ فاستغفروا اللہ۔ اللہ سے بخشش طلب کرتے۔ واستغفرلہم الرسول اور رسول کریم ﷺ بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے۔ لوجدوا ۔۔ رحیما۔ جواب شرط۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

(4:65) فلا وربک لا یؤمنون۔ اس جملہ میں فلا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ نفی کے لئے ہے۔ ای لیس الامر کما یقولون یعنی بات وہ نہیں جو یہ کہتے ہیں یعنی وہ جو قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ان اردنا الا احسانا و توفیقا۔ غلط کہتے ہیں ۔ جھوٹ کہتے ہیں بلکہ تیرے رن کی قسم بات یہ ہے کہ لا یؤمنون ۔۔ الخ۔ (ب) یہ لا تاکید کے لئے ہے ۔ یعنی قسم کی تاکید میں۔ (ج) یہ نفی کے معنی میں ہے اور لا یؤمنون کی نفی کی تاکید میں۔ یعنی نہیں ۔ تیرے رب کی قسم ۔ یہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے ۔۔ الخ۔ اس کے قریب قریب اردو میں بھی ہم بولتے ہیں کہ نہیں خدا کی قسم میں یہ نہیں کروں گا۔ مطلب یہ کہ میں ہرگز ہرگز یہ نہیں کروں گا۔ یحکموک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ حکم یحکم تحکیم (تفعیل) کسی کو منصف بنانا۔ یعنی جب تک آپ کو منصف نہ بنائیں گے۔ شجر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ اختلاف ہوا۔ جھگڑا ہوا۔ شجور سے جس کے معنی آپس میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کے ہیں۔ قضیت۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضی یقضی (باب ضرب) قضاء مصدر تو نے فیصلہ کردیا۔ تو نہ حکم دیا۔ حرجا۔ تنگی۔ مضائقہ۔ حرچ۔ خلش۔
Ayah 4:66

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالوا یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کار بند ہوتے جو ان کو کیجاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

(4:66) مایوعظون بہ۔ میں ما بیانیہ ہے۔ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اشد تثبیتا۔ اشد پختہ تر۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ تثبیتا مصدر۔ باب تفعیل ۔ ثابت کرنا۔ ثابت رکھنا۔ یعنی ان کے ایمان میں ثابت قدمی کی پختگی کا باعث ہوتا۔ یعنی اس طرح وہ سختی سے اپنے ایمان میں ثابت قدم ہوجاتے۔
Ayahs 4:67–68

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ بھی دکھاتے

(4:67) اذا۔ حرف جزا ہے۔ جواب شرط۔ جزا کے لئے آتا ہے تب۔ اس وقت۔ (دیکھو 4:53) اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف کی صورت میں بدل لیتے ہیں۔ یہاں اذا۔ وہ جواب ہے جس کا سوال مقدر ہے۔ جیسے کہ سوال ہے کہ اس خیر انھم اور اشد تثبیتا کے بعد پھر کیا ہوتا تو جواب ہے۔ تو پھر ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے۔ من لدنا۔ ہماری طرف سے لدن ظرف زمان ہے تو نہایت وقت کی ابتداء پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس مقیم رہا ابتداء طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔ ظرف مکان بھی ہے جس کا معنی ہے پاس۔ طرف ۔ قرآن حکیم میں عموماً اسی کا استعمال ہے مثلاً آیۃ ہذا۔
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انیباء اور صدیق اور شہد اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

(4:69) من ۔ بیانیہ ہے۔ حسن اولئک رفیقا۔ حسن بمعنی ما احسن تعجب کے لئے ہے۔ بظاہر حسن اولئک رفقاء چاہیے تھا ۔ علماء نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کی تقدیر کلام یہ ہے حسن کل واحد منھم رفیقا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ رفیق ۔ برید کے الفاظ واحد۔ جمع ۔ جنس سب معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے رفیق یہاں بمعنی رفقاء ہے
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو ! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکٹھے کوچ کیا کرو

(4:71) حذرکم۔ تمہارا بچاؤ۔ جس کے ذریعہ کیا جاتا ہے ۔ حذر کہلاتا ہے۔ مضاف مضاف الیہ۔ الحذر (س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا۔ قرآن حکیم میں ہے ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم (65:14) تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ حذر سے یہاں مراد اسلحہ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے۔ خذوا حذرکم احتیاطی تدابیر مکمل رکھو۔ اپنے بچاؤ کا انتظام پورا رکھو۔ اپنے بچاؤ کے ہتھیار موجود رکھو۔ مقابلہ کے لئے چوکنے اور تیار رہو۔ انفروا۔ تم نکلو۔ تم کوچ کرو۔ (نصر، ضرب) نفیر اور نفور سے۔ جس کے معنی نکلنے کوچ کرنے۔ اور بھاگنے (فرار ہونے) کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں نفر کے معنی کسی چیز کے لئے بیتاب ہونے کے ہیں یا اس سے بیزار ہونے کے ہیں۔ فانفروا۔ پس تم نکلو۔ بثات۔ جمع ۔ ثبۃ واحد۔ گروہ۔ ٹولے۔ ثبات ای فی ثبات۔ جمیعا۔ سب اکٹھے ہوکر ۔ جماعت کی صورت میں۔ انفروا۔ سے مراد مطلق باہر نکلنا بھی ہے اور جہاد کے لئے دشمنوں کے مقابلہ میں نکلنا بھی ہے یہاں دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ جنگ احد کے بعد دشمنوں کے حوصلے بلند ہوگئے تھے۔ اطراف و نواح کے قبیلوں کے تیور بدل گئے تھے اور وہ ہر وقت مسلمانوں کے درپے آزار تھے۔ اس لئے حکم ہوا کہ جب بھی باہر نکلو تو دشمنوں سے خطرہ کے پیش نظر مسلح ہوکر گروہ کی صورت میں نکلو تاکہ بوقت ضرورت خاطر خواہ مدافعت کرسکو۔ دوسری صورت میں پہلے خدا اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا۔ اور اب دین کی سربلندی کے لئے جہاد کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اور حکم ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں متفق و مجتمع حالت میں نکلو۔ اور باقاعدہ اسلحہ جنگ سے لیس ہوکر۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمدا) دیر لگاتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑجائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

(4:72) لیبطئن۔ مضارع بلال تاکید ونون ثقلیہ۔ بطایبطیٔ تبطیٔ (تفعیل) بطأ مادہ۔ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ البطؤ۔ چلنے میں دیر لگانا اور سستی کرنا۔ جملہ کے معنی یہ ہیں۔ اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو خود بھی دیر لگاتے ہیں اور دوسروں سے بھی دیر لگواتے ہیں۔ شھیداً ۔ سے یہاں مراد موجود ہے۔
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

(4:73) لیقولن۔ مضارع بلام تاکید نون ثقلیہ واحد مذکر غائب۔ تو ضرور کہہ اٹھے۔ فعل بافاعل یلیتنی ۔۔ عظیما۔ مفعول۔ کان لم تکن ۔۔ مودۃ۔ لیقولن اور یلیتنی کے درمیان جملہ معترضہ ہے یعنی جیسے تمہارے اور اس کے درمیان دوستی یا باہمی محبت کا کوئی رشتہ تھا ہی نہیں۔ اور اسے محض اپنی خود غرضی ملحوظ ہے مومنوں سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ مودۃ۔ مصدر۔ دوستی۔ محبت ۔ دلی رغبت۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے پھر شہد ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

(4:74) فلیقاتل۔ مقاتلہ (مفاعلۃ) مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس سے خطاب مؤمنین سے ہے جنہوں نے آخرت کے لئے اپنی دنیاوی زندگی بیچ دی فلیقاتل پس چاہے کہ لڑیں۔ ومن یقاتل میں فعل مضارع مجزوم بوجہ عمل من کے ہے۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

(4:75) مالکم کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ کیا وجہ ہے۔ یہ استفہام تحریض علی الجہاد کے لئے ہے یعنی جہاد میں برانگیختہ کرنے کے لئے ہے۔ والمستضعفین۔ اسم مفعول جمع مذکر (باب استفعال) سبیل اللہ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ یعنی کہ تم جنگ کیوں نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور بےبس مرد۔ عورتوں اور بچوں (کی خلاصی) کے لئے۔ یہاں بےبس مرد، عورتیں اور بچوں سے مراد ہیں وہ جو مکہ میں مسلمان ہوئے اور مشرکین نے ان کو ہجرت سے روکے رکھا۔ اور ان پر طرح طرح کی اذیتیں اور سختیاں کیں ۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو مومن ہیں سو وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مدد گاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بود ہوتا ہے

(4:76) کید۔ تدبیر (خواہ اچھی ہو یا بری) چال۔ واؤ۔ کید (باب ضرب) مصدر بمعنی چال چلنا۔ تدبیر کرنا۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑ بڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا ؟ تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ؟ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

(4:77) کفوا۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں اکففوا بروزن انصروا۔ تھا ۔ تم روکو۔ کیف یکف۔ کفوا ایدکم (عن القتال) امام قرطبی (رح) عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف الزہری۔ المقداد بن الاسود الکندی۔ قدامہ بن مظعون ۔ سعد بن ابی وقاص ؓ اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی۔ ان حضرات کا تقاضا تھا کہ مکہ میں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں اب جب کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی ہے تو ان کو اپنے موذی دشمنوں کے ساتھ مقاتلہ کی اجازت دی جائے۔ لیکن چونکہ ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ حضور ﷺ ان کو نماز اور روزہ پر زیادہ توجہ دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے جو فرض کئے جا چکے تھے اور قتال سے منع فرماتے تھے۔ کتب علیہم القتال۔ جب ان پر جہاد فرض کیا گیا۔ اور مشرکین سے قتال کا حکم ہوا اور بدر کے میدان کی طرف نکلنے کا حکم ہوا ۔ فریق منھم۔ ان میں سے ایک فریق۔ ایک گروہ۔ سارے نہیں بلکہ ان میں سے ایک گروہ جو ایمان میں پختہ نہ تھے۔ یخشون الناس۔ یخشون مضارع جمع مذکر غائب خشیۃ مصدر (باب سمع) سے لوگوں سے ڈرنے لگے۔ یعنی مشرکین سے مقاتلہ سے خوف کھانے لگے۔ فریقا لفظاً واحد ہے لیکن معنی جمع ہے۔ لولا۔ کیوں نہ۔ اخرتنا۔ تو نے ہمیں مہلت دی۔ اجل قریب۔ اجل مدت مقررہ کو کہتے ہیں موت کو اجل بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کا وقت مقرر ہے الی اجل قریب کچھ مدت تک۔ تھوڑا عرصہ اور۔ فتیلا کھجور کی گٹھلی کے ریشے برابر۔ ملاحظہ ہو 4:49 ۔
Ayahs 4:78–79

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو ! ) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہیں گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ (گزند) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج و راحت) سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

(4:78) یدرککم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ادراک سے۔ پلستر کیا ہوا۔ بلند۔ قصر مشید (22:45) بہت بلند محل۔ مشیدۃ تشیید (تفعیل) سے اسم مفعول اونچے اور مضبوط بنائے ہوئے۔ فمال ھولاء القوم۔ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ کیسی ہے۔ ما شان ھولاء القوم ۔ لایکادون۔ کادیکاد (فتح) کود مصدر۔ کاد یکاد۔ اگرچہ افعال تامہ ہیں لیکن استعمال میں ان کے بعد دوسرا فعل ضرور آتا ہے۔ جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے لا یکادون یفقھون حدیثا بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔