4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsانوار البیان

Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر ﷺ تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے

(4:80) حفیظا۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والا۔ حفظ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل۔
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ کرو اور خدا ہی کافی کار ساز ہے

(4:81) طاعۃ۔ ای یقولون من افواہہم۔ یعنی منہ سے تو اطاعت کا دم بھرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں۔ طاعۃ اسم بمعنی حکمبرداری۔ قبول کرنا۔ حکم ماننا۔ طوع سے۔ برزوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ نکلتے ہیں بروز سے باب نصر۔ جس کے معنی کھلم کھلا ظاہر ہونے کے ہیں۔ یعنی جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ بیت۔ اس نے رات کے وقت مشورت کی۔ یعنی تو ایک طائفہ (گروہ) رات بھر (آپ کے خلاف) ایسے مشوروں میں لگا رہتا ہے جو غیر الذی نقول ہے۔ یعنی جو وہ کہتا ہے (کہ ہم فرمانبردار ہیں) اس سے بالکل مختلف ہے۔ نقول میں ضمیر واحد مؤنث غائب طائفۃ کی طرف راجع ہے یا اس کی ضمیر (واحد مذکر حاضر) رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ طائفہ رات بھر مشورہ کرتا رہتا ہے ان باتوں کے خلاف جو آپ نے فرمائی ہیں۔ یبیتون۔ جو وہ رات بھر مشورہ کرتے ہیں۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

(4:82) لو کان ۔ ای لوکان ھذا القران۔ اگر یہ قرآن ہوتا (اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے)
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

(4:83) امر۔ کے معنی حکم کے ہیں لیکن یہ جملہ اقوال و افعال کے لئے بھی عام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ والیہ یرجع الامر کلہ (11:123) اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے ۔ امر ۔ یعنی کوئی بات ، کوئی معاملہ۔ اس کی جمع امور ہے۔ واذا جاء ہم امر من الامن۔ اس کا مطلب ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی خبر۔ کوئی امر ۔ کوئی معاملہ (خواہ وہ امن کے متعلق ہو یا خوف کے متعلق) پہنچتا ہے اذاعوا بہ۔ وہ مشہور کردیتے ہیں ۔ اس کا تذکرہ عام کردیتے ہیں۔ اس کو شہرت دیدتے ہیں اشاعت کردیتے ہیں۔ افشا کردیتے ہیں۔ اذاعوا۔ اذاعۃ سے بمعنی شہرت دینا۔ خبر پھیلانا۔ راز ظاہر کرنا۔ ذیع مادہ۔ اولی الامر۔ صاحب الامر۔ غاکم با اقتدار۔ ذمہ دار۔ حاکم ۔ اہل عقل و بصیرت۔ اہل الرائے۔ وہم کبار الصحابۃ کا بی بکر و عمر و عثمان و علی۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ یعنی صحابہ کبار جیسے حضرت ابوبکر۔ حضرت عمر۔ حضرت عثمان۔ حضرت علی ؓ لعلم الذین۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ تو ضرور جان لیتے اس بات کو وہ جو ان میں سے استنباط کرنے والے ہیں۔ علم کا فاعل الذین ہے۔ فاعل جب اسم ظاہر ہو تو فعل کو واحد لاتے ہیں ۔ یستبطونہ۔ استنباط (استفعال) مصدر۔ جو اس کی تحقیق کرتے ہیں۔ جو غوروخوض کرکے نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ تو گویا اس صورت میں متعلقہ خبر اپنے صحیح اور اصلی روپ میں سامنے آجاتی اور امن و خوف کی غلط کیفیت جو بغیر سوچے سمجھے لوگ خبروں سے اخذ کرلیتے ہیں۔ پیدا نہ ہوتی۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کر دے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی سخت ہے

(4:84) فقاتل۔ میںجزائیہ ہے۔ اور فقاتل فی سبیل اللہ جواب شرط ہے شرط محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہوگی۔ ان افددوک وترکوک وحدک فقاتل فی سبیل اللہ۔ اگر (منافقین) تمہیں تنہا چھور دیں تو تو اللہ کی راہ میں اکیلا ہی لڑ۔ لا تکلف الا نفسک۔ تو صرف اپنی ذات کی حد تک مکلف (ذمہ دار) ہے۔ حرض۔ امر واحد مذکر حاضر۔ تو رغبت دلا۔ تو تاکید کر۔ تو تحریض دلا۔ تو ابھار۔ حرض علی القتال۔ عسی۔ عنقریب ہے۔ شتاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ عسی ان یکف۔ ممکن ہے۔ یا توقع ہے کہ روک دے۔ کف مصدر۔ باب نصر۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ شدید تر۔ باس۔ لڑائی۔ دبدبہ۔ سختی۔ زور۔ جنگ کی شدت۔ توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی جنگ کی شدت کو روک دے۔ کیونکہ لڑائی کی شدت کے طور پر اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔ اشد تنکیلا۔ عذاب دینے۔ سزا دینے۔ یا ضعیف و عاجز کردینے میں اللہ تعالیٰ بہت سخت ہے (ان سے)
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

یشفع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ جزم فعل بوجہ عمل من ہے۔ جو سفارش کرتا ہے جو معاونت کرتا ہے۔ کفل۔ حصہ۔ پورا پورا حصہ۔ مقیتا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اقوات مصدر۔ قوت۔ مادہ۔ قادر۔ نگران۔ محافظ۔ روزی دینے والا۔ بعض نے اس کا معنی شاہد بھی لیا ہے۔ یعنی اللہ ہر بات پر نظر رکھنے والا ہے۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو ، بیشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

(4:86) حییتم۔ تمہیں دعا دی جائے۔ تمہیں سلام کیا جائے۔ تحیۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حیوا۔ تم دعا دو ۔ تم سلام کرو۔ امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟

(4:87) اصدق۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ زیادہ سچ بولنے والا۔ زیادہ سچا۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو ہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو راستے پر لے آؤ ؟ اور جس شخص کو خدا گمراہ کر دے تم اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

فمالکم۔ کیوں تم میں۔ فی المنافقین۔ منافقوں کے بارے میں۔ فئتین۔ دو گروہ۔ یعنی کیا وجہ ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہوں میں ہوگئے ہو۔ بعض لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ دنیاوی مفاد یا باہمی معاشرتی یا خانگی تعلقات کی وجہ سے مکہ سے یا دیگر مقامات سے ہجرت سے باز ہے۔ بعض انہی وجوہ کی بناء پر مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں سے ناسازگی آب و ہوا یا دیگر بہانہ سازی سے واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے۔ اور وہاں کم و بیش اپنی کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ان کی کاروائیوں میں حصہ لیتے رہے۔ مسلمانوں کی رائے ان کے بارے میں مختلف تھیں۔ ایک گروہ ان کو خارج از اسلام گردانتا تھا۔ جب کہ دوسرا گروہ ان کو مسلمان ہی گردانتا تھا۔ کہ کلمہ پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو حقیقت میں بالکل مجبور تھے ۔ اور ہجرت نہ کرسکتے تھے۔ اور ان پر ان کے کافر و مشرک افراد طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے تھے قرآن حکیم میں ان کو مستضعفین شمار کیا گیا ہے۔ ارکسھم۔ ماضی واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ارکاس سے (اللہ نے) ان کو سر کے بل اوندھا گرا دیا ہے۔ ای ردھم الی الکفر۔ ان کو کفر کی طرف الٹا پھیر دیا ہے۔ ارکس اور نکس ہم معنی ہیں۔ اتریدون ان ۔۔ اضل اللہ۔ یعنی مستضعفین کے علاوہ جو اپنی مرضی سے وہیں کفار میں رہ گئے۔ یا آکر واپس چلے گئے انہوں نے دنیاوی مفاد کو اسلام پر ترجیح دی اور کفر کی طرف لوٹا دئیے گئے۔ اب اس میں اختلاف کا کونسا موقع ہے۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

(4:89) فتکونون سوائ۔ تاکہ تم بھی (اور وہ بھی) یکساں ہوجائیں۔ فان تولوا۔ اگر وہ ہجرت سے منہ موڑیں۔ انکار کریں۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضرور نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

(4:90) یصلون۔ وہ پناہ پکڑیں یا جا ملیں۔ فعل مضارع جمع مذکر غائب وصل باب ضرب مصدر۔ حصرت۔ حصر (سمع) ماضی واحد مؤنث غائب وہ گھر گئی وہ تنگ ہوگئی۔ وہ رک گئی حصار محصور اسی سے مشتق ہیں حصرت صدورھم محصور ہوچکے ہیں ان کے سینے (کوئی راہ نکلنے کی نہیں ملتی تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں) ۔ جن منکرین ہجرت کو پکڑنے اور قتل کرنے کے متعلق حکم ہوا۔ ان میں دو گروہوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ (1) جو اس قوم سے جاملیں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ امن ہے۔ (2) جو تمہارے پاس آجائیں لیکن ان کے دل اس قدر محصور ہوچکے ہوں کہ وہ کوئی راہ نہیں پاسکتے کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں۔ لسلطھم۔ اس نے ان کو زور دیا۔ ان کو مسلط کیا۔ سلیط (تفعیل) بمعنی غلبہ اور مسلط کرنا۔ یہاں تقویت قلب کے لئے آیا ہے۔ برائے ازالۃ الحصر (تنگ دلی۔ ذہنی کرب۔ حصر کی کیفیت) مدارک۔ عبد اللہ یوسف علی۔ (الخازن) فلماتلوکم۔ عطف ہے لسلطھم پر یعنی اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے تقویت قلب دے دیتا۔ اور وہ حصور اور بےیقینی کی کیفیت اپنے دل میں نہ پاتے۔ تو پھر وہ ضرور تم سے قتال کرتے۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا تو وہ ضرور تم سے لڑتے لیکن یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ جب وہ مسلط ہی ہوگئے تو لڑنے کی کون سی گنجائش رہ گئی۔ ولو شاء اللہ ۔۔ فلماتلوکم۔ جملہ معترضہ ہے۔ خدا نے مسلمانوں پر اپنی عنایت کا ذکر کیا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں عرب ڈال دیا اور وہ مسلمانوں سے قتال کی اپنے میں ہمت نہ پاسکے۔ فان اعتزلوکم۔ پس اگر وہ تم سے اعراض کریں۔ ایک طرف رہیں۔ کنارہ کش رہیں۔ اعتزلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اعتزال (افتعال) مصدر۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ السلم۔ صلح۔ انقیاد۔ فرمانبرداری ۔ اطاعت۔ تسلیم سے بمعنی سپرد کرنا۔ اسم ہے۔
Ayahs 4:91–92

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہی کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امین میں رہیں لیکن جب فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گرپڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کریں اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہادے ہاں اگر وہ معاف کریں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے متواتر روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لیے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا (اور) بڑی حکمت والا ہے

(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔ اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں کو انسانی شکل میں قوم لوط نے حضرت لوط کے ہاں دیکھا تو اپنی مذموم خواہش کے زیر اثر وہ سرپٹ اس طرف دوڑے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ آبلہ زیرپا ہیں اور کوئی اور طاقت ان کو اڑائے لئے جا رہی ہے اصل میں ان کی شدت خواہش ان کو بھگائے لئے جاری تھی۔ اس طرح آیت ہذا میں ارکسوا سے فی الحقیقت یہ مراد نہیں کہ ان کو کوئی اور مسلمانوں کے خلاف قتال میں حصہ لینے پر مجبور کر رہا تھا بلکہ ان کا ایمان تو سطحی تھا۔ ان کے نہاں خانۂ دل میں تو شرک اور کفر بسا ہوا تھا موقعہ پاتے ہی وہ مسلمانوں کے خلاف جوش و خروش کے ساتھ برسر پیکار ہوگئے۔ یلقوا اور یکفوا عطف ہیں یعتزلوا پر۔ اس لئے لم کا عمل ان ہر دو فعل پر ہے۔ ثقفتموہم۔ تم پاؤ ان کو۔ سلطانا مبینا۔ کھلا کھلا اختیار۔ پورا پورا اختیار۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص مسلمان کو قصدا مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

(4:93) متعمدا۔ تعمد (تفعل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عمدا جان بوجھ کر ۔ خالدا۔ ہمیشہ رہے گا اس میں ۔ اعد۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد (افعال) تیار کرنا۔ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ شمار کی جائے۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

(4:94) فتبینوا۔ تم تحقیق کرلو۔ تم کھول لو۔ تبین (تفعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تبتغون۔ تم چاہتے ہو۔ تم ڈھونڈھتے ہو۔ ابتغاء مصدر بغی مادہ۔ البغی کے معنی ہیں۔ کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا۔ عرض۔ مال و متاع۔ سامان۔ اسباب ۔ دنیاوی مال العرض ہر وہ چیز جسے ثبات نہ ہو۔ دنیا کے لئے بولتے ہیں۔ الدنیا عرض حاضر۔ دنیا تو پیش افتادہ سازو سامان کا نام ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ (8:67) تم لوگ پیش افتادہ سازو سامان کے طالب ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔ اور یاخذون عرض ھذا الادنی (7:169) وہ اس دنیا کے مال و متاع لیتے ہیں۔ عرض کے اور بھی معانی ہیں کو اپنے مقام پر بیان ہوں گے۔ کذلک کنتم من قبل تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے یعنی ابتداء میں تمہاری بھی زبانی شہادت اسلام پر اعتبار کرلیا گیا تھا۔ قبل ظرف زبان ہے ظرف مکان بھی آتا ہے اس کو بعد کی طرف اضافت لازمی ہے جب بغیر ظرف کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا۔ من اللہ۔ اللہ نے احسان فرمایا۔ فتبینوا۔ کا لفظ دوبارہ قتل میں انتہائی احتیاط برتنے کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ شان نزول آیۃ ہذا یہ ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کی قیادت میں کفار کے خلاف لشکر روانہ فرمایا۔ جب کفار کو خبر ملی تو وہ سب بھاگ گئے۔ مرد اس نامی ایک شخص جو مسلمان ہوچکا تھا۔ وہ اپنے مال مویشی کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہا جب مسلمان وہاں پہنچے تو انہوں نے نعرہ بلند کیا۔ مرداس نے بھی جواب میں اللہ اکبر کہا۔ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے ان کے پاس آگیا اور السلام علیکم کہا۔ لیکن حضرت اسامہ ؓ نے اس کی پر وہ نہ کی اور اسے قتل کردیا اور اس کا ریوڑ ہانک کر مدینہ لے گئے۔ حضور ﷺ کو معلوم ہوا تو رنجیدہ خاطر ہوئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے اور وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

(4:95) القاعدون۔ بیٹھنے والے۔ یعنی جو جہاد پر نہ گئے اور پیچھے گھروں میں بیٹھے رہے۔ غیر اولی الضرر۔ ماسوائے معذوروں کے عذر خواہ بیماری کے سبب ہو۔ یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے۔ کلا۔ ہر ایک کے لئے۔ سب کے لئے ۔ یعنی سب مسلمانوں کے لئے خواہ وہ قاعدون میں سے ہیں یا مجاہدین میں سے۔ ہر ایک فریق کے لئے بحیثیت مسلمان ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اچھے ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لیکن مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت بخشی ہے قاعدین پر اور ان کو اجر عظیم دے گا۔ کل۔ لفظاً واحد ہے۔ لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح ہے۔ واحد جمع ، مذکر ، مؤنث۔ سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کلا بوجہ فعل وعد کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔
Ayah 4:97

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

(4:97) ان الذین توفھم الملئکۃ۔ بیشک وہ لوگ جن کی روحوں کو فرشتوں نے قبض کیا۔ یہ آیت ان مسلمان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو بلا کسی معذوری یا مجبوری کے اپنے عزیزو اقارب اور مال و جائداد کی وجہ سے مکہ میں ہی رہ گئے جب کہ ہجرت اس وقت فرض تھی۔ فرشتوں اور ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوا۔ جب فرشتے ان کی روحیں قبض کر رہے تھے توفھم۔ ان (فرشتوں کی جماعت) نے ان (کی روحوں) کو قبض کیا۔ اس نے ان کو اٹھایا وہ ان کو قبض کرتی ہے۔ توفی فعل ماضی بھی ہوسکتا ہے اور فعل مضارع بھی۔ توفی سے قبض کرنا۔ مضارع کی صورت میں اصل میں تتوفی تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ باب تفعیل ۔ لفیف مفروق ۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ظالمی۔ اصل میں ظالمین تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون جمع گرگیا۔ ظالمی انفسہم اپنی جانوں کے دشمن۔ توفھم کی ضمیر مفعول ہم سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے یا کر رہے ہوں گے۔ قالوا۔ کہیں گے فرشتے۔ فیم کنتم۔ تم کس شغل میں تھے۔ تمہارے کیا طور طریقے تھے۔ یعنی تم نے ہجرت کیوں نہ کی۔ قالوا۔ کہیں گے وہ لوگ۔ کنا مستضعفین فی الارض۔ ہم وہاں ہجرت سے مجبور و معذور تھے۔ قالوا۔ کہیں گے فرشتے۔ الم تکن ۔۔ فیہا۔ کیا للہ کی زمین اتنی فراخ و وسیع نہ تھی کہ تم وہاں سے دوسری جگہ ہجرت کر جاتے۔ فاولئک۔ پس یہی لوگ ہیں۔ ماوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ٹھکانہ ۔ ان کا مقام سکونت۔ ماوی اسم ظرف بھی ہے اور مصدر بھی۔ مصیرا۔ اسم ظرف۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ ٹھکانہ۔
Ayahs 4:98–99

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کر دے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(4:98) المستضعفین۔ جو در حقیقت مجبور و معذور تھے۔ مستضعفین۔ کمزور۔ ناتواں ضعیف لوگ۔ لا یستطیعون حیلۃ۔ کسی حیلہ و چارہ کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ولا یھتدون سبیلا۔ اور نہ (باہر نکلنے کی) کوئی راہ تلاش کرسکتے تھے۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے اوہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(4:100) سعۃ۔ کشائش ۔ وسعت۔ فراغی۔ طاقت۔ پہنچ۔ وسع یسع (سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی فراخ ہونے کے ہیں۔ اول سے واؤ کو حذف کرکے آخر میں اس کے عوض تاء لائے ہیں۔ جیسے عدۃ (وعدہ) زنۃ (وزن) ۔ سعۃ کا استعمال مقامات کے لئے بھی ہوتا ہے اور حالت کے لئے بھی۔ اور فعل کے لئے بھی چناچہ مقام کے بارے میں ارشاد ہے الم تکن ارض اللہ واسعۃ (آیۃ ہذا) کیا اللہ کی زمین اتنی کشادہ نہ تھی۔ حالت کے بارے میں ہے لینفق ذوسعۃ من سعتہ (65:7) اور صاحب دولت اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے۔ فعل کے بارے میں ہے وسع کرسیۃ السموت والارض (2:255) اور اس کی حکومت آسمانوں اور زمین کو اپنی وسعت میں لئے ہوئے ہے۔ (یہاں کشائش رزق مراد ہے) ۔ مراغما۔ صاحب کشاف نے مراغم کے یہ معنی بیان کئے ہیں ۔ مراغم کا معنی ہجرت گاہ یا ہجرت کا راستہ ہے۔ المنجد میں اس کے معنی بھاگنے کی جگہ۔ قلعہ۔ جائے پناہ۔ (یعنی اس کو بہت جگہیں ایسی مل جائیں گی جہاں وہ پناہ لے سکے) یدرکہ۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ادراک سے (موت) اس کو آپکڑے۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کر کے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

(4:101) ضربتم فی الارض (سبب) تم زمین میں سفر کرو۔ ضرب فی الماء پانی میں تیرنا۔ تقصروا من الصلوۃ۔ تم قصر کرو نماز میں۔ یعنی نماز کو مختصر کرلو۔ یغتنکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ فتن وفتون مصدر باب ضرب۔ کہ تم کو پریشانی میں ڈال دیں گے۔ مصیبت میں مبتلا کردیں گے۔ آیت ہذا میں کلام ان خفتم ۔۔ کفروا۔ کلام ما قبل سے منفصل ہے اور کلام مابعد سے متصل۔ اس صورت میں یہ شرط ہے اور جواب شرط اس کے بعد محذوف یعنی ” تو بھی قصر نماز کرلو۔ اور اگر اس کو کلام ماقبل کے ساتھ لیا جاوے تو مطلب ہے “ تم قصر نماز کرسکتے ہو جب تم حالت سفر میں ہو اور جب دشمنوں کی طرف سے تکلیف و گزند کا اندیشہ ہو۔ بحرکیف بحالت سفر اور بحالت خوف کفار۔ دونوں حالتوں میں قصر جائز ہے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کر چکیں تو پرے ہوجائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہوجاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں ہو یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(4:102) ولما خذوا اسلحتہم۔ (اور چاہیے کہ وہ پکڑے رکھیں اپنے ہتھیار) اس گروہ کے لئے ہے جو حضور ﷺ کے ساتھ شروع نماز میں نماز کے لئے کھڑا ہوا ہے۔ فاذا سجدوا۔ (پس جب یہ پہلا گروہ سجدہ کرچکے) فلیکونوا من ورائکم (تو یہ پیچھے چلے جائیں حفاظت کرنے کیلئے) لم یصلوا۔ (جس دوسرے گروہ نے ابھی نماز پڑھنا شروع نہیں کی) امتعتکم۔ تمہارا سازوسامان۔ متاع کی جمع۔ یمیلون۔ مضارع۔ میل مصدر (ضرب) وہ حملہ کردیں گے۔ میلۃ واحدۃ۔ یکبار گی حملہ کرنا۔ مال یمیل (ضرب) جھک جانا۔ ادھر ادھر مڑجانا۔ مال علیٰ حملہ کرنا۔ مال عن۔ اعراض کرنا۔ کنارہ کشی کرنا۔ ومال الی۔ کسی کی طرف رغبت کرنا۔ تضعوا۔ تم اتار رکھو۔ حذرکم۔ تمہارا بچاؤ۔ تمہارے بچاؤ کا سامان۔ اپنا بچاؤ ملحوظ رکھو۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

(4:103) اطماننتم۔ تم مطمئن ہوجاؤ۔ تم مطمئن ہوگئے۔ اطمینان سے ماضی جمع مذکر غائب۔ موقوتا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وقت۔ مصدر۔ وقت مقرر کیا ہوا۔ یعنی جس کا وقت مقرر شدہ ہے۔ کتبا موقوتا۔ ایک فرض جس کی ادائیگی کا وقت مقرر ہے۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کفار کے پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو تو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا (اور) بڑے حکمت والا ہے

(4:104) لاتھنوا۔ تم سست مت ہوجاؤ۔ تم کمزور دل نہ ہوجاؤ۔ وھن۔ سے فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ ولا تھنوا ۔۔ القوم۔ دشمن قوم کو ڈھونڈھ نکالنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں بزدلی نہ دکھاؤ۔ تکونوا تالمون۔ تم درد مند ہوتے ہو۔ تم تکلیف پاتے ہو۔ الم سے، درد۔ تکلیف۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ (یعنی اگر تم کو دشمن کا مقابلہ کرنے اور اس کا تعاقب کرنے میں دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو بھی تمہاری طرح تم سے مقابلہ کرنے سے ویسی ہی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے) ۔ اراک اللہ۔ جو اللہ نے تمہیں دکھایا ہے۔ یعنی جو حقیقت حال کا علم خدا نے تمہیں عطا کیا ہے۔
Ayahs 4:105–106

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغا بازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا۔

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگنا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

ولا ۔۔ خصیما۔ ای ولا تکن خصیما للخائنین۔ اور خیانت کرنے والوں کے لئے جھگڑا کرنے والا۔ یا طرفداری کرنے والا نہ بن۔ لاتکن۔ فعل ناقصہ۔ لاتکن کی ضمیر واحد مذکر حاضر۔ اسم لاتکن۔ خصیما خبر۔
Ayah 4:107

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

(4:107) لا یجادل۔ تو مت جھگڑ۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ جدل مادہ۔ باب مفاعلۃ مجادلۃ سے۔ خوانا۔ بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ بڑا دغاباز۔ خیانۃ سے مبالغہ کا صیغہ۔ اثیما۔ گنہگار۔ اثیم بمعنی اثم۔ فعیل بمعنی فاعل
Ayahs 4:108–111

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا تو ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تما م) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کیساتھ کون جھگڑے گا ؟ اور کون انکا وکیل بنے گا ؟

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا (اور) مہربان پائے گا

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا ہے (اور) حکمت والا ہے

یستخفون۔ وہ چھپتے ہیں۔ وہ چھپے رہ سکتے ہیں۔ استخفاء (استفعال) مصدر خفی مادہ ۔ یبیتون۔ بتییت مصدر باب تفعیل۔ رات کو سوچتے ہیں۔ رات کو سوچتے اور تدبیریں کرتے ہیں۔ مالا یرضی من القول۔ ایسی باتیں سوچتے اور کہتے ہیں جن پر خدا راضی نہیں ہے۔ محیطا۔ اسم فاعل۔ مفرد احاطۃ مصدر۔ ہر طرف سے گھیرے ہوئے۔ پورا پورا قابو رکھنے والا۔ ہر طرح سے جاننے والا۔ یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔
Ayahs 4:112–113

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو متہم کر دے تو اس بہتان اور صریح گناہ کو بوجھ اپنے سر پر رکھا

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی۔ اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکانے نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کو بڑا فضل ہے

(4:112) یرم بہ۔ رمی یرمی (ضرب) سے مضارع واحد مذکر غائب۔ رمی مصدر، اس کی تہمت لگائے۔ الزام لگائے۔ بہ میں ہ ضمیر خطیئۃ اور اثم کی طرف راجع ہے۔ یرم اصل میں یرمی تھا۔ من شرطیہ کی وجہ سے ی حذف ہوگئی۔ بریئا۔ بےتعلق ۔ بےگنا۔ ثم یوم بہ بریئا۔ پھر اس گناہ کا الزام کسی بےگناہ کے سر تھوپ دیتا ہے۔ احتمل۔ اس نے اٹھالیا احتمال سے بمعنی برداشت کرنا۔ اٹھانا۔ فقد احتمل بھتانا واثما مبینا۔ تو اس نے بہتان اور ایک صریغ گناہ کا بوجھ اپنے سر اٹھالیا۔
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

(4:114) نجوہم۔ اسم نکرہ۔ سرگوشی۔ سرگوشی کرنے والے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ مضاف مضاف الیہ۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مادہ ن ج و ہے۔ النجوۃ۔ بلند جگہ۔ جگہ جو بلندی کی وجہ سے اپنے ماحول سے الگ معلوم ہو۔ نجوۃ۔ کسی کو علیحدہ بلند مقام پر چھوڑنے کے بھی ہیں۔ ناجیتہ کے معنی سرگوشی کرنے کے ہیں۔ یا اپنے بھید کو دوسروں پر افشاء ہونے سے بچانے کے ہیں۔ اس سے استنجاء ہے۔ استبجاء کرنے اور رفع حاجت کے لئے علیحدہ جگہ تلاش کرنا۔ گویا ہر صورت میں علیحدگی اور خلوت کا مفہوم غالب ہے۔ لاخیر فی کثیر من نجوھم۔ ان کے اکثر خفیہ مشورے خیر سے خالی ہوتے ہیں۔ الا ۔۔ بین الناس۔ ہاں وہ جو (ایسے مشوروں میں) صدقہ خیرات کی تلقین کرے۔ یا نیکی و بھلائی کی بات کہے یا لوگوں میں اصلاح کی بات کہتے تو وہ مستثنیٰ ہے۔ یعنی ایسے خفیہ مشورے خیر سے خالی نہیں کہلائے جائیں گے۔ یہاں امر بمعنی ترغیب و تلقین ہے
Ayahs 4:115–116

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر ﷺ کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اسکے سوا (اور گناہ) جس کو چاہے گا بخش دیگا اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ راستے سے دور جا پڑا

(4:115) یشاقق۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بوجہ عمل من۔ شقاق مصدر۔ ق ثانی بوجہ حرف مابعد کے ساتھ وصل کے لئے مکسور ہوا۔ جو مخالفت کرتا ہے شقاق مصدر باب مفاعلہ سے ہے شق (مضاعف) کے معنی طرف۔ ضد۔ مخالفت۔ ٹکڑہ۔ نولہ۔ جمع متکلم مضارع ہ ضمیر مفعول راجع الی من تولیۃ مصدر باب تفعیل ۔ ہم پھریں گے۔ اسے۔ ہم اس کو مختار بنادیں گے ماتولی۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔ وہ متولی ہوا۔ وہ پھر گیا۔ تولی (تفعل) نولہ ما تولی۔ جدھر وہ کود جانا چاہتا ہے ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے۔ نصلہ۔ مضارع جمع متکلم۔ اصلاء مصدر۔ باب افعال سے۔ صلی مادہ اصل میں نصلیہ تھا جواب شرط کی وجہ سے ی گرگئی۔ ہم اس کو داخل کریں گے۔ ہم اس کو آگ میں پھینکیں گے۔
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں ہی کی اور پکارتے ہیں تو شیطان سرکش ہی کو

(4:117) ان نافیہ ہے۔ انثا عورتیں۔ انثی کی جمع ہے جس مے معنی عورت کے ہیں۔ معبودان باطل کو اناث کہا ہے کیونکہ مشرکین اپنے بتوں کو انواع و اقسام کے زیوروں سے آراستہ کرتے اور ان کو عورتوں کے نام سے نامزد کرتے تھے۔ جیسے لات، منات، عزی، نائلہ۔ یہ سب مؤنث نام ہیں۔ ضحاک کا بیان ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور مدعی تھے کہ ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ یہ بارگاہ الٰہی میں ہمارے قرب کا موجب ہیں چناچہ انہوں نے خوبصورت شکل میں ان کے مجسمے تراشے اور کہا کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کی شبیہ ہیں جن کی ہم پرستش کرتے ہیں ۔ قرآن میں ہے وجعلوا المئکۃ الذین ۔۔ انثا۔ اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دیا۔ راغب اصفہانی فرماتے ہیں : معبود ان عرب (لات ، منات و عزی وغیرہ) چونکہ پیتھروں سے بنائے ہوئے تھے۔ اس لئے منجملہ جمادات تھے اور بقول حسن بصری (رح) جس کو ابن جریر اور حاتم نے نقل کیا ہے۔ بےجان چیز جس میں روح نہ پائی جائے۔ اناث میں شامل ہے لہٰذا یہ پتھر کے بت جو سرتاسر منفعل اور غیر فاعل ہیں۔ یعنی یہ اثر تو قبول کرلیتے ہیں لیکن مؤثر ہونے کی ان میں ذرا بھی اہلیت و قوت نہ ہے کیسے عبادت کے لائق ہوسکتے ہیں۔ مریدا۔ صفت مشبہ۔ سرکش۔ ہر خیر سے خالی۔ مارد۔ متمرد۔ اطاعت سے خارج۔
Ayah 4:118

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر خدا کی لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا

(4:118) لعنہ اللہ۔ میں ہ ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے اور قال فعل کا فاعل بھی شیطان ہی ہے۔ لاتخذن۔ مضارع واحد متکلم بالام تاکید و نون ثقلیہ۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ بہت سی چیزوں میں سے کسی ایک کو لینا۔ یا اختیار کرنا۔ یعنی میں ضرور لوں گا۔ لاضلنہم۔ میں ان کو ضرور بہکاؤں گا۔ میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا۔ اضلال۔ سے۔
Ayah 4:119

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور ان کو گمراہ کرتا اور امید دلاتا رہوں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا وہ صریح نقصان میں پڑگیا

لامنینھم۔ باب تفصیل ۔ میں ان کو (طرح طرح کی) امیدیں دلاؤں گا۔ تمنۃ وتمنیۃ۔ منی یمنی۔ آرزو دلانا۔ رغبت دلانا لامرنہم۔ میں ان کو ضرور حکم دوں گا۔ امر سے۔ لیستکن۔ بتک یبتک نبتیک (تفعیل) کاٹنا ۔ کاٹ کاٹ کر ٹکڑے کرنا۔ چیرنا یبتکن اذان الانعام۔ وہ ضرور جانوروں کے کان کا ٹا کریں گے۔ (کفار عرب اس اونٹنی کو جو پانچ بچے جنتی اور پانچواں نر ہوتا تو اس کے کام چھیدددد کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیتے۔ یہ بھی شرک کی ایک شکل ہے۔ ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام۔ میں ان کو شدت یا اصرار سے حکم دوں گا اور اس کے نتیجہ میں وہ ضرور جانوروں کے کان کاٹا کریں گے۔پچھلے فعل کے نتیجہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ۔ اور میں ان کو حکم کروں گا پس وہ ضرور ہی اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کی شکلیں بگاڑیں گے۔ تغیر (تفعیل) غیر یغیر بگاڑنا۔ بدلنا۔ مسخ رکنا۔ یہ صورت کا بگاڑ یا مسخ کرنا جسمانی بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً پہرہ داروں کی آنکھیں نکالنا۔ عورتوں کا بال کٹا کر اپنی نسوانیت کو بگاڑنا وغیرہ۔ (یہ بگاڑ غیر فطری استعمال مخلوق بھی ہوسکتا ہے) مثلاً جانوروں کے ساتھ خواہش رانی کرنا یا مردوں کے ساتھ صاحب کشاف کی تشریح کے مطابق دین اسلام جو دین فطرت ہے اس میں ردو بدل اور کاٹ چھانٹ کرنا وغیرہ وغیرہ۔