3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsانوار البیان

Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لا حاضر کرنی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

(3:161) ان یغل۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ صیغہ واحد مذکر غائب غل یغل (باب نصر) سے غلل غلول۔ صرف مال غنیمت میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔ ان یغل کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ غل طوق جمع اغلال۔ اذ الاغلال فی اعناقھم (40:71) جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔ کنایہ کے طور پر مغلول الید کنحوس شخص کو کہا جاتا ہے ولا تجعل یدک معلولۃ الی عنقک (17:29) اور اپنے ہاتھ کو گردن سے بندھا ہوا نہ کرلو یعنی بہت تنگ نہ کرلو۔ توفی۔ پورا دیا جائے گا۔ توفیۃ سے وفی مادہ۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے ؟ جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

(3:162) بائ۔ ماضی واحد مزکر غائب باء یبوء بوء (نصر) اس نے کمایا۔ وہ لوٹا ۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (سازگار۔ موافق) ہونے کے ہیں ۔ مکان بواء اس مقام کو کہتے ہیں کہ جو اس جگہ پر اترنے والے کے سازگار اور موافق ہو۔ بوات لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا واوحینا الی موسیٰ واخیہ ان تبواء لقومکما بمصر بیوتا۔ (10:87) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ۔ باء بسخط۔ وہ ایسی جگی اترا کہ اس کے ساتھ اللہ کا غصہ و عقوبت ہے۔ سخط۔ غصہ۔ وہ سخت غصہ جو عقوبت کا مقتضی ہو۔ ماوی۔ مصدر۔ و نیز اسم ظرف مکان ، قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ مقام سکونت ٹھکانہ اوی یاوی (ضرب) المصیر۔ اس ظرف مکان ومصدر۔ صیر۔ مادہ ۔ صار یصیر (ضرب) صیر صیرورۃ مصیر مصدر ہیں۔ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹنا۔ المصیر۔ بطور اسم ظرف مکان بمعنی لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

(3:163) ہم۔ ضمیر جمع مذکر غائب اس کا اشارہ ان دو گروہوں کے افراد کی طرف ہے جن کا بیان آیۃ ما قبل میں ہوا ہے یعنی گروہ اول من اتبع رضوان اللہ اور گروہ ثانی من باء بسخط من اللہ۔ یعنی ان ہر دو گروہ کے افراد کے الگ الگ درجے ہیں۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

(3:164) من۔ مصدر۔ بڑا احسان کیا۔ ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ (14:11) لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس پر احسان فرماتا ہے۔ بعض نے اس کے معنی غیر مقطوع غیر محدود کئے ہیں فلہم اجر غیر ممنون (95:6) ان کے لئے ابے انتہا اجر ہے۔ من سے شبنمی گوند بھی مراد ہے وانزلنا علیکم المن والسلوی (2:57) اور ہم نے تم پر من اور سلوی اتارا۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

(3:165) اصابتکم۔ ماضی واحد مؤنث غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر ۔ وہ (مصیبت) تم کو پہنچی۔ اصبتم۔ تم نے پہنچائی۔ اصاب یصیب (ضرب) لازم اور متعدی ہر دو طرح مستعمل ہے۔ اصابۃ سے جس کے معنی پہنچانا۔ پالینا۔ مصیبۃ۔ وہ مشکل جو آپہنچے۔ اولما۔ میں واؤ عطف کے لئے ہے اور ہمزہ استفہام کے لئے۔ لما جب الما کیا جب۔ آیت کا شروع کا جملہ کچھ اس طرح ہوگا۔ اولما اصابتکم مصیبۃ قلتم انی ھذا (و) قد اصبتم مثلہا۔ کیا جب ّاحد میں) تم کو مصیبت (بصورت قتال و ہزیمت) پہنچتی تو تم پکار اٹھے کہاں سے آپڑی یہ مصیبت (حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور نبی کریم ﷺ ہم میں موجود ہیں ۔ ( حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بدر کے غزوہ میں) تم نے اس سے دوگنی مصیبت ان کو پہنچائی تھی (جنگ احد میں ستر (70) صحابی شہید ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں مشرکین کے ستر (70) آدمی قتل ہوئے اور ستر قید کر لئے گئے۔ اور پھر بدر کی لڑائی فیصلہ کن تھی اور کفار کی شکست فاش تھی جبکہ احد میں پہلے مرحلہ پر مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا اور آخر میں اپنی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔ لیکن باوجود پلہ بھاری ہونے کے دشمن اپنی فتح کا خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکا) ۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

(3:166) ولیعلم میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے (تاکہ تمیز کرے اللہ تعالیٰ مؤمنین اور منافقین میں ۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

(3:167) اوادفعوا۔ اوادفعوا۔ یا دفاع کرو اپنا۔ لو نعلم قتالا۔ اگر ہم جانتے کہ یہ ایسی جنگ ہے جو عام طور پر ان معنوں میں لی جاتی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے (لیکن اپنے سے چار گنا مسلح اور ہر سازو سامان سے لیس لشکر کے ساتھ ٹکر لینا جنگ نہیں خود کشی ہے۔ ولکن ما انتم علیہ لیس بقتال بل القاء بالنفس الی التہلکۃ (بیضاوی) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : اگر ہمیں یقین ہوتا کہ جنگ ضرور ہوگی تو ہم ضرور شامل ہوجاتے لیکن ہمیں تو اس امر کا یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔ لا اتبعنکم۔ لام تاکید کے لئے ہے ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔ ہم للکفر ۔۔ للایمان۔ اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ نزدیک تھے۔ تکتمون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ کتم سے جو تم چھپاتے ہو۔ جو تم چھپائے ہوئے ہو۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

(3:168) الذین۔ سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں جو کہتے تھے کہ یہ کوئی جنگ ہے یہ تو خودکشی ہے۔ للاخوانھم۔ میں یا تو اخوان سے مراد یا تو منافقین ہیں جو جنگ احد میں قتل ہوئے یا وہ مسلمان جو جنگ احد میں شہید ہوئے تو اس صورت میں وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ وقعدوا۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حال یہ کہ وہ خود پیچھے بیٹھے رہے اور لڑائی میں شریک نہ ہوئے۔ قعدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب قعود مصدر۔ جو قاعد (ایک بیٹھنے والا) کی جمع بھی ہے ۔ فادرء وا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ درء مصدر باب فتح۔ تم ہٹالو۔ تم دفع کرو۔ تم دور کرو۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

(3:169) لاتحسبن۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر نون ثقلیہ برائے تاکید۔ تو مت خیال کر۔ تو مت سمجھ۔
Ayahs 3:170–171

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

(3:170) یستبشرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استبشار (استفعال) مصدر خوش ہیں۔ خوش ہوتے ہیں بالذین ان کے متعلق لم یلحقوا بھم جو ابھی نہیں آملے ان کے ساتھ ۔ من خلفھم ان کے پیچھے رہ جانے والوں میں سے۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

(3:172) استجابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استجابوا للہ۔ انہوں نے اللہ کا فرمان قبول کیا۔ استجابوا لربھم (جو) اپنے پروردگار کا حکم قبول کرتے ہیں (82:38) فاستجاب لہم ربھم (3:195) تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی۔ القرح۔ زخم ۔ آبلہ۔ جمع قروح۔
Ayahs 3:173–175

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

(3:173) حسبنا اللہ۔ کافی ہے ہمارے لئے اللہ کی ذات ۔ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ حسب۔ مصدر۔ حسب یحسب (نصر) سے۔ وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل مصدر۔ (باب ضرب) کارساز۔ نگران ، نگہبان۔ ضامن ۔ ذمہ دار۔ آیۃ 172 میں اللہ اور اس کے رسول کا فرمان قبول کرنے والوں اور ان میں نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے اجر عظیم کی بشارت ہے یہی بشارت ان کے لئے بھی ہے جن کا ذکر آیۃ 173 میں ہوا ہے جو دشمن کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور انہوں نے کلیۃً اللہ پر ڈوری ڈال دی۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

(3:176) حظا۔ حظ (واحد) حظوظ (جمع) حصہ۔ نصیب۔ مقررہ حصہ۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(3:177) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا اشتراء (افتعال) سے، جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں کے آتے ہیں۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

(3:178) انما۔ بیشک۔ تحقیق۔ بجز اس کے نہیں ۔ ان۔ حرف مشبہ بالفعل ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ انما۔ ایضاً ۔ نملی مضارع جمع متکلم ۔ املائ۔ مصدر۔ ملی مادہ (باب افعال) ہم ڈھیل دیتے ہیں ۔ ہم مہلت دیتے ہیں۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو ! ) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

(3:179) لیذر۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل لام ہے وذر مصدر کہ چھوڑ دے۔ ہر دو باب ضرب ۔ نصر سے آتا ہے۔ یوذر کی واؤ حذف ہوگئی۔ یذر ہوگیا۔ لام کے عمل سے منصوب ہوکر لیذر ہوگیا۔ لیطلعکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اطلاع (باب افعال) سے مصدر طلع مادہ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ کہ وہ تم کو واقف کردے۔ تم کو آگاہ کر دے۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لیے برا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو معلوم ہے۔

(3:180) یبخلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ (باب سمع) بخل کرتے ہیں۔ بخل مصدر۔ بخل ۔ کنجوسی۔ بخیل بصیغہ مبالغہ بہت بڑا کنجوس۔ بخل (سمع) ۔ بخل (کرم) کے مفعول اول پر علی یا عن آتا ہے (سیوطی) اور دوسرے مفعول پر (اگر مذکور ہو تو ) باء آتی ہے۔ جیسے بخل علیہ بہ۔ اس نے اس کو وہ چیز دینے میں کنجوسی کی لیکن آیۃ ہذا میں یبخلون اور بخلوا کے بعد ایک ہی مفعول مذکور ہے اور اس پر ہر وہ جگہ باء آئی ہے۔ ھو سے مراد ان کا بخیلی کا فعل ہے۔ سیطوقون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ س مستقبل قریب کے لئے آتا ہے۔ تطویق (تفعیل) مصدر۔ طوق کی طرح ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ طوق۔ گردن بند۔ گھیرا۔ طاقت۔ وسعت۔ قابو۔ رسی کا بل۔ طوق مصدر بھی ہے۔ اطاقۃ (افعال) کسی چیز پر قابو رکھ سکنا۔ میراث۔ مصدر مرفوع۔ ملکیت۔
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔

(3:181) ذوقوا۔ تم چکھو۔ ذوق سے (باب نصر) امر جمع مذکر حاضر۔ ذائقۃ۔ مزا چکھنے والا۔ حریق۔ جلا دینے والا۔ فاعل اور مفعول دونوں کے لئے آتا ہے۔ یعنی جلانے والا۔ اور جلا ہوا۔ محرق بھی فاعل آتا ہے جیسے تپ محرقہ اردو میں ہے۔
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔

(3:182) قدمت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ تقدیم مصدر۔ پہلے کرچکے یا پہلے بھیج چکے۔ وان۔ والامران۔ قرنہ حقیقت تو یہ ہے۔ ظلام۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہاں حق تعالیٰ شانہ کی ذات عالی سے نفی ظلم کے سلسلہ میں مبالغہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے یہاں ظلام میں مبالغہ کمیت کے لحاظ سے ہے نہ کہ کیفیت کے لحاظ سے ۔ یعنی ذرا سا ظلم بھی نہیں کرتا۔ یہ مطلب نہیں کہ زیادہ ظلم نہیں کرتا اور تھوڑا سا ظلم کرلیتا ہے۔
Ayah 3:183

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آ کر کھاجائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟

(3:183) الذین۔ یعنی وہ لوگ جن کو ذوقوا عذاب الحریق کہا گیا ہے۔
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔

(3:184) الزبر۔ کتابیں۔ اور اق۔ زبور کی جمع صحائف۔ الکتب المنیر۔ موصوف وصفت۔ روشن کتاب۔ یعنی جس میں شریعت کے احکام درج ہوں۔ بعض نے الزبر سے صحیفے مراد لیا ہے اور الکتاب المنیر سے توراۃ اور انجیل ۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

(3:185) توفون۔ مضارع مجہول ۔ جمع مذکر حاضر۔ توفیۃ سے تم کو پورا دیا جائے گا۔ زحزح۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ ہٹا دیا گیا۔ وہ بچالیا گیا۔ زحزحۃ رباعی مجرد بروزن زلزلۃ (باب فعلۃ) جس کا وزن کبھی فعلال کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے زلزال اور کبھی فعللی کے وزن پر جیسے قھقری (پچھلے پاؤں چلنا) الغرور۔ یہاں اسم فعل آیا ہے مصدر بھی ہے غریغر (نصر) فریب دینا۔ کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ماغرک بربک الکریم (82:6) اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کے متعلق دھوکہ دیا۔ وما بعدھم الشیطان الا غرور (17:64) اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ سب دھوکہ ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور اور دھوکہ دینے والا (اسم فاعل۔ شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب نہ دے۔ بس غرور مال و جاہ۔ خواہش نفسانی۔ شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کر دے۔ غرور۔ مصدر۔ دھوکہ دینا۔ فریب دینا۔ متاع الغرور۔ دھوکہ کا سامان۔ مغرور ۔ بروزن مفعول دھوکہ کھایا ہوا۔ فریب خودرہ۔ غر بھی بمعنی بھولا ۔ فریب خوردہ۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

(3:186) لتبلون۔ مضارع مجہول بلام تاکید ونون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر بلاء سے بلی مادہ۔ بلاء سے ماضی جب باب سمع سے آتی ہے تو اس کے معنی بوسیدہ ہونے کے آتے ہیں۔ بلی الثوب کپڑا بوسیدہ اور پرانا ہوگیا۔ اور جب اس کی ماضی باب نصر سے آتی ہے تو امتحان اور آزمائش کے معنی ہوتے ہیں مثلاً انا بلانھم کما بلونا اصحت الجنۃ (68:17) تحقیق ہم نے آزمایا ان کو جیسا کہ ہم نے اصحاب الجنۃ کو آزمایا تھا۔ لتبلون۔ یقینا تم ضرور آزمائے جاؤ گے۔ فی۔ کے باب میں۔ لتسمعن۔ سمع سے مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقلیہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ضرور سنو گے۔ اذی۔ ہر وہ ضرر جو کسی جاندار کی روح یا جسم کو پہنچے۔ اذیت دینے والی باتیں۔ دلآزار باتیں۔ اذی کثیرا۔ لتسمعن کا مفعول ہے۔ العزم۔ والرعازم۔ کسی کام کو قطعی اور حتمی طور پر کرنے کا ارادہ کرنا ۔ مصمم ارادہ کرنا۔ عزمۃ وعزمات۔ پختہ ارادہ۔ خدا کی طرف سے عائد کردہ فرض۔ عزیمۃ وعزائم۔ ثابت قدمی۔ ارادہ کی پختگی۔ امر عازم۔ کام جس کا پختہ ارادہ کرلیا گیا ہو۔ وعزم الامر۔ اس مخصوص کام کا کرنا واجب ہوگیا۔ من عزم الامور۔ ای من صواب التدبیر الذی لاشک ان الرشد فیہ ولا ینبغی لعاقل ترکہ واصلہ من قولک عزمت علیک ان تفعل کذا ای الزمتک ان تفعلہ لا محالۃ ولا تتر کہ وقیل معناہ فان ذلک مماقد عزم علیکم فعلہ۔ درست تدبیر کہ جس کی راستگی کے متعلق کوئی شک نہیں ۔ اور ایک عقلمند کو اسے ترک نہ کرنا چاہیے اور اس کے اصل معنی میں یہ قول ہے کہ عزمت کذا۔ میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ تم ایسے کرو۔ یعنی تم پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ تم ہر حال میں اس کو کرو اور ترک مت کرو اور یہ بھی کہ اس کام کا کرنا تم پر لازم کردیا گیا (الخازن) ان ربک من عزم الامور۔ تو یہ فعل (اجر اور تقوی) ان امور میں سے ہے جو تم پر واجب کردیا گیا۔ فان تصبروا وتتقوا کا جواب محذوف ہے جو فان ذلک من عزم الامور سے لیا گیا۔ گویا آیت کی تقدیر ہے ان ذلک عزمۃ من عزمات اللہ۔ یہ خدا کی طرف سے عائد کردہ حقوق میں سے ہے (کشاف) صاحب المفردات۔ ومؤلفین تفہیم القرآن وضیاء القرآن نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔

(3:187) لبیننہ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ کہ تم ضرور بیان کروگے یہ میثاق کا مضمون ہے یعنی اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ تم ضرور بیان کرو گے لوگوں کے سامنے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔ فنبذوہ۔ ہ ضمیر میثاق کی طف راجع ہے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ نبذ ینبذ (ضرب) نبذ سے پھینکنا۔ نبذ ینبذ ینبذ (نصر) نچوڑنا۔ نبیذ نچوڑا ہوا عرق۔ انہوں نے اس کو پھینک دیا۔ یا ڈال دیا۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور (پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔

(3:188) اتو۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ باب ضرب اتیان مصدر اتی یاتی (ب) کوئی چیز لانا کسی کو لانا۔ اتوا۔ وہ لائے۔ وہ آئے۔ وہ پہنچے۔ اتوا۔ ب انہوں نے کہا۔ یفرحون بما اتوا۔ خوش ہوئے اپنے کئے پر۔ مفازۃ۔ فاز (مادہ فوز) کا مصدر ہے۔ باب نصر۔ کامیاب ہونا۔ فاز یفوز ۔ بالامر۔ کسی امر میں کامیاب ہونا۔ فاز یفوز من المروہ کسی تکلیف سے نجات پانا۔ فلا تحسبھم بمفازۃ من العذاب۔ ہرگز خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بجات پالیں گے۔
Ayahs 3:189–190

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(3:189) ملک۔ اسم ومصدر۔ اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہت۔
Ayahs 3:191–192

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) اے پروردگار تو نے اس (مخلوق) کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

(3:191) قعودا۔ جمع قاعد کی۔ حالت نصب۔ بیٹھے ہوئے۔ جنوبھم۔ جنوب مضاف ہم مضاف الیہ ۔ جنب کی جمع ۔ ان کے پہلو۔ فقنا۔زائد ہے۔ ق۔ امر واحد مذکر حاضر۔ وقی یقی وقایۃ سے نا ضمیر جمع متکلم ۔ مفعول۔
Ayahs 3:193–194

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی اپنے) پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر۔ اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو۔ کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔

(3:193) کفر۔ امر معروف واحد مذکر حاضر۔ تکفیر۔ مصدر۔ مٹا دے۔ معاف کر دے۔ دور کر دے۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔ تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کے ہاں سے بدلا ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔

(3:195) فاستجاب۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ سے۔ باب استفعال۔ بعضکم من بعض۔ لفرط الاتصال والاتحاد۔ اتصال و اتحاد میں یگانگت کے لئے یا من بمعنی الکاف ہے ای بعضکم لبعض۔ یعنی طاعت و فرمانبرداری پر ثواب اور معصیت و نافرمانی پر عقوبت میں تم سب ایک دوسرے کی طرح ہو۔ کسی کے لئے الگ معیار جزا و سزا نہیں ہے یا تم میں سے مرد اور عورتیں سب جزا سزا کے ایک ہی اصول کے تحت ہیں ۔ یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ اخرجوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نکالے گئے۔ اوذوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب وہ ستائے گئے۔ ان کو اذیت دی گئی (اذی مادہ) اوذوا اصل میں اوذیوا تھا ۔ ی مفہول ما قبل مکسور کی وجہ سے ی کا ضمہ ما قبل کو دیا گیا۔ ی اور واؤ دو ساکنین اکٹھے ہوگئے۔ لہٰذا ی کو گرا دیا گیا۔ اوذوا ہوگیا۔ جیسا اوتی۔ اسے دیا گیا (ماضی مجہول واحد مذکر غائب سے اوتوا جمع مذکر غائب۔ لاکفرن۔ لام تاکید ونون ثقیلہ۔ اکفر۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں ضرور مٹادوں گا (ان کے نامہ عمل سے ان کے گناہ ۔ یا میں ضرور معاف کر دوں گا ان کے گناہوں کو۔ لادخلنہم۔ لام تاکید با نون ثقیلہ مجارع واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب میں ان کو ضرور داخل کروں گا۔ ثوابا۔ جزائ۔ انعام کے طور پر۔ بدلے کے طور پر۔
Ayah 3:196

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے۔

(3:196) لایغرنک۔ واحد مذکر غائب نہی بانون تاکید ثقیلہ۔ مت دھوکہ میں ڈالے تجھ کو غر یغر (نصر) غرور مصدر۔ تقلب بروزن تفعل۔ مصدر۔ پھرنا۔ پھر پھر آنا۔ آنا جانا۔ الٹنا پلٹنا۔ بلا روک ٹوک نقل و حرکت کرنا۔ اپنے کاموں میں بلا روک ٹوک آزاد ہونا۔
Ayah 3:197

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

ماوہم۔ اسم ظرف مکان۔ مقام سکونت۔ ٹھکانہ۔ ماوی مصدر بھی ہے۔ المھاد۔ اسم ۔ بچھونا۔ ٹھکانہ مراد ہے۔ قرار گاہ۔
Ayahs 3:198–199

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) خدا کے ہاں سے (انکی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں۔ اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

(3:198) نزلا۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ الابرار۔ بر۔ بار۔ کی جمع۔ نیک لوگ۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلوں میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

(3:200) صابروا۔ صیغہ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ مقابلہ میں مضبوط جمے رہو۔ مصابرۃ سے (مفاعلۃ) جس کے معنی صبر کے ساتھ کسی سے جنگ کرنے کے ہیں۔ صاحب مفردات لکھتے ہیں :۔ الصبر۔ کے معنی عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے رکھنے کے ہیں۔ صبر ایک عام لفظ ہے جو کہ مختلف مواقع استعمال کے اعتبار سے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ چناچہ کسی مصیبت پر نفس کو روک رکھنے کو صبر کہا جاتا ہے۔ یہ جزع کی ضد ہے اور جنگ میں نفس کو روک رکھنا شجاعت ہے اس کی ضد جبن ہے یہی صبر اگر کسی پریشانی کسی حادثہ کو طرداشت کرنے کی صورت میں ہو تو اسے رحب الصدر کشادہ دلی کہتے ہیں۔ جس کی ضد ضجر ہے۔ اگر کسی بات کو روک رکھے تو اسے کتمان کہتے ہیں اس کی ضد مذل ہے۔ (مجبور ہوکر راز کو فاش کردینا) ۔ قرآن سے ان تمام صفات کو صبر کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اصبروا و صابروا۔ ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو۔ یعنی عبادت الٰہی پر اپنے آپ کو روک رکھو۔ اور خواہشات نفسانی کے خلاف جہاد کرو۔ رابطوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دل لگائے رکھو۔ تم لگے رہو۔ تم آمادہ رہو۔ رباط اور مرابطۃ سے جس کے معنی محافظت اور نگرانی کرنے اور چوکی دینے کے ہیں۔ خازن بغدادی لکھتے ہیں۔ مرابطۃ کی اصل یہ ہے کہ ادھر کے لوگ اپنے گھوڑے اور ادھرکے لوگ اپنے گھوڑے اس طرح باندھیں کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے سے جنگ کرنے کے لئے مستعد رہیں۔ بعد میں ہر اس شخص کو جو سر حد پر اقامت گزین ہوکر سرحد پار کا دفاع کرنے لگا مرابط کہنے لگے گو اس کے پاس کوئی سواری بندھی ہوئی نہ ہو۔ شرعاً مرابطت کی دو قسمیں ہیں ایک اسلامی سرحد پر کافروں کے مقابلہ میں دفاع کے لئے چوکی دیتے رہنا۔ دوسرے نفس کی بندش اور نگرانی کرنا۔ اسی لئے حدیث میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں معروف رہنے کو رباط کہا گیا ہے۔