3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsانوار البیان

Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

(3:121) یہاں سے لے کر سورة کے آخیر تک کلام جنگ احد کے بعد نازل ہوا۔ تبوی دیکھو 3:112 ۔ مقاعد للقتال۔ مقاعد۔ صیغہ جمع منتہی الجموع۔ ظرف مکان ۔ مقعد واحد۔ بیٹھنے کی جگہ ۔ گھات لگانے کے مقامات۔ مورچے
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

(3:122) ہمت۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہم۔ مصدر۔ ہم یھم (نصر) اس نے ارادہ کیا۔ طائفتان۔ دو گروہ ۔ دو جماعتیں۔ دو فرقے۔ طائفۃ کا تثنیہ ہے۔ جنگ احد کے لئے (7 شوال بروز ہفتہ 3 ھجری کو) جب رسول اکرم ﷺ ایک ہزار مجاھدین کے ہمراہ مدینہ شریف سے نکلے۔ تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہمراہ تھا لیکن راستہ میں شوط کے مقام پر وہ اپنے تین سو ہمراہیوں کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس کی دیکھا دیکھی قبیلہ اوس کی شاخ بنی حارثہ اور خزرج کی شاخ بنی سلمہ جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کے دل میں بھی جنگ سے واپسی کا خیال ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور اس لغزش کے ارتکاب سے ان کو بچا لیا۔ تفشلا۔ وہ دونوں بزدلی کریں۔ فشل یفشل (سمع) فشل بزدل ہونا۔ بزدلی کرنا۔ ہمت ہار دینا۔ مضارع کا صیغہ تثنیہ مؤنث غائب۔ نون اعرابی ان کی وجہ سے گرگیا۔ واللہ۔ میں واؤ حالیہ ہے۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

(3:123) اذلۃ۔ کمزور۔ نرم دل۔ ذلیل۔ ذلیل کی جمع ہے۔
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

(3:124) الن یکفیکم۔ اَ ۔ برائے استفہام۔ لن یکفی۔ مضارع منفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر کفی یکفی (ضرب) کفایۃ سے کافی ہونا۔ کفایۃ اس چیز کو کہتے ہیں جو ضرورت کو اس طرح پوری کر دے کہ اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے۔ ان یمدکم۔ مد یمدو امدیمد۔ ہ۔ ب۔ کسی کو لشکر یار سد مہیا کرنا۔ یمد کی دال کے ضمہ کو نصیب بوجہ ان آئی ہے۔
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

(3:125) یاتوکم۔ میں ضمیر فاعل اہل کفار کی طرف راجع ہے جو جنگ احد میں اہل اسلام کے خلاف نبردآزما تھے۔ من فورھم۔ فور۔ اسم فعل۔ جوش۔ ابال۔ عجلت۔ فوراً ۔ الفور۔ کے معنی سخت جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ آگ کے بھڑک اٹھنے پر بھی بولا جاتا ہے اور ہانڈی اور غصہ کے جوش کھانے پر بھی۔ قرآن مجید میں ہے وقار التنور (11:40) اور تنور جوش مارنے لگا۔ ہانڈی کے اوبال کو فوارۃ کہا جاتا ہے پھر تشبیہ کے طور پر پانی کے ابلتے ہوئے چشمے کو بھی فوارۃ الماء کہتے ہیں۔ ایک محاورہ ہے فعلت کذا من فوری۔ میں نے جوش میں ایسا کیا۔ پس یاتوکم من فورھم ھذا کا مطلب یہ ہوا کہ : اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہ حملہ کردیں۔ مسومین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مسوم واحد تسویم مصدر سومۃ سے اپنے لئے نشان مقرر کرنے والے یا اپنے گھوڑوں کا خصوصی نشان بنانے والے۔
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

وما جعلہ اللہ۔ میں ہ ضمیر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے اتارنے کے ذریعہ سے مسلمانوں کی امداد کے امر کے متعلق ہے۔
Ayahs 3:127–129

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(3:127) لیقطع۔ قطع سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب فتح) مضارع پر لام جاء مکسور فعل کی علت یا سبب بیان کرنے کے لئے آئے تو اس کے بعد ان مصدری غائب کا آنا ضروری ہے اور مضارع پر اسی ان کی وجہ سے نصب آیا ہے اگر ان مذکور نہ ہو جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے تو محذوف مقدد قرار دیا جائیگا۔ لیکن اگر فعل سے پہلے لا نفی آیا ہو تو لام جر کے بعد ان کو ذکر کرنا لازم ہے۔ جیسے لئلا یکون للناس علیکم حجۃ (2:150) لیقطع۔ تاکہ کاٹ دے۔ ہلاک کر دے۔ طرفا۔ طرف کی جمع اطراف۔ ایک ٹکڑہ ۔ ایک حصہ۔ یکبتہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کبت مصدر باب ضرب تاکہ وہ ان کو ذلیل کرے۔ مضارع پر نصب لام جار مکسور کی وجہ سے ہے جو کہ محذوف ہے اصل میں یہ لیقطع کی طرح لیکبتھم تھا۔ خائبین۔ نامراد۔ خیبۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ترجمہ : (3:126-127) ۔ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ امداد کا وعدہ مسلمانوں کو خوشخبری اور ان کے اطمینان قلب کی خاطر کیا۔ اور دوم یہ کہ اہل کفار کا ایک بازو کٹ جائے اور وہ ذلیل و خوار ہوکر نامراد واپس لو؁ یں۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

(3:130) الربو۔ بیاج۔ سود۔ اضعافا مضعفۃ۔ کئی گنا۔ چند در چند۔ مضعفۃ۔ اضعافا کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayahs 3:131–132

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور (دوزخ) کی آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کئی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

(3:131) اعدت۔ ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اعداد (افعال) سے جس کے معنی تیار کرنے کے ہیں عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعدت وہ تیار کی گئی۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

(3:133) سارعوا۔ جلدی کرو۔ دوڑو۔ سرعت سے کام لو۔ مسارعۃ جس کے معنی دوڑنے اور دوڑانے کے ہیں۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

(3:134) السرائ۔ خوشی ۔ خوشحالی۔ الضراء کا متضاد۔ الضرائ۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ مرض۔ بیماری۔ مصیبت۔ کا ظمین۔ کا ظم کی جمع ہے کظم۔ کظوم۔ مصدر۔ (ضرب) غصہ روکنے والے غصہ پی جانے والے۔ کظوم۔ وہ اونٹ جس نے جگالی کرنی چھوڑ دی ہو کظم السقاء اس نے پانی بھر کر مشک کا منہ باندھ دیا۔ کظم الباب اس نے دروازہ میں قفل لگا دیا۔ العافین۔ عفاعن۔ معاف کرنا۔ عفو سے۔ معاف کرنے والے۔
Ayahs 3:135–136

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے ؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

(3:135) لم یصروا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ انہوں نے اصرار نہیں کیا۔ جمے نہیں رہے۔ اڑے نہیں رہے۔
Ayahs 3:137–138

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہو

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

(3:137) سنن۔ سنۃ کی جمع۔ طریقے۔ راہیں۔ مثالیں۔ سنت۔ قانون شرعی۔ طورو اطوار۔ عادت۔ دستور۔ طریقہ جاریہ۔ یہاں مراد مختلف قوموں کے عروج و زوال۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور (دیکھو) بےدل نہ ہونا اور نہ کسی طرح غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

(3:139) لا تھنوا۔ وھن سے۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم سست مت ہو۔ تم بزدل مت ہو۔ تم کمزور مت ہو۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

(3:140) یمسسکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تم کو لگتا ہے ۔ تم کو پہنچتا ہے۔ تم کو چھوتا ہے۔ قرح۔ کسی بیرونی سے سے پہنچنے والا زخم۔ مثلاً تلوار کا زخم۔ القرح۔ اندر سے پیدا ہونے والا زخم۔ مثلاً پھوڑا۔ پھنسی کا زخم۔ اول متعدی ہے اور باب فتح سے آتا ہے دوم لازم ہے اور باب سمع سے آتا ہے لیکن کبھی باب فتح سے آتا ہے۔ جیسے قرح قلبہ۔ اس کا دل زخمی ہوگیا۔ قرح مصدر بھی ہے۔ زخمی کرنا۔ قرح اس دکھ اور تکلیف کر بھی کہتے ہیں جو کسی زخم سے پیدا ہو۔ یہاں زخمی ہونا اور دکھ پانا مراد ہے (3:140) نداولہا۔ جمع متکلم مضارع۔ مداولہ (مفاعلۃ) ھا ضمیر واحد مؤنث مفعول ہم اس کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ دلو و دول ڈول (جو اوپر نیچے آتا جاتا ہے) دولۃ و دولۃ مالی چکر۔ دولت کہ وہ بھی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ آتی جاتی رہتی ہے۔
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور یہ بھی مقصود تھا خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے اور کافروں کو نابود کر دے

(3:141) یمحص۔ تمحیص (تفعیل) تاکہ خالص اور صاف کر دے۔ المحص۔ کسی چیز کو کھوٹ اور عیب سے پاک کرنا۔ محصت الذھب میں نے سونے کو آگ میں گلا کر اس کے کھوٹ کو الگ کردیا۔ دلوں کے پاک کرنے پر تمحیص کا استعمال بمثل تزکیہ و تطہیر ہوتا ہے۔ دعا میں ہم کہتے ہیں اللہم محص عنا ذنوبنا۔ اے اللہ ! ہمارے گناہوں کو جو ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں دور کردے۔ یمحق۔ محق مصدر (فتح) وہ گھٹاتا ہے۔ تاکہ وہ مٹا دے۔ تاکہ وہ ہلاک کر دے۔ یمحق اللہ الربو ویربی الصدقت (2:276) خدا سود کر نابود اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

(3:142) لما یعلم اللہ۔ میں یعلم مضارع مجزوم بوجہ لما کے ہے متحرک کرنے کے لئے میم کو کسرہ دیا گیا۔ ابھی جانا ہی نہیں اللہ نے یعنی آزما کر دیکھا ہی نہیں ۔ ویعلم الصبرین۔ میں میم پر فتح بوجوہ ذیل ہے۔ (1) واؤ حرف عطف ہے اور یعلم الصبرین کا یعلم اللہ پر عطف ہے۔ دراصل یہاں بھی مجزوم تھا۔ لیکن التقاء ساکنین کی وجہ سے میم سے قبل لام کی فتح کی رعایت سے اسے فتح دیا گیا۔ (2) واؤ۔ واو الصرف ہے جس کے بعد ان پوشیدہ ہوتا ہے لہٰذا واؤ کے بعد اور یعلم سے پہلے ان مقدر ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن۔ (3) امام حسن ؓ کی قرأت میں یہاں بھی یعلم کی میم کو زیر ہے۔ کیونکہ واؤ عاطفہ ہے اور یہ یعلم پہلے یعلم پر معطوف ہے اور لما کی وجہ سے مجزوم (یہاں لام ماقبل میم کی حرکت کی رعایت ملحوظ نہیں رکھی گئی) (94 ابو عمرو (رح) کی قرأت میں یہ یعلم میم کے پیش کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں واؤ ابتدائیہ ہے اور جملہ نیا ہے۔ اب معنی یہ ہوں گے کہ رب تعالیٰ صابروں کو جانتا ہے اور انہیں بقدو صبر اجر دے گا۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

(3:143) کنتم تمنون۔ ماضی استمراری۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمنون اصل میں تتمنون تھا۔ ت کو ت میں مدغم کردیا گیا ہے ۔ تمنی سے مضارع یتمنی م ن ی مادہ۔ باب تفعل ۔ تم تمنا کیا کرتے تھے۔ تم آرزو کیا کرتے تھے۔ تلقوہ۔ لقی۔ یلقی (سمع) لقاء سے جمع مذکر حاضر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب راجع الی الموت ہے۔ تم اس سے ملاقی ہو۔ تم اس سے ملو۔ تم اس سے ملاقات کرو۔ تم اس کو اپنے مقابل پاؤ۔ یہاں موت سے مراد جہاد میں شہادت ہے۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں جنگ و جدل سے قبل تم آرزو کیا کرتے تھے کہ تمہیں بھی ایسی شہادت کا موقعہ میسر آئے جو شہدائے بدر کو آیا تھا۔ تو لو اب اس جنگ (جنگ احد) میں تم اسے اپنے سامنے پا رہے ہو۔ فی الحقیقت پا رہے ہو۔ وانتم تنظرون۔ برائے تاکید ہے۔
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور خدا ‌شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔

(3:144) افائن۔ أ استفہامیہزائد۔ ان اگر نہیں۔ تاکید و تحقیق۔ ان کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ شرطیہ۔ ان تعذبھم فانھم عبادک (5:118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ ریتے بندے ہیں۔ ان ینتھوا یغفرلہم ما قد سلف (8:38) اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہوچکا۔ (2) ان مخففہ۔ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوکر ان بن گیا۔ یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے اس کے بعد لام مفتوح کا آنا لازمی ہے جیسے ان کان اصحب الایکۃ لظالمین ۔ (15:78) بلاشبہ اصحاب الایکہ ظالم تھے۔ ان کاد لیضلنا عن الھتنا (25:42) تو ضرور یہ ہم کو ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا۔ (3) ان نافیہ۔ یہ جملہ اسمیہ پر بھی آتا ہے اور جملہ فعلیہ پر بھی۔ ان یتبعون الا الظن (جملہ فعلیہ) وان ھم الا یخرصون (جملہ اسمیہ) (6:116) سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ یا ان نظن الا ظنا (45:32) ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ان ھذا الاقول البشر (74:25) یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔ اس کے بعد اکثر الا ولما آتا ہے مگر ہر جگہ ضروری نہیں۔ مثلاً ان عندکم من سلطان بھذا تمہارے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ (4) ان موکدہ جو زائد ہوتا ہے اور ما نافیہ کی تاکید میں آتا ہے۔ مثلاً ولقد مکنکم فیما ان مکنکم فیہ (46:26) اور ہم نے ان کو مقدور دیا تھا ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا۔ لیکن یہاں ان نافیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ما نافیہ نہ ہوگا بلکہ ما بیانیہ ہوگا۔ یا جیسے کہتے ہیں ما ان یخرج زبد زید باہر نہیں نکلے گا۔ انقلبتم علی اعقابکم۔ انقلب ینقلب انقلاب الٹ جانا۔ پھرجانا۔ لوٹ جانا۔ اعقاب۔ عقب کی جمع۔ ایڑیاں۔ انقلب علی عقبیہ۔ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹا وہ الٹے پاؤں پھر گیا۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اس نے موت) کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال) کا بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دیں گے اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب بہت (اچھا) صلہ دیں گے

(3:145) کتابا مؤجلا۔ کتابا حکم ازلی۔ قانون ۔ فریضہ ۔ اللہ کی کتاب ، قرآن۔ تحریر لوح محفوظ۔ مؤجلا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ تاجیل۔ مصدر (تفعیل) اجل مادہ مؤجلا مقرر الوقت وہ جس کا وقت مقرر ہو۔ تاجل۔ وقت دینا۔ مہلت دینا۔ وقت مقرر کرنا ۔ دیر کرنا۔ کتاب مؤجلا۔ موصوف و صفت ہیں۔ یہ یا تو موت کی تعریف ہے کہ موت ایسا تحریر شدہ امر ہے جس کا وقت مقرر ہے یا اذن اللہ کی تعریف ہے کہ اذن اللہ ایک ایسا حکم ہے کہ جس کے نفاذ کا وقت مقرر شدہ ہے۔ نؤتہ منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ دینا کے لئے ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب ثواب کے لئے ہے یا من کی طرف راجع ہے۔ منھا میں من۔ فی کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے اب اس کا ترجمہ یوں ہوگا۔:۔ (1) جو شخص اپنے اعمال کا صلہ دنیا میں چاہتا ہے ہم یہ صلہ دنیا سے ہی یا دنیا میں ہی دیدیتے ہیں۔ (2) جو شخص اپنے اعمال کا صلہ دنیا میں چاہتا ہے ہم اس کو یہ صلہ دنیا سے ہی یا دنیا میں ہی دیدیتے ہیں۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصیبتیں ان پر راہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(3:146) کاین۔ اصل میں ای تھا۔ اس پر کاف تشبیہ داخل کرکے نون تنوین کو نون کی شکل میں لکھ دیا۔ کاین ہمیشہ خبری صورت میں مستعمل ہے۔ خاص کر قرآن مجید میں یہ بصورت خبر ہی آیا ہے یہ مبہم کثرت تعداد پر دلالت کرتا ہے۔ ابہام کو دور کرنے کے لئے اس کے بعد بطور تمیز کوئی لفظ مذکور ضرور ہوتا ہے۔ جیسے آیۃ ہذا میں وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر۔ اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ ان کی معیت میں اللہ والوں کی کثیر تعداد نے جہاد کیا۔ اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو ظاہر کیا۔ لیکن کس کی ؟ یہ بات مبہم تھی جب اس کے بعد من نبی آیا تو ابہام دور ہوگیا۔ اور معلوم ہوگیا کہ کثیر تعداد پیغمبروں کی تھی۔ کاین۔ ہمیشہ آغاز کلام میں آتا ہے۔ اس سے پہلے حرف جر نہیں آتا۔ اس کی خبر ہمیشہ مرکب ہوتی ہے۔ مفرد کبھی نہیں آتی۔ کاین۔ استفہام کے لئے بھی آتا ہے مثلاً حضرت ابی بن کعب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا تھا۔ کاین تقرا سورة الاحزاب ایۃ۔ آپ سورة احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہیں ؟ حضرت ابن مسعود ؓ سے جواب دیا کہ ثلثا وسبعین۔ تہتر (73) دیگر مثالیں : وکاین من ایۃ فی السموت والارض۔۔ (12:105) وکاین من دابۃ لا تحمل رزقھا ۔۔ (29:60) وکاین من قریۃ عنت عن امر ربھا ورسلہ ۔۔ (65:8) ربیون۔ زمخشری نے اس کے معنی رب والے کیا ہے الربیون الربانیون۔ قرطبی نے اس کا معنی ابنوہ کثیر کئے ہیں۔ اس صورت میں اس کا واحد ربی اور ربہ ہوگا۔ بمعنی جماعت کی طرف منسوب ہے۔ وھنوا۔ ماضی معروف جمع مذکر غائب وھن سے ماوھنوا وہ کمزور نہیں پڑے۔ انہوں نے بزدلی نہیں دکھائی۔ وھن۔ کمزور اور ضعیف ہونا۔ ماستکانوا۔ ماضی منفی جمع مذکر غائب۔ باب افتعال سکن مادہ۔ الشکون۔ حرکت کے بعد ٹھہرنا۔ (باب نصر) رہائش اختیار کرنا۔ سکون ۔ راحت۔ تسلی سب کو محیط ہے۔ لیکن مفسرین نے مسکین کے معنی من لاشیء لہ (یعنی جس کے پاس کچھ نہ ہو) کئے ہیں۔ اور تسکن مسکین اور محتاج ہوتا ہے۔ اور اسلکان واستکانۃ واستکن بمعنی ذلیل و عاجز ہونا ہے۔ پس ما استکانوا کا مطلب ہوا۔ وہ دب نہیں گئے۔ وہ عاجز نہیں آئے۔ انہوں نے کمزروی نہیں دکھائی ہمت نہیں ہاری۔ ہار نہیں مانی۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

(3:147) اسرافنا۔ ہماری زیادتی۔ (افعال) اسراف سے جس کا مطلب کسی کام میں انسان کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد سے زیادہ خرچ کرنے کو بھی اسراف کہتے ہیں۔
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے انکو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دے گا اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے

(3:148) فاتھم۔ میںسبب کے لئے ہے یعنی بہ سبب ان کے جہاد فی سبیل اللہ اور استقامت فی الحرب۔ صبر و توکل علی اللہ کے اللہ تعالیٰ ان کو طواب دینا (یعنی نصرت۔ غنیمت۔ غفران الذنوب) سے بھی نوازتا ہے۔ اور بہترین ثواب آخرت سے بھی۔ وحسن ثواب الاخرۃ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اتی کا مفعول ثانی ہے۔ اور اللہ (ان کو) آخرت کا بھی عدمہ بدلہ دیگا۔ واؤ عاطفہ۔ حسن (حسن یحسن کا مصدر) بہتر ہونا۔ عمدہ ہونا۔ مضاف۔ ثواب الاخرۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ حسن کا ثواب آخرت کا عمدہ ثواب یا بدلہ۔
Ayah 3:149

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے

(3:149) یردوکم علی اعقابکم۔ ای یرجعوکم الی امرکم الاول وھو الکفر۔ و الشرک باللہ۔ یعنی تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف لوٹا دیں گے جو کفر و شرک کی حالت تھی۔
Ayah 3:150

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور سب سے بہتر مددگار ہے

(3:150) بل اللہ مولکم۔ اضراب عن مفہوم الجملۃ الادنی (شوکانی) یہ پہلے جملہ کے مفہوم کا دوسرا پہلو ہے۔ یعنی ادھر اگر تم کفار کی پیروی کروگے تو وہ تمہیں کفر و شرک اور خسارے کی طرف لے جاویں گے۔ اور ادھر یہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین دوست اور بہترین مددگار ہے۔
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے

(3:151) سنلقی۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ نلقی۔ مضارع جمع متکلم ۔ القاء مصدر (افعال) لقی مادہ۔ ہم ڈالنے کو ہیں۔ ہم عنقریب ڈالیں گے۔ بما۔ بوجہ ۔ بمقابلہ۔ بدلہ میں۔ سلطانا۔ زور۔ قوت۔ حجت۔ برہان۔ سند۔ حکومت مادی۔ مصدر۔ اور اسم ظرف، قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ مقام سکونت۔ ٹھکانہ۔ پناہ گاہ۔ اوی یاوی (ضرب) مثوی۔ ظرف مکان۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ قیام گاہ۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی (ضرب) ثواء ثویا مصدر متعدی بنفسہ بھی ہے۔ ثوی المکان اس نے اس جگہ قیام کیا ۔ اترا۔ ٹھہرا۔ اثوی بالمکان (افعال) وہ وہاں مدت دراز تک ٹھہرا رہا۔ اثویتہ۔ میں نے اس کو ٹھہرایا۔ ثوی۔ یثوی (تفعیل لازم) وہ مرگیا۔ ثویتہ (باب تفعیل متعدی) میں نے اس کو ٹھہرایا اور تثویتہ (باب تفعل) میں اس کا مہمان ہوا۔ اگلی چند آیات کو سمجھنے کے لئے جنگ احد (جس سے ان آیات کا تعلق ہے) کا مختصر سا نقشہ نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ شوال سنہ 3 ھ کی ابتداء میں کفار قریش تقریباً 4 ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ تعداد کی کثرت کے علاوہ ان کے پاس سازو سامان بھی مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ اور پھر جنگ بدر کے انتقام کا شدید جوش بھی رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ اور تجربہ کار صحابہ کرام کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں محصور ہوکر مدافعت کی جائے۔ مگر چند نوجوانوں نے جو شہادت کے شوق سے بےتاب تھے اور جنہیں بدر کی جنگ میں شریک ہونے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔ باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آخر کار ان کے اصرار پر نبی کریم ﷺ نے باہر نکلنے کا ہی فیصلہ کرلیا۔ ایک ہزار آدمی آپ کے ہمراہ نکلے مگر مقام شوط پر پہنچ کر عبد اللہ بن ابی اپنے 300 ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا ۔ عین وقت پر اس کی اس حرکت سے مسلمانوں کے لشکر میں خاصا اضطراب پھیل گیا۔ حتی کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگوں نے بھی دل سکشتہ ہوکر پلٹ جانے کا ارادہ کرلیا۔ (آیۃ 122) مگر پھر اولوالعزم صحابہ کی کوششوں سے یہ اضطراب رفع ہوگیا اور ان ہر دو گروہوں نے پلٹنے کا ارادہ ترک کردیا۔ باقی ماندہ 700 آدمیوں کو نبی کریم ﷺ ہمراہ لے کر آگے بڑھے۔ اور احد کی پہاڑی کے دامن میں اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ پہاڑ پشت پر تھا اور قریش کا لشکر سامنے۔ پہلو میں صرف ایک درہ ایسا تھا جس سے اچانک حملہ کا خطرہ ہوسکتا تھا۔ وہاں آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ کی زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دیئے اور ان کو تاکید کردی کہ کسی کو ہمارے قریب نہ بھٹکنے دیا جائے۔ اور کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا۔ اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لئے جاتے ہیں تب بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا۔ اس کے بعد جنگ شروع ہوئی۔ ابتدا میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی۔ لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح کی حد تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت کے اٹھانے میں مصروف ہوگئے۔ ادھر جن تیر اندازوں کو عقب کی حفاظت کے لئے بٹھایا گیا تھا انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ نے ان کو نبی کریم ﷺ کی تاکیدی فرمان یاد دلاکر بہت روکنے کی کوشش کی مگر چند آدمیوں کے سوا (جن کی تعداد دس سے بھی کم تھی) کوئی نہ ٹھہرا۔ اس موقعہ سے خالد بن ولید نے جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے۔ بروقت فائدہ اٹھایا۔ اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر پہلو کے درہ سے حملہ کردیا۔ حضرت عبد اللہ بن جبیر نے اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے ساتھ حملہ کو روکنا چاہا مگر مدافعت نہ کرسکے۔ اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوئے۔ جب مسلمانوں پر اچانک دو طرف سے حملہ ہوا تو ان کی صفوں میں ابتری پھیل گئی۔ کچھ لوگ مدینہ کی طرف بھاگ نکلے۔ اور کچھ احد پر چڑھ گئے۔ مگر نبی کریم ﷺ ایک انچ اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ دس بارہ جاں نثار آپ کے ہمراہ تھے اور آپ بھاگنے والوں کو پکار رہے تھے الی عباد اللہ۔ الی عباد اللہ۔ میری طرف آؤ اللہ کے بندو۔ لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹنے سے مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ایک بڑا حصہ پراگندہ ہوکر بھاگ نکلا۔ تاہم چند بہادر سپاہی ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے۔ اتنے میں افواہ اڑ گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ شہید ہوگئے۔ اس خبر نے صحابہ ؓ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کر دئیے۔ بعض کمزور دل کے مسلمانوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ کاش کوئی ہمارے لئے ابو سفیان سے (جو اس وقت لشکر کفار کے کمانڈر تھے) امان طلب کرے۔ بعض منافقوں نے تو یہ پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا کہ محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام اگر نبی ہوتے تو شہید کیسے کئے جاتے آؤ اپنے پہلے دین کی طرف لوٹ جائیں۔ (اسی کے متعلق ایسے اشخاص کو آیۃ 144 میں سرزنش ہوتی ہے) ۔ لیکن جلد ہی آپ ﷺ کی شہادت کی افواہ غلط نکلی۔ اور تمام صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ زندہ ہیں۔ اس حقیقت نے مسلمانوں کو ہمت بندھائی۔ اور نبی کریم ﷺ کے گرد جمع ہونے لگے۔ ادھر اپنے قیدیوں کو چھڑا لینے اپنے لوٹے ہوئے مال کو واپس لینے نیز مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر شہید کرنے کے بعد قریش نے خیال کیا کہ ان کا مقصد حاصل ہوگیا اس لئے انہوں نے اتنی ہی کامیابی پر اکتفاء کیا۔ جو حالات نے ان کو نصیب میں کردی تھی۔ مزید برآں شدت کار زار سے ان کی اپنی ہمت بھی قریب قریب جواب دے چکی تھی۔ اس لئے انہوں نے بجائے مدینہ کا رخ کرنے کے اپنی سپہ سالار ابو سفیان کے حکم پر اپنا اسباب باندھا۔ اور مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو دوبارہ دیکھ کر اور اپنے میں مزید لڑائی کی قوت نہ پاکر انہوں نے اس کو ہی غنیمت جانا کہ اب کے ہمارا ہاتھ اوپر ہے مزید خطرہ مول نہ لیا جاوے۔ بہرکیف انہوں نے میدان کا رزار کو چھوڑ کر مکہ کے لئے رخت سفر باندھ لیا۔ ادھر نبی کریم ﷺ نے غار میں کچھ آرام کرکے مدینہ کی طرف واپسی فرمائی۔ اگلے دن پھر حضور ﷺ نے دشمنوں کا پھر تعاقب کیا۔ اور حمراء الاسد جو مدینہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے جاکر قیام کیا۔ اس وقت ابو سفیان کا لشکر چند میل آگے روحاء کے مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ ہر دو فریق کو ایک دوسرے کے متعلق خبر ملی کہ مقابل فریق ڈٹنے کو تیار ہے لیکن تین دن تک قیام کے بعد ابو سفیان اپنے میں دوبارہ مقابلہ کی ہمت نہ پاکر مکہ کی طرف چل دیا۔ (تفہیم القرآن۔ ضیاء القرآن۔ تفسیر علامہ عبد اللہ یوسف علی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ۔ حیاۃ محمد ﷺ مصنفہ محمد حسین ہیکل مصری)
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کردیا (یعنی) اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

(3:152) تحسونھم۔ تحسون مضارع جمع مذکر حاضر (باب نصر) ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول ۔ الحاسۃ۔ اس قوت کو کہتے ہیں جس سے عوارض حسبیہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق شاعرہ خمسہ (یعنی سمع۔ بصر۔ شم۔ ذوق۔ لمس) پر ہوتا ہے۔ حسست (نصر) واحسست محسوس کرنا۔ احسست (افعال) دو طرح استعمال ہوتا ہے۔: (1) قوت حس سے کسی چیز تک پہنچنا (محسوس کرنا) (2) کسی کے حاسہ پر مارنا جیسے کبدتہ ۔ میں نے اس کے جگر پر مارا۔ اور حاسہ پر مارنے سے کبھی انسان مر بھی جاتا ہے اس لئے حسستہ بمعنی قتلتہ بھی آجاتا ہے۔ آیۃ ہذا میں انہی معنوں میں استعمال ہوا یعنی جب تم کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ فشلتم۔ ماضی معروف جمع مذکر حاضر فشل مصدر۔ باب سمع۔ فشل کے معنی ہیں پست ہمت ہوجانا۔ بزدلی کے ساتھ کمزور ہوجانا۔ یعنی جب تم پست ہمت ہوگئے یا بزدلی کے ساتھ کمزور ہوگئے۔ حتی اذا فشلتم وتنازء تم فی الامر وعصیتم۔ مندرجہ ذیل تین صورتوں میں بیان کیا گیا ہے : (1) فراء کے نزدیک اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور جملہ کی تقدیر یوں ہے حتی اذا تنازعتم فی الامر وعصیتم فشلتم۔ تاآنکہ اس حکم کے متعلق جو تم کو دیا گیا تھا جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی۔ (یعنی اس حکم کی خلاف ورزی کی۔ جو تم کو اپنی پوزیشن کو نہ چھوڑنے کے متعلق دیا گیا تھا) پس تم بزدل ہوگئے اور پست ہمت ہوگئے۔ (جیسا کہ مابعد کی جنگی صورت حالات نے بتادیا) (2) اللہ نے نصرت کا جو وعدہ فرمایا تھا سچ کر دکھایا۔ لیکن تم نے بزدلی باہم جھگڑا اور نافرمانی سے کام لیا۔ (اور فتح کا موقعہ گنوادیا) (3) بعض کے نزدیک یہ شرط ہے جس کا جواب محذوف ہے یعنی تاآنکہ تم نے بزدلی اور پست ہمتی دکھائی۔ اور بین حکم کی خلاف ورزی کی اور حکم عدولی سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت کو روک لیا۔ ما تحبون۔ سے مراد فتح و ظفر اور غنیمت ہے۔ منکم من یرید الدنیا۔ سے مراد وہ گروہ جو اپنی پوزیشن کو چھوڑ کر مال غنیمت کو حاصل کرنے کے حق میں تھا۔ منکم ۔۔ الاخرۃ سے مراد دوسرا گروہ جو حکم رسول ﷺ کی بجا آوری میں ہر صورت اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہنے کے حق میں تھا۔ صرفکم عنھم۔ صرف ہ عن۔ کسی کو کسی شے سے باز رکھنا۔ صرفکم عنھم تمہیں ان پر فتح حاصل کرنے سے باز رکھا۔ یا تمہیں ہزیمت کے ساتھ مشرکین سے پھیر دیا ۔ لیبتلیکم۔ تاکہ تم کو آزمائے اور تمیز کرے مومنوں کی منافقوں سے۔ دنیا پسندوں کی آخرت پسندوں سے ۔ صابروں کی شکوہ کنندگان سے۔ اپنی غلطی پر نادم ہوکر تو بہ کرنے والوں کی ہٹ دھرمی سے کام لے کت اپنی رائے پر اڑے رہنے والوں کی۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصبیت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

(3:153) تصعدون۔ باب افعال اصعاد سے مضارع جمع مذکر حاضر اصعد یصعد زمین پر نشیب سے بلندی کی طرف یا بلندی سے نشیب کی طرف ۔ چلنا۔ یہاں مراد احد کی بلندی کی طرف بھاگ رہے تھے۔ یا دور بھاگ رہے تھے۔ صعود بلند مقام کی طرف چڑھنا۔ ولاتلون رلی احد۔ لوی (ضرب) رسی کا بٹنا۔ کسی چیز کو خمیدہ کرنا۔ لووا رؤسھم (62:5) تو وہ سر پھیر لیتے ہیں۔ یلون السنتھم بالکتاب کتاب (توراۃ) کو زبان موڑ موڑ کر پڑھتے ہیں۔ محاورہ ہے فلان لا یلوی علی احد۔ وہ کسی کی طرف گردن موڑ کر بھی نہیں دیکھتا یہ سخت ہزیمت اٹھا کر بھاگ اٹھنے کے موقعہ پر بولا جاتا ہے۔ اسی سے ہے اذ تصعدون ولا تلون علی احد جب تم دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اخرکم۔ مضاف مضاف الیہ اخر اخر کی مؤنث اخری۔ پچھلی۔ دوسری۔ اخرکم۔ تمہاری پچھلی طرف سے (یعنی جب تم بھاگ رہے تھے تو پیچھے سے نبی اکرم ﷺ تمہیں واپس آنے کے لئے پکار رہے تھے) اثابکم۔ اس نے تم کو عوض میں پہنچایا اثاب (افعال) ثوب سے۔ اثابۃ بمعنی عمل کی جزاء دینا خواہ وہ انعام ہو یا سزا۔ یہاں سزا کے معنی مراد ہیں اور فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ غما بغم۔ (1) رنج کے سبب سے رنج۔ تم نے نافرمانی کرکے رسول اللہ ﷺ کو رنج پہنچایا اللہ نے اس کے عوض تم کو (شکست کا) رنج پہنچایا۔ (2) غم بالائے غم، غم اول فتح و ظفر اور غنیمت کا ہاتھ سے نکل جانا۔ غم ثانی قتل و ہزیمت یا غم اول قتل و جراح۔ اور غم ثانی یہ افواہ کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ لکیلا۔ ل حرف جار۔ کی۔ تاکہ ۔ لا۔ لا نفی۔ کی۔ کبھی ناصب مضارع ہوتا ہے جو معنی اور عمل دونوں میں ان مصدری کی طرح ہوتا ہے جیسے آیۃ ہذا میں لکیلا تحزنوا اور کبھی تعلیلیہ ہوتا ہے یعنی لام (حرف جار) کی طرح معنی کے اعتبار سے بھی اور عمل کے لحاظ سے بھی۔ اس کے بعد کبھی ما استفہامیہ آتا ہے۔ جیسے کیم جئت۔ تو کیوں آیا۔ وقف کی صورت میں اس کے بعد ھا لایا جاتا ہے۔ جیسے کیم (کس لئے) کبھی ما مصدری یا ما کافہ آتا ہے جیسے : اذا انت لم تنفع فضر فانما یرجی الفتی کی ما یضر وینفع (ترجمہ : تو فائدہ رساں نہ ہو تو ضرر ہی پہنچا کیونکہ آدمی سے دو ہی وجہ سے امید کی جاتی ہے۔ ضرر کے لئے یا نفع کے لئے) یہ ان مصدریہ مقدریہ پر وجوباً داخل ہوتا ہے جیسے جئتک کی تکرمنی میں تیرے پاس آیا تاکہ تو میری عزت کرے۔ عام طور پر اس کا استعمال لام کے بعد ہوتا ہے۔ جیسے جئتک لکی تکرمنی۔ کی ناصبہ سے پہلے کبھی لام حرف جر مذکور ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔ اسی طرح اس کے بعد کبھی لا نفی ہوتا ہے کبھی نہیں۔ قرآن میں لکیلا کی مثالیں (16:170) (23:5) (33:37) (33:50) (57:23) کیلا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (59:7) فاتکم۔ ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ فوت مصدر واسم فعل تم سے فوت ہوگئی ۔ تمہارے ہاتھ سے نکل گئی۔ تم سے چھوٹ گئی۔ یا جھوٹ جائے یا تم سے نچ کر نکل جائے۔ اصابکم۔ ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول مذکر حاضر اصابۃ سے تم کو پہنچی۔ تم کو پیش آئی۔ مافاتکم اور ما اصابکم میں ما بیانیہ ہے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہوگئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے ؟ تم کہہ دو کہ بیشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

(3:154) امنۃ۔ امن ۔ دلجمی۔ چین۔ امن سے نعاسا۔ اونگھ۔ نعسان۔ نیند سے بھرا ہوا آدمی۔ اونگھتا ہوا آدمی۔ نفس اور نعاس مصدر۔ اونگھنا۔ انعاس (افعال) کسی کو سلا دینا۔ امنۃ مؤنث ہے اور نعاس مذکر۔ لہٰذا فعل یغشی (جو نعاسا کے فورا بعد آیا ہے) میں ضمیر فاعل نعاسا کی طرف راجع ہے۔ امنۃ نعاسا کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) امنۃ۔ فعل انزل کا مفعول ہے اور نعاسا اس کا بدل ہے یعنی بدل اور مبدل منہ (امنۃ) مطلب وہ ذہنی اور جسمانی سکون کی تحصیل ہے جس سے گزشتہ وماغی اور جسمانی پریشانیاں اور تھکاوٹیں دور ہوجائیں۔ (2) نعاسا فعل انزل کا مفعول ہے اور امنۃ اس کا حال جو اس سے پہلے لایا گیا ہے مثال اس کی رأیت راکبا رجلا (نوٹ) حال وہ اسم ہے جو کہ فاعل یا مفعول بہٖ یا دونوں کی حالت (صورت) کو بیان کرے۔ یعنی اللہ نے ان پر اونگھ نازل کی کہ وہ پرسکون حالت میں آگئے۔ (3) نعاسا۔ امنۃ کا عطف بیان ہے (یعنی وہ تابع جو اپنے مبتوع کو صاف طور پر بیان کر دے) یعنی سکون و اطمینان کی وہ حالت جو ہلکی سء نیند کی صورت میں تھی۔ (4) یا امنۃ مفعول لہ ہے کہ (جس کے واسطے فعل واقع ہو) اس نے نازل کیا اونگھ کو تم پر اس واسطے کہ باعث سکون ہو۔ (5) امنۃ امن کی جمع ہے (جیسے بررۃ بار جو اصل میں بارر ہے کی جمع ہے) اور یہ کم ضمیر مفعول پر حال ہے اب ترجمہ یوں ہوگا۔ اور نازل کیا اونگھ کو تم پر جو کہ امن میں آچکے تھے۔ یغشی۔ مضارع واحد مذکر غائب غشی اور غشیان مصدر باب سمع اس نے ڈھانپ لیا۔ اس میں نعاس فاعل ہے۔ اھمتہم۔ ماضی واحد مؤنث غائب اھمام (افعال) سے بمعنی فکر میں ڈالنا ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ اھمتھم انفسھم۔ ان کی جانوں نے ان کو فکر میں ڈال دیا تھا۔ یعنی جن کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ ہل لنا من الامر من شیئ۔ کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے استفہام انکاری ہے۔ یعنی ہمارا تو اس کام میں کوئی دخل ہی نہیں (یہ ان منافقین کا قول ہے جو مدینہ میں ہی رہ کر مدافعت کا مشورہ دیتے تھے۔ لیکن رسول خدا ﷺ نے ان کے مشورہ کے خلاف باہر نکل کر مقابلہ کا فیصلہ کیا) برز۔ وہ نکلا۔ باب نصر۔ برور کے معنی کھلم کھلا ظاہر ہونے کے ہیں۔ بروز کی کئی شکلیں ہیں۔ ایک تو بذاتہٖ کسی چیز کا خود نما ہوجانا۔ جیسے وتری الارض بارزۃ (18:47) اور تو دیکھے کہ زمین کھل گئی۔ یہاں زمین کا صاف طور پر کھل جانا مراد ہے کیونکہ اس روز زمین پر مختلف قسم کے جو نشانات ارضی از قسم مکانات ، پہاڑ۔ ٹیلے۔ مکان و مکین وغیرہ مٹ جائیں گے کبھی چھپی ہوئی چیز کے کھل جانے کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے وبرزت الجحیم للغرین (26:91) اور دوزخ ظاہر کردی جائے گی گمراہوں کے لئے۔ میدان جنگ میں صف سے نکل کر سامنے میدان میں کھل کر آجانے کو مبارزت کہتے ہیں۔ مضاجعھم۔ اسم ظرف مکان۔ مضاف۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ۔ قتل گاہیں۔ مقتل ۔ صنجع سے جس کا اصل معنی سونا ہے لیکن سونے سے کبھی موت مراد لی جاتی ہے۔ لبرز الذین ۔۔ مضاجعھم۔ جن کا قتل لکھا جا چکا ہے وہ تو اپنے اپنے مقتلوں کی طرف نکل کر ہی رہیں گے۔ ولیبتلی اللہ ۔۔ یہ سب صائب اس لئے تھے کہ آزمائے اللہ تعالیٰ ۔ یمحص محص یمحص (باب تفعیل) تاکہ صاف کر دے (دیکھو 3:141)
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک خدا بخشنے والا (اور) بردبار ہے

(3:155) استزلہم۔ اس نے ان کو بہکادیا۔ (باب استفعال) الزلۃ بلا قصد کے قدم پھسل جانا۔ زلۃ پھسلنے کی جگہ باب افعال سے ازل یزل پھسلانا۔ فازلہما الشیطن (2:136) ان دونوں کو شیطان نے پھسلا دیا۔ ببعض ما کسبوا۔ ان کے کسی عمل کی وجہ سے۔ حلیم۔ حلم سے بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ بہت تحمل والا۔
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(3:156) غزی۔ جمع غازی واحد۔ غازی کی جمع غزاۃ بھی ہے غزو مصدر۔ غزا یغزو (نصر) ۔ ضربوا فی الارض۔ ای سافروا فی الارض لتجارۃ وغیرہا۔ یعنی تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے۔ ضربوا میں فاعل اخوانھم ہے۔
Ayahs 3:157–158

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکٹھے کیے جاؤ گے

(3:157) متم۔ ماضی معروف جمع مذکر حاضر۔ موت مصدر۔ باب نصر۔ یا اگر تم مرجاؤ۔ ماضی بمعنی مضارع۔ اصل میں نصرتم کے وزن پر متتم تھا۔ پہلی ہر دو تاکو تاء ثالث میں مدغم کیا متم ہوگیا۔ مصدر میں واؤ کی رعائیت سے میم کو ضمہ دیا گیا متم ہوگیا۔
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو بیشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(3:159) فبما۔ ما۔ زائدہ ہے اور تاکید کے لئے آیا ہے۔ یعنی یہ صرف اللہ کی رحمت کی وجہ سے ہے کہ باوجود مخالفین کے قصور کے آپ کا رویہ ان کی طرف لطف و محبت کا ہے۔ لنت۔ ماضی واحد مذکر حاضر لین مصدر ۔ تو نے نرمی کی۔ تو نے نرم مزاجی سے کام لیا لان یلین (ضرب) فظا۔ بدکلام۔ بدخو۔ بداخلاق۔ لفظ کی اصل وضع اس گندے پانی کے لئے ہے جو غلاظت سے بھری ہوئی آنتوں کے اندر ہوتا ہے غلیظ القلب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ سخت دل والا۔ بد اخلاق۔ بدخو۔ لانفضوا۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ انفضوا (باب انفعال) انفضاص سے ہے۔ متفرق ہونا۔ تتربتر ہونا۔ وہ ضرور منتشر ہوگئے ہوتے۔ لو۔ یہ چھ طریق پر مستعمل ہے۔ (1) زمانہ ماضی میں شرط کے لئے جیسے لو جاءنی لاکرمتہ۔ اگر وہ میرے پاس آتا تو میں اس کی عزت کرتا۔ (2) زمانہ مستقبل میں تمنا کے معنی میں۔ لو تلتقی اصداء بعد موتنا۔ کاش ہمارے اصداء موت کے بعد ملتے۔ لو ان لنا کرۃ۔ کاش ایک بار اور ہم کو دنیا میں جانا مل جاتا بعض نے کہا ہے کہ یہ لو شرطیہ ہی ہے جس کو تمنی کا معنی دیا گیا ہے۔ (3) مصدریہ بمعنی ان۔ لیکن یہ نصب نہیں دیتا عموماً ودیود کے بعد آتا ہے جیسے ودوا لو تاتیہم وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے پاس آئے (4) تمنا کے لئے۔ اس وقت اس کا جواب منصوب اور فاء کے ساتھ آتا ہے جیسے لو تنزل عندنا فتصیب خیرا۔ اگر تو ہمارے پاس آتا تو بہتری پاتا۔ (6) تقلیل کے لئے جیسے تصوقوا ولو بظلف محرق۔ صدقہ دو اگرچہ جلا ہوا کھر ہی ہو ۔
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

(3:160) یخذلکم۔ مضارع معروف واحد مذکر غائب لام پر جزم حرف ان کی وجہ سے ہے۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ان یخذلکم۔ اگر وہ تمہیں بےمدد چھوڑ دے۔ تمہاری مدد نہ کرے۔ خذلان سے جس کے معنی ہیں ایسے شخص کا عین موقعہ پر ساتھ چھوڑ کر الگ ہوجانا جس کے متعلق گمان ہو کہ وہ پوری پوری مدد کرے گا۔ لہٰذا ساتھ چھوڑ دینا۔ دغا دینا۔ قرآن حکیم میں ہے وکان الشیطن للانسان خذولا (25:29) اور شیطان انسان کو عین موقعہ پر دغا دینے والا ہے۔