3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsانوار البیان

Ayahs 3:41–42

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے پروردگار کہ (میرے لئے) کوئی نشانی مقرر فرما (خدا نے) فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح وشام اس تسبیح کرنا

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

(3:41) العشی۔ شام۔ سورج ڈھلے۔ بعد زوال۔ دن کا پچھلا وقت۔ زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ الابکار۔ صبح بروزن افعال اسم ہے۔ فائدہ نمبر 1: آیات نمبر 40 اور 41 میں کلام مابین زکریا اور اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے سوال منجانب زکریا (علیہ السلام) ہے اور جواب منجانب اللہ تعالیٰ ہے۔ فائدہ نمبر 2: حضرت یحییٰ کا شجرہ نسب کچھ یوں بنتا ہے۔ (حضرت) داؤد ام مریم حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہمشیرہ مریم مریم (حضرت) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

(3:43) اقنتی۔ تو بندگی کر۔ اطاعت کر۔ قنوت سے جس کے معنی خشوع خضوع کے ساتھ عبادت میں لگے رہنے کے ہیں۔ فعل امر۔ صیغہ واحد مؤنث حاضر۔ ارکعی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو رکوع کر۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی انکے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑے رہے تھے

(3:44) ابنائ۔ بنا کی جمع ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو اسے بنا کہتے ہیں۔ کوئی خبر بنا نہیں کہلاتی جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ لدیہم۔ لدی مضاف۔ ہم مضاف الیہ ۔ ان کے پاس۔ لدی۔ ظرف مکان غیر متمکن۔ پاس۔ طرف۔ ضمیر کی طرف اضافت کے وقت لذی کی وہی حالت ہوتی ہے جو علیٰ حرف جر کی ہوتی ہے۔ مثلاً لدینا۔ علینا۔ لدیہ۔ علیہ۔ یلقون۔ مضارع جمع مذکر غائب القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈال رہے تھے۔ الالقاء (افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈالنا کہ وہ دوسرے کو سامنے سے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ قال القھا یاموسی فالقھا (20:19) (اللہ نے) فرمایا کہ اسے موسیٰ (علیہ السلام) اسے ڈال دو (نیچے پھینک دو ) تو اس نے اس کو ڈال دیا۔ اذ یلقون ۔۔ مریم۔ جب وہ (مجاور) اپنی قلمیں (یہ فیصلہ کرنے کے لئے) پھینک رہے تھے کہ ان میں سے مریم کی سرپرستی کون کرے۔ یعنی قرعہ اندازی کی خاطر قلمیں پھینک رہے تھے کہ کس کے نام قرعہ پڑتا ہے۔ یہاں اقلام سے مراد تیر بھی ہوسکتا ہے۔ تیروں کے ذریعہ قرعہ اندازی کا ان لوگوں میں دستور تھا۔ یختصمون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ جھگڑ رہے تھے۔ (مریم کی کفالت کے سلسہ میں)
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ بن مریم ہوگا (اور جو) دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

(2:45) کلمۃ منہ۔ اس (اللہ) کی جانب سے ایک کلمہ۔ اس کا ایک کلمہ۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ انہ خلق (عیسی) بکلمۃ اللہ وھو قولہ کن فیکون۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اپنے قول کن سے پیدا کیا۔ یہاں کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات ہے المسیح۔ بعض علماء کے نزدیک مسیح کا لفظ عبرانی لفظ مشوح سے معرب ہے جس کے معنی معرب کے ہیں۔ اکثر علماء کے مطابق یہ لفظ مشتق ہے اور یہ لفظ فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل استعمال ہوا ہے یعنی مسح کرنے والا۔ کیونکہ آپ جس بیمار پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیتے تھے وہ صحت یاب ہوجاتا تھا۔ یا مسیح بمعنی مساحت کرنے والا۔ زمین کی پیمائش کرنے والا۔ یا زمین پر مسافت پیادہ کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے ساری عمر تبلیغ دین کے لئے مسافت میں گزار دی اور کہیں مستقل رہائش اختیار نہ کی۔ اور مسیح اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس کے چہرے کا ایک رخ صاف ہو یعنی نہ آنکھ ہو نہ بھویں۔ اسی بناء پر دجال کو دجال مسیح کہتے ہیں۔ عیسیٰ ۔ عبرانی لفظ الیشوع کا معرب ہے بمعنی سید۔ سردار۔ وجیھا۔ صیغہ صفت۔ وجاھۃ۔ مصدر (باب کرم) وجاہت والا۔ قدرومنزلت والا۔ با عزت۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

(3:46) المھد۔ اسم ۔ گہوارہ۔ پنگھوڑا۔ مراد شیر خوارگی کا زمانہ یا ماں کی گود میں ہونے کا زمانہ۔ کہلا۔ باوقار۔ متوسط عمر کا آدمی جس کے کچھ بال سفید اور کچھ سیاہ ہوں۔ عمر کا وہ حصہ جب آدمی کی قوتیں شباب پر ہوں۔ الکہل۔ ادھیڑ عمر کا ۔ تیس سے پچاس سال تک کی عمر والا۔ (المنجد) یکلم الناس ۔۔ کہلا۔ یعنی پچپن سے لے کر پکی عمر تک حکمت و دانش کی باتیں لوگوں کو بتائے گا۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ ہاں کیونکر ہوگا کہ انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں ؟ فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

(3:47) انی۔ کیونکر۔ کیسے۔ دیکھو (2:233) قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ قضاء فعلی ہو یا قولی۔ بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری ارادہ یا حکم یا عمل کو ختم کردینا۔ ضرور مفہوم قضا کے اندر ماخوذ ہے۔ صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ مقدر کرنا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا ۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا۔ ان سب معانی کے لئے اس کا استعمال قرآن حکیم میں ہوا ہے۔ یہاں مراد فیصلہ کرنا ہے۔ اذا قضی امرا۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

(3:48) آیۃ 47 بطور جملہ معترضہ بیچ میں آگئی۔ آیۃ 46 میں فرشتوں کا کلام جو شروع ہوا تھا آیۃ 47 کے بعد اب پھر جاری ہوگیا۔ یہ سلسلہ کلام آیۃ 49 کے اختتام سے قبل ہی ختم ہوکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام بغیر کسی تمہید کے شروع ہوجاتا ہے۔ یہ طرز کلام انشاء عربی میں انوکھا اور غیر معروف نہیں ہے۔ اور قرآن حکیم میں اس کی اکثر مثالیں ملیں گی۔ ویعلم الکتاب ۔۔ کا عطف یبشرک پر ہے اور ہر دو یعلم اور یبشر میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 3:49–51

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسی) بنی اسرائیل کی طرف سے پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بہ شکل پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہوجاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کردیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتادیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لئے (قدرت) خدا کی نشانی ہے

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لئے بھی (آیا ہوں کہ) بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کردوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لی کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھارستہ ہے

(3:49) الطین۔ گارا۔ مٹی۔ خاک۔ مٹی اور پانی کا آمیزہ۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ طین ہے گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ کہیئۃ۔ ک۔ حرف تشبیہ ۔ ہیئۃ۔ کسی چیز کی حالت۔ کیفیت۔ شکل و صورت ہئی مادہ۔ انفخ۔ نفخ سے باب نصر۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں پھونک مارتا ہوں۔ ابری۔ ابراء (افعال) سے مضارع واحد متکلم۔ ابرائ۔ ہر بری چیز۔ مرض وغیرہ سے بری کرنا اور نجات دلانا۔ میں بری کردیتا ہوں مرض سے۔ میں تندرست کردیتا ہوں۔ اکمہ۔ مادہ زاد اندھا۔ صفت مشبہ کا صیغہ۔ ابرص۔ کوڑھی۔ جس کو برص کی مرض ہو۔ ہر دو اکمہ و ابرص کی تانیث و جمع بروزن افعل (واحد مذکر) فعلاء (واحد مؤنث) فعل (جمع مذکر و مؤنث) ہوگی۔ انبئکم۔ میں تم کو بتاؤں یا بتاتا ہوں۔ نبا ینبی ۔ نبأ خبر۔ تدخرون (باب افتعال) اصل میں تذتخرون تھا۔ اذ تخر یذتخر۔ پہلے تاء کو دال سے تبدیل کیا۔ پھر ذال کو دال بنا کر دال کو دال میں مدغم کیا۔ ادخر یدخر ہوگیا۔ تدخرون تم ذخیرہ کرتے ہو۔ تم آئندہ کے لئے جمع کرتے ہو۔
Ayahs 3:52–54

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

(3:52) احس۔ احساس (افعال) سے محسوس کیا اس نے ماضی واحد مذکر غائب ای عرف منہم اصرارھم علی الکفر فلما۔ میںفصاحت کے لئے ہے۔ من انصاری الی اللہ ۔ کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں۔ حواریون۔ حواری کی جمع۔ حواری حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ بقول شاہ عبد القادر صاحب حواری اصل میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے پہلے دو شخص جوان کے تابع ہوئے دھوبی تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کا کہا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہ خطاب ٹھہر گیا۔
Ayahs 3:55–56

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت خدا نے فرمایا کی عیسیٰ میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کردونگا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم میں اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردونگا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دونگا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

(3:55) متوفیک۔ متوفی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر مضاف الیہ۔ میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔ میں تجھے اپنی گرفت میں لے کر اٹھانیوالا ہوں۔ میں تجھے نیند میں سلانے والا ہوں ۔ اور (اس حالت نیند میں) آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اس کا مصدر توفی ہے۔ جس کا معنی پورا پورا لینا۔ تمام حق گرفتن۔ توفیت الشیء ای اخذتہ وقبضتہ تاما۔ سو آیۃ میں متوفیک کا مطلب یہ ہوا۔ میں تجھے سارے کے سارے کو یعنی روح بمعہ جسم قبضہ میں لینے والا ہوں۔ ورا فعک الی۔ اور اپنی طرف اٹھا لیجانے والا ہوں۔ اگرچہ توفی کے اور معانی بھی ہیں جیسا کہ اوپر مندرج ہے لیکن آیت کا مطلب متذکرہ بالا جمہور علماء کے نزدیک مقصود ہے اور متعدد احادیث نبوی سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مطھرک۔ مطھر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول ۔ تجھ کو پاکیزہ کرنے والا ہوں۔ ومطھرک من الذین کفروا اور تجھ کو ان لوگوں (کی تہمتوں) سے پاک کرنے والا ہوں۔ جنہوں نے (تیرا) انکار کیا۔
Ayah 3:57

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دیگا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

(3:57) فیوفیہم۔ مضارع واحد مذکر غائب توفیۃ سے۔ وہ ان کو پورا پورا دیگا۔
Ayah 3:58

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

(اے محمد) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

(3:58) ذلک۔ یعنی۔ الذی ذکرتہ لک من اخبار عیسیٰ دامہ مریم والحواریون وغیر ذلک من القصص (یعنی وہ ذکر جو میں نے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم اور ان کے حواری وغیرہ کے متعلق تجھ سے کیا ہے) من الایات والذکر الحکیم۔ یہ اللہ کی آیات اور کلام پر حکمت ہے جس میں سے یہ باتیں تجھے سنائی جاری ہیں۔
Ayah 3:59

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہوجاؤ تو وہ (انسان) ہوگئے

(3:59) ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے آدم اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش یکساں ہے وہ بھی اس کی قدرت کی جلوہ گری ہے اور یہ بھی۔
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

(3:60) الحق۔ یعنی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تخلیق آدم و تخلیق عیسیٰ (علیہما السلام) میں کوئی اختلاف نہیں ہے ہر دو اس کی قدرت کاملہ کی جلوہ گری کا نتیجہ ہیں بالکل حق و صداقت ہے۔ ممترین۔ اسم فاعل جمع مذکر امتراء مصدر باب افتعال۔ شک میں پڑنے والے تردد کرنے والے۔
Ayah 3:61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں

(3:61) حاجک۔ حاج (مفاعلہ) یخاج محاجۃ۔ اس نے تجھ سے جھگڑا کیا۔ حجت بازی کی۔ فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر یا تو قصہ عیسیٰ (علیہ السلام) متذکرہ بالا مراد ہے یا یہ ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔ تعالوا۔ تم آؤ۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تعالیٰ سے جس کے معنی بلند ہونے اور آنے کے ہیں اصل میں تعال کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بلند مقام کی طرف بلایا جائے۔ پھر ہر جگہ بلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بعض علماء نے تصریح کی ہے کہ یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی رفعت منزل کے ہیں۔ تو گویا تعالوا میں رفعت منزل کے حصول کی دعوت ہے قرآن مجید میں جہاں تعالوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے۔ علماء لغت کے نزدیک تعال مطلقا ہلم کے ہم معنی ہے۔ نبتھل۔ جمع متکلم ۔ مضارع مجزوم۔ ابتھال (افتعال) مصدر۔ ہم مباہلہ کریں۔ مباہلہ کہتے ہیں کہ فریقین نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں یہ دعا کریں کہ جو چھوٹا ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
Ayahs 3:62–63

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے

(3:62) ما من الہ میں نافیہ ہے اور لہو میں لام تاکید کے لئے ہے۔
Ayahs 3:64–65

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی ہے) اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھیں اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہوچکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

(3:64) کلمۃ سے یہاں مراد جملہ الا نعبد ۔۔ من دون اللہ ہے جو آیۃ شریفہ میں آگے چل کر مذکور ہے۔ سواء بیننا۔ اسم مصدر ہے۔ برابر۔ استواء یعنی دونوں طرف سے برابر ہونا۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ س پر اگر ھ ہو تو قصر ہوگا جیسے سوی (ولا انت مکانا سوی) اور اگر س پر ( َ ) ہوگا تو مدّ کے ساتھ آئے گا۔ جیسا کہ آیت ہذا میں۔ سواء بمعنی وسط کے بھی آیا ہے جیسے فی سواء الجحیم (37:55) دوزخ کے بیچوں بیچ۔ بمعنی تمام کے بھی آتا ہے جیسے فی اربعۃ ایام سواء للسائلین (41:10) چار دن میں سائلین کی ضرورت کے مطابق پوری پوری۔ کلمۃ سواء بیننا وبینکم۔ وہ بات جو ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے یعنی الا نعبد ۔۔ من دون اللہ۔
Ayah 3:66

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(3:66) ھا انتم ھولائ۔ ھا حرف تنبیہ۔ انتم ضمیر جمع مذکر حاضر مرفوع مبتدائ۔ ھؤلائ۔ یہ ھا اس ضمیر مرفوع پر آتی ہے جس کی خبر اسم اشارہ ہو یہاں اولاء خبر ہے۔ دیکھو تمہیں ہو وہ لوگ۔ حاججتم۔ حاج یحاج محاجۃ سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے حجت بازی کی۔ تم نے جھگڑا کیا ۔
Ayah 3:67

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرمانبردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے

(3:67) حنیفا۔ سب باطل راہیں چھوڑ کر راہ حق کو پکڑنے والا۔ دیکھو 2:135 ۔
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ پیغمبر آخرالزمان اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

(3:68) اولی۔ زیادہ لائق۔ زیادہ مستحق۔ زیادہ قریب۔ ولی سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے جب اس کا صلہ لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے۔ اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے جیسے اولی لک فاولی (75 ۔ 34 ۔ 35) تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ یہاں اولی ۔۔ یا براہیم۔ لوگوں میں سے ابراہیم کے سب سے نزدیک یا قریب۔
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(اے اہل اسلام) بعضے اہل کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کردیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

(3:69) ودک ماضی واحد مؤنث غائب۔ ودیودود۔ مودۃ۔ مصدر۔ اس نے دل سے چاہا۔ لو۔ بمعنی کہ۔
Ayah 3:70

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور تم (تورات) کو مانتے تو ہو

(3:70) تشھدون۔ تم شاہد ہو۔ تم حاضر ہو۔ تم گواہی دیتے ہو۔ شھود جس کے معنی حاضر ہونے کے اور موجود ہونے کے ہیں۔ یا شھادۃ سے جس کے معنی گواہی دینے کے ہیں۔ ای وانتم تعلمون حقیق تھا بلا شبھۃ بمنزلۃ علم المشاھدۃ اور تم بلاشک حقیقت کو بمنزلہ علم مشاہدہ کے جانتے ہو۔ (روح المعانی)
Ayah 3:71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟ اور تم جانتے بھی ہو

(3:71) تلبسون مضارع جمع مذکر حاضر لبس سے۔ تم غلط ملط کرتے ہو۔ ملابسۃ باہم خلط ملط ہونا تلبسون۔ لبس سے بمعنی پہننا
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کردیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں

(3:72) وجہ النھار۔ دن کا شروع حصہ۔ جیسے وجہ الدھر۔ زمانہ کا شروع۔ اللہ کی رضا۔ جیسے فعل ذلک لوجہ اللہ۔ اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کیا۔ چہرہ۔ ذات جیسے یبقی وجہ ربک (55:27)
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے حضور قائل معقول کرسکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

(3:73) طائفۃ من اہل الکتاب۔ کا خطاب اہل کتاب کے دوسرے اشخاص سے ہے۔ جو اسی طائفہ کے ہم مذہب ہیں۔ (3:73) ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم۔ قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم او یحاجوکم عند ربکم۔ مفسرین نے اس کو مشکل ترین آیت سمار کیا ہے (ضیاء القرآن) وقال الواحدی ان ھذہ الایۃ من مشکلات القران واصعبہ تفسیرا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) اہل یہود کے طائفہ کا قول جو آیہ ماقبل (3:72) میں دیا گیا ہے اس آیۃ کے ساتھ ہی ختم ہوگیا اور ولا تؤمنوا سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہوجاتا ہے۔ یحتمل ان یکون الخبر عن الیہود قد تم عند قولہ لعلہم یرجعون ۔ وقولہ ولا تؤمنوا “ من کلام اللہ تعالیٰ ثبت بہ قلوب المؤمنین لئلا لیشکوا عند تلبیس الیہود وتزویرھم فی دینھم یقول اللہ عزوجل لا تصوقوا یا معشر المؤمنین الامن تبع دینکم ولا تصدقوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم من الدین والفضل ولا لصدقوا ان یحاجوکم عند ربکم او یقدروا علی ذلک فان الھدی ھدی اللہ وان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم۔ فتکون الایۃ کلہا خطا باللمؤمنین عند تلبیس الیہود لئلا یرتابوا ولا یشکوا۔ (احتمال ہے کہ اہل یہود کے متعلق بات لعلہم یرجعون پر ختم ہوگئی۔ اور ولا تؤمنوا الخ کلام اللہ ہے (یہ اس لئے کہ) مؤمنین کے دل نہ ڈگمگائیں اور اہل یہود کی اپنے دین میں تزویر وتلبیس باعث شک نہ بنے۔ سو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے مومنو ! سوائے اپنے مذہب کے پیروکار کے کسی پر اعتبار نہ کرو۔ اور نہ ہی یہ باور کرو کہ جو عنایات تم پر ہوئی ہیں کسی اور پر بھی ہوسکتی ہیں اور نہ ہی اس امر کو دل میں جگہ دو کہ وہ تم پر خدا کے حضور دلیل میں غالب آجائیں گے کیونکہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے۔ اور فضل صرف اللہ کے ہاتھ میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑی ہی وسعت رکھنے والا ہے اور علیم ہے) ۔ (2) اس میں قل ان الھدی ھدی اللہ جملہ معترضہ ہے اور دوسرے سب جملوں کا تعلق لاتؤمنوا سے ہے۔ یعنی لاتؤمنوا الا لمن تبع دینکم ولا تؤمنوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم ولا تصدقوا ان یحاجوکم عند ربکم (ضیاء القرآن بحوالہ تفسیر قرطبی) ۔ مت مانو کسی کی بات ماسوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور مت یقین کرو کہ جو انعام و فضل تم پر کیا گیا ہے وہ کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے اور مت مانو یہ بات کہ وہ تمہارے رب کے نزدیک تم پر دلیل سے غالب آسکتے ہیں۔ تفسیر الخازن میں ہے ثم اختلفوا فیہ فمنم من قال ھذا کلام معترض بین کلامین وما بعدہ متصل بالکلام الاول ای لا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم ولا تؤمنوا ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم ۔۔ ولا تؤمنوا ان یحاجوکم عند ربکم۔ (3) طائفۃ من اہل الکتابکا کلام لمن تبع دینکم پر ختم ہوجاتا ہے اور قل ان الھدی سے آیۃ کے اخیر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ (اے محمد ﷺ ) تو کہہ کہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے کہ جس طرح وہ ہدایت تمہیں عطا ہوئی تھی اسی طرح وہ اسے کسی اور کو بھی عطا کردے۔ یا وہ تمہارے رب کی عطا ئیگی کے بارے میں حجت بازی کریں تو (اے محمد ﷺ ) کہہ کہ ان الفضل بید اللہ ۔۔ الخ یہاں عند ربکم کا مطلب عند فعل ربکم ہوگا۔ (4) علامہ عبد اللہ یوسف علی اپنی انگریزی تفسیر The Holy Quran میں اہل یہود کے کلام کو لا تؤمنوا (سے لے کر ) لمن تبع دینکم پر ختم کرکے آگے یوں ترجمہ کرتے ہیں : Say: "True guidance is the guidance of God: (Fearye) lest a revelation besent to someone (else) Like unto that which was unto you? Or that those (Receiving such revelation) Should engage you in argument before your Lord?" (5) اور اگر او کو بمعنی ان حرف شرط لیا جائے تو مطلب یوں ہوسکتا ہے کہ اگر اہل یہود وہ کہیں جو انہوں نے لمن تبع دینکم تک کہا تو (اے محمد ﷺ تو ان سے) کہہ کہ ان الھدی ۔۔ ما اوتیتم۔ اگر وہ خدا کی دین (عطائیگی) پر کٹ حجتی سے کام لیں تو کہہ ان الفضل ۔۔ من یشائ۔ نبی اکرم ﷺ کو جو بات کہنے کے لئے ہدایت کی جاتی ہے یا تو من یشاء پر ختم ہوجاتی ہے یا آیۃ 74 کے اخیر تک چلی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا مذکورہ صورتوں کے علاوہ ان فقروں کی اور بھی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔
Ayah 3:74

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(3:74) یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب مخصوص فرماتا ہے۔ ذوا الفضل العظیم۔ الفضل موصوف العظیم صفت۔ صفت موصوف مل کر مضاف الیہ۔ ذو مضاف۔ فضل عظیم کا مالک۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فورا) واپس دیدے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا کو محض جھوٹ بولتے ہیں اور اسی بات کو جانتے بھی ہیں

(3:75) تامنہ۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب تو اس کو امانت دے۔ تو اس کو امین بنائے۔ قنطار۔ مال کثیر۔ ڈھیروں۔۔ انبار۔ جمع قناطیر۔ یؤدہ۔ واحد مذکر غائب۔ مضارع۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ وہ اسے ادا کر دے گا۔ اداء مادہ۔ تاویۃ مصدر مادمت۔ ما دام افعال ناقص میں سے ہے باب نصر۔ ضرب۔ سے دوام مصدر۔ ماضی صیغہ واحد مذکر حاضر۔ جب تک تو ٹھہرا رہا۔ جب تک تو رہا۔ مادمت علیہ قائما۔ جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے۔ لیس علینا ۔۔ سبیل۔ ای لیس علینا فی ما اصبناہ من اموال العرب عتاب وذم۔ اہل عرب کے مال میں سے جو بھی ہم ہتھیالیں اسی پر مؤاخذہ نہیں ہے۔ امیوں (غیر یہودیوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ان سے وہ خلافی کریں۔ دھوکہ دیں۔ نقصان پہنچاویں۔ امانت کو ادا نہ کریں۔ کسی طور پر مال اینٹھ لیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Ayahs 3:76–77

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(3:76) بلی۔ حرف ۔ ہاں۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے : (1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافروں کو خیال ہے کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کیا زید کھڑا نہیں۔ جواب میں کہا جائیگا بلی۔ ہاں یعنی کھڑا ہے۔ یا استفہام تو بیخی ہو جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:403) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں بلکہ ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی پورپور درست کردیں۔ یا استفاہم تقریری ہو۔ جیسے الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) ہم گواہ ہیں۔ نعم اور بلی میں فرق یہ ہے کہ نعم استفہام مجرد کے جواب میں آتا ہے۔ اور بلی بالاتفاق ایجاب کے جواب میں نہیں آتا۔ بلکہ اس استفہام کے جواب میں آتا ہے جو مقرن (متصل) بنفی ہو۔ نیز بلی ابطال کی مثال۔ اور نعم کی مثال۔ فہل وجدتم مادعد ربکم حقا قالوا نعم۔ اوفی۔ ایفاء سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے پورا کیا۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان (اہل کتاب) میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) حالانکہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں

(3:78) یلون مضارع جمع مذکر غائب لی مصدر۔ باب نصر۔ وہ گھماتے ہیں ۔ وہ پھراتے ہیں۔ لی۔ موڑنا۔ مروڑنا۔ پھیرنا۔ گھمانا۔ لوی یلوی (ضرب) لوی لسانہ یا لوی بلسانہ اس نے زبان پھیرلی یعنی جھوٹ کہا۔ خود اپنی طرف سے بات گھڑلی۔ مطلب یہ کہ زبان مروڑ کر الفاظ بگاڑ کر ادا کرتے ہیں۔ مثال۔ قل انما انا بشر مثلکم کو قل ان ما انا بشر مثلکم پڑھنا۔ اگر لوی کے اول مفعول پر علی ہو تو متوجہ ہونے اور منہ پھیر کر دیکھنے کے ہیں لایلوی علی احد وہ ایسا بھاگا کہ کسی طرف منہ پھیر کر نہ دیکھا
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی آدمی کا شایان نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہل کتاب) تم (علمائے) ربانی ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو

(3:79) ولکن۔ اور کونوا کے درمیان یقول محذوف ہے بلکہ وہ تو یہ کہے گا۔ ربنیین۔ زاہد۔ خدا پرست۔ درویش۔ اللہ والے۔ مربی۔ مرشد خلق۔ زبانی کی نسبت ۔ رب کی طرف ہے اس نسبت سے اے ربی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مبالغہ کے لئے الف نون کا اضافہ کردیا ہے۔ جیسے بڑی گھنی ڈاڑھی والے کو لحیانی اور بہت فربہ گردن والے کو رقبانی کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ربانی کا مطلب ہوگا بالکل اللہ والا۔
Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہوچکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے ؟

(3:80) ولا یامرکم۔ ثم یقول پر عطف ہے اور اس کا فاعل بشر ہے جو ابتدائی آیۃ میں مذکور ہے اور وہ بندہ نہیں حکم دے گا تمہیں۔ ایامرکم۔ تعجب اور استفہام انکاری کے طور پر ہے یعنی وہ ایسا حکم ہرگز نہیں دیگا۔ ضمیر فاعل بشر کی طرف راجع ہے۔