8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور ان کے مقابلہ کے لیے تیاری کرو جو کچھ تم سے ہو سکے قوت سے بھی اور پلے ہوئے گھوڑوں سے بھی، اس کے ذریعہ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان لوگوں کو جو ان کے علاوہ ہیں ڈراتے رہو تم ان کو نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے۔ اور جو بھی کوئی چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

دشمنوں سے مقابلہ کے لیے سامان حرب تیار رکھو اور انہیں ڈراتے رہو ان آیات میں اول تو کافروں کو تنبیہ فرمائی کہ یہ کفار جو جنگ کے موقعہ پر بچ کر نکل گئے مقتول بھی نہ ہوئے اور قید میں بھی نہ آئے یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے اور بچ نکلے تو کامیاب ہوگئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقتی طور پر بچ جانا مستقل بچاؤ نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر نہیں ہیں وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے، وہ چاہے گا تو دنیا میں بھی انہیں عقوبت میں مبتلا فرمائے گا اور آخرت میں تو بہرحال ہر کافر کے لیے سخت سزا ہے جس کا بیان قرآن مجید میں بار بار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم سے جو بھی کچھ ہو سکے دشمنوں سے لڑنے اور ان کا دفاع کرنے کے لیے ہر طرح کی قوت تیار رکھو۔ لفظ (مَّا اسْتَطَعْتُمْ ) بہت عام ہے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق تیاری کرنے کو شامل ہے اور مِنْ قُوَّۃٍ بھی نکرہ ہے یہ بھی عام ہے اور ہر قسم کی قوت جمع کرنے کو اس کا عموم شامل ہے، جس طرح کے ہتھیاروں کی جس زمانہ میں ضرورت ہو ان سب کا بنانا فراہم کرنا اور دوسری ہر طرح کی قوتیں اتحاد و اتفاق اور باہمی مشورہ یہ سب لفظ (مِنْ قُوَّۃٍ ) میں داخل ہیں۔ نیز (وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ ) فرما کر پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھنے کا بھی حکم فرمایا آیت بالا میں جو مِنْ قُوَّۃٍ فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو ہر طرح کی قوت تیار کرو اس کی تفسیر فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اَلَآ اِنَّ الْقُوَّۃَ اَلرَّمْیُ ۔ اَلَآ اِنَّ الْقُوَّۃَ اَلرَّمْیُ ۔ اَلاآ اِنَّ الْقُوَّۃَ اَلرَّمْیُ ) یعنی قوت تیر پھینکنا ہے۔ تین بار ایسا ہی فرمایا۔ (رواہ مسلم ص 142 ج 1) اور تیر پھینکنے کی قوت اس لیے فرمایا کہ اس میں دور سے دشمن پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔ دو بدو سامنے آجائیں تو تلوار ہی سے لڑنا پڑے گا اور دور سے مقابلہ ہو تو دور ہی سے تیر اندازی کر کے دشمن کو پسپا کیا جاسکتا ہے اسی لیے غزوۂ بدر کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے حضرات صحابہ سے فرمایا کہ جب دشمن تمہارے قریب آجائیں تو تیر مارنا اور اپنے تیروں کو حفاظت سے رکھنا۔ (رواہ البخاری ص 567) مطلب یہ ہے کہ جب دشمن دور ہے تو اپنے تیروں کو پھینک کر ضائع نہ کرو کیونکہ وہ زمین میں گرجائیں گے۔ جب دشمن اتنا قریب آجائے کہ ان کو تیر لگ سکے تو ان پر تیروں کی بو چھاڑ کر دو رہا مسئلہ تلوار سے قتل کرنے کا تو جب بالکل سامنے آجائیں تو پھر جم کر تلوار کے ذریعہ جنگ کی جائے۔ اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ اَلرَّمیُ کا عموم دور حاضر کے بموں کو بھی شامل ہے آنحضرت سرور عالم ﷺ نے جو اَلَآ اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ فرمایا اور لفظ رمی کا مفعول ذکر نہیں کیا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ پھینکنے کی جب کبھی کوئی چیز ایجاد ہوجائے وہ سب قوت کے مفہوم میں داخل ہوگی اور مسلمانوں کو اس کے حاصل کرنے پر اہتمام کرنا بھی لازم ہوگا۔ جدید ہتھیار میزائل، بم سب اسی عموم میں داخل ہیں مسلمانوں پر لازم ہے کہ بحکم وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ ) ہر طرح کے جدید ہتھیار تیار کرلیں اور خود بنائیں۔ ضرورت پڑے تو دوسروں سے بھی خرید سکتے ہیں لیکن صرف خریداری ہی پر موقوف نہ رکھیں آج کل تو جدید اسلحہ بنانے والے اہل کفر ہی ہیں اور کفر ملت واحدہ ہے۔ وہ کافروں کو پہلے دیں گے اور زیادہ دیں گے اور مسلمانوں کو اگر چاہیں گے تو تھوڑے ہتھیار دیں گے اور قیمت بہت زیادہ لیں گے۔ مسلمانوں کی یہ کتنی بڑی غفلت ہے کہ اہل کفر سے ہتھیار خریدتے ہیں اور خود نہیں بناتے اور اہل کفر کو اپنے اوپر مسلط کر رکھا ہے، وہ مجبور کرتے ہیں کہ تم کیا بنا رہے ہو ہمیں دکھاؤ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اپنی حیثیت کچھ بھی نہیں، یہ بہت بڑی بھول ہے۔ اسلام نے برتر ہو کر زندہ رہنا بتایا ہے۔ کافروں کے سامنے جھکنے اور انہیں اپنا راز داربنانے کی اجازت نہیں دی۔ اپنی قوت تیار رکھنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا (تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ ) (اس کے ذریعہ تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ڈراتے رہو) جب طاقت ہوگی اور دشمنوں کو اس کی خبر ہوگی تو وہ تم سے ڈرتے رہیں گے اور حملہ آور ہونے کی ہمت نہ کریں گے۔ (وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھِمْ ) جو فرمایا اس کے بارے میں حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اس سے یہود کا قبیلہ بنو قریظہ مراد ہے اور حضرت حسن نے فرمایا کہ اس سے منافقین مراد ہیں جو مسلمانوں میں مل جل کر رہتے ہیں اور اندر سے دشمن ہیں ان کو تمہاری طاقت کا پتہ ہوگا تو خود بھی ڈریں گے اور دوسروں کو بھی حملہ کرنے کی دعوت نہ دیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے فارس اور روم کے کافر مراد ہیں۔ جن سے نزول قرآن کے وقت تک مقابلہ نہیں ہوا تھا۔ بعد میں حضرات صحابہ نے ان کو شکست دی اور ان کے ممالک فتح کیے۔ (لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ ) میں اس طرف اشارہ ہے، پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ) (اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہ ہوگا) یعنی ایسا نہ ہوگا کہ ثواب ضائع کردیا جائے۔ چونکہ ہتھیار تیار کرنے میں مال خرچ ہوتا ہے اور گھوڑے پالنے میں بھی خرچہ کرنا پڑتا ہے اور جہاد میں شریک ہونے کے لیے بھی مال کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہتھیاروں کی تیاری کا حکم دینے کے ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو بھی کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس سب کا پورا پورا اجر پاؤ گے۔
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ صلح کے لیے مائل ہوجائیں تو آپ بھی اس کے لیے مائل ہوجائیں۔ اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے

دشمن صلح پر آمادہ ہوں تو صلح کی جاسکتی ہے اس سے پہلی آیات میں جہاد کے لیے سامان تیار کرنے کا حکم تھا اور نقض عہد کے سلسلہ میں بعض ہدایات دی تھیں۔ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ دشمن اگر صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی جھک جائیں۔ یہ امر وجوبی نہیں ہے موقع مصلحت سے متعلق ہے۔ اگر اس میں دار الاسلام اور اہل اسلام کی مصلحت ہو تو صلح ہوسکتی ہے۔ جنگ کرنا مقاصد میں سے نہیں ہے۔ اگر صلح سے کام چلتا ہو تو صلح کرلیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان سے جزیہ لینا قبول کرلیں۔ صلح کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ وہ لوگ اس کی بنیاد پر ملیں جلیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا ہوگا۔ اس سے اہل کفر مسلمانوں کے اخلاق و اعمال سے اذان اور نماز سے متاثر ہوں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے۔ بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ لفظ (وَ اِنْ جَنَجُوْا) میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان خود سے صلح کی پیش کش نہ کریں۔ اور وہ لوگ پیش کش کریں تو صلح کرلیں۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں۔ (و اذا رای الأمام أن یصالح أھل الحرب أو فریقاً منہ و کان فی ذلک مصلحۃ للمسلمین فلابأس بہٖ لقولہ تعالیٰ وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ لأن الموادعۃ جھاد معنیً کان خیرا للمسلمین لأن المقصود ھو دفع الشر حاصل بہٖ بخلاف ما اذا لم تکن خیرا لأنہ ترک الجھاد صورۃً و معنی ص 563 ج 1) (اور جب امام اہل حرب سے یا ان کے کسی فریق سے صلح کرنا مناسب سمجھے اور اس میں مسلمانوں کے حق میں بھلائی ہو تو صلح میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ (وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ) (اور اگر کافر صلح پر آمادہ ہوں تو آپ بھی تیار ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں) اور اس لیے بھی کہ لڑائی کا چھوڑنا بھی معنی جہاد ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کی بھلائی ہو کیونکہ مقصود شر کا دفع کرنا ہے جو اس سے حاصل ہے۔ بخلاف اس صورت کے جبکہ صلح میں مسلمانوں کی بھلائی نہ ہو تو پھر یہ جہاد کو چھوڑنا ہے صورۃً بھی اور معنیً بھی) و ان جنجوا سے بعض اکابر نے جو یہ استنباط کیا ہے کہ اپنی طرف سے صلح کی پیش کش نہ ہو اس کی تائید سورة محمد کی آیت (فَلاَ تَھِنُوْا وَ تَدْعُوْآ اِلَی السَّلْمِ ) سے بھی ہوتی ہے۔ ہاں اگر کوئی بہت ہی ایسی مجبوری ہوجائے کہ مسلمان کسی جگہ پر نرغے میں آجائیں اور صلح کے بغیر کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہو تو اپنی طرف سے بھی صلح کی پیش کش کی گنجائش ہے رہی یہ بات کہ ہوسکتا ہے کہ کافر صلح کر کے بد عہدی کردیں اور حملہ آور ہوجائیں۔ اس کے لیے فرمایا (وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (اور آپ اللہ پر بھروسہ کریں بلاشبہ وہ سننے والا جاننے والا ہے) اگر صلح میں مصلحت دیکھیں تو آپ صلح کریں ایسے احتمالات کو بنیاد بنا کر صلح کی پیش کش کو نہ ٹھکرائیں۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

، اور اگر وہ لوگ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں تو بیشک اللہ آپ کو کافی ہے، اللہ وہی ہے جس نے اپنی مدد کے ساتھ اور اہل ایمان کے ساتھ آپ کو قوت دی

پھر فرمایا (وَ اِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبُکَ اللّٰہُ ) اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ذریعہ بنائیں تو اللہ آپ کی مدد کے لیے کافی ہے ان کا مکرو فریب اور چالبازی سب خاک میں مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ نصیب فرمائے گا۔ پھر فرمایا ( ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بالْمُؤْمِنِیْنَ ) اللہ وہی ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعہ آپ کو قوت عطا فرمائی (جس میں فرشتوں کا غیبی امداد کرنا بھی شامل ہے) اور اس نے مسلمانوں کے ذریعہ بھی آپ کو قوت دی اور مسلمانوں کا لشکر آپ کے ساتھ رہا جنہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ جنگ کی۔
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا فرمائی۔ اگر آپ سب کچھ خرچ کردیتے جو زمین میں ہے تب بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے، اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا فرمائی، بیشک وہ غلبہ والا ہے، حکمت والا ہے

مزید فرمایا (وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ) (اور اللہ نے مومنین کے دلوں میں الفت پیدا فرمائی) یہ آپس کی الفت و محبت ایسی چیز ہے جو دشمنوں کے مقابلہ میں جمنے اور ان کو زک دینے اور زیر کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ جو لوگ زمانہ کفر میں آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق دی پھر ان کے قلوب میں الفت پیدا کردی۔ جس کو آل عمران میں فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ ) (اور یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو اس نے تم پر فرمایا جبکہ تم دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی) یہ الفت پیدا فرمانا اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور مشیت سے یہ محبت پیدا ہوئی۔ اسی کو فرمایا (لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ ) (اگر آپ وہ سب کچھ خرچ کردیتے جو زمین میں ہے۔ تب بھی ان کے درمیان الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا فرمائی) پھر فرمایا (اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ غلبہ والا ہے حکمت والا ہے) ۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! آپ کو اللہ کافی ہے اور وہ مومن بندے جنہوں نے آپ کا اتباع کیا۔

اس کے بعد فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اے نبی آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور مومنین کافی ہیں جنہوں نے آپ کا اتباع کیا) ۔ اصل مدد تو اللہ ہی کی ہے۔ جو حقیقی مدد ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر مسلمانوں کی جماعت اور جمعیت بھی آپ کے ساتھ ہے۔ یہ حضرات آپ کا اتباع کرنے والے ہیں جہاں دیگر مسائل معاد اور اسباب معاش میں آپ کا حکم بجالاتے ہیں وہاں جہاد میں بھی وہ دل سے اور جان و مال سے آپ کا اتباع کرنے والے ہیں، اہل ایمان کی جماعت مخلص ہو، رسول اللہ ﷺ کی متبع اور مجتمع ہو تو پھر دشمن ان پر غالب نہیں آسکتا۔ صاحب روح المعانی ص 30 ج 10 نے حضرت ابن المسیب ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس دن نازل ہوئی جبکہ حضرت عمر ؓ اسلام لائے تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی تھی (اس کے بعد برابر تعداد بھی بڑھتی رہی اور قوت و شوکت میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا رہا۔ والحمدللہ علی ذلک۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی آپ مومنین کو جہاد کی ترغیب دیجیے اگر تم میں سے بیس افراد ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب ہوجائیں گے، اور اگر تم میں سے سو افراد ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب ہوجائیں گے۔

دشمن کی دو گنی تعداد ہو تب بھی راہ فرار اختیار کرنا جائز نہیں ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ مومنین کو جہاد کی ترغیب دیں۔ آپ جہاد کی ترغیب دیتے تھے اور اس کے منافع بتاتے تھے جس میں سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے آپ کی ترغیب اور تحریض پر حضرات صحابہ ؓ خوب ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے تھے اور جانیں دیتے تھے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں میں سے اگر بیس آدمیوں کی تعداد ہوگی اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ جم کر لڑیں گے تو اپنے مقابل کافروں کے دو سو افراد پر غالب آئیں گے اور اگر سو مسلمان ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی تھا اور اس وعدہ میں یہ حکم بھی مضمر ہے کہ مسلمان اپنے سے دس گنا تعداد کے مقابلہ میں راہ فرار اختیار نہ کریں اور جم کر لڑیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس گنا تعداد کے مقابلہ میں غلبہ پانے کا وعدہ ہوگیا تو اب راہ فرار اختیار کرنے کا کوئی موقع نہ رہا۔ صاحب روح المعانی ص 31 ج 10 میں لکھتے ہیں۔ شرط فی معنی الامر بمصابرۃ الواحد العشرۃ و الوعد بأنھم ان صبروا غلبوا بعون اللہ و تائید فالجملۃ خبریۃ لفظاً انشائیۃ معنیً ۔ (یہاں سے دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مومن کے غلبہ کے معاملہ میں صبر کی شرط لگائی گئی ہے اور وعدہ اس طرح ہے کہ اگر یہ صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید سے غالب آئیں گے پس جملہ لفظی طور پر خبر یہ ہے مگر معنیً انشائیہ ہے) ۔ یہ جو فرمایا (بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ ) اس میں یہ بتایا کہ کافر اس وجہ سے مغلوب ہوں گے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے، اللہ کو اور آخرت کے دن کو نہیں جانتے، وہ ثواب کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کے لیے اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نہیں لڑتے ان کا لڑنا حمیت جاہلیہ اور شیطان کے اتباع کی وجہ سے ہے بخلاف اہل ایمان کے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اور اس کا بول بالا کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ لا محالہ وہ غالب ہوں گے اور کافر مغلوب ہوں گے۔ (کذا فسرہ صاحب الروح)
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے جان لیا کہ بیشک تمہارے اندر کمزوری ہے۔ سو اگر تم میں سے ثابت قدم رہنے والے سو افراد ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے، اور اگر تم میں سے ایک ہزار افراد ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

اس کے بعد فرمایا (اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا) اس کا سبب نزول بتاتے ہوئے حضرت امام بخاری (رح) نے ص 677 ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب پہلی آیت (اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ بات بھاری معلوم ہوئی کہ دشمن کے افراد دس گنے ہوں تب بھی ان کے مقابلہ سے راہ فرار کرنے کی اجازت نہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور دس گنے افراد سے مقابلہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کے بجائے یہ حکم دے دیا کہ سو افراد، دو سو کے مقابلے میں راہ فرار اختیار نہ کریں (یعنی دوگنی جماعت کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار کرنا ممنوع ہوگیا) حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور دس گنا افراد کے مقابلہ میں لڑنے کا جو حکم تھا اس کے بجائے اپنے سے دو گنی جماعت سے لڑنے کا حکم دے دیا اور راہ فرار اختیار کرنے سے منع فرما دیا تو اسی قدر ان کے صبر میں سے کمی فرما دی۔ بعض حضرات نے (عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا) کا یہ مطلب بتایا ہے کہ عہد اول میں حضرات صحابہ ؓ اگرچہ عدد میں تھوڑے تھے لیکن تو کل علی اللہ ان میں بہت زیادہ تھا۔ لہٰذا دس گنی جماعت سے بھی ثابت قدمی کے ساتھ لڑ سکتے تھے بعد میں مسلمانوں کی کثرت ہوگئی تو ان بعد کے آنے والے مسلمانوں میں صبر و استقامت کی وہ شان نہیں تھی جو ان سے پہلے والوں میں تھی اور کچھ کثرت پر بھی اعتماد ہوگیا۔ لہٰذا ضعف کی شان پیدا ہوگئی۔ اللہ جل شانہٗ نے دس گنا افراد کے مقابلہ کے بجائے دو گنا افراد سے مقابلہ کا حکم دے دیا اور ان کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار کرنے کی ممانعت فرما دی۔ یہ تخفیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے۔ اسی سورت کے دوسرے رکوع میں (اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِءَۃٍ ) جو گزرا ہے۔ (اس کی تفسیر دو بارہ دیکھ لی جائے) قانون تو یہ بنا دیا کہ دگنی تعداد کے مقابلے میں راہ فرار اختیار نہ کریں۔ لیکن اللہ جل شانہٗ نے ہمیشہ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ فارس اور روم کے جہادوں میں بھاری تعداد میں دشمن سامنے آئے اور مسلمانوں کی تعداد کم ہونے پر بھی دشمنان دین کو شکست ہوئی جس کے واقعات تاریخ میں مذکور ہیں۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) اس میں یہ بتادیا کہ طاعت پر جمنے والوں اور معصیت ترک کرنے والوں کا اللہ ساتھی ہے یعنی وہ ان کی مدد فرمائے گا۔ لہٰذا مومن بندوں کو طاعات کی پابندی اور معاصی سے ہمیشہ اجتناب لازم ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو اور میدان جنگ میں بھی ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی مدد دلانے کا ذریعہ ہیں۔ ثبات قدمی کا آیت میں دو جگہ تذکرہ فرمایا ہے عشرون کے ساتھ صابرون فرمایا اور ماءۃ کے ساتھ صابرۃ فرمایا۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے پاس قیدی موجود رہیں جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کرلے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے، اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔

بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر عتاب پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ غزوۂ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر کافروں کو قید کر کے مدینہ منورہ لایا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ مشورہ میں جب بات آئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم کے افراد ہیں اور رشتہ دار بھی ہیں ان کو زندہ رہنے دیجیے ! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ اور اس وقت ان سے فدیہ لے لیا جائے یعنی ان کی جانوں کے بدلہ میں مال لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا، شہر مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اجازت دیجیے کہ ہم ان کی گردنیں مار دیں، اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کوئی ایسی جگہ دیکھئے۔ جہاں خوب زیادہ لکڑیاں ہوں انہیں اس میں داخل کر کے آگ سے جلا دیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ پھر حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کو اختیار فرما لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔ جو اوپر پہلی دو آیتوں میں مذکور ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگلے دن جب میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں ؟ مجھے رونے کا سبب معلوم ہوجائے تو میں بھی رونے لگوں اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت ہی بنا کر آپ کی موافقت کرلوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ فدیہ لینے کی لوگوں نے جو رائے دی تھی اس رائے کے اختیار کرنے پر مجھے اس قریب والے درخت سے ورے عذاب آتا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ (معالم التنزیل) مذکورہ قیدیوں کو مال لے کر چھوڑنے کا جو فیصلہ کرلیا گیا تھا اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند تھی۔ اس لیے عتاب نازل فرمایا پھر عذاب کو روک لیا اور اس مال کو لینے اور کھانے کی اجازت دے دی اول تو یہ فرمایا کہ یہ نبی کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں اور انہیں چھوڑ دیا جائے بلکہ خونریزی کرنی چاہئے تاکہ کفار کی شوکت بالکل ٹوٹ جائے اور مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سکت ان میں باقی نہ رہے جن حضرات نے مال لینے کی رائے دی تھی ان کے سامنے ایک مصلحت تو یہ تھی کہ امید ہے کہ لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور دوسری مصلحت یہ تھی کہ اس وقت مسلمانوں کو حاجت اور ضرورت ہے مال مل جائے گا تو مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں قوت پہنچ جائے گی۔ اس مال لینے کے جذبہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا (تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ) کہ تم دنیا کو چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طالب بنو، تمہیں آخرت میں اجور اور ثمرات ملیں۔ کافر قیدیوں کو قتل کرنے میں کفر کی مغلوبیت تھی جو اور زیادہ اسلام کے پھیلنے کا ذریعہ ہے جیسے جیسے مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام پھیلے گا مسلمانوں کی آخرت بھی اچھی بنے گی اور درجات بلند ہوں گے۔ (وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے) اس نے تم کو کافروں پر غلبہ دیا۔ اس کے بعد بھی غلبہ دے گا اور اپنی حکمت کے موافق جب چاہے گا تمہیں مالا مال فرمائے گا۔ اس وقت ذرا سی دیر محسوس کر کے جو فدیہ لینے پر اتر آئے یہ ناپسندیدہ ہے۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تم کو بڑا عذاب پہنچ جاتا،

اس کے بعد فرمایا (لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تم کو بڑا عذاب پہنچ جاتا) اس نوشتہ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے حضرات صحابہ ؓ اور تابعین کے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے اُمِ الکتاب میں چونکہ یہ لکھ دیا تھا کہ مال غنیمت امت مسلمہ کے لیے حلال ہوں گے (جس میں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی شامل ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب روک لیا۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن مسعود اور حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء اور حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ اور حضرت اعمش سے یہ بات نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ مفسر ابن جریج نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے ص 34 ج 6 پر ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوتی کہ جب تک کسی قوم کے لیے بطور امرو نہی واضح طور پر حکم بیان نہ ہوجائے اس وقت تک عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نہ ہوگا تو عذاب آجاتا۔ چونکہ واضح طور پر فدیہ لینے کی ممانعت بیان نہیں ہوئی تھی اس لیے عذاب روک دیا گیا۔ صاحب روح المعانی نے اس قول کو بھی حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کیا ہے، پھر ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات مقرر اور مقدر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہیں آئے گا۔ جیسا کہ اس سورة کے رکوع نمبر 4 میں گزر چکا ہے۔ اس لیے عذاب نہیں آیا اور ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی زبانی یہ اعلان ہوچکا تھا کہ جو لوگ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کی مغفرت کردی گئی (اور رائے دینے والوں میں مشورہ دینے والے بھی تھے) اس لیے عذاب نہیں آیا۔ پھر صاحب روح المعانی نے ایک یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے چونکہ یہ مقرر تھا کہ جو فدیہ تم نے لیا ہے وہ تمہارے لیے حلال کردیا جائے گا۔ اس لیے عذاب نہیں بھیجا۔ پھر اس پر کچھ سوال و جواب بھی کیا ہے۔ اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک اگر یہ تمام چیزیں مراد ہوں جو مختلف اقوال کی صورت میں بیان ہوئیں تو اس میں بھی کوئی بُعد نہیں ہے۔ وبھذا یجمع بین الروایات المختلفۃ عن الحبر فی بیان ھذا الکتاب و ذلک بان یکون فی کل مرۃ ذکر امرا واحدا من تلک الامور، و التنصیص علی الشئ بالذکر لا یدل علی نفی ما عداہ و لیس فی شئ من الروایات ما یدل علی الحصر فافھم۔ 1 ھ (اور اسی سے ان مختلف روایات میں تطبیق ہوتی ہے جو اہل علم سے اس نوشتہء الٰہی کا ذکر کردیا گیا اور کسی ایک چیز کے ذکر کی صراحت دوسری چیزوں کی نفی پر دلالت نہیں کرتی اور روایات میں کوئی ایسی بھی نہیں ہے جو کسی ایک کے حصہ پر دلالت کرے) ۔ قیدیوں کے احکام : اگر کافر قید میں آجائیں تو امیر المومنین کو ان کے بارے میں کن باتوں کا اختیار ہے۔ اس میں چار چیزوں کا ذکر آتا ہے۔ یہاں سورة انفال میں قتل کرنے اور فدیہ لینے کا ذکر ہے اور سورة محمد میں مزید دو باتوں کا ذکر ہے۔ (فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً ) احسان کر کے چھوڑ دینا یا اپنے قیدیوں سے مبادلہ کرلینا یعنی اپنے قیدی لے کر ان کے قیدی چھوڑ دینا۔ ان چار چیزوں میں سے اب کس کس چیز کو اختیار کرنے کی اجازت ہے اس میں حضرات فقہاء کرام نے کچھ تفصیل لکھی ہے۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ امیر المومنین کو اختیار ہے۔ چاہے تو کافر قیدیوں کو قتل کرے اور چاہے تو انہیں ذمی بنا کر دارالاسلام میں رکھ لے۔ البتہ مشرکین میں جو اہل عرب ہوں اور جو مرتد ہوں ان کو ذمی بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ اب رہی یہ بات کہ آیا مسلمانوں کو چھڑانے کے لیے بطور مبادلہ کے کافر قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے ؟ تو حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو جائز قرار نہیں دیا اور حضرات صاحبین اور حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ ایسا کرنا درست ہے اور کافر قیدیوں کو مال لے کر چھوڑ دینا جائز ہے یا نہیں اس کے بارے میں حنفیہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں۔ البتہ امام محمد (رح) نے سیر کبیر میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہو تو ایسا بھی کرسکتے ہیں اور بالکل ہی بطور احسان کے چھوڑ دینا نہ قیدیوں کا مبادلہ ہو اور نہ مال لیا جائے اور نہ ذمی بنایا جائے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ حضرت امام شافعی (رح) اس کو بھی جائز کہتے ہیں۔ علامہ ابوبکر جصاص (رح) احکام القرآن ص 392 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ سورة برأۃ سورة محمد ﷺ کے بعد نازل ہوئی۔ سورة محمد میں جو من اور فداء کی اجازت ہے اس کو سورة برأۃ کی آیات (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ ) اور (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) نے منسوخ کردیا۔ لہٰذا اب فداء اور مَن کی اجازت نہیں رہی۔ فوجب ان یکون الحکم المذکور فیھا ناسخا للفداء المذکور فی غیرھا۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو کھاؤ اس میں سے جو تمہیں بطور غنیمت کے مل گیا حلال پاکیزہ ہونے کی حالت میں، اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس کے بعد فرمایا (فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا) (سو کھاؤ اس میں سے جو تمہیں بطور غنیمت کے مل گیا حلال پاکیزہ ہونے کی حالت میں) بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر جو ان کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کردیا گیا تھا اس پر عتاب تو ہوا لیکن اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنی مہربانی سے اس مال کو حلال اور طیب قرار دے کر کھانے کی اجازت مرحمت فرما دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (و اتقوا اللہ) (کہ اللہ سے ڈرو) اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے احتراز کرو (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ) (بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے اس نے تمہارے گناہ معاف فرمائے) رَّحِیْمٌ (رحم فرمانے والا) جو کچھ تم نے کافروں سے لیا اس کے بارے میں تم پر رحم فرمادیا اور تمہارے لیے حلال قرار دے دیا۔ مفسر ابن کثیر ص 326 ج 2 نے لکھا ہے۔ فعند ذلک اخذوا من الاساری الفداء جس کا مطلب یہ ہے کہ مال لینے کے فیصلے پر عتاب ہوا تھا پھر جب مال لینے کی اجازت دے دی گئی تو قیدیوں سے مال وصول کرلیا گیا۔ اور معالم التنزیل میں یوں لکھا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی تو جو کچھ بطور فدیہ مال لے چکے تھے اس سے پرہیز کرتے رہے جب آیت (فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ ) نازل ہوئی تو اس مال کو استعمال کرلیا، ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں سے پہلے مال لے لیا گیا ہو اوراقرب یہی ہے کیونکہ سب کے پاس اس وقت اموال موجود نہیں تھے۔ قیدیوں میں حضور اقدس ﷺ کے داماد ابو العاص بن الربیع اور آپ کے چچا عباس بن عبدالمطلب بھی تھے۔ آپ نے صحابہ سے اجازت لے کر ابو العاص کو فدیہ لیے بغیر چھوڑ دیا اور ان سے فرمایا کہ تم مکہ معظمہ پہنچ کر زینب کو بھیج دینا۔ (زینب آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں) آپ نے جب ہجرت فرمائی تھی تو وہی رہ گئی تھیں۔ اس لیے ان سے فرمایا کہ زینب کو بھیج دینا، انہوں نے وعدہ کو پورا کیا اور حضرت زینب ؓ کو بھیج دیا اور پھر بعد میں خود بھی اسلام قبول کرلیا۔ کما ذکرہ الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ فی حرف العین۔ (جیسا کہ حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں حرف عین کے باب میں ذکر کیا ہے) ۔ حضرت عباس مشرکین کے لشکر میں آئے تھے اور بیش اوقیہ سونا لے کر چلے تھے تاکہ اپنے ساتھیوں کو کھلاتے پلاتے رہیں (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا) اب ان کے پاس بیس اوقیے رہ گئے تھے وہ بیس اوقیے صحابہ ؓ نے ان سے مقام بدر میں لے لیے تھے۔ جب قید کر کے لائے گئے اور ان سے سوال ہوا کہ فدیہ دو تو انہوں نے کہا کہ وہ جو بیس اوقیے لے لیے ہیں انہیں کو میری جان کے فدیہ میں لگا لیں، آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز تم ہمارے مقابلے میں خرچ کرنے کے لیے لے کر آئے تھے وہ تمہارے حساب میں نہیں لگ سکتی۔ عباس نے یوں بھی کہا کہ یا رسول اللہ میں تو مسلمان تھا آپ نے فرمایا اگر تم مسلمان تھے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے دے گا۔ ہمارے نزدیک بظاہر تم مقابلہ کرنے کے لیے جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ لہٰذا تم اپنی جان کا بھی فدیہ دو اور اپنے دونوں بھتیجوں نوفل بن حارث اور عقیل بن أبی طالب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا بھی فدیہ دو ۔ عباس نے کہا کہ اے محمد ﷺ تم مجھے اس حال میں چھوڑنا چاہتے ہو کہ زندگی بھر قریش سے بھیک مانگا کروں۔ میرے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ اس قدر فدیہ دے سکوں۔ آپ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور تمہاری بیوی ام الفضل نے مل کر دفن کیا ہے۔ تم نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں مقتول ہوگیا تو یہ مال میرے بیٹوں عبداللہ اور عبیداللہ اور فضل اور قثم کے کام آئے گا۔ عباس نے کہا اللہ کی قسم یا رسول اللہ اس بات کا علم میرے اور ام الفضل کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہے۔ آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب تعالیٰ شانہٗ نے بتایا۔ اس پر عباس کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور وہ بات پھر دہرائی کہ وہ جو بیس اوقیہ میدان جنگ میں مجھ سے لے لیا گیا ہے۔ وہ میرے فدیہ کے حساب میں لگا لیا جائے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ وہ حساب میں نہیں لگ سکتا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں (بطور مال غنیمت کے) عطا فرمایا ہے۔ لہٰذا عباس نے اپنا فدیہ بھی دیا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا بھی اور اپنے حلیف کا بھی۔ (من معالم التنزیل ص 263 ج 2 و ابن کثیر ص 367 ج 2) حضرت عباس نے اپنا اسلام تو فدیہ کے دن ہی ظاہر کردیا تھا لیکن اس وقت مکہ معظمہ چلے گئے تھے پھر مکہ معظمہ فتح ہونے سے کچھ پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے۔ (کمافی الاصابۃ، حرف العین) فائدہ : معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ہر قیدی کا فدیہ چالیس اوقیہ تھا اور ہر اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا تھا اس طرح سے ہر قیدی کا فدیہ سولہ سو درہم ہوا اور روح المعانی میں لکھا ہے کہ ہر ایک قیدی کا فدیہ سو اوقیہ تھا اور اس کے علاوہ اور بھی بعض اقوال ہیں۔ فائدہ : چونکہ صحابہ کے مشورے سے یہ طے ہوگیا تھا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور جو مال ان سے لے لیا گیا اس میں صحابہ کا بھی حصہ ہوگیا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس میں کسی اپنے پرائے کی رعایت نہیں فرمائی اپنے چچا عباس سے بھی فدیہ لیا اور اپنے دو چچا زاد بھائیوں کا فدیہ بھی چچا سے وصول فرمایا۔ انہوں نے جو یہ کہا کہ میں مسلمان تھا (زبردستی جنگ میں شریک کرلیا گیا) تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے صاف طور پر فرما دیا کہ دلوں کا حال اللہ جانتا ہے ہم تو ظاہر پر قانون نافذ کرنے والے ہیں۔ تم مخالفین کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہو کر آئے تھے۔ قیدی ہوگئے ہم تو فدیہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ لہٰذا ان سے فدیہ لیا۔ صحیح بخاری ص 428 ج 1 میں ہے کہ انصار میں سے بعض صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اجازت دیجیے کہ ہم عباس کی جان کا بدلہ چھوڑ دیں۔ آپ نے فرمایا نہیں ایک درہم بھی نہ چھوڑو اور اپنے داماد ابو العاص ابن الربیع کا جو فدیہ چھوڑا وہ بھی حضرات صحابہ ؓ سے اجازت لے کر چھوڑا تھا۔ یہ قانون میں مساوات اختیار کرنے کا ایک نمونہ ہے لوگ مساوات کا نام تو لیتے ہیں لیکن جب اپنے پرائے کا سوال آتا ہے تو قانون بھول جاتے ہیں قانون غیروں کے لیے ہوتا ہے اور اپنی جان اور اپنے لوگ قانون سے بالا تر ہوتے ہیں۔ یہ اسلام کے طریقے کے خلاف ہے۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی جو قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان سے فرما دیجیے کہ اگر اللہ کو تمہارے دلوں میں ایمان معلوم ہوگا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو عطا فرما دے گا، اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

بدر کے قیدیوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جب عباس بن عبدالمطلب نے یہ کہا کہ میں تو مسلمان تھا اور میرا مال جو غزوۂ بدر میں لے لیا گیا ہے اسی کو میری جان کے فدیہ میں لگا لیا جائے اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے انکار فرما دیا جس پر انہوں نے اپنا اور مزید تین آدمیوں کا فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرآی) نازل فرمائی جس میں یہ فرمایا کہ اے نبی جو قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان کو فرما دیں اگر تمہارے دل میں ایمان ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ تم کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جو تم سے لیا گیا اور اللہ تمہیں بخش دے گا۔ حضرت عباس جب پوری طرح اسلام میں داخل ہوگئے تو انہوں نے اس وعدہ کو سچا پایا۔ وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیس اوقیہ کی جگہ بیس غلام عطا فرمائے ہیں جو مال کما کر لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید بھی رکھتا ہوں کیونکہ آیت شریفہ میں اس کا بھی وعدہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سو گنا مال عطا فرما دیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ سبب نزول خواہ حضرت عباس ؓ ہی کا واقعہ ہو لیکن الفاظ آیت کا عموم تمام قیدیوں کو شامل ہے لما قالوا من أن العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب 1 ھ۔ (اس وجہ سے کہ علماء نے کہا ہے کہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے سبب کی خصوصیت کا نہیں ہوتا) ۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ آپ کی خیانت کا ارادہ کریں سو وہ اس سے پہلے اللہ کی خیانت کرچکے ہیں پھر اللہ نے ان پر قابو دے دیا۔ اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔

پھر فرمایا (وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) کہ یہ قیدی اگر آپ کی خیانت کا ارادہ کریں۔ واپس جا کر جنگ کرنے کی نیت سے لوٹ آئیں یا آپ کے مقابلہ میں مشرکین کی مدد کرنے لگیں تو آپ فکر مند نہ ہوں۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خیانت کرچکے ہیں اللہ نے جو ہر عاقل سے توحید کے بارے میں عہد لیا تھا اسے توڑا اور کفر اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو ان پر قدرت دے دی اور انہیں بدر میں مقتول کروا دیا اور قیدی بنا کر مدینہ میں حاضر کروا دیا۔ اگر پھر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ پھر آپ کی مدد فرمائے گا (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ) اور اللہ کو سب کچھ معلوم ہے وہ سب کی نیتوں کا حال جانتا ہے۔ حَکِیْمٌ وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق اپنی مخلوق میں تصرف فرماتا ہے جس کو جب چاہے سزا دیتا ہے اور جس کو جب چاہے انعام دیتا ہے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک کہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تمہارے ذمہ ان کی مدد لازم ہے۔ سوائے اس قوم کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں کوئی معاہدہ ہو، اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کو دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو،

مجاہدین، مہاجرین، اور انصار سے متعلق بعض احکام حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق ان آیات میں میراث کے احکام بتائے ہیں۔ ان کے نزدیک (اُولٰٓءِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) سے ایک دوسرے کا وارث ہونا مراد ہے۔ نیز وَ لَا یِتِھِمْ سے بھی میراث پاناہی مراد ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے۔ اس اعتبار سے پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد کی یعنی انصاری حضرات یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان سلسلہ توارث جاری فرمایا یعنی ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے ایک مہاجر، غیر مہاجر کا وارث نہیں ہوتا تھا اگرچہ آپس میں رشتہ داری ہو یہ سلسلہ فتح تک جاری رہا اس کے بعد میراث نسبی رشتہ داری کی بنیاد پر ملنے لگی۔ اگرچہ ایک شخص مہاجر ہو اور دوسرا مہاجر نہ ہو بشرطیکہ دونوں مسلمان ہوں۔ رشتہ داری کے اصول پر جو میراث کے احکام ہیں سورة نساء کے دوسرے رکوع میں بیان ہوچکے ہیں۔ (انوار البیان ج 1) اس کے بعد ان لوگوں کا حکم بتایا جنہوں نے ایمان تو قبول کیا لیکن ہجرت کر کے مدینہ منورہ نہیں آئے اور فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا) کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تمہارا ان کی میراث سے کوئی تعلق نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کرلیں۔ چونکہ سلسلہ توارث کے لیے ایمان اور ہجرت دونوں کو ضروری قرار دیا تھا اس لیے واضح طور پر فرما دیا گیا کہ جنہوں نے ہجرت نہیں کی اگرچہ اسلام قبول کرلیا اس کے اور مہاجرین کے درمیان سلسلۂ توارث جاری نہیں ہوگا۔ یہ سابقہ مضمون کا تتمہ ہے بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ جیسا کہ اوپر مذکورہ ہوا اور قرابت داری کے اصول پر میراث کے احکام بتا دیئے گئے۔ پھر فرمایا (وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ ) (الآیۃ) یعنی جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا اور ابھی ہجرت نہیں کی اور مشرکین کے درمیان محبوس ہیں اگر وہ تم سے مدد چاہیں تو دشمنوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرو۔ آپس میں میراث کا جاری ہونا نہ ہونا اور بات ہے اور کافروں کے مقابلہ میں مدد کرنا یہ دوسری چیز ہے۔ اس ضروری کام کو ہاتھ سے نہ جانے دو ، مومن بھائیوں کی مدد کرو اگرچہ انہوں نے ہجرت کی۔ ہاں اتنی بات کا دھیان رہے کہ جس کسی قوم سے تمہارا کوئی معاہدہ ہے اور آپس میں یہ طے ہے کہ مثلاً اتنے عرصہ تک آپس میں جنگ نہیں کریں گے تو پھر ان کے درمیان رہنے والے اہل ایمان کی مدد طلب کرنے کے باو جود ان پر حملہ نہ کیا جائے تاکہ معاہدہ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ معاہدہ کی پابندی کا اہتمام اسلام میں کس درجہ ہے اس سے واضح طور پر معلوم ہوگیا، اگر غیر مہاجر مسلمان مہاجر مسلمان سے کسی ایسی قوم کے مقابلہ میں مدد طلب کریں جس سے ترک جنگ کا معاہدہ کر رکھا ہے تو پھر اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لیے بھی ان کافروں پر حملہ کرنا جائز نہیں جن سے معاہدہ ہے۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد ہوگا،

اس کے بعد فرمایا (وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) (کہ جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ) وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں۔ کافروں کے درمیان آپس میں میراث جاری ہوگی کوئی مومن کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مومن کا وارث نہیں ہوسکتا۔ پہلا حکم یعنی یہ کہ مہاجر غیر مہاجر کا وارث نہ ہو منسوخ کردیا گیا اور ہجرت کے بجائے رشتہ داری کے اصول پر میراث کے احکام نازل ہوگئے لیکن یہ دوسرا حکم کہ مومن اور کافر کے درمیان توارث نہیں، دائمی ہے اور قیامت تک کے لیے یہی قانون ہے ہاں کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اگر وہ لوگ مسلمانوں کی عملداری میں رہتے ہوں گے تو قاضی اسلام ان کے درمیان میراث تقسیم کر دے گا اگر کوئی مسلمان کسی کافر کا بیٹا ہو یا کوئی کافر کسی مسلمان کا بیٹا ہو تو ان کے درمیان میراث جاری نہ ہوگی۔ اگرچہ دارالاسلام میں رہتے ہوں۔ پھر فرمایا : (اِلَّاتَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ کَبِیْرٌ) کہ جو احکام اوپر بیان کیے گئے اگر ان پر عمل نہ کرو گے اور ان کی خلاف ورزی کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔ اگر اپنے دینی بھائیوں کی مدد کے جوش میں معاہدے کی خلاف ورزی کر بیٹھے یا کافروں کو اپنا ولی یا وارث سمجھ لیا تو اس کے نتائج بہت خطر ناک ہوں گے اور زمین میں بڑا فتنہ ہوگا اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اس کے بعد فرمایا (وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) (کہ جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ) وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں۔ کافروں کے درمیان آپس میں میراث جاری ہوگی کوئی مومن کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مومن کا وارث نہیں ہوسکتا۔ پہلا حکم یعنی یہ کہ مہاجر غیر مہاجر کا وارث نہ ہو منسوخ کردیا گیا اور ہجرت کے بجائے رشتہ داری کے اصول پر میراث کے احکام نازل ہوگئے لیکن یہ دوسرا حکم کہ مومن اور کافر کے درمیان توارث نہیں، دائمی ہے اور قیامت تک کے لیے یہی قانون ہے ہاں کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اگر وہ لوگ مسلمانوں کی عملداری میں رہتے ہوں گے تو قاضی اسلام ان کے درمیان میراث تقسیم کر دے گا اگر کوئی مسلمان کسی کافر کا بیٹا ہو یا کوئی کافر کسی مسلمان کا بیٹا ہو تو ان کے درمیان میراث جاری نہ ہوگی۔ اگرچہ دارالاسلام میں رہتے ہوں۔ پھر فرمایا : (اِلَّاتَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ کَبِیْرٌ) کہ جو احکام اوپر بیان کیے گئے اگر ان پر عمل نہ کرو گے اور ان کی خلاف ورزی کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔ اگر اپنے دینی بھائیوں کی مدد کے جوش میں معاہدے کی خلاف ورزی کر بیٹھے یا کافروں کو اپنا ولی یا وارث سمجھ لیا تو اس کے نتائج بہت خطر ناک ہوں گے اور زمین میں بڑا فتنہ ہوگا اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔

پھر فرمایا : (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا) (الآیۃ) جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد کی یہ دونوں جماعتیں یعنی مہاجرین اور انصار سچے پکے مسلمان ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بڑی مغفرت کا وعدہ ہے اور ان کے لیے عزت والی روزی مقرر ہے جو جنت میں ان کو نصیب ہوگی۔ اس آیت میں جہاں مہاجرین کی مدح ہے وہاں حضرات انصار کی بھی تعریف ہے اور دونوں جماعتوں کو مغفرت کی بشارت دی گئی ہے آخری آیت میں تین مضمون بیان فرمائے۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی ایمان والے ہیں ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا سو یہ لوگ تم میں سے ہیں، اور جو لوگ رشتہ دار ہیں وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے قریب تر ہیں۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اولاً تو یہ فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓءِکَ مِنْکُمْ ) اور جو لوگ بعد کے زمانہ میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا سو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور تم ہی میں شمار ہیں۔ یعنی تم کو اولیت کی فضیلت حاصل ہے اور ان کو گو یہ فضیلت حاصل نہیں لیکن جب ایمان کے تقاضے پورے کر دئیے تو تم ہی میں شمار ہیں۔ ایمان کی فضیلت سب کو حاصل ہے۔ البتہ مراتب میں تفاوت ہے اور احکام میراث میں تو سب برابر ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق نسبی رشتوں سے ہے افضل اور غیر افضل ہونے سے نہیں ہے۔ ثانیاً یوں فرمایا : (وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ) اور جو لوگ آپس میں رشتہ دار ہیں اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے قریب تر ہیں لہٰذا رشتہ داریوں کی بنیاد پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے جس کی تفصیل سورة نساء کے دوسرے رکوع میں گزر چکی ہے اس سے میراث کا وہ حکم منسوخ کردیا گیا جو اوائل ہجرت میں مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کے بعد جاری کردیا گیا تھا۔ یہ حکم ذوی الفروع اور عصبات سب کو شامل ہے بلکہ علماء فرائض کی اصطلاح میں جن کو ذوی الارحام کہا جاتا ہے ان کو بھی شامل ہے البتہ ان سب کے درمیان ترتیب ہے جو کتب فرائض میں مذکور ہے۔ ثالثاً فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ احکام کی خلاف ورزی کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال کی خبر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے اعمال کا علم ہے وہ سب کے ظاہر و باطن سے بیخبر ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دے گا اور فرمانبر داری کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے گا۔ تمَّ سورة الانفال فی اواخر ذی الحجۃ 1412 ھ والحمدللہ اولا واٰخرا و باطنا و ظاھرا۔