Ayah 8:19مشرکین سے اللہ تعالیٰ کا خطاب
مفسرین نے لکھا ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن لڑائی ہونے سے پہلے یوں دعا کی تھی کہ اے اللہ ! یہ جو دو جماعتیں ہیں (ایک مومنین دوسرے مشرکین) ان میں سے جو بھی قطع رحمی میں بڑھ کر ہو اور جو ایسی چیز لے کر آیا ہو جسے ہم نہیں جانتے آج کی صبح اسے شکست دے دینا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب مشرکین بدر کے لیے روانہ ہونے لگے تو کعبہ شریف کے پردے پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اور یوں کہا کہ اے اللہ دونوں لشکروں میں سے جو لشکر آپ کے نزدیک اعلیٰ ، اکرم اور بہتر ہو اس کی مدد فرمائیے۔ (ص 296 ج 2)
ایک روایت میں یوں ہے کہ جب بدر کے دن دونوں جماعتیں مقابل ہوئیں تو ابو جہل نے کہا اے اللہ ہمارا دین قدیم ہے اور محمد کا دین نیا ہے۔ دونوں دینوں میں جو دین آپ کو محبوب ہو اور آپ اس سے راضی ہوں اسی دین کے اصحاب کی مدد کیجیے (روح المعانی ص 187 ج 9) مشرکین نے یہ دعا کی تھی جن میں ابو جہل پیش پیش تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دعاء قبول فرمائی اور جو دین اللہ کے نزدیک محبوب تھا اسی دین (یعنی اسلام) کے ماننے والوں کی مدد فرمائی اور ان کو فتح یاب فرمایا، آیت بالا میں اسی کا ذکر ہے کہ تم نے جو دعا کی تھی اور حق و باطل کا فیصلہ چاہا تھا وہ فیصلہ تمہارے سامنے آگیا اہل حق کی اللہ نے مدد فرمائی، اب تمہیں اپنی دعاء کے مطابق بھی کفر پر باقی رہنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا۔
(وَ اِنْ تَنْتَھُوْا فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ) (اور اگر تم رسول اللہ ﷺ کی دشمنی سے اور آپ کے مقابلہ میں جنگ کے لیے آمادہ ہونے سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) یہ خطاب ان کافروں کو ہے جو قید کرلیے گئے اور جو کافر مکہ معظمہ ہی میں رہ گئے تھے جنگ میں شرکت نہیں کی تھی ان سے فرمایا (وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ) اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے، جو پہلے کیا تھا یعنی اگر تم نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے منصوبے بنائے اور جنگ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے تو پھر ہم وہی کریں گے جو مذکورہ جنگ یعنی غزوۂ بدر کے موقع پر کیا یعنی اہل ایمان کی مدد کریں گے ان کو فتح یابی دیں گے اور پھر تم ذلیل و خوار ہو گے (وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِءَتُکُمْ شَیْءًا وَّ لَوْ کَثُرَتْ ) اور یہ جو تم اپنی جماعت کو بڑی دیکھ رہے ہو اور اس کی جمعیت پر بھروسہ کر رہے ہو یہ کتنی بھی زیادہ ہوجائے تمہیں کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی، (وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور اللہ مومنین کے ساتھ ہے) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مشرکین عرب اور خاص کر مشرکین مکہ کے لیے اس بات کے سوچنے کی گنجائش نہیں رہی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف پھر جنگ کرنے کا ارادہ کریں جب کہ اللہ نے ہمیشہ کے لیے مستقل اعلان فرما دیا کہ (وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) لیکن مشرکین کی پھر بھی آنکھیں نہ کھلیں اور غزوہ احزاب میں پھر قبیلوں اور جماعتوں کو لے کر مدینہ منورہ پر چڑھ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور ان کی بہت بڑی بھاری جمعیت تتر بتر ہو کر بھاگ گئی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ سے مسلمانوں کے ساتھ ہے اگر اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہوتی تو کفار تھوڑے سے مسلمانوں کو جو ابتدائے اسلام میں تھے بالکل ہی ختم کردیتے اور دین اسلام بالکل ہی آگے نہ بڑھتا۔ لیکن کافروں کی ہزاروں تدبیریں فیل ہوئیں۔ میدان جہاد میں ان کی بڑی بڑی بھاری جماعتیں مغلوب ہوئیں، ان میں سے لاکھوں مقتول ہوئے اور الحمدللہ ایمان ہمیشہ بڑھتا چڑھتا رہا اور آج بھی کافروں کی تدبیریں فیل ہیں ان کے دلوں میں ان کے گھروں میں ان کی موجودہ نسلوں میں اسلام داخل ہو رہا ہے۔ یورپ و امریکہ میں روزانہ اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ و لقد صدق اللہ و ان اللہ مع المومنین ( یقیناً اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ مومنین کے ساتھ ہے) دنیا میں جو کہیں مسلمانوں کی شکست ہے وہ ان کے فسق کی وجہ سے ہے۔ اسلام کے اعمال پر مستقیم نہیں ہیں۔ اخلاص سے بھی خالی ہیں۔ لہٰذا دشمنوں کے نرغے میں آجاتے ہیں۔
Ayahs 8:20–24اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے کافر اور منافق مراد ہیں۔ ان کے کانوں میں تو بات جاتی ہے لیکن چونکہ دل کے کانوں سے نہیں سنتے اور پہلے ہی سے یہ طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ماننا اور سمجھنا نہیں ہے اس لیے کانوں کا سننا نہ سننے کے برابر ہوجاتا ہے اور اس سننے سے بالکل منتفع نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ ) (الآیۃ) یعنی بیشک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برے وہ لوگ ہیں جو گونگے اور بہرے ہیں سمجھ نہیں رکھتے دواب جمع ہے دابۃ کی، عربی لغت کے اعتبار سے دابہ مراد لیاجائے تو مطلب یہ ہے کہ زمین پر چلنے والی مخلوق میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ برے وہ لوگ ہیں جو نہ تو حق کو سنتے ہیں اور نہ حق بولتے ہیں اور ان کی انتہائی بری حالت یہ ہے کہ سمجھتے بھی نہیں۔ بہرا شخص بعض دفعہ کچھ اشارہ سے سمجھ تو لیتا ہے لیکن جس میں عقل ہی نہ ہو وہ تو کسی طرح سمجھتا ہی نہیں۔ یہ کافروں کی بد حالی ہے۔
اور اگر دابہ بمعنی چوپایہ لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اہل کفر چوپایوں کی طرح سے ہیں نہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ سورة فرقان میں فرمایا (اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰہَہٗ ھَوَاہُ اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًا اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ اِِنْ ھُمْ اِِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا) (اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے سو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں) پھر فرمایا (وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَھُمْ وَ لَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (اور اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ ان میں کوئی خیر ہے یعنی حق کی طلب ہے تو انہیں سنا دیتا) یعنی ایسے سننے کی توفیق دیتا جو سننا اعتقاد کے ساتھ ہو۔ اور یہ سننا ان کے لیے فائدہ مند بن جاتا اور چونکہ ان کو طلب حق نہیں ہے اس لیے اگر اللہ تعالیٰ ان کو سنائے تو رو گردانی کریں گے اور دوسری طرف رخ کر کے چل دیں گے۔ بات یہ ہے کہ جب طلب نہیں ہوتی تو کان میں پڑنے والی بات اثر نہیں کرتی اور ساری سنی ان سنی کے برابر ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ للرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کو بجا لاؤ جب اللہ کا رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندہ کرتی ہے) اس میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے اور فرمانبر داری کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یوں فرمایا کہ وہ تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف بلاتے ہیں جس میں تمہاری زندگی ہے اس سے حقیقی زندگی مراد ہے اور وہ ایمان و اعمال صالحہ والی زندگی ہے جس سے دنیاوی زندگی بھی زندگی بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی ابدالآباد کی زندگی نصیب ہوگی، کفر کے ساتھ زندگی کوئی زندگی نہیں، زندگی اپنے آقا و خالق ومالک کی وفا داری کا نام ہے جو اپنے رب سے غافل ہے وہ زندہ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مثل الذی یذکر ربہ و الذی لا یذکر مثل الحی و المیت (مشکوٰۃ المصابیح ص 196 از بخاری) (مثال اس شخص کی جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا مردہ اور زندہ کی سی مثال ہے) جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہے وہ مردہ ہے اور جو اس کی یاد میں لگے ہوئے ہیں وہ زندہ ہیں۔ حیات ابدی کے لیے ایمان ضروری ہے اور اعمال صالحہ سے ایمان میں نورانیت آجاتی ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ آخرت میں جو طرح طرح کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں گی ان میں اعمال صالحہ کو دخل ہوگا۔ اہل ایمان کی جنت والی زندگی کے بارے میں سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ ) (اور بیشک دار آخرت ہی زندگی ہے) اور اہل کفر کے بارے میں فرمایا (لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَ لَا یَحْیٰی) (کہ وہ اس میں نہ زندہ رہے گا اور نہ مرے گا۔ در حقیقت عذاب عظیم کے ساتھ جینا کوئی زندگی نہیں ہے۔ پھر فرمایا (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہٖ ) ( اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی کے اور اس کے دل کے درمیان) صاحب روح المعانی (ص 191 ج 9) نے اس کا ایک معنی یہ بتایا ہے کہ اس سے قرب مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کے قلب سے بھی زیادہ بندہ سے قریب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آیت شریفہ (وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) اور یہ آیت دونوں ہم معنی ہیں۔ پھر بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں کے قلوب اللہ کے قبضہء قدرت میں ہیں وہ جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ اس کے تصرف سے دلوں کے عزائم اور مقاصد بدل جاتے ہیں، وہ کسی کو رشد و ہدایت سے نوازتا ہے اور کسی کو صراط مستقیم سے ہٹا دیتا ہے۔ کسی کے امن کو خوف سے بدل دیتا ہے اور جو چیزیں یاد ہوں ان کو بھلا دیتا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ جو حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرماتے تھے یَا مُقَلِّبَ القُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ (اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) یہ سن کر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کثرت سے یہ دعا فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرما اے ام سلمہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کے قبضہء قدرت میں نہ ہو، جسے چاہے ہدایت پر قائم رکھے اور جسے چاہے ہٹا دے، صاحب روح المعانی نے اس حدیث کا حوالہ نہیں دیا۔ البتہ مفسر ابن کثیر ص 298 ج 2 نے بحوالہ مسند احمد یہ حدیث نقل کی ہے۔ اس حدیث کے ہم معنی حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے جسے صاحب مشکوٰۃ نے صفحہ 20 پر صحیح مسلم سے نقل کیا ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ اَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) اور بلاشبہ تم اسی کی طرح جمع کیے جاؤ گے اس میں یوم آخرت کے استحضار کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ آخرت کا استحضار تمام امور دینیہ اور دنیویہ کے درست ہونے کا ذریعہ بن جاتا اور آخرت سے غفلت ہی عموماً گناہوں اور خرابیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔
Ayah 8:25ایسے فتنہ سے بچو جو خاص کر گناہگاروں پر واقع نہ ہوگا
اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جو فتنہ یعنی عذاب اور و بال آتا ہے وہ صرف انہی لوگوں کو محدود نہیں رہتا جنہوں نے گناہ کیے بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دینے کی وجہ سے جب گناہ گاروں پر عذاب آتا ہے تو وہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ان گناہوں کے مرتکب نہیں جن کی وجہ سے عذاب آیا لیکن چونکہ ان لوگوں نے گناہوں سے روکنے کا فریضہ ادا نہیں کیا اور اپنی نیکیوں میں لگے رہے اور گناہگاروں کو گناہوں سے نہیں روکا اس لیے یہ لوگ بھی مبتلائے عذاب ہوتے ہیں۔ متعدد احادیث میں اس کی تصریح وارد ہوئی ہے۔
نھی عن المنکر چھوڑنے پر وعیدیں :
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی قوم میں اگر کوئی ایسا شخص ہو جو گناہوں کے کام کرتا ہو اور وہ لوگ روکنے پر قدرت رکھتے ہوئے اسے نہ روکتے ہوں تو ان لوگوں کی موت سے پہلے اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب بھیج دے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 437)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گناہوں میں پڑنے والوں اور گناہ ہوتے ہوئے دیکھنے والوں کی ایک مثال بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ایک کشتی ہے اس میں دو طبقے ہیں، قرعہ ڈال کر آپس میں طے کرلیا کہ کون لوگ اوپر کے حصہ میں جگہ لیں اور کون لوگ نیچے والے طبقہ میں بیٹھیں، جب اپنے اپنے حصوں میں بیٹھ گئے تو جو لوگ نیچے ہیں وہ پانی لینے کے لیے اوپر جاتے ہیں، اوپر والے لوگ ان کے آنے سے تکلیف محسوس کرتے ہیں (جب نیچے والوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ ہمارے آنے سے تکلیف محسوس کرتے ہیں تو) انہوں نے ایک کلھاڑا لیا اور کشتی میں نیچے سوراخ کرنے لگے اوپر والے آئے اور انہوں نے کہا کہ تم یہ کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں پانی کی ضرورت ہے اور ہم اوپر جاتے ہیں تو تمہیں تکلیف ہوتی ہے (لہٰذا ہم یہیں سے پانی لے لیں گے) تو اب اگر اوپر والے لوگ نیچے والوں کا ہاتھ پکڑ لیں گے (تاکہ سوراخ نہ کریں) تو ان کو بھی بچا لیں گے اور اپنی جان کو بھی بچا لیں گے۔ اور اگر ان کو اسی حال پر چھوڑ دیا تو ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور اپنی جانوں کو بھی ہلاک کردیں گے۔ (رواہ البخاری ص 339 ج 1۔ 369 ج 2)
معلوم ہوا کہ جہاں خود نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے وہاں اس کی بھی ضرورت ہے کہ گناہ کرنے والوں کو گناہ کرنے سے روکتے رہیں، اگر ایسا نہ کیا تو عذاب آنے کی صورت میں سبھی مبتلائے عذاب ہوں گے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ فلاں شہر کو اس کے رہنے والوں سمیٹ الٹ دو ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب بلاشبہ ان لوگوں میں آپ کا ایک ایسا بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک جھپکنے کے برابر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی (کیا اس کو بھی عذاب میں شامل کردیا جائے) ؟ اللہ کا ارشاد ہوا کہ اس شہر کو اس شخص پر اور بستی والوں پر الٹ دو ۔ کیونکہ میرے بارے میں اس کے چہرہ میں کبھی تغیر نہیں آیا 1 یعنی یہ شخص زبان اور ہاتھ سے تو لوگوں کو گناہوں سے کیا روکتا اس کے چہرہ پر گناہوں کو دیکھ کر ذرا سا بھی اثر نہ ہوا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دینے کی وجہ سے جب عذاب آتا ہے تو اس وقت دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے امر المعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے گا پھر اس سے دعا مانگو گے اور وہ قبول نہ فرمائے گا۔ (رواہ الترمذی)
بعض حضرات نے اس آیت تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں اس فتنہ کا ذکر ہے جو ترک جہاد کی وجہ سے عوام و خواص سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ دین اور شعائردین کی حفاظت اور عامۃ المسلمین کی حفاظت جہاد قائم رکھنے میں ہے مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے کہ جہاد کرتے ہی رہیں اگرچہ کافر حملہ آور نہ ہوں اور اگر حملہ آور ہوجائیں تو پھر کوئی گنجائش کسی کو جہاد سے پیچھے ہٹنے کی ہے ہی نہیں۔ جہاد کا سلسلہ جاری نہ رکھنے کی ہی وجہ سے دشمن کو آگے بڑھنے کی جرأت ہوتی ہے اور جب دشمن چڑھ آتے ہیں تو بچوں بوڑھوں اور عورتوں کی حفاظت کے لیے فکر مند ہونا پڑتا ہے۔ لہٰذا جہاد جاری رکھا جائے اور اس سے پہلو تہی نہ کریں ورنہ عوام و خواص مصیبت میں گھر جائیں گے۔
1 مشکوۃ المصابیح ص 438۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی قوم جہاد چھوڑ دے گی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے گا۔ (مجمع الزوائد ص 284 ج 5 عن الطبرانی فی الاوسط)
آخر میں فرمایا (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ) (اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب والا ہے) اس کا مراقبہ کریں اور گناہوں سے بچتے رہیں۔
Ayah 8:26مسلمانوں کو ایک بڑے انعام کی یاد دہانی
بدر میں جو اللہ جل شانہٗ نے اہل ایمان کی مدد فرمائی، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ واقعہ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کو شوکت اور عزت مزید حاصل ہوگئی اور پورے عرب پر دھاک بیٹھ گئی اور قریش مکہ (جو تجارت کے لیے ملک شام آیا جاتا کرتے تھے) کے واسطہ سے قیصر و کسریٰ کو بھی مسلمانوں کی اس فتح یابی کا علم ہوا اور انہیں بھی مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کا پتہ چل گیا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو جو کامیابی ہوئی اور مشرکین نے جو بری طرح شکست کھائی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے اس انعام کا احسان جتایا اور ان کی سابقہ کمزوری کو یاد دلایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اپنا وہ وقت یاد کرو جبکہ تم تھوڑے سے تھے ضعیف بھی تھے۔ مکہ کی سر زمین میں تمہاری کچھ بھی حیثیت نہیں تھی۔ تمہیں اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے اور کفار مکہ تمہیں ختم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا کہ تمہیں مدینہ منورہ میں ٹھکانا دیاجہاں رہنے کی جگہ بھی مل گئی اور دشمنوں سے حفاظت بھی ہوگئی۔ پھر جب مقام بدر میں دشمنوں سے مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوت دی اور مدد فرمائی اور تمہیں پاکیزہ چیزیں نصیب فرمائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے تمام حلال اور لذیذ چیزیں مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جو اموال بدر میں غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے تھے وہ مراد ہیں۔ آخر میں فرمایا (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (تاکہ شکر گزار بندے بنو) ۔
Ayah 8:27اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور آپس میں بھی خیانت کرنے سے باز رہو
درمنثور (ص 178 ج 3) میں حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان کی مکہ سے روانگی ہوئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو بتادیا کہ ابو سفیان فلاں فلاں جگہ پر ہے لہٰذا اس کی طرف نکل کھڑے ہوں اور اس بات کو پوشیدہ رکھیں لیکن بعض منافقین نے ابو سفیان کو بذریعہ خط اطلاع دے دی کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے قافلے پر حملہ آور ہونے کے لیے ارادہ کر رہے ہیں لہٰذا تم اپنی حفاظت کی فکر کرو۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور ایک روایت یوں ہے جو حضرت ابن شہاب زہری سے مروی ہے کہ بنو قریظہ (جو یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا) انہوں نے جب معاہدہ کی خلاف ورزی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا انہوں نے کہا کہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کریں وہ ہمیں منظور ہے۔ حضرت سعد نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں جو بالغ مرد ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ ان کے اس فیصلہ کا علم حضرت ابو لبابہ ؓ کو ہوگیا جو یہودیوں کے حلیف تھے انہوں نے یہودیوں کو اپنے گلے پر ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے یہ بتادیا کہ تمہارے بارے میں قتل کا فیصلہ ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ حضرت ابو لبابہ ؓ کو جب اپنی غلطی کا حساس ہوا تو سمجھ گئے کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے لہٰذا انہوں نے مسجد نبوی کے ایک ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا اور کہنے لگے کہ میں نہ کچھ چکھوں گا اور نہ پیوں گا حتیٰ کہ مرجاؤں یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کے لیے استغفار کردیتا۔ اب جو اس نے خود ایسا کرلیا ہے تو میں اس وقت چھوڑ سکتا ہوں جب اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے۔ سات دن تک انہوں نے کچھ نہ کھایا نہ پیا۔ یہاں تک کہ بیہوش ہو کر گرگئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور ان کو کھول دیا۔ (روح المعانی ص 190 ج 9)
آیت کا سبب نزول جو بھی ہو اس میں اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اس کا عموم ہر طرح کی خیانت کو شامل ہے اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا لا تخونوا اللہ بترک فرائضہ و الرسول بترک سنتہ یعنی فرائض کو چھوڑ کر اللہ کی خیانت نہ کرو اور سنتوں کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی خیانت نہ کرو۔ (درمنثور ص 178 ج 3)
معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت ہے اور جن چیزوں کو پوشیدہ رکھنے کا حکم فرمایا ہو ان کو ظاہر کردینا بھی خیانت میں شمار ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت کرنے کی ممانعت کے بعد فرمایا (وَلاَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ ) اور آپس میں اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو چونکہ امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور ہر طرح کی امانت میں خیانت کرنے کی ممانعت ہے اس لیے ہر خیانت سے نہایت اہتمام کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔ مالی خیانت کو تو سبھی جانتے ہیں مثلاً کوئی شخص امانت رکھ دے تو اس کو کھاجائے یا استعمال کرے یا کم کر دے یا دو شریک آپس میں خیانت کرلیں جو شخص قرض دے کر یا کسی بھی طرح اپنا مال دے کر بھول جائے اس کا حق رکھ لیں وغیرہ وغیرہ یہ سب خیانتیں ہیں اور ہر شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کس کا حق مارا ہے اور کس کی خیانت کی، فکر آخرت اور اللہ کا ڈر ہو تو انسان خیانت سے بچ سکتا ہے ورنہ دنیاوی نفع کو دیکھ کر بڑے بڑے دیانت داری کے دعویدار اس مسئلہ میں کچے پڑجاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے متعلقہ احکام میں دیانت دار ہے۔ چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤساء اور وزراء امانت دار ہیں۔ انہوں نے جو عہدے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں۔ کسی بھی معاملے میں عوام کی خیانت نہ کریں۔ اسی طرح سے بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی، پڑوسی، میاں بیوی، اور ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانت دار ہیں۔ جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گنہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا۔ مالیات کے علاوہ دیگر امور میں خیانت ہوتی ہے جن کا ذکر احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی تم امانتوں میں خیانت نہ کرو جبکہ تم خیانت کا برا انجام جانتے ہو اور تمہیں اس کے معصیت ہونے کا علم ہے۔
امانت اور خیانت کے بارے میں تفصیلی نصائح اور احکام ہم سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَھْلِھَا) کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں 1 اور ہم نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔
Ayah 8:28اموال اور اولاد فتنہ ہیں
یہ دو آیتیں ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ فتنہ امتحان کی چیز کو کہا جاتا ہے۔ مال اور اولاد کا فتنہ ہونا کئی وجوہ سے ہے۔ مال و اولاد کی مشغولیت اور محبوبیت صحیح طریقہ پر کام نہیں کرنے دیتی، جہاد کی شرکت سے باز رکھتی ہے۔ نماز بھی صحیح طریقہ سے پڑھنے نہیں دیتی، پوری زکوٰۃ ادا کرنے سے بھی نفس انکار کرتا ہے حج فرض ہوجاتا ہے تو برسوں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ حج فرض ہوتے ہوئے حج کیے بغیر مرجاتے ہیں اور دیگر فرائض و واجبات میں بھی دنیاوی مشاغل رکاوٹیں ڈالتے ہیں اللہ جل شانہٗ نے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں یہ آزمائش کی چیزیں ہیں، آزمائش میں پورے اترو، مال اور اولاد تمہارے امتحان میں فیل ہونے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔ آیت میں لفظ اموال کو اولاد سے پہلے لایا گیا ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے۔ کہ مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے بڑھ کر ہے۔ حضرت کعب بن عیاض نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ان لکل امۃ و فتنۃً امتی المال (بلاشبہ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے) ۔ 1
اول تو مال کمانے میں یہ دھیان کرنے کی ضرورت ہے کہ مال حلال ہو، حلال کمائی کے ذریعہ حاصل کیا ہو اور اس کے کمانے میں فرائض و واجبات کو ضائع نہ کیا ہو کمانے کے بعد اس کے خرچ کرنے کا مسئلہ ہے۔ خرچ کرنے کے بارے میں بھی شریعت کے احکام ہیں اور خلاف شرعی خرچ کرنے پر مواخذہ ہے، حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن بندہ کے قدم (حساب کی جگہ سے) نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ ہوجائے۔ 1۔ عمر کہاں فنا کی 2۔ جوانی کہاں گنوائی 3۔ مال کہاں سے کمایا 4۔ اور کہاں خرچ کیا 5۔ علم پر کیا عمل کیا۔ 2
معلوم ہوا کہ مال کے بارے میں دوہرا سوال ہوگا، دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اول تو کمانے ہی میں حلال حرام کا خیال نہیں ہوتا اور پھر خرچ کرنے میں بھی شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کی جاتی، اولاد کی محبت میں اور بیویوں کی فرمائش پوری کرنے کے لیے بہت سے حلال پیشے حرام راستے میں خرچ کردیتے ہیں پھر زیادہ مال کی طلب تو اور بھی زیادہ ناس کھو دیتی ہے، سود جوئے اور سٹہ بازی کے ذریعہ نیز رشوتیں دے کر اور رشوتیں لے کر، اور حرام چیزوں کا کارو بار کر کے اور اپنے شرکاء تجارت کی خیانت کر کے مزدوروں کا حق مار کر نمازیں برباد کر کے، اصحاب حقوق کے حقوق روک کر، مال جمع کیا جاتا ہے، ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اسے تو دنیا سے چلا جانا ہے یہ مال تو دوسروں کے قبضہ میں آئے گا میں دوسروں کے لیے اپنی آخرت کیوں خراب کروں ؟ لیکن بینک بیلنس کی فکر، نوٹوں کی گڈیوں کی محبت، اس چیز کو سوچنے نہیں دیتی۔ اولاد بھی فتنہ ہے، اولاد کی فرمائش پوری کرنے اور ان پر عمدہ مال خرچ کرنے اور ان کی شادیوں میں مال لگانے اور موت کے بعد ان کے لیے مال چھوڑنے اور ان کے لیے گھر در بنانے میں بہت سے گناہ ہوتے ہیں اور خلاف شرع بہت سے کام کیے جاتے ہیں۔
جو چیز امتحان کے لیے دی گئی تھی اس کی مشغولیت اور محبوبیت میں بہت سے گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ مومن بندوں کو ہمیشہ فکرمند رہنا چاہئے کہ کہیں اموال و اولاد کی محبت میں پڑ کر امتحان میں فیل نہ ہوجائیں۔ فیل ہونے پر جہاں عذاب کی وعیدیں ہیں وہاں امتحان میں کامیاب ہونے پر اجر عظیم کا وعدہ بھی ہے آیت کے اخیر میں اسی کو فرمایا (وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) (اور بلاشبہ اللہ کے نزدیک بڑا اجر ہے) ۔
Ayah 8:29تقویٰ پر انعام :
دوسری آیت میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ والی چیز عطا فرما دے گا اور گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور تمہاری بخشش فرما دے گا۔ ” فیصلہ والی چیز “ سے کیا مراد ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں۔ بعض حضرات
نے فرمایا ہے کہ اس سے ہدایت اور دلوں کا وہ نور مراد ہے جس کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرسکیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی مدد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کی ایسی مدد فرمائے گا جس کی وجہ سے مومنین کو عزت دے گا اور کافروں کو ذلیل کرے گا اور بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا غلبہ عطا فرمائے گا جس سے تمہارے دین کی شہرت ہوگی اور دنیا میں تمہاری کامیابی کے تذکرے ہوں گے۔ (راجع روح المعانی ص 196 ج 9) پھر کفارہ سیئات اور مغفرت ذنوب کا وعدہ فرمایا اور اخیر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) ۔
Ayah 8:30آپ ﷺ کے سفر ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ کے مشورے
اس آیت میں سفر ہجرت کا سبب اور ابتدائی واقعہ مذکور ہے معالم التنزیل (ص 243 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب مدینہ منورہ میں حضرات انصار نے اسلام قبول کرلیا تو قریش مکہ خائف ہوئے اور مشورے کے لیے دارالند وہ (پنچائیت گھر) میں جمع ہوئے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں غور کریں کہ اب آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ اس موقعہ پر ابلیس ملعون بھی ایک بڑے میاں کی صورت میں ظاہر ہوگیا۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ تو کون ہے کہنے لگا کہ میں شیخ نجدی ہوں۔ مجھے آپ لوگوں کے جمع ہونے کا پتہ چلا تو میں نے چاہا کہ تمہارے پاس حاضر ہوجاؤں اور اپنی خیر خواہانہ رائے سے تم لوگوں کو محروم نہ کروں، ان لوگوں نے اسے اپنے مشورے میں شریک کرلیا۔ مکہ والوں میں سے جو لوگ حاضر تھے ان میں سے ایک شخص ابو البختری بن ہشام بھی تھا۔ اس نے اپنی رائے ظاہر کی اور کہنے لگا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمد ﷺ کو کسی گھر میں محبوس کر کے دروازہ بند کر دو صرف تھوڑا سا روشن دان کھلا رہے جس میں سے دانہ پانی ڈالتے رہو اور اس کی موت کا انتظار کرو، جیسے اس سے پہلے دوسرے شعراء ہلاک ہوگئے یہ بھی ہلاک ہوجائے گا۔ یہ سنتے ہی شیخ نجدی ابلیس چیخ اٹھا اور اس نے کہا یہ تو بری رائے ہے۔ اگر اس پر عمل کرو گے تو اس کے ماننے والے میدان میں آجائیں گے اور تم سے جنگ کر کے تمہارے ہاتھوں سے چھڑا لیں گے۔ یہ سن کر سب کہنے لگے شیخ نجدی نے صحیح کہا یہ رائے مصلحت کے خلاف ہے۔ اس کے بعد ہشام بن عمرو نے رائے دی اور کہنے لگا کہ میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ اس شخص کو کسی اونٹ پر بٹھا کر اپنے درمیان سے نکال دو آگے کہاں جائے کیا بنے تمہیں کوئی نقصان نہ ہوگا۔ جب تمہارے یہاں سے چلا گیا تو تمہیں تو آرام مل ہی جائے گا، یہ سن کر ابلیس ملعون بولا کہ یہ رائے بھی صحیح نہیں تم اس شخص کو جانتے ہو تمہیں پتہ ہے کہ اس شخص کی گفتگو کتنی شیریں ہے اور زبان میں کتنی مٹھاس ہے۔ یہ بھی جانتے ہو کہ اس کی باتیں سن کرلو گ گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ کی قسم اگر تم نے اس رائے پر عمل کیا تو باہر جا کر بہت سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے حملہ آور ہوگا اور تمہیں وطن سے نکال دے گا۔ یہ سن کر اہل مجلس کہنے لگے کہ شیخ نجدی نے ٹھیک کہا۔
ابو جہل کا مشورہ اور شیطان کی تائید :
اس کے بعد ابو جہل بولا اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں ایک ایسی رائے دونگا کہ اس کے علاوہ کوئی رائے ہے ہی نہیں۔ میری سمجھ میں یوں آتا ہے کہ قریش کے جتنے قبیلے ہیں ہر قبیلے میں سے ایک ایک خوب تکڑا نوجوان لیا جائے اور ہر ایک کو تلوار دیدی جائے۔ پھر یہ نو جوانوں کی جماعت یکبارگی مل کر حملہ کر کے قتل کر دے۔ ایسا کرنے سے تمام قبیلوں پر ان کے خون کی ذمہ داری آجائے گی اور میرے خیال میں بنی ہاشم قصاص لینے کے لیے مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ لہٰذا دیت قبول کرلیں گے اور سارے قریش مل کر دیت ادا کردیں گے۔ یہ سن کر ابلیس بولا، اس جوان آدمی نے صحیح رائے دی ہے اور یہ شخص تم میں سب سے اچھی رائے رکھنے والا ہے۔ اس نے جو رائے دی ہے میری خیال میں بھی اس کے علاوہ کوئی رائے درست نہیں ہے۔ سب نے اسی پر اتفاق کرلیا اور مجلس سے اٹھ کر چلے گئے۔
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی آمد، اور آپ کا صحیح سالم سفر ہجرت کے لیے روانہ ہوجانا :
ادھر تو یہ لوگ متفرق ہوئے اور ادھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کے مشورہ سے باخبر کردیا اور عرض کیا کہ آپ جس گھر میں رات گزارا کرتے ہیں اس میں اس رات کو نہ رہیں ساتھ ہی انہوں نے مشرکین کے مشوروں سے آپ کو باخبر کردیا۔ آپ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو اپنی جگہ رات گزارنے کا حکم دیا اور یہ فرمایا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس کے بعد آپ سفر ہجرت کے لیے روانہ ہوگئے اور ایک مٹھی میں مٹی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینک دی جو ان کے سروں میں بھر گئی اور آپ (اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلًا فَھِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ ) پڑھتے ہوئے روانہ ہوگئے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے۔ دونوں حضرات راتوں رات غار ثور میں پہنچ گئے آپ نے حضرت علی ؓ کو اپنی جگہ چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ امانتیں ادا کریں جو آپ کے پاس رکھی رہتی تھیں (سچائی اور امانتداری ایسی ہی چیز ہے جو سچے اور امانتدار شخص کا لوہا خود منوا دیتی ہے، اہل مکہ آپ سے دشمنی بھی کرتے تھے، لیکن ساتھ ہی اپنی امانتیں رکھنے کے لیے آپ ہی کو منتخب کر رکھا تھا) ۔
مشرکین کی نا کامی :
جب آپ حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مکہ معظمہ سے تشریف لے گئے، تو مشرکین مکہ اس خیال سے کہ صبح اٹھ کر باہر تشریف لائیں گے، صبح ہوئی تو حضرت علی ؓ کو دیکھ کر حیران رہ گئے، ارادہ تھا کہ حملہ کریں لیکن جب دیکھا کہ جسے قتل کرنا تھا وہ موجود نہیں۔ لہٰذا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ تمہارے دوست کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے پتہ نہیں ؟ لہٰذا قدموں کے نشانوں پرچلتے رہے یہاں تک کہ غار ثور تک پہنچ گئے وہاں دیکھا کہ غار کے دروازہ پر مکڑی نے جالا بن رکھا ہے یہ دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئے اور کہنے لگے کہ اگر اس کے اندر گئے ہوتے تو مکڑی کا جالا غار کے دروازہ پر کیسے ہوتا ؟ آپ اس غار میں تین دن تک تشریف فرما رہے اس کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے آیت بالا میں جو (وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) فرمایا ہے اس میں اسی واقعہ کا بیان ہے۔ دشمن اپنی تدبیر میں فیل ہوئے اور اللہ کی تدبیر غالب آئی۔ (البدایہ والنہایہ از ص 175 تا ص 181)
Ayahs 8:31–33مشرکین کا عناد اور جھوٹا دعویٰ کہ ہم بھی قرآن جیسا کلام کہہ سکتے ہیں
قبیلہ بنی عبدالدار میں سے ایک شخص نضربن الحارث تھا یہ بھی رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ مشرکین مکہ قرآن مجید سنتے تھے اور اس کے مقابلہ میں کوئی ایک آیت لانے سے عاجز تھے۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے جب ان کو چیلنج دیا گیا کہ اس کے مقابلہ میں ایک سورت بنا کر لاؤ تو عاجز رہ گئے۔ لیکن نضر بن الحارث نے ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے “ کے طریقہ پر خفت مٹانے کے لیے یوں کہا کہ ” لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ۔ “ (اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام کہہ دیں) مطلب یہ تھا کہ یہ بات نہیں کہ ہم عاجز ہیں کہہ تو سکتے ہیں لیکن کہتے نہیں، ہمیں کوئی مجبوری نہیں ہے کہ مقابلہ کے لیے ہم اس جیسا کلام بنا کر لائیں اور مزید اس نے یہ بھی کہا (اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (اور یہ جو محمد ﷺ سناتے ہیں پہلے لوگوں کی باتیں ہیں جو ان کی لکھی ہوئی ملتی ہیں) ۔ اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کلام نہیں ہے پہلے لوگوں کی باتیں ہیں جو محمد ﷺ نے یاد کرلی ہیں، انہیں کو سناتے رہتے ہیں۔ نضر بن الحارث کے علاوہ بعض دوسرے لوگوں نے بھی ایسی بات کہی تھی۔ جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا۔ (حَتّآی اِذَا جَآءُوْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) ان لوگوں کی یہ بات شرارت اور عناد کی وجہ سے تھی، یہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ اُمی ہیں نہ پڑھنا جانتے ہیں اور نہ پہلے لوگوں کی کتابیں ان تک پہنچی ہیں۔ پھر بھی ایمان سے دور کفر پر جمے رہتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں۔
نضر بن حارث کا عذاب کے لیے دعا کرنا :
نضر بن حارث نے جب یوں کہا کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں سناتے ہیں تو حضرت عثمان بن مظعون ؓ نے اس سے کہا کہ تو اللہ سے ڈر ! محمد ﷺ حق فرماتے ہیں اس پر اس نے کہا کہ میں بھی حق کہتا ہوں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ محمد ﷺ تو لا الٰہ الا اللہ کہتے ہیں وہ کہنے لگا میں بھی لا الٰہ الا اللہ کہتا ہوں، لیکن یہ بت اللہ کی بیٹیاں ہیں (العیاذ باللہ) اس کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ ہم انہیں اللہ کی بیٹیاں مانتے ہیں اس لیے ہم بھی لا الٰہ الا اللہ کہتے ہیں وہ لا الٰہ الا اللہ کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔ پھر اس نے بار گاہ خداوندی میں یوں دعا کی کہ : ” اے اللہ اگر یہ دین جس کی دعوت محمد ﷺ دیتے ہیں حق ہے تیری طرف سے ہے تو اسے قبول نہ کرنے کی سزا میں ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا اور کوئی درد ناک عذاب بھیج دے “ اپنے خیال میں اس نے یہ بات ظاہر کرنے کے لیے کہی تھی کہ اگر دین محمد ﷺ حق ہوتا تو ہم پر پتھر برس جاتے اور عذاب نازل ہوجاتا جب یہ بات نہیں ہے تو ہم حق پر ہیں۔ اس طرح کی بات یہود نے بھی کہی تھی۔ سورة مجادلہ میں ان کا قول نقل فرمایا ہے۔ (لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ ) (جو باتیں ہم کرتے ہیں ان کی وجہ سے اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا) اور اس زمانہ میں بھی بہت سے فتنہ گر ایسی باتیں کرتے ہیں اہل حق کے مقابلہ میں آجاتے ہیں اور کہتے ہیں اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ عذاب آنا نہ آنا حق اور ناحق واضح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ دلائل قرآنیہ اور دلائل عقلیہ سے حق واضح ہوتا ہے اور انہیں میں تفکر اور تدبر کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں کہ جو عذاب بھیج کر فیصلہ فرمائے گو کبھی ایسا ہو بھی جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عذاب مانگنے والوں کی دعاء قبول فرما لیتا ہے۔ کبھی جلدی اور کبھی دیر سے عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ (سَاَلَ سَآءِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ لِّلْکٰفِرینَ ) نضر بن حارث کے سوال پر نازل ہوئی۔ حضرت عطا نے فرمایا کہ نضر بن الحارث کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور غزوۂ بدر میں اسے قتل کردیا گیا۔ (کذافی تفسیر الجلالین و حاشیتہٖ ص 473)
حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا کہ آیت بالا (اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ ) (الآیۃ) میں جو عذاب آنے کا سوال مذکور ہے یہ سوال ابو جہل نے کیا تھا۔ (چونکہ یہ سوال عمومی عذاب کا تھا اسی لیے عذاب نہیں آیا) اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اگلی آیت (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَ اَنْتَ فِیْھِمْ وَ مَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) نازل فرمائی (صحیح بخاری ص 670 ج 2) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر آپ کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی قانون ہے کہ جس بستی میں اللہ کا کوئی نبی موجود ہو اس پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں فرماتا جب تک مجرموں کے درمیان سے اپنے نبی کو نہ نکال لے۔ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوموں پر جب ہی عذاب آیا جبکہ یہ حضرات بستیوں سے باہر جا چکے تھے۔ خاتم الانبیاء جو رحمۃ للعالمین ﷺ تھے۔ آپ کسی بستی میں موجود ہوں اور وہاں عذاب آجائے یہ نہیں ہوسکتا تھا، مکہ مکرمہ میں آپ کا موجود ہونا عذاب آنے سے مانع تھا۔ جب آپ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اس کے دوسرے سال غزوۂ بدر میں ستر مشرکین مارے گئے جن میں ابو جہل بھی تھا اور نضربن الحارث بھی۔
حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد کہ استغفار سبب امان ہے :
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل مکہ کے لیے دو چیزیں امان کی تھیں۔ ایک نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اور دوسرے استغفار۔ جب آپ مکہ مکرمہ سے تشریف لے آئے تو ان کے پاس امان کی صرف ایک چیز رہ گئی۔ یعنی استغفار، لہٰذا اہل مکہ پر عمومی عذاب نہ آیا اور فتح مکہ کے دن چند افراد قتل کردیئے گئے۔ جو بہت زیادہ شریر تھے اور چند افراد کے علاوہ سب نے اسلام قبول کرلیا اور آئندہ کے لیے عذاب سے محفوظ ہوگئے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دو امانیں رکھی ہیں جب تک یہ دونوں ان کے درمیان میں رہیں گے (دونوں یا ایک) تو عذاب نہیں آئے گا۔ ایک امان تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لی یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اور دوسری امان ان کے اندر موجود ہے یعنی استغفار کرتے رہنا۔
حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ (معلوم ہوا کہ مختلف علاقوں میں جو عذاب آتے رہتے ہیں۔ وہاں استغفار نہ کرنے کو بھی دخل ہے) آیت بالا کی تفسیر میں جو ہم نے لکھا ہے تفسیر ابن کثیر ص 303 تا 305 ج 2 سے ماخوذ ہے۔
Ayahs 8:34–35مشرکین کی عبادت یہ تھی کہ بیت اللہ کے قریب سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے
گزشتہ آیت میں یہ بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے تشریف فرما ہوتے ہوئے اور اہل مکہ کے استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب کیوں نہ دے حالانکہ ان کی حرکتیں ایسی ہیں جو سزا کی مقتضی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور وہاں عبادت و طواف کرنے سے روک دیا پھر جب 6 ہجری میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو مسجد حرام تک نہ پہنچنے دیا اور عمرہ نہ کرنے دیا، ان کی حرکت اس قابل ہے کہ ان پر عذاب نازل کردیا جائے کفر اور کافرانہ حرکتوں کی وجہ سے یہ لوگ عذاب کے مستحق ہیں، مکہ معظمہ میں تو عمومی عذاب نہ آیا لیکن بدر میں سردار ان قریش مقتول ہوئے۔
علامہ بغوی (رح) نے معالم التنزیل (ص 246 ج 2) میں بعض حضرات کا قول نقل کیا ہے کہ (وَ مَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ ) سے عمومی عذاب مراد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سب ہی ایک ایک کر کے ہلاک نہ کیے جائیں گے اور (وَ مَا لَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ ) میں عذاب بالسیف مراد ہے یعنی ان کی حرکتوں کی وجہ سے وہ اہل ایمان کی تلوار کی زد میں آئیں گے اور مقتول ہوں گے اور ایک یہ قول نقل کیا ہے کہ پہلی آیت میں دنیوی عذاب کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔ دوسرے قول کے مطابق تفسیر کرنے سے (فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) کا ارتباط زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانُوْٓااَوْ لِیَآءَہٗ ) کہ یہ لوگ مسجد کے اولیاء یعنی اس کے متولی نہیں ہیں۔ کعبہ شریف داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے کعبہ اور مسجد حرام پر اہل شرک کو تسلط رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے پھر فرمایا (اِنَّ اَوْلِیَآؤُہٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ) کہ مسجد حرام کے متولی وہی ہیں جو اہل تقویٰ ہیں (جو کفر اور شرک سے بچتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ اس کی تولیت کا استحقاق اہل ایمان کو ہے جو بعد میں فتح مکہ کے دن متولی ہوگئے، اس دن کافروں کا تسلط ختم ہوا اور مشرکین کچھ مارے گئے اور بہت سے مسلمان ہوگئے (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) اور لیکن ان میں سے اکثر یہ بات نہیں جانتے کہ انہیں مسجد حرام کے متولی ہونے کا استحقاق نہیں ہے اور بعض جو اس بات کو جانتے ہیں وہ عناد پر تلے ہوئے ہیں۔ (کمافی الروح ص 203 ج 9)
اس کے بعد اہل مکہ کی عبادت کا تذکرہ فرمایا جس کو وہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اختیار کیے ہوئے تھے۔ اپنے خیال میں مسجد کے متولی بھی تھے اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہم عبادت کر کے تولیت کا حق ادا کر رہے ہیں اور ان کی عبادت یہ تھی کہ مسجد حرام میں سیٹیاں بجاتے تھے اور تالیاں پیٹتے تھے (جتنے بھی شیطانی دھندے ہوتے ہیں ان میں سیٹیاں، تالیاں، ڈھول، باجے ضرور ہی ہوتے ہیں) اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے مستحق عذاب ہوئے، آخرت میں تو ہر کافر کو عذاب ہونا ہی ہے، دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ اہل مکہ بھی اسلام قبول نہ کرنے سے عذاب میں مبتلا ہوئے جن میں ایک واقعہ بدر کی شکست اور ہزیمت کا بھی ہے۔ اہل مکہ کو زمانہء شرک میں جو یہ خیال تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی ہیں اور بحق تولیت ہمیں مسجد حرام سے روکنے کا اختیار ہے اس خیال کی تردید فرمائی کہ اہل کفر مسجد حرام کے متولی نہیں ہوسکتے۔ نیز وہ یوں سمجھتے تھے کہ ہم مسجد حرام کو آباد رکھتے ہیں اس میں عبادت کرتے ہیں اگر مسلمانوں کو اس میں عبادت کرنے سے روک دیا تو کیا ہوا ؟ ہم خود عبادت گزار ہیں۔ ان کی اس بات کی بھی تردید فرما دیا کہ تمہاری عبادت شیطانی دھندہ ہے۔ تالیاں پیٹنا، سیٹیاں بجانا یہ کہاں کی عبادت ہے ؟ اس سے تو مسجد حرام کی بےحرمتی ہوتی ہے۔
Ayah 8:36اللہ کی راہ سے روکنے والے مغلوب ہوں گے اور ان کے اخراجات حسرت کا باعث ہونگے
مفسر ابن کثیر (ص 307 ج 2) میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور جو زندہ رہ گئے وہ مکہ مکرمہ واپس پہنچے تو ابو سفیان کے گلے پڑگئے کہ ہم لوگ تیرے قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلے تھے تم لوگ تو صحیح سالم آگئے اور ہمارے آباء اور ہماری اولاد اور ہمارے بھائی بدر میں مقتول ہوگئے۔ لہٰذا تم لوگ مال سے ہماری مدد کرو تاکہ ہم دو بارہ جنگ کریں اور محمد ﷺ سے اپنا بدلہ لے لیں۔ چناچہ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں چندے دیئے اور مال خرچ کیے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت بالا ان کے اسی مال کے خرچ کرنے کے سلسلے میں نازل ہوئی۔
اور معالم التنزیل (ص 247 ج 2) میں لکھا ہے کہ یہ آیت ان مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر میں جاتے ہوئے اپنی جماعت پر منزل بہ منزل خرچ کرتے رہے اور اونٹ ذبح کر کے کھلاتے رہے۔ پھر حکم بن عینیہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوئی جس نے احد کے موقعہ پر مشرکین پر چالیس اوقیہ چاندی خرچ کی تھی (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا) ۔
مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ سبب نزول اگرچہ خاص ہے مگر مضمون عام ہے۔ جب کبھی بھی اہل کفر حق سے روکنے کے لیے اپنا مال خرچ کریں گے دنیا و آخرت میں نا کام ہوں گے اور ذلیل ہونگے اللہ تعالیٰ کا دین کامل ہوگا پھیلے گا پورا ہوگا۔ کافر اس کے بجھانے کے لیے مال خرچ کریں گے پھر نادم ہوں گے ان کو حسرت ہوگی کہ ہم نے اپنا مال خرچ کیا لیکن فائدہ مقصود حاصل نہ ہوا یہ لوگ دنیا میں مغلوب ہوں گے اور آخرت میں بھی دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayah 8:37لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ یہ یُحْشَرُوْنَ سے متعلق ہے مطلب یہ ہے کہ دوزخ میں اہل کفر کا داخلہ اس لیے ہوگا کہ پاک اور ناپاک یعنی مومن اور کافر میں اللہ تعالیٰ تمیز فرما دیں۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں اور اہل کفر اپنے کفر کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے۔
(وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ ) (تاکہ اللہ تعالیٰ خبیث کو بعض کو بعض کے ساتھ ملا دے اور اس کو اکٹھا کر کے دوزخ میں داخل فرما دے) دنیا میں تمام اہل کفر آپس میں ایک دوسرے کے مددگار تھے۔ اسلام کے خلاف اموال خرچ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے تھے آخرت میں بھی سب ایک جگہ جمع ہوجائیں گے۔ دنیا میں جو اسلام کی دشمنی کے لیے سوچتے اور خرچ کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دارالعذاب میں اکٹھے ہو کر اس کی سزا بھگتیں گے۔
Ayah 8:38کافروں کو اسلام کی ترغیب اور کفر پر جمے رہنے کی وعید
اس آیت میں ترغیب بھی ہے اور ترہیب بھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ کافروں سے فرما دیں کہ اب تک جو تم کفر پر جمے رہے اور اسلام کی دعوت کو روکنے کے لیے تدبیریں کرتے رہے اور اس بارے میں جنگ کرتے رہے ان سب سے اگر تائب ہوجاؤ یعنی اسلام قبول کر لوتو وہ سب کچھ معاف کردیا جائے گا جو اب تک گزر چکا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ بھی اسلام کے بڑے دشمنوں میں سے تھے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس شرط پر آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوتا ہوں کہ میری مغفرت کردی جائے آپ نے فرمایا اے عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان سب چیزوں کو ختم کردیتا ہے جو اس سے پہلے تھیں اور بلاشبہ ہجرت ان سب گناہوں کو ختم کردیتی ہے جو اس سے پہلے تھے اور بلاشبہ حج ان سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے جو اس سے پہلے تھے۔ (رواہ مسلم ص 76 ج 1)
شراح حدیث نے لکھا ہے کہ ہجرت اور حج سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور حقوق العباد معاف نہیں ہوتے، یہ بات دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ کرم ہے کہ کوئی شخص کیسا ہی دشمن اسلام ہو جب بھی اسلام قبول کرے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
پھر فرمایا (وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ ) اور اگر کافر اپنے کفر پر جمے رہے تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ پہلے لوگوں کو انکار اور عناد کی وجہ سے جو سزائیں ملی ہیں مقتول اور مغلوب ہوئے ہیں وہی سزائیں ان کو بھی ملیں گی اور آخرت کا عذاب دائمی تو ہر کافر کے لیے بہر حال ہے ہی، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ فِیْ نَصْرِ اللّٰہِ اَنْبِیَآءِہٖ وَ اَوْلِیَاءِ ہٖ وَ اِھْلَاکِ اَعْدَاءِہٖ (ماضی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کا اصول واضح ہوچکا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ تکوینی قانون چلا آ رہا ہے کہ اپنے انبیاء و اولیاء کی مدد فرمائی اور اپنے دشمنوں کو ہلاک فرمایا۔ اگر تم کفر سے باز نہ آئے تو اسی تکوینی قانون کے مطابق تمہارا بھی انجام ہوگا۔