Ayah 8:39کافروں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ کافروں سے یہاں تک لڑو کہ فتنہ یعنی کفر و شرک باقی نہ رہے اور سارادین اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔ یعنی اہل کفر اسلام قبول کرلیں اور موحد ہوجائیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے کفار عرب مراد ہیں۔ چونکہ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ کفار عرب سے یہاں تک جنگ کرو کہ جزیرۃ العرب میں کفر نہ رہے۔ پورا جزیرہ اسلام کا گہوارہ ہوجائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ برابر کافروں سے لڑتے رہو وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہاں تک کہ اسلام کا غلبہ ہوجائے۔ غلبہ کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اسلام قبول کرلیں اور دوم یہ کہ جزیہ دینا منظور کرلیں۔
حضرات صحابہ ؓ تو برابر جہاد کرتے رہے۔ ان کے بعد بھی بہت سے امراء اور ملوک نے جہاد جاری رکھا۔ دور حاضر کے مسلمانوں نے جہاد شرعی چھوڑ دیا تو اب خود مقہور اور مغلوب ہو رہے ہیں آیت کے ختم پر فرمایا (فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (اگر کافر لوگ اپنے کفر سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو اللہ ان کاموں کو دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں) تمہیں شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں یہ خیال کر کے کہ ممکن ہے انہوں نے دھوکہ دینے کے لیے اسلام قبول کیا ہو پھر بھی قتل کرتے چلے جاؤ ایسا نہ کرنا، تم ظاہر کے مکلف ہو قلوب کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اگر وہ دھوکہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ ان سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنی جہینہ کی طرف ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ جنگ کے موقعہ پر جب حضرت اسامہ ؓ کافروں میں سے ایک آدمی کو قتل کرنے لگے تو اس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا۔ اس کے باوجود انہوں نے اسے قتل کردیا جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو واقعہ عرض کردیا۔ آپ نے فرمایا اقتلتہ و قد شھد ان لا الٰہ الا اللہ کیا تو نے اس کے باوجود اسے قتل کردیا کہ اس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا۔ حضرت اسامہ نے عرض کیا انما فعل ذلک تعوذا کہ اس نے جان بچانے کے لیے ایسا کیا۔ آپ نے فرمایا : فھلا شققت عن قلبہ سو تو نے اس کے دل کو چیر کر کیوں نہ دیکھا۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب کسی نے اسلام کا کلمہ پڑھ لیا تو ہمیں اسے مسلمان مان لینا چاہئے۔ ہم دلوں کا حال نہیں جانتے۔ دلوں کو چیر کر نہیں دیکھ سکتے پھر کسی کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھا۔ ہمارا کام ظاہر سے متعلق ہے دلوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ اگر کافر لوگ دھوکہ دے کر کوئی شر یا ضرر پہنچانا چاہیں گے تو ان سے اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے گا۔ وہ تو ظاہر اور باطن سب ہی کو جانتا ہے۔ (قال ابن کثیر ص 309 ج 2) قولہ فان انتھوا بقتالکم عما ھم فیہ من الکفر فکفوا عنھم فان لم تعلموا بواطنھم فان اللہ بما یعلمون بصیر ثم ذکر قصۃ اسامۃ بن زید الذی ذکر ناھا و ھی مرویۃ فی الصحیحین وغیرھما (علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد فان انتھوا کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے کافر ہونے کے باو جود تم سے قتال کرنے سے رک جائیں تو تم بھی ان سے قتال سے باز آؤ۔ اگر تم ان کے باطن کو نہیں جانتے پس اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ پھر علامہ ابن کثیر نے حضرت اسامۃ بن زید والا یہ قصہ ذکر کیا جو ہم نے ابھی بیان کیا ہے اور یہ قصہ صحیحین وغیرہ میں مروی ہے) ۔
Ayah 8:40دوسری آیت میں فرمایا (وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰکُمْ ) کہ کافر اگر روگردانی کریں اسلام قبول نہ کریں اور تمہاری مخالفت اور محاربت پر کمر باندھے رہیں تو ان سے لڑتے رہو اور بزدل نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا مولیٰ ہے تمہاری مدد فرمائے گا۔ (نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ) وہ اچھا مولیٰ اور اچھا مددگار ہے۔ جب اس کی مدد شامل حال ہوگی تو تمہارے لیے بزدل بننے اور جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنے کا کوئی موقع نہیں۔
Ayah 8:41اموال غنیمت کے مستحقین کا بیان
کافروں سے جب جہاد کیا جاتا ہے تو ان کے اموال بھی قبضہ میں آجاتے ہیں ان اموال کو شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں مال غنیمت کہا جاتا ہے۔ سابقہ امتوں کے مسلمان جب کافروں سے جہاد کرتے تھے اور ان کے اموال قابو میں آجاتے تھے تو ان اموال کو آپس میں تقسیم کرلینے کا شرعی قانون نہیں تھا بلکہ آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی جو غنیمت کے اموال کو جلا کر خاکستر کردیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے امت محمدیہ پر کرم فرمایا اور رحم فرمایا کہ انہیں اموال غنیمت آپس میں تقسیم کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ قال النبی ﷺ فلم یحل الغنائم لاحد من قبلنا ذلک بان اللہ رای ضعفنا وعجزنا فطیبھا لنا۔ (رواہ مسلم ص 85 ج 2) (حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم سے پہلے کسی کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا (ہمارے لیے حلال) اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور ہماری درماندگی کو دیکھا تو ہمارے لیے مال غنیمت حلال کردیا) ۔
کافروں کا جو مال جنگ میں حاصل کرلیا جائے اس کی تقسیم کے بارے میں شریعت اسلامیہ میں جو احکام ہیں ان میں سے ایک حکم اس آیت میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ کل مال غنیمت میں سے اولاً پانچواں حصہ علیحدہ کرلیا جائے اور اس کے بعد باقی چار حصے مجاہدوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ یہ پانچواں حصہ کس پر خرچ ہوگا اس کے بارے میں فرمایا۔
(فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ للرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ذکر تبرکاً ہے۔ اس خمس کے مستحقین وہ لوگ ہیں جو بعد میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا محتاج نہیں لیکن چونکہ اس نے قانون کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ سے شروع فرمایا۔ اس کے بعد اس پانچویں حصہ کے مستحقین بیان فرمائے۔ (وَ لِرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ )
یعنی مال غنیمت کے اس پانچویں حصہ کا مصرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے اور آپ کے رشتہ دار اور یتیم ہیں اور مسکین ہیں اور مسافر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کا حصہ ساقط ہوگیا۔ اب رہے آپ کے ذوی القربیٰ یعنی رشتہ دار تو ان کا حصہ بھی صرف آپ ہی کی موجودگی تک تھا۔
اب آپ کی رشتہ داری کے عنوان سے ان حضرات کا حصہ مستقل نہیں رہا۔ اس لیے آپ کی رشتہ داری کے عنوان سے ان حضرات کو کچھ نہیں ملے گا البتہ بعد میں جو تین مصرف ذکر کیے گئے ہیں یعنی یتامیٰ اور مساکین اور ابن السبیل کے ذیل میں ان حضرات کو بھی مل جائے گا بلکہ ان کو دوسرے یتامیٰ اور مساکین پر ترجیح دی جائے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ اب مال غنیمت سے جو خمس نکالا جائے گا وہ امیر المومنین اپنی صوابدید کے مطابق یتامیٰ اور مساکین اور مسافرین پر خرچ کرے گا۔ اغنیاء ذوی القربیٰ کو نہیں دیا جائے گا۔ ان میں جو فقراء یا یتامیٰ یا ابن السبیل ہوں گے ان پر بھی خرچ کیا جائے گا۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر ہر یتیم اور ہر ہر مسکین اور ہر ہر مسافر کو میراث کی طرح حصہ پہنچایا جائے بلکہ امیر المومنین اپنی صوابدید سے ان مصارف میں خرچ کرے۔ ذوی القربیٰ کے بارے میں یہاں جو مسئلہ لکھا گیا یہ فقہاء حنفیہ کی تحقیق کے مطابق ہے۔
خمس کے مصارف بیان فرمانے کے بعد فرمایا : (اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰہِ وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ) یعنی اگر تمہارا اللہ پر ایمان ہے اور اس پر بھی ایمان ہے کہ فیصلہ کے دن جو تمہاری جیت ہوئی وہ ہماری امداد غیبی کی وجہ سے ہوئی تو بلا تردد اور بلاتأمل مال غنیمت کے پانچویں حصہ کو مصارف مذکورہ میں خرچ کرو۔ تمہیں اس پانچویں حصہ کا نکالنا نا گوار نہ ہونا چاہئے۔ یہ ساری غنیمت اللہ کی امداد غیبی سے حاصل ہوئی۔ لہٰذا خوش دلی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو۔ یہ خمس نکالنا نفسوں پر شاق نہ ہونا چاہئے۔
یوم الفرقان :
یوم بدر کو یوم الفرقان یعنی فیصلہ کا دن فرمایا اور یہ اس لیے کہ بدر میں اہل ایمان اور اہل کفر کا مقابلہ ہوا تو مومنین کی تعداد کافروں کے مقابلے میں بہت کم ہونے کے باو جود کافروں کو شکست فاش ہوئی اور کھل کر بات سامنے آگئی کہ دین اسلام حق ہے کفر باطل ہے اور یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
بہت سے عرب قبائل اس سے پہلے اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا تھے اور یہ مشورے کیا کرتے تھے کہ دیکھو مکہ والوں کے ساتھ اہل اسلام کا کیا معاملہ ہوتا ہے اور انجام کار کس کی طرف ہوگا اہل اسلام غالب ہوتے ہیں یا مشرکین مکہ ہی غالب رہتے ہیں۔ غزوۂ بدر کی فتح یابی دیکھ کر ایسے لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں اور ان کی سمجھ میں آگیا کہ واقعی مشرکین کا عناد اور کفر و شرک پر جمنا باطل چیز ہے فسبحان من اعلی کلمتہ و نصر حزبہ وھزم الاحزاب وحدہ۔ (پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے کلمہ کو بلند کیا اور اپنی جماعت کی مدد کی اور اسی اکیلے نے لشکروں کو شکست دیدی) ۔
آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) جس میں یہ بتادیا کہ تمہیں جو کچھ فتح حاصل ہوئی اور مال غنیمت حاصل ہوا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوا اگر تمہیں کچھ بھی نہ دیا جاتا تب بھی راضی رہنا تھا اب جبکہ زیادہ تمہیں دے دیا یعنی 5؍4 حصے تمہیں مل گئے اور 5؍1 دوسرے مصارف میں خرچ کرنے کا حکم دیا تب تو بطریق اولیٰ نفسوں کی خوشی کے ساتھ راضی ہونا چاہئے۔ پھر یہ مصارف کون ہیں اپنے ہی اندر کے لوگ ہیں۔ یتامیٰ ، مساکین اور مسافرین تمہاری اپنی جماعت کے ہیں۔ یہ مال اور کہیں نہیں گیا تمہارے اپنوں ہی میں خرچ ہوا اس اعتبار سے بھی یہ اموال تم ہی کو مل گئے۔
Ayahs 8:42–44بدر میں محاذ جنگ کا نقشہ اور اللہ تعالیٰ کی مدد
ان آیات میں اول تو غزوۂ بدر کے محاذ جنگ کا نقشہ بتایا ہے پھر اپنے انعامات ذکر فرمائے ہیں جو غزوۂ بدر کے دن مسلمانوں کے فتح یاب ہونے کا ذریعہ بنے۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ نے مقام بدر میں پہنچ کر ایسی جگہ پر قیام کیا تھا جو مدینہ سے دور ہے اور وہ لوگ ایسی جگہ لے چکے تھے جو بظاہر محاذ جنگ کے لیے زیادہ مناسب تھی جب مسلمان پہنچے تو ان کو نیچے والی جگہ ملی یہ جگہ ریتلی تھی اور مدینہ سے قریب تھی اور تیسری جماعت یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ وہ اس جگہ سے نیچے کی طرف تھا۔ کیونکہ یہ لوگ ساحل سمندر پر چل رہے تھے جو مقام بدر سے تین میل دور تھا۔ پہلے سے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان آپس میں جنگ کرنے کا نہ خیال تھا اور نہ کوئی اس کا وقت مقرر تھا۔ مسلمان ابو سفیان کے قافلے کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے تھے اور شدہ شدہ بدر تک پہنچے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے سے فیصلہ تھا کہ ایمان اور اہل ایمان بلند ہوں اور فتح یاب ہوں اور کفر اور کافر نیچا دیکھیں اور شکست کھائیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی تدبیر فرمائی کہ دونوں جماعتیں پیشگی بات چیت کے بغیر جمع ہوگئیں اور ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ سرور دو عالم ﷺ نے خواب دیکھا کہ مشرکین کی تعداد کم ہے۔ جب یہ بات حضرات صحابہ ؓ کے سامنے آئی تو ان کا حوصلہ بلند ہوگیا اور جنگ کرنے کے لیے دل سے آمادہ ہوگئے۔ اگر ان کی تعداد زیادہ دکھائی جاتی تو مسلمانوں میں بزدلی آجاتی اور آپس میں اختلاف کرتے کہ جنگ کے لیے آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مسلمانوں کے حوصلے بلند فرما دیئے اور بزدلی اور کم ہمتی سے بچا لیا اور باہمی اختلاف سے محفوظ رکھا۔ اسی کو فرمایا۔ (وَ لَوْ اَرٰیکَھُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ) اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب کے دلوں کا حال معلوم ہے کس کو اللہ سے محبت ہے اور کس کا رخ آخرت کی طرف ہے اور کون دنیا کا طالب ہے اور کون بزدل ہے اور کون دل اور ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مزید یہ کرم فرمایا کہ جب مقابلہ کا قوت آیا اور مڈ بھیڑ ہوگئی تو مسلمانوں کی آنکھوں میں کافروں کو اور کافروں کی آنکھوں میں مسلمانوں کو کم تعداد میں دکھایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان شجاعت اور بےجگری سے لڑے اور کفار بھی یہ سمجھ کر لڑے کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں ان کو ختم کرنا آسان ہے پھر انجام یہ ہوا کہ کافر مغلوب ہوئے اور شکست کھائی اور مسلمان غالب ہوئے اور فتح پائی اور اللہ تعالیٰ کا جو فیصلہ مقرر اور مقدر تھا اسی کے مطابق ہو کر رہا۔ معالم التنزیل (ص 253 ج 2) میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بدر کے دن مشرکین کی تعداد ہماری آنکھوں میں اس قدر کم ہوگئی تھی کہ میں نے ایک ساتھی سے پوچھا جو میرے پہلو میں تھا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ لوگ ستر تو ہوں گے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں سو ہیں۔ اس کے بعد ہم نے مشرکین میں سے ایک شخص کو قید کرلیا اور اس سے پوچھا تمہاری کتنی تعداد ہے تو اس نے کہا کہ ایک ہزار کی نفری ہے۔
یہ جو فرمایا (لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ ) اس میں یہ بیان کیا کہ واقعہ بدر میں دین اسلام کی کھلی اور واضح حقانیت ظاہر ہوگئی اور کفر و شرک کے باطل ہونے کا خوب واضح طریقہ پر لوگوں کو علم ہوگیا۔ اب بھی جو شخص ہلاک ہوگا یعنی کفر پر جما رہے گا وہ حجت تمام ہونے کے بعد اس کو اختیار کرے گا اور جو شخص ایمان پر پختگی کے ساتھ جما رہے گا۔ وہ بھی حجت کے ساتھ دین حق پر رہے گا۔ ہلاکت سے کفر پر باقی رہنا اور حیات سے اسلام پر جما رہنا اور اسلام قبول کرنا مراد ہے۔ حق واضح ہوجانے کے بعد ہر طرح کی غلط فہمی کا احتمال ختم ہوگیا، اب کافر دیکھتی آنکھوں دہکتی آگ میں جائے گا اور خود اپنی ہلاکت کے راستہ کو اختیار کرے گا اور جو شخص اسلام پر جمے گا اور اسی طرح جو کافر اسلام قبول کرے گا وہ بھی دلیل و حجت کے ساتھ دین حق پر مستقیم ہوگا۔
فائدہ : سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں بھی غزوۂ بدر کا ذکر ہے۔ وہاں (یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْھِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ) فرمایا ہے اس کا ترجمہ اور تفسیر وہیں دیکھ لیں۔ (انوار البیان ج 1)
Ayah 8:45دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر مقابلہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو
ان آیات میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کبھی کسی جماعت سے تمہارے مڈ بھیڑ ہوجائے یعنی جنگ اور لڑائی کی نوبت آجائے تو ثابت قدمی کے ساتھ جم کر مقابلہ کرو حضرت عبداللہ بن اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دشمن سے مڈ بھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو پھر جب مڈ بھیڑ ہوجائے تو جم کر لڑو۔ اتنا مضمون صحیح بخاری ص 424 ج 2 میں ہے۔ مسند دارمی ص 135 ج 2 میں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی ہے اس میں یوں ہے کہ دشمن سے مقابلہ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو، سو جب تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ سو اگر دشمن چیخیں، چلائیں تو تم خاموشی اختیار کرو۔
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سوال تو عافیت ہی کا کرتے رہیں اور جب دشمنان دین سے لڑنے کا موقعہ آجائے تو کمزوری نہ دکھائیں ثابت قدم رہیں جم کر لڑیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کریں اور قتال کے آداب میں سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ خاموشی سے لڑیں۔ شور و شغب سے بچیں۔ حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین مواقع میں اللہ تعالیٰ کی خاموشی محبوب ہے۔ تلاوت قرآن کے وقت اور قتال کے وقت اور جس وقت جنازہ حاضر ہو۔ (ذکرہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ ص 316 ج 2)
خوب مضبوطی اور جماؤ کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا (وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا) اور اللہ کو خوب زیادہ یاد کرو۔ یوں تو اللہ کا ذکر ہر وقت ہونا چاہئے لیکن خاص کر جنگ کے موقعہ میں اس کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، مدد مانگنا، تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا یہ سب اللہ کا ذکر ہے۔ مومن بندہ لڑتا ہی اللہ کے لیے ہے۔ اس کا مرنا اور جینا اللہ کے لیے ہے۔ پھر جنگ کے وقت اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا تو کوئی موقعہ ہی نہیں۔ اس موقعہ پر ذکر کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ بظاہر جنگ کی طرف پوری مشغولیت ہو اور باطن اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو اور زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو یہ مومن کی خاص شان ہے۔ حضرت سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ نماز، روزے اور ذکر ان سب کا ثواب فی سبیل اللہ (عزوجل) مال خرچ کرنے کی بہ نسبت سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے (رواہ ابو داؤد ص 258 ج 2) اور ذکر کا ثواب اس سے سات سو گنا زیادہ ہے۔ نیز سہل بن معاذ اپنے والد سے یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فی سبیل اللہ ایک ہزار آیات پڑھ لیں اللہ تعالیٰ اسے انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ لکھ دے گا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک و قال صحیح الاسناد کمافی الترغیب ص 267 ج 2)
پھر فرمایا (لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) جم کر لڑیں گے ثابت قدم رہیں گے۔ اللہ کا ذکر کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوگی۔
Ayah 8:46آپس میں جھگڑنے سے ہوا خیزی ہوجاتی ہے :
پھر فرمایا (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) (اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی) (وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ ) (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا خیزی ہوجائے گی) ۔
اور آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے ساکھ ختم ہوجاتی ہے اور مسلمانوں کے با ہمی اختلاف اور انتشار کو دیکھ کر دشمن بےخوف ہوجاتے ہیں اور ان کے دلوں سے مسلمانوں کی ہیبت جاتی رہتی ہے۔ باہمی اختلاف ضعف کا سبب ہے۔ قلوب مجتمع نہ رہیں تو اجسام بھی اتحاد اور اعتماد کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ کافروں کو شکست دینے کی بہت سی تدبیریں ہیں (مثلاً جنگی مشقیں اور اسلحہ کی فراہمی وغیرہ) ان سب سے بڑھ کر باہمی اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ ثابت قدمی بھی جب ہی حاصل ہوتی ہے جب آپس میں انتشار نہ ہو۔ آخر میں فرمایا (وَ اصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) (اور صبر کرو بلاشبہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے) ۔
اہل ایمان کے لیے صبر بہت بڑی چیز ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہوگی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہو۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، خانگی حالات ہوں یا دوسرے معاملات ہر حال میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نا گوار چیزوں کو برداشت کرلینا بڑے اجر وثواب کا اور دنیاوی حالات میں اور اپنوں اور پرایوں کے معاملات میں کامیابی کے ساتھ گزرتے ہوئے چلے جانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، آپس کے نزاع سے بچنے کا حکم دینے کے بعد ساتھ ہی صبر کا حکم دینے میں اس بات کی طرف رہنمائی ہے کہ آپس کا اتحاد صبر اختیار کرنے سے باقی رہ سکتا ہے۔ جب کچھ آدمی آپس میں مل کر رہتے ہوں خواہ ایک ہی گھر کے افراد ہوں۔ آپس میں کچھ نہ کچھ ایک دوسرے کی جانب سے قول یا فعل کے اعتبار سے نا گواری پیش آجاتی ہے ایک جماعت جہاد کے لیے نکلے یا نکلنے کا ارادہ کرے تو باہمی مشوروں میں اختلاف رائے ہونے کا امکان رہتا ہے بلکہ اختلاف واقع ہوجاتا ہے۔ طبائع بھی مختلف ہوتی ہیں۔ جب تک برداشت نہ ہو اتحاد قائم نہیں رہ سکتا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ کرنے بیٹھیں تو اپنی اپنی رائے دے کر فارغ ہوجائیں۔ کوئی شخص اپنی رائے پر اصرار نہ کرے، اگر اصرار کرنے لگیں تو وہیں لڑائی ہوجائے گی اور مشورے کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ ایک کی رائے دوسرے کے خلاف ہو تو صبر کرے اور پھر جو امیر کسی کی رائے یا اپنی رائے کو ترجیح دیدے تو اپنی رائے کے مخالف ہونے کی وجہ سے دلگیر نہ ہو بلکہ صبر کرے۔ حتیٰ کہ اگر کسی کی رائے کے خلاف اختیار کرلینے سے کوئی نقصان پہنچ جائے تب بھی امیر کو طعنہ نہ دے کہ دیکھا ہم نے کیا کہا تھا ؟ اتحاد کے لیے بڑے صبر اور ثبات کی ضرورت ہوتی ہے ناگواریوں کو بشاشت کے ساتھ قبول اور برداشت کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو ان کے عہدہ سے معزول کردیا تو انہوں نے بشاشت سے قبول کرلیا اور کوئی محاذ آرائی نہیں کی۔ لہٰذا مسلمانوں کا شیرازہ بندھا رہا، اگر وہ چاہتے محاذ بنا لیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور حسب سابق جہاد کے کاموں میں مشغول رہے۔
در حقیقت اصل اطاعت وہی ہے جو طبعی نا گواری کے ساتھ ہو۔ اگر ہر شخص یوں چاہے کہ ہمیشہ میری چلے تو کبھی بھی اجتماع نہیں ہوسکتا۔ انتشار ہی رہے گا اور اس سے ہوا خیزی ہوگی۔
Ayah 8:47ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اکڑتے مکڑتے ریا کاری کے لیے نکلے
پھر فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْاکَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّ رِءَآء النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لیے نکلے) جو لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان میں اکڑ مکڑ اور اترانے اور فخر کرنے کا مرض ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کی وجہ سے نیچا دیکھتے ہیں۔ علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص 254 ج 2 میں لکھتے ہیں کہ آیت بالا مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو فخر اور تکبر کے انداز میں چلے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! یہ لوگ اپنے تکبر اور فخر کے ساتھ آتے ہیں آپ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے رسول کو جھٹلاتے ہیں۔ آپ نے جو مدد کا وعدہ فرمایا ہے اس کے مطابق مدد فرمائیے۔ ابو سفیان تو اپنا قافلہ لے کر بچ نکلا جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے قریش کو رائے دی کہ اب آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں واپس ہونا چاہئے اس پر ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم ہم جب تک بدر نہ پہنچ جائیں واپس نہ ہوں گے وہاں تین دن قیام کریں گے اونٹ ذبح کریں گے کھانے کھلائیں گے۔ شرابیں پلائیں گے اور گانے والیاں ہمارے پاس گانے گائیں گی اور عرب میں ہماری شہرت ہوجائے گی پھر وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ بات تو بڑی کہی تھی لیکن قریش کے تکبر اور فخر کا نتیجہ یہ ہوا کہ شرابوں کی جگہ موت کے پیالے پئے اور گانے والی عورتوں کی بجائے نوحہ کرنے والی عورتوں نے ان پر نوحہ کیا، اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو منع فرمایا کہ تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا اور مومن کو حکم دیا کہ نیت خالص اللہ کی رضا کی رکھیں اور دین کی مدد اور نبی اکرم ﷺ کی تائید میں لگے رہیں۔ 1 ھ
اگر لشکر زیادہ ہو تب بھی اترانا اور شہرت کے لیے جنگ کرنا اور اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنا لے بیٹھتا ہے اور شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ غزوۂ حنین میں ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کو اولاً شکست ہوگئی کیونکہ انہیں اپنی کثرت پر گھمنڈ ہوگیا تھا۔ کما قال تعالیٰ (اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا) (الآیۃ) نماز ہو یا جہاد یا انفاق مال یا کوئی بھی نیک عمل ہو اس کا ثواب اسی وقت ملتا ہے جبکہ اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ مال غنیمت ملے اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی شہرت ہو اور ایک شخص اس لیے جنگ کرتا ہے کہ اس کی بہادری کا چرچا ہو تو ارشاد فرمائیے ان میں اللہ کی راہ میں کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس لیے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 331 از بخاری و مسلم)
اکڑ مکڑ، اپنی ذات اور جماعت پر بھروسہ یہ سب اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔ اس سے اخلاص جاتا رہتا ہے جو لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں ان میں تواضع ہوتی ہے اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے اللہ ہی کے لیے لڑتے ہیں اور اسی کے لیے مرتے ہیں عین قتال کے موقع پر کافروں کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے ظاہری طور پر اکڑ مکڑ دکھانا بھی اللہ کو محبوب ہے۔ دل میں تواضع اور اللہ پر بھروسہ اور ظاہر میں کافروں کو جلانے کے لیے اتراتے ہوئے کافروں کے مقابلہ میں آنا یہ محبوب و مرغوب ہے۔ فی الحدیث فاما الخلاء التی یحب اللہ فاختیال الرجل عند القتال و اختیالہ عند الصدقۃ (کمافی المشکوٰۃ ص 287) حدیث میں ہے وہ اترانے والے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ قاتل کے وقت کا اترانا ہے اور صدقہ کے وقت کا اترانا (یعنی صدقہ دل کی خوشی سے اور استغفار سے دے) ۔
مشرکین کا تذکرہ فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا (وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) کہ وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، قریش مکہ خود بھی اسلام قبول نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے تھے۔ اگر اسلام قبول کرلیتے تو جنگ کا موقعہ ہی نہ آتا لیکن ان کی شرارت نفس نے ان کو یہاں پہنچایا کہ بدر میں آکر مقتول ہوئے۔
(وَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ) (اور اللہ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے لہٰذا وہ ان کو ان کی سزا دے گا) ۔
Ayah 8:48مشرکین کو شیطان کا جنگ کے لیے پھسلانا پھر بدر کے میدان کا رزار سے بھاگ جانا
شیطان ملعون ہمیشہ سے انسان کا دشمن ہے وہ چاہتا ہے کہ کافر کفر پر جمے رہیں اور اہل اسلام سے جنگ کرتے رہیں اس کی خواہش ہے کہ کفر پھیلے اور اسلام کی اشاعت نہ ہو، جیسے وہ قریش مکہ کے اس مشورے میں شیخ نجدی کی صورت بنا کر شریک ہوگیا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کرنے یا شہر بدر کرنے کے مشورے کر رہے تھے اسی طرح سے وہ غزوۂ بدر کے موقعہ پر بھی آموجود ہوا۔ اول تو وہ مکہ معظمہ ہی میں اس وقت مشرکین کے پاس پہنچا جب وہ بدر کے لیے روانہ ہونے کا مشورہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی انہیں بنی بکر کی دشمنی کا بھی خیال ہو رہا تھا کہ ممکن ہے وہ حملہ کردیں اس لیے روانہ ہونے میں کچھ جھجک رہے تھے۔ اس موقعہ پر ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں پہنچ گیا (یہ سراقہ بنی کنانہ کے سرداروں میں سے تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے) ابلیس نے قریش مکہ سے کہا کہ تم لوگ ہرگز اپنے ارادہ سے باز نہ آؤ بلکہ چلے چلو میں تمہارا حامی اور مددگار ہوں۔ آج تم پر کوئی غلبہ پانے والا نہیں ہے۔ یہ تو مکہ میں ہوا پھر وہ بدر میں بھی موجود ہوگیا۔ جب مسلمانوں اور کافروں کی صفیں مقابلے کے لیے ترتیب دی گئیں تو یہاں بھی وہ مشرکین کی صف میں اسی سراقہ والی صورت میں موجود تھا اور حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے سامنے موجود ہیں تو وہ ہاتھ چھڑا کر بھاگنے لگا حارث نے کہا کہ تو جنگ سے پہلے ہی بھاگ رہا ہے۔ اس پر اس نے حارث کے سینہ میں دھپ مارا اور الٹے پاؤں چلا گیا اور اس نے یوں کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ یہ تو اس وقت کی بات ہوئی پھر جب قریش شکست کھا کر مکہ معظمہ پہنچے تو یوں کہنا شروع کیا کہ ہمیں سراقہ نے شکست دی۔ سراقہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا کہ تم لوگ میرے بارے میں ایسا کہتے ہو اللہ کی قسم مجھے تو تمہارے جانے ہی کی خبر نہیں ہوئی، مجھے تو تمہاری شکست کی خبر پہنچی ہے۔ ان لوگوں نے کہا کیا تو فلاں دن ہمارے پاس نہیں آیا تھا ؟ اس نے قسم کھا کر کہا مجھے تو اس کی بالکل خبر نہیں، پھر سراقہ اور دوسرے لوگ مسلمان ہوگئے تو پتہ چلا کہ یہ شیطان کی حرکت تھی۔ (معالم التنزیل ص 552 ج 2، روح المعانی ص 15 ج 10)
شیطان نے یہ جو کہا کہ (اِنِّیْٓ اَخَاف اللّٰہَ ) (میں اللہ سے ڈرتا ہوں) اس کا مطلب حضرت عطاء نے یہ بتایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ دیگر ہلاک ہونے والوں کے ساتھ مجھے ہلاک نہ کر دے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے تمہارے بارے میں ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہلاک نہ فرما دے۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اللہ سخت عقاب والا ہے۔ تم لوگوں پر عذاب آنے ہی والا ہے۔ میں کیوں تمہارے ساتھ شریک رہوں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ابلیس کا کلام (اِنِّیْٓ اَخَاف اللّٰہَ ) پر ختم ہوگیا اور (وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ) جملہ مستانفہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے لیے یہاں بھی سخت عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ ابلیس اس موقعہ پر جو بھاگ گیا تو وہ اور اس کے ساتھی یہ نہ سمجھیں کہ عذاب سے بچ گئے آخرت کا عذاب تو لازمی ہی ہے جو شدید ہے۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ (لاََمْلاََنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ )
Ayah 8:49منافقین کی بد اعتقادی اور بد زبانی
منافقین آستین کا خنجر تھے مسلمانوں میں بھی اپنے کو شمار کراتے تھے اور کافر تو تھے ہی۔ ان کا کام یہ تھا کہ اسلام کو نقصان پہنچائیں اور مسلمانوں پر طنز کریں۔ ان کی انہیں طنزیہ باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب صحابہ ؓ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے اپنے سے تین گنا تعداد سے جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے تو ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اپنے دین پر بڑا غرور ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ حق پر ہیں اس لیے غالب ہو کر رہیں گے۔ یہ اپنے اس گھمنڈ کی وجہ سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہم کس سے بھڑ رہے ہیں اور کس سے مقابلہ کر رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو بلاشبہ اللہ غالب ہے وہ تو کل کرنے والوں کو ضرور غلبہ دے گا جو اس سے مدد طلب کرے گا خواہ اس کی تعداد تھوڑی ہو وہ اس کی مدد فرمائے گا، وہ حکیم بھی ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق مدد اور نصرت فرماتا ہے۔
(الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ) (جن کے دلوں میں مرض ہے) سے کون لوگ مراد ہیں ؟ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بھی منافقین مراد ہیں اور یہ عطف تفسیری ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو قریش مکہ کے ساتھ آگئے تھے ان کے قلوب میں اسلام کے بارے میں تذبذب تھا، اسی تذبذب کو مرض سے تعبیر فرمایا۔
معلومات ضرور یہ متعلقہ غزوۂ بدر
قرآن مجید میں غزوۂ بدر کا جو تذکرہ فرمایا ہے اس کا بیان آیات کی تفسیر کے ذیل میں کردیا گیا ہے۔ البتہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں جو کچھ معاملہ کیا گیا اس کا ذکر باقی ہے۔ وہ دو رکوع کے بعد آ رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ بعض چیزیں جو رہ گئیں جن کا حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ذکر ہے ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(1) سترہ رمضان 2 ھ میں غزوۂ بدر ہوا۔
(2) مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن میں مہاجرین کی تعداد 76 تھی اور باقی انصار میں سے تھے اوس میں سے بھی خزرج میں سے بھی۔ البدایہ والنہایہ ص 269 ج 3 میں حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
(3) قریش مکہ جو بدر میں پہنچے تھے ان کی تعداد 900 سے لے کر 1000 کے درمیان تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ 950 آدمی تھے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک ہزار سے بھی زیادہ تھے۔
(4) جنگ شروع ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے بتادیا تھا کہ مشرکین میں سے فلاں شخص یہاں قتل ہو کر گرے گا اور فلاں شخص یہاں قتل ہو کر گرے گا، پھر ایسا ہی ہوا۔
(5) اس موقعہ پر ستر مشرکین مقتول ہوئے اور ستر افراد قید کرلیے گئے جن کی مشکیں باندھ کر مدینہ منورہ لے جایا گیا۔
(6) انھیں مقتول ہونے والوں میں ابو جہل بھی تھا جو مشرکین مکہ کو آمادہ کر کے لایا تھا اور جس نے فخر کرتے ہوئے بڑی بڑی باتیں کہی تھیں، اسے انصار کے دو لڑکوں نے قتل کردیا۔ تھوڑی سی رمق باقی رہ گئی تھی وہ حضرت ابن مسعود ؓ کے سر کاٹ دینے سے ختم ہوگئی۔ اس کا کٹا ہوا سر لے کر حضرت ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے الحمد للہ فرمایا۔ انہیں مقتولین میں امیہ بن خلف بھی تھا۔ یہ وہی شخص تھا جو حضرت بلال کو اسلام قبول کرنے پر مارا پیٹا کرتا تھا۔ حضرت بلال ؓ نے اس موقعہ پر انصار کو آواز دی اور کہا کہ یہ کفر کا سر غنہ بچ کر نہ نکل جائے چناچہ حضرات انصار نے اس کو گھیر لیا اور قتل کردیا۔
(7) جو مشرکین بدر میں قتل ہوئے تھے ان کی نعشوں کو وہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف کی لاش پھول گئی تھی جب اسے زرہ میں سے نکالنے لگے تو اس کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، لہٰذا اسے وہیں چھوڑ دیا گیا اور اوپر سے مٹی اور پتھر ڈال دیئے گئے۔
(8) جب ان لوگوں کو کنویں میں ڈال دیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کی خوشی نہ ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرلیتے۔ ہم نے تو اسے حق پایا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا۔ کیا تم نے بھی وہ وعدہ حق پا لیا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ایسے اجسام سے کلام فرما رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو بات کہہ رہا ہوں، ان سے بڑھ کر تم زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ (یعنی جیسے تم سن رہے ہو ایسے وہ بھی سن رہے ہیں) حضرت قتادہ (تابعی) نے فرمایا کہ اللہ نے ان کو زندہ فرما دیا تھا تاکہ آپ کی بات ان کو سنائے اور ان کو حسرت اور ندامت ہو۔
(9) بدر کے دن جو مسلمان شہید ہوئے ان میں سے چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے تھے۔
(10) فتح یابی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تین دن بدر میں قیام فرمایا اور پہلے سے حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کو فتح یابی کی خوشخبری دینے کے لیے مدینہ منورہ بھیج دیا تھا۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ نے بیان فرمایا کہ ہمیں ایسے وقت میں فتح یابی کی خبر پہنچی جب ہم رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (رقیہ ؓ کے دفن سے فارغ ہو رہے تھے۔ یہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اہلیہ تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو مریضہ کی تیمار داری کے لیے مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا تھا۔
(11) غزوۂ بدر میں ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ حلقے سے نکل کر ان کے رخسار پر آپڑی لوگوں نے چاہا کہ اسے کاٹ دیں آنحضرت ﷺ سے عرض کیا گیا، تو آپ نے فرمایا مت کاٹو۔ پھر آپ نے ان کو بلا کر اپنے دست مبارک سے آنکھ کے حلقے میں رکھ کر دبا دیا ان کی آنکھ ٹھیک طرح لگ گئی اور اس کی روشنی دوسری آنکھ سے زیادہ اچھی ہوگئی۔
بعض دیگر صحابہ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا تیر آکر لگا تو ان کی آنکھ جاتی رہی، رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ پر اپنا لعاب مبارک ڈال دیا وہ بالکل درست ہوگئی۔ 1
(12) جو حضرات بدر میں شریک ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی فضیلت عطا فرمائی۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں ہرگز ایسا شخص داخل نہ ہوگا جو بدر میں یا حدیبیہ میں حاضر ہوا ہو۔ (قال فی النہایہ ص 29 ج 3) تفرد بہ احمد و ھو علی شرط مسلم۔ (اسے صرف امام احمد ہی نے ذکر کیا ہے لیکن یہ حدیث امام مسلم کی شرائط کے مطابق ہے) صحیح بخاری ص 568 ج 1 میں ہے کہ حارثہ (بن سراقہ) غزوۂ بدر میں شہید ہوگئے تھے۔ ان کی والدہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حارثہ سے جو مجھے خاص تعلق تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ سو اگر وہ جنت میں چلا گیا تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید رکھتی ہوں اور اگر دوسری کوئی بات ہے (یعنی دوزخ میں چلا گیا) تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں یعنی رو رو کر ڈھیر کر دوں گی۔ (کمافی روایۃ) آپ نے جواب میں فرمایا۔ افسوس کی بات ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔ وہ کوئی ایک جنت تھوڑی ہی ہے۔ وہ بہت سی جنتیں ہیں اور تیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ (صحیح بخاری ص 567 ج 2) حافظ ابن کثیر ؓ البدایہ (ص 329 ج 3) میں لکھتے ہیں کہ یہ حارثہ معرکہ سے دور تھے اور نگرانی کرنے والوں سے دور تھے۔ حوض سے پانی پی رہے تھے کہ اچانک ایک تیر آیا جو ان کی موت کا سبب بن گیا۔ جب اس شخص کو اتنا بڑا درجہ ملا کہ فردوس میں داخل کردیا گیا (جو جنت کا سب سے بلند درجہ ہے) تو جن لوگوں نے قتال میں حصہ لیا، دشمن سے مقابلہ کیا ان کے درجات کا کیا عالم ہوگا۔
(13) جس طرح مہاجرین اور انصار میں سے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں کو بڑی فضیلت ملی اسی طرح سے جو فرشتے اس غزوہ میں شریک ہوئے تھے دوسرے فرشتوں پر ان کو بھی فضیلت دی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ اہل بدر کو آنحضرت ﷺ کس درجہ میں شمار فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہمارے نزدیک وہ افضل المسلمین میں سے ہیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اسی طرح سے ہم بھی بدر میں شریک ہونے والے فرشتوں کو دوسرے فرشتوں سے افضل جانتے ہیں۔ (صحیح بخاری ص 529 ج 2)
Ayah 8:50موت کے وقت کافروں کی پٹائی
ان آیات میں اول تو کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو انہیں موت کے وقت ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ معرکہ بدر میں جو کفار قریش مسلمانوں کے مقابلہ میں آئے تھے اور پھر جنگ میں مارے گئے جب وہ مقتول ہو رہے تھے تو فرشتے ان کو ان کے مونہوں پر اور پشتوں پر مار رہے تھے اور موت کے بعد جہنم کے عذاب میں مبتلا ہونے کی خبر انہیں دے رہے تھے۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت مجاہد (رح) سے یہی نقل کیا ہے اور دیگر مفسرین نے اس مضمون کو عام بتایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتوں کا کافروں کے چہروں اور پشتوں پر مارنا مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام کافروں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ سورة محمد کی آیت میں ارشاد ہے (فَکَیْفَ اِِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلآءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَہُمْ وَاَدْبَارَھُمْ ) (سو کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مار رہے ہوں گے) دوسرا قول راجح معلوم ہوتا ہے جس کے عموم میں مقتولین بدر بھی آجاتے ہیں۔
Ayah 8:51اس کے بعد فرمایا (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ ) کہ یہ جو کچھ موت کے وقت اور موت کے بعدسزا ہے تمہارے اپنے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے اور انہیں آگے بھیجتے رہے۔ (وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ) (اور بلاشبہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے) کیونکہ جو سزا اللہ کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ وہ بندوں کے اعمال کا بدلہ ہوتا ہے۔
Ayahs 8:52–53اس کے بعد فرمایا (کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ) ان مجرموں پر جو اللہ کی طرف سے عذاب آیا یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اپنی آیات بھیجتا ہے۔ یہ آیات آفاقیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات انفسیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات صحفیہ بھی جو اللہ کے کتابوں اور صحیفوں میں موجود ہوتی ہیں۔ بندے اگر غور و فکر سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کو پہچانیں اور اس کے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائیں اور احکام الٰہیہ کو بجا لائیں تو ایمان قبول کرنے کی طرف ذہن چلے، مجرمین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اللہ کی آیات کے منکر ہوئے اس کے نبیوں کو جھٹلایا اور توحید سے انحراف کیا شرک میں مبتلا ہوئے لہٰذا دنیا میں بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا یاب ہوئے اور آخرت میں بھی کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔
سابقہ امتوں نے آیات الٰہیہ کو جھٹلایا جس کی وجہ سے ہلاک ہوئیں :
پھر بطور مثال کے فرمایا (کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (الآیۃ) (جیسا کہ فرعون اور ان لوگوں کی حالت تھی جو ان سے پہلے تھے) اس میں یہ بتایا ہے کہ جیسے آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ معاملہ ہوا اسی طرح اس زمانہ کے مجرمین کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ اللہ کے دین پر نہ آئیں گے اللہ کے نبیوں اور اس کی کتابوں کو جھٹلائیں گے تو یہ بھی مستحق عذاب ہوں گے پھر ایک قاعدہ کلیہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ) (کسی قوم کو اللہ نے جو نعمت عطا فرمائی اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہ بد لیں) جب لوگ خود بد ل جاتے ہیں۔ کفر و شرک اختیار کرتے ہیں نا فرمانیوں پر تل جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی نعمت چھین لیتا ہے۔ جب لوگ ایمان کو چھوڑ دیں اچھے اعمال کو ترک کردیں برے اعمال میں لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت میں بھی تغیر آجاتا ہے۔ یہ نعمت چھین لی جاتی ہے اور بندے نقمت اور عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
پھر فرمایا (وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اور بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے) سب کے اقوال کو سنتا ہے سب کے احوال کو جانتا ہے۔ کسی میں کیسا ہی کوئی تغیر فعلی یا قولی ہوجائے وہ سب سے باخبر ہے۔
اس کے بعد مکرر آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا۔
Ayah 8:54پہلے (کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ) فرمایا اور دوسری جگہ (کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ ) فرمایا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت کا بھی انہوں نے خیال نہ کیا جس نے پیدا فرمایا، پرورش فرمائی، پرورش کے سامان پیدا فرمائے۔ حاجات پوری کیں، اس کی آیات کو جھٹلانا سراسر نا شکری اور بےعقلی ہے لہٰذا ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا گیا۔ پھر آل فرعون کے غرق کیے جانے کی تصریح فرمائی۔ (وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) (اور ہم نے فرعون والوں کو ہلاک کردیا) ۔
آخر میں فرمایا (وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ) اور یہ سب آل فرعون اور اس سے پہلے تکذیب کرنے والی امتیں تھی (جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور ثمود) یہ سب ظالم تھے انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کفر اختیار کیا اور معاصی میں بڑھتے چلے گئے۔ ان کی حرکتیں ان کی بربادی کا باعث بنیں۔
Ayah 8:55اہل کفر جانوروں سے بدتر ہیں :
پھر فرمایا (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (الآیۃ) (بےشک اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا) الدّواب، دَآبَّۃٌ کی جمع ہے، ہر وہ چیز جو زمین پر چلے پھرے لغوی اعتبار سے یہ لفظ سب کو شامل ہے۔ لیکن محاورات میں دابۃ چوپایوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 21 ج 10 لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شَرُّ النَّاس نہیں فرمایا اس میں اس طرح اشارہ ہے کہ گویا یہ لوگ جنس انسانی سے نہیں ہیں جنس دواب میں سے ہیں اور اس جنس کے بدترین افراد میں سے ہیں (فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (سو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے) ان کی سر کشی بہت آگے بڑھ گئی ہے اور کفر میں راسخ اور مضبوط ہوچکے ہیں لہٰذا یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کے پیچھے اپنی جان ہلاک نہ کریں۔ آپ کے کرنے کا جو کام تھا (یعنی دعوت حق اور بلاغ مبین) وہ آپ کرچکے۔
Ayah 8:56کافر لوگ معاہدہ کے بعد غدر کرتے ہیں انہیں عبرت ناک سزا دو
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ پہلی آیت (اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ) میں یہود بنی قریظہ کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ آپ کے مقابلہ میں کسی کی مدد نہ کریں گے۔ پھر انہوں نے ہتھیار دے کر مشرکین کی مدد کی جب ان سے سوال کیا گیا تو کہنے لگے کہ ہم بھول گئے تھے۔ اس کے بعد پھر معاہدہ کیا تو اسے بھی توڑ دیا اور غزوۂ خندق میں رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے مددگار بن گئے۔ ان کا سردار (کعب بن اشرف) مکہ معظمہ گیا اور اس نے مشرکین مکہ سے معاہدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ سے جنگ کریں گے۔
اسی کو فرمایا (ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ ) (پھر ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں) (وَّ ھُمْ لَا یَتَّقُوْنَ ) اور وہ اللہ سے نہیں ڈرتے اور عہد شکنی کی بد نامی سے بھی نہیں بچتے۔
Ayah 8:57پھر فرمایا (فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ ) (سو اگر آپ انہیں جنگ میں پالیں تو ان کے ذریعے ان لوگوں کو منتشر کردیں جو ان کے پیچھے ہیں) یعنی لڑائی کے موقعہ پر آپ ان پر ایسا حملہ کریں کہ یہ نا کام ہوجائیں۔ ان کی نا کامی اور آپ کی کامیابی کا جب شہرہ ہوگا تو ان کے پیچھے یعنی ان کے علاوہ جو بہت سے قبائل ہیں وہ بھی منتشر ہوجائیں گے اور آپ پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کریں گے (لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ) تاکہ ان کو عبرت حاصل ہو اور وہ جان لیں کہ نقض عہد کرنے والوں کا اور کفر سے چمٹنے والوں کا کیا انجام ہوا۔
Ayahs 8:58–59اہل ایمان کو غدر اور خیانت کی اجازت نہیں :
اہل ایمان کو کبھی نقض عہد کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور یہ جب ہوتا ہے جب دشمن سے خطرہ ہو کہ وہ اپنا عہد توڑنے والا ہے اگر ہم نے اپنے عہد کی پاسداری کی اور انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور اچانک غفلت میں انہوں نے حملہ کردیا تو ہمیں تکلیف پہنچے گی۔ ایسے موقعہ پر طریق کار یہ ہے کہ خود ان پر غفلت میں حملہ نہ کریں۔ ہاں ایسا کریں کہ پہلے اعلان کردیں اور ان کو بتادیں کہ ہمارا تمہارا جو معاہدہ تھا ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔ اسی کو فرمایا۔ (وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ) اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو جو عہد آپ نے ان سے کیا ہے وہ ان کی طرف پھینک دیجیے تاکہ آپ اور وہ اس بات کے جاننے میں برابر ہوجائیں کہ اب معاہدہ باقی نہیں رہا۔ اگر معاہدہ کیا اور ان کا معاہدہ واپس نہ کیا اور معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع کے بغیر ان پر حملہ کردیا تو یہ غدر ہوگا اور خیانت ہوگی جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ اسی کو فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآءِنِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا) ہوسکتا تھا کہ بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات آجاتی کہ چونکہ دشمن، دشمن ہے، کچھ بھروسہ نہیں کہ اپنا عہد توڑ دے۔ اس لیے ہم اپنی حفاظت کے لیے پہلے حملہ کردیں تو ہماری حفاظت ہوجائے گی۔ اس خیال کو دفع کرنے کے لیے یہ نصیحت فرمائی کہ گو کافر تمہارے دشمن ہیں لیکن جب معاہدہ ہوگیا تو اب تمہارے لیے معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں اگر ان سے عہد کی خلاف ورزی کا ڈر ہے تو تم پہلے انہیں بتادو کہ ہمارا عہد ختم ہے اس کے بعد تمہیں حملہ کرنا جائز ہوگا۔ سبحان اللہ عہد کی پاسداری کا شریعت اسلامیہ میں کتنا اہتمام ہے۔ اسی کو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس میں چار چیزیں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان چار میں سے جس میں ایک خصلت ہوگی تو اس میں نفاق کا ایک حصہ مانا جائے گا۔ جب تک اسے چھوڑ نہ دے۔
(1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(2) اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
(3) اور جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے۔
(4) اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ (رواہ البخاری ص 451 ج 1)
ہر مسلمان کو معاہدہ کی پاسداری لازم ہے حکومت سے معاہدہ ہو یا کسی جماعت سے یا کسی فرد سے اس کی خلاف ورزی حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تین شخصوں پر میں دعویٰ کرنے والا ہوں ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر اس نے غدر کیا۔ اور ایک وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھا گیا اور ایک وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو کام پر لگایا اس سے کام پورا لے لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔ (رواہ البخاری ص 302 ج 1)
نیز رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے من قتل معاھدا لم یرح رائحۃ الجنۃ۔ جس نے کسی عہد والے کو قتل کردیا جنت کی خوشبو (بھی) نہ سونگھے گا۔ (صحیح بخاری ص 448 ج 1)
فائدہ : اگر دوسرا فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کر دے تو پتہ چل جائے کہ انہوں نے خیانت کی ہے۔ مثلاً وہ مسلمانوں پر حملہ کردیں یا اور کوئی ایسی خلاف ورزی کردیں جس سے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہو تو پھر اپنی طرف سے عہد توڑنے کی اطلاع کرنے کی ضرورت نہیں اور جب اپنی طرف سے عہد توڑنا ہو اور ان کو اس کی اطلاع دینی ہو تو ان کے ہر ہر فرد کو اطلاع دینا ضروری نہیں جب ان کے صاحب اقتدار کو نقض عہد کی اطلاع دے دی اور اتنی مدت گزر گئی کہ وہ اس وقت میں اپنے اطراف مملکت میں خبر پہنچا سکتا تھا تو یہ کافی ہے۔ (ذکر صاحب الھدایۃ باب الموادعۃ و من یجوز امانہ)