24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور انہوں نے خوب مضبوطی کے ساتھ قسم کھائی کہ اگر آپ انہیں حکم دیں گے تو ضرور نکل جائیں گے، آپ فرما دیجیے کہ قسم نہ کھاؤ، فرمانبر داری پہچانی ہوئی ہے۔ بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو

منافقوں کا جھوٹی قسمیں کھا کر فرمانبر داری کا عہد کرنا ان آیات میں بھی روئے سخن منافقین کی طرف ہے وہ زور دار طریقہ پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم تو سراپا اطاعت ہیں آپ کا حکم ماننے کو تیار ہیں اگر آپ کا حکم ہو ہم گھر بار چھوڑ کر نکل جائیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آپ جب بھی جہاد کے لیے باہر نکلنے کا حکم فرمائیں گے تو ہم ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے قسمیں نہ کھاؤ تمہاری فرماں برداری جانی پہچانی ہوئی ہے قسمیں کھانے کے باو جود بھی تم اپنے وعدہ پر پورے نہیں اتر سکتے، حکم سن کر پھر خلاف ورزی کرو گے اور حقیقت میں بات یہ ہے کہ جو شخص مخلص ہو اسے اپنی فرماں برداری ظاہر کرنے کے لیے قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ تو حکم کو مانتا چلا جاتا ہے۔ اس کا عمل اور طرز عمل ہی بتادیتا ہے کہ وہ مخلص ہے اور جس کا فرماں برداری کا صرف دعویٰ ہو وہ اپنے بھرم رکھنے کے لیے بار بار قسمیں کھاتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ میں آپ کا فرمانبر دار ہوں اور ہر حکم کے لیے حاضر ہوں منافقین کا یہی طریقہ تھا کہ فرمانبر داری کا دعویٰ کرتے تھے اور اس پر قسمیں کھاتے تھے پھر جب حکم ہوتا تھا تو منہ موڑ لیتے تھے اور مومنین اخلاص کے ساتھ فرمانبر داری میں لگے رہتے تھے انہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر شخص کو آخرت میں بھی پیش ہونا ہے میدان قیامت میں جب حساب ہوگا تو یہ زبانی دعوے اور جھوٹی قسمیں اور دھوکہ دینے کے ارادے اور شرو فساد کی نیتیں سب ہی کا انجام دیکھ لیں اگر بندوں کو پتہ نہ چلے تو اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ خبر ہے وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق سزا دے گا۔ (اِِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) میں اس مضمون کو واضح فرما دیا ہے۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی سو اگر تم رو گردانی کرو گے تو رسول کے ذمہ وہ ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا۔ اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا، اور اگر تم نے ان کی فرمانبرداری کی تو ہدایت پانے والے بن جاؤ گے۔ اور رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔

مزید فرمایا کہ اے منافقو ! اگر تم فرمانبر داری سے بچو اور رو گردانی کرو تو اس میں رسول اللہ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں آپ ﷺ کے ذمہ جو بار ڈالا گیا ہے (یعنی تبلیغ کا کام) آپ اس کے ذمہ دار ہیں اور تم جانتے ہو کہ آپ نے اسے پورا کردیا اور تم پر جو بار ڈالا گیا تو اس کے ذمہ دار تم ہو یعنی تمہارے ذمہ فرمانبر داری ہے تم فرمانبر داری نہ کرو گے تو اپنا برا کرو گے۔ مزید فرمایا (وَاِِنْ تُطِیعُوْہُ تَہْتَدُوْا) اور اگر تم سچے دل سے اخلاص کے ساتھ اطاعت کرو گے تو راہ حق پا جاؤ گے۔ (وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِِلَّا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ ) اور رسول کے ذمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام واضح طور پر پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے (انہوں نے پہنچا دیا اب تم اپنی ذمہ داری پوری کرو) اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے جو نائب ہیں وہ امت کو جو بھی کوئی بات بتائیں واضح طور پر بتائیں جو صاف طور پر سمجھ میں آجائے آگے عمل کرنے والے کی ذمہ داری ہے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں ضرور ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور اس نے ان کے لیے جس دین کو پسند فرمایا ہے اسے ان کے لیے قوت دیگا ان کے خوف کے بعد ضرورضرور امن سے بدل دیگا۔ وہ میری عبادت کرتے ہیں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے اور جو شخص اس کے بعد نا شکری کریگا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔

ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں سے استخلاف اور تمکین فی الارض کا وعدہ معالم التنزیل ص 353 ج 3 میں حضرت ابو العالیہ تابعی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ نزول وحی کی ابتداء کے بعد ہی سے ثابت قدمی کے ساتھ مقیم رہے اور کافروں کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچتی تھیں ان پر بامر الہٰی صبر کرتے رہے صبح شام دشمنوں کی طرف سے خائف رہتے تھے پھر جب مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم دے دیا گیا تو مدینہ منورہ پہنچ گئے وہاں پہنچے پر بھی دشمنوں سے چھٹکارا نہ ہوا (یہودی بھی دشمن تھے اور منافقین سے بھی خطرہ رہتا تھا) اس لیے ہر شخص ہتھیار بند رہتا تھا۔ اسی اثناء میں ایک شخص کے منہ سے یہ نکل گیا تھا کہ کیا ہم پر کوئی ایسا دن بھی آئے گا جس میں ہم امن وامان سے ہونگے اور ہتھیار ساتھ رکھنے کی ضرورت نہ ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ ) (آخر تک نازل فرمائی) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرات صحابہ ؓ سے وعدہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں زمین پر خلیفہ بنائے گا تمہیں زمین میں اقتدار و اختیار دے گا، دشمن مغلوب ہونگے عرب و عجم پر تمہارا تسلط ہوگا ان سے پہلے جو اہل ایمان تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلیفہ بنایا اور اقتدار سپرد فرمایا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی حکومت و سلطنت تو مشہور ہی ہے ان کے علاوہ بھی بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے حکومت عطا فرمائی اور زمین میں با اختیار اور با اقتدار بنایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرمایا (یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰیکُمْ مَّالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) (اے میری قوم ! تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمہیں عطا فرمائی جبکہ اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا تو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا) ۔ اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ برحق ہے اس نے ہر وعدہ پورا فرمایا ہے اور آئندہ بھی اس کے سارے وعدہ پورے ہونگے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ سے جو وعدہ فرمائے جو ایمان اور اعمال صالحہ کی بنیاد پر تھے وہ سب پورے ہوئے عرب (حجاز، یمن، شام، عراق، نجد) پر ان کا تسلط ہوا ان کے بعد آنے والے مسلمانوں کی بڑی بڑی حکومتیں قائم رہیں۔ صد ہا سال افریقہ اور ایشیاء کے ممالک پر ان کا قبضہ رہا۔ انہیں پورا اختیار تھا کہ اپنے دین پرچلیں اور لوگوں کو چلائیں۔ اسلام کی دعوت دیں اس کو پھیلائیں (وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ ) کا پورا پورا مظاہرہ تھا نہایت سکون و اطمینان اور امن وامان کے ساتھ رہتے تھے۔ مکہ معظمہ کی زندگی میں جو خوف و ہراس تھا پھر مدینہ منورہ میں جو چند سال خوف و خطرے کے گزرے اسے اللہ تعالیٰ نے امن سے بدل دیا۔ اور (وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا) میں جو وعدہ فرمایا تھا وہ دیکھتی آنکھوں پورا ہوگیا۔ اس وعدہ کے پورا فرمانے کے ساتھ (یَّعْبُدُوْنَنِی لاَ یُشْرِکُوْنَ بِی شَیْءًا) بھی فرمایا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ پر مضبوطی سے جمے رہیں اللہ کی عبادت کرتے رہیں اور کسی طرح کا شرک جلی یا خفی (عمل لغیر اللہ) اختیار نہ کریں۔ مسلمانوں کا شرط کی خلاف ورزی کرنا اور اقتدار سے محروم ہونا پھر ہوا یہ کہ مسلمانوں نے شرط کی خلاف ورزی کی۔ ایمان بھی کمزور ہوگیا اعمال صالحہ بھی چھوڑ بیٹھے۔ عبادت الٰہیہ سے بھی پہلو تہی کرنے لگے۔ لہٰذا بہت سے ملکوں سے حکومتیں ختم ہوگئیں۔ اور بہت سی جگہ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے امن وامان تباہ ہوگیا۔ اور دشمنوں سے امن وامان کی اور اپنی حکومتیں باقی رکھنے کی بھیک مانگنے لگے۔ بڑی بڑی حکومتیں چھن جانے کے بعد اب بھی افریقہ اور ایشیاء میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں اور زمین کے بہت بڑے حصہ پر اب بھی انہیں اقتدار حاصل ہے۔ لیکن اصحاب اقتدار عموماً نام کے مسلمان ہیں۔ کہیں شیعیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور کہیں شیوعیت کو امام بنا رکھا ہے کہیں مغربی جمہوریت پر ایمان لائے ہوئے ہیں کہیں الحاد اور زندقہ کو اپنا رکھا ہے قانون ہے تو مغرب کا اور وضع قطع ہے تو نصاریٰ کی، پھر دشمن سے دبتے ہیں اور اسی کے کہنے کے مطابق کرتے ہیں۔ آپس میں جنگ ہے دشمنوں سے راز داری ہے قرآن مجید میں جو (لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا) فرمایا ہے اس کی صریح خلاف ورزی ہے، ہر وقت خوف زدہ ہیں کہ دشمن ہمیں اقتدار سے نہ ہٹوا دیں یا قتل نہ کروا دیں۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری سے دور ہیں دشمنان اسلام کی فرمانبر داری میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے اپنا بھرم اور مضبوط تسلط کہاں باقی رہ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے استخلاف اور تمکین کے وعدہ کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا تھا (وَّمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ ) (جو اس کے بعد نا شکری کرے گا تو یہی لوگ نافرمان ہیں) ہم نے لفظ کفر کا ترجمہ نا شکری سے کیا ہے یہ اس کا لغوی معنی ہے اور شریعت کی اصطلاح میں ایمان کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں جو شخص کفر اختیار کرلے پورا نافرمان ہے ایسے شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اگر کوئی شخص کافر تو نہیں ہوا لیکن اعمال صالحہ سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور فرمانبر داری سے منہ موڑے ہوئے ہے اسے گو کافر نہ کہا جائے گا لیکن فاسق اور باغی ضرور ہے۔ جب ایسے لوگوں کی اکثریت ہوگی اور مومنین صالحین اور علمائے عاملین کو برا کہا جائے گا اور عامۃ الناس قرآن و حدیث کی تعلیمات سے دور بھاگیں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ نے مدد اٹھا لی ہے اس لیے حکومتیں ہوتے ہوئے بھی دشمنوں سے خائف ہیں اور ان کے دروازہ پر مال اور اقتدار کی دریوزہ گری کرنے میں منہمک ہیں ڈرتے رہتے ہیں کہ دشمن کی نافرمانی کرلی تو کرسی جاتی رہے گی۔ کاش مسلمانوں کے جتنے ملک ہیں سب متحد ہوتے بلکہ ایک ہی امیر المومنین ہوتا جو سب کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے مطابق لے کر چلتا۔ اگر ایسا کرلیتے تو دشمن نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اب تو مسلمانوں کی خود غرضی نے مسلمانوں کے ملکوں کو اور ان کے اصحاب اقتدار کو دشمنوں کا کھلونا بنا رکھا ہے۔ اگر آج بھی مسلمان مضبوط ایمان والے ہوجائیں اور اعمال صالحہ والے بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت خالصہ میں لگ جائیں تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ وہی دین آجائیں گے جو خلافت راشدہ کے زمانہ میں اور ان کے بعد دیگر ملوک صالحین کے زمانہ میں تھے۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرمانبر داری کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

(وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَآتُوا الزَّکَٰوۃَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) (اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرمانبر داری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) اس میں واضح طور پر بتادیا کہ دو بارہ فرمانبر داری کی زندگی پر آنے اور عبادات بدنیہ اور عبادات مالیہ ادا کرنے پر آجائیں تو پھر رحم کے مستحق ہوسکتے ہیں لیکن مسلمانوں پر تعجب ہے کہ جن فاسقوں کو بار بار آزما چکے ہیں انہیں کو دو بارہ اقتدار پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اَنَّا لِلَّہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اے مخاطب ان کے بارے میں یہ ہرگز خیال نہ کر کہ روئے زمین میں عاجز کرنے والے ہیں، اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور البتہ وہ بری جگہ ہے۔

اس کے بعد فرمایا (لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کافروں کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ روئے زمین میں عاجز کرنے والے ہیں) ۔ اس میں یہ بتادیا کہ کوئی بھی خیال کرنے والا یہ خیال نہ کرے کہ کافر لوگ زمین میں عاجز کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ کی گرفت سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ اور موت تو بہر حال سب کو آنی ہی ہے۔ زمین میں جو شخص جہاں بھی ہو اپنی مقررہ اجل کے موافق اس دنیا سے چلا جائے گا اور کافر کا عذاب تو موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتا ہے کافروں کو جو دنیا میں عذاب ہے وہ اپنی جگہ ہے اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بری جگہ ہے اسی کو آخر میں فرمایا : وَ مَاْ وٰ ھُمُ النَّارُ ، وَ لَبِءْسَ الْمَصِیْرُ ۔ روافض قرآن کے منکر ہیں صحابہ کرام کے دشمن ہیں دشمنان اسلام میں روافض یعنی شیعوں کی جماعت بھی ہے یہ لوگ اسلام کے مدعی اور اہل بیت کی محبت کے دعویدار ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں، نہ قرآن سے، نہ اللہ کے رسول سے ﷺ نہ حضرات صحابہ کرام سے، نہ حضرات اہل بیت سے آیت استخلاف جو سورة نور کا جزو ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تمہیں خلیفہ بنائے گا اور تَمْکِیْن فِی الْاَرْضِ کی نعمت سے نوازے گا تاریخ جانے والے جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں یہ وعدہ پورا ہوگیا۔ مسلمانوں کا اقتدار عرب اور عجم میں بڑھتا چڑھتا چلا گیا حضرت علی ؓ بھی خلیفہ راشد تھے وہ مذکورہ بالا تینوں حلفاء کے ساتھ ایک جان اور دو قالب ہو کر رہے ہیں ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھتے رہے ان کے مشوروں میں شریک رہے۔ پھر جب انہیں خلافت سونپ دی گئی تو یہ نہیں فرمایا کہ یہ حضرات خلفائے راشدین نہیں تھے یا خلافت کے غاصب تھے اور میں سب سے پہلے خلافت کا مستحق تھا وہ انہیں حضرات کے طریقہ پر چلتے رہے ان کے فتح کیے ہوئے ممالک کو باقی رکھا اور قرآن و حدیث کے موافق امور خلافت انجام دیئے۔ ان کے بعد ان کے بڑے صاجنرادے حضرت حسن ؓ خلیفہ بنے ان کی شہادت پر خلافت راشدہ کے تیس سال پورے ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے اَلْخَلاَفَۃُ مِنْ بَعْدِیْ ثَلاَثُوْنَ سَنَۃً فرمایا تھا کہ اسی کے مطابق اہل السنۃ و الجماعہ مذکورہ پانچوں حضرات کو خلفاء راشدین مانتے ہیں لیکن زیادہ تر زبانوں پر چاروں خلفاء کے اسمائے گرامی آتے ہیں کیونکہ حضرت حسن ؓ کی خلافت چند ماہ تھی۔ اب روافض کی بات سنو وہ کہتے ہیں کہ حضرات ابوبکر اور عمر اور عثمان ؓ خلیفہ راشد تو کیا ہوتے مسلمان ہی نہیں تھے روافض قرآن کے بھی منکر ہیں اور حضرت علی ؓ کے عظیم مرتبہ کے بھی (جو ان کے عقیدہ میں امام اول ہیں اور معصوم ہیں) ان کو بزدل بتاتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خلافت کا اعلان نہیں کیا جس کے وہ اولین مستحق تھے اور جس کی ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وصیت تھی ان لوگوں کے عقیدہ میں امام اول نے حق کو چھپایا اور اپنے سے پہلے تینوں خلفاء کے ساتھ مل کر رہے اور اس میں انہوں نے تقیہ کرلیا تھا۔ سب کو معلوم ہے کہ حضرت حسن ؓ کے بعد روافض جن حضرات کو امام جانتے ہیں ان میں سے کسی کی خلافت قائم نہیں ہوئی۔ اگر ان لوگوں کی بات مان لی جائے کہ حضرات ابوبکر، عمر، عثمان ؓ وہ خلیفہ نہیں تھے جن کا آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے تو قرآن مجید کا وعدہ صحیح ثابت نہیں ہوتا (العیاذ باللہ) شیعوں کے سامنے جب یہ بات آتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ وعدہ امام مہدی پر پورا ہوگا۔ جھوٹے کا کام جھوٹ ہی سے چلتا ہے آیت شریفہ میں تو منکم وارد ہوا ہے جس میں حضرات صحابہ کرام ؓ کو مخاطب فرمایا ہے یہ لوگ منکم کو نہیں دیکھتے اپنی گمراہی پر مصر ہیں یاد رہے قرآن مجید میں اور کسی جگہ (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) اور (عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ ) کے درمیان لفظ منکم وارد نہیں ہوا۔ وعدہ استخلاف کے بیان میں یہ لفظ آیا ہے وعدہ استخلاف کے ساتھ ہی اسی وقت اللہ تعالیٰ نے روافض کی تردید فرما دی فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مَنْ کَذَبَ بالْقُرْآنِ ۔ فائدہ : آخر میں یہ فرمایا ہے کہ کافروں کے بارے میں یہ خیال نہ کرو کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر بھاگ جائیں گے اس کے عموم میں وہ سب کافر داخل ہیں جو زمانہ نزول قرآن سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کے ملکوں کو توڑتے ہیں اور اپنی برتری کے لیے تدبیریں کرتے ہیں۔ وہ اس دنیا میں بھی تباہ ہونگے اور آخرت میں بھی دوزخ میں داخل ہونگے۔ فلیتفکر الکافرون ومنھم الروافض المفسدون۔
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو جو تمہارے مملوک ہیں اور تم میں سے وہ لڑکے جو بلوغ کو نہیں پہنچے تین وقتوں میں اجازت لیا کریں، نماز فجر سے پہلے، اور جس وقت تم دوپہر میں اپنے کپڑے اتار کر رکھتے ہو، اور نماز عشاء کے بعد، یہ تین وقت تمہارے پردہ کے ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے ہیں، کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس، اللہ اسی طرح تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور تمہارے لڑکے جب حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ اجازت لیں جیسے ان لوگوں نے اجازت لی جو ان سے پہلے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات بیان فرماتا ہے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے۔

گھروں میں داخل ہونے کے لیے خصوصی طور پر تین اوقات میں اجازت لینے کا اہتمام کیا جائے اسی سورة نور کے چوتھے رکوع میں کسی کے پاس اندر جانے کے لیے اجازت لینے اور اجازت نہ ملنے پر واپس ہوجانے کا حکم مذکور ہے وہ حکم اجانب کے لیے ہے جن کا اس گھر سے رہنے سہنے کا تعلق نہ ہوں جس میں اندر جانے کی اجازت طلب کرنا چاہتے ہوں۔ ان دو آیتوں میں ان اقارب اور محارم کا حکم فرمایا ہے جو عموماً ایک گھر میں رہتے ہیں اور ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں اور ان سے عورتوں کو پردہ کرنا بھی واجب نہیں ہے ان میں ان بچوں کا حکم بیان فرمایا جو حد بلوغ کو نہیں پہنچے اور غلاموں کا ذکر ہے (جنہیں کام کے لیے اپنے آقا کی خدمت کے لیے بار بار اندر آنا جانا پڑتا ہے) ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ تین اوقات میں تمہارے پاس اندر آنے کے سلسلے میں اجازت لینے کا خاص دھیان رکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم انہیں یہ تعلیم دو اور انہیں سمجھاؤ اور سدھاؤ کہ وہ ان اوقات میں اجازت لینے کا اہتمام کریں ان اوقات میں سے پہلا وقت نماز فجر سے پہلے اور دوسرا دوپہر کا وقت ہے جب عام طور سے زائد کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہیں اور تیسرا وقت نماز عشاء کے بعد کا ہے۔ ان تینوں اوقات کے بارے میں فرمایا کہ (ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ ) کہ یہ تینوں تمہارے پردہ کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں عام عادت کے مطابق تخلیہ ہوتا ہے اور انسان بےتکلفی کے ساتھ آرام سے رہنا چاہتا ہے۔ تنہائی میں کسی وقت وہ اعضاء بھی کھل جاتے ہیں جن کا ڈھانکے رکھنا ضروری ہے اور سوتے وقت غیر ضروری کپڑے تو اتار ہی دیتے ہیں اور تنہائی کا موقع پا کر بعض مرتبہ میاں بیوی بھی بےتکلفی کے ساتھ ایک دوسرے سے متمتع ہوتے ہیں۔ اگر آنے والا آزاد لڑکا ہو یا غلام یا لونڈی ہو اور اندر آنے کی اجازت نہ لے تو بعض مرتبہ ممکن ہے کہ ان کی نظر کسی ایسی حالت یا کسی ایسے عضو پر پڑجائے جس کا دیکھنا جائز نہیں ہے بالغ غلام مرد اپنے آقا کے پاس ان اوقات میں جائے تو وہ بھی اجازت لے۔ گو مرد کا مرد سے پردہ نہیں ہے لیکن ان اوقات میں کپڑے اتارے ہوئے ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اور بعض مرتبہ بےدھیانی میں بعض وہ اعضاء کھل جاتے ہیں جن کا مرد کے سامنے بھی کھولنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے مذکورہ اوقات میں اجازت لینے کا اہتمام کریں۔ معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری لڑکے کو جس کا نام مدلج تھا حضرت عمر ؓ کو بلانے بھیجا یہ دوپہر کا وقت تھا اس نے حضرت عمر کو ایسی حالت میں دیکھ لیا جو انہیں نا گوارا ہوا اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ مضمون بالا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا ہے ان اوقات کے علاوہ اگر یہ لوگ بلا اجازت آجائیں تو اس میں تم پر یا ان پر کوئی الزام نہیں ہے پھر اس کی وجہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ) (یہ لوگ تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں) چونکہ ہر وقت اجازت لینے میں دشواری ہے اس لیے مذکورہ بالا اوقات کے علاوہ بلا اجازت داخل ہونے کی گھر کے لڑکوں اور غلاموں کو اجازت دے دی گئی آخر میں فرمایا (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ اٰیٰتِہٖ ) اللہ اسی طرح تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان فرماتا ہے (وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے) ۔ یاد رہے کہ عورت کا اپنا غلام ہو یا اس کے شوہر کا اگر نا محرم ہو تو اس سے پردہ کرنا اسی طرح واجب ہے جیسے نا محرموں سے پردہ واجب ہے۔ یہ پہلی آیت کا مضمون تھا دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جب لڑکے بالغ ہوجائیں جنہیں بلوغ سے پہلے مذکورہ تین وقتوں کے علاوہ بےاجازت اندر آنے کی اجازت تھی اب بالغ ہونے کے بعد اسی طرح اجازت لیں جیسے ان سے پہلے لوگ اجازت لیتے رہے یہ خیال نہ کریں کہ کل تک تو ہم یوں ہی چلے جاتے تھے اب اجازت کیوں لیں۔ (کَذَالِکَ یُبِیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیَاتِہٖ ) (اللہ اسی طرح تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان فرماتا ہے) (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے) فائدہ : پہلی آیت میں جو تین اوقات میں اجازت لینے کا حکم فرمایا ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تین آیات ایسی ہیں جن پر لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہی آیت ( ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمْ الَّذِیْنَ ) اور دوسرے نساء کی آیت (وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی) اور سورة حجرات کی آیت (اِنَّ اَکْرَ مَکُمْ عِنْدِ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ) نیز حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا (اکثر لوگ اس آیت پر عمل نہیں کرتے) (گویا کہ) اس پر ایمان ہی نہیں لائے اور میں تو اپنی اس باندی کو بھی حکم دیتا ہوں کہ میرے پاس اجازت لے کر آئے۔ (ابن کثیر ص 303 ج 3)
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو عورتیں بیٹھ چکی ہیں جنہیں نکاح کرنے کی امید نہیں ہے سو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیں بشرطیکہ زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوں، اور یہ بات کہ پرہیز کریں ان کے لیے بہتر ہے اور اللہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔

بوڑھی عورتیں پردہ کا زیادہ اہتمام نہ کریں تو گنجائش ہے القواعد، قاعدۃ کی جمع ہے اس سے بوڑھی عورتیں مراد ہیں جو گھر میں بیٹھ چکی ہیں نہ نکاح کے لائق ہیں نہ انہیں نکاح کی رغبت ہے نہ کسی مرد کو ان سے نکاح کرنے کی طلب ہے ان عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے جن سے چہرہ چھپا رہتا ہے، چادر وغیرہ اتار کر رکھ دیں یعنی غیر محرم کے سامنے چہرہ کھول کر آجائیں بشرطیکہ مواقع زینت کا اظہار نہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا حکم جوان عورتوں کا سا نہیں ہے اگر چہرہ اور ہتھیلیاں غیر محرم کے سامنے کھول دیں اس میں گناہ نہیں ہے البتہ جسم کے دوسرے حصوں کو نہ کھولیں اور یہ جو انہیں چہرہ اور ہتھیلیاں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے یہ جائز ہونے کی حد تک ہے۔ بہتر ان کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور نا محرموں کے سامنے چہرہ کھولنے سے بھی احتراز کریں۔ جب بوڑھی عورتوں کو بھی اجازت دینے کے باو جود یہ فرمایا کہ ان کو بھی احتیاط کرنا بہتر ہے کہ چہرہ کھول کر غیر محرموں کے سامنے نہ آئیں تو اسی سے سمجھ لیا جائے کہ جوان عورتوں کو غیر محرموں کی سامنے چہرہ کھول کر آنا کیسے جائز ہوگا۔ ھذا فی القواعد فکیف فی الکواعب۔ (روح المعانی ص 217 ج 18) (وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اور اللہ سننے والا ہے اور جاننے والا ہے) ۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو نابینا آدمی کے لیے کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے آدمی کے لیے مضائقہ ہے اور نہ مریض کے لیے کوئی مضائقہ ہے اور نہ خود تمہارے لیے کوئی مضائقہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی چابیوں کے تم مالک ہو، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، سو جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے دعاء مانگنے کے طور پر، جو مبارک ہے پاکیزہ ہے، اللہ اسی طرح تمہیں اپنے احکام بتاتا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔

اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں کھانے پینے کی اجازت علامہ بغوی (رح) نے معالم التنزیل ص 358 ج 3 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے مختلف اقوال لکھے ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ لنگڑے اور نابینا اور بیمار لوگ تندرست آدمیوں کے ساتھ کھانے سے یہ سمجھتے ہوئے پرہیز کرتے تھے کہ لوگ ہم سے گھن کرتے ہیں اور کہا یہ کہ کوئی شخص یوں سمجھ لے کہ نابینا زیادہ کھا گیا یا یہ کہ لنگڑے کے بارے میں یہ خیال کرنے لگے کہ اس نے دو آدمیوں کی جگہ گھیر لی اس پر آیت بالانازل ہوئی۔ اور حضرت مجاہد نے یوں فرمایا کہ اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے یہاں کھانے کی اجازت دینے کے لیے آیت کا نزول ہوا سبب نزول جو بھی ہو آیت کریمہ میں آپس میں بےتکلفی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے گھر میں شرعی اصول کے مطابق کھانے کی اجازت دی ہے چونکہ آپس کی قرابت اور دوستی کی وجہ سے ایک دوسرے کا کھاناکھانا اور لینا دینا ناگوار نہیں ہوتا دل کی خوشی سے سب کھلاتے پلاتے ہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے ہاں نہ کھائیں تو اس سے نا گواری ہوتی ہے اس لیے آیت کریمہ میں بےتکلف آپس میں کھانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب ہر شخص دل سے چاہتا ہے اور حالات و معاملات اس بات کو بتاتے ہیں کہ اپنے عزیز کی کوئی چیز کھالی اگرچہ بظاہر اجازت نہیں لی تب بھی اسے نا گوار نہیں تو بلا اجازت بھی کھا سکتے ہیں۔ اپنے گھروں سے کھانے میں اور جن معذوروں کا ذکر ہے ان کو ساتھ کھلانے میں کوئی حرج اور تنگی کی بات نہیں ہے اور ان معذوروں کو بھی ساتھ کھانے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ اور بعض مفسرین نے (مِنْ بُیُوتِکُمْ ) سے اولاد کے گھر مراد لیے ہیں اور مطلب یہ بتایا ہے کہ تم اپنی اولاد کے گھروں سے کھاؤ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (کمافی الجلالین) اگر تم اپنے باپوں یا ماؤوں یا بھائیوں یا بہنوں یا چچاؤں یا پھوپھیوں یا ماموؤں یا خالاؤں کے گھروں سے کھاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے (اگر بہن یا پھوپھی یا خالہ کا اپنا ذاتی مال ہے تو اس میں سے بلا تکلف کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہاں اگر ان کے شوہروں کا مال ہو اور وہ دل سے راضی نہ ہوں تو اس کے کھانے میں احتیاط کی جائے) رشتہ داروں کو بیان فرمانے کے بعد (اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَفَاتِحَہُ ) فرمایا اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو کسی کے مال کی حفاظت کے وکیل اور ذمہ دار ہیں۔ کسی مالک کے مویشی چرانے والے اور باغوں کی دیکھ بھال کرنے والے اگر متعلقہ مال میں سے کھا لیں تو اس کی اجازت ہے البتہ ساتھ نہ لے جائیں اور ذخیرہ نہ بنائیں بقدر حاجت اور حسب ضرورت کھا لیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے اس سے مملوک غلام مراد ہیں کیونکہ غلام کے پاس جو مال ہے وہ آقا ہی کی ملکیت ہے اس لیے وہ اس میں سے کھا سکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (اَوْ صَدِیقِکُمْ ) (یعنی اپنے بےتکلف دوستوں کے گھر سے بھی کھا پی سکتے ہو) دوستی سچی اور پکی ہو صرف لینے ہی کا دوست نہ ہو دوست کے کھانے پر بھی دل خوش ہوتا ہو قال صاحب الروح و رفع الحرج فی الاکل من بیت الصدیق لانہ ارضی بالتبسط و اسربہ من کثیر من ذوی القرابۃ پھر فرمایا (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا) (تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے ہو کر کھاؤ یا الگ الگ) اس کے بارے میں معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ انصار میں سے بعض حضرات ایسے تھے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ جب کوئی مہمان ساتھ ہوگا تب ہی کھائیں گے مہمان نہیں ملتا تھا تو تکلیف اٹھاتے تھے بھوکے رہتے تھے لہٰذا ان کو اجازت دے دی گئی کہ چاہے اکٹھے کھاؤ (مہمان مل جائے تو اس کے ساتھ کھالو) اور چاہے تنہا کھالو۔ اس کے بعد فرمایا (فَاِِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ) سو جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے نفسوں کو سلام کرو جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ دعاء مانگنے کے طور پر جو مبارک ہے پاکیزہ ہے اس میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم ان گھروں میں داخل ہو جن کا اوپر ذکر ہوا تو اپنے نفسوں کو سلام کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جو لوگ موجود ہیں ان کو سلام کرو چونکہ اعزہ و اقرباء اور دوست سب مل کر گویا ایک ہی جان ہیں اس لیے علی اھلھا کے بجائے عَلآی اَنْفُسِکُمْ فرمایا اور اس میں ایک یہ نکتہ بھی ہے کہ جب تم سلام کرو گے تو حاضرین جواب دیں گے اس طرح تمہارا سلام کرنا اپنے لیے سلامتی کی دعاء کرانے کا ذریعہ بن جائے گا (ذکرہ صاحب الروح) ۔ یہ سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشروع ہے۔ دعاء کرنے کے طور پر مشروع کیا گیا ہے پھر یہ مبارک بھی ہے کیونکہ اس میں اجر بھی ہے برکتیں بھی ہیں۔ اور یہ خصلت طیبہ بھی ہے جس سے سننے والا خوش ہوتا ہے اور اپنا دل خوش ہوتا ہے جب کہیں جائیں جہاں کہیں مسلمان موجود ہو یا راستہ میں کوئی مسلمان مل جائے تو السلام علیکم کہے اور جسے سلام کیا وہ بھی جواب دے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب تو اپنے گھر والوں پر داخل ہو تو سلام کر، اس میں تیرے لیے اور تیرے گھر والوں کے لیے برکت ہوگی۔ (مشکوۃ المصابیح 399) اور حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی گھر میں داخل ہو۔ تو اس گھر کے رہنے والوں کو سلام کرو اور جب وہاں سے نکلو تو گھر والوں کو سلام کے ساتھ رخصت کرو۔ (مشکوۃ المصابیح 399) سلام کے مسائل ہم سورة نساء کی آیت کریمہ (وَ اِذَا حُیّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ ) کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ آخر میں فرمایا (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے اپنی احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ) ۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

ایمان والے وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ رسول کے ساتھ کسی ایسے کام کے لیے جمع ہوتے ہیں جس کے لیے جمع کیا گیا تو اس وقت تک نہیں جاتے جب تک آپ سے اجازت نہ لیں، بلاشبہ جو لوگ آپ سے اجازت لیتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، سو جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جسے چاہیں اجازت دیدیں اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجیے بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے

اہل ایمان رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جاتے ہیں درمنثور ص 60 ج 5 میں لکھا ہے کہ غزوہ احزاب (جسے غزوہ خندق بھی کہتے ہیں) کے موقع پر قریش مکہ ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ منورہ کی آبادی کی قریب بئر رومہ کے پاس ٹھہر گئے اور قبیلہ بنی غطفان کے لوگ آئے تو یہ لوگ احد کی طرف آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کی آمد کی خبر ہوگئی۔ اس موقعہ پر خندق پہلے ہی کھو دی جا چکی تھی۔ جس میں مسلمانوں نے خوب خوشی سے حصہ لیا۔ لیکن منافقین اول تو دیر میں آتے تھے اور جب آتے تھے تو تھوڑا بہت کام کردیتے تھے پھر جب جانا ہوتا تو رسول اللہ کے علم اور اجازت کے بغیر چپکے سے کھسک جاتے تھے اور مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ جب کوئی ضرورت پیش آتی تھی تو رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جاتے تھے پھر جب ضرورت پوری ہوجاتی تھی تو واپس آجاتے تھے۔ اللہ جل شانہٗ نے آیت بالا میں اہل ایمان کی توصیف فرمائی اور منافقین کی دنیا سازی اور بےوفائی کا تذکرہ فرمایا چونکہ منافقین کے دلوں میں ایمان ہی نہیں تھا دنیا سازی اور ریا کاری کے لیے اپنا مومن ہونا ظاہر کرتے تھے اس لیے اس سے ایسی چیزیں ظاہر ہوتی رہتی تھیں جو یہ بتا دیتی تھیں کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ یہ لوگ نماز بھی جھٹ پٹ پڑھتے تھے اور عشاء اور فجر کی نمازوں میں حاضر ہونے سے جان چراتے تھی جو نماز تھی وہ بھی ریا کاری کی نماز تھی، جہاد میں جاتے تھے تو وہاں بھی شرارت کرتے تھے جس کا ذکر سورة توبہ میں گزر چکا ہے جس کا ظاہر باطن ایک نہ ہو وہ کہاں تک ظاہر داری قائم رکھ سکتا ہے کہیں نہ کہیں جا کر یہ بات کھل ہی جاتی ہے کہ یہ دل سے مومن نہیں ہے۔ قال صاحب الروح والتسلل الخروج من البین علی التدریج والخفیۃ وقد للتحقیق و قولہ تعالیٰ لو اذا ای ملاوذۃ بان یستتر بعضھم ببعض حتی یخرج سورة توبہ میں بھی منافقین کی اس حرکت کو بیان فرمایا ہے (وَ اِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ھَلْ یَرٰیکُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ ) (اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو منافقین آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کسی نے دیکھا تو نہیں پھر چلے جاتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اس سبب سے کہ وہ سمجھتے نہیں) ۔ حضرت امام ابو داؤد نے اپنی کتاب مراسیل میں لکھا ہے کہ جب حضرات صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور کسی کو نکسیر پھوٹنے یا کسی ضرورت سے جانا ہوتا تو وہ آنحضرت ﷺ کی طرف انگوٹھے کی پاس والی انگلی سے اشارہ کردیتا تھا آپ بھی ہاتھ کے اشارہ سے اجازت دے دیتے تھے اور منافقین کا یہ حال تھا کہ خطبہ سننا اور مجلس میں بیٹھنا ان کے لیے بھاری کام تھا جب مسلمانوں میں سے کوئی شخص باہر جانے کے لیے آپ سے اجازت طلب کرتا تو منافق یہ کرتے تھے کہ اس مسلمان کی بغل کے پاس کھڑے ہو کر اسے آڑ بنا کر نکل جاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ ) (آخر تک) نازل فرمائی شان نزول گو خاص ہو لیکن آیات کا مفہوم عام ہوتا ہے مسلمانوں کی تعریف بھی فرمائی اور اس کے ذیل میں یہ بھی فرما دیا اہل ایمان کا یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی ضرورت یا کسی مشورہ کے لیے بلائیں تو حاضر ہوجائیں اور اللہ کے رسول ﷺ کے بلاوے کو ایسا نہ سمجھیں جیسا کہ آپس کے بلاوے کو سمجھتے ہیں (چاہے گئے چاہے نہ گئے) آپ کے بلانے پر فوراً آجائیں اور جب تک آپ مجلس بر خاست نہ کریں جم کر بیٹھے رہیں اگر مجلس کے درمیان سے جانا ہو تو آپ سے اجازت لے کر جائیں۔ منافقوں کی طرح چپکے سے نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ جب اہل ایمان آپ سے چلے جانے کی اجازت مانگیں تو آپ جسے چاہیں اجازت دے دیں ضروری نہیں کہ سبھوں کو اجازت دیں ممکن ہے کہ جس ضرورت کے پیش نظر اجازت مانگ رہے ہیں وہ واقعی ضروری نہ ہو یا ضروری تو ہو لیکن مجلس کو چھوڑ کر چلے جانے سے اس سے زیادہ کسی ضرر کا خطرہ ہو اس لیے اجازت دینا نہ دینا آنحضرت ﷺ پر چھوڑ دیا گیا۔ ساتھ ہی (وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ اللّٰہَ ) بھی فرمایا کہ آپ ان کے لیے استغفار بھی کریں۔ کیونکہ جس دینی ضرورت کے لیے جمع کیا گیا ہے اسے چھوڑ کر جانا اگرچہ عذر قوی ہی ہو اس میں اپنی ذاتی ضرورت کو دین پر مقدم رکھنے کی ایک صورت نکلتی ہے اس میں اگرچہ گناہ نہ ہو مگر کوتاہی کا شائبہ ضرور ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس عذر کو قوی سمجھ کر اجازت لی اسے قوی سمجھنے میں ہی خطاء اجہتادی ہوگئی ہو الہٰذا آپ اجازت دینے کے ساتھ ان کے لیے استغفار بھی کریں۔ (اِِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ) (بےشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم اپنے درمیان رسول اللہ کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک اللہ ان کو جانتا ہے جو تم میں سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں۔ سو جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی مصیبت آپڑے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب پہنچ جائے۔

(لاَ تَجْعَلُوْا دُعَاء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) کا ایک مطلب تو مفسرین کرام نے یہ لیا ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ بلائیں تو حکم ماننا واجب ہے ضرور حاضر خدمت ہوجاؤ آپ کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسا آپس میں ایک دوسرے کے بلاوے کو سمجھتے ہیں کہ جس بلاوے کو چاہا اہمیت دی اور جس کو چاہا نظر انداز کردیا (اگرچہ اس میں بھی حقوق مسلم میں یہ بتایا کہ و یجیبہ اذا دعاہ لیکن اس درجہ کی تاکید نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی بلاوے کی اہمیت ہے جس کی خلاف ورزی حرام ہے) اور بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ دعاء الرسول میں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہے اور مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کچھ عرض کرنا ہو کوئی بات کرنی ہو تو ادب کو ملحوظ رکھو۔ یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہو یا محمد نہ کہو، بات کرنے میں ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس سے آپ کو تکلیف پہنچے اس کو سورة حجرات میں یوں بیان فرمایا (آیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْہَرُوْا لَہٗ بالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ) (اے ایمان والوں اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز پر بلند مت کرو اور بات کرنے میں اس طرح زور کی آواز سے نہ بولو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کی بات پر زور سے آواز نکالتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں پتہ نہ چلے) ۔ پھر فرمایا (فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہِ ) (جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ انہیں کوئی فتنہ یا درد ناک عذاب پہنچ جائے) فتنہ سے دنیا میں مصیبت اور مشقت میں پڑنا مراد ہے اور درد ناک عذاب سے اخروی عذاب مراد ہے اس میں منافقین کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم جو رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے اور چپکے سے مجلسوں سے کھسک جاتے ہو اس کو معمولی بات نہ سمجھنا اس کی وجہ سے دنیا میں بھی مبتلائے ہوسکتے ہو اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے درد ناک عذاب ہے ہی۔ امرہ کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں لفظ اللہ کی طرف راجع ہو یا رسول اللہ ﷺ کی طرف لیکن ہر صورت میں مآل واحد ہے کیونکہ رسول ﷺ کا حکم دینا در حقیقت اللہ ہی کا حکم دینا تھا اسی لیے سورة نسا میں (یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ) فرمایا ہے۔ فائدہ : علماء کرام نے فرمایا ہے کہ جس طرح رسول ﷺ کے بلانے پر جمع ہونا لازم تھا اسی طرح جب آپ کے خلفاء اور علماء اور امرائے اسلام اور دینی مدارس کے ذمے دار اور مساجد کے متولی اور جہاد کے منتظمین کسی دینی ضرورت کے لیے بلائیں تو حاضر ہوجائیں اور مجلس کے ختم تک بیٹھے رہیں اگر درمیان میں جانا ہو تو اجازت لے کر جائیں۔ فائدہ : حضرات فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ (فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ ) سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ مطلق امر وجوب کے لیے ہے کیونکہ واجب کی حکم عدولی ہی پر عذاب کی وعید ہوسکتی ہے سلسلہ کلام گو منافقین کی حکم عدولی کے بارے میں ہے لیکن الفاظ کا عموم ہر خلاف ورزی کرنے والے کو شامل ہے۔ عام بات تو یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے لیکن جہاں کہیں وجوب کے لیے نہیں ہے وہاں سنت یا مستحب ہونے کا پتہ قرائن سے یا طرز بیان سے اور سیاق کلام سے معلوم ہوجاتا ہے۔ بہت سے لوگ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سامنے آتا ہے تو حکم عدولی کرتے ہیں نفس کے تقاضوں اور بیوی بچوں کے مطالبات اور رسم و رواج کے پابندی اور حب دنیا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی قصداً صریح خلاف ورزی کر جاتے ہیں اور بعض تو مولویوں کو صلواتیں سناتے ہیں۔ چوری اور سینہ زوری اور زبانی کٹ حجتی پر اتر آتے ہیں۔ ڈاڑھی کا ٹنے ہی کو لے لو، رشوت کے لین دین کو سامنے رکھ لو، خیانتوں کا اندازہ لگا لو اور دیکھو کہ زندگی میں کہاں کہاں احکام شرعیہ کے خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ ان کی خلاف ورزی پر وعید شدید ہے ہر شخص اپنی زندگی کا جائز ہ لے اور دیکھے کہ کہاں کہاں اور کس کس عمل سے آخرت کی بربادی ہو رہی ہے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبر دار بلاشبہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، بلاشبہ وہ جانتا ہے کہ تم کس حال پر ہو، اور جس دن وہ اس کی طرف لوٹائے جائینگے وہ اس دن کو بھی جانتا ہے پھر وہ انہیں بتلا دے گا جو عمل انہوں نے کیے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے، اسے سب کچھ معلوم ہے یہ سورة نور کی آخری آیت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے اسے اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے، کوئی شخص کچھ بھی کرے اللہ تعالیٰ کو سب کا حال معلوم ہے۔ قیامت کے دن حاضر ہونگے تو سب بتادے گا۔ کوئی چیز اور کوئی عمل اس کے علم سے باہر نہیں لہٰذا سب فرماں برداری کریں اور آخرت کے مواخذہ سے بچیں۔ و قد تم تفسیر سورة النور لیلۃ الحادی عشر من جمادی الثانیۃ سنۃ 1415 ھجریہ والحمد للّٰہ علی الافضال و الانعام والصلوۃ علی رسولہ سید الانام و علی الہ و اصحابہ الذین اتبعوہ فاھتدوا بہ واستناروا بالنور التام و علی من تبعھم باحسان الی یوم القیام