24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے اس کو سناتو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپس والوں کے ساتھ اچھا گمان کیوں نہ کیا اور یوں کیوں نہ کہا کہ یہ صریح تہمت ہے

پھر فرمایا (لَوْلاَ اِِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَا اِِفْکٌ مُّبِیْنٌ) (جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے بارے میں یہ گمان کیوں نہ کیا کہ یہ بات صریح جھوٹ ہے) اس میں ان مسلمانوں مردوں اور عورتوں کو بھی نصیحت ہے جو عبداللہ بن ابی کی باتوں میں آکر تہمت والی بات میں ساتھ لگ لیے تھے اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو بات سن کر چپ رہ گئے یا شک میں پڑگئے یعنی سب پر لازم تھا کہ نیک گمان کرتے اور بات سنتے ہی یوں کہہ دیتے کہ یہ صاف اور صریح جھوٹ ہے اس میں یہ بتادیا کہ جب کسی مومن مرد عورت پر تہمت لگائی جائے تو فوراً وہاں کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے، اور حسن ظن سے کام لیں بد گوئی میں بھی ساتھ نہ ہوں اور بد گمانی بھی نہ کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان مرد عورت کے ساتھ اچھا گمان رکھنا واجب ہے اور جو شخص بلا دلیل شرعی کسی پر تہمت دھرے اس کی بات کو جھٹلانا اور رد کرنا بھی واجب ہے کیونکہ اس میں بلا وجہ مسلمان کی بےآبروئی ہے اور رسوائی ہے۔ حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے کسی مومن کی حمایت کی کسی منافق کی بد گوئی سے اسے بچایا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔ اور جس کسی نے کسی مسلمان کو عیب لگا دیا اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے پل پر کھڑا کرے گا۔ یا تو اس سے نکل جائے یا وہیں کھڑا رہے گا (رواہ ابو داؤد) یعنی جس کو عیب لگایا تھا یا تو اسے راضی کرے یا اپنے کہے کی سزا پائے، یہاں عورتیں خاص کر دھیان دیں جو بات بات میں ایک دوسری کو چھنال، حرامزادی رنڈی فلاں سے پھنسی ہوئی کہہ دیتی ہیں، ساس بہو نند بھاوج کی لڑائیوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے، اور بعض عورتیں تو اپنی لڑکیوں کو بھی نہیں بخشتی ہیں چھنال وغیرہ تو ان کا تکیہ کلام ہی ہوجاتا ہے۔ (اللہ تعالیٰ جہالت سے بچائے) ۔ حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے غائبانہ اپنے بھائی کی طرف سے دفاع کیا (غیبت کے ذریعہ جس کا گوشت کھایا جا رہا تھا اس کی صفائی دی) اللہ تعالیٰ نے اس دفاع کرنے والے کے لیے اپنے اوپر یہ واجب کرلیا ہے کہ اسے دوزخ سے آزاد فرمائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 424) حضرت ابو الدرداء ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بھی کوئی مسلمان اپنے بھائی کی آبرو کی طرف سے دفاع کرے گا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ قیامت کے دن اسے دوزخ کی آگ سے دور رکھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 424) آیت شریفہ میں یہ تعلیم دی ہے کہ اھل ایمان کے بارے میں بد گمانی سے بچیں ایک حدیث میں ارشاد ہے ایاکم و الظن فان الظن اکذب الحدیث (کہ تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب باتوں میں جھوٹی چیز ہے) (رواہ البخاری) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے حسن الظن من حسن العبادۃ کہ نیک گمانی اچھی عبادت سے ہے۔ (رواہ ابو داؤد) یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے اللہ جل شانہٗ نے یوں فرمایا (لَوْلاَ اِِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنفُسِہِمْ خَیْرًا) (جب تم نے یہ بہتان والی بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا) ۔ اس میں جو بانفسھم فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ سب مسلمان آپس میں ایک ہی ہیں اگر کسی مسلمان پر تہمت لگائی جائے تو سننے والے مسلمان یوں سمجھیں کہ یہ تہمت ہمیں ہی لگائی گئی ہے اور اس میں ہماری اپنی رسوائی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة حجرات میں ہے (لاَ تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ) فرمایا ہے چونکہ سب مسلمان ایک ہی ہیں اس لیے ایک کو تہمت لگنا یا لگانا سب کو تہمت لگانے کے ہم معنی ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب اہل ایمان آپس میں مل کر ایسے ہیں جیسے ایک ہی شخص ہو اگر آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ (رواہ مسلم) لہٰذا جب ایک مسلمان کو جسمانی اور روحانی تکلیف پہنچے یا کوئی تہمت لگائی جائے تو سب کو تڑپ اٹھنا چاہئے تکلیف دور کرنے کے لیے سب فکر مند ہوں اور جو تہمت لگی ہے ہر شخص یوں سمجھے کہ یہ تہمت مجھے لگائی گئی ہے پھر تہمت لگانے والے کے بارے میں یوں بھی کہے کہ یہ جھوٹا ہے مسلمان کی حمایت بھی کرے اور اس کے طرف سے دفاع بھی کرے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، سو جب وہ گواہ نہ لائے تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں،

(لَوْلاَ جَاءُوا عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاءَ ) (یہ لوگ اپنی بات پر چار گواہ کیوں نہ لائے) (فَاِِذْ لَمْ یَاْتُوا بالشُّہَدَاءِ فَاُوْلٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ھُمُ الْکَاذِبُوْنَ ) (سو جب وہ گواہ نہ لائیں تو اللہ کے نزدیک یعنی اس کے نازل فرمودہ قانون شرعی کے اعتبار سے جھوٹے ہیں) اس میں تہمت لگانے والوں کو تنبیہ ہے کہ بن دیکھے ایک مسلمان مرد اور ایک مسلمان عورت پر تہمت لگا رہے ہیں، جو لشکر سے پیچھے رہ گئے کیا لشکر سے پیچھے رہ جانا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی طرف بری بات منسوب کی جائے نہ خود دیکھا اور نہ کسی اور شخص نے گواہی دی بس برائی کی تہمت لگا کر اچھالنا شروع کردیا ان کا جھوٹا ہونا اسی سے ظاہر ہے۔ اگر کسی کو کوئی شخص تہمت لگائے تو اس کے لیے چار عینی گواہ پیش کرے، گواہ نہ ہوں تو وہ قانون شرعی میں جھوٹا مانا جائے گا۔ اور اس پر حد قذف لگے گی جس کا پہلے رکوع میں ذکر ہوچکا ہے اس میں حکام اور قضاۃ کو بتادیا کہ جو شخص کسی پر تہمت دھرے اس سے چار گواہ طلب کریں اگر وہ چار گواہ نہ لایا تو اس کو جھوٹا سمجھیں اور اس پر حد قائم کردیں چونکہ یہ آبرو کا معاملہ ہے اس لیے اس ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے اور دیگر حقوق کے ثابت کرنے کے لیے دو گواہوں پر کفایت کی گئی ہے۔ یہاں یہ شبہ ہوتا ہے جب یہ قانون شرعی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے تہمت لگانے والوں سے کیوں گواہ طلب نہ فرمائے۔ گواہ طلب فرماتے اور چونکہ وہ گواہ طلب کرنے سے عاجز تھے اس لیے دن کے دن تہمت لگانے والوں پر حد جاری فرما دیتے ایک مہینہ تک پریشانی میں مبتلا رہنے کی کیا ضرورت تھی، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رحمتہ اللعالمین تھے آپ کہ یہ گوارا نہ تھا کہ ایمان لانے کے باو جود کوئی شخص آپ کی طرف سے بد گمان ہو کر اور کوئی ایسا ویسا کلمہ زبان سے نکال کر کافر ہوجائے بات کا اٹھانے اور پھیلانے والا تو منافقوں کا سردار تھا لیکن تین مسلمان بھی اس کے ہمنوا ہوگئے تھے اور بعض مسلمان خاموش تھے بعض متردد تھے اگر بات سنتے ہی اس وقت چٹ پٹ حد لگا دی جاتی تو اندیشہ تھا کچھ لوگ یوں خیال کرلیتے یا زبان سے کہہ دیتے کہ دیکھا چونکہ اپنا معاملہ تھا اس لیے بات کہنے والوں کی پٹائی کر کے دبا دیا اگر کوئی ایسا کہتا تو کافر ہوجاتا لوگوں میں سب طرح کے آدمی ہوتے ہیں ضعیف الایمان بھی پائے جاتے ہیں اور اس وقت مولفتہ القلوب بھی تھے اس لیے آپ نے ضعیف الایمان لوگوں کو ایمان پر باقی رکھنے کے لیے اپنی جان پر تکلیف برداشت فرما لی اور معاملہ کی تحقیق فرمائی پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے برأت نازل ہوگئی تو سب کو ماننا پڑا اور آپ نے بھی حد جاری فرما دی۔ یہ بات ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جب کسی کی بیوی کو تہمت لگائی جائے اور وہ غلط بھی ثابت ہوجائے تو وہ اسے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کرسکتا رسول اللہ ﷺ کی چہیتی بیوی کو تہمت لگائی گئی تو اس کا ذکر قرآن مجید میں نازل ہوگیا اگر قرآن مجید اللہ کی کتاب نہ ہوتی یا آپ کی لکھی ہوئی ہوتی یا آپ کو کسی آیت یا مضمون کو چھپانے کا اختیار ہوتا تو آپ تہمت والے مضمون کو باقی نہ رکھتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید نہ آپ کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور نہ آپ کو کسی آیت یا مضمون کے چھپانے کا اختیار تھا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا حکم الہٰی کے مطابق اللہ کے بندوں تک پہنچایا۔
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات میں تم لگے رہے اس کی وجہ سے تم پر بڑا عذاب واقع ہوجاتا

(وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَا اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) یہ آیت ان مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بےاحتیاطی کی وجہ سے اس تہمت میں کسی قسم کی شرکت کر بیٹھے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان پر رحم فرمایا کہ توبہ کی توفیق دے دی اور آخرت کی معافی کا بھی وعدہ فرمایا اگر اللہ کی طرف سے توبہ کی توفیق نہ ہوتی تو جس شغل میں لگے تھے اس کی وجہ سے بڑا عذاب آجاتا۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اس بات کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے اور اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم نہیں ہے، اور تم اسے ہلکی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی بھاری بات ہے،

(اِِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَتَحْسَبُوْنَہٗ ھَیّْنًا وَّھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ) (جبکہ تم اس بات کو ایک دوسرے کے منہ سے سنتے تھے اور اپنے منہ سے نکالتے تھے اور ایسی بات کر رہے تھے کہ جس کا تمہیں علم نہیں اور تم خیال کر رہے تھے کہ یہ ہلکی بات ہے حالانکہ وہ اللہ کے نردیک بڑی بات ہے) یعنی جو کوئی کسی پر تہمت رکھی جائے اسے سننا لے اڑنا دوسروں تک پہنچانا بڑا گناہ ہے اور اس بات کو ہلکا سمجھنا سخت غلطی کی بات ہے اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جب کسی کے بارے میں کوئی تہمت کی بات کہی جائے تو اسے نقل کر کے اپنی ذات کو یوں کہہ کر بےقصور قرار دینا کہ ہم نے تو تہمت نہیں گڑھی ہم نے تو سنی ہوئی بات نقل کی ہے یہ بھی ایمانی تقاضوں کے خلاف ہے تہمت والی بات کو نقل کرنا ہی گناہ ہے اور بڑا گناہ ہے۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اس کو سنا تو یوں کیوں نہ کہا کہ یہ بات اس لائق نہیں ہے کہ ہم اسے اپنے منہ سے نکالیں سبحان اللہ یہ بڑا بہتان ہے،

(وَلَوْلاَ اِِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَا یَکُوْنُ لَنَا اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَا) جب اس بات کو سنا تو تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ ہم اس بات کو اپنی زبان پر نہیں لاسکتے۔ (سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ) (یعنی تمہیں اس بات کو سنتے ہی تعجب سے یوں کہنا چاہئے کہ سبحان اللہ یہ بڑا بہتا ہے) اس میں مسلمانوں کو یہ بتایا کہ تہمت والی خبر سنتے ہی صاف کہہ دیں کہ ہم اسے زبان پر نہیں لاسکتے یہ تو بہتان عظیم ہے۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ پھر کبھی بھی تم ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو،

(یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖ اَبَدًا اِِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو پھر ایسی حرکت مت کرنا) ۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

(وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ تمہارے لیے واضح طور پر آیات بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے) اس میں حد قذف قبول توبہ نصیحت موعظت سب داخل ہیں جن کو ندامت تھی اس کی توبہ قبول فرما لی اور حد جاری کرنے میں حکمت تھی اس لیے حد بھی جاری کرا دی۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہے کہ ایمان والوں میں بےحیائی کی بات کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

(اِِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ) (بلاشبہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بد کاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے) اس آیت میں بطور قاعدہ کلیہ ایک بات بتادی اور یہ فرمایا کہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بےحیائی کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کو تہمت لگانے میں حصہ لیا اس میں ان کو بھی تنبیہ ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کو بھی تنبیہ ہے تہمت لگانا تو گناہ ہے ہی اگر کوئی شخص کسی کو تہمت لگا دے یا کسی شخص سے بےحیائی کا گناہ صادر ہو ہی جائے اور اس کا کسی کو پتہ چل جائے تب بھی اس بات کو نہ اچھالے گناہ گار کی پردہ پوشی کرے ہاں سمجھانے کا اہل ہو تو اصلاح کی نیت سے احسن طریقہ پر سمجھا دے اگر دلیل شرعی سے ثابت ہوجائے کہ فلاں شخص نے بےحیائی کا کام کیا ہے تو امیر المومنین یا قاضی حسب قانون شرعی حد جاری کر دے اس حد جاری کرنے میں بھی بےحیائی کی روک تھام ہے۔ بےحیائی کا عملی طور پر پھیلانا یا کسی بےحیائی والے کام کا چرچا کرنا اور شہرت دینا یہ سب (یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ ) میں داخل ہے جو لوگ ایسی حرکت کریں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں عذاب الیم کی وعید بیان فرمائی۔ آج کل فواحش اور منکرات کا زور ہے یہود و نصاریٰ مسلمانوں میں بےحیائی کا رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور مسلمان خود بھی ایسی ایسی فلمیں دیکھتے اور بناتے ہیں اور ایسے ایسے اخبار و رسالے شائع کرتے ہیں اور ایسے ایسے ناول اور افسانے لکھتے ہیں جن سے مسلمانوں میں بےحیائی کا چرچا ہوتا ہے ان کو سب (لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ) کی وعید شامل ہے۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات کہ اللہ بڑا مہربان ہے بڑی رحمت والا ہے تو تم بھی نہ بچتے۔

(وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَءُ وْفٌ رَحِیْمٌ) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور رحمت ہے اور یہ بات کہ اللہ رؤف ہے رحیم ہے تو تم بھی نہ بچتے۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو شیطان کے قدموں کا اتباع نہ کرو، اور جو شخص شیطان کے قدموں کے پیچھے چلتا ہے سو وہ بےحیائی کے کاموں کا اور برائیوں کا حکم دیتا ہے، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کبھی بھی کوئی شخص پاک نہ ہوتا، لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے،

شیطان کے اتباع سے بچو، خیر کے کام سے بچنے کی قسم نہ کھاؤ، بہتان لگانے والوں کے لیے عذاب عظیم ہے، پاکیزہ لوگوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے یہ چھ آیات ہیں ان کا تعلق بھی انہیں مضامین سے ہے جو سورة کے شروع سے لے کر اب تک بیان کیے گئے۔ پہلی آیت میں اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ شیطان کے قدموں کا اتباع نہ کرو۔ یعنی اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر نہ چلو جو شخص شیطان کا اتباع کرے گا یعنی اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا شیطان اسے برباد کر دے گا کیونکہ وہ بےحیائی کے کاموں کا اور طرح طرح کی برائیوں کا حکم دیتا ہے جس نے اس کی بات مانی وہ گمراہی کے گڑھے میں گرا، پھر اگر توبہ نہ کی تو ہلاک ہوا۔ پھر فرمایا کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی توفیق ہی نہ ہوتی جیسا کہ منافقین نفاق پر بھی اڑے رہے حضرت صدیقہ کو تہمت لگائی اس پر بھی جمے رہے۔ (وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّی مَنْ یَّشَآءُ ) (اور لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاکیزہ بنا دیتا ہے) گناہ گاروں کو توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اور جس پاک دامن کو تہمت لگا دی جائے اس کی برأت کا راستہ نکال دیتا ہے۔ (وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے) ہر شخص کی اچھی بری بات کو سنتا ہے اور ہر ایک کے ہر عمل کو جانتا ہے۔
Ayahs 24:22–24

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے بڑے درجے والے اور وسعت والے ہیں وہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو مال نہ دینے کی قسم نہ کھا لیں اور معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ بیخبر مومن عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کردی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس روز ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دینگے جو یہ لوگ کیا کرتے تھے،

دوسری آیت (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ ) میں یہ فرمایا کہ تم میں سے بڑے درجے والے اور وسعت والے ایسی قسمیں نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ پر مال خرچ کیا کرتے تھے جب مسطح نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تہمت لگانے والے کا ساتھ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر صدیق نے قسم کھالی کہ اب تجھ پر خرچ نہ کروں گا۔ اس پر آیت کریمہ (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ تفسیر درمنثور میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو اور درگزر کا حکم ہوا اور اللہ نے یوں بھی فرمایا (اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ ) (کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے) تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو بلایا اور انہیں یہ آیت سنائی اور فرمایا (اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ ) (کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے) حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں تو ضرور یہ چاہتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت فرمائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لہٰذا تم معاف کرو درگزر کرو اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اب تو یہ ضروری بات ہوگئی کہ آج سے پہلے میں جو کچھ مسطح پر خرچ کیا کرتا تھا اسے نہیں روکوں گا وہ بد ستور جاری رہے گا۔ درمنثور میں ایک روایت یہ بھی نقل کی ہے کہ آیت بالا نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت مسطح پر اس سے دو گنا خرچ فرمایا کرتے تھے۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ اگر میں کوئی قسم کھا لوں پھر قسم کی خلاف ورزی کرنے میں خیر دیکھوں تو قسم کا کفارہ دے دوں گا اور جو بہتر کام ہے اسی کو کروں گا۔ درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر کے علاوہ اور بھی صحابہ تھے جن لوگوں نے اپنے ان رشتہ داروں کا خرچہ بند کرنے کی قسم کھالی تھی جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے میں کچھ حصہ لیا تھا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے سب کو تنبیہ کی اور آیت بالا نازل فرمائی۔ (ج 5 ص 34، 35) تیسری اور چوتھی اور پانچوں آیت میں پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانے والوں کی سزا اور دنیا اور آخرت کی بد حالی کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ جو لوگ ان عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں جو پاک دامن ہیں اور برے کاموں سے غافل ہیں اور مومن ہیں ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے، پھر فرمایا کہ ان کی بد حرکتوں کا ثبوت قیامت کے دن خود ان کے اپنے اعضاء کی گواہی سے ہوگا۔ قیامت کے دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو کام وہ لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے، زبان کہے گی اس نے مجھے فلاں فلاں بری باتوں میں استعمال کیا اور ہاتھ پاؤں کہیں گے کہ اس نے ہمیں گناہ گاری کے فلاں فلاں کام میں استعمال کیا۔ یہاں جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ سورة یٰسین میں (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ ) فرمایا (کہ ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) اور سورة نور میں فرمایا ہے (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ ) فرمایا (کہ ان کی زبانیں گواہی دیں گے) اس میں بظاہر تعارض ہے، اس اشکال میں جواب یہ ہے کہ یہ مختلف اوقات میں ہوگا بعض اوقات میں زبانیں گونگی ہوجائیں گی ان پر مہر لگا دی جائے گی ان پر مہر لگا دی جائے گی کچھ بول نہ سکیں گے پھر بعد میں زبان کو بولنے کی طاقت دیدی جائے گی اور جس کی زبان تھی خود زبان اس کے خلاف گواہی دیگی۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو پوری سزا دے دے گا، جو ان کی واقعی سزا ہوگی اور وہ لوگ جان لیں گے کہ بلاشبہ اللہ حق ہے اور ظاہر فرمانے والا ہے۔

(یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیہِمْ اللّٰہُ ) (الایۃ) اس روز اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا بدلہ دے دیگا جو ان کا واقعی بدلہ ہوگا۔ یہ بدلہ عذاب کی صورت میں سامنے آئے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ صحیح اور ٹھیک فیصلہ دینے والا ہے اور وہ حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ یہاں دنیا میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے اعمال کا محاسبہ نہیں ہوگا یہ اس کی جہالت اور ضلالت کی بات ہے قیامت کے دن جب محاسبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے سامنے آجائیں گے جو بالکل حق اور صحیح ہونگے، مجرمین یہ جان لیں گے کہ ہمارا یہ سمجھنا کہ ہماری حرکتوں کا کسی کو پتہ نہ چلے گا غلط نکلا اللہ تعالیٰ نے سب کو ظاہر فرما دیا۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں ہیں جنہوں نے آیات برأت نازل ہونے کے بعد بھی توبہ نہ کی اور تہمت والی بات سے باز نہ آئے۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لائق ہیں، یہ لوگ اس سے بری ہیں جو تہمت لگانے والے کہتے ہیں ان کے لیے مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے۔

چھٹی آیت میں فرمایا کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لائق ہیں، اس میں اول تو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے طبیعتوں میں جوڑ رکھا ہے گندی اور بد کار عورتیں بد کار مردوں کی طرف اور گندے اور بد کار مرد گندی اور بد کار عورتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اس طرح پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کی طرف اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور اسی طبعی رغبت کی مناسبت کی وجہ سے اچھوں کی اچھا جوڑا مل جاتا ہے اور بروں کو برا جوڑا حاصل ہوتا ہے اس سے معلوم ہوگیا حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جو اللہ تعالیٰ نے بیویاں عطا فرمائیں وہ پاکیزہ بیویاں تھیں رسول اللہ ﷺ جو تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کے سردار ہیں ان کی ازواج بھی طاہرات اور مطہرات اور پاکیزہ ہیں جب اللہ تعالیٰ انہیں سردار انبیاء ﷺ کی زوجیت کا شرف عطا فرما دیا تو اب ان کے بارے میں بری بات کا خیال کرنا اور زبان پر لانا رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس پر حملہ کرنے کے مترادف ہوا۔ اسی لیے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے والوں کے بارے میں (جنہوں نے بری بات کو اٹھایا اور آگے بڑھایا اور پھیلایا اور پھر آیت قرآنیہ نازل ہونے پر بھی توبہ نہ کی) (لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ) فرما دیا (اُولٰٓءِکَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ ) (یہ پاکیزہ مرد اور پاکیزہ عورتیں ان چیزوں سے بری ہیں جو لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں تہمت لگاتے ہیں) (لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیمٌ) (ان کے لیے گناہوں کی مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے) یعنی ان کے لیے جنت ہے جس میں عزت کے ساتھ کھائیں گے۔ (مُبَرَّءُ وْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ ) میں حضرت عائشہ ؓ کی برأت کی تصریح کے ساتھ حضرت صفوان بن معطل ؓ کی برأت کی بھی تصریح آگئی۔ (معالم التنزیل ج 3 ص 335) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے چند چیزوں پر فخر ہے پھر اس کو اس طرح بیان فرماتی تھیں (1) کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے علاوہ کسی باکرہ یعنی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا (2) رسول اللہ ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ میری گود میں تھے۔ (3) اور آپ میرے گھر میں دفن ہوئے۔ (4) اور آپ کے اوپر (بعض مرتبہ) ایسی حالت میں وحی آتی تھی کہ آپ میرے ساتھ ایک ہی لحاف میں ہوتے تھے۔ (5) اور آسمان سے میری برأت نازل ہوئی۔ (6) میں رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اور دوست (یار غار) کی بیٹی ہوں۔ (7) اور میں پاکیزہ پیدا کی گئی۔ (8) اور مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ فرمایا گیا۔ اور الاصابہ میں بحوالہ طبقات ابن سعد حضرت عائشہ ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ مجھے چند ایسی نعمتیں عطا کی گئی ہیں جو میرے علاوہ کسی اور عورت کو نصیب نہیں ہوئیں۔ (1) میں سات سال کی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا ہے۔ (2) فرشتہ میری صورت آپ کے پاس ایک ریشمی کپڑے میں لے کر آیا تاکہ آپ ﷺ مجھے دیکھ لیں۔ (3) میں نو سال کی تھی جب زفاف ہوا۔ (4) میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔ (5) میں بیویوں میں آپ کی سب سے زیادہ محبوب تھی۔ (6) میں نے آپ کی آخری حیات میں آپ کی تیمار داری کی میرے ہی پاس آپ کی وفات ہوئی آپ کی وفات کے وقت میرے اور فرشتوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ (انتھی) (وراجع الدر المنثور ج 5 ص 32) بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹے بچہ کو قوت گویائی دی اور اس کے ان کی برأت ظاہر کی اور حضرت مریم (علیہ السلام) پر تہمت لگائی گئی تو ان کے فرزند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (جبکہ وہ گود ہی میں تھے) ان کی برأت ظاہر کی اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگائی گئی اور ان کی برأت ظاہر فرمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد آیات نازل فرمائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو جو تہمت لگائی گئی تھی قرآن مجید میں ان کی برأت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے تہمت لگانے والوں کو جھوٹا قرار دیا اور جنہوں نے آیت نازل ہونے کے بعد بھی اعتقاد تہمت سے توبہ نہ کی ان کے لیے فرمایا کہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان کے لیے عذاب عظیم ہے اور یہ بھی فرمایا ان کی حرکت کا اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا اس سب کے باو جود مدعیان اسلام میں جو شیعہ فرقہ ہے وہ یہی کہتا ہے کہ حضرت عائشہ پر جو تہمت لگائی تھی وہ صحیح تھی اور ساتھ ہی یہ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ جب امام مہدی تشریف لائیں گے تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو قبر سے نکال کر حد لگائیں گے (العیاذ باللہ) یہ لوگ آیت قرآنیہ کے منکر اور مکذب ہونے کی وجہ سے کافر ہیں اور (لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ) کا مصداق ہیں (قَاتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفِکُوْنَ ) ۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ انسیت حاصل نہ کرلو اور ان گھروں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرلو۔

دوسروں کے گھر جانے میں اندر آجانے کی اجازت لینے کی ضرورت اور اہمیت، استیذان کے احکام و آداب یہاں سے سورة نور کا تیسرا رکوع شروع ہو رہا ہے شروع سورت سے فواحش اور بےحیائی کی روک تھام اور بےحیائی والے کام کی سزا اور تہمت لگانے کی مذمت کا بیان تھا۔ جو فواحش اور منکرات ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ یوں ہی آن واحد میں موجود نہیں ہوجاتے، ان سے پہلے کچھ ایسے اسباب اور دواعی ہوتے ہیں جو قریب کرتے کرتے ایک دن بےحیائی کے کام پر ڈال دیتے ہیں ان میں ایک بہت بڑا سبب ایسی جگہ نظر کا پڑجانا بھی ہے جہاں نظر کا ڈالنا ممنوع ہے نظر کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے گھروں میں داخل ہونے کے واسطے اجازت لینے کا حکم دیا ہے اور ان آیات میں اجازت لینے کا قانون بتایا ہے، ارشاد فرمایا ہے کہ جو گھر تمہارے نہیں ہیں (یعنی جن میں تم نہیں رہتے) ان میں انسیت حاصل کیے بغیر داخل مت ہو۔ انسیت حاصل کرنے سے اجازت لینا مراد ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر (حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوا) سے کی ہے۔ جو شخص اندر آنا چاہتا ہے اجازت لیتا ہے نام بتاتا ہے وہ صاحب خانہ سے مانوس ہوتا ہے اور انہیں اپنی ذات سے مانوس کرتا ہے اس لیے (حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوا) فرمایا اور ساتھ ہی (وَتُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِہَا) بھی فرمایا یعنی اجازت لینے کے ساتھ سلام کرنے کا حکم دیا ایک صحابی سلام کیے بغیر اور اجازت لیے بغیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی حاضر ہوگئے آپ نے فرمایا کہ واپس جاؤ اور یوں کہو السلام علیکم ادخل (تم پر سلام ہو کیا میں داخل ہوجاؤں) ۔ (رواہ ابو داؤد) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کہ لا تاذنو المن لم یبدا بالسلام (اسے اندر آنے کی اجازت نہ دو جو سلام سے ابتدا نہ کرے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 401) (ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) (یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو)
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

سو اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو اس وقت تک ان میں داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے سو اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہوجاؤ تو لوٹ جاؤ یہ تمہارے لیے خوب زیادہ پاکیزگی کی چیز ہے، جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ جاننے والا ہے۔

(فَاِِنْ لَمْ تَجِدُوْا فِیْہَا اَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ) (سو اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے) خالی گھر دیکھ کر اندر نہ چلے جاؤ کیونکہ اولا تو یہ احتمال ہے کہ اس میں اندر کوئی آدمی موجود ہو لیکن تمہیں پتہ نہ چلا ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر مکان خالی ہی ہو تو تب بھی بلا اجازت اندر چلا جانا درست نہیں ہے کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں ایک طرح کا بلا اجازت تصرف کرنا ہوگا، جس گھر میں یہ احتمال ہے کہ کوئی شخص اندر نہیں ہے جب اس میں بلا اجازت اندر جانا ممنوع ہے تو جس مکان میں کسی مرد یا عورت کے موجود ہونے کا علم ہو اس میں بلا اجازت اندر جانا کیسے جائز ہوگا ؟ اس کے بعد فرمایا (وَاِِنْ قِیْلَ لَکُمْ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ھُوَ اَزْکَی لَکُمْ ) (اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو لوٹ جاؤ یہ تمہارے لیے پاکیزہ ترین بات ہے) ۔ اس آیت میں یہ بتادیا کہ جب کسی کے یہاں اندر جانے کی اجازت مانگو اور اندر سے یوں کہہ دیا جائے کہ واپس تشریف لے جائیے۔ (اس وقت موقع نہیں ہے یا ہماری اور آپ کی ایسی بےتکلفی نہیں جس کی وجہ سے اندر بلائیں زبان قال سے کہیں زبان حال سے محسوس ہو یا اور کوئی سبب ہو) تو واپس ہوجائیں اس میں خفت اور ذلت محسوس نہ کریں یہ جو فرمایا (فَارْجِعُوْا ھُوَ اَزْکَی لَکُمْ ) اس میں بتادیا کہ جب اجازت مانگنے پر واپس ہونے کو کہہ دیا جائے تو واپس ہوجائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہیں دھرنا دیکر بیٹھ جائے اور وہاں سے نہ ٹلے کیونکہ اس سے صاحب خانہ کو تکلیف ہوگی۔ اگر پہلی ہی بار اندر سے جواب مل جائے تو آگے اجازت لینے کی فکر ہی میں نہ پڑے کیونکہ اس سے صاحب خانہ کو تکلیف ہوگی اور اگر پہلی بار اجازت لینے پر واپس ہونے کو کہہ دیا گیا تو اب اندر آنے کی ممانعت کے بعد بھی اجازت پر اصرار کرے تو اسے ذلیل ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جب کسی گھر میں اندر جانے کی اجازت مانگی اور کوئی اندر سے نہ بولا پھر دوسری بار بھی ایسا ہی ہوا اور تیسری بار بھی تو واپس ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اذا استاذن احد کم ثلاثافلم یوذن فلیرجع۔ (رواہ البخاری ص 923) ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے مکان پر تشریف لے گئے آپ نے تین بار اجازت طلب فرمائی اندر سے جواب نہ آیا تو آپ واپس ہوگئے اندر سے حضرت سعد ؓ جلدی سے نکلے اور آپ کو اندر لے گئے اور آپ کی خدمت میں کھانے کے لیے کشمش پیش کیے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 369) اس سے معلوم ہوا جب تین بار اجازت طلب کرلے پر بھی اجازت نہ ملے تو اس کے بعد اجازت لینے کے لیے چیختے رہنا مسلسل گھنٹیاں بجانا کواڑ پیٹنا یہ سب خلاف شریعت ہے اس میں اپنی جان کو بھی بےآبرو ہونے کے لیے پیش کرنا ہے اور صاحب خانہ کو بھی دکھ دینا ہے۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجاؤ جن میں کوئی رہتا نہیں ان میں تمہارے استعمال کرنے کی کوئی چیز ہو۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

اس کے بعد فرمایا۔ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَکُمْ ) (اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجاؤ جن میں کوئی رہتا نہ ہو اس میں تمہارے استعمال کرنے کی کوئی چیز ہو) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو) اس آیت میں ان گھروں میں اجازت طلب کیے بغیر اندر جانے کی اجازت دیدی جن میں عموما سب کو آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے اور جو کسی خاص فرد یا خاندان کی رہائش کے لیے مخصوص نہیں ہوتے جیسے رباطین اور مسافر خانے اور مدرسے خانقاہیں ہسپتال ان میں اصول شریعت کے مطابق آنے جانے والوں کو نفع حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے ان میں داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہاں مسجد میں امام کا کمرہ مدرسوں میں طلبہ کے حجرے خانقاہوں میں ذاکرین کے خاص غرفے اداروں کے دفاتر جن میں سب کو آنے کی اجازت نہیں ان میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔ تفسیر جلالین میں (بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے ای منفعتہ لکم باستکنان وغیرہ لبیوت الربط و الحانات المسبلۃ۔ (معالم التنزیل ج 3 ص 337) حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے اھی الحانات و البیوت و المنازل المبنیہ للسابلۃ لیاو وا الیھا ویوو وا امتعتھم الیھا فیجوز دخو لھا بغیر استذان و المنفعۃ فیھا بالنزول و ایواء المتاع و الا تقاء من الحرو البرد اور حضرت عطا نے (بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے مراد ان گھروں سے ٹوٹے پھوٹے گرے پڑے ویران کھنڈر ہیں اور متاع سے قضائے حاجت مراد ہے مطلب یہ کہ ٹوٹے پھوٹے ویران کھنڈر گھروں میں پیشاب پاخانہ کی حاجت پورا کرنے کے لیے جاؤ تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل ایضا) تفسیر درمنثور میں نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ ) نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قریش کے تاجر مکہ مدینہ اور شام اور بیت المقدس کے درمیان سفر کرتے ہیں اور راستوں میں گھر بنے ہوئے ہیں انہیں میں ٹھہر جاتے ہیں ان میں کوئی رہتا ہی نہیں ہے تو کس سے اجازت لیں کس کو سلام کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ ) نازل فرمائی اور مذکورہ گھروں میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت دیدی۔ (درمنثور ج 5 ص 40) احادیث شریفہ میں استیذ ان کے احکام و آداب ذیل میں چند احادیث کا ترجمہ لکھا جاتا ہے جن میں کسی کے یہاں اندر جانے کی اجازت لینے کے احکام و آداب مذکور ہیں حضرت عبداللہ بسر ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی خاندان کے دروازہ پر تشریف لاتے (اور اجازت لینے کے لیے کھڑے ہوتے) تو دروازے کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ اس کے دائیں جانب یا بائیں کھڑا ہو کر السلام علیکم فرماتے تھے اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ (رواہ ابو داؤد) اس سے معلوم ہوا کہ جب اندر آنے کی اجازت لینے لگے تو اپنی نظر کی حفاظت کرے تاکہ کھلے دروازے کے اندر سے یا کو اڑوں کی شگاف سے اندر نظر نہ جائے، حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ہیں جو کسی کے لیے حلال نہیں ہیں (1) کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ کچھ لوگوں کا امام بنے پھر دعا کرنے لگے تو انہیں چھوڑ کر اپنے ہی نفس کو دعاء کے لیے مخصوص کرلے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس نے مقتدیوں کی خیانت کی۔ (2) اور اجازت سے پہلے کسی گھر کے اندر نظر نہ ڈالے اگر ایسا کیا تو اس گھر کے رہنے والوں کی خیانت کی۔ (3) اور کوئی شخص ایسی حالت میں نماز نہ پڑھے جب کہ پیشاب پاخانہ کو روکے ہوئے ہو۔ (رواہ ابو داؤد) حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دروازہ کے سوراخ سے رسول اللہ ﷺ کے گھر میں نظر ڈالی اس وقت آپ کے ہاتھ میں گنگھی کی قسم کی ایک چیز تھی جس سے سر مبارک کو کھجا رہے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو اس گنگھی کرنے کی چیز سے تیری آنکھوں کو زخمی کردیتا، اجازت تو نظر ہی کی وجہ سے رکھی گئی ہے۔ (رواہ البخاری ص 922) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے فان فعل فقد دخل یعنی جس نے اندر نظر ڈال دی تو وہ تو داخل ہی ہوگیا (رواہ ابو داؤد) مطلب یہ ہے کہ دیکھ رہا ہے تو اجازت کیوں لے رہا ہے اجازت اسی لیے رکھی گئی ہے کہ صاحب خانہ اپنے خانگی احوال کو دکھانا نہیں چاہتا۔ جب اجازت سے پہلے دیکھ لیا تو گویا اندر ہی چلا گیا۔ جب اجازت لینے کے لیے کسی کا دروازہ یا گھنٹی بجائے اور اندر سے کوئی سوال کرے کہ کون ہے تو واضح طور پر اپنا نام بتادے اور اہل خانہ نام سے بھی نہ پہنچانتے ہوں تو اپنا صحیح پورا تعارف کرا دے۔ حضرت جابر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں اپنے والد کی قرضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا آپ نے اندر سے فرمایا کون ہے ؟ میں نے جواب میں عرض کردیا انا (یعنی میں ہوں) آپ نے کراہت کے انداز میں فرمایا انا انا (رواہ البخاری ص 923) مطلب یہ ہے کہ میں میں کرنے سے اہل خانہ کیا سمجھیں کہ کون ہے میں تو ہر شخص ہے۔ جس گھر میں کوئی شخص خود اکیلا ہی رہتا ہو اس میں تو اسے کسی استیذان یعنی اجازت لینے کی ضرورت نہیں دروازہ کھولے اندر چلا جائے۔ لیکن جس گھر میں اور لوگ بھی رہتے ہیں اگرچہ اسے محارم ہوں (والدین بہن بھائی وغیرہ) تب بھی اندر جانے کی اجازت لے۔ حضرت عطاء بن یسار (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کیا میں اپنی والدہ کے پاس بھی اجازت لے کر جاؤں آپ نے فرمایا اندر جانے کے لیے والدہ سے بھی اجازت لو اس شخص نے کہا میں تو والدہ کے ساتھ گھر میں رہتا ہی ہوں آپ نے فرمایا (اس کے باو جود) اس سے اجازت لے کر اندر جاؤ اس شخص نے کہا کہ میں اپنی والدہ کا خدمت گزار ہوں (جس کی وجہ سے اکثر اندر آنا جانا پڑتا ہے) آپ نے فرمایا بہر صورت اجازت لے کر داخل ہو کیا تجھے یہ پسند ہے کہ اپنی والدہ کو ننگی دیکھ لے اس نے کہا یہ تو پسند نہیں ہے آپ نے فرمایا بس تو اس کے پاس اجازت لے کر جاؤ۔ (رواہ مالک وھو حدیث مرسل) اگر کسی گھر میں صرف میاں بیوی رہتے ہوں تب بھی مستحب یہ ہے کہ بغیر کسی اطلاع کے اندر نہ جائے داخل ہونے سے پہلے کھانس سے کھنکار سے یا پاؤں کی آہٹ سے باخبر کر دے کہ میں آ رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ محترمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ جب کبھی بھی باہر سے گھر میں آتے تو دروازے سے باہرکھنکار کے پہلے سے اپنے آنے کی اطلاع دے دیتے تھے تاکہ وہ ہمیں ایسی حالت میں نہ دیکھیں جو ان کو ناپسند ہو۔ (ذکرہ ابن کثیر فی تفسیرہ) بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بیوی یہ سمجھ کر کہ میاں کو جلدی آنا نہیں ہے بناؤ سنگار کے بغیر گھر میں رہتی ہے ایسی حالت میں اچانک شوہر کی نظر پڑجائے تو ایک طرح کی وحشت معلوم ہوتی ہے۔ اس قسم کے امور کی وجہ سے اسے بھی مستحب اور مستحسن قرار دیا ہے کہ جس گھر میں صرف بیوی ہو اس میں بھی کسی طرح اپنی آمد کی اطلاع دیکر داخل ہو گو میاں بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں ہے۔ عورتیں بھی عورتوں کے پاس اجازت لے کر جائیں چونکہ معلوم نہیں کہ جس عورت کے پاس جانا ہے وہ کس حال میں ہے عورت کو بھی دوسری عورت کے جسم کے ہر حصہ کو دیکھنا جائز نہیں ہے اگر وہ غسل کر رہی ہو یا کپڑے بدل رہی ہو تو بلا اجازت اس کے گھر میں داخل ہونے کی صورت میں بدن کے اس حصہ پر نظر پڑجانے کا احتمال رہے گا جسے دوسرے عورت کو شرعاً دیکھنا جائز نہیں ہے (اس کی کچھ تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گی) پھر یہ بھی ممکن ہے کہ جس عورت کے پاس جانا ہے وہ کسی ایسے شغل میں ہو جس کی وجہ سے بات کرنے کی فرصت نہ ہو یا اپنی مشغولیت سے کسی عورت کو باخبر کرنا مناسب نہ جانتی ہو۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت ام ایاس سے نقل کیا ہے کہ ہم چار عورتیں تھیں جو اکثر حضرت عائشہ ؓ کے پاس حاضر ہوا کرتی تھیں گھر میں جانے سے پہلے ہم ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کیا کرتی تھی جب اجازت دیتی تھیں تو ہم اندر چلی جاتی تھیں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اجازت لینے والے کی آواز باہر سے پہنچ سکتی ہے ایسی صورت میں اجازت لینے والے کو السلام علیکم کہ کر اور اپنا نام بتا کر اجازت لینا چاہیے تاکہ اندر سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ تم کون ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت عمر ؓ سے ملنے کے لیے گئے تو باہر سے یوں کہا السلام علیکم ھذا عبداللہ ابن قیس السلام ھذا ابو موسیٰ السلام علیکم ھذا الاشعری۔ (رواہ مسلم ج 2 ص 211) اگر کسی شخص کو بلاکر بھیجا ہو اور جسے بلایا ہو وہ اسی وقت قاصد کے ساتھ آگیا اور قاصد بغیر اجازت اسے اپنے ساتھ اندر لیجانے لگے تو اس صورت میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ فقد روی ابوہریرہ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال اذا دعی احد کم فجاء مع الرسولہ اذن۔ (رواہ ابو داؤد) (وجہ اس کی یہ ہے کہ جو بلانے گیا ہے وہی ساتھ لے کر اندر داخل ہو رہا ہے اسے معلوم ہے کہ اندر بلا اجازت چلے جانے کا موقع ہے) فائدہ (1): بعض متعلقین سے بہت زیادہ بےتکلفی ہوتی ہے اور ایسے دوست کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جاؤں گا تو صاحب خانہ کو تکلیف نہ ہوگی اور یہ موقع عورتوں کے پاس ہونے کا اور کسی راز کی بات کا نہیں ہے۔ ایسا شخص اپنے دوست کی عام اجازت پر (جو خاص طور سے اسے دی گئی ہو) نئی اجازت لیے بغیر بھی داخل ہوسکتا ہے۔ اس کو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے یوں ی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارے لیے میرے پاس آنے کی بس یہی اجازت ہے کہ تمہیں میری آہستہ کی آواز سن کر یہ پتہ چل جائے کہ میں اندر موجود ہوں تم پردہ اٹھاؤ اور تم اندر آجاؤ۔ ہاں اگر میں منع کروں تو اور بات ہے۔ (رواہ مسلم) فائدہ (2): اجازت دینے کے لیے زبان ہی سے اجازت دینا ضروری نہیں اگر اجازت دینے کے لیے آپس میں کوئی اصطلاح مقرر کر رکھی ہو اس کے مطابق عمل کرلیا جائے تو وہ بھی اجازت میں شمار ہوگا۔ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں میرا ایک بار دن کو ایک بار رات کو جانا ہوتا تھا جب میں رات کو جاتا تھا تو آپ مٹھار دیتے تھے۔ (رواہ النسائی کمافی المشکوٰۃ ص 401) فائدہ (3): اگر کوئی شخص کسی شیخ یا استاد کے پاس جائے اور دروازہ بجائے بغیر وہیں دروازہ سے ہٹ کر ایک طرف اس انتظار میں بیٹھ جائے کہ اندر سے نکلیں گے تو بات کرلوں گا یا کوئی مسئلہ پوچھ لوں گا یا آپ کے ساتھ مدرسہ یا بازار جانے کے لیے ہمراہ ہوجاؤں گا تو یہ جائز ہے۔ کیونکہ اس سے اہل خانہ کو کوئی زحمت اور تکلیف نہیں ہوگی۔ فائدہ (4): اگر کسی کے کو اڑوں پر دستک دیں تو اتنے زور سے ہاتھ نہ ماریں کہ اہل خانہ پریشان ہوجائیں۔ سوتے ہوئے جاگ اٹھیں یا نماز پڑھنے والے تشویش میں پڑجائیں اتنے آہستہ سے بجائے کہ اندر آواز پہنچ جائے کہ کوئی شخص دروازہ پر ہے۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

آپ مومنین سے فرما دیجیے کہ اپنی آنکھوں کو پست رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھیں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہونے کی بات ہے، بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو،

نظر کی حفاظت اور عفت و عصمت کا حکم، محارم کا بیان ان دونوں آیتوں میں پردہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اور اول تو مردوں اور عورتوں کو نظریں پست یعنی نیچی رکھنے کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں یعنی زنا نہ کریں۔ دونوں باتوں کو ساتھ جوڑ کر یہ بتادیا کہ نظر کی حفاظت نہ ہوگی تو شرم گاہوں کی حفاظت بھی نہ رہے گی۔ گھروں میں جانے کے لیے جو اجازت لینے کا حکم ہے اس میں جہاں دیگر امور کی رعایت ملحوظ ہے وہاں حفاظت نظر بھی مطلوب ہے، جب نظر کی حفاظت ہوگی تو مرد عورت کا میل جول آگے نہیں بڑھے گا اور زنا تک نہ پہنچیں گے۔ چونکہ نظر کو بھی مزہ آتا ہے اور نظر بازی سے دواعی زنا کی ابتداء ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نظر پر پابندی لگائی ہے اور نظر کو بھی زنا قرار دیا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کو سچا کردیتی ہے۔ (رواہ مسلم ج 336) مطلب یہ ہے کہ زنا سے پہلے جو زانی مرد اور زانی عوت کی طرف سے نظر بازی اور گفتگو اور چھونا اور پکڑنا اور چل کر جانا ہوتا ہے یہ سب زنا میں شمار ہے اور یہ چیزیں اصل زنا تک پہنچا دیتی ہیں بعض مرتبہ اصل زنا کا صدور ہو ہی جاتا ہے (جس کے بارے میں فرمایا کہ شرمگاہ تصدیق کردیتی ہے) اور بعض مرتبہ اصلی زنا رہ جاتا ہے مرد عورت اسے نہیں کر پاتے (جس کو یوں بیان فرمایا کہ شرمگاہ جھٹلا دیتی ہے۔ یعنی اعضاء سے زنا کا صدور تو ہوگیا لیکن اس کے بعد اصلی زنا کا موقع نہیں لگتا) حفاظت نظر کا حکم مردوں کو بھی ہے اور عورتوں کو بھی ہے۔ نظر کے بارے میں شریعت مطہرہ میں بہت سے احکام ہیں، عورت عورت کے کس حصے پر نظر ڈال سکتی ہے اور مرد مرد کے کس حصہ کو دیکھا سکتا ہے اس کے بھی قوانین ہیں اور شہوت کی نظر تو بجز میاں بیوی کے کسی کے لیے حلال نہیں۔ جس نظر سے نفس کو مزہ آئے وہ شہوت کی نظر ہے اگر عورت پردہ نہ کرے مردوں کو تب بھی نظر ڈالنا ممنوع ہے۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ راستوں میں مت بیٹھا کرو، صحابہ نے عرض کیا ہمارے لیے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ہم راستوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر تمہیں یہ کرنا ہی ہے تو راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ عرض کیا یا رسول اللہ راستہ کا حق کیا ہے ؟ فرمایا نظریں پست رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم کرنا، گناہ سے روکنا۔ (رواہ البخاری) اپنے محرموں سے پردہ نہیں ہے لیکن اگر وہاں بھی شہوت کی نظر پڑنے لگے تو پردہ لازم ہے اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہو کہ میرا فلاں محرم مجھ پر بری نظر ڈالتا ہے تو پردہ کرے۔ اگر بےدھیانی سے کہیں ایسی نظر پڑجائے، جو حلال نہیں ہے تو فوراً نظر کو ہٹا لیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اچانک نظر پڑجائے تو کیا کروں آپ نے فرمایا کہ نظر کو پھیر لو۔ (رواہ مسلم) رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے علی نظر پڑجانے کے بعد نظر کو باقی نہ رکھو یعنی جو نظر بےاختیار پڑجائے اس کو فوراً ہٹا لو کیونکہ بےاختیار جو نظر پڑی اس پر مواخذہ نہیں اگر نظر کو باقی رکھا تو اس پر مواخذہ ہوگا۔ فان لک الا ولی ولیست لک الاخرۃ (مشکوٰۃ المصابیح 269) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوجاتا ہوں۔ (1) جب بات کرو تو سچ بولو (2) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (3) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو (4) اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھو (5) اور اپنی آنکھوں کو نیچی رکھ (6) اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم و زیادتی سے) روکے رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح 415)