Ayah 24:33غلاموں اور باندیوں کا مکاتب بنانے کا حکم
غلام اور باندیوں کے بارے میں شریعت مطہرہ میں بہت سے احکام ہیں جو حدیث وفقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں انہی احکام میں سے ایک مکاتبت بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آقا اپنے غلام یا باندی سے کہے کہ اگر تو مجھے اتنی رقم دے دے تو آزاد ہے اگر غلام یا باندی اسے منظور کرلے تو پھر وہ آقا کی خدمت سے آزاد ہوجاتا ہے غلام تو رہتا ہے لیکن اپنی کسب میں آزاد ہوجاتا ہے۔ جب بھی مقررہ پوری رقم دے دے آزاد ہوجائے گا۔ جب غلام کا آقا سے مکاتبت کا معاملہ ہوجائے جسے کتابت بھی کہتے ہیں تو غلام مکاتب ہوگیا اگر غلام سے یہ طے ہوا ہے کہ ابھی نقد لا کر رقم دے دے تو آزاد ہے اور وہ کسی سے ادھار قرض لے کر اپنے آقا کو رقم دے دے تو اسی وقت آزاد ہوجائے گا۔ اور اگر یہ طے ہوا کہ اتنے عرصے میں اتنی قسطوں میں رقم ادا کرتے رہنا جب آخری قسط دے دو گے تو آزاد ہوجاؤ گے۔ تو اس صورت حال میں مکاتب اموال کسب کرتا رہے اور آقا کو دیتا رہے جب آخری قسط ادا کرے گا تو آزاد ہوجائے گا۔ اگر وہ کسب سے عاجز ہوجائے یا یوں کہہ دے کہ میں آگے قسط نہیں دے سکتا تو دوبارہ اسی طرح سے غلام ہوجائے گا جیسے غلام ہوا کرتے ہیں۔ یعنی دو بارہ پوری طرح آقا کے اختیارات اس پر محکم و مسلط ہوجائیں گے۔
تفسیر درمنشور ص 45 ج 4 میں کتاب معرفۃ الصحابہ و التابعین سے نقل کیا ہے کہ صبیح نامی ایک غلام نے اپنے آقا حویطب بن عبدالعزی سے کہا مجھے مکاتب بنا دو انہوں نے انکار کردیا تو آیت کریمہ (وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُونَ الْکِتٰبَ ) نازل ہوئی، معالم التنزیل ص 342 ج 3 میں بھی یہ واقعہ لکھا ہے اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ آیت نازل ہونے کے بعد صبیح کے آقا نے سو دینار پر مکاتب بنا دیا اور اس میں سے بیس دینار اپنے مکاتب کو بخش دیئے یہ مکاتب بھی مسلمان تھا جو غزوہ حنین میں شہید ہوا، اس کے آقا حضرت حویطب ؓ بھی صحابی تھے۔
چونکہ آیت میں لفظ کاتِبُوْھُمْ (امر کا صیغہ) وارد ہوا ہے اس لیے حضرت عطاء اور عمر و بن دینار نے فرمایا ہے کہ اگر غلام اپنی قیمت یا اس سے زیادہ پر کتابت کا معاملہ کرنا چاہے اور اپنے آقا سے درخواست کرے تو آقا پر واجب ہے کہ اسے مکاتب بنا دے اور اپنی قیمت سے کم پر مکاتب بنانے کا مطالبہ کرے تو آقا کے ذمہ مکاتب بنانا واجب نہیں ہے۔ لیکن اکثر اہل علم نے یوں فرمایا ہے کہ یہ حکم ایجابی نہیں ہے استحباب کے لیے ہے۔ یعنی غلام کے کہنے پر اگر آقا اسے مکاتب بنا دے تو بہتر ہے اگر نہ بنائے گا تو گنہگار نہ ہوگا۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل)
فَکَاتِبُوْھُمْ کے ساتھ (اِِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا) بھی فرمایا ہے یعنی اگر تم ان کے اندر خیر پاؤ تو انہیں مکاتب بنا دو ، خیر سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں درمنثور میں ابو داؤد اور سنن بیہقی سے رسول اللہ کا ارشاد ہے نقل کیا کہ اگر تم ان میں حرفہ یعنی کمائی کا ڈھنگ دیکھو تو انہیں مکاتب بنا دو اور انہیں اس حال میں نہ چھوڑ دو کہ لوگوں پر بوجھ بن جائیں (مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر اگر مال کمانے کی طاقت اور طریقہ کا رمحسوس کرو تو مکاتب بنا دو ایسا نہ ہو کہ وہ لوگوں سے مانگ کر مال جمع کرتے پھریں اور اس سے تمہیں بدل کتابت ادا کریں) ۔
درمنثور میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ اپنے کسی غلام کو مکاتب نہیں بناتے تھے۔ جب تک یہ نہ دیکھ لیتے تھے کہ یہ کما کر دے سکے گا، اور یوں فرماتے تھے کہ (اگر یہ کمانے کا اہل نہ ہوا تو) مجھے لوگوں کے میل کچیل کھلائے گا یعنی مانگ مانگ کر لائے گا۔
جب آقا کسی غلام کو مکاتب بنا دے تو اب وہ حلال طریقوں پر مال کسب کر کے اپنے آقا کو قسطیں دیتا رہے وہ تین صفحات پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ تین شخصوں کی مدد اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ ان میں سے ایک وہ مکاتب بھی ہے جس کا ادائیگی کا ارادہ ہو۔
بعض حضرات نے خیر سے نماز قائم کرنا مراد لیا ہے یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہوں کہ وہ نماز قائم کریں گے تو تم انہیں مکاتب بنا دو (ذکرہ فی معالم التنزیل عن عبیدۃ) لیکن اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کافر کو مکاتب بنانا جائز نہ ہو حالانکہ وہ بھی جائز ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ خیر سے مراد ہے کہ آزاد ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو تکلیف دے گا تو ایسے غیر مسلم کو مکاتب نہ بنانا افضل ہے۔ (ذکرہ فی الروح ص 155 ج 18)
اس کے بعد فرمایا (وَّآتُوھُمْ مِّنْ مَّال اللّٰہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ ) (اور انہیں اس مال سے دے دو جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے) اس کے بارے میں صاحب معالم التنزیل نے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر ؓ اور حضرت امام شافعی ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آقا کو خطاب ہے کہ جسے مکاتب بنانا ہے اس کے بدل کتابت میں سے ایک حصہ معاف کر دے اور یہ ان حضرات کے نزدیک واجب ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے 4 ؍ 1 معاف کر دے یہ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ 3 ؍ 1 معاف کر دے۔ حضرت امام شافعی (رح) اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے جتنا چاہے معاف کر دے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک غلام کو پینتیس ہزار درہم کے عوض مکاتب بنایا پھر آخر میں پانچ ہزار درہم چھوڑ دیئے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان فرمایا کہ حضرت ابن عمر ؓ کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی غلام کو مکاتب بناتے تھے تو شروع کی قسطوں میں سے کچھ معاف نہیں کرتے پھر آخری قسط میں سے جتنا چاہتے تھے چھوڑ دیتے تھے۔
آیت بالا کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا خطاب عام مسلمانوں کو ہے اور مطلب یہ ہے کہ عامۃ المسلمین مکاتب کی مدد کریں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مکاتب کو زکوٰۃ کی رقم دینا مراد ہے کیونکہ سورة توبہ میں مصارف زکوٰۃ بیان کرتے ہوئے وِ فِی الرِّقَاب بھی فرمایا ہے۔ (و ہذا کلہ من معالم التنزیل ص 343 ج 3)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دیہات کا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے آپ نے فرمایا کہ جان کو آزاد کر دے اور گردن کو چھڑا دے اس نے عرض کیا کہ کیا یہ دونوں ایک نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! (پھر فرمایا) جان کا آزاد کرنا یہ ہے کہ تو کسی جان کو (غلام ہو یا باندی) پورا پورا اپنی ملکیت سے آزاد کر دے اور فَکَّ رَقَبَۃٍ (اور گردن کا چھڑانا) یہ ہے کہ تو اس کی قیمت میں مدد کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 393، از بیہقی فی شعب الایمان)
علامہ ابوبکر جصاص نے احکام القرآن ص 322 میں لکھا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام زفر، امام محمد، امام مالک، امام ثوری نے فرمایا ہے کہ آقا کے ذمہ یہ واجب نہیں ہے کہ مال کتابت میں سے کچھ وضع کرے اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا ہاں اگر وہ کچھ رقم خود سے کم کر دے تو یہ مستحسن ہے پھر چند وجوہ سے ان حضرات کے قول کی تردید کی ہے جنہوں نے یوں فرمایا ہے کہ آقا پر بدل کتابت کا کچھ حصہ معاف کردینا واجب ہے۔
اس کے بعد فرمایا (وَلاَ تُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ اِِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (اور اپنی باندیوں کو زنا کرنے پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاکدامن رہنا چاہیں تاکہ تم کو دنیاوی زندگی کا کوئی مال مل جائے) زمانہ جاہلیت میں لوگ زنا کاری کے خوگر تھے عورتیں اس پیشہ کو اختیار کر کے مالدار بنی رہتی تھیں، زنا کاری کے اڈوں پر جھنڈے لگے رہتے تھے جس سے لوگ پہچان لیتے تھے کہ یہاں کوئی زنا کار عورت رہتی ہے۔ (معالم التنزیل) جب آزاد عورتیں ہی زنا کاری کے پیشہ سے مال حاصل کرتی تھیں تو اس کے لیے باندیاں اور زیادہ استعمال کی جاتی تھیں۔ لوگوں کا یہ طریقہ تھا کہ اپنی اپنی باندیوں سے کہتے تھے کہ جاؤ زنا کرو پیسے کما کر لاؤ وہ زنا کار مردوں کو ڈھونڈتی پھرتی تھیں اور زنا کاری کی اجرت میں جو پیسے ملتے تھے وہ اپنے آقا کو لا کر دے دیتی تھیں جب اسلام کے احکام نازل ہوئے تو زنا کاری کو حرام قرار دے دیا۔ اور زنا کی اجرت کو بھی حرام قرار دے دیا (کما رواہ مسلم عن رافع بن خدیج ان النبی ﷺ قال ثمن الکلب خبیث و مھر البغی خبیث و کسب الحجام خبیث) لیکن جن لوگوں کی باندیوں کو زنا کاری کے لیے بھیج کر پیسہ کمانے کی عادت تھی انہیں اسلام کا فیصلہ اچھا نہ لگا۔ تفسیر درمنثور ص 46 ج 5 میں کتب حدیث سے ایسی متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں یہ بیان کیا ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کی باندیاں تھی وہ زمانہ جاہلیت میں ان سے زنا کرا کر پیسے کماتا تھا جب اسلام کا زمانہ آیا تو انہیں زنا کرنے پر مجبور کیا جب انہوں نے انکار کیا تو بعض کو اس نے مارا بھی اللہ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی (وَلاَ تُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ اِِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (کہ دیناوی مال حاصل کرنے کے لیے اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامن رہنے کا ارادہ کریں) ۔
اس میں جو آخری الفاظ ہیں کہ اگر وہ پاکدامن رہنے کا ارادہ کریں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باندیاں پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو انہیں زنا پر مجبور کرنا جائز ہے بلکہ آقاؤں کو زجر و تنبیہ اور غیرت دلانا مقصود ہے کہ باندی تو پاک دامن رہنا چاہتی ہے اور تم بےغیرتی کے ساتھ انہیں زنا کے لیے مجبور کر کے زنا کی اجرت لینا چاہتے ہو، اب جاہلیت والی بات نہیں رہی اب تو زنا بھی حرام ہے خوشی اور رضا مندی سے ہو یا کسی کی زبردستی سے، اور زنا کا حکم دینا اور اس پر مجبور کرنا بھی حرام ہے اور اس کی اجرت بھی حرام ہے، چونکہ عبداللہ بن ابی مسلمان ہونے کا دعویدار تھا اس لیے آیت شریف میں لفظ (اَنْ اَرَدَنَ تَحَصُّنًا) بڑھا دیا کہ باندی زنا سے بچ رہی ہے اور تو اسے زنا کے لیے مجبور کر رہا ہے یہ کیسا دعوائے مسلمانی ہے۔
پھر فرمایا (وَمَنْ یُّکْرِھُنَّ فَاِِنَّ اللّٰہَ مِنْ بَعْدِ اِِکْرَاھِہِنَّ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ) ( اور جو شخص ان پر زبردستی کرے تو انہیں مجبور کرنے کے بعد اللہ بخشنے والا مہربان ہے) مطلب یہ ہے کہ لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنا حرام ہے اگر کسی نے ایسا کیا اور وہ آقا کے جبر واکراہ کے مغلوب ہو کر زنا کر بیٹھی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور اس کا گناہ مجبور کرنے والے پر ہوگا۔ فی معالم التنزیل وَمَنْ یُّکْرِھُّنَّ فَاِِنَّ اللّٰہَ مِنْ بَعْدِ اِِکْرَاھِہِنَّ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ یعنی للمکرھات والوزر علی المکرہ و کان الحسن اذاقرا ھذہ الایۃ قال لھن واللہ لھن واللہ۔
Ayah 24:34پھر فرمایا (وَلَقَدْ اَنزَلْنَا اِِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُبَیِّنَاتٍ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں جنہیں واضح طور پر بیان کردیا ہے اور جو امتیں تم سے پہلے گزری ہیں ان کے بھی بعض احوال اور واقعات بیان کردیئے ہیں جن میں تمہارے لیے عبرت ہے اور ایسی چیزیں نازل کی ہیں جن میں متقیوں کے لیے نصیحت ہے (نصیحت تو سب ہی کے لیے ہے لیکن جن کا گناہوں سے بچنے کا ارادہ ہے وہی اس سے مستفیض ہوتے ہیں اس لیے اہل تقویٰ کے لیے مفید ہونے کا خصوصی تذکرہ فرمایا) قال صاحب الروح ص 160 ج 18، و قیدت الموعظۃ بقولہ سبحانہ (للمتقین) مع شمو لھا للکل حسب شمول الانزال حثا للمخاطبین علی الاغتنام بالانتظام فی سلک المتقین ببیان انھم المغتنمون لآثار ھا المقتبسون من انوار ھا فحسب۔
Ayah 24:35اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا منور فرمانے والا ہے
اس آیت کریمہ میں اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، حضرات مفسرین کرام نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے لفظ نور منور کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو روشن فرما دیا ہے یہ روشنی آسمانوں اور زمین کے لیے زینت ہے اور یہ زینت صرف ظاہری روشنی تک محدود نہیں۔
حضرات ملائکہ آسمانوں میں رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہیں اس سے بھی عالم بالا میں نورانیت ہے اور زمین میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے ہدایت کا نور پھیلایا اس سے اہل زمین کو نورانیت حاصل ہے اور چونکہ ایمان کی وجہ سے آسمان اور زمین کا بقاء ہے (ایمان والے نہ ہونگے تو قیامت آجائے گی) اس لیے ایمان کی نورانیت سے آسمان اور زمین سب منور ہیں اسی معنی کو لے کر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھدی اھل السموات والارض فھم بنورہ الی الحق یھتدون و بھداہ من الضلالۃ ینجون۔ (راجع معالم التنزیل ص 345 ج 4 و روح المعانی ص 164 ج 18)
پھر فرمایا (مَثَلُ نُوْرِہِ کَمِشْکَاۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ) (اللہ کے نور کی ایسی مثال ہے جیسے ایک طاقچہ ہے جس میں ایک چراغ رکھا ہوا ہے اور وہ چراغ ایسے قندیل میں ہے جو شیشہ کا بنایا ہوا ہے اور وہ قندیل ایسا صاف شفاف ہے جیسے چمکدار ستارہ ہو۔ چراغ تو خود ہی روشن ہوتا ہے پھر وہ ایسے قندیل میں جل رہا ہے جو شیشہ کا ہے اور شیشہ بھی معمولی نہیں اپنی چمک دمک میں ایک چمکدار ستارہ کی طرح ہے۔ پھر وہ چراغ جل بھی رہا ہے ایک بابرکت درخت کے تیل سے جسے زیتون کہا جاتا ہے۔ زیتون کے جس درخت سے یہ تیل لیا گیا ہے وہ درخت بھی کوئی ایسا عام درخت نہیں بلکہ وہ ایسا درخت ہے جو مشرق کے رخ پر ہے نہ مغرب کے رخ پر یعنی اس پر دن بھر دھوپ پڑتی ہے نہ تو مشرق کی جانب کوئی آڑ ہے جو اس کی دھوپ کو روکے اور نہ مغرب کی طرف کوئی آڑ ہے جو اس جانب سے آنے والی دھوپ کو روکے یہ درخت کھلے میدان میں ہے جہاں اس پر دن بھر دھوپ پڑتی رہتی ہے ایسے درخت کا تیل بہت صاف روشن اور لطیف ہوتا ہے کمال یہ ہے کہ اگر اسے آگ نہ بھی چھولے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ابھی خود بخود جل اٹھے گا چراغ روشن ہے پھر اس میں کئی طرح سے روشنی بڑھنے کے اسباب موجود ہیں۔ یہ سب چیزیں جمع ہو کر نور علیٰ نور (روشنی پر روشنی) کی شان پیدا ہوگئی ہے تشبیہ ہے اور ایک مثال ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ جس نور کو مثال مذکور میں بیان فرماتا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ حضرت حسن اور زید بن اسلم نے فرمایا کہ اس سے قرآن کریم مراد ہے اور حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا ہے کہ اس سے سیدنا محمد ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ نور مراد ہے جو مومن بندوں کے دلوں میں ہے وہ اسی نور کے ذریعہ ہدایت پاتے ہیں جسے سورة زمر میں یوں بیان فرمایا (اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِِّنْ رَّبِّہٖ ) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ نور سے فرماں برداری مراد ہے۔ و ھو راجع الی قول ابن مسعود و ابن عباس۔ (راجع معالم التنزیل)
صاحب بیان القرآن نے اس مقام پر تشبیہ کو واضح کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اسی طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے گو بالفعل بعض احکام کا علم بھی نہ ہوا ہو۔ کیونکہ علم تدریجاً حاصل ہوتا ہے جیسے وہ روغن زیتون آگ لگنے سے پہلے ہی روشنی کے لیے مستعد تھا مومن بھی علم احکام سے پہلے ہی ان پر عمل کے لیے مستعد ہوتا ہے اور جب اس کو علم حاصل ہوتا ہے تو نور عمل یعنی عمل کے پختہ ارادہ کے ساتھ نور علم بھی مل جاتا ہے جسے وہ فوراً ہی قبول کرلیتا ہے پس عمل و علم جمع ہو کر نور علی نور صادق آجاتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ علم احکام کے بعد اس کو کچھ عمل میں تامل و تردد ہو کہ اگر موافق نفس کے پایا قبول کرلیا ورنہ رد کردیا اسی انشراح اور نور کو دوسری آیت میں اسی طرح بیان فرمایا ہے (اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِِّنْ رَّبِّہٖ ) (یعنی جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ہوتا ہے) اور ایک جگہ فرمایا (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ) ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ عَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ) تلاوت فرمائی پھر فرمایا بلاشبہ جب نور سینہ میں داخل کردیا جاتا ہے تو پھیل جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس کے ذریعہ اس کو پہچان لیا جائے آپ نے فرمایا ہاں دارالغرور (دھو کے کے گھر یعنی دنیا) سے دور رہنا اور دارالخلود (ہمیشگی والے گھر) کی طرف متوجہ ہونا اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرنا یہ اس نور کی علامت ہے۔ (اخرجہ البیھقی فی شعب الایمان کمافی المشکوۃ ص 446)
پھر فرمایا (یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ) (اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی ہدایت دیتا ہے) اللہ کی ہدایت ہی سے ایمان بھی نصیب ہوتا ہے اور اعمال صالحہ کی بھی توفیق ہوتی ہے اور نفس کو ترک ممنوعات اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کی آسانی ہوجاتی ہے نفس بھی دل کے نیک جذبات کا تابع ہوجاتا ہے اور دونوں کو اعمال صالحہ میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔
(وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَال للنَّاسِ ) (اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے) تاکہ ان کے ذریعہ مضامین عقیلہ محسوس چیزوں کی طرح سمجھ میں آجائیں۔
(وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) سب کے اعمال و احوال اسے معلوم ہیں وہ اپنے علم و حکمت کے موافق جزا سزا دے گا۔
Ayah 24:36نیک بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں، بیع اور تجارت کے اشغال انہیں اللہ کے ذکر سے اور اقامت صلوٰۃ و ادائیگی زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتے
ان آیات میں مساجد اور اہل مساجد کی فضیلت بیان فرمائی ہے لفظ (فِیْ بُیُوتٍ ) جو جار مجرور ہے کس سے متعلق ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں تفسیر جلالین میں ہے کہ یہ یُسَبّح سے متعلق ہے جو اس سے متاخر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جنہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے تجارت اور مال کی فروختگی غفلت میں نہیں ڈالتی ایسے گھروں میں صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان گھروں سے مسجدیں مراد ہیں (کما وقع عند مسلم وما اجتمع قوم بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ، الحدیث) علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل میں لکھتے ہیں کہ صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے سے پانچوں نمازیں مراد ہیں۔ کیونکہ نماز فجر صبح کے وقت ادا کی جاتی ہے اور باقی نمازیں دن ڈھلنے کے بعد ادا کی جاتی ہیں لفظ آصال اصیل کی جمع ہے جو ظہر عصر مغرب اور عشاء چاروں نمازوں پر صادق آتا ہے اور بعض علماء نے فرمایا اس سے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہے۔ (انتھی مافی معالم التنزیل) تفسیر جلالین نے پہلے قول کو لیا ہے انہوں نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ العشایا من بعد الزوال۔
خواہ پانچ نمازیں مراد لیجائیں یا صرف فجر اور عصر مراد لی جائے بہر صورت آیت کریمہ میں نمازیوں کی تعریف فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ مسجدوں میں وہ لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں روکتی، دنیا کی ضرورت کے لیے تجارت میں مشغول تو ہوجاتے ہیں لیکن بازار میں ہوتے ہوئے تجارت کی مشغولیت کو پیچھے ڈال کر نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہوجاتے ہیں۔ معالم التنزیل میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ایک مرتبہ بازار میں موجود تھے نماز کا وقت ہوگیا تو لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی اپنی دکانیں بند کر کے مسجد میں داخل ہوگئے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا کہ انہیں لوگوں کے بارے میں آیت کریمہ (رِجَالٌ لاَ تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِِقَام الصَّلٰوۃِ ) نازل ہوئی۔
Ayah 24:37تجارت اور خریدو فروخت کے اوقات میں نمازوں کے اوقات آ ہی جاتے ہیں اس موقعہ پر خصوصاً عصر کے وقت میں جبکہ کہیں ہفت روزہ بازرا میں لگا ہوا ہو یا خوب چالو مارکیٹ میں بیٹھے ہوں اور گاہک پر گاہک آ رہے ہوں کارو بار چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھنا اور پھر مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ ادا کرنا تاجر کے لیے بڑے سخت امتحان کا وقت ہوتا ہے بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مال کی محبت سے مغلوب نہ ہوں اور نماز کی محبت انہیں دکان سے اٹھا کر مسجد میں حاضر کر دے۔
(اِِقَام الصَّلٰوۃِ ) کے ساتھ (وَاِِیتَاء الزَّکَٰوۃِ ) بھی فرمایا ہے اس میں نیک تاجروں کی دوسری صفت بیان فرمائی اور وہ یہ کہ یہ لوگ تجارت تو کرتے ہیں جس سے مال حاصل ہوتا ہے اور عموماً یہ مال اتنا ہوتا ہے کہ اس پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ مال کی محبت انہیں زکوٰۃ کی ادائیگی سے مانع نہیں ہوتی، جتنی بھی زکوٰۃ فرض ہوجائے حساب کر کے ہر سال اصول شریعت کے مطابق مصارف زکوٰۃ میں خرچ کردیتے ہیں۔
در حقیقت پوری طرح صحیح حساب کر کے زکوٰۃ ادا کرنا بہت اہم کام ہے جس میں اکثر پیسے والے فیل ہوجاتے ہیں بہت سے لوگ تو زکوٰۃ دیتے ہی نہیں اور بعض لوگ دیتے ہیں لیکن حساب کر کے پوری نہیں دیتے اور بہت سے لوگ اس وقت تک زکوٰۃ دیتے ہیں جب تک تھوڑا مال واجب ہو لیکن جب زیادہ مال کی زکوٰۃ فرض ہوجائے تو پوری زکوٰۃ دینے پر نفس کو آمادہ کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں ایک ہزار سے پچیس روپیہ نکال دیں چار ہزار سے سو روپیہ دے دیں۔ یہ نفس کو نہیں کھلتا لیکن جب لاکھوں ہوجاتے ہیں تو نفس سے مغلوب ہوجاتے ہیں اس وقت سوچتے ہیں کہ ارے اتنا زیادہ کیسے نکالوں ؟ مگر یہ نہیں سوچتے کہ جس ذات پاک نے یہ مال دیا ہے اسی نے زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے اور ہے بھی کتنا کم ؟ سو روپیہ پر ڈھائی روپیہ، جس نے حکم دیا وہ خالق اور مالک ہے اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ پورا ہی مال خرچ کردینے کا حکم فرما دے اور وہ چھیننے پر اور مال کو ہلاک کرنے پر بھی قادر ہے پھر زکوٰۃ ادا کرنے میں ثواب بھی ہے اور مال کی حفاظت بھی ہے یہ سب باتیں مومنین مخلصین کی ہی سمجھ میں آتی ہیں۔
(یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ) (یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہونگے) اوپر جن حضرات کی تعریف فرمائی کہ انہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں روکتی ان کا ایک اور وصف بیان فرمایا جس پر تمام اعمال صالحہ کا اور منکرات و محرمات کے چھوڑنے کا مدار ہے۔ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا آخرت پر ایمان ہے اور وہاں کے حساب کی پیشی کا یقین ہے وہ لوگ نیکیاں بھی اختیار کرتے ہیں گناہوں سے بھی بچتے ہیں انہیں اپنے اعمال پر غرور اور گھمنڈ نہیں ہوتا وہ اچھے سے اچھا عمل کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ٹھیک طرح ادا ہوا یا نہیں عمل بھی کرتے ہیں اور آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ سے بھی ڈرتے رہتے ہیں۔ قیامت کا دن بہت سخت ہوگا اس میں آنکھیں بھی چکرا جائیں گی اور ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہ ہونگے۔ سورة ابراہیم میں فرمایا (اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُْ سِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْھِمْ طَرْفُھُمْ وَ اَفْءِدَتُھُمْ ھَوَآءٌ) (اللہ انہیں اسی دن کے لیے مہلت دیتا ہے جس دن آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی رہ جائیں گی جلدی جلدی چل رہے ہونگے اوپر کو سر ٹھائے ہونگے ان کی آنکھیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں گی اور ان کے دل ہوا ہونگے) جس نے اس دن کے مواخذہ اور محاسبہ کا خیال کیا اور وہاں کی پیشی کا مراقبہ کیا اور خوف کھاتا رہا اور ڈرتا رہا کہ وہاں میرا کیا بنے گا ایسا شخص دنیا میں فرائض واجبات بھی صحیح طریقے پر انجام دے گا اور گناہوں سے بھی بچے گا اور اسے آخرت کی فلاح اور کامیابی نصیب ہوگی۔ سورة مومنون میں جو فرمایا ہے (وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُھُمْ وَ جِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رَاجِعُوْنَ ) اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کیا ان ڈرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو شراب پیتے ہیں چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے صدیق کی بیٹی نہیں (اس سے یہ لوگ مراد نہیں) بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو روزے رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان سے ان کا عمل قبول نہ کیا جائے ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِ ) (یہ وہ لوگ ہیں جو اچھے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 457)
در حقیقت آخرت کا فکر اور وہاں کا خوف گناہوں کے چھڑانے اور نیکیوں پر لگانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
فائدہ : مساجد کے بارے میں جو (فِیْ بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ ) فرمایا ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ترفع بمعنی تبنی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حضرت مجاہد تابعی کا قول ہے اور حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ ترفع بمعنی تعظم ہے کہ ان مساجد کی تعظیم کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یعنی ان کا ادب کیا جائے ان میں وہ کام اور وہ باتیں نہ کی جائیں جو مسجد کے بلند مقام کے خلاف ہیں۔ (ذکر البغوی القولین فی معالم التنزیل)
مساجد کی تعمیر بھی مامور بہ ہے اور مبارک ہے جس کا بڑا اجر وثواب ہے اور ان کا ادب کرنے کا بھی حکم فرمایا ہے۔ مسجدوں کو پاک و صاف رکھنا ان میں برے اشعار نہ پڑھنا، بیع و شراء نہ کرنا اپنی گمشدہ چیز تلاش نہ کرنا۔ پیاز لہسن کھا کر یا کسی بھی طرح کی بدبو منہ میں یا جسم میں یا کپڑے میں لے کر آنے سے پرہیز کرنا ان میں دنیا والی باتیں نہ کرنا بہت چھوٹے بچوں کو ساتھ نہ لے جانا یہ سب چیزیں مسجد کی تعظیم میں داخل ہیں۔ مساجد کی اصل آبادی یہ ہے کہ اذانیں دے کر مسلمانوں کو نماز کے لیے بلایا جائے اور داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد پڑھی جائے اور جماعت سے نمازیں پڑھی جائیں۔ اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے قرآن مجید کی تعلیم ہو دینی باتیں سکھائی اور پڑھائی جائیں ایک نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کیا جائے ان میں اعتکاف کیا جائے۔ نماز پڑھ کر مسجد سے نکلے تو مسجد ہی میں دل اٹکا رہے احادیث شریفہ میں ان امور کا اہتمام کرنے کا حکم فرمایا ہے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ مساجد کا دھیان رکھتا ہے تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دے دے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اَنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) ۔ (رواہ الترمذی والدارمی کما فی المشکوٰۃ ص 69)
فائدہ : آیت شریفہ میں جو لفظ (رِجَالٌ لاَ تُلْہِیہِمْ ) وارد ہوا ہے اس سے بعض حضرات نے یہ استنباط کیا ہے کہ رجال یعنی مرد مسجدوں میں آئیں ان میں نماز پڑھیں اور ذکر و تلاوت کریں اور درس میں مشغول ہوں یہ مردوں ہی کے لیے مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو بعض شرطوں کے ساتھ مسجد میں آنے کی اجازت تو دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ بُیُوْتُھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کی نماز اس کے گھر یعنی اندر کے حصے میں اس نماز سے بہتر ہے جو صحن میں پڑھی اور خوب اندر کے کمرے میں نماز پڑھے یہ اس سے بہتر ہے کہ اپنے گھر کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھے۔ (رواھما ابو داؤد ص 84 ج 1)
Ayah 24:38(لِیَجْزِیَہُمْ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا) (تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا اچھے سے اچھا بدلہ دے) ۔
(وَیَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ) (اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے) (وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (اور اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے) ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے سے اچھا اجر ہے اور زیادہ سے زیادہ ثواب ہے بلا حساب رزق ہے۔
Ayah 24:39کافروں کے اعمال ریت کی طرح سے ہیں جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے
اہل ایمان کے اعمال کی جزا بتانے کے بعد کافروں کے اعمال کا تذکرہ فرمایا اور آخرت میں ان کے منافع سے محرومی ظاہر کرنے کے لیے دو مثالیں ظاہر فرمائیں۔ کافر لوگ دنیا میں بہت سے اعمال کرتے ہیں۔ مثلاً صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ جانوروں کو کھلاتے ہیں،
چیونٹیوں کے بلوں میں آٹا ڈالتے ہیں مسافر خانے بناتے ہیں کنویں کھدواتے ہیں اور پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے موت کے بعد فائدہ پہنچے گا ان کی اس غلط فہمی کو واضح کرنے کے لیے دو مثالیں ذکر فرمائیں۔ پہلی مثال یہ کہ ایک شخص پیاسا ہو وہ دور سے سراب یعنی ریت کو دیکھے اور اسے یہ سمجھے یہ پانی ہے (سخت دوپہر کے وقت جنگلوں کے چٹیل میدانوں میں سے دور سے ریت پانی معلوم ہوتا ہے) اب وہ جلدی جلدی اپنے خیال میں پانی کی طرف چلا وہاں پہنچا تو جو کچھ اس کا خیال تھا اس کے مطابق کچھ بھی نہ پایا وہاں تو ریت نکلی (جو سخت گرم تھی نہ اسے کھا سکتا ہے نہ اس سے پیاس بجھ سکتی ہے) جس طرح پیاسے کا گمان جھوٹا نکلا اسی طرح کافروں کا یہ خیال کہ ظاہری صورت میں جو اچھے اعمال کرتے ہیں یہ موت کے بعدنفع بخش ہونگے غلط ہے کیونکہ اعمال صالحہ کے اخروی ثواب کے لیے ایمان شرط ہے وہاں پہنچیں گے تو کسی عمل کا جسے نیک سمجھ کر کیا تھا کچھ بھی فائدہ نہ پہنچے گا کما قال تعالیٰ (وَ قَدِ مْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا) (اور ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار) ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کافروں کے اعمال کو جو بظاہر نیک ہوں بالکل ضائع نہیں فرماتا ان کا بدلہ دنیا میں دے دیتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشہ اللہ کسی مومن پر ایک نیکی کے بارے میں بھی ظلم نہیں فرمائے گا دنیا میں بھی اس کا بدلہ دے گا اور آخرت میں بھی اس کا اجز دے گا لیکن کافر جو نیکیاں اللہ کے لیے کرتا ہے دنیا میں اس کا بدلہ دے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی بھی نیکی نہ بچی ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔ (رواہ مسلم)
(وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفَّاہُ حِسَابَہٗ ) (اور اس نے اللہ کو اپنے عمل کے پاس پایا سو اس نے اس کا حساب پورا کردیا) یعنی دنیا میں اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا چکا ہوگا قال صاحب معالم التنزیل ص 349 ج 3 ووجد اللّٰہ عندہ ای عند عملہ فوفہ حسابہ ای جزاء عملہ اہ و قال صاحب الروح 887 ج 18 و قیل و جد اللّٰہ تعالیٰ محاسبا ایاہ علی ان العندیۃ بمعنی الحساب لذکر التوفیۃ بعد بقولہ سبحانہ فوفاہ حسابہ ای اعطاہ وافیا کاملا حساب عملہ وجزاء ہ او اتم حسابہ بعرض الکتبۃ ما قدمہ۔
(وَاللّٰہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) (اور اللہ جلدی حساب لینے والا ہے) یعنی اسے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی اور ایک کا حساب کرنا دوسرے کا حساب لینے سے مانع نہیں ہوتا۔
Ayah 24:40کافروں کے اعمال کی دوسری مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوْ کَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُجِّیٍّ ) یا یوں سمجھو جیسے بہت سی اندھیریاں بڑے گہرے سمندر کے اندرونی حصہ میں ہوں اور اس سمندر کو ایک بڑی موج نے ڈھانک لیا ہو پھر اس موج کے اوپر دوسری موج ہو پھر اس کے اوپر بادل ہو نیچے اوپر اندھیریاں ہی اندھیریاں ہوں۔ اگر کوئی شخص دریا کی تہہ میں جہاں مذکورہ اندھیریوں پر اندھیریاں ہوں اور اپنا ہاتھ نکال کر دیکھنا چاہے تو وہاں اس کے اپنے ہاتھ کے دیکھنے کا ذرا بھی احتمال نہیں۔ اسی طرح کافر بھی گھٹا ٹوپ گھپ اندھیریوں میں ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارے اعمال کا اچھا نتیجہ نکلے گا حالانکہ اس کا کچھ بھی اچھا نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ مفسر ابن کثیر (296 ج 3) فرماتے ہیں کہ پہلی مثال ان کافروں کی ہے جو جہل مرکب میں مبتلا ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے نفع مند ہونگے اور دوسری مثال ان لوگوں کی ہے جو جہل بسیط میں مبتلا ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر کے سرغنوں کے مقلد ہونے کی وجہ سے کافر ہیں انہیں کچھ پتہ نہیں کہ ہمارے قائد کا کیا حال ہے اور وہ ہمیں کہاں لے جائے گا۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ تم کہاں جا رہے ہو تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے سرداروں کے ساتھ ہیں پھر جب پوچھا جاتا ہے کہ وہ لوگ کہاں جا رہے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہیں۔
اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جو موت کے بعد ثواب ملنے کے قائل ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہمارے نیک اعمال ہمارے لیے نفع مند ہونگے اور دوسری مثال ان کافروں کی جو قیامت اور آخرت کو مانتے ہی نہیں اور وہ اعمال کی جزا سزا کے منکر ہیں۔ ان کے پاس وہمی نور بھی نہیں (جبکہ پہلے قسم کے کافروں کے پاس ایک وہمی اور خیالی نور تھا) سو جن لوگوں نے آخرت کے لیے کوئی عمل کیا ہی نہیں ان کے لیے تو بس ظلمت ہی ظلمت ہے۔
مفسر ابن کثیر نے (ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ ) کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ کافر پانچ اندھیریوں میں ہے اس کی بات ظلمت ہے اس کا عمل ظلمت ہے اس کا اندر جانا (عمارت میں داخل ہونا) ظلمت ہے اور اس کا نکلنا ظلمت ہے اور قیامت کے دن وہ دوزخ کی اندھیریوں میں داخل کردیا جائے گا۔
(وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلْ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ) (اور اللہ جس کے لیے نور مقرر نہ فرمائے اس کے لیے کوئی نور نہیں) یہ (یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَن یَّشَآءُ ) کے مقابلے میں فرمایا مومن کو اللہ نے نور دیا (فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ ) اور کافر کے لیے اللہ نے نور مقرر نہیں فرمایا لہٰذا وہ کفر کی ظلمتوں میں ہے۔
Ayah 24:41آسمان اور زمین والے اور صفیں بنائے ہوئے پرندے اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں ہر ایک کو اپنی اپنی نماز کا طریقہ معلوم ہے
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ کی قدرت کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں اور مخلوق میں جو اس کے تصرفات ہیں ان میں سے بعض تصرفات کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو رہنے اور بسنے والے ہیں وہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔ اس مخلوق میں پرندے بھی ہیں جو پر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتے ہیں یہ بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں ان کا فضاء میں اڑنا اور زمین پر نہ گرنا ان کے پروں کی حرکتوں کو اس قابل بنانا کہ ان سے اڑیں اور زمین پر نہ گریں ان سب میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے یہ مضمون کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں پہلے بھی گزر چکا ہے اور قرآن مجید میں بہت سی جگہ مذکور ہے۔
اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہونا زبان قال سے بھی اور زبان حال سے بھی ہے۔ جو لوگ اہل زبان ہیں وہ زبان سے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور جن چیزوں کو قوت گویائی عطا نہیں فرمائی گئی وہ بھی اپنے حال کے مطابق اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں اول تو ہر چیز کا وجود ہی اس بات کو بتاتا ہے کہ اس کا خالق مالک قادر مطلق اور حاکم متصرف ہے پھر اللہ تعالیٰ نے جس کو جو فہم اور شعور عطا فرمایا ہے اپنے اس شعور سے اللہ کی تسبیح میں اور اس کی عبادت میں مشغول ہے۔ فرشتوں میں اور انسانوں اور جنات میں زیادہ عقل و فہم ہے اس سے کم حیوانات میں (وہ بھی مختلف ہے) اور اس سے کم نباتات میں اور اس سے کم جمادات میں ہے، فیما بین العباد جمادات میں بظاہر فہم و ادراک اور شعور ہے اسی لیے سورة بقرہ میں پتھروں کے بارے میں فرمایا ہے (وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) اور سورة حج میں فرمایا (اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض) مزید سمجھنے کے لیے مذکورہ دونوں آیتوں کی تفسیر دیکھی جائے۔ (انوار البیان ج 1)
آیت بالا میں جو (کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتَہُ وَتَسْبِیحَہُ ) فرمایا ہے اس میں یہ بتایا ہے کہ جو آسمانوں اور زمین کے رہنے اور بسنے والے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ہمیں اپنے خالق جل مجدہ کی تسبیح میں اور نماز میں کس طرح مشغول رہنا چاہئے۔ بعض حضرات نے صلاۃ بمعنی دعاء لیا ہے یہ معنی مراد لینا بھی درست ہے لیکن صلاۃ کا معروف معنی لیا جائے تو اس میں بھی اشکال نہیں۔ جس طرح بنی آدم دوسری مخلوق کی تسبیح کو نہیں سمجھتے کما قال تعالیٰ فی سورة الاسراء (وَ لٰکِنْ لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ) اسی طرح اگر دوسری مخلوق کی نماز کو نہ جانیں اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ تسبیح اور صلاۃ سے اطاعت اور انقیاد مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو جس کام میں لگا دیا ہے وہ اس میں لگی ہوئی ہے اور جس کو جو الہام فرما دیا وہ اسی کے مطابق اپنی ڈیوٹی پوری کرنے میں مشغول ہے۔
یہاں یہ جو اشکال ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اللہ کے وجود ہی کو نہیں مانتے ان کے بارے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باعتبار ان کی خلقت کے ان کا اپنا وجود ہی اللہ کی تنزیہ بیان کرنے کے لیے کافی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان نالائقوں کو تنبیہ کرنے ہی کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تم ایسے ناہنجار ہو کہ جس نے تمہیں پیدا کیا اس کو نہیں مانتے اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول نہیں ہوتے اسی لیے آیت کے آخر میں (وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) فرمایا ہے (اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں) اسے اہل ایمان کے اعمال کا بھی علم ہے اور وہ اہل کفر کو بھی جانتا ہے وہ سب کی جزا سزا اپنے علم و حکمت کے موافق نافذ فرما دے گا۔ قال صاحب الروح ج 18 ص 187 وانما تسبیحھم ماذکر من الدلالۃ التی یشار کھم فیھا غیر العقلاء ایضا و فی ذلک من تخطئتھم و تعییر ھم مافیہ۔
Ayah 24:42اس کے بعد فرمایا (وَلِلَّہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کا ملک) (وَاِِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ) (اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) وہ خالق ومالک ہے حقیقی متصرف ہے یہاں جو برائے نام کوئی مجازی حکومت ہے وہ کوئی بھی نہ رہے گی۔ سارے فیصلے اللہ تعالیٰ ہی کے ہونگے۔
Ayah 24:43اس کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِی سَحَاباًٰ ) (الایہ) اس میں عالم علوی کے بعض تصرفات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بادل کو دوسرے بادل کی طرف چلاتا ہے پھر ان سب کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر ان کو تہہ بہ تہہ جمانے کے بعد اس میں سے بارش نازل فرماتا ہے۔ اے مخاطب تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور جب اس کی مشیت ہوتی ہے تو انہیں بادلوں کے بڑے بڑے حصوں میں سے جو پہاڑوں کی مانند ہیں اولے برسا دیتا ہے۔ یہ اولے بڑے خطر ناک ہوتے ہیں جس کی جان یا مال کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بچا دیتا ہے اور جسے مالی نقصان پہنچانا ہو وہ ان اولوں کو اس کی ہلاکت یا کثیر و قلیل ضرر کا سبب بنا دیتا ہے۔
قال صاحب الروح فی تفسیرہ قولہ تعالیٰ و ینزل من السماء من جبال ای من السحاب من قطع عظام تشبہ الجبال فی العظم والمراد بھا قطع السحاب
بعض مرتبہ بادلوں میں بجلی پیدا ہوتی ہے جس کی چمک بہت تیز ہوتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی آنکھوں کی بینائی کو اچک لے گی۔ اس کا پیدا فرمانا بھی اللہ تعالیٰ کے تصرفات میں سے ہے۔ اس کے ذریعہ اموات بھی ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے بچا لیتا ہے۔
Ayah 24:44انہی تصرفات میں سے رات اور دن کا الٹنا پلٹنا بھی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اسی کو فرمایا (یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ ) (اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو پلٹتا ہے) رات اور دن کا تعلق ظاہری اعتبار سے آفتاب کے طلوع و غروب ہونے سے ہے لیکن آفتاب بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اللہ نے جو طلوع و غروب کا نظام مقرر فرما دیا ہے اسی کے مطابق چلتا ہے۔
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُوْلِی الْاَبْصَارِ ) (بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے) جو شخص اپنی عقل و فہم اور بصیرت سے کام لے گا اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تکوین کے مظاہروں پر غور کرے گا اسے ضرور اللہ تعالیٰ کی توحید واضح طور سے سمجھ میں آجائے گی اور جس نے اپنے لیے یہ طے کرلیا کہ مجھے دلائل میں غور نہیں کرنا اور حق کو نہیں ماننا تو وہ گمراہ ہی رہے گا۔
Ayah 24:45اس کے بعد بعض سفلی تصرفات کا تذکرہ فرمایا ارشاد ہے (وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین پر چلنے پھرنے والی ہر چیز کو پانی سے پیدا فرمایا اس سے حیوانات مراد ہیں جو نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں پھر ان جانوروں میں بعض وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں (جبکہ خشکی میں ہوں) اور بعض وہ ہیں جو چار پاؤں سے چلتے ہیں جیسے اونٹ بھینس گائے بکری وغیرہ (یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَاءُ ) وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اسے پورا اختیار ہے جیسے جس حال میں اور جس شکل و صورت میں پیدا فرمائے۔ اور جس کو جس طرح چاہے قوت وقدرت عطا فرمائے دیکھو پیٹ کے بل چلنے والے جانوروں کو جس طرح چلنے اور بھاگنے کی قوت عطا فرمائی ہے ان میں سے بہت سی دو اور چار ٹانگوں والی چیزوں کو عطا نہیں فرمائی۔ چھپکلی کو دیکھ لو وہ چھت سے الٹی لٹک کر بھی دوڑ لیتی ہے دوسری مخلوق ایسا کرے تو گرپڑے چھپکلی چل بھی رہی ہے اور چپک بھی رہی ہے فسبحان من اعطی کل شیءٍ خلقہ ثم ھدی۔
(اِِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے) جس کو جیسا چاہا بنایا وَ مَا شَاء اللّٰہُ کَانَ وَ مَا لَمْ یَشَاْلَمْ یَکُنْ یہاں یہ جو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزوں کے بارے میں دیکھا جاتا ہے کہ ان کا تو الدو تناسل نطفہ سے نہیں ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا ان کا تو کوئی ماں باپ تھا ہی نہیں اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں لفظ کل دابۃ بطور تغلیب کے استعمال فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ عام طور سے جو تم انسان اور چوپاؤں کو دیکھتے ہو ان کی تخلیق نطفہ سے ہے اور بعض حضرات نے دوسرا جواب دیا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا فرمایا پھر اس میں سے بعض کو آگ بنا دیا جس سے جنات پیدا فرمائے اور بعض کو مٹی بنا دیا اور اس سے انسان کو پیدا فرمایا اور بعض کو حصہ نور بنا دیا اس سے فرشتے پیدا فرمائے اور جتنی مخلوق وجود میں آئیں اس کے وجود میں کسی نہ کسی طرح پانی کے جو ہر کا وجود ہے۔ (من معالم التنزیل ص 351 ج 3 و روح المعانی ص 193 ج 18)
Ayahs 24:46–49منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر نامی منافق کا قصہ ہے۔ ایک واقعہ بعض مفسرین نے ان آیات کے ذیل میں لکھا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مغیرہ بن وائل سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا دونوں نے آپس میں بخوشی اس زمین کو تقسیم کرلیا اس کے بعد مغیرہ نے کہا کہ تم اپنی زمین مجھے بیچ دو حضرت علی اس پر راضی ہوگئے بیع مکمل ہوگئی حضرت علی ؓ نے قیمت پر اور مغیرہ نے زمین پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد کسی نے مغیرہ کو سمجھایا کہ تو نے یہ نقصان کا سودا کیا ہے۔ یہ شور زمین ہے اس پر اس نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے کہا کہ آپ اپنی زمین واپس لے لیں کیونکہ میں اس سودے پر راضی نہیں تھا حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا کہ تو نے اپنی خوشی سے یہ معاملہ کیا ہے اور اس زمین کا حال جانتے ہوئے تو نے خریدا ہے۔ مجھے اس کا واپس کرنا منظور نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ چل ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا مقدمہ پیش کریں اس پر وہ کہنے لگا کہ میں محمد ﷺ کے پاس نہیں جاتا وہ تو مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ فیصلہ کرنے میں مجھ پر ظلم کردیں اس پر آیت بالا نازل ہوئی چونکہ وہ شخص منافق تھا اس لیے اس نے مذکورہ بالا بےہودہ گستاخی والی بات کہی۔ اور چونکہ منافقین آپس میں اندرونی طور پر ایک ہی تھے گھل مل کر رہتے تھے نیز ایک دوسرے کا تعاون بھی کرتے تھے اس لیے آیت شریفہ میں طرز بیان اس طرح اختیار فرمایا کہ سب منافقین کو شامل فرما لیا۔ مفسرابن کثیر نے حضرت حسن (رح) سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جب منافقین میں سے کسی سے جھگڑا ہوتا اور وہ جھگڑا نمٹانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بلایا جاتا اور اسے یقین ہوتا کہ آپ میرے ہی حق میں فیصلہ فرمائیں گے تو حاضر خدمت ہوجاتا اور اگر اس کا ارادہ ہوتا کہ کسی پر ظلم کرے اور اسے خصومت کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے کہا جاتا تو اعراض کرتا تھا اور کسی دوسرے شخص کے پاس چلنے کو کہتا تھا منافقین نے اپنا یہ طریقہ کار بنا کر رکھا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ سبب نزول سمجھے کے بعد اب آیات کا ترجمہ اور مطلب سمجھئے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ (یعنی منافقین) ظاہری طور پر زبان سے یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور ہم فرمانبر دار ہیں اس ظاہری قول وقرار کے بعد عملی طور پر ان میں سے ایک جماعت منحرف ہوجاتی ہے چونکہ حقیقت میں مومن نہیں ہیں اس لیے انہوں نے ایسا طرز عمل اپنا رکھا ہے جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف آؤ تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کردیا جائے تو ان کی ایک جماعت اس سے اعراض کرتی ہے (کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ظلم کر رکھا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونگے تو فیصلہ ہمارے خلاف جائے گا) اور اگر ان کا حق کسی پر آتا ہو تو اس حق کے وصول کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بڑی ہی فرماں برداری کے ساتھ حاضر ہوجاتے ہیں۔ مقصد ان کا صرف دنیا ہے ایمان کا اقرار اور فرماں برداری کا قول وقرار دنیاوی منافع ہی کے لیے ہے۔ خدمت عالی میں حاضر ہونے کی صورت میں بھی طالب دنیا ہی ہیں اور حاضری دینے سے اعراض کرنے میں بھی دنیا ہی پیش نظر ہوتی ہے۔
Ayah 24:50(اَفِی قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ) (کیا ان کے دلوں میں مرض ہے) یعنی اس کا یقین ہے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں اَمِ ارْتَابُوْا (یا انہیں شک ہے) کہ آپ نبی ہیں یا نہیں (اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیف اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَرَسُوْلُہٗ ) (یا وہ یہ خوف کھاتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ان پر ظلم ہوگا) مطلب یہ ہے کہ ان تین باتوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے انہیں یہ بھی یقین ہے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جو فیصلہ ہوگا اس میں ظلم نہیں ہوگا جب یہ بات ہے تو اعراض کا سبب صرف یہی رہ جاتا ہے کہ خود وہ ظالم ہیں (بَلْ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کا مال تو ہمیں مل جائے لیکن ہم پر جو کسی کا حق ہے وہ دینا نہ پڑے۔ اگر انہیں ڈر ہوتا کہ آپ کا فیصلہ انصاف کے خلاف ہوگا تو جب اپنا حق کسی پر ہوتا اس کے لیے دوڑے ہوئے نہ آتے وہ جانتے تھے کہ آپ کا فیصلہ صاحب حق کے حق میں ہوگا۔ لیکن جب یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے خلاف ہوگا تو اعراض کرتے تھے۔ ان کا مقصود انصاف کرانا نہیں بلکہ دوسروں کا مال مارنا ہے۔
Ayahs 24:51–52ایمان والوں کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کہہ کر رضا مندی ظاہر کردیتے ہیں اور یہ لوگ کامیاب ہیں
اوپر منافقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ صرف زبان سے ایمان اور اطاعت کا اقرار اور اعلان کردیتے ہیں پھر جب ان کے جھگڑوں کے فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو اعراض کرتے ہیں اور بچ کر چلے جاتے ہیں وہ لوگ اپنے ایمان کے اعلان و اقرار میں جھوٹے ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں سچے مومنین کا قول و عمل بتایا اور وہ یہ کہ جب انہیں کسی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ہر موقعہ پر (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا) ہی کہتے ہیں ذرا بھی اعراض اور انحراف نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن بھی لیا مان بھی لیا یہ حضرات ہی کامیاب ہیں۔ یہ پہلی آیت کا مضمون ہے دوسری آیت میں اس بات کی مزید توضیح فرمائی اور دو بارہ کامیابی کی خوشخبری دی فرمایا کہ (وَمَنْ یُّطِعْ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ) (اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے) (وَیَخْشَی اللّٰہَ ) (اور اللہ سے ڈرے) وَیَتَّقِیہِ (اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرے) (فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْفَاءِزُوْنَ ) (سو یہی لوگ کامیاب ہیں) اس میں چار چیزوں کا ذکر ہے اول اللہ تعالیٰ کی اطاعت دوم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت (اطاعت میں وہ سب مامورات داخل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم فرمایا اور اطاعت میں ان اعمال سے بچنا بھی داخل ہے جن سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا بلکہ سنن و آداب پر عمل کرنا بھی اطاعت کا جزو ہے) اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اس میں فرائض اور واجبات کا اہتمام کرنا داخل ہے اور چوتھی چیز یہ ہے کہ تمام گناہوں سے بچتا رہے گو اطاعت میں گناہوں سے بچنا بھی داخل ہے لیکن مزیدتاکید اور اہتمام کے لیے اس کا تذکرہ فرمایا۔ مختصر الفاظ میں مومن بندوں کی کامیابی بتادی۔ اسی لیے آیت کے ختم پر (فَاُولٰٓئکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ ) فرما دیا فائز یعنی کامیاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے بچا دیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا ہے (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ) (سو جو شخص دوزخ سے بچایا دیا گیا اور جنت میں داخل کرا دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا) ۔
مفسر ابن کثیر (ص 299 ج 3) نے حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ یَخْشَی اللّٰہَ سے ان گناہوں کے بارے میں ڈرنا مراد ہے جو گناہ پہلے ہوچکے ہیں اور وَیَتَّقِہٖ سے یہ مراد ہے کہ آئندہ گناہوں سے بچے۔