21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 21:98–100

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بلاشبہ تم اور جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے تھے سب دوزخ کا ایندھن ہو تم اس میں داخل ہو گے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اس میں کیوں داخل ہوتے اور سب کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا دوزخ میں

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کی چیخ و پکار ہوگی اور وہ اس میں نہ سنیں گے۔

پھر فرمایا (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ ) (بلاشبہ تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ اہل مکہ کو خطاب ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ مشرکین خود اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں وہ سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے۔ (اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ ) (تم سب دوزخ میں داخل ہو گے) اس میں سابق مضمون کی تاکید ہے۔ مشرکین جب اپنے معبودوں کو دوزخ میں دیکھیں گے تو اس وقت وہ پوری طرح سے سمجھ لیں گے کہ اگر یہ عبادت کے لائق ہوتے تو دوزخ میں کیوں داخل ہوتے۔ دوزخ میں جانے کے بعد مشرک اور کافروں کا اس میں سے نکلنا نہیں ہوگا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس میں چیخیں گے اور چلائیں گے اور یہ چیخ و پکار ایسے ہوگی کہ ایک دوسرے کی چیخ و پکار کی آواز آپس میں نہ سن سکیں گے۔ مشرکین چونکہ اپنے باطل معبودوں کے بارے میں یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ہماری سفارش کردیں گے ان کی یہ غلط فہمی اس وقت بالکل ہی دور ہوجائے گی جب اپنے معبودوں کو دوزخ میں دیکھیں گے۔ باطل معبودوں میں شیاطین بھی ہوں گے اور بت بھی، بتوں کو عذاب دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی عبادت کرنے والوں کو عبرت دلانے کے لیے دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ جو دوزخ میں ہو اسے عذاب ہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ آگ میں کوئی چیز ہو اور اسے تکلیف نہ ہو۔ دوزخ میں عذاب دینے والے فرشتے بھی ہوں گے اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔
Ayahs 21:101–103

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بلاشبہ جن کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ مقرر ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو بڑی گھبراہٹ رنجیدہ نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے، یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

جن کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ ہوچکا وہ دوزخ سے دور رہیں گے جب آیت (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (الایۃ) نازل ہوئی تو عبداللہ بن الزبعریٰ نے اعتراض کیا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا) کہ پھر تو عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے سب یہ دوزخ میں جائیں گے کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اس پر آئندہ آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَامُبْعَدُوْنَ ) نازل ہوئی (بلاشبہ جن کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے (لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَ ھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ ) (وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گی اور اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے) (لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ ) (ان کو بڑی گھبراہٹ غم میں نہ ڈالے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے) ان آیات میں معترض کا جواب دے دیا ہے اور فرما دیا کہ جن حضرات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے طے فرما دیا ہے کہ ان کے لیے خوبی اور بہتری ہے اور انعام و اکرام ہے وہ جہنم سے دور رہیں گے۔ جہنم میں جانا تو کجا وہ جہنم کی آہٹ بھی نہ سنیں گے۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ وہاں اپنی نفس کی خواہشوں کے مطابق زندگی گزاریں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں بڑی گھبراہٹ رنجیدہ نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ بڑی گھبراہٹ سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے کئی قول لکھے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ یعنی جب دو بارہ صور پھونکا جائے گا اور قبروں سے نکل کرمیدان حشر کی طرف روانہ ہوں گے اس وقت کی گھبراہٹ مراد ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اور حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جس وقت دوزخیوں کو دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا اس سے اس وقت کی گھبراہٹ مراد ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جس وقت موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کیا جائے گا اس وقت جو کیفیت ہوگی اسے فزع اکبر یعنی بڑی گھبراہٹ سے تعبیر فرمایا ہے۔ درحقیقت ان اقوال میں کوئی تنافی اور تعارض نہیں ہے۔ جن حضرات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا کہ ان کے لیے خوبی ہی خوبی ہے۔ دوزخ سے دوری ہے اور جنت کا داخلہ ہے۔ انہیں کوئی بھی گھبراہٹ رنجیدہ نہ کرے گی۔ (وَ تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلآءِکَۃُ ) (جب وہ قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور فرشتے ان سے یوں بھی کہیں گے (ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) (کہ تمہارا یہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) تمہیں ایمان اور اعمال صالحہ پر اجر وثواب کی جو خوشخبری دی جاتی تھی آج اس خوشخبری کے مطابق تمہیں امن چین، عیش و آرام اکرام و انعام سب کچھ حاصل ہے۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

وہ دن یاد رکھنے کے قابل ہے جس روز ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دینگے جس طرح لکھے ہوئے مضمونوں کا کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے ہم نے جس طرح پہلی بار مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اسے لوٹا دینگے ہمارے ذمہ وعدہ ہے بلاشبہ ہم کرنے والے ہیں۔

قیامت کے دن آسمان کا لپیٹا جانا، جس طرح ابتدائے آفرینش ہوئی اسی طرح دوبارہ پیدا کیے جائیں گے گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان کے باطل معبودوں کے دوزخ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا اور ان حضرات کے اہل جنت ہونے کا ذکر تھا جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ ان حضرات کے بارے میں فرمایا کہ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ کہ انہیں بڑی گھبراہٹ غم میں نہ ڈالے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور یوں کہیں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ چونکہ ان چیزوں کا تعلق وقوع قیامت سے ہے اس لیے اس کے بعد اس کا تذکرہ فرمایا کہ قیامت کا واقع کرنا ہمارے لیے معمولی سی بات ہے۔ تمہاری نظروں کے سامنے سب سے بڑی چیز آسمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ اسی کو فرمایا کہ اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے مضمون لکھی ہوئی کتاب کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جس طرح لکھنے والے کاغذ کو لپیٹ دیتے ہیں ہم اسی طرح آسمان کو لپیٹ دیں گے۔ جب آسمان کا یہ حال ہوگا تو دوسری مخلوق کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔ ھذا علی احد الاقوال فی معنی السجل و الکتاب، و فی الدر المنثور، ص 347، ج 4، عن ابن عباس ؓ کطی الصحیفۃ ” علی الکتاب “ الدال علی المکتوب۔ دوسری آیات میں آسمان کے پھٹنے کا اور رنگی ہوئی اون کے گالوں کی طرح ہوجانے کا ذکر ہے۔ یہ مختلف احوال کے اعتبار سے ہے۔ پہلے لپیٹ دیا جائے پھر وہ پھٹ جائے اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والے جو یہ سوال اٹھاتے تھے کہ دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے اس کے جواب میں فرمایا (کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ) (جس طرح ہم نے مخلوق کی پہلی بار ابتدا کی تھی ہم اس طرح لوٹا دیں گے) یہ بات عجیب ہے کہ پہلی بار جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا منکرین بعث اس کو مانتے ہیں اور دوبارہ پیدا کیے جانے کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جیسے پہلے پیدا فرمایا پھر اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ سمجھ کی بات تو یہ ہے کہ جس نے بےمثال تخلیق کردی اسے دو بارہ پیدا کرنے میں اور زیادہ آسانی ہونی چاہیے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے لیے ابتدا اور اعادہ دونوں برابر ہیں۔ پھر دو بارہ پیدا کرنے کا انکار کیوں ہے ؟ (وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بلاشبہ ہم کرنے والے ہیں) کوئی مانے یا نہ مانے قیامت آئے گی، فیصلے ہوں گے۔ جنتی جنت میں، دوزخی دوزخ میں جائیں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ذکر یعنی لوح محفوظ کے بعد آسمانی کتابوں میں ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات لوح محفوظ میں اور آسمانی کتابوں میں لکھ دی اور بتادی ہے کہ زمین کے وارث صالحین ہوں گے۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے ذکر کے بعد آسمانی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ بلاشبہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے،

لفظ الزَّبُوْرُسے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ہم نے حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد کا قول لیا ہے کہ الزبور سے آسمانی کتب اور الذکر سے لوح محفوظ مراد ہے۔ عن ابن عباس فی الایۃ قال الزبور و التوراۃ و الانجیل والقرآن، والذکر الاصل الذی نسخت منہ ھذہ الکتب الذی فی السماء، و قال مجاھد الزبور الکتب و الذکرام الکتاب عنداللہ، (الدرالمنثور، ص 341، ج 4) کون سی زمین کے بارے میں فرمایا ہے کہ صالحین اس کے وارث ہیں ؟ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد اور حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ نے فرمایا ہے کہ اس سے جنت کی سر زمین مراد ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ صالحین جنت کے وارث ہوں گے۔ سورة زمر میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَاءُ ) (اور جنت والے کہیں گے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس سر زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں قیام کریں) چونکہ اس سے جنت کی سر زمین مراد ہے اس لیے یہ اشکال ختم ہوجاتا ہے کہ ہم تو اس زمین پر کافروں فاسقوں کی حکومتیں بھی دیکھتے ہیں۔ پھر آیت میں جو وعدہ ہے وہ کیسے پورا ہوا ؟ لیکن اگر دنیا والی زمین مراد لی جائے تب بھی اشکال کی بات نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو یہ بتائے کہ زمین پر ہمیشہ صالحین ہی کی حکومت رہے گی۔ اگر کافروں اور فاسقوں کی حکومتیں ہیں تو صالحین کی حکومتیں بھی تو رہی ہیں۔ جن میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تھے اور ان کے متبعین بھی اور امت محمدیہ علیٰ صاحبھا التحیہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا ملک عطا فرمایا۔ حکومت چلانے والوں میں صالحین بھی تھے۔ یہ دوسری بات ہے کہ مسلمانوں کی ایمانی کمزوری اور بد عملی اور غفلت کی وجہ سے بڑے بڑے ملک ہاتھوں سے نکل گئے اور اب جہاں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں وہاں فاسق چھائے ہوئے ہیں۔ اس کا باعث بھی مسلمانوں کی دین و ایمان کی کمزوری ہی ہے کہ وہ صالحین کو اقتدار پر دیکھنا نہیں چاہتے اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر صالحین کا اقتدار ہوا تو قرآن و سنت کی حکومت ہوگی۔ اور من مانی زندگی نہ گزار سکیں گے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں عبادت گزاروں کے لیے کافی مضمون ہے

آخر میں یہ فرمایا (اِنَّ فِیْ ھٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں عابدین کے لیے کافی مضمون ہے) جسے سمجھ کر اور جان کر اعمال صالحہ کی طرف متوجہ اور آخرت کے لیے متفکر ہوسکتے ہیں۔ کعب الاحبار کا قول ہے کہ قوم عابدین سے امت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و التحیۃ مراد ہے اور حضرت حسن سے منقول ہے کہ عابدین سے وہ لوگ مراد ہیں جو پانچوں وقت پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ عابدین سے عاملین مراد ہیں (لہٰذا یہ لفظ تمام اعمال صالحہ والوں کو شامل ہے) ۔ (الدر المنثور، ج 4، ص 341)
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر

رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین ہی ہیں آیت بالا میں رسول اللہ ﷺ کو رحمۃ للعالمین کا مبارک اور معظم لقب عطا فرمایا اور سورة توبہ میں آپ کو رؤف رحیم کے لقب سے سر فراز فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا انما انا رحمت مھداۃ (یعنی میں اللہ کی طرف سے مخلوق کی طرف بطور ہدیہ بھیجا گیا ہوں اور سراپا رحمت ہوں۔ ) ایک حدیث میں ارشاد ہے آپ نے فرمایا ان اللہ تعالیٰ بعثنی رحمۃ للعالمین وھدی للعالمین و امرنی ربی بمحق المعازف و المزامیر والاوثان و الصلیب وامر الجاھلیۃ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سارے جہانوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا اور میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ گانے بجانے کی چیزوں کو مٹا دوں اور بتوں کو اور صلیب کو (جس کی نصرانی پرستش کرتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹا دوں۔ رحمۃ للعالمین ﷺ کی رحمت عام ہے آپ کی تشریف آوری سے پہلے سارا عالم کفر و شرک کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ آپ تشریف لائے سو توں کو جگایا، حق کی طرف بلایا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کروڑوں انسان اور جنات ہدایت پا چکے ہیں۔ ساری دنیا کفر و شرک کی وجہ سے ہلاکت اور بربادی کے دہانہ پر کھڑی تھی۔ آپ ﷺ کے تشریف لانے سے دنیا میں ایمان کی ہوا چلی، توحید کی روشنی پھیلی جب تک دنیا میں اہل ایمان رہیں گے قیامت نہیں آئے گی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دنیا میں اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا۔ (صحیح مسلم ص 84، ج 1) یہ اللہ کی یاد آپ ﷺ ہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ عالم کے لیے آسمانوں کے اور زمین کے رہنے والے حتیٰ کہ مچھلیاں پانی میں استغفار کرتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 34) اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ جب تک علوم نبوت کے مطابق دنیا میں اعمال موجود ہیں اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی۔ اگر یہ نہ ہوں تو قیامت آجائے۔ اس لیے ہمیں دینی علوم کے طلباء کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لے کر پوچھتا ہے کیا آج تیرے اوپر سے کوئی ایسا شخص گزرا ہے جس نے اللہ کا نام لیا ہو۔ اگر وہ پہاڑ جواب میں کہتا ہے کہ ہاں ایک ایسا شخص گزرا تھا تو یہ جواب سن کر سوال کرنے والا پہاڑ خوش ہوتا ہے۔ (ذکر ابن الجزری فی الحصن الحصین) اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ایک شخص ایک پہاڑ پر گزرا اور دوسرے پہاڑ کو یہ بات معلوم کر کے خوشی ہوئی اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ عموماً مومن بندے جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں اس سے عالم کی بقا ہے۔ مجموعہ عالم میں آسمان، زمین، چرند پرند، چھوٹے بڑے حیوانات اور جمادات سبھی ہیں۔ قیامت آئے گی تو کچھ بھی نہ رہے گا۔ سب کی بقا اہل ایمان کی وجہ سے ہے اور ایمان کی دولت رحمت للعالمین ﷺ سے ملی ہے۔ اس اعتبار سے آپ ﷺ کا رحمۃ للعالمین ہونا ظاہر ہے۔ اور اس اعتبار سے بھی آپ ﷺ سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں کہ آپ ﷺ نے ایمان اور ان اعمال کی دعوت دی جن کی وجہ سے دنیا میں اللہ کی رحمت متوجہ ہوئی ہے اور آخرت میں بھی ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے رحمت ہوگی جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے انہوں نے رحمت سے فائدہ نہیں اٹھایا جیسا کہ نابینا آدمی کو آفتاب کے طلوع ہونے سے روشنی کا فائدہ نہیں ہوتا۔ روشنی سے نابینا کا محروم ہونا سورج کے تاریک ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے پہلے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتیں جب اسلام قبول نہیں کرتی تھیں تو ان پر عذاب آجاتا تھا اور نبی کی موجودگی میں ہی ہلاک کردی جاتی تھیں۔ آپ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا اس بات میں بھی مظاہرہ ہے کہ عمومی طور پر سبھی منکرین اور کافرین ہلاک ہوجائیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔ آخرت میں کافروں کو کفر کی وجہ سے جو عذاب ہوگا۔ وہ آخرت سے متعلق ہے۔ دنیا میں آپ کو کیسی کیسی تکلیفیں دی گئیں اور کس کس طرح ستایا گیا آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ رحمت ہی کا برتاؤ کیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ مشرکین کے لیے بد دعا کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح، ص 519) آپ طائف تشریف لے گئے وہاں دین حق کی دعوت دی۔ وہ لوگ ایمان نہ لائے اور آپ کے ساتھ بد خلقی کا بہت برا برتاؤ کیا۔ پہاڑوں پر مقرر فرشتہ نے آکر خدمت عالی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ فرمائیں تو ان لوگوں کو پہاڑوں کے بیچ میں کچل دوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کریں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 523) سورۂ توبہ میں آپ ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے (عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ ) یعنی امت کو جس چیز سے تکلیف ہو وہ آپ ﷺ کو شاق گزرتی ہے اور آپ ﷺ کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ (حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ ) آپ ﷺ امت کے نفع کے لیے حریص ہیں، اہل ایمان کو اعمال صالحہ سے بھی متصف دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ بھی حرص ہے کہ ان کے دنیاوی حالات درست ہوجائیں۔ (بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ) آپ ﷺ کو اپنی امت کے ساتھ رافت اور رحمت کا تعلق ہے۔ آپ ﷺ کا تعلق صرف اتنا نہیں تھا کہ بات کہہ کر بےتعلق ہوجاتے۔ آپ ﷺ کو اپنی امت سے قلبی تعلق تھا۔ ظاہراً بھی آپ ﷺ ان کے ہمدرد تھے اور باطناً بھی۔ امت کو جو تکلیف ہوتی اس میں آپ ﷺ بھی شریک ہوتے اور جس کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی آپ ﷺ کو اس سے کڑھن ہوتی تھی۔ حضرات صحابہ میں کسی کو تکلیف ہوجاتی تھی تو اس کے لیے فکر مند ہوتے تھے۔ عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے، دوا بتاتے تھے، مریض کو تسلی دینے کی تعلیم دیتے تھے۔ تکلیفوں سے بچانے کے لیے ان امور کی تعلیم دیتے تھے، جن سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ تھا اور جن سے انسان کو خود ہی بچنا چاہیے لیکن آپ ﷺ کی شفقت کا تقاضا یہ تھا کہ ایسے امور کو بھی واضح فرماتے تھے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے کسی ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا جس کی منڈیر بنی ہوئی نہ ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 404) اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہ جو شخص (ہاتھ دھوئے بغیر) اس حالت میں سو گیا کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہوئی تھی پھر اسے کوئی تکلیف پہنچ گئی (مثلاً کسی جانور نے ڈس لیا) تو وہ اپنی ہی جان کو ملامت کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 366) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص رات کو سونے کے بعد بیدار ہو تو ہاتھ دھوئے بغیر پانی میں ہاتھ نہ ڈالے۔ کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے (ممکن ہے کہ اسے کوئی ناپاک چیز لگ گئی ہو یا اس پر زہریلا جانور گزر گیا ہو) (رواہ البخاری و مسلم) جوتے پہننے کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیادہ تر جوتے پہنے رہا کرو۔ کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہنے رہتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سوار ہو۔ جیسے جانور پر سوار ہونے والا زمین کے کیڑے مکوڑوں اور گندی چیزوں اور کانٹوں اور اینٹ پتھر کے ٹکڑوں سے محفوظ رہتا ہے۔ ایسے ہی ان چیزوں سے جوتے پہننے والے کی بھی حفاظت رہتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 379) نیز آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب چلتے چلتے کسی کا چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک چپل میں نہ چلے۔ یہاں تک کہ دوسرے چپل کو درست نہ کرلے (پھر دونوں کو پہن کر چلے) اور یہ بھی فرمایا کہ ایک موزہ پہن کر نہ چلے (کیونکہ ان صورتوں میں ایک قدم اونچا اور ایک قدم نیچا ہو کر توازن صحیح نہیں رہتا) آپ ﷺ امت کو اس طرح تعلیم دیتے تھے جیسے ماں باپ اپنے بچوں کو سکھاتے اور بتاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لیے باپ ہی کی طرح ہوں۔ میں تمہیں سکھاتا ہوں (پھر فرمایا کہ) جب تم قضاء حاجت کی جگہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو نہ پشت کرو اور آپ ﷺ نے تین پتھروں سے استنجا کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ لید سے اور ہڈی سے استنجا نہ کرو اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 42) اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو جگہ کو دیکھ بھال لے (مثلاً پکی جگہ نہ ہو، جہاں سے چھینٹے اڑیں اور ہوا کا رخ نہ ہو وغیرہ۔ (مشکوٰۃ ص 42) نیز آپ ﷺ نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا (مشکوٰۃ المصابیح) کیونکہ ان میں جنات اور کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔ اگر کتب حدیث میں زیادہ وسیع نظر ڈالی جائے تو اس طرح کی بہت سی تعلیمات سامنے آجائیں گی جو سراسر شفقت پر مبنی ہیں۔ اس شفقت کا تقاضا تھا کہ آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی بھی مومن عذاب میں مبتلا ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی۔ جب چاروں طرف روشنی ہوگئی تو پروانے اس آگ میں آکر گرنے لگے۔ وہ شخص ان کو روکتا ہے کہ آگ میں نہ گریں لیکن وہ اس پر غالب آجاتے ہیں اور آگ میں گرتے ہیں۔ اسی طرح میں بھی تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے ہو۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے جو گناہوں پر وعیدیں بتائی ہیں اور عذاب کی خبریں دی ہیں ان پر دھیان نہیں دیتے۔ (رواہ البخاری و مسلم) سورة آل عمران میں آپ ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اسْتَغْفِرْلَھُمْ وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ) (سو اللہ کی رحمت کے سبب آپ ﷺ ان کے لیے نرم ہوگئے اور اگر آپ ﷺ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ سو آپ ﷺ ان کو معاف فرما دیجیے اور ان کے لیے استغفار کیجیے اور کاموں میں ان سے مشورہ لیجیے۔ پھر جب آپ پختہ عزم کرلیں تو آپ اللہ پر توکل کیجیے۔ بیشک توکل کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں) ۔ آیت بالا میں جہاں آپ ﷺ کی خوش خلقی اور نرم مزاجی اور رحمت و شفقت کا ذکر ہے وہاں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ اگر آپ ﷺ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ صحابہ جو آپ ﷺ کے پاس جمع ہیں، جو آپ ﷺ سے بےپناہ محبت کرتے ہیں وہ آپ ﷺ کے پاس سے چلے جاتے اور منتشر ہوجاتے ہیں، حضرت سعدی نے کیا اچھا فرمایا کس نہ بیند کہ ان حجاز برلب آب شور گرد آیند ہر کجا چشمہ بود شیریں مردم و مرغ و مور گرد آیند رسول اللہ ﷺ کے اخلاق عالیہ میں شفقت اور رحمت کا ہمیشہ مظاہرہ ہوتا رہتا تھا۔ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو آپ ﷺ اس کے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ نہیں نکالتے تھے جب تک کہ وہی اپنا ہاتھ نکالنے کی ابتداء نہ کرتا اور جس سے ملاقات ہوتی تھی اس کی طرف سے خود چہرہ نہیں پھیرتے تھے یہاں تک کہ وہی اپنا رخ پھیر کر جانا چاہتا تو چلا جاتا تھا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال سے شفقت کرنے میں رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر ہو۔ حضرت انس ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، مجھ سے کبھی کچھ نقصان ہوگیا تو مجھے کبھی ملامت نہیں فرمائی۔ اگر آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے ملامت کی تو فرمایا کہ رہنے دو ۔ اگر کوئی چیز اللہ کے قضا و قدر میں ہے تو وہ ہو کر ہی رہے گی۔ آپ رحمۃ للعالمین تھے۔ دوسروں کو بھی رحم کرنے کا حکم فرمایا۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (رواہ البخاری و مسلم) آپ نے فرمایا کہ مومنین کو ایک دوسرے پر رحم کرنے اور آپس میں محبت اور شفقت کرنے میں ایسا ہونا چاہیے جیسے ایک ہی جسم ہو۔ جسم کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم جاگتا رہتا ہے اور سارے جسم کو بخار چڑھ جاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس شخص کے دل سے رحمت نکال لی جاتی ہے جو بد بخت ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح، باب الشفقۃ و الرحمۃ علی الخلق) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور برائیوں سے نہ روکے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 423) امت محمدیہ پر لازم ہے کہ اپنے نبی ﷺ کا اتباع کریں اور سب آپس میں رحمت و شفقت کے ساتھ مل کر رہیں اور اپنی معاشرت میں رحمت و شفقت کا مظاہرہ کریں۔ سورة توبہ کی آخری آیت (لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) کی تفسیر بھی ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میری طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے سو کیا تم بات ماننے والے ہو،

توحید کی دعوت اور رو گردانی پر عذاب کی وعید رسول اللہ ﷺ کی شان رحمۃ للعالمین بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی حقیقی اور واقعی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ جو کوئی شخص توحید والے دین پر ہوگا جسے رحمۃ للعالمین ﷺ ارحم الراحمین جل مجدہ کی طرف سے لائے ہیں وہ دنیا و آخرت میں مورد الطاف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے نوازا جائے گا۔ (فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) (کیا تم ماننے والے ہو) یعنی تم اس بات کو مان لو تمہارا اسی میں بھلا ہے۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

سو اگر وہ روگردانی کریں تو آپ فرما دیجیے، کہ میں تمہیں خوب صاف طریقہ پر اطلاع دے چکا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ جس کا تم سے وعدہ ہوا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے،

پھر فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآءٍ ) کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت قبول نہ کریں اور رو گردانی کریں تو آپ فرما دیجیے کہ میں حجت پوری کرچکا ہوں۔ نہایت صاف طریقہ پر بتاچکا ہوں۔ توحید کی دعوت بھی تمہیں دے دی، اسلام کی حقانیت پر دلائل بھی دے دیئے۔ معجزات بھی پیش کردیئے۔ اب ذرہ برابر بھی تم پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہی۔ نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے۔ پھر فرمایا کہ تم کو جو یہ بتایا ہے کہ دین حق قبول نہ کرنے پر دنیا میں عذاب آئے گا اور قیامت کے دن بھی عذاب میں مبتلا ہو گے یہ وعدہ سچا ہے لیکن اس کے وقوع میں جو دیر لگ رہی ہے اس کی وجہ سے یہ نہ سمجھنا کہ اس کا وقوع نہ ہوگا۔ خود مجھے بھی معلوم نہیں کہ وہ قریب ہی واقع ہونے والا ہے یا اس کے وقوع میں دیر ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کی اجل مقرر ہے۔ میرا اور تمہارا اس اجل کو نہ جاننا اس بات کی دلیل نہیں کہ موعودہ عذاب کا وقوع نہیں ہوگا۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

بلاشبہ بات ہے کہ اللہ زور کی کہی ہوئی بات کو جانتا ہے، اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے

(اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ جانتا ہے زور سے کہی ہوئی بات کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم چھپاتے ہو) تم زبانوں سے حق کا انکار کرو یا دلوں سے اس کی تردید کرو، اس کی سزا پالو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہی سزا دینے والا ہے۔ اگر کفر اور شرک کی باتوں کو اپنے دل میں چھپاتے ہو تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ زبان سے نہیں نکالا اس لیے مواخذہ نہ ہوگا۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا کہ شاید وہ تمہارے لیے امتحان ہو اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانا ہو،

(وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ) (اور میں نہیں جانتا، شاید وہ تمہارے لیے امتحان ہو اور ایک زمانہ تک فائدہ پہنچانا ہو) ۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی کیا حکمت ہے میں نہیں جانتا ممکن ہے عذاب کی تاخیر میں تمہارا امتحان مقصود ہو اور اللہ تعالیٰ کی یوں مشیت ہو کہ ایک وقت محدود تک تمہیں اس زندگی سے فائدہ پہنچانا مقصود ہو۔ جب اسباب عیش میں پڑو گے تو کفر پر ہی جمے رہو گے۔ اور مزید عقوبت اور عذاب کے مستحق ہو گے۔ میں نے تمہیں آگاہ کردیا ہے، جانتے بوجھتے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کرنا یہ سمجھ داروں کا کام نہیں ہے۔ خوب سمجھ لو کہ یہ زندگی اور زندگی کے اسباب تمہارے لیے فتنہ بن سکتے ہیں۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

رسول اللہ نے کہا کہ اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیجیے اور ہمارا رب رحمن ہے، جس سے ان باتوں کے مقابلہ میں مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

(قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بالْحَقِّ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ) (پیغمبر ﷺ نے کہا اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیجیے اور ہمارا رب رحمن ہے جس سے ان باتوں کے مقابلہ میں مدد چاہی جاتی ہے جو تم لوگ بیان کرتے ہو) یہ سب باتیں بیان کرنے کے بعد پیغمبر ﷺ نے دعا کی کہ اے میرے رب میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دیجیے۔ دشمنان اسلام کے سامنے کوئی ایسی صورت پیش آجائے جس سے اپنے بارے میں یہ سمجھ لیں کہ وہ باطل پر ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔ حق اور باطل فیما بین العباد فیصلہ سامنے لانے کے لیے غزوۂ بدر پیش آیا جس میں بڑے بڑے کفر کے سر غنے مارے گئے جو خود یہ دعا کر کے چلے تھے کہ اے اللہ ہمارا اور محمد ( رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ ہے جو حق پر ہو اسے غالب کر۔ کما مر فی تفسیر قولہ تعالیٰ (اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَکُمُ الْفَتْحُ ) (سورۃ الانفال) اسی لیے غزوۂ بدر کے دن کو یوم الفرقان فرمایا ہے۔ مشرکین مکہ یہ چاہتے تھے کہ داعی اسلام ﷺ اور ان کے ساتھی نیست و نابود ہوجائیں جس سے ان کا یہ مقصد تھا کہ دین اسلام ختم ہوجائے۔ اس کی دعوت دینے والا، اس کا نام لینے والا کوئی نہ رہے۔ ان کی اس خواہش کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جو باتیں کہتے ہو اور ہمارے خلاف جو ارادے رکھتے ہو اس کے مقابلہ میں ہم اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ وہ رحمن ہے ہم پر رحم فرمائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرمایا اور کافر اور ان کے ارادے نیست و نابود ہوگئے۔ و ھذا آخر الکلام فی تفسیر سورة الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام والحمد للہ علی التمام و الصلوٰۃ والسلام علی البدر التمام و علی الہ و اصحابہ البررۃ الکرام الی یوم القیام