21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان کا تمسخر کیا انہیں وہ چیزپہنچ گئی جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کا وہ تمسخر کرتے تھے) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ سے پہلے بھی حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی گئی، ان کا مذاق بنایا گیا۔ پھر انجام کے طور پر تمسخر کرنے والوں نے اپنے تمسخر اور تکذیب کا مزہ چکھ لیا اور جس عذاب کا وہ مذاق بناتے تھے یہ عذاب ان پر نازل ہوگیا۔ آپ کے مخالفین جو عذاب کا مذاق بنا رہے ہیں یہ بھی اطمینان سے نہ بیٹھیں گے ان پر بھی دنیا میں عذاب آسکتا ہے۔ اگر دنیا میں نہیں تو آخر میں تو ہر کافر کو عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے۔
Ayahs 21:42–46

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے وہ کون ہے جو رات میں اور دن میں رحمن سے تمہاری حفاظت کرتا ہے۔ بلکہ وہ لوگ اپنے رب کی توحید سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے لیے ایسے معبود ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہوں ؟ وہ اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابلہ میں کوئی شخص ان کا ساتھ دے سکتا ہے !

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گزر گیا۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹا رہے ہیں کیا وہ غالب آنے والے ہیں ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے بات یہی ہے کہ میں تمہیں وحی کے ذریعہ ڈراتا ہوں اور بہرے لوگ پکار کو نہیں سنتے جب کہ وہ ڈرائے جاتے ہیں

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے انہیں عذاب کا ایک جھونکا لگ جائے تو ضرور یوں کہیں گے کہ ہائے ہماری کمبختی واقعی ہم ظالم تھے۔

رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہیں کیا ان کا یہ خیال ہے کہ جب ہماری طرف سے عذاب آئے گا تو ان کے یہ باطل معبود انہیں ہمارے عذاب سے بچا لیں گے، ان کا یہ خیال غلط ہے۔ وہ ان کی کیا مدد کریں گے، وہ تو اپنی ہی مدد نہیں کرسکتے۔ خود ان پر ہماری طرف سے عذاب آجائے یا کوئی تکلیف پہنچ جائے تو ہمارے مقابلے میں کوئی ان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ پھر فرمایا کہ سر کشی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو سامان عیش دیا تھا۔ اسی میں پھلتے پھولتے رہے اور اس پر زمانہ دراز گزر گیا۔ پشت در پشت جب عیش و آرام میں پڑے رہے تو غفلت کے پردے پڑگئے۔ نہ دنیا کے انقلاب سے چونکے نہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بیدار کرنے سے بیدار ہوئے اور اب اسلام کے اور مسلمانوں کے مخالف بن رہے ہیں۔ کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس زمین پر وہ قابض ہیں ہم اسے ہر چار طرف سے برابر گھٹاتے چلے آ رہے ہیں یعنی ان سے لے کر مسلمانوں کے قبضے میں دے رہے ہیں، کیا انہیں پھر یہ بھی خیال ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوجائیں گے۔ پھر فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ میں تو تمہیں وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں لیکن تم بہرے بنے ہوئے ہو۔ بہرے پکار کو سنتے ہی نہیں ہیں، حقیقت میں بہرے نہیں لیکن بہرے لوگوں کا ڈھنگ اختیار کر رکھا ہے۔ ساری سنی ان سنی کردیتے ہیں اور عذاب آنے کی رٹ لگاتے ہیں۔ عذاب کی تاب نہیں اور عذاب کا تقاضا ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ لَءِنْ مَّسَّتْھُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ ) (الایۃ) (اگر آپ کے رب کی طرف سے انہیں عذاب کا ایک جھونکا لگ جائے تو ضرور یوں کہیں گے کہ ہائے ہماری کمبختی واقعی ہے) عذاب کے ایک جھونکا کی بھی تاب نہیں لیکن پھر بھی اپنی بےوقوفی سے عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہیں۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم عدل والی میزان قائم کردیں گے۔ سو کسی پر ذرا سا ظلم بھی نہ ہوگا اور اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے حاضر کردیں اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔

قیامت کے دن میزان عدل قائم ہوگی، کسی پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا اس میں سب کو قیامت کے دن کے محاسبہ کی یاد دہانی فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ ہم میزان عدل قائم کردیں گے۔ کسی پر ذرا سا ظلم نہ ہوگا۔ جس کسی نے کوئی بھی نیکی کی ہوگی اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو ہم اسے وہاں حاضر کردیں گے۔ اور وہ بھی حساب میں شامل کرلی جائے گی۔ سورۂ نساء میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ) (بلاشبہ اللہ کسی پر ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں فرماتا) اور سورة الزلزال میں فرمایا (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ) (سو جس نے ذرہ کے برابر خیر کا کام کیا ہوگا وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا) آیت کے ختم پر فرمایا (وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ ) (اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں) یعنی ہمارے وزن اور حساب کے بعد کسی اور حساب کتاب کی ضرورت نہ رہے گی۔ ہمارا حساب لینا کافی ہے ہمارے فیصلے کے بعد کوئی فیصلے کرنے والا نہیں ! حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے چند غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میں انہیں برا کہتا ہوں اور مارتا بھی ہوں تو میرا اور ان کا کیا بنے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان کی خیانت اور نافرمانی اور جھوٹ بولنے کا اور تیرے سزا دینے کا حساب کیا جائے گا، سو اگر تیرا سزا دینا ان کی خطاؤں کے برابر ہوگا تو معاملہ برابر سرابر رہے گا نہ ان سے تجھے کچھ ملے گا نہ تجھ پر کچھ و بال ہوگا۔ اور اگر تیرا سزا دینا ان کی خطاؤں سے کم ہوگا تو تجھے اس سے بدلہ دیا جائے گا اور اگر تیرا سزا دینا ان کی خطاؤں سے زیادہ ہوگا تو اس زائد کا انہیں تجھ سے بدلہ دیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ شخص وہاں سے ہٹ گیا اور اس نے چیخنا اور رونا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تو اللہ کی کتاب نہیں پڑھتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْءًا) (یہ سن کر اس شخص نے کہا یا رسول اللہ، اللہ کی قسم میں ان کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں سمجھتا کہ ان سے جدا ہوجاؤں۔ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سب آزاد ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص 484) الموازین میزان کی جمع ہے لفظ جمع کی وجہ سے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بہت سے ترازوئیں ہوں گی لیکن جمہور علماء کا فرمانا یہ ہے کہ میزان تو ایک ہی ہوگی اور بہت بڑی ہوگی۔ لیکن چونکہ وہ زیادہ میزانوں کا کام دے گی اس لیے جمع سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور لفظ قِسْط انصاف کے معنی میں آتا ہے اس کو موازین کی صفت قرار دیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ترازو سراپا انصاف ہوگی۔ حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ترازو رکھ دی جائے گی اور وہ اتنی بڑی ہوگی کہ اگر اس میں آسمان و زمین سب رکھ دیئے جائیں تو سب اس میں سما جائیں۔ فرشتے اسے دیکھ کر کہیں گے کہ یا رب یہ کس کے لیے وزن کرے گی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اپنی مخلوق میں سے جس کے لیے چاہوں گا وزن کروں گا۔ اس پر فرشتے کہیں گے (سُبْحَانَکَ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ ) (تیری ذات پاک ہے۔ ہم نے تیری ایسی عبادت نہیں کی جیسی عبادت کا حق ہے) (قال المنذری فی الترغیب، ج 4، ص 425، رواہ الحاکم و قال صحیح علی شرط مسلم) اعمال کا وزن کس طرح ہوگا اس کے بارے میں کچھ تفصیل سورة اعراف کے پہلے رکوع کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ (انوار البیان، جلد دوم)
Ayahs 21:48–49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ والی چیز اور روشنی، اور نصیحت کی چیز عطاء کی جو متقیوں کے لیے نصیحت تھی

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے خوفزدہ ہیں

توریت شریف اور قرآن مجید کی صفات یہ تین آیات ہیں۔ پہلی دو آیات میں توریت شریف کا ذکر ہے اور تیسری آیت میں قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ توریت کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو عطا کی جو فرقان ہے۔ یعنی حق و باطل کا فیصلہ کرنے والی ہے اور ضیاء یعنی روشنی ہے جس سے قلوب منور ہوتے ہیں اور ذکر یعنی نصیحت ہے۔ اس کے یہ فوائد ہیں تو سبھی کے لیے، لیکن خاص کر ان لوگوں کے لیے ہیں جو متقی ہیں یعنی گناہوں سے بچتے ہیں اور بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور قیامت کے دن سے یعنی وہاں کے حساب کتاب سے بھی خوفزدہ ہیں۔ یہ صفات ان لوگوں کی تھیں جو توریت پرچلتے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ فرقان سے اللہ تعالیٰ کی مدد مراد ہے جو حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے شامل حال رہی دونوں نے فرعون کے لشکر سے اپنی قوم کے ساتھ نجات پائی۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں طرح طرح کی مدد سے نوازا اور ضیاء اور ذکر سے توریت شریف مراد ہے الفاظ میں اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ایک نصیحت ہے مبارک ہے جو ہم نے نازل کی ہے سو کیا تم پھر بھی اس کے منکر ہو۔

قرآن مجید کے بارے میں فرمایا (وَ ھٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلْنٰہُ اَفَاَنْتُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ) (یہ قرآن نصیحت ہے بہت بابرکت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے (پہلے سے تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بھی کتابیں نازل فرمائی ہیں) پھر اس کے نازل ہونے کا انکار کیوں کرتے ہو۔
Ayahs 21:51–70

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس سے پہلے صحیح راہ عطا کی اور ہم ان کو جانتے تھے،

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم جمے بیٹھے ہو ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے،

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ بلاشبہ تم اور تمہارے باپ دادے کھلی گمراہی میں ہیں !

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس کوئی حق بات لے کر آئے ہو یا دل لگی کرنے والوں میں سے ہو۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم میں اس کے بعد ضرور ضرور تمہارے بتوں کے بارے میں کوئی تدبیر کروں گا جب تم پشت پھیر کر چلے جاؤ گے،

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

سو انہوں نے ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے ان کے ایک بڑے بت کے، شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں،

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ بیشک ایسا کرنے والا ظالموں میں سے ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا تھا کہ ان کا ذکر کررہا تھا اس جوان کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

کہنے لگے اس جوان کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہ ہوجائیں۔

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

کہنے لگے اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ یہ حرکت ان کے بڑے نے کی ہے سو تم ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں،

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر وہ اپنے نفسوں کی طرف رجوع ہوئے پھر کہنے لگے کہ بلاشبہ تم ہی ظلم کرنے والے ہو،

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے سروں کو جھکایا بیشک اے ابراہیم تم کو معلوم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں،

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کچھ نفع دے سکے نہ نقصان پہنچا سکے،

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور ان پر جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو۔ کیا تم سمجھ نہیں رکھتے ہو ؟

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

کہنے لگے اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ برا برتاؤ کرنا چاہا سو ہم نے انہیں ان میں سے کردیا جو بہت ہی زیادہ نا کام ہوتے ہیں

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے نوازے اسے کوئی بھی گمراہ کرنے والا اپنے قول اور عمل سے راہ حق سے نہیں ہٹا سکتا۔ اللہ تعالیٰ شانہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اتنی بڑی بت پرست قوم کے اندر ہدایت پر رکھا اور ان میں اظہار حق اور دعوت حق کی استعداد رکھ دی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو اس سب کا علم تھا۔ اسی کو فرمایا (وَ لَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّابِہٖ عٰلِمِیْنَ ) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھرانے کو اور اپنی قوم کو شرک میں مبتلا دیکھا یہ لوگ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے خصوصاً اور اپنے قوم سے عموماً سوال فرمایا کہ یہ مورتیاں جن پر تم دھرنا دیئے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ سوال کا مقصد یہ تھا کہ ان خود تراشیدہ بےجان چیزوں کی عبادت کرنا، اس کی کیا تک ہے ؟ وہ لوگ کوئی معقول جواب نہ دے سکے (اور کوئی بھی مشرک معقول جواب نہیں دے سکتا۔ یہ لوگ ماں باپ کی اندھی تقلید کرتے رہتے ہیں) انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو اسی پر پایا ہے اور یہی کرتے دیکھا ہے کہ ان مورتیوں کی پوجا کرتے تھے۔ انہی کی دیکھا دیکھی ہم بھی بت پرستی کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑی مضبوطی اور قوت کے ساتھ فرمایا کہ تم اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں ہو، وہ لوگ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس کوئی حق بات لے کر آئے ہو یا یوں ہی دل لگی کے طور پر باتیں کرتے ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں حق بات لے کر آیا ہوں۔ تم سے دل لگی نہیں کر رہا ہوں۔ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے۔ اسی نے تمہیں پیدا فرمایا، جس نے پیدا کیا اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کی عبادت کرنا یہ سراپا گمراہی نہیں ہے تو کیا ہے ؟ میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچی بات ہے اور میں اس کے سچا ہونے کا گواہ ہوں۔ یعنی دلیل سے بات کرتا ہوں اور یاد رکھو کہ تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو اللہ کی قسم میں ان کے لیے کوئی تدبیر کروں گا اور ایسا داؤ استعمال کروں گا کہ ان پر بہت بڑی زد پڑے گی۔ مجھے موقعہ کا انتظار ہے تم کہیں گئے اور میں نے ان کا تیا پانچا کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بتوں کو توڑنا سورة صافات میں بھی مذکور ہے۔ وہاں یوں بیان فرمایا : جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا چاہتے ہو ؟ سو رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ سو ابراہیم نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہونے کو ہوں، غرض وہ لوگ ان کو چھوڑ کر چلے گئے تو یہ ان کے بتوں میں جا گھسے اور کہنے لگے کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ تم کو کیا ہوا تم بولتے نہیں ہو ؟ پھر ان پر قوت کے ساتھ جا پڑے اور مارنے لگے۔ سو وہ لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، ابراہیم نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو حالانکہ تم کو اور تمہاری ان بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے ابراہیم کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو پھر ان کو اس دہکتی آگ میں ڈال دو ۔ غرض ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ برائی کرنا چاہی سو ہم نے ان کو نیچا دکھا دیا۔ (سورۂ صافات، ترجمہ آیت 85 تا 98) معالم التنزیل میں مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا ہر سال ایک میلہ لگتا تھا۔ اس میں جمع ہوتے تھے پھر واپس آکر اپنے بتوں کو سجدہ کر کے اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ جس دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے بت توڑے۔ یہ ان لوگوں کے میلہ کا دن تھا۔ جب یہ لوگ میلہ جانے کے لیے بستی سے باہر جانے لگے تو ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نے کہا کہ اے ابراہیم تم بھی ہمارے ساتھ چل کر ہماری عید میں شریک ہوجاؤ تو مناسب ہوگا۔ ممکن ہے کہ تمہیں ہمارا دین پسندآ جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھوڑی دور ساتھ چلے اور ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ پھر فرمایا کہ میں تو مریض ہونے والا ہوں۔ (چونکہ وہ لوگ ستاروں کو مانتے تھے اس لیے ستاروں میں نظر ڈالنے کو ایک بہانہ بنا لیا) وہ لوگ تو میلہ میں چلے گئے اور وہاں اس خیال سے کھانارکھ دیا کہ واپس آنے تک یہ بت انہیں متبرک کردیں گے پھر اس میں سے ہم کھا لیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کھانا رکھا دیکھا تو بطور استہزاء تمسخر فرمایا (اَلاَتَاْکُلُوْنَ ) (کیا تم کھاتے نہیں) وہ تو بت تھے ان میں نہ روح نہ جان، بولتے کہاں سے، جب جواب نہ ملا تو فرمایا کہ (مَالَکُمْ لاَ تَنْطِقُوْنَ ) (تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے نہیں ہو) یہ بھی بطور تمسخر ہی تھا۔ اس کے بعد کلہاڑا لے کر چلانا شروع کردیا۔ خوب قوت کے ساتھ چلایا اور سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ہاں ان میں جو سب سے بڑا بت تھا اس کو نہیں توڑا اور اس کی گردن میں کلہاڑا لٹکا دیا۔ (لَعَلَّھُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ) یہ انہوں نے اس امید پر کیا کہ ممکن ہے وہ لوگ اپنے معبودوں کا عاجز ہونا دیکھ لیں تو ابراہیم (علیہ السلام) یعنی ان کے دین کی طرف رجوع کرلیں اور بعض حضرات نے الیہ کی ضمیر بڑے بت کی طرف راجع کی ہے اور آیت شریفہ کا مطلب یہ لیا ہے کہ شاید وہ بڑے بت کی طرف رجوع کریں اور اس سے پوچھیں کہ ہمارے ان معبودوں کو کس نے توڑا، اور ممکن ہے کہ اس کے گلے میں کلہاڑا پڑا ہوا دیکھ کر اس سے یوں کہیں کہ ہو نہ ہو تو نے ہی یہ حرکت کی ہے۔ (معالم التنزیل، ص 248، ج 3) اب قوم کے لوگ آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود کٹے پڑے ہیں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہیں۔ دیکھ کر بڑے سٹ پٹائے اور آپس میں کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ جس نے ایسا کیا ہے وہ تو کوئی ظالم ہی ہوگا۔ پھر ان میں سے بعض یوں بولے کہ ہاں یاد آگیا ایک جوان جسے ابراہیم کہہ کر بلایا جاتا ہے، یہ ان کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا۔ اس نے یوں کہا تھا کہ میں تمہارے پیچھے ان کی گت بنا دوں گا۔ اندازہ ہے کہ یہ کام اسی نے کیا ہے۔ کہنے لگے کہ اچھا اسے بلاؤ۔ وہ سب لوگوں کے سامنے آئے۔ اگر لوگوں کے سامنے اقرار کرلے تو گواہ بن جائیں اور اس آدمی کو بھی پہچان لیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا گیا اور ان سے قوم کے لوگوں نے دریافت کیا کہ تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا نام کیوں لگاتے ہو۔ جو ان سب سے بڑا ہے اسی نے یہ سب کار ستانی کی ہے۔ اگر تمہیں میری بات کا یقین نہیں آتا تو انہیں سے پوچھ لو کہ ان کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے ؟ اگر وہ بولتے ہیں تو ان ہی سے دریافت کرنا چاہیے۔ یہ سن کر اول تو وہ لوگ ٹھڑے اور سوچ میں پڑگئے اور پھر آپس میں کہنے لگے کہ تم ہی ظالم ہو یعنی ابراہیم کی بات صحیح ہے۔ ان بتوں کی عبادت کرنا ظلم کی بات ہے۔ بھلا وہ کیسا معبود جو نہ بول سکے نہ بتاسکے۔ پھر شرمندگی کے مارے اپنے سروں کو جھکا لیا۔ لیکن شرک سے پھر بھی توبہ نہ کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں (یہ دعوت کا ایک طریقہ کار ہے کہ مخاطب سے بات کرتے کرتے اسے ایسے موقع پر لے آئیں کہ اس کی زبان سے خود اس کے اپنے مسلک اور اپنے دعویٰ کے خلاف کوئی بات نکل جائے) جب ان لوگوں کے منہ سے بےاختیار یہ بات نکل گئی کہ یہ بولتے نہیں ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً پکڑ لیا اور فرمایا کہ (اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْءًا وَّ لَا یَضُرُّکُمْ ) (کیا تم ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع دے سکے نہ ضرر پہنچا سکے) مزید فرمایا (اُفٍّ لَّکُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (تف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو) جب وہ لوگ جواب سے عاجز ہوگئے اور کوئی بات نہ بنی تو کہنے لگے کہ اس شخص کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ (یہ بات بھی عجیب ہے کہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کی مدد کا دم بھر رہے ہیں اور اپنے معبودوں کا انتقام لے رہے ہیں۔ وہ کیسا معبود ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو لیکن مشرکین کی عقلوں پر پتھر پڑے رہتے ہیں۔ ایسی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی) ۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے انہیں آگ میں جلانے کا فیصلہ کرلیا (جن میں نمرود بھی تھا) تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک گھر میں بند کردیا اور آگ جلانے کے لیے ایک احاطہ بنایا۔ پھر اس میں ایک مدت تک طرح طرح کی لکڑیاں ڈالتے رہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دشمنی میں کچھ ایسی صورت حال بن گئی کہ جو شخص مریض ہوجاتا یہ نذر مان لیتا تھا کہ میں اچھا ہوجاؤں گا تو ابراہیم کو جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کروں گا، عورتیں اپنی محبوب چیزوں کے حصول کے لیے یوں نذر مانتی تھیں کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو آتش ابراہیم میں لکڑیاں ڈالوں گی، لوگ لکڑیاں خرید خرید کر اس میں ڈالتے تھے۔ حد یہ ہے کہ جو کوئی عورت چرخہ کا تتی تھی وہ بھی اس کی آمدنی سے لکڑیاں خرید کر آتش ابراہیم میں ڈال دیتی تھی۔ یہ لوگ ایک ماہ تک لکڑیاں جمع کرتے رہے۔ اس کے بعد ہر جانب آگ لگا دی۔ آگ جلی، خوب شعلے نکلے اور اس جگہ کی گرمی کا یہ حال تھا کہ جانور بھی وہاں سے گزرتا تھا تو اس کی گرمی کی شدت کی وجہ سے مرجاتا تھا۔ ان لوگوں نے برابر ایک ہفتہ تک آگ جلائی (ایک آدمی کو جلانے کے لیے اتنی آگ کی ضرورت تو نہ تھی لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ اگر ہم نے اس کو آگ میں ڈالا اور نہ جلا تو ہماری ذلت ہوگی، لہٰذا اتنی آگ جلاؤ اور اتنے دن تک جلاؤ کہ اس کی سخت حرارت میں یہ شخص جل ہی جائے اور زندہ با سلامت بچنے کا احتمال نہ رہے) ۔ آگ تو تیار کرلی لیکن اب سوال یہ تھا کہ اس آگ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈالیں کیسے ؟ اس کے پاس تو پھٹکنا بھی مشکل ہے۔ چہ جائیکہ اس میں باقاعدہ ڈالنے کے لیے ایک دو منٹ ٹھہریں۔ ابلیس چونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دشمنی میں آگے آگے رہتا تھا اور اب بھی اسلام کے دشمنوں کو سبق پڑھاتا رہتا ہے اس لیے اس موقع پر بھی حاضر ہوگیا اور اس نے سمجھایا کہ دیکھو کہ ایک منجنیق بناؤ (یہ ڈھیکلی کی طرح کسی بھاری چیز کو اٹھانے اور پھینکنے کا آلہ تھا۔ آج کل عمارتیں بنانے میں جو کرین استعمال کی جاتی ہے اسے دیکھنے سے منجنیق کی کچھ تقریبی صورت اور اس کا عمل سمجھ میں آسکتا ہے) منجنیق تیار ہوگئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر منجنیق کے ذریعہ آگ میں ڈال دیا۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا تو پانیوں پر مقرر فرشتہ حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ چاہیں تو میں آگ کو بجھا دوں اور ہواؤں پر مقرر فرشتہ حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ چاہیں تو آگ کو ہواؤں میں اڑا دوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں اور یوں بھی کہا (حَسْبِیَ اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ) (مجھے اللہ کافی ہے وہ بہترین کار ساز ہے) حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈال رہے تھے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا اے ابراہیم کوئی حاجت ہے ؟ جواب میں فرمایا کہ مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا اچھا تو اپنے رب ہی سے سوال کرلو۔ فرمایا میرے رب کو میرا حال خوب معلوم ہے۔ اس کے علم میں ہونا ہی کافی ہے۔ چناچہ انہوں نے تفویض سے کام لیا اور دعا تک نہ کی۔ (ف صلی اللہ علی خلیلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا کہ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تابع ہے۔ مخلوقات میں جو صفات ہیں اور جو تاثیرات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا فرمانے سے ہیں۔ اور جو اللہ تعالیٰ کا انہیں خطاب ہوتا ہے وہ اسے سمجھتے بھی ہیں گو ہم نہیں سمجھتے۔ آگ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ٹھنڈی ہوجا لہٰذا وہ سرد پڑگئی اور چونکہ برداً کے ساتھ سلاماً بھی فرمایا تھا اس لیے اتنی ٹھنڈی بھی نہ ہوئی کہ ٹھنڈک کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہلاک ہوجاتے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سات دن آگ میں رہے۔ آگ نے ان پر کچھ اثر نہ کیا۔ ہاں ان کے پاؤں میں جو بیڑیاں تھیں وہ جل گئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں تھے کہ سایہ ڈالنے والا فرشتہ ان کے پاس پہنچا جو انہیں کی صورت میں تھا۔ وہ انہیں مانوس کرتا رہا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جنت سے ایک کرتہ اور ایک قالین لے کر آئے۔ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے اتار کر آگ میں ڈالا گیا تھا) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے انہیں کرتا پہنایا اور نیچے قالین بچھایا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر وہیں باتیں کرنے لگے۔ نمرود اپنے محل میں سے بیٹھا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) باغیچے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک شخص بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ آس پاس جو لکڑیاں ہیں انہیں آگ جلا رہی ہے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صحیح سالم ہیں۔ باتوں میں مشغول ہیں۔ نمرود نے کہا کہ اے ابراہیم ! تم اس آگ سے نکل سکتے ہو ؟ فرمایا ہاں نکل سکتا ہوں۔ یہ فرمایا اور اپنی جگہ سے روانہ ہوگئے۔ حتیٰ کہ آگ سے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر نمرود نے کہا کہ اے ابراہیم ! تمہارا معبود تو بڑی قدرت والا ہے۔ جس کے حکم کی آگ بھی پابند ہے۔ میں تمہارے معبود کے لیے چار ہزار گائیں نذر کے طور پر ذبح کروں گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تک تو اپنے دین پر رہے گا اللہ تعالیٰ تجھ سے کچھ بھی قبول نہ فرمائے گا۔ تو اپنے دین کو چھوڑ دے اور میرا دین اختیار کرلے۔ نمرود نے کہا میں اپنے دین کو اور ملک کو نہیں چھوڑ سکتا۔ ہاں بطور نذر کے جانور ذبح کر دوں گا۔ اس کے بعد نمرود نے جانور ذبح کردیئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچانے سے بھی باز آگیا۔ (معالم التنزیل، ص 250، وص 251، ج 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دشمنوں نے خوب آگ جلائی اور بہت زیادہ جلائی جس کے بارے میں سورة صافات میں فرمایا (قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ بُنْیَاناً فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ ) (کہنے لگے کہ اس کے لیے ایک مکان بناؤ پھر اسے سخت جلنے والی آگ میں ڈال دو ) اس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے اولاً آگ جلانے کے لیے مستقل ایک مکان بنایا پھر بہت زیادہ آگ جلائی جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈال دیا۔ لفظ الجحیم کے بارے میں قاموس میں لکھا ہے و الجحیم النار الشدیدۃ التاجج و کل نار بعضھا فوق بعض کالحجمۃ ویضم و کل نار عظیمۃ فی مھواۃ والمکان الشدید الحر کالجاھم۔ پوری قوم میں نمرود اور اس کی حکومت میں شخص واحد ہے جسے سب نے مل کر بہت بڑی آگ میں ڈال کر جلانا چاہا مگر اپنے مقصد میں نا کام ہوئے اور ذلیل ہوئے اور انہیں نیچا دیکھنا پڑا۔ اسی کو سورة الانبیاء میں (وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَا ھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ ) سے اور سورة صافات میں (فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ) سے تعبیر فرمایا۔ ہم نے جو کچھ معالم التنزیل سے نقل کیا ہے اس میں بعض چیزیں تو وہی ہیں جو سیاق قرآن کے موافق ہیں۔ ان سے قرآن مجید کے مفہوم کی تشریح ہوتی ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر اسرائیلیات سے منقول ہیں، چونکہ ان سے کسی حکم شرعی کا تعلق نہیں ہے اور کسی نص قرآنی کے معارض بھی نہیں ہیں اس لیے ان کو نقل کردیا گیا ہے۔ کتب حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ مذکورہ سے متعلق جو چند روایات ملتی ہیں وہ ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ گرگٹ کی خباثت اور اس کے قتل کرنے میں اجر حضرت ام شریک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو قتل کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر پھونک رہا تھا۔ (رواہ البخاری، ص 274، ج 2) مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈال دیا تو گرگٹ نے بھی اپنی خباثت کا ہنر دکھایا، وہ بھی وہاں جا کر پھونکنے لگا، جہاں اتنی بڑی آگ جل رہی تھی وہاں اس کے پھونکنے نہ پھونکنے سے کیا ہوسکتا تھا ؟ لیکن اس کی طبعی خباثت نے اس پر آمادہ کیا اور شیطان نے اسے استعمال کرلیا، کیونکہ دشمن سے جتنی بھی دشمنی ہو سکے چوکتا نہیں ہے۔ وہ فریق مقابل کو تکلیف پہنچانے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے اس سے باز نہیں رہتا، چونکہ گرگٹ خبیث چیز ہے زہریلا جانور ہے اس لیے آپ ﷺ نے مارنے کا حکم فرمایا بلکہ اسے مارنے میں جلدی کرنے کی ترغیب دی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے گرگٹ کو پہلی ہی ضرب میں مار دیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے دو ضربوں میں مارا اس کے لیے اس سے کم اور جس نے تیسری ضرب میں مارا اس کے لیے اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی۔ (رواہ مسلم ص 236، ج 2) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قیامت کے دن سب سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم لوگ اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ پاؤں میں جوتے اور جسموں پر کپڑے نہ ہوں گے اور غیر مختون بھی ہو گے اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے (رواہ البخاری) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ جزوی فضیلت اس وجہ سے دی جائے گی کہ انہیں دشمنوں نے کپڑے اتار کر آگ میں ڈالا تھا۔ شراح حدیث نے یہ بات لکھی ہے۔ (قال الحافظ فی الفتح ص 39 و یقال ان الحکمۃ فی خصوصیۃ ابراھیم بذالک لکونہ القی فی النار عریانا وقیل لانہ اول من لبس السراویل) ۔ ثَلاَثُ کَذِباتٍ اور ان کی تشریح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قیامت کے دن شفاعت کبریٰ سے عذر فرما دینا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کوئی جھوٹ نہیں بولا سوائے تین باتوں کے، دو باتیں تو ان میں ایسی تھی جو اللہ کی ذات کے بارے میں تھیں (یعنی ان میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود تھی) ان میں سے ایک تو یہ تھی کہ انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ جانے سے انکار کرنے کے لیے یوں فرما دیا کہ انی سقیم (میں بیمار ہوں) اور دوسری بات یہ کہ (بتوں کو توڑ کر) فرما دیا (بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ) (بلکہ ان کے بڑے نے ایسا کیا) اور تیسری بات یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ اپنی بیوی سارہ کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے کہ ان کا ایک ظالم بادشاہ پر گزر ہوا۔ اس ظالم بادشاہ کو کسی نے بتادیا کہ یہاں ایک شخص ہے اس کے ساتھ بہت خوبصورت عورت ہے۔ اس ظالم نے انہیں طلب کرنے کا حیلہ اختیار کر کے آدمی بھیجا۔ جو آدمی قاصد بن کر آیا اس نے کہا کہ یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سارہ کے پاس پہنچے اور فرمایا کہ اس ظالم بادشاہ سے خطرہ ہے۔ اگر اسے معلوم ہوگیا کہ تو میری بیوی ہے تو تجھے اپنے پاس رکھ لے گا۔ سو اگر تجھے اس کے پاس جانا پڑے اور سوال کرے تو کہہ دینا کہ تم میری بہن ہو (ممکن ہے کہ وہ یہ بات سن کر تجھے چھوڑ دے) اور بہن کہنا کوئی غلط بھی نہیں ہے کیونکہ تو میری دینی بہن ہے۔ اس سر زمین میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی مومن نہیں ہے۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو جبراً اور قہراً طلب کیا تو نا چار ہو کر پہلی بار چلی گئیں۔ ادھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز شروع کردی۔ جب حضرت سارہ اس ظالم بادشاہ کے پاس پہنچیں تو اس نے ہاتھ ڈالنا چاہا۔ جوں ہی ہاتھ بڑھایا اس کو دورہ پڑگیا اور پاؤں مارنے لگا اور حضرت سارہ سے درخواست کی کہ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دو میں تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچاؤں گا۔ انہوں نے دعا کردی تو وہ چھوٹ گیا۔ لیکن پھر شرارت سوجھی اور دو بارہ ہاتھ بڑھایا۔ اس مرتبہ پھر اسے دورہ پڑگیا جیسے پہلی بار پڑا تھا یا اس سے سخت تھا۔ پھر کہنے لگا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کر دو ۔ میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا انہوں نے دعا کردی تو وہ چھوٹ گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور کہا کہ تو میرے پاس انسان کو نہیں لایا تو میرے پاس شیطان کو لے آیا ہے۔ اس کے بعد اس نے سارہ کو واپس کردیا اور ان کے ساتھ ایک خادمہ بھی کردی جن کا نام ہاجرہ تھا۔ سارہ واپس آئیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے نماز کی حالت میں ہاتھ کے اشارہ سے سوال کیا کیا ماجرا ہوا ؟ سارہ نے بیان کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے مکر کو الٹا اسی پر ڈال دیا اور ایک ہاجرہ نامی عورت خدمت کے لیے دے دی۔ (رواہ البخاری ص 474، ج 2) حدیث بالا میں ثلاَثُ کَذِبَاتٍ (تین جھوٹ) کی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کی گئی ہے اول تو یہ کہ جب قوم کے لوگوں نے اپنے ساتھ باہر جانے کو کہا تو فرما دیا کہ اِنِّیْ سَقِیْم (بلاشبہ میں بیمار ہوں) پھر جب ان کے بتوں کو توڑ دیا اور انہوں نے کہا کہ اے ابراہیم کیا تم نے ان کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ تو فرمایا (بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ) (بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے) ان دونوں باتوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں باتیں اللہ کے لیے تھیں کیونکہ اپنے کو بیمار بتا کر ان کے ساتھ جانے سے رہ گئے اور پھر اسی پیچھے رہ جانے کو بتوں کو توڑنے کا ذریعہ بنا لیا، اور اس طرح بتوں کی عاجزی ظاہر کر کے معبود حقیقی کی توحید کی دعوت دے دی، تیسری بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو یہ سمجھا دیا کہ میں نے ظالم بادشاہ کے قاصد کو بتادیا ہے کہ تم میری بہن ہو تم سے بات ہو تو تم بھی یہی بتانا کہ یہ بات سن کر ظالم تمہیں چھوڑ دے، چونکہ مطلق بہن نسبی بہن کے لیے بولا جاتا ہے اس لیے اسے جھوٹ میں شمار فرمایا۔ اگرچہ انہوں نے دینی بہن مراد لے لی تھی اور یہ بات اخی فی الاسلام کہہ کر انہیں بتا بھی دی تھی۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے یوں نہیں فرمایا کہ یہ اللہ کی راہ میں تھی اور اس کے خلاف بھی نہیں فرمایا کیونکر اس میں تھوڑا سا نفس کا حصہ بھی ہے۔ اول تو یہ واقعہ سفر ہجرت کا ہے اور ہجرت اللہ کے لیے تھی پھر کسی بھی مومن عورت کو کافر سے بچانا بھی اجر وثواب کا کام ہے۔ پھر اپنی مومن بیوی کی حفاظت کرنا جو عفت اور عصمت میں معاون ہے کیونکر ثواب کا کام نہ ہوگا۔ اس کو خوب سمجھ لینا چاہیے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (ص 92، ج 6) میں بحوالہ مسند احمد حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو تین باتیں کہیں (جو بظاہر کذب ہے) ان کو انہوں نے اللہ کے دین کی حفاظت ہی کے واسطے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اختیار کیا۔ حضرات علمائے حدیث نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جنہیں جھوٹ سے تعبیر فرمایا ان میں بظاہر جھوٹ ہے لیکن چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور تعریض کے یہ باتیں کہی تھیں۔ (جن میں ایسا پہلو بھی نکل سکتا ہے کہ انہیں جھوٹ نہ کہا جائے) اس لیے صریح جھوٹ بھی نہ تھیں۔ مثلاً (اِنِّیْ سَقِیْمٌ) فرمایا اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے ساتھ جانے کو میرا دل گوارا نہیں کرتا۔ اس نا گواری کو بیماری سے تعبیر فرمایا۔ اگرچہ وہ لوگ جسمانی بیمار سمجھے، اور بعض علماء نے یہ بھی فرمایا کہ لفظ سقیم صفت کا صیغہ ہے۔ اس میں کسی زمانہ پر دلالت نہیں ہے۔ لہٰذا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں، اسی طرح جب ان لوگوں نے بتوں کے بارے میں پوچھا تو یہ فرمایا ہی نہیں کہ میں نے توڑے۔ ہاں یوں فرما دیا کہ ان کے بڑے نے توڑے ہیں۔ اگر بڑے سے بڑا بت ہی مراد لیا جائے تو یہ بظاہر کذب ہے۔ لیکن مقابل سے بات کرتے ہوئے اس کے منہ سے اپنے موافق کوئی بات اگلوانے کے لیے کوئی بات کہہ دی جائے جو علی سبیل الفرض و التقدیر ہو تو یہ بھی تعریض کے مشابہ ایک صورت بن جاتی ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ بولتے ہوں تو سمجھ لو کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔ اس کو معلق بالشرط کردیا اور اس طرح تعلق بالشرط جائز ہے۔ اس میں کذب نہیں ہے۔ اب رہی بیوی کو بہن کہنے والی بات تو اس کی تاویل اس وقت انہوں نے خود ہی کردی اور دینی بہن مراد لے کر جھوٹ سے بچ گئے۔ اس سب کے باو جود جو تینوں باتوں کو کذب فرمایا یہ ان کے بلند مرتبہ کے اعتبار سے ہے۔ بڑوں کی بڑی باتیں ہیں۔ گناہ تو ان باتوں میں ہے ہی نہیں۔ کیونکہ یہ سب چیزیں بطور تاویل اور تعریض کی تھیں اور تھیں بھی حق پر جمنے کے لیے اور حق کے پھیلانے کے لیے لیکن پھر بھی انہوں نے جو کچھ فرمایا اسے کذب میں شمار کرلیا گیا۔ (صحیح بخاری، ص 74، ج 2) میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن جب سارے انسانوں کو شفاعت کی ضرورت ہوگی تو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے۔ وہ انکار کردیں گے اور فرمائیں گے کہ ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ۔ جب ان کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں شفاعت کرنے کے مقام پر نہیں ہوں۔ اس موقع پر وہ اپنے ان کذبات کو یاد کرلیں گے جو ان سے دنیا میں سرزد ہوئے تھے۔ یہ انکار شفاعت بھی اسی لیے ہوگا کہ ان سے جو مذکورہ تینوں باتیں صادر ہوئی تھیں ان کی وجہ سے اپنے کو لائق شفاعت نہیں سمجھیں گے۔ ع جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے قال الحافظ فی الفتح (ثنتین منھن فی ذات اللّٰہ) خصھما بذالک لان قصۃ سارۃ و ان کانت ایضا فی ذات اللّٰہ لکن تضمنت حظا لنفسہ و ندلہ بخلاف اثنین الاخیرتین فانھما فی ذات اللّٰہ محض و قد وقع فی روایۃ المذکورۃ ان ابراھیم لم یکذب قط الاثلث کذبت و ذلک فی ذات اللّٰہ و فی حدیث ابن عباس عند احمد وللّٰہ ان جادل بھن لاعن دین اللّٰہ۔ وقال ایضا و اما اطلاقہ الکذب علی الامور الثلاثۃ لکونہ قال قولا یعتقدہ السامع کذبا لکنہ اذا حقق لم یکن کذبا لانہ من باب المعاریض المحتملۃ لا مرین لیس بکذب محض۔ ملا علی قاری (رح) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں حدیث شفاعت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں و الحق انھا معاریض و لکن لما کانت صورتھا صورۃ الکذب سماھا اکاذیب و استنقص من نفسہ لھا فان من کان اعرف باللّٰہ و اقرب منہ منزلۃ کان اعظم خطرا او اشد خشیۃ و علی ھذا القیاس سائر ما اضیف الی الانبیاء علیھم السلام من الخطایا، قال ابن الملک الکامل قد یواخذ بما ھو عبادہ فی حق غیرہ کما قیل حسنات الابرار سیئات المقربین۔ یعنی حق بات یہ ہے کہ ان تینوں میں تعریض ہے (صریح جھوٹ نہیں ہے) لیکن چونکہ بظاہر جھوٹ کی صورت میں تھیں اس لیے جھوٹ سے تعبیر کردیا اور اپنی ذات کو مرتبہ شفاعت سے کمتر سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جس قدر بھی معرفت حاصل ہوگی اور جتنا زیادہ قرب حاصل ہوگا اسی قدر وہ اپنے بارے میں زیادہ خطرہ محسوس کرے گا اور اس میں بہت زیادہ خوف و خشیت کا ظہور ہوگا۔ دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف جو خطایا منسوب ہیں ان کو بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ابن الملک نے فرمایا ہے کہ جو شخص کامل ہو بعض مرتبہ اس بات پر اس کا مواخذہ ہوجاتا ہے جو غیر کے حق میں عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ فائدہ : یہاں جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ ؓ کو بلوایا تھا اگر اسے قبضہ کرنا اور چھیننا ہی تھا تو کسی کی بیوی یا بہن ہونے سے کیا فرق پڑتا تھا۔ ظالم جب ظلم پر تل جائے تو اسے مقصد بر آری کے سوا کچھ نہیں سوجھتا۔ لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ سے جو یہ فرمایا کہ تم یوں کہہ دینا کہ میں ان کی بہن ہوں اس بات کو کہنے اور سمجھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر جب انہوں نے بتادیا کہ کہ میں اس کی بہن ہوں تو اس نے پھر بھی ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی (یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہاتھ پاؤں کے دورے میں مبتلا کردیا اور حضرت سارہ کی حفاظت فرمائی) اس سوال کو حل کرنے کے لیے مفسرین اور شراح حدیث نے کئی باتیں لکھی ہیں جن میں ایک یہ بات ہے کہ وہ ظالم بادشاہ گو ظالم تھا لیکن اپنے طور پر جس کسی مذہب کا پابند تھا اس میں کسی کی بہن کو اس کے بھائی کی موجودگی میں چھیننے کی اجازت نہیں تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز میں لگے ہوئے تھے۔ ادھر حضرت سارہ نے بھی وہاں پہنچ کر نماز شروع کردی۔ نیز حضرت سارہ نے وہاں یہ دعا بھی کی اللھم ان کنت تعلم انی امنت بک و برسولک و احصنت فرجی الاعلی زوجی فلا تسلط علی الکافر (اے اللہ آپ کے علم میں ہے کہ میں آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان لائی اور میں نے اپنی شرم کی چیز کو اپنے شوہر کے علاوہ ہر کسی سے محفوظ رکھا۔ لہٰذا آپ مجھ پر کافر کو مسلط نہ فرمائیے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور کافر کے تسلط سے نجات دی۔ (فتح الباری) اس ظالم بادشاہ نے شیطانی حرکت کا خود ارادہ کیا لیکن اپنے بعض دربانوں سے کہا کہ تم میرے پاس شیطان کو لے آئے ہو۔ ہاتھ پاؤں کا دورہ پڑا تو اسے شیطان کی طرف منسوب کردیا اور پاکباز عورت کو شیطان بنایا۔ زبانی طور پر اس نے حضرت سارہ کو شیطان بنا دیا لیکن ان کی نماز اور دعا سے متاثر ہو کر اس کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ یہ کوئی بڑی حیثیت والی خاتون ہے۔ اس کی خدمت کے لیے ایک خادمہ دینی چاہیے۔ چناچہ اس نے ایک ہاجرہ نامی عورت ان کی خدمت کے لیے دے دی۔ وہ واپس ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئیں اور ہاجرہ نامی عورت کو بھی اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہ ہاجرہ نامی عورت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ بنیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے فلسطین سے آئے اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل اور ان کی والدہ کو مکہ مکرمہ کی چٹیل زمین اور سنسان میدان میں چھوڑ دیا۔ انہیں دو ماں بیٹوں سے مکہ مکرمہ کی آبادی شروع ہوئی اور انہیں دونوں ماں بیٹوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کی ایک شاخ چلی جنہیں بنو اسماعیل اور عرب کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے خوب ہی نوازا۔ انہیں مشرکین کے درمیان ہوتے ہوئے داعی توحید بنایا۔ دشمنوں نے آگ میں ڈال دیا تو اس سے صحیح سالم نکال دیا اور آتش نمرود کو گلزار ابراہیم بنا دیا اور انہیں اپنا دوست بنا لیا۔ کما فی سورة النساء (وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلاً ) (اور ان سے (بشمولیت اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ شریف تعبیر کرایا پھر ان سے حج کی ندا دلوائی۔ اور انہیں ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا باپ بنایا۔ خاتم النّبیین ﷺ بھی انہیں کی ذریت میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) جب کعبہ شریف بنا رہے تھے اس وقت یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ مکہ کے رہنے والوں میں سے ایک رسول بھیج دینا۔ آپ کی یہ دعا اس طرح قبول ہوئی کہ ان دونوں کی نسل سے سیدنا محمد رسول ﷺ کو پیدا فرمایا۔ آپ کی نبوت کا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سارے عالم کے لیے تا قیام قیامت ہادی اور داعی بنا دیا اور آپ پر نبوت ختم فرما دی اور آپ کو ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم دیا۔ ملت ابراہیم کی بہت سی چیزیں خاتم الانبیاء ﷺ کی شریعت کا جزو ہیں اور توحید تو تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا سب سے پہلا اور مرکزی نقطہ ہے۔
Ayahs 21:71–73

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دے دی جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لیے برکت رکھ دی ہے،

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب پوتا عطا کیا، اور ہم نے ان سب کو صالحین بنا دیا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نماز پابندی کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے

حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا مبارک سر زمین کی طرف ہجرت کرنا حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کے بیٹے تھے۔ ان آیات میں ان دونوں کی ہجرت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دونوں اپنے علاقہ کو چھوڑ کر شام کے علاقہ فلسطین میں چلے گئے تھے۔ بتوں کی سر زمین کو اور بتوں کے پوجنے والوں کو چھوڑ کر اس سر زمین کے لیے ہجرت کی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکات رکھی ہیں۔ اور یہ برکات دنیا جہان والوں کے لیے ہیں، ان کے اس ہجرت کرنے کو نجات سے تعبیر فرمایا کیونکہ کافروں سے چھوٹ کر بابرکت سر زمین میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو اسحاق نامی بیٹا عطا کیا اور پھر اس بیٹے کا بیٹا یعقوب بھی دیا جو مزید انعام تھا۔ اسی مزید انعام کی وجہ سے پوتے کو نافلہ سے تعبیر فرمایا، اور ان سب کو صالحین میں سے بنا دیا۔ سب اللہ تعالیٰ کے احکام پرچلتے تھے اور اس کے اوامر کی پابندی کرتے تھے، چونکہ نبی تھے اور پیشوا تھے۔ اس لیے دوسروں کو بھی اللہ کی توحید اور اللہ کی دعوت دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ نیک کام کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ ان کاموں میں لگے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت ان کا خصوصی امتیاز تھا جس کا انہیں اہتمام تھا۔ اسی کو فرمایا وَ کَانُوْا لَنَا عَابِدِیْنَ ۔
Ayah 21:74

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے برے کام کیا کرتے تھے

حضرت لوط (علیہ السلام) پر انعام، بد کار بستی سے نجات، اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونا حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرکے شام میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا اور نبوت سے نوازا۔ شام میں چند بستیاں تھیں جو اردن کے قریب تھیں۔ ان کی طرف انہیں مبعوث فرمایا۔ وہ لوگ بڑے بد کار تھے۔ مردوں اور لڑکوں سے شہوت زنی کرتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے برے اعمال میں مشغول رہتے تھے۔ ایک گناہ دوسرے گناہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ جب کوئی قوم مردوں سے شہوت زنی کے عمل کو اپنا لے اور اپنے رواج میں داخل کرلے تو اس کے بعد دوسرے اعمال کا ارتکاب کرنا معمولی سی بات ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کو بہت سمجھایا لیکن اپنی بد فعلیوں اور بری حرکتوں سے باز نہ آئے۔ ان کی زمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور ان پر پتھر برسا دیئے گئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ جو اہل ایمان تھے (جو ان کے گھر والے ہی تھے) ان کو اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی اور سب کافر ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاک شدگان میں ان کی بیوی بھی تھی۔ پورا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔ (انوار البیان)
Ayah 21:75

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ بد ذات تھے، بد کار تھے اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کردیا بلاشبہ وہ صالحین میں سے تھے

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل فرما لیا۔ یعنی ان بندوں میں شمار فرمایا جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ ہوا کرتی ہے۔ آخر میں فرمایا (اِنَّہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (بلاشبہ وہ صالحین میں سے تھے) قرآن مجید میں لفظ صالح حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے۔ صالحیت بہت بڑا مقام ہے اور اس کے بڑے مراتب ہیں۔ سب سے بڑا مرتبہ انبیاء (علیہ السلام) کا ہے۔ کیونکہ وہ معصوم ہوتے تھے۔
Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح کو یاد کیجیے جب اس نے اس سے پہلے پکارا، سو ہم نے ان کی دعا قبول کی، پھر ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی بےچینی سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان سے نجات دینے کے لیے ہم نے نوح کی مدد کی، بلاشبہ وہ برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا

حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوم کی غرقابی ان دونوں آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی تعلیم دی۔ استغفار کی طرف بلایا اور ایک مدت دراز تک اس بارے میں اپنی جان کھپائی تو ان میں سے معدودے چند افراد ہی مسلمان ہوئے اور باقی لوگ کہتے رہے کہ ہمیں توحید اختیار نہیں کرنی، ہمیں اپنے بتوں پر جمے رہنا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی معروض پیش کی اور عرض کیا (رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا) (کہ اے پروردگار روئے زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑ) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ بہت بڑا طوفان آیا، آسمان سے بھی پانی برسا اور زمین سے بھی پانی ابلا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال اور دیگر اہل ایمان کو لے کر کشتی میں سوار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو طوفان سے نجات دی اور باقی ساری قوم غرق ہوگئی۔ ان کا ایک بیٹا جو کافر تھا وہ بھی انہیں ڈوبنے والوں میں شامل کردیا گیا۔ ان کی بیوی بھی کافرہ تھی وہ بھی آتش دوزخ کی مستحق ہوگئی۔ سورة نوح میں فرمایا (مِمَّا خَطِیْءَاتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا) (اپنی خطاؤں کی وجہ سے وہ لوگ غرق کر دئیے گئے پھر آگ میں داخل کر دئیے گئے) حضرت نوح (علیہ السلام) کی نجات اور ان کی قوم کی بربادی کا واقعہ بھی سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکا ہے اور سورة نوح میں بھی مذکور ہے۔ (فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَنَجَّیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ ) اس میں کرب عظیم سے طوفان میں غرق ہونا بھی مراد ہوسکتا ہے اور قوم کی ایذائیں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی اور بےچینی سے ان کو نجات عطا فرمائی۔ (انوار البیان، جلد دوم)