Ayahs 21:78–82حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔
کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ
شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا تذکرہ فرمایا جس کا واقعہ یوں ہے کہ دو شخص حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص بکریوں والا اور دوسرا کھیتی والا تھا۔ کھیتی والے نے بکریوں والے پر یہ دعویٰ کیا کہ اس کی بکریاں رات کو چھوٹ کر میرے کھیت میں گھس گئیں اور کھیت کو بالکل صاف کردیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ بکریوں والا اپنی ساری بکریاں کھیت والے کو دے دے۔ یہ دونوں مدعی اور مدعا علیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عدالت سے واپس ہوئے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کیا ہوا ؟ دونوں فریق نے بیان کیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر اس مقدمے کا فیصلہ میں کرتا تو فریقین کے لیے مفید اور نافع ہوتا۔ پھر خود والد صاحب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہی بات عرض کی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے تاکید کے ساتھ دریافت کیا کہ وہ کیا فیصلہ ہے ؟ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ آپ بکریاں تو سب کھیت والے کو دے دیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور اون وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہے اور کھیت کی زمین بکریوں والے کے سپرد کردیں۔ وہ اس میں کاشت کر کے کھیت اگائے۔ جب یہ کھیت اس حالت پر آجائے جس پر بکریوں نے کھایا تھا تو کھیت، کھیت والے کو اور بکریاں بکری والے کو واپس کردیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کو پسند کیا اور فرمایا بس اب یہی فیصلہ رہنا چاہیے اور فریقین کو بلا کر یہ فیصلہ نافذ کردیا۔ اسی کو فرمایا (فَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ ) (سو ہم نے یہ فیصلہ سلیمان کو سجھا دیا) (کُلًّا اٰتَیْنَاحُکْمًا وَّ عِلْمًا) (اور ہم نے دونوں کو حکمت اور علم عطا فرمایا) اس سے معلوم ہوا کہ فیصلے دونوں ہی کے درست تھے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں یعنی داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ بھی خلاف شرع نہ تھا۔ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا، اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی۔ داؤد (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو بکریاں دلوا دیں اور قانون کا یہی تقاضا تھا جس میں مدعی اور مدعی علیہ کی رضا شرط نہیں مگر چونکہ اس میں بکریوں والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لیے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے دوسری صورت تجویز فرما دی جو باہم جانبین کی رضا مندی پر موقوف تھی اور جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی کہ چند روز کے لیے بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں جو ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزارا کرلے اور بکری والے کو وہ کھیت سپرد کردیا جائے جو بکریوں نے خراب کردیا تھا۔ وہ آب پاشی وغیرہ کرے جب کھیت پہلی حالت پر آجائے تو کھیت اور بکریاں ان کے اپنے اپنے مالکوں کو دے دی جائیں۔ کذا فی الدر المنثور عن ابن مسعود و مسروق و ابن عباس و مجاھد و قتادہ و الزھری۔ (ص 324 ؍ ج 4)
اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مقتضی ہو۔ اسی لیے (وَ کُلاًّ اٰتَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا) بڑھا دیا۔ انتھی۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) دونوں آپس میں باپ بیٹے تھے۔
حضرت محمد ﷺ کا فیصلہ :
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بکریوں کے کھیتی خراب کرنے پر جو فیصلہ دیا ان کا یہ فیصلہ اجتہاد سے تھا اور بالآخر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صلح کرا دینے سے حل ہوگیا۔ حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ مروی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ کی ایک اونٹنی بعض لوگوں کے باغ میں داخل ہوگئی اور ان کا باغ خراب کردیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ اہل جانور جو زخمی کر دے اس کا کوئی ضمان نہیں۔ اہل اموال پر لازم ہے کہ دن میں اپنے اموال کی حفاظت کریں اور اہل مواشی پر لازم ہے کہ رات کو انہیں محفوظ رکھیں اور یہ کہ رات کو جو جانور کوئی نقصان کر دے جانوروں کے مالک اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ (رواہ ابو داؤد و فی آخر کتاب البیوع و ابن ماجہ فی ابواب الاحکام) اور ایک حدیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ العجماء جرجھا جبار (رواہ البخاری) حضرات آئمہ کرام کے مذاہب معلوم کرنے کے لیے شرح حدیث اور کتب فقہ کی مراجعت کی جائے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک اور واقعہ :
صحیح بخاری میں اس طرح مروی ہے کہ دو عورتیں کسی جگہ موجود تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا ایک بیٹا بھی تھا۔ بھیڑیا جو آیا تو ایک کے لڑکے کو لے کر چلا گیا۔ ان میں سے ہر ایک دوسری سے یوں کہنے لگی کہ بھیڑیا تیرے بیٹے کو لے گیا اور یہ جو موجود ہے یہ میرا بیٹا ہے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے (اپنے طور پر غور و خوض اور اجتہاد کر کے) بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کردیا۔ واپس ہو کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر گزریں اور انہیں پورے واقعہ کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا چھری لے آؤ۔ میں اس لڑکے کو کاٹ کر تم دونوں کو آدھا آدھا دے دیتا ہوں۔ یہ سن کر چھوٹی عمر والی کہنے لگی اللہ آپ پر رحم کرے ایسا نہ کیجیے۔ (میں اپنا دعویٰ واپس لیتی ہوں) میں تسلیم کرتی ہوں کہ وہ اسی کا لڑکا ہے۔ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فیصلہ دے دیا کہ وہ لڑکا چھوٹی ہی کا ہے۔ (صحیح بخاری ص 487) یہ کھیتی اور بکریوں والوں کا فیصلہ اور ان دو عورتوں کا فیصلہ جو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دیا تھا، یہ دونوں وحی سے نہیں تھے، اجتہاد کے طور پر تھے۔ اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اجتہاد سے دوسرا فیصلہ دے دیا جسے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی تسلیم فرما لیا۔ اس آخری قصہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بچہ کو چھری سے کاٹنے والی جو بات کی یہ ایک تدبیر تھی جس سے انہوں نے حقیقت حال تک پہنچنے کا راستہ نکال لیا۔ جب یہ فرمایا کہ چھری لاؤ میں اسے کاٹ کر آدھا آدھا کردیتا ہوں تو بڑی خاموش رہ گئی اور چھوٹی گھبرا گئی اور اس نے کہا کہ میں یہ مانتی ہوں کہ یہ اسی کا لڑکا ہے۔ اس کے تڑپنے سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سمجھ لیا کہ یہ اسی کا بچہ ہے۔ اگر بڑی کا بچہ ہوتا تو وہ تڑپ اٹھتی۔ لیکن وہ چپکی کھڑی رہی جس سے معلوم ہوا کہ یہ بچہ چھوٹی کا ہے۔ لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسی کے بارے میں فیصلہ فرما دیا۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اقتدار، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح میں مشغول ہونا
حضرت داؤد و سلیمان ( علیہ السلام) دونوں آپس میں باپ بیٹے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا تھا اور مال و دولت سے بھی۔ اور اقتدار سے بھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور شریف بھی عطا فرمائی۔ سورة ص میں ان کے ایک فیصلہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (یٰدَاوٗدُ اِِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (اے داؤد ہم نے تم کو زمین پر حاکم بنایا ہے سو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور آئندہ بھی نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ وہ اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی) سورة نمل میں فرمایا (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا وَّقَالاَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہٖ الْمُؤْمِنِیْنَ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوٗدَ وَقَال آیاََیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ ) (اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے کہا کہ تمام تعریف کا اللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں میں فضیلت دی اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا اے لوگو ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے دیا گیا ہے بلاشبہ یہ کھلا ہوا فضل ہے) ۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بھی بخشا تھا کہ پہاڑوں کو اور جانوروں کو مسخر فرما دیا تھا جو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں جس کا یہاں سورة انبیاء میں تذکرہ فرمایا ہے اور سورة سبا میں اور سورة ص میں بھی مذکور ہے۔ سورة سبا میں فرمایا (وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَ ) (اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی۔ اے پہاڑو داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا) اور سورة ص میں فرمایا (اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً کُلٌّ لَہٗ اَوَّابٌ) (ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی، جو جمع ہوجاتے تھے سب ان کی وجہ سے مشغول ذکر رہتے) ۔
احادیث شریف سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) بڑے خوش آواز تھے۔ اول تو ان کی خوش آوازی پھر اللہ کی تسبیح اور مزید اللہ تعالیٰ کا حکم سب باتیں مل کر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زبور پڑھتے وقت اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتے وقت عجیب سماں بندھ جاتا تھا۔ اڑتے ہوئے پرندے وہیں ٹھہر جاتے اور تسبیح میں مشغول ہوجاتے تھے اور پہاڑوں سے بھی تسبیح کی آواز نکلتی تھی۔ اس میں خوش آوازی کی کشش بھی تھی اور معجزہ بھی تھا۔ سورة بقرہ کی آیت (وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) کی تفسیر میں ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ جن چیزوں کو ہم جمادات اور بےجان سمجھتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتی ہیں۔ ہم سے چونکہ وہ بات نہیں کرتے اور جاندار چیزوں کی طرح پیش نہیں آتے۔ اس لیے ہم انہیں محروم سمجھتے ہیں لیکن ان کا اپنے خالق ومالک سے جو تعلق ہے وہ ادراک اور شعور والا تعلق ہے۔ وہ سب اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور جب اللہ کی مشیت ہوتی ہے تو انہیں بولنے کی قوت بھی دے دی جاتی ہے۔
زرہ بنانے کی صنعت :
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ جل شانہٗ نے ایک اور امتیازی انعام سے نوازا تھا اور وہ یہ کہ اللہ جل شانہٗ نے انہیں زرہ بنانا سکھایا تھا، پہلے زمانہ میں تلواروں سے جنگ ہوتی تھی تو مقابل کے حملہ سے بچنے کے لیے خود اور زرہ اور ڈھال استعمال کرتے تھے۔ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں ڈھال لے کر دشمن سے لڑتے تھے۔ اور لوہے کی زرہ پہن لیتے تھے۔ یہ ایک قسم کا کرتہ ہوتا تھا جو لوہے سے بنایا جاتا تھا۔ اگر کوئی شخص تلوار کا وار کرتا تھا تو سر خود کے ذریعہ اور سینہ اور کمر زرہ کے ذریعہ کٹنے سے بچ جاتے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے جو زرہیں بنائی جاتی تھیں وہ لوہے کی تختیاں ہوتی تھیں جنہیں کمر اور سینہ پر باندھ لیتے تھے۔ سب سے پہلے زرہ بنانے والے حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ یہاں سورة الانبیاء میں فرمایا (وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ ) (اور ہم نے انہیں زرہ کی صنعت سکھا دی جو تمہارے لیے نفع مند ہے (لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْ بَاْسِکُمْ ) (تاکہ وہ تمہیں ایک دوسرے کی زد سے بچائے) اور سورة سبا میں فرمایا (وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَاَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا کہ تم پوری زرہیں بناؤ اور جوڑنے میں اندازہ رکھو، اور تم سب نیک کام کیا کرو بلاشبہ میں تمہارے سب اعمال کو دیکھنے والا ہوں) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا۔ وہ اپنی انگلیوں سے لوہے کے تار بنا لیتے تھے۔ پھر ان کے حلقے بناتے تھے اور ان حلقوں کو جوڑ کر زرہ بنا لیتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) روزانہ ایک زرہ بنا لیتے تھے اور اسے چھ ہزار درہم میں فروخت کردیتے تھے جن میں دو ہزار اپنے اور اہل و عیال کی ضرورت کے لیے خرچ کرتے تھے اور چار ہزاردرہم بنی اسرائیل کو خبز الحواری یعنی میدہ کی روٹی کھلانے پر خرچ فرماتے تھے۔ (ص 527، ج 3)
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے جو دو فیصلے اوپر مذکور ہوئے جن کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دوسرے فیصلے دیئے۔ ان سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اگر کسی قاضی نے اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ کردیا پھر اس کے خلاف خود اس کے اپنے اجتہاد سے یا کسی دوسرے حاکم یا عالم کے بتانے سے معلوم ہوجائے کہ فیصلہ غلط ہوا ہے تو اپنا فیصلہ واپس لے کر دوسرا صحیح فیصلہ نافذ کر دے۔ یہ اجتہاد کی شرط اس لیے لگائی گئی کہ نصوص قطعیہ کے خلاف فیصلہ حرام ہے اور نصوص شرعیہ کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنا بھی حرام ہے۔ امام دارقطنی (رح) نے اپنی سنن میں حضرت عمر ؓ کا ایک خط نقل کیا ہے جو امور قضا سے متعلق ہے۔ وہ خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو حکام اور قضاۃ کے لیے ایک دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔
عن سعید بن ابی بردۃ و اخرج الکتاب فقال ھذا کتاب عمر، ثم قری علی سفیان من ھاھنا الی ابی موسیٰ الاشعری، اما بعد فان القضاء فریضۃ محکمۃ و سنۃ متبعۃ، فافھم اذا ادلی الیک، فانہ لا ینفع تکلم بحق لا نفاذ لہ آس بین الناس فی مجلسک ووجھک، وعدلک حتی لا یطمع شریف فی حیفک، ولا یخاف ضعیف جورک، البینۃ علی من ادعی، والیمین علی من انکر، الصلح جائز بین المسلمین، الا صلحا احل حراما او حرم حلالا، لا یمنعک قضاء قضیتہ بالامس راجعت فیہ نفسک وھدیت فیہ لرشدک ان تراجع الحق، فان الحق قدیم، و ان الحق لا یبطلہ شیء، و مراجعۃ الحق خیر من التمادی فی الباطل، الفھم الفھم فیما یختلج فی صدرک، ممالم یبلغک فی القرآن والسنۃ، اعرف الامثال والاشباہ، ثم قس الامور عند ذلک، فاعمد الی احبھا الی اللّٰہ، و اشبھھا بالحق فیما تری، واجعل للمدعی امدا ینتھی الیہ، فان احضر بینۃ والا وجھت علیہ القضاء فان ذالک اجلی للعمی، وابلغ فی العذر، المسلمون عدول بینھم بعضھم علی بعض، الا مجلودا فی حدا و مجربا فی شھادۃ زور، او ظنینا فی ولا او قرابۃ، فان اللّٰہ تولی منکم السرائر، ودرا عنکم بالبینات، ثم ایاک والضجر والفلق والتادی بالناس، والتنکر للخصوم فی مواطن الحق التی یوجب اللّٰہ بھا الاجر ویحسن بھا الذکر، فانہ من یخلص بینۃ فیما بینہ و بین اللّٰہ، یکفہ اللّٰہ مابینہ و بین الناس، و من تزین للناس بما یعلم اللّٰہ منہ غیر ذلک، شانہ اللّٰہ۔
(2) یہ خط امام دارقطنی نے کتاب الاقضیۃ والاحکام میں نقل کیا ہے۔ افادۃ للعوام اس کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ حضرت سعید بن ابی بردہ نے ایک خط نکالا اور بیان کیا کہ یہ خط حضرت عمر ؓ کا ہے جو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو لکھا تھا۔
امابعد ! جان لینا چاہیے کہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک محکم فریضہ ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے جسے اختیار کرنا ضروری ہے۔ سو تم یہ سمجھ لو کہ جب تمہارے پاس مقدمہ کوئی لے کر آئے تو جو حق فیصلہ ہو وہ نافذ کر دو ۔ کیونکہ وہ حق بات فائدہ نہیں دیتی جسے نافذ نہ کیا جائے۔ اپنی مجلس میں اور اپنے سامنے بٹھانے میں اور انصاف کرنے میں لوگوں کے درمیان برابری رکھو تاکہ کوئی صاحب حاجت یہ لالچ نہ کرے کہ اس کی وجہ سے دوسرے پر ظلم کر دو گے اور کوئی کمزور اس بات سے خائف نہ ہو کہ اس پر ظلم کر دو گے۔ گواہ مدعی پر ہیں اور قسم منکر پر ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کرنا جائز ہے لیکن ایسی کوئی صلح نہیں ہوسکتی جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دے۔ کل جو کوئی فیصلہ تم کرچکے ہو اور اس کے بعد صحیح بات سمجھ میں آگئی تو حق کی طرف رجوع کرنے سے تمہارا سابق مانع نہ بن جائے۔ کیونکہ حق اصل چیز ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرسکتی۔ حق کی طرف رجوع کرنا باطل پرچلتے رہنے سے بہتر ہے۔ جو چیز تمہارے سینہ میں کھٹکے اسے خوب سمجھنے کی کوشش کرو۔ اگر یہ ان چیزوں میں سے ہو جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں سے کوئی بات نہیں پہنچی (اگر قرآن و حدیث کی بات موجود ہو پھر اسی پر عمل کرنا لازم ہو) تو امثال و اشباہ کو پہچانو۔ پھر ان پر دوسری چیزوں کو قیاس کرو اور ان میں جو چیز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اور جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ حق کے مشابہ ہو اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور مدعی کے لیے ایک مدت مقرر کر دو جس میں وہ اپنے گواہ لے آئے۔ اگر گواہ حاضر کر دے تو قانون کے مطابق فیصلہ کر دو ۔ اگر وہ گواہ نہ لائے تو اس کے خلاف فیصلہ دے دو ۔ گواہ لانے کے لیے مدت مقرر کرنا یہ نامعلوم حقیقت کو زیادہ واضح کرنے والی چیز ہے اور اس میں صاحب عذر کو انجام تک پہنچانے کا اچھا ذریعہ ہے۔ مسلمان آپس میں عدول ہیں۔ ایک کی گواہی دوسرے کے بارے میں قبول کی جاسکتی ہے لیکن جسے حد قذف کی وجہ سے (یعنی تہمت لگانے پر) کوڑے لگائے ہوں یا جس کے بارے میں تجربہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی بھی دیتا ہے یا کسی رشتہ داری کے معاملہ میں وہ متہم ہے (یعنی رشتہ داری کی رعایت کر کے جھوٹی گواہی دیتا ہے) تو ایسے لوگوں کی گواہی قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ سب کی پوشیدہ باتیں اور پوشیدہ ارادے جانتا ہے۔ (وہ اس کے مطابق فیصلے کرے گا اور اس دنیا میں مخلوق کے درمیان گواہوں پر فیصلے رکھ دیئے ہیں) گواہ جھگڑوں کو ختم کرنے والے ہیں اور لوگوں کے آنے سے تنگ دل مت ہونا۔ تکلیف محسوس نہ کرنا اور پریشان نہ ہونا۔ جو لوگ فیصلے کرانے کے لیے آئیں ان سے الگ ہو کر مت بیٹھ جانا۔ ان کے فیصلے حق کے موافق کرنا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ ثواب دیتا ہے اور لوگ اچھائی سے یاد کرتے ہیں جس کی نیت اللہ کے اور اس کے اپنے درمیان خالص ہو اللہ تعالیٰ ان مشکلات کی کفایت فرماتے ہیں جو لوگوں کے تعلقات کی وجہ سے پیش آتی ہیں اور جو شخص ظاہری طور پر اچھا بنے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کو ظاہر فرما دیں گے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کی تسخیر
(وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً ) (الایتین) ان دونوں آیتوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار بیان فرمایا۔ ان کی حکومت نہ صرف انسانوں پر تھی بلکہ ہوا اور جنات بھی ان کے تابع تھے۔ سورة ص میں فرمایا (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَّ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ اِِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَ وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍ وَّآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ) سلیمان نے دعا مانگی اے میرے رب میرا قصور معاف فرما اور مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ آپ بڑے دینے والے ہیں۔ سو ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرمی سے چلتی اور جنات کو بھی ان کا تابع کردیا۔ یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی تھی کہ اے رب مجھے ایسی حکومت عطا فرمایئے جو میرے بعد اور کسی کو نہ دی جائے ان کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ انہیں جنات پر بھی اقتدار دے دیا اور ہوا بھی ان کے لیے مسخر فرما دی جو خوب تیزی سے چلتی تھی جو انہیں اور ان کے لشکروں کو ذرا سی دیر میں دراز مسافت پر پہنچا دیتی تھی اور ان کے حکم کے مطابق چلتی تھی۔ کبھی خوب تیز جسے سورة الانبیاء میں عاصفۃ سے تعبیر فرمایا اور کبھی آہستہ جسے سورة ص میں رخاء سے تعبیر فرمایا۔ اس کی تیز رفتاری کے بارے میں سورة سبا میں (غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ) فرمایا ہے۔ جب آپ کو کہیں جانا ہوتا تو ہوا آپ کو اور آپ کے لشکر کو (جو انسانوں اور جنات اور پرندوں پر مشتمل ہوتا تھا) آپ کے حکم کے مطابق اسی منزل پر پہنچا دیتی تھی جہاں جانا ہوتا تھا۔ آپ شیاطین سے بھی کام لیتے تھے۔ شیاطین کو سزا بھی دیتے تھے اور انہیں زنجیروں میں باندھ کر بھی ڈالتے تھے جس پر وہ چوں نہیں کرسکتے تھے۔ جنات سے وہ سمندروں میں غوطے لگانے کا کام بھی لیتے تھے۔ وہ ان کے حکم سے غوطے لگاتے تھے اور سمندر سے قیمتی چیزیں نکال کر لاتے تھے اور ان سے مکانات بھی تعمیر کراتے تھے۔ جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (وَ الشَّیَاطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍ ) اور دیگر کاموں میں بھی استعمال کرتے تھے۔ جس کا ذکر سورة سبا میں فرمایا ہے۔ (یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَایَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رَّاسِیَاتٍ ) (وہ جنات ان کے لیے وہ وہ چیزیں بناتے تھے جو ان کو منظور ہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن جیسے حوض اور دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں) ۔
رسول اللہ ﷺ کا شیطان کو پکڑ لینا :
ایک مرتبہ ایک سر کش جن کہیں سے چھوٹ کر آگیا۔ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس جن نے کوشش کی کہ آپ کی نماز تڑوا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قابو دے دیا۔ آپ نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ پھر صبح آپ نے صحابہ کرام کو اس کا یہ قصہ بتایا اور فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح ہو تو تم سب اسے دیکھو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی۔ انہوں نے دعا کی تھی (رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَّ یَنْبَِغِیْ لِاَحَدٍ مّنْ بَعْدِیْ ) (لہٰذا میں نے اسے چھوڑ دیا) سو اللہ نے اسے ذلیل کرکے واپس لوٹا دیا۔ یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے۔ (راجع صحیح البخاری ومسلم) اور حضرت ابو الدرداء ؓ کی روایت میں یوں ہے کہ اللہ کا دشمن ابلیس ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ میرے چہرہ پر ڈالے۔ میں نے تین مرتبہ اعوذ باللہ منک کہا تین بار العنک بلعنۃ اللہ التامۃ کہا۔ وہ اس پر نہ ہٹا تو میں نے چاہا کہ اسے پکڑ لوں۔ اللہ کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے باندھ لیتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ صبح تک بندھا رہتا اور اس سے مدینہ کے بچے کھیلتے۔ (صحیح مسلم، ص 205، ج 1)
سانپوں کو حضرت نوح اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا عہد یاد دلانا
سنن الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم اپنے گھر میں سانپ دیکھو تو کہو انا نسئلک بعھد نوح و بعھد سلیمان بن داؤد ان لا توذینا (ہم تجھے وہ عہد یاد دلاتے ہیں جو تو نے نوح اور سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) سے کیا تھا کہ تو ہمیں تکلیف نہ دے) پھر اس کے بعد بھی ظاہر ہوجائے تو اسے قتل کر دو ۔ اور جب انسانوں پر اور جنات پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت تھی تو ظاہر ہے کہ ہر طرح کے جانوروں پر بھی تھی۔ ان میں زہریلے جانور بھی تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سانپوں کے زہر اتارنے کے الفاظ کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر پیش کرو۔ چناچہ آپ پر پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے نزدیک ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اس معاہدہ کے الفاظ ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے زہریلے جانوروں سے لیا تھا۔ الفاظ یہ ہیں بسم اللہ شجۃ قرنیۃ ملحۃ بحر قفطا۔ (الدر المنثورص 327، ج 4)
Ayahs 21:83–84حضرت ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت اور اس سے نجات کا تذکرہ
ان دو آیتوں میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا پھر ان کے دعا کرنے کا اور دعا قبول ہونے کا اور آل اولاد کے جدا ہونے کے بعد دو گنا ہو کر مل جانے کا اجمالی تذکرہ ہے۔ سورة ص میں ان کی تکلیف اور دعا اور شفایاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن مجید میں دونوں جگہ اجمال ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ کیا تکلیف تھی اور کیسی تکلیف تھی۔ اور کتنے دن تک رہی اور کسی صحیح صریح مرفوع حدیث میں بھی اس کی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن مجید کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی اور عام طور پر جو انبیاء اور صالحین کا ابتلاء ہوتا تھا اس سے زیادہ ہی ابتلاء تھا اور ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ آل اولاد سب مفقود ہو کر یا ہلاک ہو کر جدا ہوگئے تھے۔ اس بارے میں عام طور پر جو روایات ملتی ہیں عموماً اسرائیلی روایات ہیں جو تفسیر درمنثور میں مذکور ہیں۔ قرآن مجید کی تصریح سے معلوم ہوا کہ ایوب (علیہ السلام) کے دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت و عافیت عطا فرما دی اور یہ محض اللہ کی رحمت سے تھا۔ اس میں آئندہ آنے والے عبادت گزاروں کے لیے بھی ایک یاد گار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کا ابتلا یا کسی کی کتنی ہی بڑی مصیبت ہو اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت کو دور فرما دیتا ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے ان کا کنبہ واپس کردیا اور ان جیسے اور بھی دے دیئے اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو ان کو اتنی گمشدہ اولاد واپس کردی گئی جو ان سے جدا ہوگئی تھی اور اگر وہ وفات پا گئے تھے تو اتنے ہی ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اور پیدا فرما دیئے۔ اور مثلھم معھم بھی ساتھ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سابق اولاد تھی اتنی ہی مزید اولاد اس کی اپنی صلب سے یا ان کی اولاد کی صلب سے عطا فرما دی۔ یہاں پر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ سورة ص کی تفسیر میں لکھیں گے۔ البتہ اتنی بات یہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیلی روایات میں جو یہ مذکور ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم میں کیڑے پڑگئے تھے یا یہ کہ کوئی برص تھا اور کوڑی پر پڑے رہے۔ یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ اس حالت میں دعوت و تبلیغ کا کام جاری نہیں رہ سکتا اور عامۃ الناس قریب نہیں آسکتے۔ اس لیے یہ بات لائق قبول نہیں ہے۔ پھر بیماری تو غیر اختیاری تھی۔ کوڑی پر پڑے رہنے کو اختیار فرمانا یہ تو حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی طہارت اور نظافت طبع کے بھی خلاف ہے۔
Ayahs 21:85–86حضرت اسماعیل و حضرت ادریس و حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ یہ سب صابرین میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ سورة مریم میں گزر چکا ہے اور حضرت ذوالکفل کا نام یہاں قرآن مجید میں پہلی جگہ آیا۔ اور سورة ص میں بھی حضرت ذوالکفل کا تذکرہ ہے۔ وہاں فرمایا (وَاذْکُرْ اِسْمَاعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْکِفْلَ وَ کُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ) (اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے ہیں) حضرت الیسع کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے یہاں حضرت ذوالکفل کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ احادیث مرفوعہ میں ان کے بارے میں بھی واضح معلومات نہیں ملتی ہیں، اسی لیے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا انبیاء کے علاوہ صالحین میں سے تھے۔
حضرت ذوالکفل کون تھے ؟
تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس و حضرت مجاہد وغیرھما سے کچھ باتیں نقل کی ہیں۔ بظاہر یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ انبیاء سابقین میں سے ایک نبی تھے۔ انہوں نے اپنی امت کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص ایسا ہے جو میری امت کے درمیان فیصلہ کرنے (یعنی قاضی بننے) کی ذمہ داری لیتا ہے اور میری شرط یہ ہے کہ جو شخص یہ عہدہ قبول کرے وہ غصہ نہ ہو۔ ان میں سے ایک جوان کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ میں اس کا ذمہ دار بنتا ہوں۔ تین مرتبہ یہی سوال و جواب ہوا۔ جب تین مرتبہ اس جوان نے ذمہ داری لے لی تو اس سے قسم کھلوائی۔ اس نوجوان نے قسم کھالی اور اس کو قضا کا عہدہ سپرد کردیا گیا۔ ایک دن دوپہر کے وقت شیطان آیا جبکہ یہ نوجوان قاضی نیند میں تھے۔ اس نے انہیں آواز دے کر جگایا اور ان سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ پر زیادتی کی ہے۔ میری مدد کیجیے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر چل دیئے۔ تھوڑی دور چلے کہ شیطان اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ چونکہ شیطان بےوقت مدعی بن آیا، اور ان کو سوتے سے جگایا پھر بھی غصہ نہ ہوئے اور جو ذمہ داری لی تھی اس پر قائم رہے۔ اس لیے ان کا نام ذوالکفل رکھ دیا گیا۔ یعنی ذمہ داری والا شخص۔
اس کو نقل کرنے کے بعد صاحب درمنثور نے بحوالہ عبدالرزاق و عبدبن حمید و غیرھما نقل کیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے لیکن بنی اسرائیل میں ایک صالح آدمی تھے جو روزانہ دن بھر نماز پڑھتے تھے۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے بعد ایک اور شخص نے اسی طرح دن بھر نماز پڑھنے کا عہد کیا۔ چناچہ وہ اس پر عمل کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا نام ذوالکفل (ذمہ داری والا شخص) رکھ دیا گیا۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے سنن ترمذی سے بھی ایک حدیث نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ذوالکفل بنی اسرائیل میں سے ایک شخص تھا جو کسی بھی گناہ سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اس عورت کو اس شرط پر ساٹھ دینار دیئے کہ اس کے ساتھ برا کام کرے۔ جب وہ اس کے اوپر بیٹھ گیا تو وہ عورت کانپ گئی اور رونے لگی۔ وہ کہنے لگا تو کیوں روتی ہے میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو نہیں کی۔ وہ کہنے لگی کہ بات تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ ایسا کام ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا۔ ضرورت نے مجبور کیا اس لیے میں اس پر آمادہ ہوگئی۔ اس پر اس نے کہا کہ اچھا یہ بات ہے ؟ یہ کہہ کر وہ ہٹ گیا اور وہ ساٹھ دینار بھی دے دیئے اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ پھر اسی آنے والی رات میں مرگیا۔ صبح کو اس کے دروازہ پر یوں لکھا ہوا تھا کہ بلاشبہ اللہ نے کفل کو بخش دیا۔ امام ترمذی نے یہ واقعہ ابواب صفۃ القیامۃ میں نقل فرمایا ہے اور اس کو حدیث حسن بتایا ہے۔ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ اسی شخص کا واقعہ ہو جس کو قرآن مجید نے ذوالکفل بتایا ہے اور اگر اسی شخص کا واقعہ ہو تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ ذوالکفل نبی نہیں تھے۔ چونکہ انبیاء کرام نبوت سے پہلے بھی کبائر سے محفوظ ہوتے ہیں۔ پھر مزید بات یہ ہے کہ حدیث شریف میں ذوالکفل نہیں ہے۔ لفظی مشابہت کی وجہ سے مفسرین نے اس قصہ کو یہاں نقل کردیا۔
Ayahs 21:87–88ذوالنون یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ، مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنا پھر اس مچھلی کا آپ کو سمندر کے باہر ڈال دینا
ان دونوں آیتوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چونکہ انھیں ایک مچھلی نے نگل لیا تھا اس لیے انہیں ذوالنون فرمایا۔ عربی میں نون مچھلی کو کہتے ہیں اور حوت بھی کہتے ہیں۔ اس لیے سورة ن و القلم میں (صاحب الحوت) فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا مفصل قصہ ہم سورة یونس میں بیان کرچکے ہیں۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ سورة صافات کی تفسیر میں بھی ذکر کریں گے۔ یہاں یہ قصہ بقدر ضرورت ذکر کیا جاتا ہے جس سے ان دونوں آیتوں کا مفہوم سمجھ میں آجائے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نینوا بستی والوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور دعوت و تبلیغ میں بہت محنت کی لیکن وہ برابر سر کشی پر تلے رہے۔ آپ نے ان سے فرما دیا کہ اب تم پر عذاب آئے گا۔ عذاب آنے میں ذرا دیر لگی تو وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اس روانہ ہونے میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نہیں بھیجی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی گرفت کرلی گئی۔ ان کا گمان تھا کہ ان لوگوں کو چھوڑ کر چلے جانے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ ادھر تو آپ اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے ادھر قوم پر عذاب آنے کے آثار ظاہر ہوگئے۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ جیسا کہ سورة یونس میں فرمایا (لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ) اللہ تعالیٰ کی اس قوم کے ساتھ یہ خصوصی مہربانی تھی ورنہ تکوینی قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب آجائے تو اس وقت کا ایمان قبول نہیں ہوتا اور عذاب نہیں ٹلتا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ وہ کشتی ڈگمگانے لگی۔ اس پر انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں اللہ تعالیٰ کی وحی آنے سے پہلے چلا آیا اور اسی وجہ سے کشتی ڈگمگا رہی ہے کشتی والوں سے کہا کہ مجھے سمندر میں ڈال دو تاکہ تم نجات پا جاؤ۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں اور پکڑ لیں گے تاکہ تمہاری وجہ سے ہم بچ جائیں۔ اس پر فرمایا کہ قرعہ ڈال لو۔ جس کا نام نکلے، اس کو سمندر میں ڈال دیا جائے۔ چناچہ تین بار قرعہ ڈالا گیا اور ہر بار حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ لہٰذا انہوں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ جیسے ہی سمندر میں پہنچے وہاں ایک مچھلی نے انہیں نگل لیا اور تین اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے۔ ایک اندھیری رات کی، دوسری اندھیری سمندر کی تہہ کی اور تیسری اندھیری مچھلی کے پیٹ کی۔ وہاں جو وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے اس کے الفاظ سورة انبیاء میں یوں نقل کیے ہیں (لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں بلاشبہ میں ظلم کرنے والوں میں ہوں) ۔
سورۂ صافات میں فرمایا (فَلَوْلاَ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖ اِِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) (سو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اس کے پیٹ میں رہتے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو غم اور گھٹن سے نجات دی۔ سورة ن و القلم میں فرمایا (فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوتِ اِِذْ نَادٰی وَھُوَ مَکْظُومٌ لَوْلاَ اَنْ تَدَارَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بالْعَرَاءِ وَھُوَ مَذْمُوْمٌ فَاجْتَبَاہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (آپ اپنے رب کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ انہوں نے دعا کی اور وہ غم میں گھٹ رہے تھے۔ اگر ان کے رب کا احسان ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ میدان میں بد حالی کے ساتھ ڈال دیئے جاتے۔ پھر ان کے رب نے ان کو برگزیدہ کرلیا اور ان کو صالحین میں سے کردیا) ۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی ان کو نجات بھی دے دی اور ان کو برگزیدہ بندہ بھی بنا لیا صالحین میں سے ہونے کی سند بھی دے دی لیکن بےپڑھے مفسرین ان سے راضی نہیں ان کی پیغمبرانہ معصومیت کو داغدار کرنے میں اپنا کمال سمجھتے ہیں حالانکہ آیات قرآنیہ میں ان کے کسی گناہ کا ذکر نہیں ہے صرف اتنی بات ہے کہ وہ قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے اور اس چلے جانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کا انتظار نہیں کیا اور اجتہادی طور پر یہ گمان کرلیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا یہ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے البتہ ان کے مقام رفیع کے خلاف ہے جو ان کی شان کے اعتبار سے ایک زلت یعنی ایک لغزش ہے، حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کی بجائے ان کی جانوں کا بدلہ لے لیا اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہوا۔
حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے زلات کا جہاں کہیں قرآن مجید اور احادیث میں ذکر آیا ہے اس کو آیت اور حدیث کی تشریح کے ذیل میں بیان کرنا تو درست ہے لیکن ان باتوں کو اڑانا ان حضرات کی طرف خطا اور قصور کی نسبت کرنا اور اس پر مضمون لکھنا یہ امت کے لیے جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ علامہ قرطبی سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کے ختم پر ہم سورة طہٰ میں لکھ آئے ہیں۔
فائدہ : حضرت یونس (علیہ السلام) نے جو مچھلی کے پیٹ میں دعا کی اس میں تہلیل یعنی اللہ کی توحید کا بیان ہے جو (لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ ) میں مذکور ہے اور اللہ کی تسبیح یعنی پاکی بیان کرنے کا ذکر بھی ہے جو لفظ (سُبْحٰنَکَ ) میں مذکور ہے اور اپنے قصور وار ہونے کا اعتراف ہے جو (اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوا کہ دعا کے لیے لفظ دعا اور توبہ کے لیے لفظ توبہ اگر زبان پر نہ لایا جائے اور سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور تسبیح بیان کرلی جائے اور اپنے قصور کا اقرار کرلیا جائے تو یہ بھی دعا ہے اور توبہ ہے (ہاں اگر حقوق اللہ اور حقوق العباد ذمہ ہوں تو ان کی ادائیگی بھی توبہ کا ایک جزو ہے (حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مچھلی والے (یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کی جو دعا مچھلی کے پیٹ میں تھی (لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) جو مسلمان بھی اس کے ذریعہ سے دعا کرے گا اللہ تعالیٰ ضرور اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ تفسیر درمنثور میں بحوالہ مستدرک حاکم حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں اللہ کا اسم نہ بتادوں ؟ وہ یہ ہے کہ (لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) جو بھی مسلمان چالیس بار اس کے ذریعے اپنے رب سے دعا کرے گا پھر اس مرض میں مرجائے جس میں یہ دعا کی تو اسے شہید کا ثواب دیا جائے اور اگر اچھا ہوگیا تو اس حالت میں اچھا ہوجائے گا کہ اس کے گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔
Ayahs 21:89–91بڑھاپے میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگنا، اور ان کی دعا قبول ہونا
یہ تین آیات ہیں ان میں پہلے تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا، ان کا کوئی لڑکا نہ تھا خود بھی بوڑھے تھے اور بیوی بھی بانجھ تھی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسا لڑکا عطا فرمائے جو میرا وارث ہو۔ میں اکیلا ہوں میرے بعد کوئی دینی امور کا سنبھالنے والا ہونا چاہیے۔ مجھے ایسا لڑکا عطا فرمایئے جو میرا خلیفہ بن جائے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انہیں بیٹے کی بشارت دے دی۔
دعا تو اللہ تعالیٰ سے امید باندھ کر کرلی پھر جب فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری دی تو طبعی طور پر انہیں تعجب ہوا کہ میری اولاد کیسے ہوگی میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمہارے رب کے لیے آسان ہے اس نے تمہیں بھی تو پیدا کیا تھا جبکہ تمہارا وجود ذرا بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹا دے دیا اور ان کی بیوی کو قابل ولادت بنا دیا اور بیٹے کا نام یحییٰ تجویز فرما دیا اور اس بیٹے کو نبوت سے سر فراز فرما دیا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا مفصل قصہ سورة آل عمران رکوع نمبر 4 میں اور سورة مریم رکوع نمبر ایک میں بیان ہوچکا ہے۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تین عظیم صفات :
گزشتہ دو رکوع میں متعدد انبیاء کرام ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا۔ پھر ان کی تین بڑی صفات بیان فرمائیں۔ اول یہ کہ (اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِ ) (بلاشبہ وہ نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے) دوسری صفت یہ کہ (وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَھَبًَا) (اور وہ ہمیں رغبت کے ساتھ اور ڈرتے ہوئے پکارا کرتے تھے) اور تیسری صفت یہ کہ (وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ ) (اور وہ ہمارے سامنے خشوع سے رہتے تھے) یہ تین بڑی صفات ہیں۔ تمام اہل ایمان کو ان سے متصف ہونا چاہیے۔ پہلی صفت یہ ہے کہ نیک کاموں میں مسارعت اور مسابقت کریں۔ حسب استطاعت نیک کاموں میں دیر نہ لگائیں۔ سورة آل عمران میں فرمایا کہ (وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ ) (اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف جلدی کرو جو اتنی بڑی ہے کہ اس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے) دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ ہمیں رغبت کے ساتھ اور ڈرتے ہوئے پکارتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ سے مانگیں خوب رغبت اور لالچ کے ساتھ مانگیں اور ساتھ ہی ڈرتے بھی رہیں۔ اپنے اعمال پیش نظر رکھیں۔ ہر دعا کرنے والا اس بات سے بھی ڈرتا رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اعمال کی خرابی یا آداب دعا کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے دعا قبول نہ ہو۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ رَغَبًا وَّ رَھَبًا دونوں اسم فاعل کے معنی میں ہوں یعنی راغبین اور راھبین اور بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بھی بتایا ہے کہ رغبت اور خوف کی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ کسی حالت میں بھی دعا سے غافل نہ ہوتے تھے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ ) (اور ہمارے سامنے خشوع سے رہتے تھے) ۔
خشوع قلبی جھکاؤ کو کہتے ہیں۔ پھر جس کا دل جھکا ہوتا ہے اس کے اعضاء میں بھی جھکاؤ ہوتا ہے۔ یعنی ان سے فخر وتکبر کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔ جس کے دل میں اللہ کی عظمت بیٹھ گئی اس کے قلب میں اور اعضاء وجوارح میں اپنی بڑائی کا کہاں تصور ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے اعضاء وجوارح میں کیسے اکڑ مکڑ ہوسکتی ہیں، اس میں جو لفظ لَنَا بڑھایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ ذات خداوندی کی عظمت اور کبریائی، مومنین اور موقنین کے یقین میں گھلی ملی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ حالت خشوع ہی میں رہتے ہیں۔ نماز میں تو خشوع ہوتا ہی ہے دیگر احوال و اوقات میں بھی ان کے قلوب میں خشوع رہتا ہے۔ ذات باری تعالیٰ کے لیے جس کے دل میں جھکاؤ ہوگا وہ مامورات پر بھی عمل کرے گا اور منھیات سے بھی بچے گا۔ جعل لنا اللہ تعالیٰ منہ حظا وافرا۔
حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ
اس عورت کو یاد کرو جس نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا۔ اس سے حضرت مریم [ مراد ہیں۔ جیسا کہ سورة التحریم کے آخر میں اس کی تصریح ہے۔ انہوں نے اپنی عفت و عصمت کو محفوظ رکھا۔ ان کا نہ کسی مرد سے نکاح ہوا اور نہ کسی مرد سے کوئی گناہ گاری کا تعلق ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں یہ تھا کہ ان کو بیٹا دیا جائے۔ پھر یہ بیٹا اللہ کا رسول بنے اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے مبعوث ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتہ بھیجا جس نے ان کے کرتہ کے دامن میں پھونک مار دی۔ جس سے حمل قرار ہوگیا اور اس کے بعد لڑکا پیدا ہوگیا۔ یہ لڑکا کون تھا ؟ یہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے جو بنی اسرائیل کے سب سے آخری نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی اور شریعت کے احکام بتائے۔ بنی اسرائیل ان کے سخت مخالف ہوگئے اور ان کے قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (وَ جَعَلْنٰھَا وَ ابْنَھَآ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (اور ہم نے اس عورت کو اور اس کے بیٹے کو جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا) تاکہ دنیا جہاں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ بغیر مرد کے کسی عورت کے رحم میں حمل پیدا فرما سکتا ہے اور بغیر باپ کے بھی عورت کی اولاد ہوسکتی ہے۔ گو عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ اپنی قدرت بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے اور حواء [ کو بغیر ماں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرما دیا۔ (ذٰلِکَ مِنْ اٰیَات اللّٰہِ ) یاد رہے کہ قرآن مجید میں حضرت مریم [ کے پاک دامن ہونے کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کی تصریح آگئی ہے لیکن چونکہ اور کسی کے لیے اس کی تصریح نہیں ہے اس لیے کوئی عورت یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ میرا یہ حمل بغیر مرد کے ہے۔ اگر کوئی بےشوہر والی عورت ایسا کہے گی اور اسے حمل ہوگا تو امیر المومنین اس پر حد جاری کر دے گا۔ کیونکہ بندے ظاہر کے مکلف ہیں۔
Ayahs 21:92–93تمام حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین واحد ہے
متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور آخر میں فرمایا کہ ان حضرات کا جو دین تھا یہی تمہارا دین ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے منظور فرمایا ہے۔ یہ دن توحید ہے۔ تم سب اسی دین کو اختیار کرو۔ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سب توحید کی دعوت لے کر آئے اور اسی کی دعوت دی۔ اصول دین یعنی توحید و رسالت اور معاد میں ان حضرات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب تر ہوں۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ تمام انبیاء آپس میں بھائی ہیں۔ جیسے آپس میں باپ شریک بھائی ہوتے ہیں اور مائیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی ہے اور میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ ص 509) یعنی احکام فرعیہ میں گو اختلاف تھا لیکن اصولی اعتبار سے سب کا دین ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور الوہیت ربوبیت اور خالقیت اور مالکیت کے ماننے اور تسلیم کرنے کی سب نبیوں نے دعوت دی۔ سارے انسانوں پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اسی لیے آیت کے ختم پر فرمایا (وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ) (اور میں تمہارا رب ہوں سو تم میری عبادت کرو) (وَ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ ) یعنی اس کی بجائے کہ لوگ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر چلتے اور توحید کو اختیار کرتے لوگوں نے آپس میں اپنے دین کے ٹکڑے کرلیے۔ طرح طرح کے عقیدے تراشے اور مختلف قسم کی جماعتیں بنا لیں۔ ان جماعتوں میں صرف وہ جماعت حق پر ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے دین پر تھی اور اب خاتم النّبیین ﷺ کے دین پر ہے۔ اس ایک جماعت کے علاوہ جتنی جماعتیں تھیں یا اب ہیں وہ سب گمراہ ہیں اور کافر ہیں (کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ ) (سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں) ہر ایک اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا پائے گا۔
Ayah 21:94مومن کے اعمال صالحہ کی ناقدری نہیں ہے
اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جو بھی کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے کوئی بھی نیک کام کرے گا۔ وہ اس کا بھر پور اجر پائے گا۔ کسی کے کسی بھی نیک عمل کی ناقدری نہ ہوگی۔ جس کا جو عمل ہوگا چند در چند بڑھا دیا جائے گا اور کسی نیکی کا ثواب دس نیکی سے کم تو ملنا ہی نہیں ہے۔ دس گنا تو کم سے کم ہے اور اس سے زیادہ بھی بہت بڑھا چڑھا کر ثواب ملے گا۔
(وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ) (اور ہم ہر شخص کا عمل لکھ لیتے ہیں) جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں تمام اعمال لکھتے ہیں قیامت کے دن یہ اعمال نامے پیش ہوں گے۔ جو اعمال کیے تھے سب سامنے آجائیں گے۔ سورة الکہف میں فرمایا (وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَّ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ ) (اور جو کچھ عمل کیے تھے ان سب کو موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا) ۔
Ayah 21:95ہلاک شدہ بستیوں کے بارے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ رجوع نہ کریں گے
اس آیت کے مفہوم میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے حرام کا معروف معنی لیا ہے۔ ای ممتنع اور بعض حضرات نے فرمایا کہ حرام معنی میں ہے واجب کے اور لا کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ وہ زائدہ ہے یا نفی کے معنی میں ہے۔ ہم نے جو اوپر ترجمہ کیا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق ہے۔ انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے وجب انھم لا یرجعون ای لا یتوبون جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی بستی کے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہے وہ آخر تک کفر پر ہی جمے رہیں گے اور توبہ نہ کریں گے۔ حتیٰ کہ ہلاک ہوجائیں گے۔
اور حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ لا زائدہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا وہ لوگ ہلاک ہونے کے بعد دنیا کی طرف واپس نہ ہوں گے۔ ان کی واپسی ممتنع ہے۔ اس صورت میں حرام اپنے اصلی معنی میں ہوگا لیکن بعض حضرات نے اس مطلب کو پسند نہیں کیا۔ کیونکہ اس بات کے کہنے میں بظاہر کچھ فائدہ نہیں۔ (جو لوگ عذاب سے ہلاک کیے بغیر دنیا سے چلے گئے وہ بھی واپس نہ ہوں گے۔ پھر ہلاک شدگان کی خصوصیت کیا رہی)
قال القرطبی فی احکام القرآن ج 11 ص 340 و اختلف فی ” لا “ فی قولہ ” لا یرجعون “ قیلھی صلۃ روی ذلک عن ابن عباس و اختارہ ابوعبید ای و حرام علی قریۃ اھلکناھا ان یرجعوا بعد الھلاک، و قیل لیست بصلۃ وانماھی ثابتۃ، و یکون الحرام بمعنی الواجب و من احسن ما قبل فیھا وأجلہ ما رواہ ابن عیینۃ و ابن علیۃ و ھیثم و ابن ادریس و محمد بن فضیل و سلیمان بن حیان و معلی عن داود بن ابی ھند عن عکرمۃ عن ابن عباس ؓ عنھما فی قول اللہ عزوجل ” و حرام علی قریۃ اھلکناھا “ قال وجب انھم لا یرجعون قال لا یتوبون، ...... اما قول ابی عبید ان ” لا “ زائدۃ فقدردہ علیہ جماعۃ لانھا لا تزاد فی مثل ھذا الموضع و لا فیھا یقع فیہ اشکال ولو کانت زائدۃ لکان التاویل بعیدا ” ایضا “ لانہ ان اراد ” و حرام علی قریۃ اھلکناھا ان یرجعوا الی الدنیا “ فھذا ما لا فائدۃ فیہ و ان اراد التوبۃ فالتوبۃ لا تحریم و قیل فی الکلام اضمار ای و حرام علی قریۃ حکمنا باستئصالھا، او بالختم علی قلوبھا ان یتقبل منھم عمل لانھم لا یرجعون ای لا یتوبون، قالہ الزجاج و ابو علی، و ” لا “ غیر زائدۃ و ھذا ھو معنی قول ابن عباس ؓ ۔
Ayahs 21:96–97قیامت سے پہلے یاجوج و ماجوج کا نکلنا، قیامت کے دن کافروں کا حسرت کرنا اور اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جانا
ان آیات میں قرب قیامت کا، پھر وقوع قیامت کا اور قیامت کے دن اہل کفر کی ندامت اور بد حالی کا تذکرہ ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ اہل کفر برابر سر کشی میں اور کفر میں پڑے رہیں گے اور انکار حق پر اڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نکل آئیں جو ہر اونچی جگہ سے نکل کر پھیل پڑیں گے اور قیامت کا جو سچا وعدہ ہے وہ قریب ہوجائے گا۔ قیامت کے قریب آجانے پر بھی ان لوگوں کو ہوش نہ آئے گا اور حق قبول نہ کریں گے حتیٰ کہ قیامت واقع ہو ہی جائے گی۔ جب قیامت واقع ہوگی تو حیرانی اور پریشانی کی وجہ سے ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی جسے اردو کے محاورہ میں آنکھیں پھٹی ہوئی رہ جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب قیامت آئے گی اور کفر کی وجہ سے بد حالی میں مبتلا ہوں گے اور عذاب کا سامنا ہوگا تو حسرت اور ندامت کے ساتھ یوں کہیں گے (یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا) (ہائے ہماری کمبختی ہم تو اس کی طرف سے غافل تھے) قیامت کا نام سنتے تھے تو مانتے نہیں تھے اور قیامت کے دن کی سختی اور عذاب کے بارے میں جو خبریں دی جاتی تھیں ان کا انکار کرتے تھے۔
(بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ) اس بارے میں کسی کو بھی الزام نہیں دیا جاسکتا۔ جو کچھ الزام ہے اپنے ہی اوپر ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم ہی ظالم تھے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں ضروری معلومات اور قیامت کے قریب ان کے خروج کا تذکرہ سورة کہف کے ختم کے قریب گزر چکا ہے۔
فی روح المعانی ص 93، ج 17، (حتی اذا فتحت یاجوج و ماجوج) ابتدائیۃ و الکلام بعدھا غایۃ لما بدل علیہ ما قبلھا کانہ قیل یستمرون علی ماھم علیہ من الھلاک حتی اذا قامت القیامۃ یرجعون الیھا و یقولون یا ویلنا الخ او غایۃ للحرمۃ ای یستمر امتناع رجوعھم الی التوبۃ حتی اذا قامت القیامۃ یرجعون الیھا و ذلک حین لا ینفعھم الرجوع او غایۃ لعدم الرجوع عن الکفر ای لا یرجعون عنہ حتی اذا قامت القیامۃ یرجعون عنہ وھو حین لا ینفعھم ذلک “ و ھذا بحسب تعدد الاقوال فی معنی الایۃ المتقدمۃ و التوزیع عیر خفی 1 ھ
وقال القرطبی ج 11 ص 342، ” و اقترب الوعد الحق “ یعنی القیامۃ و قال الفراء و الکسائی وغیرھما الواو زائدہ مفحمۃ و المعنی حتی اذا فتحت یاجوج و ماجوج اقترب الوعد الحق فاقترب جواب اذا، ...... و اجاز الکسائی ان یکون جواب اذا ” فاذاھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا “ و یکون قولہ ” اقترب الوعد الحق “ معطوفا علی الفعل الذی ھو شرط، و قال البصریون الجواب محذوف و التقدیر یا ویلنا وھو قول الزجاج وھو قال حسن۔ 1 ھ