Ayahs 19:80–81جنھوں نے غیر اللہ کی پرستش کی ان کے معبود اس بات کا انکار کریں گے کہ ہماری عبادت کی گئی اور اپنے عبادت کرنے والوں کے مخالف ہوجائیں گے
معبود حقیقی وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر جن لوگوں نے دوسرے معبود بنا لیے ہیں وہ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ باطل معبود ہمارے لیے عزت کا باعث ہیں ان کی طرف منسوب ہونا ہمارے لیے فخر ہے جیسا کہ ابو سفیان نے غزوہ احد کے موقع پر فخر ظاہر کرتے یوں کہا تھا لنا عزی ولا عزی لکم (ہمارے لیے عزیٰ بت ہے اور تمہارے لیے عزیٰ نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو یہ جواب دے دو اللہ مولانا ولا مولی لکم (اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی مولیٰ نہیں) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ باطل معبود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کردیں گے۔ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ جن معبودوں کی عبادت وہ اپنے لیے عزت اور فخر سمجھتے ہیں اور جنھیں اللہ کی بارگاہ میں سفارشی مانتے ہیں وہ مدد تو کیا کریں گے وہاں اس بات کے منکر ہوجائیں گے کہ ان کی عبادت کی تھی، سورة احقاف میں فرمایا (وَاِِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَاءً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیْنَ ) اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو ان کے باطل معبود اپنے عبادت گزاروں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے۔ یہ باطل معبود نہ صرف اپنے عبادت گزاروں کی عبادت کے منکر ہوں گے بلکہ وہاں ان کے مخالف ہوجائیں گے اور ان کو الزام بھی دیں گے اور ان کے لیے عذاب دوزخ میں جانے کے خواہشمند ہوں گے۔
Ayahs 19:82–83اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ ) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر چھوڑ دیا ہے جو انھیں خوب ابھارتے رہتے ہیں سو آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کیجیے ہم ان کی باتوں کو خوب شمار کر رہے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں کفر پر اور برے اعمال پر خوب ابھارتے ہیں یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو نہیں مانتے جو اس نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ بھیجی ہے بلکہ شیاطین کے بہکانے اور ورغلانے ہی کو اچھا سمجھتے ہیں اور ان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں حق کو چھوڑ کر باطل پر جمے رہتے ہیں لہٰذا یہ لوگ عذاب کے مستحق ہیں وقت مقررہ پر ان پر عذاب آ ہی جائے گا آپ جلدی عذاب آجانے کی درخواست نہ کریں ان کی جو باتیں ہیں ہم انھیں خوب شمار کر رہے ہیں ان کے جو اعمال شرکیہ اور اعمال سیۂ اوراقوال باطلہ ہیں ہمیں ان سب کا علم ہے اور ہم ان سب کو لکھ رہے ہیں اجل مقررہ پر عذاب آجائے گا ان کے افعال اور اعمال اقوال سب کی سزا دے دی جائے گی۔
Ayah 19:84(اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا) کی یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ نعد کا مفعول اعمال اوراقوال مراد ہوں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ نعد کا مفعول انفاس اور ایام ہیں اور مطلب ہے کہ ہم ان کی زندگی کے انفاس (سانس) اور ایام گن رہے ہیں جب ان کی اجل آجائے گی تو عذاب بھی آجائے گا اور ان کی مدت کے ایام معدودے چند ہی ہیں گو ان کے نزدیک گنتی میں زیادہ ہوں کیونکہ فنا ہونے والی زندگی بہرحال ختم ہوگی اور دنیا میں جتنی بھی مدت گزری ہو بہرحال آخرت کے مقابلہ میں کم ہی ہے۔
Ayah 19:85قیامت کے دن متقی مہمان بنا کر لائے جائیں گے اور مجرمین ہنکا کر پیاسے حاضر کیے جائیں گے اور وہی شخص سفارش کرسکے گا جسے اجازت ہوگی
ان آیات میں قیامت کے دن کی حاضری کا ایک منظر بتایا اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے متقی بندے قیامت کے دن مہمانوں کے طور پر حاضر ہوں گے ان کا اکرام کیا جائے گا اور ان کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور مجرمین جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے جیسے جانوروں کو ہانکا جاتا ہے اور مجرمین پیاسے ہوں گے، اس کے بعد یہ فرمایا کہ وہاں کسی کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار نہ ہوگا ہاں جن بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہی شفاعت کریں گے۔ جیسا کہ آیۃ الکرسی میں فرمایا (مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ) (وہ کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرسکے بجز اس شخص کے جسے وہ اجازت دے دے) جسے سفارش کی اجازت دی جائے گی وہی سفارش کرسکے گا اور جس کے لیے سفارش کی اجازت ہوگی اس کے لیے سفارش کی جاسکے گی۔
Ayahs 19:86–88اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی مذمت اور ان کے قول کی شناعت
مشرکین عرب کہتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے اور اب بھی اپنے دعویٰ پر قائم ہیں اور ان کے علاوہ دیگر مشرکین بھی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ آیات بالا میں اول تو ان لوگوں کا قول نقل فرمایا پھر اس کی تردید فرمائی اور ان کے قول کی قباحت اور شناعت کو پوری طرح واضح فرمایا اور ارشاد فرمایا (لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا) (بلاشبہ تم نے بہت سخت بات کہی ہے) یہ معمولی بات نہیں یہ تو ایسی بات ہے کہ قریب ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں، اولاد ہونا اس کی عظمت و جلالت اور کبریائی کے خلاف ہے اسی کو فرمایا (وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اور رحمن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اولاد اختیار کرے) وہ تو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے اسے کسی محافظ اور مددگار کی ضرورت نہیں، چونکہ خالق اور مخلوق ہم جنس نہیں اس لیے کوئی بھی اس کی اولاد نہیں ہوسکتا۔ ہر طرح کے شرک سے اس کی تنزیہ فرض ہے۔
جو چیز اس کی شان کے لائق نہیں اسے اس کے لیے تجویز کرنا اس کی ذات پاک کی طرف عیب منسوب کرنے کے مترادف ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ اسے ایسا نہ کرنا تھا اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہ کرے گا حالانکہ پہلی بار اور دوسری بار پیدا کرنا دونوں میرے لیے برابر ہیں۔ (یعنی یہ بات نہیں ہے کہ پہلی بار پیدا کرنا میرے لیے آسان ہو اور دوسری بار پیدا کرنا مشکل ہو) اور ابن آدم کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ یوں کہتا ہے کہ اللہ کے لیے اولاد ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ کسی کو بیوی بناؤں یا اولاد بناؤں میں احد ہوں صمد ہوں نہ میں نے جنا اور نہ جنا گیا اور میرا کوئی برابر نہیں۔ (رواہ البخاری) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ناگوار بات سننے پر کوئی بھی اللہ سے بڑھ کر برداشت کرنے والا نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں وہ پھر بھی انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ ص 113، از بخاری)
Ayahs 19:89–93پھر فرمایا (اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب رحمن کے حضور میں بندہ بنے ہوئے حاضر ہوں گے۔ (سب اللہ کے بندے ہیں اور بندگی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے اس کا بندہ ہونے سے کسی کو بھی انکار اور استنکاف نہ ہوگا جو سراپا بندہ ہو وہ کیونکر خالق جل مجدہ کی اولاد ہوسکتا ہے) (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا) ان تمام حاضر ہونے والوں کو اس نے اپنے علمی احاطہ میں لے رکھا ہے اور انھیں خوب شمار کر رکھا ہے۔
کوئی بھی بچ کر اور بھاگ کر اس کے قبضہ قدرت سے نکل نہیں سکتا یہ جو لوگ اس کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں یہ نہ سمجھیں کہ قیامت کے دن بھاگ نکلیں گے اور عذاب سے بچ جائیں گے ایسا ہرگز نہیں، اس کا علم اور قدرت سب کو محیط ہے اور سب اس کے شمار میں ہیں۔
(وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) (اور ہر ایک اس کے پاس فرداً فرداً تنہا آئے گا) وہاں اپنا اپنا حساب دینا ہوگا اور اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے مطابق جزا سزا پائیں گے۔
Ayahs 19:94–96اہل ایمان کا اکرام، قرآن مجید کی تیسیر، ہلاک شدہ امتوں کی بربادی کا اجمالی تذکرہ
پہلی آیت میں اہل ایمان کی ایک فضیلت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا یعنی تمام فرشتے جو آسمانوں کے رہنے والے ہیں اور تمام مومن بندے جو زمین پر رہتے اور بستے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور یہ اللہ کی محبت کے بغیر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت فرمائے گا اور اپنے نیک بندوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال دے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو لہٰذا وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں پکار کر اعلان کردیتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت فرماتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو لہٰذا آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے یعنی اہل زمین بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ (اس سے صالحین مراد ہیں اگر کافر و فاسق صالحین سے محبت نہ کریں تو اہل ایمان ان سے بےنیاز ہیں) پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو لہٰذا جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں نداء دے دیتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو فلاں شخص مبغوض ہے لہٰذا تم اس سے بغض رکھو اس پر آسمان والے اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں پھر اس کے لیے زمین میں بغض ہی رکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم ص 331 ج 2) مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ (سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) میں یہی بات بتائی ہے کہ رحمن جل شانہ لوگوں کے دلوں میں صالحین کی محبت ڈال دیتا ہے نیز انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں مسلمانوں کے دلوں میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور رزق عطا فرمائے گا اور حسن اخلاق اور احسن اعمال اور اچھا تذکرہ نصیب فرمائے گا۔ حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ ایک شخص نے یہ طے کیا کہ میں ایسی عبادت کروں گا جس کا چرچہ ہوگا وہ ہمیشہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا تھا اور سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتا اور سب سے آخر میں نکلتا سات مہینے اسی طرح گزر گئے لیکن حال یہ تھا کہ جب کبھی لوگوں پر گزرتا تو لوگ کہتے کہ دیکھو یہ ریاکار جا رہا ہے جب اس نے یہ ماجرا دیکھا تو اپنے نفس سے کہا کہ دیکھ اس طرح سے تو تیری شہرت برائی سے ہی ہو رہی ہے اب نیت کو پلٹنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہی کی رضا مطلوب ہونی چاہیے جب اس نے نیت پلٹ دی اور عبادت میں اسی طرح لگا رہا تو جدھر جاتا لوگ کہتے تھے کہ اس پر اللہ کی رحمت ہو، حضرت حسن نے یہ واقعہ نقل کر کے آیت بالا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الخ) تلاوت فرمائی، حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا کہ جو بھی کوئی بندہ اچھا یا برا کوئی بھی عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کے عمل کی چادر ضرور پہنا دیتا ہے۔ (ابن کثیر ص 140 ج 3) مطلب یہ ہے کہ اصحاب خیر کی خیر کے ساتھ شہرت ہوگی اور اصحاب شر کا شر کے ساتھ تذکرہ ہوگا۔ جن حضرات نے اللہ کے لیے عمل کیا اور اللہ ہی کے لیے محنتیں کیں سیکڑوں سال گزر جانے پر بھی آج تک مومنین کے دلوں میں ان کی محبت ہے اور ان کے اچھے کارناموں کا تذکرہ ہے ان کے برخلاف جو لوگ دنیا دار صاحب اقتدار تھے لیکن پرہیزگار نہ تھے اور جو لوگ مالدار تھے اعمال صالحہ سے خالی تھے ان لوگوں کو عموماً برائی سے یاد کیا جاتا ہے مومن بندوں کو چاہیے کہ صرف اللہ ہی کے لیے عمل کریں، تذکرہ خیر ہی سے ہوگا اہل ایمان اس سے محبت کریں گے جو طالب دنیا ہوا وہ تو خسران عظیم میں چلا گیا۔
Ayah 19:97پھر فرمایا (فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا) (سو ہم نے قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا تاکہ آپ اس کے ذریعہ متقی لوگوں کو بشارت دیں اور اس کے ذریعہ جھگڑالو قوم کو ڈرائیں) ۔
قرآن مجید عربی زبان میں ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان تھی آپ نے کسی سے پڑھا نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے آپ کے لیے آسان فرما دیا اور آپ کی امت کے لیے بھی آسان کردیا عربی اور عجمی چھوٹے بڑے سبھی پڑھتے ہیں اور اس کے مضامین سمجھتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ متقین کو یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو بشارت دیتے رہے اور جھگڑالو قوم کو ڈراتے رہے۔
لدا جمع ہے الد کی جس کا معنی جھگڑالو کا ہے حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اس سے قوم قریش مراد ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا معناہ قوم لدا لا یستقیمون یعنی وہ کجی اختیار کرنے والے جو ٹھیک راہ پر نہیں آتے اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو دلوں کے کانوں سے بہرے ہیں۔ (ابن کثیر ص 140 ج 3)
Ayah 19:98آخر میں فرمایا (وَ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (اور ہم نے اس سے پہلے کتنے ہی گروہوں کو ہلاک کردیا) (ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا) (کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی کوئی آہٹ سنتے ہیں) ۔
مطلب یہ ہے کہ تکذیب کرنے والی بہت سی امتیں اور جماعت گزر چکی ہیں جو اپنی نافرمانی کی پاداش میں ہلاک کی گئیں آج ان کی کوئی بات سننے میں نہیں آتی وہ کہاں ہیں دنیا میں کیسی کیسی بولیاں بولا کرتے تھے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ہر طرح کی بولتی بند ہوگئی اب نہ کہیں ان کی آواز ہے اور نہ کہیں آہٹ ہے قرآن کی تکذیب کرنے والوں کو ان ہلاک شدہ اقوام سے سبق لینا چاہیے۔
ولقد ثم تفسیر سورة مریم للثالث والعشرین من ذی الحجہ 1414 ھ من ھجری سیدنا خیرالامام علیہ وعلی الہ وصحبہ الصلوٰۃ والسلام والحمد للہ علی التمام