Ayah 19:41توحید کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد سے مکالمہ
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے آپ کا وطن بابل کے علاقہ میں تھا جہاں نمرود کی حکومت تھی وہاں کے لوگ بت پرست تھے خود آپ کا گھرانہ بھی بت پرست تھا۔ ان کا باپ بھی بت پرست تھا جس کا نام آزر تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے تھے بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اپنے والد کو بھی انہوں نے توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کے لیے کہا سورة اعراف میں ہے (وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِھَۃً اِنِّیْٓ اَرَاکَ وَ قَوْمَکَ فِیْ ضَلٰالٍ مُّبِیْنٍ ) (اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں) یہاں سورة مریم میں حضرت ابراہیم کے مکالمہ کا تذکرہ فرمایا جو ان کے باپ سے ہوا تھا انھوں نے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ یہ تم جن چیزوں کی عبادت میں لگے ہوئے ہو یہ بت جن کی تم پرستش کرتے ہو یہ تو تم سے بھی گئے گزرے ہیں تم تو سنتے ہو اور دیکھتے ہو اور کچھ نہ کچھ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہو لیکن یہ بت تو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی قسم کا کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف دور کرسکتے ہیں ان کی عبادت کرنا تو سراپا بےوقوفی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے اپنے باپ سے مزید کہا کہ دیکھو حق اور حقیقت واضح ہونے کے لیے چھوٹا بڑا ہونے کی کوئی قید اور شرط نہیں میں اگرچہ تمہارا بیٹا ہوں لیکن خالق کائنات جل مجدہ نے مجھے وہ علم عطا فرمایا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا مجھے اس نے توحید سیکھائی ہے جو صحیح راہ ہے آخرت کے عذاب سے بچانے والی ہے تم میری بات مانو میں تم کو اسی سیدھے راستہ کی رہبری کروں گا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ یہ شرک کی راہیں اور بت پرستی، غیر اللہ کی پوجا یہ سب شیطان کی نکالی ہوئی اور بتائی ہوئی چیزیں ہیں اس کی بات ماننا اس کی عبادت ہے شیطان اپنی بھی عبادت کراتا ہے اور بتوں کی بھی، تم شیطان کی بات مت مانو وہ تو رحمن جل مجدہ کا نافرمان ہے جو اس کا ساتھی بنے گا اسے بھی رحمن جل مجدہ کی نافرمانی پر جمائے گا اس کا ساتھی ہونے پر عذاب بھگتنا پڑے گا، اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تم پر رحمن کی طرف سے کوئی عذاب نہ آجائے اور یہ شیطان کی دوستی جو دنیا میں ہے تمہیں اس کے ساتھ آخرت کے دائمی عذاب میں نہ جھونک دے اور نہ تمہاری دنیا والی دوستی وہاں کی دوستی یعنی عذاب میں شریک ہونے کا ذریعہ نہ بن جائے (وہاں تو سب دوزخی آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے لیکن چونکہ یہ دشمنی یہاں کی دوستی کی وجہ سے سامنے آئے گی اس لیے اسے بھی علی سبیل المشاکلہ (فَتَکُوْنَ للشَّیْطٰنِ وَلِیًّا) سے تعبیر فرمایا) یہ باتیں سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نے کوئی اچھا اثر نہیں لیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب دیا کیا تم میرے معبودوں سے ہٹنے والے ہو یعنی میرے معبودوں سے دور ہو ان کی عبادت کے قائل نہیں ہو ؟ اور نہ صرف یہ کہ تم ان کی عبادت سے دور ہو مجھے بھی ان کی عبادت سے روک رہے ہو اب تک جو کہا اب کے بعد اگر تو اپنی باتوں سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ختم کر دوں گا۔ پس میرا تیرا کوئی تعلق نہیں، مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا تمہیں میرا سلام ہے (یہ وہ سلام نہیں جو اہل ایمان کو کیا جاتا ہے بلکہ جاہلوں سے جان چھڑانے کے لیے محاورہ میں سلام کے الفاظ کہہ دیے جاتے ہیں یہ اسی طرح کا سلام ہے جیسا کہ سورة فرقان میں فرمایا : (وَاِذَا خَاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا) ساتھ ہی ابراہیم (علیہ السلام) نے یوں بھی فرمایا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا میرا رب مجھ پر بہت مہربان ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چونکہ مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ فرما لیا تھا۔ اس لیے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کی جس کا سورة شعراء میں ذکر ہے (وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) (اور اے میرے رب میرے باپ کو بخش دے بلاشبہ وہ گمراہوں میں سے ہے) سورة توبہ میں ہے (فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اِنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّا مِنْہُ ) (پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اسے ایمان لانا نہیں ہے تو پھر اس سے بیزاری اختیار فرمائی) سورة توبہ کی آیت بالا کے ذیل میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مراجعہ کرلیا جائے۔ (انوار البیان جلد دوم)
Ayahs 19:42–48پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام تشریف لے آئے۔
Ayah 19:49(فَلَمَّا اعْتَزَلَھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَھَبْنَا لَہٗ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ) پھر وہ جب ان لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ ہوگئے جن کی وہ عبادت کرتے تھے تو ہم نے انھیں اسحاق اور یعقوب عطا کردیے (اسحق ان کے بیٹے تھے اور یعقوب اسحاق کے بیٹے تھے) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشہور بیٹوں میں سے ایک بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی تھے جن کا ذکر سورة بقرہ میں کعبہ شریف بنانے کے سلسلہ میں گزر چکا ہے اور ابھی چار آیات کے بعد آ رہا ہے۔
(وَکُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا) اور ہم نے ان دونوں (اسحق و یعقوب) کو نبی بنایا۔
Ayah 19:50بعد کے آنے والوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا اچھائی اور سچائی کے ساتھ تذکرہ کیا جانا
(وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا) (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت کا حصہ دے دیا اور ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان کو بلند کردیا) بہت بڑی نعمت اور رحمت تو نبوت ہے نبوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی بہت سی دینی دنیاوی علمی عملی نعمتیں عطا فرمائیں اور ان کے بعد آنے والوں میں خیر اور خوبی اور سچائی اور اچھائی کے ساتھ ان کا ذکر جاری رکھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ) (اور بعد آنے والوں میں میرا ذکر سچائی کے ساتھ جاری رکھیے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کا اور ان کی آل و اولاد کا چرچا آنے والی امتوں میں خیر و خوبی کے ساتھ جاری فرمایا۔ آنے والی تمام انبیاء کی امتیں انھیں خیر سے یاد کرتی رہی رہیں امت محمدیہ میں آل ابراہیم کا برابر خیر کے ساتھ تذکرہ ہے اور اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ نماز میں کما صلیت علیٰ ابراہیم پڑھا جاتا ہے اور ہر نمازی پڑھتا ہے اور بار بار پڑھتا ہے۔
Ayah 19:51حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس کا تذکرہ
حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ مخلص تھے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا اور اپنا خاص اور خالص بندہ بنایا۔ (ھذا علی قراء ۃ الکوفیین بفتح اللام وقراء آخرون بکسرھا والمعنی انہ اخلص عبادتہ عن الشرک والریاء واسلم وجھہ للہ عزوجل واخلص عن سواہ کما قال صاحب الروح ص 103 ج 16)
نبی اور رسول میں فرق
اور یہ بھی فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے اور نبی تھے۔ رسول پہنچانے والا اور نبی خبر دینے والا یہ ان دونوں کا لفظی ترجمہ ہے شریعت کی اصطلاح میں رسول اور نبی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کے لیے بولا جاتا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے مشہور قول یہ ہے کہ ہر رسول نبی بھی ہے اور رسول میں نبی سے ایک زائد معنی بھی ہے یعنی جسے کتاب دی گئی ہو اور نئی شریعت دے کر بھیجا گیا ہو وہ نبی بھی ہے اور رسول بھی ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) انبیاء سابقین کی شریعت کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں انھیں لغوی اعتبار سے رسول کہا جاتا ہے اور اصطلاحی اعتبار سے نہیں کہا جاتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے انھیں طور کی داہنی جانب سے پکارا طور پہاڑ مدین اور مصر کے درمیان ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے داہنی جانب کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے داہنی جانب مراد ہے یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) گزر رہے تھے یہ پہاڑ ان کی داہنی جانب پڑگیا تھا (اذا الجبل نفسہ لا میمنۃ لا ولا میسرۃ) صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمن یمن سے مشق ہو جو مبارک ہونے کے معنی میں ہے اور اس صورت میں لفظ ایمن جانب کی بھی صفت بن سکتا ہے اور طور کی بھی یعنی موسیٰ کی مبارک جانب سے ہم نے آواز دی یا طور کی جانب سے آواز دی جو مبارک ہو۔
Ayah 19:52پھر فرمایا (وَقَرَّبْنَاہُ نَجْیًّا) (یعنی ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کرنے والا اپنا مقرب بنایا) عربی زبان میں نجی اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ خفیہ طریقہ پر راز دارانہ باتیں کی جائیں چونکہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہم کلامی اس طرح سے ہوئی کہ درمیان میں کوئی واسطہ نہ تھا اس لیے (وَقَرَّبْنَاہُ نَجْیًّا) فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس فضیلت کا ذکر سورة نساء میں یوں فرمایا (وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا) (اور اللہ نے موسیٰ سے خاص طور سے کلام فرمایا)
Ayah 19:53پھر فرمایا (وَوَھَبْنَا لَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاہُ ھَارُوْنَ نَبِیًّا) (اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو عطا کیا) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوا کہ جاؤ فرعون کو تبلیغ کرو تو اس وقت جو انھوں نے دعائیں کی تھیں ان میں سے ایک یہ دعا بھی تھی کہ (وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ھَارُوْنَ اَخِی اشْدُدْ بْہٖٓ اَزْدِیْ ) (اور میرے کنبہ میں سے ایک معاون مقرر کردیجیے یعنی میرے بھائی ہارون کو ان کے ذریعہ میری قوت کو مضبوط فرما دیجیے) یہ سورة طہ میں ہے اور سورة قصص میں یوں ہے (وَاَخِیْ ھَارُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسَلْہُ مَعِیَ رِدْءً ا یُّصَدِّقُنِیْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنَ ) (اور میرے بھائی ہارون کی زبان میں مجھ سے زیادہ روانی ہے سو ان کو آپ میرا مددگار بنا کر بھیج دیجیے تاکہ وہ میری تصدیق کریں مجھے فرعون اور اس کے ساتھیوں سے ڈر ہے کہ میری تکذیب کردیں گے) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور فرمایا (سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بْاَخِیْکَ ) (ہم عنقریب تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعہ مضبوط بنا دیں گے) لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنا دیا اور دونوں کو حکم فرمایا (اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی) (تم دونوں فرعون کی طرف چلے جاؤ بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے) ۔
Ayah 19:54پھر فرمایا (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ اِسْمَاعِیْلَ ) (اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجیے) (اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ) (بلاشبہ وہ وعدہ کے سچے تھے) (وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا) (اور وہ رسول تھے نبی تھے)
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اوصاف عالیہ
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی چند صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ وہ (صَادِقَ الْوَعْدِ ) یعنی وعدہ کے سچے تھے یہ صفت تمام انبیاء (علیہ السلام) میں ہے اور بہت سے مومنین میں بھی ہوتی ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ ان کی اس صفت کا تذکرہ فرمایا کیونکہ انھوں نے بہت بڑی سچائی کا ثبوت دیا تھا جب ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں ذبح کرتا ہوں بولو تم اپنی رائے بتاؤ اس پر انھوں نے کہا (یٰاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصَّابْرِیْنَ ) (کہ اے ابا جان ! جس چیز کا آپ کو حکم ہوا ہے وہ کر گزریئے۔ مجھے آپ انشاء اللہ صابروں میں سے پائیں گے) پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح کرنے کے لیے لٹایا تو بخوشی لیٹ گئے اور ذبح ہونے کے لیے تیار ہوگئے صبر کا جو عدہ کیا تھا پورا کر دکھایا۔
دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبْیًّا) (اور وہ رسول تھے نبی تھے) چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پر کتاب نازل ہونے اور شریعت جدیدہ دیئے جانے کی کہیں کوئی تصریح نہیں ہے اور بظاہر وہ شریعت ابراہیمی کے مبلغ اور داعی تھے اس لیے یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان پر رسول کا اطلاق لغوی معنی کے اعتبار سے ہے اور حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے بیان القرآن میں اس کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ گو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شریعت شریعت ابراہیمی ہی تھی لیکن قوم جرہم کو اس کا علم چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی کے ذریعہ حاصل ہوا اس لیے ان کے لیے لفظ رسول کا اطلاق کیا گیا۔
تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرماتے تھے معلوم ہوا کہ گھر والوں کی تعلیم و تربیت میں نماز اور زکوٰۃ کا خصوصی دھیان رکھنا چاہیے نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔ نفس کو ان دونوں کا پابند کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کا پابند کرایا جائے تو دین کے باقی احکام پر بھی چلنا آسان ہوجاتا ہے۔
چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال واطوار پسند تھے وہ ان بندوں میں سے تھے جن سے اللہ راضی ہوا (واضح رہے کہ کسی ایک شخصیت کے لیے کسی صفت سے متصف کرنے کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ دیگر افراد اس سے متصف نہیں ہیں یا اس میں دیگر صفات نہیں ہیں خوب سمجھ لیا جائے) ۔
Ayah 19:55(وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ) (اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے) (وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا) (اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے) ۔
Ayah 19:56پھر فرمایا (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابْ اِدْرِیْسَ ) (اور کتاب میں ادریس کا ذکر کیجیے) (اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبْیًّا) (بلاشبہ وہ بڑے سچے تھے نبی تھے) (وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا) (اور ہم نے ان کو بلند مرتبہ پر اٹھا دیا) اس میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو صدیق اور نبی بتایا اور یہ بتایا کہ ہم نے انھیں بلند مرتبہ پر اٹھا دیا بلند مرتبہ کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں عام طور سے مشہور ہے کہ انھیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ایک قول یہ ہے کہ آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے بعد وہاں ان کی موت ہوگئی مفسر ابن کثیر ؓ نے صفحہ 126 ج 3 پر حضرت مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ ادریس رفع لم یمت کما رفع عیسیٰ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رفع الی السماء السادسۃ فمات بھا لیکن اس سلسلہ کی جو روایات ہیں اول تو مرفوع نہیں ہیں دوسرے ان کی اسانید ذکر نہیں کی گئیں اور رفع الی السماء کے قصے کعب الاحبار سے منقول ہیں جو سراپا اسرائیلیات میں ہیں۔ اگرچہ روح المعانی صفحہ 106 ج 16 میں بحوالہ ابن منذر حدیث کو مرفوعاً بھی بیان کیا لیکن حدیث کے الفاظ میں رکاکت ہے جو افصح الفصحاء ﷺ کے الفاظ نہیں ہوسکتے دوسرے قصہ اسی طرح نقل کیا ہے جیسے کعب وغیرہ سے منقول ہے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے معروف قصہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیا۔
صاحب روح المعانی نے بھی قال رسول اللہ ﷺ کہنے کی ہمت نہیں کی یرفع الحدیث الی النبی ﷺ کہہ کر گزر گئے اور آخیر میں لکھ دیا واللّٰہ اعلم بصحتہ وکذا بصحۃ ما قبلہ من خبر کعب محققین کا کہنا ہے کہ (وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا) سے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا مرتبہ بلند کرنا مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا فرمائی اور اپنا مقرب بنایا یہ سب علو مرتبہ میں آتا ہے۔
حضرت ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ اور بعض خصوصی احوال
صاحب روح المعانی نے مستدرک حاکم سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) سے ایک ہزار سال پہلے تھے اور ان کا نام اخنوخ بتایا، پھر چار واسطوں سے حضرت شیث بن آدم ( علیہ السلام) تک ان کا نسب بیان کیا ہے پھر لکھا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) سب سے پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے نجوم یعنی ستاروں کا مطالعہ کیا اور حساب جاری کیا اور سب سے پہلے لکھنا شروع کیا اور سب سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہنے، وہ کپڑے سینے کا شغل رکھتے تھے اور ان سے پہلے لوگ کھالوں کے کپڑے پہنتے تھے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تیس صحیفے نازل فرمائے اور انھوں نے سب سے پہلے ناپنے اور تولنے کے پیمانے جاری کیے اور ہتھیار بنائے، معالم التنزیل میں یہ بھی ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے کافروں سے قتال کیا اور یہ بھی لکھا ہے کہ انھیں ادریس اس لیے کہا گیا کہ وہ کثرت سے کتاب اللہ کا درس دیا کرتے تھے، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اکثر علماء کا قول ہے کہ یہ لفظ سریانی ہے عربی نہیں ہے اور درس سے مشتق نہیں ہے کیونکہ یہ کلمہ غیر منصرف ہے (غیر منصرف ہونا اسی وجہ سے ہے کہ اس میں عجمہ اور علم ہے) پھر لکھتے ہیں کہ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ سریانی زبان میں بھی اس لفظ کا معنی اسی معنی کے قریب ہو جو عربی میں بولا جاتا ہے لہٰذا اکثر دروس کی وجہ سے انھیں ادریس کا لقب دے دیا گیا ہو۔
Ayahs 19:57–58حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے باہمی رشتے اور ان کے منتسبین کے دو گروہ
ابتدائے سورت سے یہاں تک متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اب آیت بالا میں فرمایا کہ یہ سب وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان کو نبوت سے سرفراز کیا اور یہ تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور ان میں سے بعض وہ حضرات تھے جو ان لوگوں کی نسل سے تھے جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔
عموماً حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد دنیا میں جو بھی آبادی ہے انھیں کی نسل سے ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) انھیں کی نسل سے ہوئے البتہ ادریس (علیہ السلام) ان سے پہلے تھے ان کے اجداد میں سے تھے اس لیے وہ اس وصف میں شریک نہیں ہیں اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ تھے اور حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) بلاواسطہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ان حضرات کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت دی اور ان کو چن لیا ان کا یہ حال تھا کہ جب ان پر رحمن کی آیات تلاوت کی جاتی تھیں تو روتے ہوئے سجدہ میں گرجاتے تھے۔ ان کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو ان کی طرف منسوب ہوتے تھے جن میں پہلے ان لوگوں کا تذکرہ کیا جو ناخلف تھے پھر مومنین اور متبعین اور صالحین کا تذکرہ فرمایا (فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃ) (ان حضرات کے بعد ایسے ناخلف آگئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا) نماز کو بالکل نہ پڑھنا وقت سے ٹال کر پڑھنا اور بری طرح پڑھنا یہ سب نماز کو ضائع کرنے میں شامل ہے سورة ماعون میں فرمایا (فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ ) (سو خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے غفلت برتتے ہیں) حضرت مصعب بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ ) کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ساھُوْنَ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کا خیال نہ آئے بلکہ آیت میں ساھُوْنَ سے یہ مراد ہے کہ نماز کے وقت کو ضائع کر دے ادھر ادھر کے کاموں میں لگا رہے اور نماز کا دھیان نہ رہے۔ (رواہ ابو یعلی باسناد حسن کما فی الترغیب والترہیب ص 387 ج 1)
Ayah 19:59شہوتوں کا اتباع ہر گناہ پر آمادہ کردیتا ہے
(وَاتَّبَعُوا الشَّھَوَاتِ ) اس میں انسانوں کے اصل روگ کو بیان فرمایا اور وہ ہے خواہشوں کے پیچھے چلنا، نفسانی خواہشوں کا اگر مقابلہ نہ کیا جائے اور انسان ہمت اور جرأت سے کام نہ لے اور جو نفس چاہے وہی کرتا رہے تو یہ بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور بربادی کا سبب بن جاتا ہے، جانی عبادات نماز روزہ اور مالی عبادات زکوٰۃ صدقات کی ادائیگی میں جو غفلت اور کوتاہی ہوتی ہے یا زندگی میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے اس میں اصل یہی خواہشات نفس کا اتباع ہوتا ہے، روح المعانی (ص 109 ج 17) میں ہے : الشھوات عام فی کل مشتھی یشغل عن الصلوۃ وعن ذکر اللہ تعالیٰ انسان نماز نہیں پڑھتا اس لیے کہ نفس آمادہ نہیں۔ نیند چھوڑنا گوارا نہیں زکوٰۃ اس لیے نہیں دیتا کہ نفس مال خرچ کرنے پر تیار نہیں، چوری خیانت ڈکیتی دھوکہ دہی اس لیے کرتا ہے کہ نفس کو مال کی کثرت مرغوب ہے شراب پیتا ہے۔ زنا اور دواعی زنا کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس میں نفس کی لذت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی اصل خرابی خواہش نفس کا اتباع ہے اور یہ نفس کا اتباع گناہوں کی جڑ ہے۔
(فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا) (سو یہ لوگ عنقریب خرابی دیکھیں گے) غی غوا یغوی سے ماخوذ ہے واؤ کا یا میں ادغام ہوگیا اس کا اصل ترجمہ بہکنا اور راہ حق سے بھٹک جانا ہے اسی لیے بعض حضرات نے اس جملہ کا مطلب یہ بتایا ہے کہ یہ لوگ اپنی گمراہی کی سزا پالیں گے اور بعض نے حاصل ترجمہ کیا ہے کہ یہ لوگ خرابی سے ملاقات کریں گے۔ اور صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن جریر اور طبرانی حضرت ابو امامہ ؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ غی جہنم کے نیچے حصے میں ایک نہر ہے جس میں دوزخیوں کی پیپ بہتی ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ غیئی دوزخ میں پیپ کی ایک نہر یا ایک وادی ہے جو خوب گہری ہے اس کا مزہ بہت خبیث ہے اس میں وہ لوگ ڈالے جائیں گے جو خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں۔
Ayah 19:60صالحین کا تذکرہ اور ان سے جنت کا وعدہ
(اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْءًا) (مگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کسی چیز کا ظلم نہیں کیا جائے گا) جو لوگ ناخلف تھے گناہ گاریوں میں لگ گئے حتیٰ کہ حدود کفر میں چلے گئے ان میں سے جس نے توبہ کرلی ایمان قبول کرلیا اور اعمال صالحہ میں لگا رہا اس کے لیے خوشخبری دی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ہر عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ان پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہ ہوگا۔ ان کا کوئی نیک عمل ضائع نہیں کیا جائے گا۔ کوئی شخص نافرمانی میں کتنی ہی دور چلا جائے جب بھی توبہ کرے اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔
Ayah 19:61اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ
(جَنَّاتُ عَدْنِنِ الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بْالْغَیْبْ ) یعنی ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل ہوں گے جس کا رحمن نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا اور یہ وعدہ بالغیب ہے یہ حضرات جنت کے وعدہ پر بغیر دیکھے ایمان لائے دنیا میں جنت کو دیکھا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ جو خبر دی ہے اور جو وعدہ فرمایا ہے اس کی تصدیق کی ہے اس پر پورا پورا یقین کیا۔
(اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا) ۔
Ayah 19:62(لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْواً اِلَّا سَلَامًا) (جنت میں سلام ہی کی آوازیں سنیں گے کوئی لغو اور فضول اور بےفائدہ بات نہیں سنیں گے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلام آئے گا (وَسَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ ) اور آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ (تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلاَمٌ) اور فرشتے جب ان کے پاس آئیں گے تو وہ بھی سلام کریں گے۔ (سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارْ ) (تم اس وجہ سے باسلامت رہو گے کہ تم نے صبر کیا سو اس جہاں میں تمہارا اچھا انجام ہوا) (وَلَھُمْ رْزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا) (اور انھیں اس میں صبح شام رزق ملے گا) ۔
حافظ ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر (ص 129 ج 3) میں حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ صبح شام سے رات اور دن کی مقدار مراد ہے وہاں رات اور دن نہ ہوگا البتہ ان کی مقدار میں پردے ڈال دینے اور پردوں کے اٹھا دینے سے رات دن کے اوقات پہچان لیں گے اور حضرت مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ وہاں صبح شام تو نہ ہوگی لیکن جس طرح دنیا میں ان کے کھانے پینے کے اوقات تھے اور ان کے مطابق صبح و شام کھانا کھاتے تھے انھیں اوقات کے اندازہ کے موافق انھیں رزق پیش کیا جائے گا۔ (اور یوں ہر وقت جو چاہیں گے اور طلب کریں گے ان کی خواہش پوری کی جائے گی)
Ayah 19:63(تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرْثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا) (یہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو متقی تھا) جنت کی بعض نعمتیں بیان فرمانے کے بعد جنت کے مستحقین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جنت اہل تقویٰ کو ملے گی اہل تقویٰ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں سب سے بڑا تقویٰ تو شرک اور کفر سے بچنا ہے کوئی کافر مشرک جنت میں داخل نہ ہوگا اہل ایمان ہی جنت میں جائیں گے پھر چونکہ اہل ایمان میں درجات کا تفاوت ہے۔ تقویٰ کے اعتبار سے بھی فرق مراتب ہے اس لیے وہاں بھی تقویٰ اور اعمال صالحہ کے اعتبار سے فرق مراتب ہوگا۔
Ayah 19:64حضرت رسول کریم ﷺ کے سوال فرمانے پر جبرائیل (علیہ السلام) کا جواب کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں
سبب نزول کے بارے میں امام بخاری (رح) (ص 691 ج 2) نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا تمہیں اس سے کیا مانع ہے کہ ہمارے پاس جتنی مرتبہ آتے ہو اس سے زیادہ آیا کرو۔ اس پر آیت شریفہ (وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ) نازل ہوئی جس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا جواب ذکر فرمایا انھوں نے جواب میں کہا کہ ہم خود نہیں آتے جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے ہم اسی وقت آتے ہیں اور صاحب روح المعانی (ص 113 ج 12) میں کہتے ہیں کہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے قصہ اور روح کے بارے میں جو مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تھا اور آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ کل کو بتادوں گا پھر چند دن تک وحی نہیں آئی تو آپ کو بہت زیادہ رنج ہوا اور مشرکین بھی طعن کرنے لگے پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چند دن کے بعد تشریف لائے تو آپ نے فرمایا اے جبریل ! تم نے آنا بند کردیا اور میں تمہاری ملاقات کا مشتاق رہا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ مجھے بھی آپ کی ملاقات کا شوق تھا لیکن میں مامور بہ بندہ ہوں جب بھیجا جاتا ہوں نازل ہوجاتا ہوں اور جب روک دیا جاتا ہوں تو رک جاتا ہوں اس پر آیت بالا اور سورة والضحیٰ نازل ہوئی اور جبرائیل (علیہ السلام) کا جواب نقل فرمایا۔
ما بین ایدینا و ما خلفنا کا مطلب کیا ہے ؟
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ بات بتا کر کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے نازل ہوتے ہیں مزید یوں کہا (لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا) (اسی کے لیے ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے) یہ (لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا) کا لفظی ترجمہ ہے اس کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ما بین ایدینا سے آنے والے زمانہ اور (وَ مَا خَلْفَنَا) سے گزشتہ زمانہ مراد ہے (مَا بَیْنَ ذٰلِک) سے زمانہ حال مراد ہے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سارا زمانہ اور جو کچھ زمانہ میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے ہم جس وقت آتے ہیں اسی کے حکم سے اور جس وقت ہماری آمد رکی رہتی ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہمیں نازل ہونے کا حکم نہیں ہوتا، حضرت ابو العالیہ تابعی نے فرمایا کہ (مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا) سے پوری دنیا مراد ہے جو پہلی بار صور پھونکنے تک ہے اور (وَمَا خَلْفَنَا) سے آخرت مراد ہے اور (وما بین ذلک) سے نفخہ اولیٰ (پہلی بار صور پھونکنا اور نفخہ ثانیہ (دوسری بار صور پھونکا جانا) اور ان کا درمیانی وقفہ مراد ہے جو چالیس سال کا ہوگا اور ایک قول یہ ہے کہ (مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا) سے زمین اور (مَا خَلَقْنَا) سے آسمان مراد ہے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے زمان اور مکان مراد لیے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمان اور ہر مکان کا مالک ہے اسی کے حکم سے کسی جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا ہوتا ہے اور اسی کے حکم سے ہر زمانہ میں نزول اور عروج و دخول اور خروج اور منتقل ہونا اور آنا جانا ہوتا ہے۔ والمراد انہ تعالیٰ المالک لکل ذالک فلا ننتقل من مکان الی مکان ولا تنزل فی زمان دون زمان الا باذن عزوجل۔ (روح ص 114 ج 16)
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 202 میں لکھتے ہیں کہ یہاں علم مقدر ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
(وَ مَاکَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا) (اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے) اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور سارا ملک اسی کا ہے اس پر غفلت اور نسیان طاری نہیں ہوسکتا وہ آپ کی طرف سے اور آپ کی طرف وحی بھیجنے سے غافل نہیں ہے۔ وحی بھیجنے میں جو تاخیر فرمائی وہ حکمت کی وجہ سے تھی اس حکمت کو وہ جانتا ہے،
Ayah 19:65مزید فرمایا (رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا) (وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے) وہ اپنی مخلوق کے احوال کو پوری طرح جانتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق تصرف فرماتا ہے۔
(فَاعْبُدْہُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖ ) جب وہ آسمان کا اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرنا لازم ہے اسی کی عبادت کیجیے اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہیے اس بارے میں جو مشقتیں آئیں انھیں برداشت کیجیے وحی جو دیر میں آئی اس سے رنجیدہ نہ ہوجایئے اور کافروں کی باتوں کا خیال نہ کیجیے قال صاحب الروح ص 115 ج 16 فاقبل علی عبادتہ واصطبر علی مشاقھا ولا تحزن بابطاء الوحی و کلام الکفرۃ سبحانہ یراقبک ویراعیک ویلطف بک فی الدنیا والاخرۃ۔
(ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا) (کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں) لفظ سمی (بتشدید الیاء) کا مشہور ترجمہ وہی ہے جو ہم نے اوپر لکھا ہے یعنی ہم نام۔ اللہ تعالیٰ کا ہم نام کوئی نہیں۔ اہل ایمان تو اللہ کے ہم نام کسی کا نام رکھ ہی نہیں سکتے۔ مشرکین کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے کسی معبود باطل کو اسم جلیل یعنی لفظ اللہ کے ساتھ موسوم کرنے کی ہمت کرتے اور بعض مفسرین نے سمی کو بمعنی مسامی لیا ہے ان حضرات کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل اور برابر کوئی نہیں ہے یہ معنی بھی درست ہے۔
Ayah 19:66انسانوں کا قیامت کے دن زندہ ہونے سے انکار کرنا اور منکرین کا شیطان کے ساتھ حشر ہونا
اللہ جل شانہ کی توحید اور اس کا قدرت و اختیار والا اور وحدہ لا شریک ہونا بیان فرمانے کے بعد معاد یعنی قیامت کا دن واقع ہونے اور میدان آخرت میں لوگوں کے جمع ہونے کا تذکرہ فرمایا، اول تو انسان کی اس جاہلانہ اور معاندانہ بات کا تذکرہ فرمایا کہ میں جب مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ ہو کر اٹھوں گا ؟ انسان کا یہ کہنا بطور تعجب اور انکار کے ہے، یہ لوگ قیامت کو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ یہ مر کر جی اٹھنا سمجھ میں نہیں آتا مر کھپ گئے ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اب کیسے جئیں گے اور کیسے اٹھیں گے، قرآن مجید میں منکروں یہ بات کئی جگہ ذکر فرمائی ہے ان کے جواب میں فرمایا کہ انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ میں پہلی بار وجود میں کیسے آیا جبکہ انسان نہ موجود تھا نہ اس کا ذکر تھا جس ذات پاک نے اسے پہلی بار پیدا فرما دیا اسے یہ قدرت ہے کہ پھر سے زندہ فرما دے انسان مٹی سے پیدا ہوا اس کی نسل چلی اور یہ نسل مرد اور عورت کے ملاپ سے چلتی ہے اور بےجان نطفہ میں اللہ تعالیٰ جان ڈال دیتا ہے پھر یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ موت دے کر دوبارہ پیدا فرما دے اور ہڈیوں میں جان ڈال دے اور ان پر گوشت اور پوست چڑھا دے سورة یٰسین میں فرمایا (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ قُلْ یُحْیْیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (اور انسان ہمارے لیے مثالیں دینے لگا اس نے کہا کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ ریزہ ریزہ ہوچکی ہوں گی آپ فرما دیجیے کہ انھیں وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا فرمایا) ۔
Ayahs 19:67–68انسان کا انکار معاد پھر اس کی تردید فرمانے کے بعد منکرین کا قیامت کے دن حاضر ہونا اور بدحال ہونا اور دوزخ میں داخل کیا جانا بیان فرمایا (فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّھُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ) (سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان لوگوں کو اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے) منکرین کافرین قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور شیاطین بھی حاضر ہوں گے شیاطین کا دنیا میں یہ کام تھا کہ انسان کو بہکاتے اور ورغلاتے تھے اور انھیں کفر اور شرک پر ڈالتے تھے اور یہ شیاطین خود بھی کافر تھے میدان قیامت میں یہ گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے سب جمع کیے جائیں گے، مفسرین نے فرمایا کہ یہ بہکانے والے اور بہکاؤ میں آنے والے باہم ملا کر زنجیروں میں باندھے ہوئے حاضر ہوں گے، دنیا میں ساتھ تھے حشر کے دن بھی ساتھ ہوں گے، وہاں کا ساتھ ہونا زیادہ مضبوط ہوگا یہاں تو پاس اٹھنے بیٹھنے ہی میں ساتھ تھے اور وہاں بندش اور جکڑ بندی کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔
(ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّھُمْ حَوْلَ جَھَنَّمَ جِثِیًّا) (پھر ہم ان کو دوزخ کے قریب اس حال میں جمع کردیں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے) کافرین اور شیاطین (جو خود بھی کافر ہیں اور انسان کو کفر پر ڈالتے رہتے ہیں) قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے پھر دوزخ کے آس پاس حاضر کردیے جائیں گے اور حاضر ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 19:69ان کی یہ حاضری مذکورہ حالت میں ذلیل کرنے کے لیے ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں اہل باطل تھے کفر پر جمے رہتے تھے اور کفر پر جمنے اور جمانے کے لیے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے ان میں چھوٹے بھی تھے اور بڑے بھی علم بردار بھی تھے اور ان کے فرمانبردار بھی، جب یہ سب حاضر ہوں گے تو ان میں سے جو شدید ترین سرکش ہوں گے جو رحمن جل مجدہ کی نافرمانی پر مضبوطی سے جمے رہے اور دوسروں کو بھی نافرمانی پر لگاتے رہے انھیں علیحدہ کرلیا جائے گا اس کو (ثُمَّ لَنَنْزِ عَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا) میں بیان فرمایا۔
(صاحب روح المعانی ص 119 ج 16) اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہم اصحاب کفر کی جماعتوں میں سے سب سے زیادہ نافرمان انسانوں کو علیحدہ کردیں گے، ان کے بعد انھیں علیحدہ کریں گے، جو نافرمانی اور سرکشی میں ان کے بعد ہوں گے یہاں تک کہ نافرمانیوں کے اعتبار سے ترتیب وار الگ الگ ان کے بڑوں کو علیحدہ علیحدہ کرتے رہیں گے پھر انھیں دوزخ میں ڈال دیں گے جو شخص جس درجے کا نافرمان ہوگا اسی درجے کا عذاب پائے گا اور ہر ایک کا عذاب نافرمانی کے بقدر ہوگا جو لوگ کفر کے سرغنے تھے ایمان سے روکا کرتے تھے انھیں عام کافروں کے اعتبار سے زیادہ عذاب ہوگا سورة نحل میں فرمایا (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا ہم ان کا عذاب، عذاب پر بڑھا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ فساد کرتے تھے)
Ayah 19:70(ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا صِلِیًّا) (پھر ہم ہی ان لوگوں کو خوب جاننے والے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں) نافرمانی اور سرکشی کے اعتبار سے جب جدا کرلیے جائیں گے تو پھر ان میں سے اسی ترتیب کے مطابق دوزخ میں داخل ہونے کا کون زیادہ مستحق ہے اس کو ہم خوب جانتے ہیں جس درجہ کا کوئی کافر ہوگا اسی درجہ کے اعتبار سے داخلہ کی ترتیب میں بھی مقدم ہوگا اس پر عذاب کی سختی بھی اسی اعتبار سے ہوگی۔ قال صاحب الروح فکانہ قیل ثم لنحن اعلم بتصلیۃ ھولاء وھم اولی بالصلی من بین سائر الصالین ودرکاتھم اسفل وعذابھم اشد۔
Ayah 19:71تمام بنی آدم دوزخ پر وارد ہوں گے، اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات کی نعمت سے نوازے گا
ان دونوں آیتوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ بنی آدم میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کا دوزخ پر ورود نہ ہو عبور تو سبھی کا ہوگا لیکن متقی اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں گھٹنوں کے بل گرجائیں گے اور پھر اسی میں رہیں گے۔
وارد سے کیا مراد ہے اس کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ تمام مومن اور کافر اور نیک و بد پل صراط سے گزریں گے جو دوزخ پر قائم ہوگی اللہ سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق صحیح سلامت اس پر سے گزر جائیں گے۔
اور بد عمل چل نہ سکیں گے اور دوزخ کے اندر سے بھی بڑی بڑی سنڈاسیاں نکلی ہوئی ہوں گی جو گزرنے والوں کو پکڑ کر دوزخ میں گرانے والی ہوں گی ان سے چھل چھلا کر گزرتے ہوئے بہت سے (بد عمل) مسلمان پار ہوجائیں گے اور جن کو دوزخ میں گرانا ہی منظور ہوگا وہ سنڈاسیاں ان لوگوں کو گرا کر چھوڑیں گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اپنے عمل کے موافق نیز انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے اور آخر میں براہ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب لوگ دوزخ سے نکال لیے جائیں گے جنھوں نے سچے دل سے کلمہ پڑھا تھا اور دوزخ میں صرف کافر مشرک اور منافق ہی رہ جائیں گے۔ (الترغیب والترہیب، حافظ منذری، ص 407 تا ص 413)
اور بعض حضرات سے یوں مروی ہے کہ ورود سے دخول مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دوزخ میں داخل تو سبھی ہوں گے لیکن اہل ایمان کے لیے وہ ٹھنڈی ہوجائے گی جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا کردیا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے مرفوعاً یہ مضمون نقل کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یوں ہی منقول ہے کہ وہ ورود سے دخول مراد لیتے تھے۔ (ابن کثیر ص 131۔ 133) عبور پل صراط کا انکار تو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ صحیح احادیث سے ثابت ہے صحیحین وغیرہ میں روایات موجود ہیں حضرت ابن عباس ؓ کے قول (ورود بمعنی دخول) کو اور عبور پل صراط والی روایات کو مانتے ہوئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ جو اہل ایمان پل صراط سے گزریں گے وہ پار ہونے کے بعد دوزخ میں داخل ہوں گے جو ان کے لیے ٹھنڈی کردی جائے گی اور سلامتی کے ساتھ باہر آکر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 19:72–73کافروں کا سوال کہ دونوں میں مقام اور مجلس کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور ان کے سوال کا جواب
رسول اللہ ﷺ پر جب آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو اپنے معانی کے اعتبار سے واضح ہیں اور جن کے معانی ظاہر ہیں تو انھیں سن کر ایمان لانے کے بجائے معاندین مزید سرکشی پر تل جاتے تھے اور جنھوں نے ایمان قبول کیا ان سے کہتے تھے کہ دیکھو ایک فریق ہمارا ہے اور ایک فریق تمہارا ہے اب بتاؤ کہ دونوں میں سے کون سا فریق مقام اور مرتبہ کے اعتبار سے اور مجلس کے اعتبار سے بہتر اور اچھا ہے ؟ ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ دنیا میں اچھے حال میں ہیں اچھا کھاتے پیتے اور اچھا پہنتے ہیں ہماری مجلسیں بھی اچھی ہیں بن سنور کر خوشبو لگا کر عمدہ کپڑے پہن کر مجلسوں میں جمع ہوتے ہیں اور تم لوگ ایسے ہو کہ نہ کھانے کو اور نہ پہننے کو، ان حالات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور اللہ کے مقبول بندے ہیں۔ اب تم ہی بتاؤ کہ دونوں جماعتوں میں سے کون سی جماعت بہتر ہے۔ ان کا کلام بظاہر ایک طرح کا سوال تھا لیکن حقیقت میں ان کا مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان چونکہ دنیاوی اعتبار سے کمزور حالت میں ہیں اس لیے ان کے مقابلہ میں ہم اللہ کے نزدیک بہتر ہیں۔ یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ دنیا میں اچھے حال میں ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ جو شخص صاحب مال و متاع ہو وہ اللہ کے نزدیک حق پر ہو اور اللہ کا مقبول بندہ ہو ان کے خیال کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ھُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْ یًا) (اور ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتیں ہلاک کردی جو سازو سامان اور نظروں میں بھانے کے اعتبار سے اچھے تھے) مطلب یہ ہے کہ تم نے ظاہری زینت اور سازسامان کی ظاہری خوبی اور بہتری کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونے کی دلیل بنا لیا تمہارا یہ خیال غلط ہے اس سے پہلے بہت سی امتیں اور جماعتیں گزر چکی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کی سرکشی کی وجہ سے ہلاک فرما دیا دنیاوی نعمتیں اگر اللہ کے ہاں مقبول اور معزز ہونے کی دلیل ہوتیں تو وہ لوگ کیوں ہلاک کیے جاتے اور ان کے برعکس اہل ایمان کیوں نجات پاتے، عاد اور ثمود اور دوسری امتیں جو گزری ہیں ان کے احوال تم سے سنے ان کے کھنڈرات پر گزرتے ہو ان کے تباہی کے واقعات جانتے ہو پھر بھی الٹی دلیلیں دیتے ہو اور غلط باتیں کرتے ہو۔ سورة سبا میں فرمایا (وَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَیْنٰھُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) (اور ان سے پہلے جو لوگ تھے انھوں نے تکذیب کی تھی اور یہ تو اس سامان کے اعتبار سے جو ہم نے ان کو دے رکھا تھا دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے انھوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی سو میرا کیسا عذاب ہوا) ۔
Ayahs 19:74–75کافروں کو ڈھیل دی جاتی ہے بعد میں وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے
مال و اسباب پر فخر کرنے والوں کو اول تو یہ جواب دیا کہ ان سے پہلے کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور زیب وزینت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں انھیں ہلاک کردیا گیا پھر ارشاد فرمایا (قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) اس میں یہ بتایا کہ گمراہی پر ہوتے ہوئے سازو سامان نعمت نہیں ہے بلکہ یہ استدراج یعنی ڈھیل ہے اس ڈھیل کی وجہ سے اور زیادہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب دنیوی کو یا موت کے وقت کی تکلیف کو تو اس وقت انھیں پتہ چل جائے گا کہ مومنین اور کافرین میں سے کون بدترین مرتبہ کو پہنچا اور جماعت کے اعتبار سے کون زیادہ کمزور نکلا۔ لفظ شرمکانا خیر مقانا کے جواب اور اَضْعَفُ جُنْدًا، اَحْسَنُ نَدِیًّا کے جواب میں فرمایا کہ لشکر کے اعتبار سے کمزور تر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی مصیبت کے وقت کوئی بھی مددگار نہ ہوگا اور دنیا میں جتنے اہل مجلس تھے کوئی بھی کچھ نہ مدد کرے گا نہ کرسکے گا پھر فرمایا (وَ یَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًی) اس میں ہدایت والوں کی فضیلت بیان فرمائی اہل کفر کفر پر جمے ہوئے ہونے کی وجہ سے عذاب آنے تک ڈھیل میں ہیں اور ہدایت پانے والے یعنی اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے انعام کے مستحق ہیں، انعام تو بہت ہیں ان میں سے ایک انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دے گا اور ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے گا اور چونکہ ایمان اچھے اعمال پر ابھارتا ہے اور اہل ایمان کے اعمال صالحہ مقبول ہیں اس لیے آیت کے ختم پر یوں فرمایا (وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌمَّرَدًّا) یعنی اعمال صالحہ جو باقی رہنے والے ہیں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی، کیونکہ ان کا انجام ہمیشہ کی خوشی اور ہمیشہ کی نعمتیں ہیں اور جو دار النعیم یعنی جنت میں ملیں گی۔
Ayahs 19:76–77بعض منکرین کے اس دعوے کی تردید کہ مجھے قیامت کے دن بھی اموال دیے جائیں گے
پہلی آیت کا سبب نزول حضرت خباب بن ارت ؓ سے یوں مروی ہے کہ میں ایک سنار تھا اور عاص بن وائل مشرک پر میرا قرضہ تھا۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آیا اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک تیرا قرضہ ادا نہیں کروں گا جب تک کہ تو محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہ کر دے، میں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم میں کبھی بھی محمد ﷺ کے ماننے سے منکر نہ ہوں گا یہاں تک کہ تو مرجائے پھر دوبارہ اٹھایا جائے اس پر عاص بن وائل نے کہا کہ کیا میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا میں نے کہا ہاں تو ضرور اٹھایا جائے گا اس پر وہ کہنے لگا کہ اگر میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا تو میں وہیں تیرے قرضہ کی ادائیگی کر دوں گا کیونکہ مجھے وہاں بھی مال ملے گا اور مجھے وہاں بھی اولاد دے دی جائے گی اس پر آیت شریفہ (اَفَرَءَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا) (الایہ) نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری ص 691۔ 692 ج 2)
Ayah 19:78صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ چند صحابہ کا عاص بن وائل پر قرضہ تھا اور وہ اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آئے تو اس نے کہا کہ آپ لوگ یوں کہتے ہیں کہ جنت میں سونا ہے چاندی ہے اور ریشم ہے اور ہر طرح کے پھل ہیں صحابہ کرام ؓ نے جواب کہا کہ ہاں ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں، کہنے لگا بس تو میں تمہارے قرضے آخرت میں ہی چکاؤں گا اللہ کی قسم ! مجھے مال بھی دیا جائے گا اور اولاد بھی اور جو کتاب تمہیں دی گئی ہے مجھے بھی مل جائے گی اس پر آیت بالا نازل ہوئی، بات یہ ہے کہ ایسی باتیں وہی شخص کیا کرتا ہے جو ایمان کا مذاق بناتا ہے اور جو اپنے بارے میں یہ خیال کرتا ہے میں اللہ کا مقبول بندہ ہوں چونکہ اس نے مجھے یہاں مال اولاد سے نوازا ہے اس لیے اگر قیامت آ ہی گئی اور وہاں حاضری ہوئی تو مجھے وہاں بھی ایسا ہی ملے گا جیسے یہاں ملا ہوا ہے، اس نے یہ سب باتیں غریبوں کی تحقیر اور وقوع قیامت کی تکذیب اور نادہندگی کے بہانہ کے طور پر کہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کی تردید فرمائی جس میں عاص بن وائل اور اس جیسی باتیں کرنے والوں کی بےہودگیوں کا جواب ہوگیا، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا (اَطَّلَعَ الْغَیْبَ ) یعنی اس نے یہ دعویٰ کیسے کیا کہ قیامت کے دن اسے مال اور اولاد سے نوازا جائے گا کیا اسے غیب کی خبر ہے ؟ اپنی طرف سے خود ہی باتیں بناتا ہے اور غیب کی خبریں دیتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا ایسا ہوگا اور خبر بھی اس چیز کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو، مطلب یہ ہے کہ اس کا جو یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسے ایسے دے گا بلا دلیل بلا علم اور بلا اطلاع ہے سب کچھ اس نے اپنے پاس سے بنا لیا۔
(اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا) (کیا اس نے رحمن سے کچھ عہد لے لیا ہے) کہ اسے یہ چیزیں دی جائیں گی اس کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی عہد نہیں ہے، وہ اپنے پاس سے باتیں بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ اپنی طرف سے یہ بات لگاتا ہے کہ مجھے وہاں بھی مال عطا فرمائے گا۔
کلا یہ کلمہ زجر اور توبیخ کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ اس نے خیال کیا ہے اس نے جو کچھ اپنے بارے میں سوچا اور کہا یہ سب غلط ہے اور گمراہی ہے اور اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کو نعمتیں ملیں گی اور کافرین ان سے محروم رہیں گے آتش دوزخ میں جلیں گے۔
Ayah 19:79(سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ ) (وہ جو باتیں کہتا ہے ہم انھیں عنقریب لکھ لیں گے) (وَ نَمُدُّلَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا) (یعنی ہم اس کے لیے عذاب میں اضافہ کریں گے) کفر پر تو عذاب ہوتا ہی ہے اس کے لیے عذاب پر مزید عذاب ہے کیونکہ اس نے اللہ پر جرأت کی اور یوں کہا مجھے وہاں بھی مال اور اولاد دیے جائیں گے، اس نے استہزاء کے انداز میں ایمان کا انکار کیا اور اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کی (وَّ وَرِثُہٗ مَا یَقُوْلُ ) (اور جو کچھ وہ کہہ رہا ہے ہم اس کے وارث ہوں گے) یعنی دنیا میں ہم نے جو کچھ اسے دیا ہے مال ہو یا اولاد یہ ہماری ملکیت ہے اور جب وہ مرجائے گا تو اس کی مجازی ملکیت بھی ختم ہوجائے گی جن چیزوں کو اپنی کہتا ہے وہ سب یہیں رہ جائیں گی (وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا) (اور وہ ہمارے پاس تن تنہا آئے گا) اس کے پاس وہاں نہ کوئی مال ہوگا نہ اولاد ہوگی جب یہ دنیا والا مال اور اولاد بھی ساتھ نہ ہوگا تو وہاں مزید مال ملنے کا دعویٰ کیسے کرتا ہے۔