Ayahs 12:94–99پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ اور گیارہ بیٹے اور ان کی ازواج واولاد نے رخت سفر باندھا اور مصر کے لئے روانہ ہوگئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے پہنچنے کی خبر ملی تو شہر سے باہر آکر ایک خیمہ میں (جو پہلے سے لگایا ہوا تھا) ان کا استقبال کیا اور اپنے والدین کو اپنے نزدیک جگہ دی اور پھر شہر میں داخل ہونے کے لیے فرمایا کہ (اُدْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاء اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ ) کہ مصر میں اندر چلئے انشاء اللہ تعالیٰ امن وچین سے رہئے ‘ جب شہر میں اندر پہنچ گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سب کے اکرام اور احترام سے ٹھہرانے کا انتظام فرمایا اور جس تخت شاہی پر خود جلوہ افروز ہوتے تھے اس پر اپنے والدین کو بٹھایا اور جس سے ان کی رفعت شان کو ظاہر کرنا مقصود تھا اس وقت والدین اور گیارہ بھائی سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرگئے یہ سجدہ بطور تعظیم کے تھا جو سابقہ امتوں میں مشروع تھا۔ شریعت محمد یہ علی صاحبھا الصلاۃ والتحیہ میں غیر اللہ کے لیے سجدہ کرنا حرام کردیا گیا ہے سجدہ عبادت ہو یا سجدہ تعظیمی ہماری شریعت میں غیر اللہ کے لیے حرام ہے ‘ اس کی کچھ تفصیل سورة بقرہ رکوع نمبر 4 میں گزر چکی ہے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ چاند سورج اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کئے ہوئے ہیں ان کے اس خواب کی تعبیر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسی وقت سمجھ لی تھی کہ اگر یہ خواب یوسف کے بھائیوں نے سن لیا تو اندیشہ ہے کہ وہ گیارہ ستاروں کا مصداق اپنے ہی کو سمجھ لیں گے اس لئے کچھ ایسی تدبیر کریں گے کہ یوسف کی ہلاکت ہوجائے یا وہاں سے دور ہوجائے بھائیوں کے کان میں ان کے خواب کی بھنک پڑی تھی یا یونہی دشمنی پر اتر آئے تھے بہر حال وہ تو یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈال کر اور پھر چند درہم کے عوض فروخت کر کے اپنے خیال میں فارغ ہوچکے تھے اور یہ سمجھ لیا تھا کہ اب یوسف کو نہ گھر واپس آنا ہے نہ اسے کوئی برتری اور بلندی حاصل ہونی ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو آخر وہ دن آگیا کہ یہ لوگ ان کے سامنے شرمندہ بھی ہوئے اور ان کو تعظیمی سجدہ بھی کیا سجدہ کرنے والوں میں گیارہ ستارے تو بھائی ہوئے اور چاند اور سورج والدین ہوئے جب یہ منظر سامنے آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین سے عرض کیا کہ اے ابا جان یہ میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی ‘ میں نے جو خواب دیکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی تعبیر سچی فرما دی قرآن مجید میں (وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا ہے ‘ معنی حقیقی کے اعتبار سے عربی زبان میں ابوین ماں باپ کے لئے بولا جاتا ہے ان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) تو حقیقی طور پر والد کا مصداق تھے لیکن ان کے ساتھ جس خاتون کو تخت شاہی پر بٹھایا اور سب سجدہ ریز ہوئے ان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حقیقی والدہ تھیں یا بطور مجاز خالہ کو والدہ فرمایا ہے جن سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بعد میں نکاح فرما لیا تھا تفسیر کی کتابوں میں دونوں باتیں لکھی ہیں حضرت حسن اور مورخ ابن اسحاق سے صاحب روح المعانی نے نقل کیا ہے کہ اس وقت تک ان کی حقیقی والدہ زندہ تھیں اگر ایسا ہو تو مجاز کی طرف جانے اور والدہ سے خالہ مراد لینے کی ضرورت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ اس نے مجھے جیل سے نکالا چونکہ جیل سے نکلنے کے بعد ہی بلند مرتبہ پر پہنچے تھے اس لئے مصر میں جن نعمتوں سے سر فراز ہوئے ان میں ابتدائی نعمت کا تذکرہ فرما دیا اور چونکہ حصول اقتدار ہی سارے خاندان کو مصر بلانے کا ذریعہ بنا اس لئے ساتھ ہی دوسری نعمت کا تذکرہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو دیہاتیوں والی آبادی سے لے آیا اور یہاں میرے پاس لا کر بسا دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا۔ (مِنْ م بَعْدِ اَنْ نَّزَعَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ ) کہ یہ سب کچھ اس کے بعد ہوا جبکہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان بگاڑ کی صورت بنا دی تھی ‘ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کنویں سے نکالنے کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ جیل سے نکالے جانے کا تذکرہ فرمایا اور مزید یہ کیا کہ بھائیوں نے جو کچھ کیا تھا اسے شیطان کی طرف منسوب کردیا ان دونوں باتوں میں حکمت یہ تھی کہ بھائی مزید شرمندہ نہ ہوں۔ جب معاف کردیا اور ہر بات بھول بھلیاں کردی تو اب اس کا تذکرہ کر کے دل دکھانا مناسب نہ جانا کر یموں کی یہی شان ہوتی ہے۔
Ayah 12:100(اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ ) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی لطیف تدبیر کردیتا ہے۔ (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے نکالنے کے لیے دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر کو تدبیر بنا دیا) (اِنَّہٗ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ) (بلاشبہ میرا رب جاننے والا ہے حکمت والا ہے) وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو جانتا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ‘ اس کے بعد غیبت سے خطاب کی طرف التفات فرمایا (کما فی سورة الفاتحۃ) اور بارگاہ خدا وندی میں یوں عرض کیا (رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ) (اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا ہے) اس میں اللہ کے دو انعامات کا تذکرہ فرمایا ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ملک عطا فرمایا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس میں من تبعیض کے لئے ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کا بڑا حصہ عطا فرمایا چونکہ اس جگہ بڑی نعمتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس لئے بڑا ملک مراد لینا مناسب ہے ای بعضا عظیما منہ اور بعض حضرات نے یوں فرمایا کہ لفظ من اس لئے زیادہ فرمایا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اقتدار تو حاصل تھا لیکن شاہی اقتدار دوسرے ہی شخص کا تھا جس نے اقتدار سپرد کیا تھا ‘ دوسری نعمت جس کا تذکرہ فرمایا وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم نصیب فرمایا ‘ خوابوں کی تعبیر کا علم بہت بڑا علم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اسی تعبیر دانی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل سے نکلے اور مصر میں انہیں اقتدار حاصل ہوا۔
خواب کے بارے میں ضروری معلومات :
خواب میں جو کچھ دیکھا جائے اس کے اشاروں کو سمجھ کر جو تعبیر دی جائے اس تعبیر کا صحیح ہونا ضروری نہیں لیکن جن کو اللہ تعالیٰ خوابوں کے اشاروں کی سمجھ اور بصیرت نصیب فرماتا ہے وہ ان کو عموماً سمجھ لیتے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مبشرات کے علاوہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات (بشارت دینے والی چیزیں) کیا ہیں آپ نے فرمایا اچھے خواب ہیں جنہیں کوئی مسلمان خود دیکھ لے یا اس کے لیے دیکھ لئے جائیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 394 صحیح بخاری وموطا امام مالک)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ (بخاری ص 1030 ج 2)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت بنا کر نہیں آسکتا۔ (صحیح بخاری ص 1036 ج 2)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب آخری زمانہ ہوگا تو مومن کا خواب جھوٹا ہونے کے قریب ہی نہ ہوگا اور سب سے سچا اس شخص کا خواب ہوگا جو اپنی بات میں سب سے زیادہ سچا ہوگا پھر فرمایا کہ خواب کی تین قسمیں ہیں ایک تو وہ ہے جس میں اللہ کی طرف سے بشارت ہے اور دوسرا وہ ہے جو انسان کے اپنے خیالات ہوتے ہیں اپنے نفس سے جو باتیں کرتا ہے وہ خواب میں نظر آجاتی ہیں اور تیسرا خواب وہ ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ رنجیدہ کرنے کے لیے خواب میں آتا ہے (پھر فرمایا) سو تم میں سے جو کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو ناگوار ہو تو کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ (رواہ الترمذی فی ابواب الرؤیا) ۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو ناگوار ہو تو بائیں طرف کو تین بار تھتکارے اور تین بار اللہ کی پناہ مانگے ‘ شیطان سے (یعنی (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ ) پڑھے اور جس کروٹ پر لیٹا ہوا ہے اسے بدل دے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح 394) ۔
حضرب ابو زرین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا خواب نبوت کے چھالیس (46) حصوں میں سے ایک حصہ ہے اور وہ پرندہ کی ٹانگ پر ہے جب تک خواب بیان کرنے والا بیان نہ کر دے سو جب وہ (کسی کے سامنے) بیان کر دے گا اور اس کی تعبیر دے دی جائے گی تو تعبیر کے مطابق ظاہر ہوجائے گا اور اپنا خواب صرف ایسے شخص سے بیان کرو جو تم سے محبت رکھنے والا ہے (جو نا مناسب تعبیر نہ دے) یا عقلمند آدمی سے بیان کرو جو اچھی تعبیر دے یا کم از کم یہی کرے کہ بری تعبیر سمجھ میں آئے تو خاموش رہ جائے۔ (رواہ الترمذی)
یہ جو فرمایا کہ خواب پرندہ کی ٹانگ پر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے قرار نہیں ہے جیسی تعبیر دی جائے گی اس کے مطابق ہوجائے گا لہٰذا ایسے شخص سے ذکر نہ کرے جو محبت اور تعلق نہ رکھتا ہو اور ایسے دوست سے بھی بیان نہ کرے جو عقلمند نہ ہو۔
بعض خوابوں کی تعبیریں :
رسول اللہ ﷺ حضرات صحابہ کرام ؓ سے خواب سنتے تھے اور ان کی تعبیر دیا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں حضرت خدیجہ ؓ نے دریافت کیا (جو ان کے چچا زاد بھائی تھے) کہ ورقہ نے آپ کی تصدیق کی تھی لیکن آپ (کی دعوت) کا ظہور ہونے سے پہلے ان کو موت آگئی ان کے بارے میں کیا سمجھا جائے ؟ آپ نے فرمایا میں نے انہیں خواب میں اس طرح دیکھا ہے کہ ان کے اوپر سفید کپڑے ہیں اگر وہ دوزخیوں میں سے ہوتے تو ان کے اوپر اس کے علاوہ دوسرا لباس ہوتا (رواہ الترمذی) آپ نے سفید کپڑوں سے اس پر استدلال کیا کہ انہوں نے جو تصدیق کی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان کے درجہ میں معتبر ہوگئی اور وہ دوزخ سے بچا دئیے گئے۔
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے اس میں سے پیا اور اتنا پیا کہ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیرابی ناخنوں سے ظاہر ہو رہی ہے پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا ‘ حاضرین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی آپ نے فرمایا میں نے اس کی تعبیر علم سے دی یعنی مجھے اللہ نے بہت علم دیا اور اس علم میں سے عمر بن خطاب کو بھی عطا فرمایا۔ (بخاری ص 1037 ج 2)
اس حدیث میں دودھ سے علم مراد لیا ہے جیسا کہ دودھ اجسام کی پرورش کا ذریعہ ہے اسی طرح علم قلوب کی حیات کا سبب ہے۔
حضرت ام العلاء ؓ نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کے لیے ایک نہر جاری ہے میں نے اس کا رسول اللہ ﷺ سے تذکرہ کیا ‘ آپ نے فرمایا کہ ان کا عمل جاری ہے (صحیح بخاری ص 1039 ج 2) اس میں نہر جاری کی تعبیر آپ نے عمل جاری سے دی ‘ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے خواب دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں مدینہ منورہ سے نکل کر جحفہ میں مقیم ہوگئی آپ نے اس کی تعبیر دی کہ مدینہ کی وباء نکل کر جحفہ میں چلی جائے گی۔ (صحیح بخاری ص 1044 ج 2)
آپ نے کالی عورت کو وباء سے تعبیر فرمایا اور آپ کی تعبیر کے مطابق ہی ہوا کیونکہ مدینہ کی آب وہوا درست ہوگئی اور حجفہ برباد ہوگیا وہاں اس وقت یہودی رہتے تھے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے دیگر خوابوں کی تعبیر بھی مروی ہے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں حضرت محمد بن سیرین تابعی (رح) کو اس میں بڑی مہارت تھی جیسا کہ مشہور ہے ‘ بعض مرتبہ خواب دیکھنے والا اپنے خواب کی وجہ سے حیرت اور استعجاب اور فکر ورنج میں پڑجاتا ہے لیکن اس کی تعبیر بہت اچھی ہوتی ہے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کو کھود کر ہڈیاں نکال رہا ہوں خواب دیکھ کر گھبرا گئے حضرت محمد بن سیرین (رح) کے پاس آدمی بھیج کر تعبیر پوچھی تو انہوں نے یہ تعبیر دی کہ جس شخص نے یہ خواب دیکھا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے علم کو پھیلائے گا۔
ضروری نہیں کہ خواب کی جو تعبیر دی جائے صحیح ہونے کے باوجود اس کا ظہور جلدی ہوجائے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ مجھے چاند سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں لیکن اس کا ظہور طویل عرصے کے بعد ہوا جب اس کا ظہور ہوا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ (یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعََلَھَا رَبِّیْ حَقًّا)
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرنا بھی شکر کا ایک شعبہ ہے :
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں ‘ نعمتوں کا اقرار کرنا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنا اور پھر ان نعمتوں کو اعمال صالحہ میں لگانا اور گناہوں میں خرچ نہ کرنا یہ سب شکر کے شعبے ہیں نعمتوں کا انکار کرنا ناشکری ہے۔ سورة نحل میں ایک ناشکری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا (اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ) (کیا اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں) قارون کو اللہ تعالیٰ شانہ نے مال کثیر عطا فرمایا تھا جب اس سے کہا گیا ( وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (اور تو زمین میں فساد کا خواہاں مت ہو بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) تو اس نے جواب میں کا (اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ یہ مال جو مجھے ملا ہے صرف میرے ذاتی ہنر کی وجہ سے دیا گیا ہے) اس نے اسے اللہ کا دیا ہوا مال ماننے سے انکار کردیا اور اپنے ہی ہنر کی طرف نسبت کردی پھر جو اس کا انجام ہوا سب کو معلوم ہے رسول اللہ ﷺ نے جو قولاً اور فعلاً اوقات مختلفہ کی دعائیں بتائی ہیں ان میں بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار ہے صبح شام پڑھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جو دعائیں بتائی ہیں ان میں سے سید الاستغفار بھی ہے اس دعا کے یہ الفا ظ ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَاسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْٓءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ ۔ (اے اللہ تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا فرمایا اور جہاں تک ہو سکے تیرے وعدہ پر قائم ہوں میں اپنے گناہوں کے شر سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور مجھ پر آپ کی جو نعمتیں ہیں ان کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں لہٰذا میری مغفرت فرما دیجئے کیونکہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا) ۔
اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار ہے اور اپنے گناہوں کا بھی ‘ اور مغفرت کی دعا بھی ‘ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص اس کو دن میں یقین کے ساتھ پڑھ لے پھر صبح ہونے سے پہلے اس رات میں مرجائے تو اہل جنت میں ہوگا۔ (رواہ البخاری ص 933/ج 2)
Ayah 12:101اسلام پر مرنے اور صالحین میں شامل ہونے کی دعا :
اس کے بعد حضرت یوسف (رح) نے یوں دعا کی (فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ) (اے زمین و آسمان کے پیدا فرمانے والے آپ ہی دنیا وآخرت میں میرے کار ساز ہیں) ۔ (تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّالْحِقْنِیْ بالصّٰلِحِیْنَ ) (مجھے اس حالت میں موت دیجئے کہ میں فرمانبردار ہوں اور مجھے نیک بندں میں شامل فرما دیجئے) اس سے معلوم ہوا کہ باایمان اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوتے ہوئے موت آجانا سب سے بڑی سعادت ہے ‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو حضرات مرتبہ کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ ہوں ان کے احوال اور اعمال میں اور ان کی طرح اجرو ثواب کے استحقاق میں شامل ہونے کی دعا کرنا چاہئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خود نبی تھے پھر بھی دعا کی کہ اے اللہ مجھے صالحین میں شامل فرما دے یعنی باپ دادے حضرت یعقوب ‘ اسحاق اور ابراہیم (علیہ السلام) کے درجات میں پہنچا دے۔
یہاں جو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موت کی دعا کیوں کی وہ تو اچھے حال میں تھے ‘ نعمتوں کی فراوانی تھی ‘ حالانکہ دکھ تکلیف کی وجہ سے بھی موت کی دعا کرنا ممنوع ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یوں نہیں کہا کہ مجھے ابھی موت دے دی جائے بلکہ مطلب یہ تھا کہ مقررہ وقت پر جب مجھے موت آئے تو یہ سعادت نصیب ہو جس کا سوال کر رہا ہوں۔
Ayah 12:102غیب کی خبریں بتانا آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل ہے
یہ تو ہر دوست اور ہر دشمن کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی سے نہیں پڑھا تھا اور نہ ایسے لوگوں کی صحبت اٹھائی تھی جو سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ آپ کو بتاتے اور سناتے ٗ تفصیل کے ساتھ یہ قصہ بتادینا یہ واضح طریقہ پر آپ کی نبوت کی دلیل ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو یہ قصہ بتایا اور آپ نے لوگوں کو سنایا یہودیوں نے جب یہ قصہ سنا جسے وہ اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آئے تھے تو انہیں اسلام قبول کرلینا لازم تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اسلام قبول نہیں کیا ‘ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے کفار مکہ سے کہا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو کہ وہ کیا سبب تھا جس کی وجہ سے بنی اسرائیل اپنے وطن کو چھوڑ کر مصر میں آکر آباد ہوئے قریش نے آپ سے سوال کیا تو سورة یوسف نازل ہوئی ‘ یہودی اپنے خیال میں بہت دور کی کوڑی اٹھا کر لائے تھے اور انہوں نے سمجھا تھا کہ آپ کی طرف سے اس کا جواب نہ مل سکے گا اور قریش مکہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کو کسی طرح زچ کریں لیکن جب جواب مل گیا تو دونوں فریق وہیں رہے جہاں تھے یعنی اسلام قبول نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہم آپ کو وحی کے ذریعے بتاتے ہیں ‘ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں مل کر یہ طے کرلیا کہ ان کو کنویں میں ڈال دیں اور وہ طرح طرح کی تدبیریں سوچ رہے تھے اس وقت وہاں آپ موجود نہیں تھے ‘ یہ بات یہودیوں کو معلوم تھی اور قریش مکہ کو بھی سمجھا دی تھی پھر یہ بات آپ کو کس نے بتادی ‘ ظاہر ہے کہ وحی کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا لہٰذا سوال کرنے والوں اور سوال کی تلقین کرنے والوں پر لازم ہوا کہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ پر ایمان لائیں ‘ آپ کا دل چاہتا تھا کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں معجزات سامنے آتے رہتے تھے لیکن اسلام قبول نہیں کرتے تھے ‘ آپ کو امید تھی کہ یہ قصہ سن کر یہودی اور قریش مسلمان ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بتادیں تو اسلام قبول کرلیں گے (کماذ کرہ صاحب الروح عن بعضہم ص 65 ج 13) آپ کو حرص تھی کہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور خصوصاً قصہ یوسفی سنانے کے بعد تو اور زیادہ امید ہوگئی تھی جب وہ لوگ ایمان نہ لائے تو آپ کو رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے آپ کے رنج کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اگرچہ آپ اس بات میں حرص کریں اس کے بعد فرمایا (وَمَا تَسْءَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ) آپ ان سے اس پر کسی معاوضے کا سوال نہیں کرتے (اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (یہ جہاں والوں کے لئے صرف نصیحت ہی ہے) ان کے ایمان نہ لانے میں آپ کا کوئی نقصان نہیں ان کا اپنا خسارہ ہے کہ نصیحت کو نہیں مانتے اور حق کی طرف نہیں آتے۔
فوائد و مسائل :
سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا قصہ ختم ہوا قصہ بیان کرتے ہوئے تفسیر کے دوران ہم نے بہت سے فوائد اور ضروری امور لکھ دئیے ہیں لیکن بعض باتیں رہ گئی ہیں جنہیں مفسرین نے بیان کیا ہے ذیل میں وہ بھی لکھی جاتی ہیں جو کوئی بات مکرر آگئی ہے قند مکرر سمجھ کر لکھ دیا گیا ہے۔
(1) اچھا خواب اللہ کی نعمت ہے ‘ مومن کے لئے بشارت ہے اور خواب کی تعبیر جاننا بھی اللہ کی نعمت ہے۔
(2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ تجھے تکلیف دینے کی تدبیر کریں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اسے فلاں شخص نقصان پہنچائے گا تو جسے تکلیف پہنچانے کا احتمال ہو اسے یہ بات بتادینا کہ تم احتیاط سے رہو فلاں شخص کی طرف سے تمہیں تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے یہ غیبت حرام میں شامل نہیں۔
(3) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر نہیں تھے ورنہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو بوڑھے باپ سے جدا کرنے کی تدبیر نہ کرتے ‘ باپ کو تکلیف پہنچانا اور باپ بھی وہ جو اللہ کا پیغمبر ہے اس کا صدور کسی پیغمبر سے نہیں ہوسکتا انہوں نے بہت بڑے فسق کا عمل کیا ‘ معلوم ہوا کہ صالحین کی اولاد سے بھی گناہ کبیرہ ہوسکتا ہے ‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اولاد کے گناہوں کی وجہ سے ماں باپ پر طعن وتشنیع کرنا یا انہیں گناہوں میں شامل سمجھنا صحیح نہیں جب کہ انہوں نے تعلیم اور تربیت میں کوتاہی نہ کی ہو جب انہوں نے نیکی کی راہ بتادی اور یہ بتادیا کہ یہ چیزیں گناہ کی ہیں تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوگئے۔
(4) حضرت یوسف (علیہ السلام) بارہ بھائی تھے دس حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پہلی بیوی سے تھے اور دوان کی دوسری بیوی سے تھے ‘ یعنی یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین (یہ دونوں حقیقی بھائی تھے) ان بارہ بیٹوں سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل چلی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اس لئے ان کے تمام بیٹوں کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اس وقت جو آپ کی بیوی تھی اور بارہ بیٹے اپنی ازوج و اولاد کے ساتھ مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کا مصر میں انتقال ہوگیا اور ان کی وصیت کے مطابق ان کو سابقہ وطن یعنی کنعان میں لا کر دفن کردیا گیا جیسا کہ کتب تفسیر میں مرقوم ہے ان کے بیٹے مصر ہی میں رہتے رہے ان کی نسلیں آگے بڑھیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان لوگوں کا اقتدار میں کچھ بھی حصہ نہ رہا اور وہاں سے واپس آکر اپنے وطن کنعان میں بھی آباد نہ ہوئے مصریوں نے انہیں بری طرح غلام بنا رکھا تھا سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ مصری ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور یہ ان کے سامنے اف بھی نہ کرسکتے تھے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو مصر سے لے کر نکلے جس کا واقعہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے تو اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلوں میں منقسم تھی یہی وہ بارہ قبیلے تھے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میدان تیہ میں پانی کے لئے پتھر میں لاٹھی مارتے تھے تو بارہ چشمے جاری ہوجاتے تھے تو ہر قبیلہ اپنے اپنے چشمے سے پانی پی لیتا تھا تاریخ و تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ لوگ چار سو سال (400) کے بعد مصر سے نکلے تھے۔
(5) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جو اپنے والد سے یوں کہا کہ یوسف کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے وہ کھائے گا اور کھیلے گا اس کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ کھیلنا ممنوع کام ہے میں اس کے لئے نہیں بھیجتا بلکہ یوں فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھاجائے ‘ حضرات علمائے کرام نے اس سے یہ مستنبط کیا ہے کہ سیرو تفریح اور کھیل کو دجو حدود شرعیہ کے اندر ہو جائز اور مباح ہے بچوں کو اس کا کھیلنا جائز ہے ‘ اور بالغین بھی آپس میں دوڑ لگا سکتے ہیں بلکہ خیر کی نیت سے ہو تو اس میں ثواب بھی ہے ‘ حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے ملک روم (یورپ کا علاقہ) فتح ہوگا اور اللہ ان کے شر کو تم سے دور رکھے گا تو تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے عاجز نہ ہوجائے کہ اپنے تیروں سے کھیلا کرے (یعنی تیراندازی کی مشق ہمیشہ کرتے رہو) (رواہ مسلم) چونکہ تیروں کا پھینکنا جنگ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے (اور اب تو جدید آلات حرب کا پھینکنا جنگ کا معیار بن گیا ہے) اس لیے آپ نے تیر اندازی کی مشق کا حکم دیا، رسول اللہ ﷺ گھوڑ دوڑ بھی کراتے تھے جس میں گھوڑوں کا مقابلہ ہوتا تھا (مشکوٰۃ المصابیح ص 336) جو بھی کوئی کھیل ایسا ہو جس میں کشف عورت نہ ہو ‘ نماز سے غفلت نہ ہو ‘ جو انہ ہو اور اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو ‘ ایسا کھیل کھیلنا جائز ہے۔
(6) جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے قتل کا ارادہ کیا تو ان میں سے ایک بھائی نے جو سب سے بڑا تھا یوں کہا کہ اسے قتل نہ کرو بلکہ کسی کنویں میں ڈال دو تاکہ اسے آنے جانے والے قافلے اٹھالیں ‘ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب کوئی جماعت کسی شرکا ارادہ کر ہی لے تو جس سے ہو سکے انہیں منع کر دے اگر بالکل منع نہ کرسکے تو کم از کم ایسی بات کا مشورہ دے دے جو فساد اور قباحت اور شناعت کے اعتبار سے ہلکی ہو۔
(7) جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں باخبر فرما دیا کہ ایسا وقت آئے گا جبکہ تم ان کا یہ عمل یاد دلاؤ گے اور اسے لفظ اوحینا سے تعبیر فرمایا ‘ عام طور سے لفظ وحی اللہ تعالیٰ کے انہی پیغامات کے لئے استعمال ہوتا تھا جو انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے پاس فرشتے کے ذریعے آتے تھے لیکن بعض دیگر مواقع کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں فرمایا (وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسیٰ اَنْ اَرْضِعِیْہِ ) اور شہد کی مکھی کے لئے (وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ ) فرمایا ہے ‘ چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کنویں میں ڈالے جانے کے وقت کمسن تھے اس لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان کو تسلی دینا اور یہ ارشاد فرمانا کہ تم اس بات کو اپنے بھائیوں کو بتاؤ گے الہام کے طور پر تھا ‘ نبوت والی وحی سے اس وقت سر فراز نہیں ہوئے تھے ‘ روح المعانی میں اس قول کو حضرت مجاہد تابعی کی طرف منسوب کیا ہے ان کی اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ چند آیات کے بعد اللہ جل شانہ نے (وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا) فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے حکم کو نبوت کے معنی میں لیا ہے۔
(8) برادران یوسف جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر خون لگا کر لائے اور اپنے والد سے کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اپنی بات کی تصدیق کے لیے بطور سند خون آلود کرتہ پیش کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اندازہ لگا لیا کہ یوسف کو بھیڑیا نے نہیں کھایا اور کرتہ کو صحیح سالم دیکھ کر انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کا بیان غلط ہے ‘ بھیڑیا کھاتا تو کرتہ پھٹا ہوا ہوتا اور اپنی فہم و فراست پر انہیں اتنا اعتماد ہوا تو ان سے فرما دیا کہ (سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) (بلکہ بات یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے ایک بات بنا لی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ قاضی اور حاکم فریقین کے بیانات کے ساتھ حق اور ناحق کی چھان بین کے لیے اصول کے مطابق فیصلہ تو گواہوں اور قسم ہی کے ذریعہ کرے لیکن احوال اور قرائن میں غور کرنے سے حق اور حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔
(9) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بہت بڑا صدمہ پہنچا کہ ان کا چہیتا بیٹا نظروں سے اوجھل ہوگیا انہوں نے بیٹوں کی غلط بیانی تو پکڑ لی لیکن آگے کچھ کر نہیں سکتے تھے صبر کے سوا چارہ بھی کیا تھا لہٰذا انہوں نے فرمایا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ اور ساتھ ہی یوں بھی کہا (وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ ہی سے اس پر مدد مانگتا ہوں جو تم بیان کرتے ہو) اس سے معلوم ہوا کہ صبر جمیل بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف برابر توجہ بھی رہے ‘ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا رہے اور مشکل حل ہونے کے لیے دعا کرتا رہے صبر جمیل وہ ہے جس میں شکوہ شکایت نہ ہو۔
(10) قرآن مجید میں تصریح ہے کہ جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا وہ عزیز تھا اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وزیر خزانہ تھا اور نام اس کا قطفیر تھا اور مصر کا بادشاہ دوسرا شخص تھا کیونکہ بادشاہ کا ذکر قرآن مجید میں عزیز مصر کے واقعہ کے بعد موجود ہے ‘ مفسرین لکھتے ہیں کہ بادشاہ کا نام ریان تھا جو قوم عمالقہ میں سے تھا یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے پہلے ہی بحالت اسلام انتقال کر گیا۔
(11) عزیز مصر کی بیوی جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو برے کام کے لئے پھسلایا تھا اس کا نام عام طور سے زلیخا مشہور ہے اور یہ بھی مشہور ہے کہ بعد میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس کا نکاح ہوا یہ باتیں اسرائیلیات سے لی گئی ہیں قرآن مجید میں یا احادیث شریف میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
(12) عزیز مصر کی بیوی نے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا اور لبھایا تو اس نے دروازے بند کر دئیے اور ھَیْتَ لَکَ کہہ کر اپنا مقصد ظاہر کردیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں ایسے کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘ اور یہ بھی کہا کہ تیرا شوہر میرا محسن ہے اس نے میری پرورش کی ہے۔ مجھے اچھی طرح رکھا ہے اب میں یہ خیانت کیسے کرسکتا ہوں کہ اس کی بیوی کے ساتھ ایسا کام کروں اگر میں ایسا کروں تو یہ ظلم اور ناشکری کی بات ہوگی ‘ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوتے ‘ وقتی طور پر ان کے نفس کی کوئی خواہش پوری ہوجائے لیکن آئندہ زندگی میں وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں گے۔
(13) یہ تو انہوں نے زبانی طور پر اس عورت کو سمجھایا اور اپنی طرف سے اسے ناامید کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی یہ ہوا کہ وہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے وہ عورت بھی پیچھے دوڑی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ دروازے بند ہیں اس کے باوجود بھی انہوں نے دوڑ لگا دی اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی گناہ کے موقع میں پھنس جائے تو اس سے بچنے کی ہر طرح کی تدبیر کرلے اور اپنے بس میں جو کچھ ہو گناہ سے بچنے کے لیے اسے استعمال کرے جب اپنی طاقت کے بقدر محنت اور کوشش کر گزرے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آجائے گی۔
(14) جیسے مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے نیکی کا وزن بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہوں سے بچنے کی لائن میں بھی بعض حیثیتوں سے ثواب بڑھ جاتا ہے کسی شخص سے کوئی بد صورت گری ہوئی عورت بھنگن چمارن برے کام کے لئے کہے تو اس سے بچنا بھی بڑی ہمت کی بات ہے لیکن اگر کسی شخص سے کوئی دنیاوی اعتبار سے بڑے مرتبہ والی عورت اور وہ بھی جو حسین جمیل ہو بدکاری کی دعوت دے اس سے بچ جانا بہت بڑے درجہ کی بات ہے اور یہ تقویٰ پہلے شخص کے تقویٰ سے بہت زیادہ بلند ہے ‘ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے سات آدمیوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا ‘ جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ان سات آدمیوں میں سے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا ورجل دعتہ امراۃ ذات حسب و جمال فقال انی اخاف اللہ (اور ایک وہ شخص جسے مرتبہ اور حسن و جمال والی عورت نے برے کام کے لئے دعوت دی تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں) (مشکوٰۃ المصابیح ص 68)
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جس عورت نے برے کام کی دعوت دی تھی وہ وزیر کی بیوی تھی بظاہر وہ خوب صورت بھی ہوگی لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صاف انکار کردیا ‘ در حقیقت یہ بڑے دل گردہ کی بات ہے ایسے موقع پر گناہ سے بچ جانا بڑی ہمت اور قوی ایمان کی دلیل ہے اور سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے کوئی نشانی ظاہر فرما دی جو گناہ سے مانع بن گئی اور نشانی کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْءَ وَالْفَحْشَآءَ ) (ہم نے اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہم ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو دور رکھیں۔ )
(15) حسن اخلاق اور حسن معاشرت بڑی عمدہ چیز ہے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں پہنچے تو وہاں جو دوسرے قیدی تھے (عموماً جرائم کی وجہ سے محبوس اور مسجون ہوتے ہیں) ان کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوش خلقی کا ایسا عمدہ برتاؤ کیا کہ وہ لوگ آپ کے گرویدہ ہوگئے دو شخصوں نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر لینے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بےساختہ ان کے منہ سے یہ نکل گیا کہ (اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) خاص کر مبلغ ‘ مصلح اور داعی کو تو اور زیادہ خوش اخلاق ہونا ضروری ہے اس کے بغیر اس کا کام آگے نہیں بڑھتا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق صدق و سچائی اور حسن معاشرت نے قیدیوں کے دلوں میں اس قدر گھر کرلیا تھا کہ بادشاہ کے خواب کی کوئی شخص تعبیر نہ دے سکا تو اس ایک شخص نے کہا جو جیل سے رہا ہوا تھا کہ میں تمہیں خواب کی تعبیر بتاؤں گا وہ جیل میں آیا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے (یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ ) کہہ کر خطاب کیا اور اپنی عقیدت کی وجہ سے لفظ الصدیق کے بغیر بات کرنا گوارہ نہ کیا۔
(16) جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے طرز عمل سے یہ واضح ہوا کہ جب کسی داعی مبلغ سے کسی کا کام پڑجائے تو اسے ارشاد واصلاح کا ذریعہ بنالے ‘ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے دو جوانوں نے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ نے تعبیر بعد میں بتائی اور موقع مناسب جان کر پہلے توحید کی دعوت دے دی اور اپنا تعارف بھی کرا دیا کہ میں کافروں کی ملت پر نہیں ہوں اور اپنے باپ دادا ابراہیم ‘ اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) کے دین پر ہوں جو اللہ کے نبی تھے۔
(17) جیل سے جس شخص کی رہائی ہوئی اس سے یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کردینا اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے چھٹکارا کے لئے کوشش کرنا اور کسی کو واسطہ بنانا یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
(18) کیسے بھی اسباب اختیار کر لئے جائیں ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں ہو ‘ جب اللہ کی مشیت ہو اور قضا و قدر کے اعتبار سے مقرر وقت آچکا ہو سبب بھی اسی وقت کام دیتا ہے اور دوا بھی اسی وقت فائدہ مند ہوتی ہے دوا بنانے والے طبیب سے بھی اسی وقت ملاقات ہوتی ہے بلکہ بعض مرتبہ دعا کی بھی توفیق اسی وقت ہوتی ہے جب کام ہونے کا وقت مقرر آپہنچا ہو قد جرب ذلک کثیرا دعا ‘ دوا اسباب اختیار کرتا رہے اللہ کے فضل کا امید وار رہے ‘ جب اللہ چاہے گا فائدہ پہنچ جائے گا ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے رہا ہونے والے شخص سے فرما دیا تھا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کردینا لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا ‘ لہٰذا چند سال جیل میں رہنا پڑا ‘ پھر جب قضاء وقدر کے موافق جیل سے نکلنے کا وقت آیا تو بادشاہ کا خواب اور جیل سے نجات پانے والے کو یاد آجانا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا ظاہری سبب بن گیا۔
(19) جیل سے رہا ہونے والا ساتھی برسوں کے بعد جب خواب کی تعبیر لینے کے لیے واپس لوٹا تو حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بڑے حلم اور بردباری سے کام لیا آپ نے اسے کچھ ملامت نہ کی اور یوں نہ فرمایا کہ تجھ سے اتنا کہا تھا کہ اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا تو نے کچھ بھی نہ کیا۔
(20) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بھی دی اور خیر خواہانہ مشورہ بھی دیا کہ سات سال تک جو غلہ پیدا ہوگا اس کو بالوں میں محفوظ رکھنا تاکہ غلہ میں کیڑا نہ لگ جائے یہ ایک تجربہ کی بات ہے کہ جب تک غلہ خوشہ کے اندر رہتا ہے اسے کیڑا نہیں لگتا اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی امور کے بارے میں مشورہ دینا اور اپنے تجربہ کے موافق انتظام کے طریقے سمجھانا یہ کوئی بزرگی اور نیکی کے خلاف نہیں ہے ‘ اگر معاشی حالات درست کرنے کے لیے تجربات کو کام میں لایا جائے (جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) تو یہ بات قابل نکیر نہیں ہے۔
(21) عزیز مصر کے گھر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کئی سال رہے اس نے اور اس کی بیوی نے اکرام سے رکھا کھلایا پلایا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی احسان مندی کو سامنے رکھا اور جب بادشاہ کے سامنے اپنے معاملہ کی تحقیقات کا موقع آیا تو انہوں نے معاملہ کو ان عورتوں پر ڈال دیا جو عزیز مصر کی بیوی کی دعوت پر جمع ہوئی تھیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ‘ بات کو صاف کرنے کے لئے یوں فرمایا : (مَا بَال النِّسْوَۃِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ ) اور یوں نہیں فرمایا کہ عزیز کی بیوی سے دریافت کیا جائے ‘
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی کا تو نام نہ لیا لیکن عزیز مصر کی بیوی خود بول اٹھی اور اپنے جرم کی اقراری ہوگئی اور اس نے بر ملا اقرار کیا۔ (اَلْءٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) کہ اب حق ظاہر ہوگیا میں نے اس سے اپنے مطلب نکالنے کا ارادہ کیا بلاشبہ وہ سچوں میں سے ہے۔
(22) جب شاہی دربار میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر ہوگئی تو انہوں نے یوں فرمایا (وَمَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لاََمَّارَۃٌ م بالسُّؤْءِ ) (کہ میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بیشک نفس برائی کا حکم دینے والا ہے) اس میں یہ بات بتائی کہ جس موقع پر میں گناہ سے بچا ہوں یہ بچ جانا میرا ذاتی کوئی کمال نہ تھا نفس کا کام تو یہی ہے کہ گناہوں کا حکم دیا کرے اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ (ہاں اللہ تعالیٰ دستگیری فرما لے تو انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے) اس میں متقیوں پرہیزگاروں کو تنبیہ ہے کہ گناہوں سے بچنے کی جو توفیق ہوتی رہتی ہے اس پر نہ اترائیں اور نہ ناز کریں (اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بلاشبہ میرا رب بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے) ۔
(23) قرآن حکیم میں نفس امارہ اور نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ تینوں کا ذکر آیا ہے حضرت حکیم الامت قدس سرہ بیان القرآن میں تحریر فرماتے ہیں کہ امارہ اگر توبہ کرلے تو اس کی مغفرت فرمائی جاتی ہے اور مرتبہ توبہ میں وہ لوامہ کہلاتا ہے اور جو مطمئنہ ہے وہ کمال اس کا لازم ذات نہیں بلکہ عنایت ورحمت کا اثر ہے ‘ پس امارہ کے لوامہ ہونے پر غفور کا ظہور ہوتا ہے اور مطمئنہ میں رحیم کا۔
(24) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو اپنے بارے میں (اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ) فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ دینی ضرورت کے موقع پر اپنے کسی کمال یا فضیلت کا ذکر کردینا جائز ہے اور یہ اس تزکیہ نفس میں نہیں آتا جس کی ممانعت قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے بشرطیکہ اس کا ذکر کرنا غرور وتکبر اور فخر کے لیے نہ ہو۔
(25) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی پہلی بار جب مصر سے غلہ لے کر واپس ہونے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تمہارا جو ایک باپ شریک بھائی ہے اب کی مرتبہ اس کو بھی لے آنا اگر تم اسے ساتھ نہ لائے تو پھر تمہیں غلہ نہیں ملے گا ‘ جب ان لوگوں نے واپس ہو کر اپنے والد سے بیان کیا کہ عزیز مصر نے یہ بات کہی ہے کہ اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو غلہ نہیں ملے گا اور یہ بیان کر کے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہمیں پھرجانا ہے لہٰذا چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ بھیج دیا جائے والد صاحب کو بھیجنے میں تردد تو ہوا لیکن انہوں نے فرمایا کہ جاؤ اللہ بہترین حافظ ہے بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اور حقیقی محافظ وہی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ حفاظت کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کردی اور ان سے قسم بھی لی کہ اسے تم ضرور واپس اپنے ہمراہ لے کر آؤ گے جب انہیں قسم دی تو ساتھ ہی (اِلَّا اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ) بھی فرما دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم واقعی اس کے لانے سے مجبور ہوجاؤ تو یہ دوسری بات ہے ‘ اس میں اس بات کو بیان فرمایا کہ تم کیسا ہی وعدہ کرلو کیسی ہی قسم کھالو ہوگا وہی جو اللہ کی قضاء و قدر میں ہوگا اگر تم کسی ایسی مصیبت میں گھر گئے کہ اسے ساتھ نہ لاسکے اور اللہ کی قضاء و قدر غالب آگئی تو یہ صورت قسم میں شامل نہیں اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص قسم کھائے یا قسم کھلائے تو ساتھ یہ بھی کہہ دے کہ اللہ کی طرف سے کوئی مجبوری اور معذوری پیش آگئی تو وہ مستثنیٰ ہے اگر کسی نے کسی سے وعدہ لیا اور اس نے پختہ وعدہ کرلیا اور اپنی طاقت کے بقدر اس نے پورا کرنے کی کوشش کی اور پھر بےبس اور مجبور ہونے کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو اس کو سرزنش اور ملامت نہ کی جائے۔
Ayahs 12:103–105یہ لوگ بہت سی آیات تکوینیہ پر گزرتے ہیں مگر ایمان نہیں لاتے
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمانے کے بعد (جو آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے) مخاطبین کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں کو توحید سے اور آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے عناد ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بہت سی تکوینی نشانیاں دیکھتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے آسمان میں نشانیاں ہیں مثلاً ستارے ہیں اور خود آسمان کا وجود بھی اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے ‘ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں ‘ اسی طرح زمین اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘ ان سب نشانیوں کو یہ لوگ دیکھتے ہیں سفر میں جاتے ہیں بہت سی ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف نہیں آتے ‘ جب انہیں توحید کی دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے شرکاء بھی تجویز کرتے ہیں یعنی ان باطل معبودوں کی بھی عبادت کرتے ہیں ‘ شرک کے ساتھ ماننا کوئی ماننا نہیں ہے یہ ماننا نہ ماننے کے برابر ہے۔ ان لوگوں کا نہ توحید پر ایمان ہے نہ آپ کی رسالت کا انہیں اقرار ہے ‘ کفر و شرک کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور بالکل اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں ‘ اللہ کے عذاب اور غضب سے نہیں ڈرتے کیا انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آئے گا اور کیا اچانک قیامت نہیں آسکتی ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایسا عذاب آسکتا ہے جو انہیں ہر طرف سے گھیر لے یا اچانک قیامت آجائے ‘ اور انہیں خبر بھی نہ ہو ‘ وھذا کقولہ تعالیٰ (اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّءَاتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْیَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ) (الآیتین) اور آخرت میں ہر کافر کے لئے دائمی عذاب ضروری ہے ہی۔
Ayahs 12:106–108آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ واضح طور پر لوگوں سے کہہ دیں اور کفار اور مشرکین کے سامنے اعلان فرما دیں کہ میں جس راہ پر ہوں یہ میرا راستہ ہے جو توحید کا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میری یہ دعوت پوری بصیرت کے ساتھ ہے اور نہ صرف یہ کہ میں بصیرت پر ہوں بلکہ جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی بصیرت پر ہیں اس میں یہ بتادیا کہ یہ میری دعوت حق ہے صحیح ہے سمجھ کر ہوش گوش کے ساتھ ہے ‘ میں اس کو چھوڑنے والا نہیں ہوں تم میری کیسی ہی مخالفت کرلو میں بہر حال اپنے عقیدہ اور عمل پر قائم ہوں ‘ جو شخص بھی یوں کہے کہ میں مسلمان ہوں محمد رسول اللہ ﷺ کے دین پر ہوں اس پر لازم ہے کہ پوری طرح دین اسلام پر جمے کسی قسم کی کچائی کو نفس میں اور قلب میں جگہ نہ دے اور دشمنوں سے واضح طور پر ٹھوک بجا کر ڈنکے کی چوٹ پر بات کرے اور ان سے کہہ دے کہ میں حق پر ہوں پوری بصیرت کے ساتھ ہوں تم لوگ باطل ہو ‘ جو کوئی شخص دین اسلام پر اعتراض کرے تو خوب بڑھ چڑھ کر اس کا منہ توڑ جواب دے اور دلائل سے بات کرے کسی دشمن سے ذرا بھی نہ دبے نہ لچک اختیار کرے وَسُبْحَان اللّٰہِ (اور میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں) ہر طرح کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرتا ہوں۔ (وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں) مشرکین جو بھی کچھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں میں اس سے بری ہوں بیزار ہوں۔
Ayah 12:109آپ سے پہلے جو رسول بھیجے وہ انسان ہی تھے
مشرکین مکہ اور دوسرے کفار کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت پیش کی اور فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تو ان لوگوں نے کٹ حجتی کی اور طرح طرح کے بےت کے سوالات کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ آپ تو ہمارے جیسے آدمی ہیں رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کا جواب دیا کہ ہم نے جتنے بھی رسول پہلے بھیجے ہیں وہ سب انسان ہی تھے جو مختلف بستیوں کے رہنے والے تھے ‘ یہ حضرات اپنی اپنی امتوں کی طرف بھیجے گئے اور ان کو حق کی دعوت دی اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہم جنس ہی ہم جنس کو صحیح طریقہ پر ہدایت دے سکتا ہے قولاً بھی اور فعلاً بھی ‘ یعنی زبان سے بھی بتاسکتا ہے اور فعلاً عمل کر کے بھی دکھا سکتا ہے اور یہ بات فرشتوں کے ذریعے حاصل نہیں کیونکہ ان میں انسانی مزاج اور طبیعت نہیں ہے لہٰذا عمل کر کے نہیں دکھا سکتے آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے وہ بھی انسان ہی تھے ‘ ان حضرات کی امتوں نے ایسے ہی بےت کے سوال کئے تھے جو آپ کے مخاطبین اٹھا رہے ہیں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جو آپ کو پیش آیا آپ سے پہلے رسولوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں۔ (کما فی سورة الرعد قالُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا) (الی اخر الایتین)
(اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) اس میں مخاطبین کو تذکیر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم توحید پر نہیں آتے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر کان نہیں دھرتے کیوں اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ‘ کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے یعنی ان سے پہلے بھی رسولوں کو ان کی امتوں نے جھٹلایا جس کی وجہ سے ماخوذ ہوئے اور ہلاک ہوئے زمین پر چلیں پھریں تو ان کے مکانوں کے کھنڈر اینٹ اور پتھر بےکار پڑے ہوئے کنویں نظر آئیں گے ‘ اگر عبرت حاصل کرنے کا مزاج ہو تو عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
(وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا) یعنی جو بندے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کفر و شرک سے بچتے ہیں گناہوں سے دور رہتے ہیں فرائض واجبات کا اہتمام کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے دار آخرت میں بڑی بڑی نعمتیں ہیں اور دار آخرت ان کے لئے ان دنیاوی نفع کی چیزوں سے بہتر ہے جن سے اہل دنیا چپکے ہوئے ہیں اور یہ چیزیں انہیں ایمان سے روک رہی ہیں اور اعمال خیر سے دور رکھ رہی ہیں اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) فانی کو باقی پر ترجیح دیتے ہو اور یہ خیال نہیں کرتے کہ گرفت میں دیر ہونا دلیل اس بات کی نہیں کہ کبھی بھی دنیا اور آخرت میں عذاب میں مبتلا نہ ہو گے۔
Ayah 12:110ہمارا عذاب مجرموں سے ہٹایا نہیں جاتا
پہلی آیت میں پرانی امتوں کی تکذیب اور ہلاکت کا ذکر تھا اس آیت میں ان کی تکذیب کی کچھ تفصیل بیان فرمائی ‘ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یہ یقین تو تھا کہ مکذبین و منکرین کے مقابلہ میں ضرور ہماری مدد ہوگی ‘ لیکن مدد میں دیر لگی ‘ دشمن اپنی دنیا میں منہمک رہے عیش و آرام سے زندگی گزارتے رہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انہیں مہلت دی جاتی رہی اس کو دیکھ کر حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے گمان کرلیا کہ ہم نے جو یہ سمجھا تھا کہ جلد ہی ہماری مدد ہوگی اور دشمن جلد ہلاک ہوں گے ہمارا یہ گمان صحیح نہیں تھا وجہ اس کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلق مدد کا وعدہ تھا اس کا کوئی وقت مقرر نہیں فرمایا تھا لہٰذا جلدی مدد آنے کا خیال کرنا یہ اپنی طرف سے ایک گمان تھا۔ اور دشمنوں کو لمبی مہلت مل جانے کی وجہ سے کچھ ایسا وہم ہونے لگا کہ گویا دنیا میں ہماری مدد نہ ہوگی یہ اس کے قریب ہے جو سورة البقرہ میں ہے۔ (حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ) جب یہ حال ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا نجات دیدی ‘ یعنی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان نجات پا گئے ‘ قال صاحب الروح ج 13 ص 79۔
والمعنی ان مدۃ التکذیب والعداوۃ من الکفار وانتظار النصر من اللہ تعالیٰ قد تطاولت وتمادت حتی استشعروا القنوط وتوھموا عنھا ان لا نصر لھم فی الدنیا انتھی ھذا علی قرأۃ کذبوا بالتخفیف التیھی قرأۃ الکوفیین وقرأۃ الاخرین منھم عائشۃ ؓ بالتشدید وفسرت الایۃ کما روی عنھا البخاری فی تفسیر ھذہ الایۃ ج 2 ص 680 ھم اتباع الرسل الذین امنوا بربھم وصدقوھم فطال علیھم البلاء واستاخر عنھم النصر حتی اذا استیئس الرسل ممن کذبھم من قومھم وظنت الرسل ان اتباعھم قد کذبوھم جاءھم نصر اللہ عند ذلک وفی معنی الایۃ وجہ اخر ذکرہ ابن کثیر عن ابن عباس وھو انہ لما ایست الرسل ان یستجیب لھم قومھم وظن قومھم ان الرسل قد کذبوھم جاءھم النصر علی ذلک (ج 2 ص 498) ۔
Ayah 12:111ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے
یہ سورة یوسف کی آخری آیت ہے اس میں چار باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے جو لوگ اپنی عقل کو کام میں لاتے ہیں غورو فکر کرتے ہیں وہ عبرت حاصل کرلیتے ہیں دوسری بات یہ بتائی کہ یہ قرآن جو پڑھا جاتا ہے اور دوست و دشمن سب کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے تراش لیا ہو ‘ اس میں جو امم سابقہ کے واقعات بیان کئے ہیں وہ بھی تراشے ہوئے نہیں ہیں پھر اس سے دور کیوں بھاگتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ یہ قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو توحید کی دعوت ان کتابوں میں تھی وہی قرآن مجید میں ہے پھر قرآن کی دعوت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ‘ خاص کر یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو تو قرآن سے دور بھاگنے کا کوئی موقع ہی نہیں جب قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور وہی بیان کرتا ہے جو ان کی کتابوں میں ہے تو سب سے پہلے ان کو قبول کرنا لازم ہے ‘ کما قال تعالیٰ (وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ ) چوتھی بات یہ بتائی کہ قرآن میں ہر بات کی تفصیل ہے یعنی واضح طور پر تمام عقائد اور اصولی طور پر تمام احکام بتا دئیے۔
نیز یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت بھی ہے رحمت بھی ‘ کیونکہ یہی حضرات اس کے احکام قبول کرتے ہیں اور اس کی آیات کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
وقد تم تفسیر سورة یوسف (علیہ السلام) والحمد للہ علی الاتمام والصلاۃ علی رسولہ البدر التمام وعلی الہ وصحبہ البررۃ الکرام