12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 12:31–33

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب اس نے ان عورتوں کی مکر کی باتیں سنیں تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کیلئے ایک مجلس تیار کی جس میں تکیہ لگا کر بیٹھیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور یوسف سے کہا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ سو جب ان عورتوں نے انہیں دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہنے لگیں حاشا للہ یہ شخص بشر نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

وہ عورت کہنے لگی سو یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی سو وہ بچ گیا اگر اس نے وہ بات نہ مانی جس کا میں اسے حکم دے رہی ہوں تو ضرور اس کو جیل میں بھیج دیا جائے گا اور یہ ضرور بےعزت ہوگا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ اے میرے رب یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس کے مقابلہ میں مجھے جیل جانا محبوب ہے اور اگر آپ مجھ سے ان کی چال بازی کو دفع نہ کریں گے تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا کہ اے میرے رب ان عورتوں کے مطالبہ کے مطابق عمل کرنے کی بجائے میرے لئے جیل بہتر ہے اس کے بعد جیل میں تشریف لے جانا پہلے معلوم ہوچکا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر کو دروازہ کے قریب دیکھ کر یہ مشورہ دے دیا تھا کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یا درد ناک سزا دی جائے ‘ پھر جب شہر کی دوسری عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال دیکھ کر مبہوت ہوگئیں اور عزیز مصر کی بیوی نے ان سے کہا کہ دیکھو تم مجھ پر طعن وتشنیع کر رہی تھیں خود تمہارا کیا حال بنا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو جیل جانا پڑے گا تو اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بظاہر دو ہی راستے تھے اول یہ کہ حسب سابق اسی گھر میں رہتے رہیں جہاں اب تک تھے وہاں وہی عورت تھی جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بد کر داری کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کیا تھا اس کا ارادہ ختم نہیں ہوا تھا صاف کہہ دیا تھا کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو جیل میں جانا پڑے گا وہ اپنے پھندہ میں پھنسانے کے لیے مصر تھی اس کے گھر میں رہنے سے اندیشہ تھا کہ مصیبت میں مبتلا ہوجائیں اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ جیل میں چلے جائیں انہوں نے جیل میں جانے کو پسند کیا اور یہ مناسب جانا کہ عزیز مصر کا گھر چھوٹ جائے تاکہ خود عزیز کی بیوی اور دیگر عورتوں کی تدبیروں اور مکاریوں سے دور ہوجائیں ‘ چونکہ دوسری عورتیں بھی حسن و جمال دیکھ کر قائل ہوگئی تھیں اس لئے یہ بھی خطرہ تھا کہ وہ بھی عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو گناہ میں استعمال کرنے کی تدبیریں بتانے لگیں یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے لگیں ‘ اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کی کہ اے اللہ یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں یا آئندہ دعوت دیں گی مجھے اس میں مبتلا ہونے کی بہ نسبت یہ محبوب اور مرغوب ہے کہ جیل میں چلا جاؤں اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ یا اللہ آپ میری مدد فرمائیے اور عورتوں کے مکرو فریب کو دفع فرمائیے تاکہ میری حفاظت ہو اگر آپ نے ان کی چال بازیوں کو دفع نہ فرمایا اور مجھے ان سے نہ بچایا تو بتقا ضائے بشریت میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں میں شمار ہوجاؤں گا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) گناہوں سے معصوم تھے اور ان کو معصوم رکھنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا عہدہ نبوت پر سرفراز ہوتے ہوئے معصیت صادر ہونے کا احتمال تو نہ تھا لیکن پھر بھی انہوں نے گناہ سے بچنے کے لیے مزید دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ آپ ہی کی حفاظت مجھے محفوظ رکھ سکتی ہے اگر آپ نے میری حفاظت نہ فرمائی تو عورتوں کے اتنے زیادہ پیچھے پڑنے پر نفسانی اور شہوانی ابھار کے باعث ان عورتوں کی طرف مائل ہوجاؤں گا ان کی طرف مائل ہونا جاہلوں کا کام ہے جو گناہ کو گناہ جانتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ قال صاحب الروح ای الذین لا یعملون بما یعلمون لان من لاجدوی لعلمہ فھو ومن لا یعلم سواء صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل نہیں کرتے کیونکہ جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ اور جو نہیں جانتا دونوں برابر ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور انہیں عورتوں کے مکرو فریب سے بچا دیا یعنی ایسی صورت پیدا فرما دی کہ انہیں جیل میں بھیج دیا گیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ عزیز مصر اور اس کے مشورہ دینے والے سوچ بچار کرتے رہے کہ اس مسئلے کا کیا حل ہو آیات (یعنی نشانیاں) اور حالات سے تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ یوسف بےگناہ ہے لیکن شہر میں جو چرچا ہوگیا اور باتیں عورتوں سے نکل کر مردوں تک پہنچ گئیں اس کے دبانے کے لئے یہی صورت سمجھ میں آتی ہے کہ ایک عرصہ تک یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں رکھا جائے چناچہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بھیج دیا۔ وہ کون سی آیات اور نشانیاں تھیں جنہیں دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت کا یقین کیا گیا تھا ان میں سے ایک تو یہی تھا کہ ان کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا اور دوسرے گود کے بچے کا بولنا یہ بہت بڑی نشانی تھی بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جسم میں بھاگنے کے وقت کوئی خراش بھی آگئی تھی یہ بھی ایک نشانی تھی اور ممکن ہے اور بھی نشانیاں ہوں جو تذکرہ میں نہیں آئیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو جیل میں جانے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اگر وہ مطلق حفاظت کی دعا کرتے تو جیل میں گئے بغیر دوسری طرح بھی ان کی حفاظت ہوسکتی تھی اللہ جل شانہ کو اس پر قدرت تھی کہ کسی دوسری صورت سے ان کی حفاظت کا انتظام ہوجاتا لیکن وقتی پریشانی کی وجہ سے ان کا ذہن اس طرف نہ گیا اور اپنی حفاظت کے لئے جیل میں جانے کی دعا کرلی، تفسیر قرطبی (ص 184 ج 9) میں ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اے اللہ جیل مجھے پسند ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے یوسف تم نے خود اپنی جان کو قید میں رکھوانے کی دعا کرلی اگر تم عافیت کی دعا کرتے تو تم کو عافیت دی جاتی ‘ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہمیشہ عافیت کی دعا کرے اور کسی بھی مصیبت سے بچنے کے لیے اپنی طرف سے کوئی صورت تجویز نہ کرے مطلقاً مصیبت سے بچنے کے لیے دعا کرے پھر اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے محفوظ فرمائے اس طرح کے متعدد واقعات سنے گئے ہیں کہ بعض لوگوں نے اپنی طرف سے کوئی صورت تجویز کر کے دعا کرلی پھر جب اس دعا کا ظہور ہوا تو پشیمان ہوئے ‘ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو بہت زیادہ بیمار تھے ان کی آواز بہت زیادہ ضعیف تھی اور چوزہ کی طرح دبلے پتلے ہوگئے تھے آپ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے ہو انہوں نے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا تھا کہ مجھے آخرت میں جو عذاب دینا ہے تو اس کے بدلہ میں اسی دنیا میں تکلیف پہنچا دیجئے یہ سن کر آپ نے فرمایا سبحان اللہ تمہیں عذاب کی کہاں سہار ہے تم نے یہ دعا کیوں نہ کی (اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) ۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ (رواہ مسلم ص 343 ج 2) ایک اور صحابی نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے صبر دیجئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے مصیبت کا سوال کیا (کیونکہ صبر مصیبت پر ہوتا ہے) لہٰذا اب تو عافیت کا بھی سوال کرلے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 214 از ترمذی) مومن بندوں کو ہمیشہ عافیت ہی کا سوال کرنا چاہئے حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ سے معافی کا اور عافیت کا سوال کرو کیونکہ ایمان کی دولت کے بعد کسی کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو عافیت سے بہتر ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 219 از ترمذی) البتہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ گناہ سے بچنے کا مضبوط پختہ عزم و ارادہ رکھنا چاہئے گناہ سے بچنے کے سلسلے میں اگر کوئی تکلیف پہنچ جانے کا اندیشہ ہو تو بشاشت کے ساتھ قبول کرلے اور گناہ نہ کرے۔
Ayahs 12:34–36

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کرلی سو عورتوں کی چال بازی کو یوسف سے ہٹا دیا۔ بلاشبہ وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر نشانیاں دیکھنے کے بعد ان لوگوں کی سمجھ میں یہ آیا کہ ایک وقت تک یوسف کو جیل میں رکھیں۔

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف کے ساتھ دو جوان جیل میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں خواب میں اپنے کو دیکھ رہا ہوں کہ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں خواب میں اپنے کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں آپ ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے بلاشبہ ہم آپ کو نیک آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہیں۔

جیل میں دو قیدیوں کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر دینے کی درخواست کرنا جیسا کہ اوپر معلوم ہوا عزیز مصر کے مشورہ دینے والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بھجوا دیا۔ اسی موقع پر دو جوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے اور ان کے علاوہ پہلے سے بھی قیدی موجود تھے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ‘ عبادت گزار تھے خوش اخلاق تھے قیدیوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے صالحین کے چہرے پر تو نور ہوتا ہی ہے پھر یہاں تو نور نبوت بھی تھا اور ظاہری حسن و جمال بھی بےمثال تھا قیدی لوگ دلدادہ ہوگئے یہاں تک کہ جیلر بھی بہت زیادہ متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر میں خود مختار ہوتا تو آپ کو جیل سے رہا کردیتا ہاں اتنا کرسکتا ہوں کہ آپ کو اچھے طریقے پر رکھوں کوئی تکلیف نہ پہنچنے دوں۔ (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل ص 426 ج 2) یہ دو جوان جو نئے نئے انہیں دنوں جیل میں داخل ہوئے تھے ان کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ مصر کے کچھ لوگوں نے بادشاہ کو قتل کروانے کا منصوبہ بنایا تھا ان لوگوں نے ان دونوں کو استعمال کرنا چاہا ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا جو اسے پینے کی چیزیں پلایا کرتا تھا اور دوسرا خباز یعنی روٹی تیار کرنے والا تھا ‘ منصوبہ بنانے والوں نے ان دونوں سے کہا کہ تم کھانے پینے کی چیزوں میں زہرملا کر بادشاہ کو کھلا پلا دو ‘ پہلے تو دونوں نے بات قبول کرلی کیونکہ رشوت کی پیش کش کی گئی تھی پھر ساقی تو منکر ہوگیا اور خباز نے رشوت قبول کرلی اور کھانے میں زہر ملا دیا ‘ جب بادشاہ کھانے بیٹھا تو ساقی نے کہا کہ آپ کھانا نہ کھائیے کیونکہ اس میں زہر ہے اور خباز نے کہا آپ پینے کی کوئی چیز نہ پیجئے کیونکہ اس میں زہر ہے ‘ بادشاہ نے ساقی سے کہا کہ تو یہ جو کچھ میرے پلانے کے لئے لایا ہے اس میں سے پی لے اس نے پی لیا تو کوئی نقصان نہ ہوا پھر بادشاہ نے خباز کو کہا کہ تو اس کھانے میں سے کھالے وہ انکاری ہوگیا پھر وہ کھانا ایک جانور کو کھلایا گیا وہ جانور کھا کر ہلاک ہوگیا بادشاہ نے ساقی اور خباز دونوں کو جیل بھجوا دیا (بھیجنا تو چاہئے تھا صرف خباز کو لیکن تحقیق وتفتیش کی ضرورت سے ساقی کو بھی بھیج دیا) ان دونوں کو فکر پڑی ہوئی تھی کہ دیکھو کیا ہوتا ہے ہماری رہائی ہوتی ہے یا جان جاتی ہے اسی اثناء میں ان میں سے ایک نے خواب دیکھا کہ وہ انگور سے شیرہ نچوڑ رہا ہے جس سے شراب بنائی جاتی ہے (یہ خواب دیکھنے والا بادشاہ کا ساقی تھا) اور دوسرے یعنی (خباز) نے یہ خواب دیکھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے لے جا رہا ہے اور ان روٹیوں میں سے پرندے کھاتے جا رہے ہیں ‘ دونوں نے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنا خواب پیش کیا اور تعبیر دینے کی خواہش ظاہر کی اور ساتھ ہی یوں بھی کہا کہ آپ ہمیں اچھے آدمی معلوم ہوتے ہیں اندازہ یہ ہے کہ آپ کی بتائی ہوئی تعبیر درست ہوگی ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی تعبیر بتانے کا اقرار فرما لیا لیکن پہلے توحید کی تبلیغ فرمائی۔ (من معالم التنزیل)
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں خواب کی تعبیر بتادوں گا یہ اس علم میں ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ بلاشبہ میں نے ان لوگوں کے دین کو چھوڑ رکھا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں

تعبیر دینے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور توحید کی دعوت دینا سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے جب دونوں جوانوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو ان سے فرمایا کہ میں کھانا آنے سے پہلے تمہارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا لیکن اس سے پہلے تم مجھے پہچانو کہ میں کون ہوں ‘ عالم مبلغ اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے دعوت کے کام کے لیے طریقے سوچتا رہے اور راستہ نکالے اور ایسے موقع پر تو خاص طور پر موقع نکل آتا ہے جب کسی بےراہ کو مبلغ اور داعی کی ضرورت پڑجائے ‘ جب وہ اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کو غنیمت جانے اور پہلے اپنی دعوت حق والی بات کہے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسی پر عمل کیا اور موقع مناسب جان کر توحید کی تبلیغ فرما دی ‘ بظاہر تو یہ خطاب ان دونوں شخصوں کے لیے تھا جنہوں نے تعبیر پوچھی تھی لیکن حقیقت میں جیل کے تمام افراد کو توحید کی دعوت دینے کا راستہ نکل آیا کیونکہ ان دو شخصوں سے جو بات فرمائی وہ دوسرے قیدیوں بلکہ جیل کے عملہ سے چھپنے والی نہیں تھی اسی لئے خطاب میں سمیتم بصیغہ جمع فرمایا سمیتما بصیغہ تثنیہ نہیں فرمایا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اول تو اپنا تعارف کرایا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے منکر ہیں بلکہ میں اپنے باپ یعقوب اور دادا اسحاق و ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہوں جو موحد تھے اور توحید کے داعی تھے اور شرک سے بہت دور تھے اور ساتھ ہی شرک کی برائی عقلی طور پر بھی بیان فرمائی کہ ہمیں یہ کسی طرح سے زیب نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو اللہ کا شریک بنائیں ‘ جب اللہ نے پیدا کیا اور وہی رازق اور مالک ہے اور تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے تو پھر یہ کون سی عقلمندی کی بات ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے ‘ مزید فرمایا کہ یہ جو اللہ نے ہمیں عقیدہ توحید کی نعمت سے نوازا ہے اور جو کچھ علم عطا فرمایا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل ہے اور ہم پر ہی نہیں ان سب لوگوں پر بھی اس کا فضل ہے جو ہماری بات مانیں اور ہماری طرح موحد ہوجائیں اور ہمارے ساتھ توحید کی دعوت دینے میں شریک ہوجائیں ‘ ہر وہ شخص جسے اللہ نے کوئی بھی نعمت عطا فرمائی ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہو لیکن بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ شرک کی مزید قباحت اور مذمت بیان کرتے ہوئے خود انہی پر ایک سوال ڈال دیا اور عقلی طور پر انہیں فکر مند بنا دیا تاکہ وہ غور کریں کہ ہم جو شرک میں لگے ہوئے ہیں یہ عقل کے بھی خلاف ہے آپ نے ان سے فرمایا کہ اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو تم ہی بتاؤ کہ یہ جو تم نے بہت سے معبود جدا جدا تجویز کر رکھے ہیں ان سب کی عبادت کرنا ٹھیک ہے یا صرف معبود حقیقی وحدہ لا شریک ہی کی عبادت میں مشغول رہنا ٹھیک ہے ؟ ایک ایک کے سامنے ماتھا ٹیکے پھرو سونے کے بت کو بھی سجدہ کرو اور چاندی کے بت کے سامنے بھی جھکو اور پیتل کے بت کے سامنے بھی ہاتھ باندھ کر عاجزانہ طور پر کھڑے ہو اور پتھر کے بت کے سامنے بھی ڈنڈوت کرو یہ کیا سمجھ داری ہے ؟ یہ نہ ضرر دے سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں پھر ان کی عبادت سراپا بےوقوفی نہیں تو کیا ہے صرف اللہ واحد قہار کی عبادت کرنا لازم ہے میں نے اپنی بات کہہ دی تم بھی سوچو اور غور کرو۔ مزید فرمایا کہ تمہارے جو معبود ہیں یہ صرف نام ہی نام ہیں ان کے پیچھے حقیقت کچھ نہیں ہے ان کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے تجویز کئے اور خود ہی ان کو معبود بنا لیا ہے انہیں تو تمہاری عبادت کی خبر تک نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے ہر فیصلہ وہی معتبر ہے جو اس کی طرف سے ہو اس نے تو ان چیزوں کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی یہ جو کچھ غیر اللہ کی عبادت ہے سب تمہاری اپنی تراشیدہ باتیں ہیں اور باطل تخیلات ہیں اللہ تعالیٰ کا تو یہ حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو یہ سیدھا راستہ ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے وہ اپنی جہالت سے شرک کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔
Ayahs 12:38–41

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے باپ دادوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کا اتباع کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے کسی طرح بھی درست نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ کا فضل ہے اور لیکن بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو کیا بہت سے معبود جدا جدا بہتر ہیں یا اللہ بہتر ہے جو تنہا ہے زبردست ہے۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو وہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے تجویز کر لئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ حکم بس اللہ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہ سیدھا راستہ ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرے کو سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے جس بات کے بارے میں تم معلوم کر رہے تھے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔ یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں کی تعبیر دیدی تو وہ کہنے لگے کہ نہیں نہیں ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا۔ ہم تو یوں ہی دل لگی کے طور پر سوال لے کر آئے تھے اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (قُضَِی الْاَمْرُ الَّذِْی فِیْہِ تَسْتَفْتِیَانِ ) جس کے بارے میں تم سوال کر رہے تھے اب تو وہی فیصلہ ہوگا جو تعبیر کے ذریعہ بتایا جا چکا ہے۔ (روح المعانی ص 242 ج 12) اس بنا پر بعض علماء نے کہا ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بنا کر کسی تعبیر کے جاننے والے سے تعبیر لے گا تو تعبیر کے مطابق واقع ہوجائے گا اور جھوٹ بنانے کی اسے سزا مل جائے گی۔ (ابن کثیر ص 489 ج 2)
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور جن دو جوانوں نے خواب کی تعبیر دریافت کی تھی ان میں سے جس شخص کے بارے میں یوسف نے گمان کیا کہ وہ رہا ہونے والا ہے اس سے کہا کہ تو اپنے آقا کے سامنے میرا تذکرہ کردینا پھر اس شخص کو شیطان نے اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا سو یوسف جیل میں چند سال رہے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا نجات پانے والے قیدی سے یہ فرمانا کہ تم اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا اور آپ کا مزید چند سال جیل میں رہنا سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں جوانوں کے خواب کی تعبیر دے دی جن میں سے ایک شخص کے سولی دئیے جانے کا اور ایک شخص کے جرم سے اور جیل سے خلاصی پاجانے کا ذکر تھا جس شخص کے بارے میں اپنی تعبیر کے مطابق انہیں یہ خیال ہوا کہ اسے نجات ہوگی اس سے فرمایا کہ رہائی پا کر تم اپنے آقا کے پاس جاؤ تو اس سے میرا تذکرہ کردینا کہ جیل میں ایک ایسا شخص ہے۔ واقعہ مذکورہ میں قصور وار تو عزیز مصر کی بیوی تھی لیکن جیل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بند کردیا گیا تھا جو بےقصور تھے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسے جزوی معاملات کی سر براہ مملکت یعنی بادشاہ کو بھی اطلاع ہو اور اگر اسے خبر بھی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ جسے جیل میں ڈالا گیا ہے اس کے بےقصور ہونے کا علم بھی ہو۔ اس لیے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موقع مناسب جانا کہ بادشاہ کو اپنی شخصیت سے متعارف کرا دیں خواہ مخواہ جیل میں پڑا رہنا وہ بھی بغیر کسی قصور کے کوئی محبوب چیز نہیں ہے۔ تکوینی طور پر جو کوئی مصیبت آجائے اس پر صبر کرنا چاہئے لیکن اس مصیبت سے نکلنے کی کوشش کی جائے یہ بھی کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل کی مصیبت سے چھٹکارے کا ایک ذریعہ ملا اسے استعمال فرما لیا یعنی جس شخص کے بارے میں یہ گمان ہوا کہ جیل سے رہائی پا کر اپنے آقا کی خدمت میں پھر لگا دیا جائے گا اس سے فرمایا کہ تو اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا کہ جیل میں ایک ایسا شخص ہے۔ وہ شخص جیل سے رہا تو ہوگیا اور آقا کی خدمت میں بھی لگ گیا لیکن شیطان نے اسے بھلا دیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے آقا سے ذکر کرے ‘ لہٰذا حضرت یوسف (علیہ السلام) مزید جیل میں رہے۔ قرآن مجید میں (فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ ) فرمایا ہے کتنے سال جیل میں رہنا ہوا اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں صاحب روح المعانی نے سات سال اور بارہ سال کے اقوال لکھے ہیں لفظ بضع تین سے لے کرنو تک کے عدد پر دلالت کرتا ہے۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال قرآن کے بیان سے بہرحال یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں کی تعبیر دینے سے نجات پانے والے قیدی سے اپنی بات کہہ دینے کے بعد بھی چند سال جیل میں رہے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ بیشک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات گائیں موٹی ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور ان کے علاوہ خشک بالیں ہیں اے دربار والو مجھے میرے خواب کے بارے میں جواب دو اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو۔

مصر کے بادشاہ کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تعبیر دینا اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل سے رہا ہونے کا وقت آگیا تو اس کا یہ بہانہ بنا کہ مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا یہ ایک عجیب خواب تھا اور وہ یہ کہ سات موٹی موٹی گائیں ہیں انہیں سات دبلی گائیں کھائے جا رہی ہیں نیز سات ہری بالیں ہیں اور ان کے علاوہ ایسی بالیں ہیں جو خشک ہیں۔ یہ خشک بالیں ہری بالوں پر لپٹ رہی ہیں ان کے لپٹنے سے وہ ہری بالیں بھی خشک ہوگئیں ‘ بادشاہ نے اپنا خواب اپنے درباریوں سے بیان کیا اور ان سے کہا کہ میرے خواب کی تعبیر دو اگر تم تعبیر دینا جانتے ہو ‘ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے خیال میں تو یہ خواب تعبیر کے لائق ہی نہیں ہے ادھر ادھر کے خیالات ہیں جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے اور ہم تعبیر دینا جانتے بھی نہیں ہیں آپ کے خیالات پریشانی کی وجہ سے ہیں کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے کان میں پڑگئیں جو جیل سے رہا ہو کر دوبارہ بادشاہ کی خدمت میں لگا لیا گیا تھا وہ کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسا شخص معلوم ہے جو اس خواب کی صحیح تعبیر دے دے گا آپ لوگ مجھے بھیج دیں میں اس خواب کی تعبیر لے کر آتا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل میں جو خواب کی تعبیر دی تھی اس نے سمجھ لیا کہ اس خواب کی تعبیر وہی صاحب دے سکتے ہیں جنہوں نے ہمارے خواب کی تعبیر دی تھی اس شخص کو لوگوں نے روانہ کردیا جیل میں جا کر اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی وہ شخص واپس آیا اور درباریوں کو خواب کی تعبیر بتائی جس سے وہ بادشاہ بہت متاثر ہوا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب فرما لیا جس کا آئندہ آیات میں ذکر آ رہا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو تعبیر دی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال متواتر ایسے آئیں گے جن میں خوب پیداوار ہوگی اور پھر سات سال ایسے آئیں گے جن میں قحط ہوگا یہ قحط کے سات سال گزشتہ سالوں کی جمع شدہ پیداوار کو کھا جائیں گے سات موٹی گایوں اور سات ہری بالوں سے وہ سات سال مراد ہیں جو خوب ہرے بھرے ہوں گے اور خوب پیداوار کا زمانہ ہوگا اور سات دبلی گایوں سے اور سوکھی ہوئی سات بالوں سے قحط کے سات سال مراد ہیں ان سات سالوں میں گزشتہ سات سالوں کا جمع کیا ہوا ذخیرہ سب ختم ہوجائے گا تھوڑا سا جو اگلی پیداوار کی تخم ریزی کے لیے چھوڑے رکھو گے وہی بچ جائے گا ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نہ صرف تعبیر دی بلکہ قحط کے سات سالوں کی معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا اور فرمایا کہ پہلے سات سالوں میں جو لگ کر محنت اور کوشش کے ساتھ کھیتی کرو گے جب اس کھیتی کو کاٹو تو بس کھانے کی ضرورت بقدر ہی بالیوں میں سے دانے نکالنا باقی دانے بالوں میں ہی رہنے دینا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ بالوں کے اندر جو غلہ رہتا ہے اسے گھن نہیں لگتا ‘ کیڑا نہیں کھاتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ قحط کے سات سال گزر جانے کے بعد ایک سال ایسا آئے جس میں خوب بارش ہوگی اور اس کی وجہ سے کھیتیاں بھی خوب ہوں گی اور باغوں میں بھی خوب پھل آئیں گے ان پھلوں میں انگور بھی ہوں گے جنہیں لوگ نچوڑ کر شراب بنائیں گے ‘ بعض حضرات نے لفظ یَعْصِرُوْنَ کا معنی عام لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ انگور ہی کو نہیں نچوڑیں گے بلکہ دوسری چیزوں کو بھی نچوڑیں گے مثلاً زیتون کا تیل اور تل تیل نکالیں گے وغیرہ ذالک ‘ مطلب یہ ہے کہ پیداوار خوب ہوگی با فراغت زندگی گزاریں گے۔
Ayahs 12:44–50

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو یوں ہی خیالی خواب ہیں۔ اور ہم خوابوں کی تعبیر دینا جانتے نہیں ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور وہ شخص بول اٹھا جو دو قیدیوں میں سے رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آگیا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر سے باخبر کردوں گا لہٰذ تم لوگ مجھے بھیج دو ۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف اے سچے ہمیں ایسی سات موٹی گایوں کے بارے میں جواب دیجئے جنہیں سات دبلی گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات ہری بالوں اور ان کے علاوہ خشک بالوں کے بارے میں بتائیے تاکہ میں ان لوگوں کی طرف واپس ہوجاؤں امید ہے کہ وہ بھی جان لیں گے۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ سات سال لگاتار متواتر کھیتی تار کرو گے پھر جو جو تم کھیتی کاٹ لو تو اسے اس کی بالوں ہی میں چھوڑے رکھنا مگر تھوڑا سا جس سے تم کھاتے رہو۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سخت سات سال آئیں گے جو اس سب کو کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے سے بچا کر رکھا ہوگا بجز اس کے جو تم چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش ہوگی اور اس میں رس نچوڑیں گے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ سو جب قاصد یوسف کے پاس آیا تو یوسف نے کہا کہ تو اپنے آقا کے پاس واپس جا پھر اس سے دریافت کر کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بیشک میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔

بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب کرنا اور آپ کا تحقیق حال کے بغیر جیل سے باہر آنے سے انکار فرمانا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی اور جو شخص تعبیر پوچھنے کے لیے آیا تھا اس نے واپس جا کر تعبیر بتادی تو لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی اور بادشاہ نے سمجھ لیا کہ واقعی یہ تعبیر بتانے والا کوئی صاحب علم ہے جو تعبیر خواب کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے صرف تعبیر ہی نہیں دی بلکہ معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا کہ پہلے سات سال کی پیداوار کو محفوظ رکھنا اور دانوں کو بالوں کے اندر ہی رہنے دینا تاکہ اسے کیڑا نہ کھاجائے اس پر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا شوق ہوا اور اس نے آدمی بھیجا جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بادشاہ کی خواہش کا اظہار کردیا اور یوں کہا کہ بادشاہ نے آپ کو یاد کیا ہے اور طلب کیا ہے۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس وقت تک جیل سے نہ نکلوں گا جب تک یہ بات صاف نہ ہوجائے کہ مجھے جس واقعہ کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا ہے اس واقعہ میں کس کا قصور تھا۔ قاصد سے کہا کہ تو واپس جا اور بادشاہ سے تحقیق کر کہ جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے ان سے دریافت کرے کہ اس موقعہ پر اصل صورت حال کیا تھی ان کا قصور تھا یا میرا قصور تھا (عزیز مصر کی بیوی نے تو خواہش ظاہر کی ہی تھی دوسری عورتیں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال دیکھ کر ان پر ریجھ گئی تھیں) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلانے لگی اور دعوت دینے لگی تھیں (کما فی روح المعانی ص 335 ج 12) ۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر قاصد واپس آیا اور اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف کی بات نقل کردی تو اس نے عورتوں سے پوچھا کہ صحیح صورت حال بتاؤ وہ کیا واقعہ ہے جس میں تم یوسف کی طرف مائل ہو رہی تھیں اور انہیں پھسلا رہی تھیں ‘ ان عورتوں نے جواب دیا ہم نے یوسف میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی جس کی وجہ سے ان کی طرف کوئی برائی منسوب کرسکیں ‘ اگر ہم کوئی ایسی بات کہہ دیں جو حقیقت کے خلاف ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم اپنی بات کو سچا بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ یہ بات اللہ کے علم میں بھی ہے اللہ کا علم تو صحیح ہے ہم ایسی بات کہہ کر غلط بات اللہ کے علم کی طرف کیسے منسوب کریں گی ؟ لفظ حاش للہ میں اسی مضمون کو بتایا ہے ‘ جب ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت ظاہر کردی تو عزیز مصر کی بیوی بول پڑی کہ اس وقت حق ظاہر ہوگیا یوسف بےقصور ہے میں قصور وارہوں میں نے ہی اسے اپنی طرف بلایا اور پھسلایا تھا یوسف نے جو یہ کہا (ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ ) ( کہ اس عورت نے مجھے پھسلایا) اس میں وہ سچا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب اس بات کا علم ہوگیا کہ شاہی دربار میں میری برأت اور عفت و عصمت عورتوں کے اپنے اقرار سے ثابت ہوچکی ہے تو فرمایا (ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بالْغَیْبِ ) کہ میں نے جو جیل سے نکلنے میں دیر لگائی اور صورت حال کی تحقیق کے لیے بادشاہ کو آمادہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیز مصر کو پتہ چل جائے کہ میں نے اس کے پیچھے اس کے گھر میں کوئی خیانت نہیں کی (وَاَنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ کَیْدَ الْخَآءِنِیْنَ ) اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو نہیں چلنے دیتا (چنانچہ عزیز مصر کی بیوی نے جو خیانت کی تھی تحقیق کرنے پر خود اس کے اپنے اقرار سے اس کا خائن ہونا ثابت ہوگیا) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں بتاتا نفس انسانی کا کام ہی یہ ہے کہ وہ بار بار برائی کا حکم دیتا ہے ‘ ہاں جس پر اللہ رحم فرمائے وہ نفس امارہ کے شر سے بچ سکتا ہے بلکہ اس کا نفس ہی برائی کا حکم نہیں دیتا (وھو شان الانبیاء (علیہ السلام) میرا کمال نہیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا۔ اس نے مجھے بچا لیا چونکہ اپنی تعریف اور اپنا تزکیہ اچھی بات نہیں ہے اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی برأت ظاہر ہونے کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا ‘ سورة نجم میں ارشاد ہے (فَلَا تُزَکُّوْا اَنْفُسَکُمْ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی) اپنے نفسوں کی پاک بازی بیان نہ کرو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کس نے تقویٰ اختیار کیا ہے۔ فائدہ : جب بادشاہ کا قاصد آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے نکلنے میں نکلنے میں جلدی نہیں بلکہ اس واقعہ کی تحقیق کرنے کی فرمائش کی جو عزیز مصر کے گھر میں پیش آیا تھا اور اس کی بیوی نے اپنی خطا کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سر منڈھنے کی کوشش کی تھی ‘ اس میں دو حکمتیں تھیں اول تو یہ کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا کام تبلیغ واصلاح کا تھا جس شخص پر تہمت لگائی گئی ہو جب تک وہ صاف نہ ہوجائے اور تہمت کا جھوٹا ہونا ظاہر نہ ہوجائے اس وقت تک لوگوں میں تبلیغ موثر نہیں ہوسکتی لوگ کہیں گے کہ واہ میاں تم ہمیں تبلیغ کرتے ہو اور تمہارا اپنا یہ حال ہے۔ یوں تو ہر مسلمان کو اپنی ذات کو گناہوں سے اور شکوک و شبہات سے دور رکھنا اور مواضع تہمت سے بچ کر رہنا چاہئے اور اگر کوئی تہمت لگ جائے تو جہاں تک ممکن ہو اپنی صفائی کی کوشش کی جائے کیونکہ مطعون اور متہم ہو کر رہنا کوئی کمال کی چیز نہیں ہے اور نہ کوئی محمود چیز ہے۔ خاص کر جو لوگ دین داری میں مشہور ہیں اور بالخصوص وہ لوگ جو دعوت کا کام کرتے ہیں تعلیم و تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو خیر کی طرف بلاتے ہیں انہیں اپنی پوزیشن صاف رکھنی چاہئے اگر کوئی شخص تہمت لگا دے تو اس کی تردید کرے اور ایسی تدبیر کرے کہ لوگوں کے سامنے اس کی ذات مطعون اور متہم نہ بنی رہے۔ بہت سے لوگوں کو اس طرف توجہ نہیں رہتی وہ کہتے ہیں کہ اجی لوگوں کے کہنے سے کیا ہوتا ہے جھوٹا اپنے جھوٹ کی سزا پالے گا ‘ ہمیں تردید کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے کیونکہ اول تو عوام الناس کی خیر خواہی کے جذبہ کے خلاف ہے لوگوں کو غیبت اور تہمت میں مبتلا رکھنا یہ کوئی اچھی بات نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ مطعون اور متہم ہوتے ہوئے لوگوں کے پاس دینی بات لے کر جائیں گے تو وہ اثر نہ لیں گے اپنا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اپنی حیثیت کو صاف ستھرا رکھیں اور دوسروں کا بھی فائدہ اسی میں ہے تاکہ وہ غیبت سے محفوظ ہوجائیں اور انہیں داعی کی طرف سے جو بات پہنچے اسے قبول کرنے میں پس وپیش نہ کریں۔ حضرات معلمین مصلحین ‘ مرشدین ‘ مبلغین حضرات کو اس طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور دوسری حکمت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اندازہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور بڑا مرتبہ عطا فرمائے گا خواب میں گیارہ ستاروں اور چاند وسورج کا ان کو سجدہ کرنا اور بھائیوں نے جب انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر یہ وحی آنا کہ یہ بات تم انہیں بتاؤ گے اس سے ظاہر تھا کہ انہیں دنیا میں بھی کوئی بڑا اعزاز ملے گا لیکن ساتھ ہی ان پر تہمت بھی لگ گئی تھی انہوں نے مناسب جانا کہ میری حیثیت کو جو دھبہ لگایا گیا ہے وہ دھبہ دور ہوجائے بادشاہ جو بلا رہا ہے یہ اعزاز ملنے کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے لہٰذا جب موقعہ مل رہا ہے تو اپنی حیثیت کو صاف کردینا چاہئے تاکہ عہدہ ملنے کے بعد جن لوگوں سے واسطے پڑے ان کے دلوں میں یہ تکدر نہ آئے کہ اچھا یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں ایسا ایسا مشہور ہے جب کسی عہدہ والے کے بارے میں اس طرح کی بات پھیلی ہوئی ہو تو صاحب عہد کے دل میں بھی تکدر رہتا ہے اور کار مفوضہ کے ادا کرنے میں بشاشت نہیں ہوتی۔ یہاں ایک حدیث کا مضمون بھی سامنے رکھنا چاہئے ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں جیل میں اتنی مدت رہا ہوتا جتنی مدت یوسف جیل میں رہے پھر میرے پاس قاصد آتا تو میں اس کی بات مان لیتا (یعنی اسی وقت جیل سے نکل کر اس کے ساتھ چلا جاتا۔ ) (رواہ البخاری ج 1۔ ص 478) رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیوں فرمایا ؟ اس کے بارے میں بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ علی سبیل التواضع ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ فضیلت جزئی ہے حاشیہ بخاری (ج 1 ص 479) میں شاہ اسحاق صاحب سے نقل کیا ہے کہ آپ نے تبلیغ کے شوق شدید میں ایسا فرمایا یعنی آپ کا مطلب یہ تھا کہ جیل سے جلدی نکل کر توحید کی دعوت میں اور احکام الٰہی کے پہنچانے میں لگ جاتا اور آگے پیچھے کچھ نہ دیکھتا۔ تمت بالخیر
Ayahs 12:51–54

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس نے کہا کہ اے عورتو ! تمہارا کیا واقعہ ہے جب کہ تم نے یوسف سے اپنی مطلب براری کی خواہش کی۔ انہوں نے جواب میں کہا حاش للہ ہم اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ ہم یوسف کی طرف کوئی برائی منسوب کرسکیں۔ عزیز کی بیوی نے کہا اس وقت حق ظاہر ہوگیا میں نے ہی اپنی مطلب براری کے لیے اسے پھسلایا اور بیشک وہ سچے لوگوں میں سے ہے۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کے پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور بلاشبہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو نہیں چلنے دیتا۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بلاشبہ نفس برائی کرنے کا خوب زیادہ حکم دیتا ہے۔ بجز اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بیشک میرا رب غفور ہے رحیم ہے

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ میں اسے خالص اپنے لئے رکھوں گا پھر جب ان سے بات کی تو کہا بیشک آج تم ہمارے پاس با عزت ہو معتبر آدمی ہو۔

بادشاہ کا آپ کو دوبارہ طلب کرنا اور معاملہ کی صفائی کے بعد آپ کا بادشاہ کے پاس پہنچنا اور زمین کے خزانوں کا ذمہ دار بننا مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر سنتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلانے کی فرمائش کردی تھی اور اس مقصد کے لیے قاصد کو ان کے پاس جیل میں بھیج دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک جیل سے نکلنا گوارہ نہ فرمایا جب تک عزیز کی بیوی کی لگائی ہوئی تہمت سے برأت نہ ہوجائے۔ اس لیے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہو کہ معاملہ کی تحقیق کرے اور عورتوں سے پوچھے کہ صحیح صورت حال کیا ہے ؟ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر کردی عزیز کی بیوی بھی اقراری ہوگئی کہ میرا قصور تھا یوسف کا قصور نہیں تھا۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس جیل میں رہنے کی کوئی وجہ نہ تھی لہٰذا بادشاہ نے دوبارہ قاصد بھیجا تو اس کے ساتھ تشریف لے آئے بادشاہ نے اول تو خواب کی تعبیر مل جانے کی وجہ سے اور پھر تعبیر میں معیشت کے انتظام کی طرف جو اشارہ فرمایا تھا اس کے جان لینے سے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس حوصلے سے کہ میں بات کی صفائی ہونے تک جیل سے نہیں جاؤں گا یہ سمجھ لیا کہ یہ شخص کوئی بڑا عالم بھی ہے تعبیر خواب میں ماہر بھی ہے اور متقی اور صالح بھی ہے اور ہمت اور حوصلے والا بھی ہے لہٰذا اسے اپنے پاس بلانا چاہئے اور اپنے مشوروں اور انتظامی امور میں ان کو خاص درجہ دینا چاہئے ‘ اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ میں اسے خالص اپنے ہی لئے مقرر کرلوں گا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) تشریف لائے اور بادشاہ مصر سے ملاقات ہوئی تو آپس میں گفتگو ہونے لگی اس گفتگو سے بادشاہ کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اور زیادہ قیمت ووقعت بڑھ گئی اسے جو اپنے خواب کی تعبیر پہنچی تھی اس میں یہ بتایا تھا کہ اول کے سات سال سر سبزی اور شادابی کے ہوں گے اور اس کے بعد والے سات سال ایسے ہوں گے جن میں قحط پڑے گا اس کے لیے بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے مشورہ کیا آپ نے فرمایا اول کے سات سالوں میں خوب زیادہ کاشت کرانے اور غلہ اگانے کی طرف توجہ دی جائے اور جو پیداوار ہو اس میں سے بقدر ضرورت ہی کھائیں پئیں اور جو باقی بچے اسے محفوظ رکھیں اور پہلے بتا چکے تھے کہ غلے کو بالوں سے نہ نکالیں اسے انہیں میں رہنے دیں اور اسی طرح اسی کو ذخیرہ بنایا جائے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ یہ قحط صرف تمہارے ہی ملک میں نہیں آس پاس کے دیگر ملکوں میں بھی ہوگا وہاں کے حاجت مند غلہ لینے کے لیے آپ کے پاس آئیں گے ذخیرہ شدہ غلہ سے ان کی مدد بھی کریں اور تھوڑی بہت قیمت بھی ان سے وصول کریں اس طرح سے سرکاری خزانہ میں بھی مال جمع ہوجائے گا اور لوگوں کی مدد بھی ہوجائے گی ‘ شاہ مصر اس مشورہ سے بہت خوش اور مطمئن ہوا لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی سوال کیا کہ اس منصوبہ پر کیسے عمل ہوگا اور کون اس کے مطابق عمل کرسکے گا ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا (اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآءِنِ الْاَرْضِ ) کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے (اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ) بلاشبہ میں حفاظت کرنے والا ہوں جاننے والا ہوں ‘ چونکہ مالیات کا انتظام کرنے میں ایسی بیدار مغزی کی ضرورت ہے جس سے مال کی حفاظت ہو سکے چور بھی نہ لے سکیں اور نیچے کے لوگ بھی بیجا نہ اڑا سکیں اور بےوقت ‘ بےمحل اور بےضرورت بھی خرچ نہ کیا جائے اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ میں حفاظت کرنے والا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں علیم ہوں یعنی حفاظت کے طریقے بھی جانتا ہوں خرچ کرنے کے مواقع سے بھی باخبر ہوں حساب کتاب سے بھی واقف ہوں (وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں (یعنی سرزمین مصر میں) با اختیار بنا دیا (یَتَبَوَّأُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآءُ ) (وہ اس میں جہاں چاہے اپنا رہنا سہنا کرے) (نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ ) (ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیں) اللہ تعالیٰ کی رحمت جسے شامل حال ہوجائے وہ کیسی ہی مصیبت ہو مصیبت میں سے نکل کر اچھے رتبہ پر پہنچ جاتا ہے جب اللہ کی طرف سے کسی کے بلند کرنے کا فیصلہ ہو تو کوئی چیز اسے آڑے نہیں آسکتی اور مانع نہیں بن سکتی۔ (وَلَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم اچھے کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے) محسنین کو دنیا میں بھی نواز دیتے ہیں اور آخرت میں بھی (وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ خِیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) اور البتہ آخرت کا ثواب ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے تھے ‘ اس میں یہ بتادیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ محسنین کو جو کچھ انعام عطا فرما دے بلاشبہ وہ اپنی جگہ انعام ہے لیکن آخرت کا ثواب اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے لیے بہتر ہے ‘ اسی کا طالب رہنا چاہئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) منتظم مالیات اور منتظم معاشیات تو بنا دئیے گئے تھے جیسا کہ قرآن مجید کے سیاق سے معلوم ہوا مفسرین نے لکھا ہے کہ دیگر امور سلطنت بھی بادشاہ نے ان کے سپرد کر دئیے تھے اور خود گوشہ نشین ہوگیا تھا۔ یہاں مفسرین کرام نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اصولی بات یہ ہے کہ خود سے عہدہ کا طالب نہ ہونا چاہئے اور جو شخص عہدہ کا طالب ہوا سے عہدہ نہ دیا جائے احادیث شریفہ میں اس کی تصریح وارد ہوئی حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر بننے کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر تیرے سوال کرنے پر امارت تیرے سپرد کردی گئی تو تو اس کے سپرد کردیا جائے گا (یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تو جانے اور وہ جانے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیری مدد نہ ہوگی) اور اگر تجھے بغیر سوال کے امارت دے دی گئی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی۔ (رواہ البخاری) اور ایک حدیث میں ہے (جس کے راوی حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ہیں) کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انا واللہ لا نولی علی ھذا العمل احدا سالہ ولا احدا حرص علیہ۔ اللہ کی قسم ہم اپنے کام پر ایسے شخص کو نہیں لگاتے جو اس کا سوال کرے یا اس کی حرص کرے (رواہ البخاری) ۔ جب مسئلہ اس طرح سے ہے تو حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے لیے عہدہ کا مطالبہ کیوں فرمایا ؟ حضرات علماء کرام نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عامۃ الناس کی خیر خواہی کے لیے عہدہ کا سوال کیا انہیں معلوم تھا کہ سات سال تک ایک زبردست قحط آنے والا ہے۔ جب عام قحط پڑتا ہے تو لوگوں کی بری حالت ہوتی ہے ایک دوسرے پر رحم نہیں کھاتے اپنے بچوں تک کو بیچ کر کھا جاتے ہیں ‘ بادشاہ کافر ہے اس کا عملہ بھی کافر ہے قحط کا سامنا ہے ‘ اس میں بڑے انتظام کی ضرورت ہے کافروں سے امید نہیں جو غریبوں پر رحم کھائیں اور کوئی ایسا شخص سامنے نہیں جو معیشت کا انتظام سنبھال سکے لہٰذا انہوں نے اس خدمت کے لیے اپنی ذات کو پیش کردیا یہ تو ٹھیک ہے کہ عام حالات میں خود سے عہدہ طلب نہ کیا جائے اور جو عہدہ طلب کرے اسے نہ دیا جائے لیکن جہاں کہیں ایسی صورت پیش آجائے کہ مبتلیٰ بہ محسوس کرے کہ میرے علاوہ فرائض کو پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے علم کے ذریعہ میں اس کام کو انجام دیتا رہوں گا تو ایسے شخص کے لیے نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ واجب ہے کہ عہدہ کی ذمہ داری خود سنبھال لے اور آگے بڑھ کرلے لے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے علم دیا تھا اور انتظام کے لیے جس ہوشمندی کی ضرورت ہے وہ بدرجہ اتم موجود تھی اور ساتھ ہی وہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی تھے جس سے انہیں ہر وقت اللہ کی مدد کی امید تھی اور عہدہ پر فائز ہو کر توحید کی اشاعت اور تبلیغ حق کا راستہ کھلنے کا بھی بہت اچھا موقع تھا اس لئے انہوں نے نہ صرف یہ کہ عہدہ قبول فرما لیا بلکہ خود سے اس کا بار اٹھانے کی پیش کش کردی اور بادشاہ کو مطمئن کرنے کے لیے (اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ) بھی فرما دیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اپنا علم وفضل کسی صورت سے ظاہر کیا جائے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس میں حظ نفس نہ ہو اور تزکیہ نفس مقصود ہو۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کافر کی طرف سے عہدہ قبول کرنا اور کافر کی حکومت کا جزو بننا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کیسے گوارہ فرمایا جبکہ کافر حکومت کا کارکن بننے میں قوانین کفر یہ کو برداشت کرنا بلکہ ان کو نافذ کرنا پڑتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ذمہ مالیات کا انتظام لیا تھا اور انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی صوابدید کے مطابق انتظام کریں اور غلہ تقسیم کریں اپنے متعلقہ عہدے میں مختار ہونے کی صورت میں قانون کفریہ اور مظالم سلطانیہ کے نافذ کرنے کے لیے مجبور نہ ہو اپنا مفوضہ کام انجام دیتا رہے ایسی صورت میں کافروں کی طرف سے عہدہ قبول کرنے میں عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں۔ (قال صاحب الروح ج 13۔ ص 5) وفیہ دلیل علی جواز مدح الانسان نفسہ بالحق اذا جھل امرہ وجواز طلب الولایۃ اذا کان الطالب ممن یقدر علی اقامۃ العدل واجراء الاحکام الشریعہ وان کان من ید الجائر والکافر و ربما یجب علیہ الطلب اذا توقف علی ولایتہ اقامۃ واجب مثلا وکان متعینا لذلک ‘ وقال النسفی فی المدارک ج 2 ص 227 وانما قال ذلک لیتوصل الی امضاء احکام اللہ و اقامۃ الحق وبسط العدل والتمکن مما لاجلہ بعث الانبیاء الی العباد ولعلمہ ان احدا غیرہ لا یقول مقامہ فی ذلک فطلبہ ابتغاء وجہ اللہ لا لحب الملک والدنیا۔ قالوا وفیہ دلیل علی انہ یجوزان یتولی الانسان عمالۃ من ید سلطان جائر وقد کان السلف یولون القضاء من جھۃ الظلمۃ۔ وقیل کان الملک یصدر عن رایہ ولا یعترض علیہ فی کل مارای وکان فی حکم التابع لہ۔
Ayahs 12:55–58

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دو میں ان کی حفاظت کرنے والا ہوں جاننے والا ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح یوسف کو زمین میں با اختیار بنا دیا اس میں جہاں چاہے رہے ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیں اور ہم اچھے کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور البتہ آخرت کا ثواب ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے۔

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائی آئے سو وہ ان کے پاس اندر چلے گئے سو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ انہیں نہیں پہچان رہے تھے

برادران یوسف کا غلہ لینے کے لیے مصر آنا اور سامان دے کر آپ کا یہ فرمایا کہ آئندہ اپنے علاّتی بھائی کو بھی لانا اور ان کی پونجی ان کے کجاو وں میں رکھوا دینا سر سبزی و شادابی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط آگیا یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا آس پاس کے علاقوں میں بھی تھا۔ ملک شام بھی مصر کے ساتھ ملتا ہے یہاں بھی قحط تھا اور غلے کی ضرورت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد اور بھائی سر زمین فلسطین میں رہتے تھے جو شام کا ایک حصہ ہے ان لوگوں کو بھی علم ہوا کہ مصر میں غلہ ملتا ہے اور حکومت کی طرف سے دیا جا رہا ہے لیکن حکومت کا یہ دینا مفت میں نہیں ہے غلہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی مصر کے لئے روانہ ہوگئے ساتھ ہی مال بھی لیا تاکہ اس کے ذریعہ غلہ حاصل کرسکیں وہ زمانہ اونٹوں پر سوار ہو کر سفر کرنے کا تھا یہ لوگ سفر کر کے مصر کی خدمت میں پہنچ گئے جہاں وہ اندر کے کمرہ میں تشریف رکھتے تھے محکموں کے جو افسر اعلیٰ ہوتے ہیں وہ خود تو اشیاء واجناس اپنے ہاتھ سے تقسیم نہیں کرتے ان کے کارندے ہی تقسیم کرتے ہیں لیکن منظوری افسر اعلیٰ سے ہی لی جاتی ہے کہ کس کو مال دیا جائے اور کس قدر دیا جائے اس لیے ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس جانا پڑا ‘ جب ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے پہچان لیا کہ یہ تو میرے بھائی ہیں یہ دس بھائی تھے جو پہلی والدہ سے تھے (حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حقیقی بھائی بنیامین نامی ان کے ساتھ نہیں تھا) بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا انہیں اس کا گمان بھی نہ تھا کہ جسے ہم نے کنعان کے جنگل میں مصر کے قافلے کے کسی شخص کے ہاتھ بیچ دیا تھا وہ آج اتنے بڑے عہدہ پر ہوگا ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کسی تدبیر سے ان سے یہ کہلوا لیا کہ ہمارا ایک بھائی اور ہے جسے ہم اپنے والد کے پاس چھوڑ آئے ہیں اور بعض حضرات نے یوں لکھا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فی آدمی ایک ایک اونٹ غلہ بھر کر ان سب کو دے دیا تو انہوں نے کہا ہمارا ایک علاتی (باپ شریک) بھائی ہے اس کو ہمارے والد نے اس وجہ سے پاس رکھ لیا ہے اور ہمارے ساتھ نہیں بھیجا کہ ان کا ایک بیٹا گم ہوگیا تھا اس سے ان کی دلبستگی ہوتی ہے اور تسلی ہوتی ہے اس لئے اس کا حصہ بھی دیدیا جائے یعنی ایک اونٹ کا غلہ زیادہ مل جائے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو ہمارے قانون کے خلاف ہے جو شخص حاضر ہوتا ہے ہم اسی کو دیتے ہیں۔ برادران یوسف جب غلہ حاصل کر کے اپنے وطن کو واپس ہونے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب آنا ہو تو اپنے علاتی بھائی کو بھی لے آنا دیکھو میں پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی بھی کرتا ہوں تمہارا وہ بھائی آئے گا تو انشاء اللہ اس کو بھی پورا حصہ دوں گا اور ساتھ یہ فرما دیا کہ اگر تم اسے نہ لائے تو میرے پاس تمہارے نام کا کوئی غلہ نہیں اور تم میرے پاس بھی نہ پھٹکنا ‘ قحط کا زمانہ تو تھا ہی فی اونٹ جو غلہ ملا تھا اس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ کتنے دن کام دے سکتا ہے دوبارہ آنے کی بہر حال ضرورت پڑے گی اس لیے انہوں نے کہا کہ ہم اس کے والد سے عرض معروض کریں گے اور انہیں راضی کریں گے کہ اپنے بیٹے کو ہمارے ساتھ بھیج دیں اور یہ کام ہمیں ضرور کرنا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کارندوں سے فرمایا کہ یہ لوگ جو پونجی لے کر آئے ہیں جس کے ذریعے غلہ خریدا ہے ان کی اطلاع کے بغیر ان کے کجاو وں میں رکھ دیں امید ہے کہ جب یہ لوگ اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچیں گے اور سامان کھولیں گے تو یہ انہیں نظر آجائے گی اور اسے پہچان لیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہم غلے کی قیمت میں دے کر آئے ہیں جب اس پونجی کو دیکھیں گے تو امید ہے کہ پھر آئیں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ تدبیر اس لیے کی کہ وہ کسی طرح پھر واپس آئیں اور اپنے بھائی کو بھی لے کر آئیں اول تو ان سے آنے کا وعدہ لیا کہ جس بھائی کو چھوڑ آئے ہو اسے آئندہ سفر میں لے کر آنا اور دوسرے یہ وعید بھی سنا دی کہ اگر تم اس بھائی کو نہ لائے تو تم میں سے کسی کو اپنا حصہ بھی نہ ملے گا تیسرے یہ کیا جو پونجی انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر پیش کی تھی وہ انہیں کے سامان میں رکھوا دی۔ علماء تفسیر نے فرمایا کہ یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ انہیں اس کا یقین نہ تھا کہ ان کے پاس اس پونجی کے علاوہ مزید مال بھی ہوگا ممکن ہے مزید مال نہ ہو اگر یہ مال واپس چلا جائے گا تو اسی کو لے کر دوبارہ واپس آسکیں گے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب انہیں یہ خیال ہوگا کہ جس شخص نے ہمیں غلہ دیا اور پونجی بھی واپس کردی وہ کریم النفس ہے محسن ہے ایسے شخص کے پاس تو پھرجانا چاہئے ‘ اور بعض حضرات نے ایک نکتہ اور نکالا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت والد صاحب کو یہ معلوم ہوگا کہ ہماری پونجی واپس آگئی ہے جو مصری خزانے میں داخل ہونی چاہئے تھی اور اغلب ہے کہ بھول کر آگئی ہو لہٰذا حق بہ حق دار رسید کے تقاضے کے مطابق وہیں پہچانی چاہئے جہاں سے واپس آئی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو یہ کہاں برداشت ہوسکتا تھا کہ کسی کا حق ان کی طرف رہ جائے ‘ لہٰذا وہ اپنے بیٹوں کو دوبارہ ضرور بھیجیں گے اور اس طرح سے اپنے حقیقی بھائی بنیامین سے بھی ملاقات ہوجائے گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) نے خود ہی مشورہ دیا تھا کہ قحط کے زمانے میں غلہ قیمتاً دیا جائے گا اور اس میں کوئی استثناء نہیں تھا تو پھر انہوں نے اپنے بھائیوں کی پونجی کیسے واپس کردی ؟ اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اتنی پونجی انہوں نے اپنے پاس سے شاہی خزانے میں جمع فرما دی ‘ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ انہیں چونکہ اس بات کا یقین تھا کہ والد ماجد (علیہ السلام) اس پونجی کو ضرور واپس بھجوا دیں گے اس لیے ایک اعتبار سے ادھار دینا ہوا بالکل ہی بخش دینا نہ ہوا ‘ بہر حال جو بھی صورت ہو انبیاء کرام (علیہ السلام) پاک تھے ‘ معصوم تھے ‘ خیانت سے دور تھے انہوں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا ہم تک ہر بات کا پہنچنا ضروری نہیں۔ یہ لوگ غلہ لے کر اپنے وطن پہنچ گئے اور اپنے والد سے کہا کہ ابا جی اس مرتبہ تو غلہ لے آئے ہیں لیکن جو شخص غلہ دینے کا مختار ہے اس نے ہمیں غلہ دینے کی پابندی لگا دی ہے اور بندش کردی ہے ہاں صرف ایک صورت میں غلہ دینے کا وعدہ کیا ہے کہ ہمارا یہ بھائی بھی ہمارے ساتھ جائے لہٰذا آپ ہمارے اس بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اس کے حصے کا تو غلہ ملے ہی گا ہمارے حصہ پر جو پابندی لگا دی گئی ہے وہ بھی دور ہوجائے گی یہ بات ضرور ہے کہ آپ کو ہماری طرف سے اس کے بارے میں کوئی اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن آپ بھروسہ رکھیں ہم اس کی حفاظت کریں گے ‘ ان کے والد نے فرمایا کیا میں اس کے بارے میں تم پر ایسا ہی بھروسہ کروں جیسا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تم پر بھروسہ کیا تھا ؟ میں تم پر بھروسہ نہیں کروں گا ‘ اب تو بس یہ ہی کہتا ہوں کہ اللہ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے تمہارے اوپر میں بھروسہ نہیں کرتا اب جاؤ تو اسے لے جانا میں اسے اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ قال صاحب الروح استفھام انکاری الاکما امنتکم ای الا ائتمانا مثل ائتمانی ایاکم علی اخیہ یوسف من قبل وقد قلتم ایضا فی حقہ ماقلتم ثم فعلتم بہ ما فعلتم فلا اثق بکم ولا بحفظکم وانما افوض امری الی اللہ ص 11 ج 13 قلت و باعتبار ان لفظۃ ھل جاءت للاستفھام الانکاری الذی یدل علی النفی جیئ بحرف الاستثناء ای لا امنکم علیہ الاکما امنتکم علی اخیہ من قبل وذلک لم ینفعنی فکذلک لا ینفعنی الان وقد ترجمنا الایۃ بالحاصل فافھم۔