Ayahs 12:59–65برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف پھرجانا چاہئے لیکن شرط کے خلاف جانا بےفائدہ ہوگا لہٰذا بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ اس مرتبہ پھرجائیں اور غلہ لائیں اور جب بھائی کو ساتھ لے جانا ضروری ہے تو ہم بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک فرد زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید ایک اونٹ کا بوجھ بھی لے آئیں گے کیونکہ بنیامین کے حصے کا بھی غلہ ملے گا جو غلہ اب لائے ہیں یہ تو تھوڑا سا ہے یہ جلد ہی ختم ہوجائے گا لا محالہ دوبارہ جانا ہی پڑے گا۔ ان کے والد نے کہا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن تمہارا بھروسہ کیا ہے تم اس کی حفاظت کا وعدہ تو کر رہے ہو لیکن میں اسے جبھی تمہارے حوالہ کروں گا جبکہ اللہ کا نام لے کر خوب مضبوط عہد کرو یعنی قسم کھاؤ کہ اسے ضرور لاؤ گے اس پر انہوں نے قسم کھالی لہٰذا یعقوب (علیہ السلام) بنیامین کو بھیجنے پر راضی ہوگئے اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں پر نگہبان ہے وہ ہماری ان باتوں پر گواہ ہے لیکن ساتھ ہی (اِلَّا اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ) بھی کہہ دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے تو بھائی کی خوب حفاظت کرنا اور حفاظت میں کمی نہ کرنا لیکن اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ تم سب گھیرے میں آجاؤ (تم سب ہی ہلاک ہوجاؤ یا اس کی حفاظت سے واقعتا عاجز ہوجاؤ تو اس پر میں کیا مواخذہ کرسکوں گا معذوری اور مجبوری پر تو مواخذہ نہیں ہوسکتا) اس میں یہ بات بتادی کہ مجبوری کی حالت مواخذہ سے مستثنیٰ ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پہلے فرما دیا تھا کہ اب تم پر بھروسہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے یوسف کے بارے میں تم پر بھروسہ کیا تھا اس بھروسہ کا انجام تو یہ ہوا کہ یوسف سے جدائی ہوگئی لیکن اب یوسف کے بھائی کو لے جانے کی ضرورت پڑی تو تمہارے وعدہ کا بھروسہ نہیں کروں گا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت میں دوں گا پھر جب سامان سے پونجی نکل آئی اور دوبارہ غلہ لانے کے لیے مصر جانا مشورہ سے طے ہو ہی گیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اللہ کی مضبوط قسم کھاؤ کہ اس بھائی کی حفاظت کرو گے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بھروسہ صرف اللہ ہی پر تھا اور اللہ تعالیٰ ہی سے حفاظت کی امید تھی لیکن اسباب ظاہرہ کے طور پر بھائیوں سے بھی حفاظت کی قسم لے لی۔ معلوم ہوا کہ اسباب ظاہرہ اختیار کرنا تو کل علی اللہ کے منافی نہیں ہے۔
Ayahs 12:66–67حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹوں کو وصیت فرمانا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور یہ کہنا کہ میں نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ مصر کے لئے روانہ ہونے کے لیے تیار ہوگئے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے لیا چلنے لگے تو ان کے والد نے کہا کہ اے بیٹو ! تم سب ایک دروازہ سے داخل مت ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا ‘ مفسرین نے فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ وصیت اس لئے فرمائی کہ یہ لوگ خوبصورت تھے ان کو نظر لگ جانے کا خطرہ تھا نیز ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے بحیثیت ایک جماعت کے کسی جگہ پہنچیں تو اس میں حسد کا بھی اندیشہ تھا اس لیے انہوں نے متفرق دروازوں سے داخل ہونے کی نصیحت اور وصیت فرمائی نظر کا لگ جانا حق ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہوا ہے بد نظری سے بچنے کے لیے کوئی جائز تدبیر اختیار کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے مختلف دروازوں سے داخل ہونے کی وصیت تو فرما دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا (وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ ) (اور میں اللہ کے حکم کو تم سے ذرا بھی ٹال نہیں سکتا) مطلب یہ تھا کہ یہ جو مختلف دروازوں سے داخل ہونے کی فرمائش کی ہے یہ ایک محض ظاہری تدبیر ہے ‘ ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا وہ اگر کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو اسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔ (اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ) (حکم تو بس اللہ ہی کا ہے) (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ) نظر بد سے محفوظ رہنے کی ظاہری تدبیر تو میں نے بتادی جو سبب ظاہری کے طور پر ہے لیکن میرا بھروسہ اس تدبیر پر نہیں بلکہ میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو صرف اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
Ayah 12:68یہ گیارہ بھائی جب ملک مصر پہنچے تو جس شہر میں ان کو جانا تھا اس میں اپنے والد کے فرمان کے مطابق مختلف دروازوں سے داخل ہوئے ان کا یہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا اللہ کی کسی قضا اور قدر کو ٹالنے والا نہ تھا بس اتنی سی بات تھی کہ یعقوب (علیہ السلام) دل میں جو ایک حاجت تھی وہ پوری ہوگئی یعنی انہوں نے نظر بد سے بچنے کا ایک نسخہ بتایا تھا اس پر عمل ہوگیا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا۔ (وَاِنَّہٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰہُ ) (اور بلاشبہ وہ علم والے تھے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں علم عطا فرمایا تھا) وہ یہ سمجھتے تھے کہ تدبیر ایک ظاہری سبب ہے ‘ موثر حقیقی ‘ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جہالت سے اپنی تدبیر کو موثر حقیقی سمجھ لیتے ہیں۔
Ayah 12:69برادران یوسف کا مصر پہنچنا اور ان کا اپنے سگے بھائی کو یہ بتانا کہ رنج نہ کرنا میں تمہارا بھائی ہوں ‘ پھر اس کو روکنے کے لیے کجاوہ میں پیمانہ رکھ دینا ‘ یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں کا چوری ہونے کا اعلان کرنا ‘ اور برادران یوسف کا یوں فیصلہ دینا کہ جس کے کجاوہ میں پیمانہ نکلے اسی کو رکھ لیا جائے
یہ گیارہ بھائی جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جن میں بنیامین بھی تھے تو بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور کہا کہ لیجئے آپ کی شرط کے مطابق ہم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے آئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور کہا کہ لیجئے آپ کی شرط کے مطابق ہم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے آئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ہر دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھہرا یا دس آدمی پانچ کمروں میں ٹھہر گئے گیا رہواں بھائی بنیامین بچ گیا اس کو انہوں نے اپنے پاس ٹھہرا لیا ‘ اور بنیامین سے فرمایا کہ میں تمہارا حقیقی بھائی ہوں ‘ یہ لوگ اب تک جو عمل کرتے رہے ہیں جس سے تمہیں تکلیف پہنچی اس کے بارے میں رنجیدہ نہ ہونا۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس سے صرف نظر کرو اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا ہمیں اور تمہیں جمع فرما دیا۔ بھائیوں کو اکرام کے ساتھ ٹھہرایا ان کو سامان دیا لیکن چپکے سے پانی پینے کا ایک برتن جس سے غلہ ناپ کردیتے تھے اپنے بھائی کے کجاوہ میں رکھ دیا جو لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کارندے تھے غلہ ماپ کردیتے تھے انہوں نے دیکھا کہ وہ پیالہ غائب ہے جس سے غلہ ناپا جاتا ہے انہیں پتہ نہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں قافلہ والوں میں سے کسی کے سامان میں رکھ دیا ہے ان لوگوں کو حیرانی ہوئی اور باز پرس کا بھی ڈر ہوا لہٰذا ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو تم تو چور ہو ‘ یہ سنتے ہی برادران یوسف حیران رہ گئے انہیں اپنی جماعت کے کسی فرد کے بارے میں بھی چوری کرنے کا گمان نہ تھا لہٰذا وہ کہنے لگے کہ آپ لوگوں کی کیا چیز گم ہے جس کے بارے میں یہ اعلان ہو رہا ہے اور ہمیں مطعون اور متہم کیا جا رہا ہے ‘ ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے جس کے ذریعہ غلہ ناپ کردیا جاتا ہے اور جو شخص اس پیمانہ کو لے کر آئے ہم اسے ایک اونٹ بھر کر مزید غلہ دیں گے جو ہماری گمشدہ چیز کے لانے کا اکرامیہ ہوگا۔
جس شخص نے گمشدگی کا اعلان کیا تھا اس نے یہ بھی کہا کہ یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے جو بھی شخص یہ پیمانہ لے کر آئے گا اسے واقعی انعام دیا جائے گا اور میں اس کا ضامن اور ذمہ دار ہوں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ بھلا ہم اور چوری ؟ آپ لوگ خود ہی جانتے ہیں ہمارے طور طریق اور اعمال اور اخلاق کو دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین پر فساد کرنے کے لئے نہیں آئے ہم بھلا چوری کہاں کرسکتے ہیں ؟ نہ ہم پہلے سے چور ہیں اور نہ اب چوری کی ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گزاروں نے کہا کہ اگر تفتیش اور تلاش کے بعد تم لوگ اپنی بات میں جھوٹے نکلے اور تمہارے پاس سے ہمارا گمشدہ پیمانہ برآمد ہوگیا تو بتاؤ اس کے چرانے والے کی کیا سزا ہوگی ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے بھی کجا وہ میں وہ پیمانہ آئے اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے یعنی اسے غلام بنا لیا جائے اور ساتھ ہی (کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ) کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ ہمارے دین اور شریعت میں چور کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے (کہ چور کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے) ۔
Ayahs 12:70–76برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم تھا کہ اس کے کجاوہ میں ہے لیکن پہلے اس میں ہاتھ نہ ڈالا تاکہ وہ لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ ان کی آپس کی سازش ہے۔ بنیامین کے کجاوہ سے پیمانہ نکل آیا تو سب بھائی حیران رہ گئے۔ یہ تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بتائی کیونکہ شاہ مصر کے قوانین میں کوئی قانون نہ تھا کہ چوری کرنے والے کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دنیا اور آخرت میں درجات بلند فرمائے اور انہیں علوم عطا فرمائے انہیں علوم میں سے ایک تدبیر یہ بھی تھی جو ان کے اپنے بھائی کو روکنے کے لیے ان کے دل میں ڈالی۔ (وفوق کل ذی علم علیم) (اور ہر علم والے کے اوپر علم والا ہے) مطلب یہ ہے کہ بڑے سے بڑے عالم کے مقابلہ میں کوئی ایسا ضرور ہے جو اس سے زیادہ علم رکھنے والا ہے اور جسے ساری مخلوق سے زیادہ علم ہے اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ علم ہے۔
یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کے رنج اور صدمہ کا کیوں احساس نہیں فرمایا وہ برس ہا برس سے خود حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے غم میں گھل رہے تھے تھوڑی بہت جو تسلی بنیامین سے تھی وہ بھی ختم ہوئی انہیں مزید تکلیف پہنچانے کی کیسے ہمت ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پروگرام اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کو جلد ہی بلانے کا تھا اور بھائی کا روک لینا اس لئے تھا کہ والد ماجد ان دونوں کو تلاش کرنے کے لیے بھیجیں اور یہ لوگ تیسری بار پھر آئیں اگر بھائی کو نہ روکتے تو ممکن تھا کہ پھر والد کے بھیجنے پر بھی یہ لوگ نہ آتے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کو یہ لوگ مردہ کہہ ہی چکے تھے اب کم از کم ایک بھائی کی تلاش کرنا تو لازم ہی تھا لا محالہ انہیں اپنے والد کے فرمان پر تیسری بار آنا پڑا جیسا کہ آئندہ رکوع میں اس کا ذکر آ رہا ہے ‘ یہاں بعض حضرات نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آزاد کو غلام بنانا کیسے درست ہوا ؟ یہ سوال کوئی وزنی نہیں ہے کیونکہ حقیقی غلام نہیں بنایا تھا صرف روکنے کا بہانہ تھا پھر یہ استرقاق شریعت یعقوبی کے مطابق تھا جو اس زمانہ میں شریعت اسلامیہ تھی جسے ان کے بھائیوں نے (کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ) کہہ کر ظاہر کردیا تھا ‘ اور ممکن ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے جس شریعت پر تھے اس میں بھی چور کا استر قاق جائز ہو ‘ واللہ تعالیٰ اعلم۔
بعض حضرات نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اپنی ضرورت سے دوسرے کو چوری کا الزام لگانا کیسے درست ہوا ؟ جو شخص بری ہو اسے الزام لگانا معاصی کبیرہ میں سے ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے الزام نہیں لگایا انہوں نے تو صرف کجا وہ میں پیمانہ رکھ دیا تھا البتہ کارندوں نے پیالہ نہ پا کر چوری ہونے کا اعلان کردیا ان لوگوں نے بھی اپنے خیال میں الزام نہیں لگایا تھا بلکہ حالات کے اعتبار سے انہیں یقین تھا کہ انہیں میں سے کسی نہ کسی شخص نے پیمانہ رکھ لیا ہے ‘ لیکن یہ اشکال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ یہ تو معلوم ہی تھا کہ پیمانہ رکھنے کے بعد جب برآمد ہوگا تو چھوٹے بھائی پر پوری طرح چوری کرنے والی بات لگ جائے گی اور اس طرح اس کی بےآبروئی ہوگی ‘ بعض حضرات نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ بنیامین اپنے بھائیوں کے ساتھ رہنے سے ایسے تنگ ہوگئے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہ جانے کے لیے چوری کے الزام میں گرفتار ہونا تک گوارہ کرلیا اور دونوں بھائیوں کے مشورے سے ایسا ہوا۔
یہاں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ اس الزام کی حقیقت جلد ہی کھل جانے والی تھی اور آئندہ سب پر آشکارا ہوجانے والا تھا کہ انہوں نے چوری نہیں کی تھی بلکہ یہ ان کے روکنے کے لیے ایک تدبیر کی گئی تھی تو اس الزام کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے بھائی کو روکنے کا راستہ بھی نکل آیا اور پھر وہ الزام جلد ہی دفع بھی ہوگیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 12:77–78برادران یوسف (علیہ السلام) کا درخواست کرنا کہ بنیامین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب دینا
جب بنیامین کے کجا وہ سے پیالہ برآمد ہوگیا تو بھائیوں کو سخت ندامت ہوئی ‘ کچھ تو غصہ اور کچھ خفت مٹانے کا جذبہ کہنے لگے اگر اس نے چوری کی ہے تو کون سے تعجب کی بات ہے اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے ‘ اس بھائی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) مراد ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی بات سن تو لی جس میں ان کی ذات پر حملہ تھا لیکن ان کی بات کا جو جواب دینا تھا اسے زبان پر نہ لائے البتہ اپنے دل میں کہا کہ تم اسے اور اس کے بھائی کو چور بتا رہے ہو حالانکہ تم چوری کے درجہ سے اور بھی زیادہ برے ہو ‘ ہم دونوں بھائیوں نے تو چوری کی ہی نہیں لیکن تم نے اتنا بڑا برا کام کیا کہ آدمی غائب کردیا۔ یعنی مجھے باپ سے چھڑا دیا اور بہانہ کر کے ان کے پاس سے لے آئے پھر ان کے پاس واپس نہ لے گئے اور چند درہم کے عوض آزاد کو غلام بنا کر بیچ دیا یہ تو دل میں کہا اور علانیہ طور پر فرمایا (وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کرتے ہو۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف جو ان کے بھائیوں نے چوری کی نسبت کی اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے پانچ قول نقل کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دستر خوان سے کھانا لے کر چھپالیتے تھے اور فقراء کو دے دیتے تھے اسی کو بھائیوں نے چوری بنا لیا ممکن ہے ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو ‘ اسرائیلی روایات ہیں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا علامہ قرطبی نے ص 339 ج 9 ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ چوری کا کوئی قصہ تھا ہی نہیں ان لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی بات بالکل ہی جھوٹ کہی تھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں جو جواب دیا اور (اَنْتُمْ شَرٌّ مَّکَانًا) فرمایا یہ سب دل ہی دل میں تھا یکن برادران یوسف پہلے ہی اپنے والد سے شرمندہ تھے اور ان کے ایک چہیتے لڑکے کو گم کرچکے تھے اور اب یہ دوسرا واقعہ پیش آگیا کہ بڑے عہد و پیمان کے ساتھ ان کے دوسرے پیارے کو لائے تھے اب وہ بھی گرفتار کرلیا گیا اور روک لیا گیا ‘ حیران تھے اور پریشان تھے کہ والد کو کیا جواب دیں گے کیا کریں اور کیا نہ کریں پھر ایک تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ عزیز سے عرض کریں کہ یہ جو ہمارا سوتیلا بھائی چوری کی وجہ سے پکڑا گیا یہ اس کے بوڑھے باپ کے لئے بہت زیادہ مصیبت کی بات ہوگی ان کو اس سے بہت زیادہ محبت اور انس ہے اور ان کی عمر بھی بہت زیادہ ہے اس کے واپس نہ بھیجنے سے ان کا برا حال ہوگا لہٰذا آپ ہم میں سے کسی بھی ایک کو اس کی جگہ رکھ لیجئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ احسان کرنے والوں سے ہیں لہٰذا آپ کرم فرمائیے اور ہماری یہ تجویز منظور کرلیجئے (اپنے والد کے سامنے شرمندہ ہونا ان کو اتنا زیادہ کھل رہا تھا کہ غلام بن کر رہنے کو تیار تھے) ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم ایسا کیسے کرسکتے ہیں ‘ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم کسی غیر مجرم کو پکڑ لیں ‘ اگر ہم ایسا کریں گے تو ظالم ہوجاویں گے ہم تو صرف اسی کو پکڑیں گے ‘ جس کے پاس سے سامان پایا (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے احتیاط سے کام لیا اور یوں نہیں فرمایا کہ جس نے ہمارا سامان چرایا ہم اسی کو رکھیں گے (کیونکہ چوری تھی ہی نہیں) بلکہ یوں فرمایا جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اسی کو رکھ سکتے ہیں) ۔
Ayahs 12:79–80برادران یوسف کا ایک جگہ جمع ہو کر مشورہ کرنا اور بڑے بھائی کا یوں کہنا کہ میں تو یہاں سے نہیں جاتا تم لوگ جاؤ اور والد کو چوری والی بات بتادو
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ناامید ہوگئے کہ وہ کسی طرح سے بنیامین کو واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ جو پیشکش کی تھی کہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں اس کو بھی انہوں نے نہیں مانا بلکہ اسے ظلم قرار دے دیا تو وہاں سے ہٹ کر اب مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں ‘ ان میں جو بڑا بھائی تھا جس کا نام کسی نے یہود اور کسی نے شمعون اور کسی نے روبیل بتایا ہے اس نے باقی بھائیوں سے خطاب کر کے کہا کہ آپ لوگوں کہ معلوم ہے کہ جب اپنے والد سے رخصت ہو رہے تھے تو مضبوط قسم لی تھی اور فرمایا تھا کہ اسے تم ضرور ساتھ لے کر آؤ گے (لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖ ) اب یہاں یہ صورت حال پیش آگئی کہ بنیامین کو عزیز مصر نے روک لیا اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو ‘ اب والد صاحب کے پاس کس منہ سے جائیں پہلے ہی ان کو یوسف کی جدائی سے بہت زیادہ رنج تھا اور اب یک نہ شددو شد بنیامین کی جدائی کا مسئلہ سامنے آگیا لہٰذا میں تو اب یہاں سے ٹلنے کا نہیں اگر والد صاحب کو پوری صورت حال معلوم ہوجائے اور وہ مجھے آنے کی اجازت دے دیں یا اللہ پاک کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ ہوجائے جس سے ہماری مشکل حل ہوجائے (مثلاً ہمارا بھائی واپس مل جائے) تب ہی میں یہاں سے جاسکتا ہوں اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
بڑے بھائی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بھائیوں سے یوں بھی کہا کہ تم لوگ اپنے والد کے پاس چلے جاؤ اور ان کی خدمت میں عرض کر دو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کرلی اور چوری کی وجہ سے انہیں وہیں روک لیا گیا اور ہماری یہ گواہی ہمارے علم کے مطابق ہے (ہم نے خود دیکھا کہ اس کے سامان سے پیمانہ برآمد ہوا) (وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ) ہم جو قسم کھا کر اس کی حفاظت کا وعدہ کر کے گئے تھے وہ ہماری قدرت اور اختیار تک محدود تھا ہمیں کیا معلوم تھا کہ چوری کا واقعہ پیش آجائے گا اور ایسی صورتحال بن جائے گی کہ ہم آپ کے بیٹے کو واپس لانے سے عاجز ہوجائیں گے گویا کہ انہوں نے اپنے بھائیوں کو یہ تلقین کی کہ ہم جو بنیامین کو اپنے ہمراہ نہ لاسکے یہ اسی استثناء والی صورت میں داخل ہے جو والد صاحب سے (اِلَّا اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ) کہہ کر خود ہی بیان کردی تھی۔ مفسرین نے ان کے کلام کا یہ مطلب بتایا کہ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکلا اس نے اسے خود رکھ لیا تھا یا مقامی لوگوں میں سے کسی نے رکھ دیا تھا اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
بڑے بھائی نے مزید کہا کہ اپنی بات والد صاحب کو باور کرانے کے لیے یہ بھی کہنا کہ ہمارے بیان پر آپ اعتماد نہ کریں تو مصر کی جس بستی میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کے لوگوں سے دریافت کرلیجئے اور اس سے بھی آسان تر بات یہ ہے کہ یہاں سے غلہ لینے کے لیے صرف ہم ہی لوگ نہیں گئے تھے ہماری بستی کے رہنے والوں میں سے اور لوگ بھی گئے تھے ہم جس قافلہ کے ساتھ مصر سے واپس آئے ہیں ان سے دریافت کرلیجئے وہ تو یہیں اسی بستی میں موجود ہیں (وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ) آپ مانیں یا نہ مانیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سچے ہیں۔
Ayahs 12:81–83برادران یوسف کا اپنے والد کو چوری کا قصہ بتانا اور ان کا یقین نہ کرنا اور فرمانا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جب سارا ماجرا سنایا اور بنیامین کے پکڑے جانے کا واقعہ بتایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یقین نہ آیا۔ انہوں نے وہی الفاظ دہرا دئیے جو حضرت یوسف کی گمشدگی کے موقع پر فرمائے تھے یعنی (بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) کہ میرے نزدیک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ بنیامین نے چوری کی ہو اور اسے وہیں دھر لیا گیا ہو میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ تمہارے نفسوں نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے جو مجھے سمجھا رہے ہو ‘ واقعہ کچھ اور ہے اور بیان کچھ اور فَصْبَرٌ جَمِیْلٌ میں صبر ہی کروں گا جس میں شکایت نہ ہو (اور کر بھی کیا سکتا ہوں) میرے دل کی تو یہی آواز ہے کہ انشاء اللہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یوسف اور اس کا بھائی بنیامین اور تیرا بھائی (جو تمہارے ساتھ نہیں آیا) ان تینوں کو اللہ تعالیٰ میرے پاس پہنچا ہی دے گا اسے پورے حالات کا علم ہے اور ان سب واقعات کے پیش آنے میں حکمتیں ہیں یہ فرما کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے لڑکوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے گے کہ یوسف کی جدائی پر افسوس ہے یوسف (علیہ السلام) کی جدائی پر روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں اور شدت غم کی وجہ سے اندر سے گھٹے ہوئے رہتے تھے ‘ ان کے بیٹوں نے کہا کہ اللہ کی قسم آپ یوسف کو بھولتے ہی نہیں اسے آپ برابر یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گھل کر رہ جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک ہوجائیں گے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں میرے رونے سے کیا بحث ہے میں اپنے رنج وغم کی شکایت اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں مجھے اللہ کی طرف سے جو علم دیا گیا ہے وہ تمہیں نہیں دیا گیا ‘ میں تو یہی جانتا ہوں کہ یوسف اور اس کے بھائی سے ضرور ملاقات ہوگی اب تم میری بات مانو اور یوسف اور اس بھائی کو تلاش کرو انشاء اللہ ان سے ملاقات ہوجائے گی اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو ‘ جو لوگ کافر ہیں وہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جیسے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے بھائیوں کی بات کی تصدیق نہ کی (جو انہوں نے کہا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا) اسی طرح بنیامین کے بارے میں انہوں نے چوری اور چوری کی وجہ سے پکڑے جانے والی جو بات کہی تھی اس کو بھی سچا نہیں مانا۔ حالانکہ وہ بظاہر اس بیان میں سچے تھے ‘ جب کوئی شخص ایک مرتبہ جھوٹا ثابت ہوجائے تو اس کا اعتبار نہیں رہتا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا کہ اللہ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اس علم کے بارے میں ایک قول تو یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو خواب دیکھا تھا کہ مجھے گیارہ ستارے چاند اور سورج سجدہ کر رہے ہیں اس کی تعبیر اب تک پوری نہیں ہوئی تھی وہ جانتے تھے کہ ایسا ہونا ضروری ہے کہ یوسف موجود ہو اور گیارہ ستارے یعنی سارے بھائی (جن میں بنیامین بھی تھے اور وہ بڑا بھائی بھی تھا جو مصر میں رہ گیا تھا) اور ماں باپ سجدہ کریں گے لہٰذا نہ یوسف کو موت آئی ہے نہ اس کی ملاقات سے پہلے مجھے دنیا سے جانا ہے ‘ سب کو ایک دن جمع ہونا ہی ہے ‘ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں الہام ہوگیا ہو یا بذریعہ وحی اطلاع دے دی گئی ہو واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اسی علم و یقین کی بنیاد پر کہ یوسف دنیا میں زندہ موجود ہے اور اس گمان پر کہ یوسف کے بھائی بنیامین کے بارے میں جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں ہے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ (اس میں تیسرے بھائی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ وہ بھائیوں کے بیان کے مطابق مصر میں موجود تھا اور اپنے قصد و ارادہ سے وہاں رہ گیا تھا) ۔
Ayahs 12:84–88برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی ہونے کے بعد پھر غلہ ملنے کا سوال اٹھایا اور ان سے کہا کہ اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو قحط کی وجہ سے تکلیف پہنچی ہے ہمیں غلہ کی ضرورت ہے لیکن ہمارے پاس غلہ لینے کے لئے وہ قیمت بھی نہیں جو قیمت کہنے کے لائق ہو کچھ لائے تو ہیں جو نکمی چیز ہے اس لائق تو نہیں کہ اسے آپ قبول کریں لیکن پھر بھی ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں پورا غلہ دے دیجئے (مفسرین نے اس بارے میں کئی باتیں لکھی ہیں کہ وہ پونجی کیا تھی جسے وہ خود ہی نکمی چیز بتا رہے تھے صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ کھوٹے درہم تھے جن کی قیمت پوری نہیں ملتی تھی) ۔
غلہ طلب کرنے کے ساتھ انہوں نے (وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا) بھی کہا مفسرین نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں ایک معنی تو یہ ہے کہ ہماری پونجی نکمی بھی ہے اور تھوڑی بھی ہے۔ آپ اسے قبول فرمائیں اور ایک معنی یہ ہے کہ ہمیں اپنی طرف سے کچھ مزید بلا قیمت بطور صدقہ عطا فرما دیجئے اور بعض حضرات نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ غلہ عطا فرمانے کے ساتھ یہ کرم فرمائیے کہ ہمارے بھائی بنیامین کو واپس کر دیجئے ‘ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس صورت میں تصدق بمعنی تفضل ہوگا یعنی مہربانی فرما کر ہمارے بھائی کو ساتھ بھیج دیجئے لیکن (اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ) سے معنی اول ہی کی تائید ہوتی ہے۔ (کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزاء عطا فرماتا ہے) ۔
Ayah 12:89وہ لوگ اپنی معروض پیش کر ہی رہے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سوال فرمالیا (ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ ) (کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جاہل تھے) بھائیوں نے تو غلہ طلب کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے یہ فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ بعض حضرات نے ان دونوں باتوں میں ربط بتاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ جو تم کہہ رہے ہو کہ قحط سالی کی وجہ سے ہمارے اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے یہ تو بہت بڑی تکلیف نہیں کسی نہ کسی طرح زندگی گزار ہی رہے ہو پھر یہ تکلیف ابھی قریب زمانہ ہی سے شروع ہوئی ہے لیکن تم نے برسہا برس سے جو اپنے والد کو یوسف سے جدا کر کے تکلیف پہنچائی ہے ‘ اور بنیامین کے ساتھ جو یوسف کے بعد بدسلوکی کرتے رہے ہو بتاؤ تمہارے والد کے لئے اور سارے گھر والوں کے لیے کونسی تکلیف زیادہ ہے۔ یہ عارضی غلے کی کمی زیادہ تکلیف دہ ہے یا وہ تمہاری سابقہ حرکتیں زیادہ تکلیف دہ ہیں ؟ اپنے اس سوال کو انہوں نے استفہام تقریری کی صورت میں ان پر ڈال دیا اور فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ یہ بات سن کر انہیں بڑا اچنبھا ہوا کہ عزیز مصر کو یوسف کا قصہ کہاں سے اور کیسے معلوم ہوا ؟ اور مزید یہ کہ اسے اس کے بارے میں دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہیں اس کا ذرا احتمال نہ تھا کہ یہ سوال کرنے والا شخص یوسف ہوسکتا ہے اور یوسف ایسے بڑے مرتبہ پر پہنچ سکتا ہے لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوال کا جو انداز تھا اس سے انہوں نے بھانپ لیا کہ ہو نہ ہو یہ سوال کرنے والا شخص یوسف ہی ہے ‘ لہٰذا وہ کہنے لگے (اَءِنَّکَ لَاَنْتَ یُوْسُفَ ) (کیا واقعی تم یوسف ہو) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا (اَنَا یُوْسُفُ وَھٰذَا اَخِیْ ) (میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے) (قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا) (بلاشبہ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا) گویا اشارۃً یوں فرما دیا کہ تم نے تو ظلم و زیادتی میں کسر نہ چھوڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا جو تکلیفیں پہنچی تھی ان کا ذکر نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ‘ مومن کی یہی شان ہے کہ تکلیف میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے اور مصیبت کے ٹل جانے کے بعد بھی جو نعمتیں ملتی رہتی ہیں ان پر نظر رکھتا ہے اور برابر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے پھر یہ شکر نعمتوں کے اور زیادہ بڑھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جیسا کہ سورة ابراہیم میں فرمایا (لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ ) (البتہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں ضرور ضرور اور زیادہ دوں گا) ۔
Ayah 12:90مزید فرمایا : (اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں فرماتا) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بطور قاعدہ کلیہ کے یہ بات بتادی کہ تقویٰ اور صبر کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مصائب سے نجات دلانے والی ہیں ‘ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے صبر اور تقویٰ اختیار کیا اس لئے اس مرتبہ کو پہنچا کیونکہ اس میں ایک طرح سے اپنی تعریف تھی ‘ اور بھائیوں سے یوں نہیں کہا کہ تم متقی اور صابر نہیں ہو بلکہ قاعدہ بتا کر انہیں تنبیہ فرما دی کہ تمہیں متقی ہونا چاہئے تھا در حقیقت تقویٰ بہت بڑی چیز ہے آخرت میں تو اس کا نفع سامنے آ ہی جائے گا دنیا میں بھی مشکلات اور مصائب سے نکلنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے ‘ سورة نحل میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو لوگ اچھے کام کرنے والے ہیں) سورة طلاق میں فرمایا (وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ) (اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوتا اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کو کافی ہے۔ ) نیز فرمایا۔ (وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا) (جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور اس کے لیے بڑا اجر مقرر فرما دے گا) ۔
صبر بھی بہت بڑی چیز ہے صابر آدمی کو وقتی طور پر تکلیف تو ہوتی ہے لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد پہنچ جاتی ہے سورة بقرہ میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) (اے ایمان والو مدد طلب کرو نماز اور صبر کے ساتھ بلاشبہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے) سورة زمر میں فرمایا (اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (صبر کرنے والوں کو بلا حساب پورا پورا اجر دیا جائے گا) جسے صبر کی نعمت مل گئی اسے بہت بڑی نعمت مل گئی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ومن یتصبر یصبرہ اللہ وما اعطی حد عطاء ھو خیرو اوسع من الصبر (رواہ البخاری ومسلم کما فی المشکوٰۃ ص 163) جو شخص صبر کرنا چاہے اللہ تعالیٰ اسے صبر دے دیتا ہے اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کسی چیز کی بخشش نہیں کی گئی) بعض اہل معرفت کا قول ہے الصبر امر من الصبر واحلی من الثمر (صبرایلوے سے زیادہ کڑوا ہے اور پھلوں سے زیادہ میٹھا ہے) حضرت یوسف و یعقوب ( علیہ السلام) نے صبر کیا اس کا پھل پایا اہل ایمان کو صبر اختیار کرنا چاہئے صبر میں اجر بھی ہے اور وہ دفع مصائب اور حل مشکلات کا ذریعہ بھی ہے۔
Ayah 12:91حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو پتہ چل گیا کہ عزیز مصر جو ہمیں غلہ دیتا رہا ہے یہ تو ہمارا بھائی یوسف ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈالا تھا ‘ پہلے دو بار جو غلہ لینے کے لئے آئے تھے یوسف (علیہ السلام) کو نہ انہوں نے پہچانا تھا اور نہ انہیں یہ گمان تھا کہ یہ شخص ہمارا بھائی یوسف ہوسکتا ہے لیکن تیسری مرتبہ کے چکر میں جب بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ یوسف ہے تو آنکھیں نیچی ہوگئیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر جو اللہ نے احسان فرمایا اس کے اقرار کے ساتھ اپنے جرم کے اعتراف کے بغیر چارہ نہ رہا لہٰذا ان کی زبان سے یہ نکلا (تَاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِءِیْنَ ) (اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر ترجیح دے دی اور فضیلت اور برتری سے نواز دیا اور بلاشبہ ہم خطا کار ہیں) یہاں صرف اقرار جرم کا ذکر ہے معافی مانگنے کا ذکر نہیں ہے لیکن بلند اخلاق کریم النفس لوگوں کا بڑا حوصلہ ہوتا ہے ان کے نزدیک جرم کا اقرار کرلینا ہی معافی مانگنے کے درجے میں ہوتا ہے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے تو معاف کیا ہی تھا اللہ تعالیٰ سے بھی ان کے لئے مغفرت کی یوں دعا کردی (یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ) (اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے) ۔
Ayah 12:92رسول اللہ ﷺ نے بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں تیرہ (13) سال جن مصیبتوں کے ساتھ گزارے اور قریش مکہ کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں حتیٰ کہ آپ کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا یہ سب واقعات معروف و مشہور ہیں جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو اہل مکہ کو خوف تھا کہ دیکھئے ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جب مکہ مکرمہ فتح کرلیا تو قریش مکہ خوف زدہ ہوئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آج تو تلوار ہمارا خاتمہ کر دے گی اس موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے کعبہ شریف کا طواف کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر کعبہ شریف کی چوکھٹ کے درمیان کھڑے ہو کر قریش مکہ سے دریافت فرمایا تم کیا کہتے ہو اور تمہارا (میرے بارے میں) کیا خیال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کہتے ہیں کہ آپ ہمارے بھائی کے بیٹے ہیں اور ہمارے چچا کے بیٹے ہیں حلیم ہیں اور رحیم ہیں تین بار یہ سوال جواب ہوا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں وہی کہتا ہوں جیسے یوسف ( علیہ السلام) نے کہا تھا (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) اس کے بعد وہ خوشی خوشی اسلام میں داخل ہوگئے (دلائل النبوۃ للبیہقی ص 85 ج 5) ۔
سیرت ابن ہشام میں یوں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا اے قریش کی جماعت تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کرنے والا ہوں انہوں نے کہا کہ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ خیر کا معاملہ ہوگا آپ ہمارے کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں آپ نے فرمایا اذھبوا فانتم الطلقاء (جاؤ تم سب آزاد ہو) ۔
Ayah 12:93حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ بھیجنا اور والد کے چہرہ پر ڈالنے سے بینائی واپس آجانا اور بیٹوں کا اقرار کرنا کہ ہم خطا وار ہیں اور استغفار کرنے کی درخواست کرنا
جب بھائیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مذکورہ بالا گفتگو ہوچکی تو واپسی کا موقع آگیا ( اور مقصد بھی حل ہوگیا کیونکہ اپنے والد کے حکم سے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرنے کے لیے سفر کرکے آئے تھے دونوں بھائی مل گئے) جب چلنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لو یہ میرا کرتہ لے جاؤ میرے غم میں روتے روتے والد کی آنکھیں چلی گئیں اب تم میرا یہ کرتہ ان کے چہرہ پر ڈال دینا انشاء اللہ تعالیٰ ان کی بینائی واپس آجائے گی اور وہاں پہنچ کر اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے کر آجاؤ۔
یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے قافلہ روانہ ہوگیا ابھی سر زمین مصر ہی میں تھے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ جو ان کے پاس موجود تھے میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں بات تو میں نے کہہ دی لیکن تم لوگوں سے ڈر ہے کہ میری بات کو سچی نہیں مانو گے اگر تم مجھے بیوقوف نہ بناؤ اور یوں نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں تو تم میری میری تصدیق کرسکتے ہو (ای لو لا تفنیدکم ایای لصدقتمونی ‘ کذا فی الروح) ان کے پاس رشتہ دار وغیرہ جو وہاں پر موجود تھے کہنے لگے کہ آپ تو اپنی اسی پرانی خام خیالی میں پڑے ہوئے ہیں یوسف کی محبت نے آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اب یوسف کی ملاقات کی کہاں امید ہے اور کہاں یوسف کا کرتہ ہے جس کی خوشبو آپ کو محسوس ہوگئی ہے یہ بہکی بہکی باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں ہیں ‘ جب قافلہ وطن واپس پہنچ گیا اور کنعان میں داخل ہوگیا تو بھائیوں میں سے جس نے وہ کرتہ لے کر اپنے والد کو بشارت دینے کا کام اپنے ذمہ لیا تھا وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ اقدس پر ڈال دیا چہرہ پر کرتہ کا پڑنا تھا کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی واپس فرما دی اس پر انہوں نے حاضرین سے کہا (جن میں وہ بیٹے بھی تھے جو مصر سے واپس آگئے تھے) کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ‘ جب بیٹوں نے کہا تھا کہ آپ تو یوسف کی یاد میں گھل ہی جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ بات فرمائی تھی ‘ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔
برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جو یوں کہا تھا کہ ہم واقعی خطا کار تھے اپنے والد کے سامنے بھی انہوں نے اپنی یہ بات دہرادی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ تمہارے لئے استغفار کروں گا اللہ غفور ہے رحیم ہے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسی وقت دعا کیوں نہیں کردی اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ رات کے آخری وقت میں دعا قبول ہوتی ہے اس لئے سَاَسْتَغْفِرُ فرمایا اور دعاء کو مؤخر کیا۔ امام ترمذی نے دعا حفظ قرآن کی جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تم شب جمعہ کے آخری تہائی حصہ میں چار رکعت نماز پڑھنا اور پھر یہ دعا کرنا (آگے حدیث میں نماز کی تلقین اور دعا کے الفاظ مذکور ہیں) کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے اور میرے بھائی یعقوب نے اپنے بیٹوں سے جو فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے لئے استغفار کروں گا اس سے یہی شب جمعہ آنے کا انتظار مقصود تھا۔ (در منثور ص 36 ج 4)
صاحب روح المعانی نے حضرت شعبی سے یہ بات نقل کی ہے کہ تاخیر استغفار کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان کے بیٹوں نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ زیادتی کی تھی اور چونکہ حقوق العباد توبہ استغفار سے معاف نہیں ہوتے اس لئے انہوں نے چاہا کہ یوسف سے بھی دریافت کرلیں کہ انہوں نے معاف کردیا ہے یا نہیں ‘ ان کے معاف کرنے کا علم ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے معاف کروانے کے لئے دعا کی جائے۔
فائدہ : حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے معجزات اور اولیاء اللہ کی کرامات دیگر تمام امور کی طرح ان کا تعلق بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو اور اس کی حکمت کا تقاضا ہو تو انبیاء کرام (علیہ السلام) سے معجزات ظاہر ہوجاتے تھے اور ان کے بعد ان کے متبعین سے کرامات ظاہر ہوتی رہی ہیں اس میں ان حضرات کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں مشرکین مکہ طرح طرح کے معجزات کی فرمائش کرتے تھے اور حضور اقدس ﷺ کی خواہش بھی ہوتی تھی کہ ان کی طلب کے مطابق معجزہ ظاہر ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ کی جب حکمت اور مشیت ہوتی تھی تو اس وقت معجزہ کا ظہور ہوتا تھا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے چہیتے لخت جگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے احوال پر مطلع نہ ہونا (کہ وہ وہیں اپنے علاقہ کے کنویں میں ڈالے گئے ہیں) اور مصر سے جب ان کا کرتہ لے کر قافلہ چلا کنعان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو سونگھ لینا (جبکہ قافلہ کنعان سے بہت زیادہ دور تھا) اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے ‘ شیخ سعدی ؓ نے ایک اچھے انداز میں اس کا یوں تذکرہ فرمایا ہے جو لطیف بھی ہے اور پر لطف بھی۔ فرماتے ہیں :
یکے پرسد زان گم کردہ فرزند
کہ اے روشن گہر پیر خرد مند
از مصرش بوئے پیراہن شنیدی
چر ادر چاہ کنعانش نہ دیدی
بگفت احوال ما برق جہان است
دمے پیدا دیگر دم نہان است
گہے بر طارم اعلیٰ نشینم
گہے بر پشت پائے خود نہ بینم