11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 11:105–109

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس وقت وہ دن آئے گا کوئی شخص اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہ کرسکے گا سو ان میں شقی ہوں گے اور سعید ہوں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ شقی ہوں گے وہ دوزخ میں ہوں گے اس میں ان کی چیخ و پکار ہوگی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ ٹھہرے رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم رہیں الاّ یہ کہ آپ کے رب کی مشیت ہو۔ بیشک آپ کا رب جو کچھ چاہے پورے طور پر کرسکتا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور لیکن وہ لوگ جو سعید ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم رہیں الاّ یہ کہ آپ کے رب کی مشیت ہو۔ یہ بخشش کبھی منقطع نہ ہوگی۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سو اے مخاطب جس چیز کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں تو اس کے بارے میں شک میں نہ پڑنا یہ لوگ اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور ہم ان کو ان کا پورا پورا حصہ دے دیں گے جس میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔

قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو ‘ پھر یہ فرمایا کہ آخرت کے دن میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ حاضری کا دن ہے یہ جبری حاضری ہوگی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ میں حاضر نہ ہوں تو ایسا ہو نہیں سکتا ‘ حاضر ہونا ہی پڑے گا مزید فرمایا کہ ہم اس دن کو تھوڑی مدت کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس وقت اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں متعین ہے اس وقت آجائے گی اس سے پہلے نہیں آئے گی لیکن فوری اور ابھی نہ آنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ آنی ہی نہیں اس میں ان جاہلوں کی تردید ہے جو یوں کہتے ہیں کہ سینکڑوں سال سے سن رہے ہیں کہ قیامت ایک دن آئے گی۔ ابھی تک تو آئی نہیں ‘ یہ بات کہہ کر جاہل لوگ قیامت کے دن کا انکار کرنا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے کسی چیز کا اپنے مقررہ وقت تک مؤخر ہوجانا اگرچہ تاخیر زیادہ ہوجائے اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کا وقوع نہ ہوگا پھر فرمایا (یَوْمَ یَأْتِ لَا تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ) (جس وقت وہ دن آجائے گا تو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بات نہ کرسکے گا) یہ ابتدائی حالت کا بیان ہے جیسے ہی صور پھونکا جائے گا لوگ حیران و پریشان اور بےہوش ہوجائیں گے اس وقت کی ہیبت ایسی ہوگی کہ کسی کو بھی بولنے کی تاب نہ ہوگی سورة ابراہیم میں فرمایا (اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ ۔ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْھِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْءِدَتُھُمْ ھَوَآءٌ) (وہ انہیں اسی دن کے لئے مؤخر فرما رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی۔ تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے ان کی نظر ان کی طرف واپس نہ لوٹے گی اور ان کے دل بالکل ہوا ہوں گے) ۔ پھر جب حساب کتاب شروع ہوگا تو بولنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ لہٰذا اس آیت میں اور ان دیگر آیات میں کوئی تعارض نہیں جن میں انکار کرنے پھر اقرار کرنے اور معذرت پیش کرنے کا ذکر ہے ‘ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور علماء اور شہداء اجازت کے بعد سفارش کریں گے ‘ اس کے بعد حاضرین محشر کی دو قسمیں بتائیں اور وہ یہ ہیں کہ بہت سے لوگ شقی یعنی بدبخت ہوں گے اور بہت سے لوگ سعید نیک بخت ہوں گے پھر ہر فریق کا مقام بتایا جو لوگ بدبخت ہوں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ دوزخ میں جائیں گے جس میں وہ چیخ پکار کرتے ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے ” چیخ و پکار “ زفیر اور شہیق کا ترجمہ کیا گیا ہے زفیر گدھے کی ابتدائی آواز کو اور شہیق اس کی آخری آواز کو کہا جاتا ہے معلوم ہوا کہ ان کا چیخنا پکارنا گدھوں کی آواز کی طرح ہوگا۔ اور نیک بختوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت میں ہوں گے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اہل جنت کو جو کچھ عطا فرمایا جائے گا وہ دائمی ہوگا کبھی منقطع نہ ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ اے مخاطب جس چیز کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں یعنی غیر اللہ کو پوجتے ہیں ان کے اس عمل کے موجب سزا ہونے کے بارے میں ذرا بھی شبہ نہ کرنا یہ لوگ اسی طرح عبادت کرتے ہیں۔ جیسے ان کے باپ دادے ان سے پہلے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے یہ جو کچھ دنیا میں کر رہے ہیں اس کا بدلہ انہیں پورا پورا مل جائے گا جس میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ فوائد ضروریہ (1) آیت بالا سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن حاضر ہونے والوں کی دو ہی قسمیں ہوں گی کچھ لوگ شقی (بدبخت) اور کچھ لوگ سعید (نیک بخت) ہوں گے یعنی ایک جماعت اہل ایمان کی اور دوسری اہل کفر کی ہوگی۔ اہل ایمان سعید یعنی نیک بخت ہوں گے اور اہل کفر شقی یعنی بد بخت ہوں گے سورة شوریٰ میں فرمایا (فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر) (ایک جماعت جنت میں اور ایک جماعت دوزخ میں ہے) اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں ہوں گے۔ اہل کفر تو کبھی دوزخ سے نہ نکلیں گے۔ البتہ جو اہل ایمان اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں چلے جائیں گے وہ اس میں سے نکال لیے جائیں گے اور جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے جس کا ذکر بہت سی احادیث میں آیا ہے ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے معاف نہ فرمایا ہوگا اور بہت سے گنہگار وہ ہوں گے جن کی معافی عذاب بھگتے بغیر ہی ہوجائے گی اللہ بلا شفاعت ہی معاف فرمائیں گے۔ اور شفاعتیں بھی قبول فرمائیں گے انجام کے اعتبار سے سارے مومن جنت میں اور سارے کافردوزخ میں رہ جائیں گے۔ کافر کبھی دوزخ سے نہ نکالے جائیں گے جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا (وَمَا ھُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ) اور اہل جنت شروع داخلہ سے لے کر ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے نہ اس میں سے نکالے جائیں گے نہ اس میں سے کہیں جانا پسند کریں گے سورة حجر میں فرمایا (لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) اور سورة کہف میں فرمایا (خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا) جب سارے اہل ایمان جنت میں داخل ہوجائیں گے تو موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان مینڈھے کی شکل میں لا کر ذبح کردیا جائے گا اور یہ ندادی جائے گی کہ یا اھل الجنۃ خلودٌ لا موت ویا اھل النار خلودٌ لا موت۔ کہ اے جنتیو ! اب موت نہیں اور اے دوزخیو اب موت نہیں۔ (رواہ البخاری ص 691 ج 2 ومسلم ص 382 ج 2) قرآن مجید میں جیسے اہل جنت کے بارے میں (خٰلِدِیْنَ فِیْھَااَبَدًا) فرمایا ہے اسی طرح سے اہل دوزخ کے بارے میں بھی فرمایا کہ (دیکھو سورة نسآء رکوع 23) اور سورة احزاب (رکوع 8) اور سورة جن (رکوع 2) بعض لوگوں کو اہل کفر سے ہمدردی پیدا ہوگئی اور انہوں نے خواہ مخواہ آیات کریمہ اور احادیث شریفہ کا انکار کر کے اپنی جان کو گمراہی میں پھنسا دیا۔ بہت سے لوگ اس گمراہی کی تائید کیلئے لکیر پیٹ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کافر کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات پاجائیں گے۔ اور دوزخ ختم ہوجائے گی۔ یہ لوگ قرآن مجید کو جھٹلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں سمجھ دے۔ (آمین) (2) آیت بالا میں اہل شقاوت کی سزا اور اہل سعادت کی جزا بیان کرنے کے بعد دونوں جگہ (خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) کے ساتھ (مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ) بھی فرمایا ہے اس کے بارے میں مفسرین نے فرمایا ہے یہ اہل عرب کے محاورہ کے مطابق ہے اہل عرب یہ الفاظ بول کر دوام اور ہمیشگی مراد لیا کرتے تھے ‘ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جنت و دوزخ کے آسمان و زمین مراد ہیں جو چیز ان کے نیچے ہوگی اس سے زمین مراد لی ہے اور جو چیزان کے اوپر سقف یعنی چھت کے طور پر ہوگی اس سے آسمان مراد لیا ہے جنت و دوزخ کے آسمان و زمین ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بات کسی درجہ میں سمجھ میں آتی تو ہے کیونکہ جنت کیلئے ارض کا لفظ قرآن میں بھی وارد ہوا ہے۔ کما فی سورة الزمر (اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآءُ ) اور سروں کے اوپر جو کچھ ہوگا اسے اوپر ہونے کی وجہ سے سماء بھی کہا جاسکتا ہے لِاَنَّ کُلَّ مَا اَظَلِّک فھو سمآء (لیکن چونکہ سَمٰوٰتُ جمع کے صیغے کے ساتھ وارد ہوا ہے اس لئے جب تک وہاں تعداد سماء ثابت نہ ہو اس وقت تک اس بات کے سمجھنے میں تامل ہے) (مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ) کے ساتھ دونوں جگہ (اِلَّا مَاشَآء رَبُّکَ ) بھی فرمایا ہے۔ حضرات مفسرین کرام نے یہاں بڑی بحث کی ہے مستثنیٰ منہ کون ہے استثناء متصل ہے یا منقطع ؟ اور استثناء کا مطلب کیا ہے احقر کے نزدیک سب سے زیادہ راجح بات وہ ہے جو علامہ بغوی (رح) نے معالم التنزیل (ص 402 ج 2) میں فرآء سے نقل کی ہے انہوں نے فرمایا کہ ھٰذا استثناءٌ استثنآہ اللّٰہُ وَلَا یَفْعَلُہٗ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خلود سے استثناء تو ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اہل دوزخ کو دوزخ سے اور اہل جنت کو جنت سے نکال لے لیکن وہ نکالے گا نہیں (کیونکہ ہر فریق کے خلود و دوام کا فیصلہ فرما دیا ہے ‘ جس کا ذکر قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہے) فرآء کے اس قول کو صاحب روح المعانی نے بھی بحوالہ امام بغوی نقل کیا ہے پھر بعض افاضل سے نقل کیا ہے کہ اس استثناء کا یہ فائدہ ہے کہ کوئی شخص یوں نہ سمجھ لے کہ دوزخیوں کو عذاب دینا اور جنتیوں کو جنت میں نعمتیں دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ واجب ہے اس کے ذمہ کچھ بھی واجب نہیں وہ جو چاہے کرے نہ وہ عذاب دینے پر مجبور ہے اور نہ اکرام وانعام پر ‘ اگر وہ کسی دوزخی کو دوزخ سے نکال لے یا کسی جنتی کو جنت سے باہر لائے تو وہ یہ کرسکتا ہے اس کی مشیت اور ارادہ اور اختیار کبھی نہ سلب ہوا نہ سلب ہوگا۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی سو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر اللہ کی طرف سے ایک بات طے شدہ نہ ہوتی تو اس کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور بلاشبہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں جو تردد میں ڈالنے والا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور توریت شریف کا تذکرہ ‘ آنحضرت ﷺ اور آپ کے متبعین کو استقامت پر رہنے کا حکم ان آیات میں اولاً موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے انہیں کتاب دی تھی (یعنی توریت شریف) اس میں اختلاف کیا گیا کسی نے مانا کسی نے نہیں مانا اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ قرآن مجید کے بارے میں اگر لوگ اختلاف کر رہے ہیں کوئی مانتا ہے کوئی نہیں مانتا ‘ تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا موسیٰ (علیہ السلام) پر ہم نے کتاب نازل کی تو اسے بھی کسی نے مانا کسی نے نہیں مانا۔ پھر فرمایا (وَلَوْ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ) (آپ کے رب کی طرف سے اگر پہلے سے ایک بات طے کی ہوئی نہ ہوتی تو اس کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق جو عذاب بھیجنے کی ایک اجل مقرر فرما رکھی ہے اگر اس کا تعین نہ کردیا گیا ہوتا تو جلدی عذاب بھیج کر ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور معذب اور ہلاک ہوچکے ہوتے۔ (وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ) (اور بلاشبہ یہ لوگ قرآن کی طرف سے بڑے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے تذبذب اور تردد میں ڈال رکھا ہے) ان کا وہی حال ہے جو ان لوگوں کا تھا جن کے لیے توریت شریف نازل کی گئی لہٰذا آپ رنج نہ کریں۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک جتنے لوگ ہیں آپکا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیگا بیشک وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے

پھر فرمایا۔ (وَاِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ ) (اور بیشک آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دے گا) (اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (بیشک وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے) طاعات اور عاصی کی سب تفصیلات اسے معلوم ہیں۔ اس کے علم سے کسی کا کوئی علم باہر نہیں وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے مصاحبین کو خطاب فرمایا (فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) (سو آپ استقامت پر رہیں) صحیح طور پر قائم رہنے کو استقامت کہا جاتا ہے اور سیدھے راستہ کو (صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمَ ) کہتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مؤمن بندوں کو اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے بتایا ہے۔ اور اس پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے متبعین چلتے رہے ہیں صراط مستقیم کو پوری طرح پکڑ لینا اور تمام احکام الٰہیہ کو پوری طرح بجا لانا ادھر ادھر مائل نہ ہونا اور برابر آخر دم تک اس پر چلتے رہنا استقامت ہے اس آیت میں سید المرسلین ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے بالکل اسی طرح اہتمام اور پابندی کے ساتھ چلتے رہیں اور ساتھ ہی (وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) بھی فرمایا کہ جن لوگوں نے شرک وکفر سے توبہ کی ہے اور ایمان کو قبول کیا وہ لوگ بھی استقامت کے ساتھ چلتے رہیں رسول اللہ ﷺ تو بااستقامت تھے ہی پھر بھی آپ کو اس کا تاکیدی حکم فرما دیا اور آپ کے ساتھیوں کو بھی مامور فرمایا کہ استقامت اختیار کریں ہمیشہ پابندی سے معمولات پر عمل کریں اور منہیات سے بچیں۔ قال صاحب الروح (ص 153 ج 12) وھی کلمۃ جامعۃ لکل ما یتعلق بالعلم والعمل وسائر الاخلاق فتشمل العقائد والاعمال المشترکۃ بینہ ﷺ وبین سائر المومنین والامور الخاصۃ بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من تبلیغ الاحکام والقیام بوظائف النبوۃ و تحمل اعباء الرسالۃ وغیر ذلک۔ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہ استقامت کا لفظ علم وعمل اور اخلاق کے تمام متعلقات کو جامع ہے پس یہ عقائد اور اعمال جو حضور ﷺ اور تمام مؤمنین میں مشترک ہیں ان کو بھی شامل ہے اور احکام کی تبلیغ اور نبوت کے وظائف اور رسالت کی ذمہ داریوں جیسے حضور ﷺ کے مخصوص امور کو بھی شامل ہے) درحقیقت استقامت بہت بڑی چیز ہے اور کام بھی سخت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جو لوگ بڑھتے ہیں اور استقامت کو چاہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوجاتی ہے ہر مؤمن بندہ کو اس کے لئے فکر مند رہنا چاہئے۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے دین اسلام سے متعلق کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ مجھے آپ کے بعد کسی اور سے دریافت کرنا نہ پڑے آپ ﷺ نے فرمایا (قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) کہ تو آمنت باللہ کہہ دے (یعنی اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دے) پھر اپنی اس بات پر استقامت رکھ یعنی اس پر مضبوطی کے ساتھ جمارہ اور اسلام کے تقاضوں کو پورا کرتا رہ (رواہ مسلم) ۔ سوال بھی مختصر تھا اور جواب بھی مختصر ‘ لیکن اختصار کے ساتھ اس میں سارا دین بیان فرما دیا۔ در منثور (ص 351 ج 3) میں ہے کہ حضرت حسن نے بیان فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شمّروا شمّروا (تیار ہوجاؤ تیار ہوجاؤ) نیز حضرت حسن نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے بعد ہنستے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ سنن ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ بوڑھے ہوگئے (یعنی آپ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے) آپ نے فرمایا سورة ہود اور سورة واقعہ اور سورة والمرسلات اور سورة عم یتساء لون اور سورة اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا (مشکوٰۃ المصابیح ص 458) ان سورتوں میں قیامت کے احوال مذکور ہیں۔ ان احوال کی فکر مندی نے آپ کو اتنا متاثر کیا۔ روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اس آیت سے زیادہ شدید کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ بعض اکابر سے اس سلسلہ میں ایک خواب بھی نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے سورة ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا سورة ہود میں ایسی کون سی بات ہے جس کی وجہ سے آپ بوڑھے ہوگئے آپ نے فرمایا اس میں جو استقامت کا حکم ہے اس نے مجھے بوڑھا کردیا (راجع حاشیۃ المشکوٰۃ) یہ خواب اس کے معارض نہیں ہے کہ سورة ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں میں جو قیامت کے دن کے احوال واھوال مذکور ہیں ان کی وجہ سے بڑھاپا آگیا کیونکہ وہ سب امور اور امر بالاستقامت سب بڑھاپے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر خشیت الٰہی کا غلبہ تھا استقامت کے باوجود آپ کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے استقامت کا حکم دیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی اس فکر مندی نے آپ کی صحت کو متاثر کردیا۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

۔ سو آپ استقامت پر رہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور جو لوگ توبہ کر کے آپ کے ساتھی ہیں وہ بھی استقامت پر رہیں۔ اور حد سے آگے نہ بڑھو بیشک وہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے

حد سے آگے بڑھنے کی ممانعت : پھر فرمایا (وَلَا تَطْغَوْا) اس میں حد سے زیادہ جانے کی ممانعت فرمائی ‘ استقامت کا حکم دے کر یہ بھی بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے آگے بڑھو گے تو اس سے استقامت میں فرق آئے گا۔ یہ حدود سے آگے بڑھ جانا ہی تو بدعات اعتقادیہ اور بدعات اعمالیہ میں مبتلا کرتا ہے اور اس حد سے نکلنے ہی کو غلو کہا جاتا ہے اسی غلو نے تو نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خدا اور خدا کا بیٹا ہونے کے اعتقاد پر آمادہ کردیا ‘ اور بہت سے مدعیان اسلام کو اس پر آمادہ کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کا انکار کریں جبکہ قرآن کریم میں آپ کے بشر ہونے کی تصریح ہے۔ یہ بدعت اعتقادی کی مثال ہے اور بدعات اعمالیہ بھی لوگوں میں بہت زیادہ رائج ہیں جو انہوں نے اپنی طبیعت سے وضع کی ہیں اور انہیں دین بنا کر اور دین سمجھ کر مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرف مت جھکو جنہوں نے ظلم کیا ایسا کرو گے تو تمہیں آگ پکڑ لے گی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔

ظالموں کی طرف جھکنے کی ممانعت : پھر فرمایا (وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ) (اور ان لوگوں کی طرف مت جھکو جنہوں نے ظلم کیا ایسا کرو گے تو تمہیں آگ پکڑ لے گی) اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کو ایک بہت بڑی نصیحت فرمائی اور وہ یہ ہے کہ ظالموں کی طرف نہ جھکو ‘ یہ جھکنا تمہیں جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا سبب بنے گا کسی کی طرف جھکنے اور مائل ہونے کی جتنی بھی صورتیں تصور ہوسکتی ہیں آیت کا مفہوم ان سب کو شامل ہے اگر کوئی شخص کافروں ملحدوں زندیقوں کی طرف مائل ہوجائے اور ان کے کسی کفر والے اعتقاد کو اپنا لے تو یہ دوزخ کے دائمی عذاب کا سبب ہے الا ان یتوب قبل موتہ۔ (مگر یہ کہ موت سے پہلے توبہ کرلے) چونکہ انسان بروں کی صحبت سے برا ہوجاتا ہے زندیقوں کی صحبت میں زندیق ہوجاتا ہے اسی لئے ایسے لوگوں کی صحبت سے سختی سے منع کیا جاتا ہے اعتقادیات کے علاوہ اعمال میں بھی کافروں اور فاسقوں کی طرف جھکنے اور مائل ہونے سے پرہیز کرنا لازم ہے اور ان لوگوں کی دوستی اور مصاحبت رنگ لائے بغیر نہیں رہتی۔ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے فساق وفجار کی صحبت فاسق فاجر بنا کر چھوڑتی ہے فاسقوں کے ساتھ رہ کر ان جیسا بننا پڑتا ہے اور ان کی صحبت اختیار کرنے والے عموماً گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ یہ مشابہت بھی دوزخ میں لے جانے والی ہے ‘ کافروں فاسقوں جیسا لباس پہننا ان کی طرح شکل و صورت بنانا ان کی معاشرت اختیار کرنا سیاست میں ان کے طریق اپنانا جمہوریت جاہلیہ کا معتقد ہونا کافروں کے وضع کردہ طور طریق اور ان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق چلنا اور ان کے مطابق حکومت کرنا ان سب میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے آیت شریفہ کی خلاف ورزی ہے اس قسم کے سب لوگ اپنی آخرت کی فکر کریں۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ) (اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی) اس میں تنبیہ اور تھدید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی فکر کرو اللہ کی گرفت سے کوئی بچانے والا نہیں۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں طرفوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے

اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) (اور دن کے دونوں طرفوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے) مفسرین کرام نے اس سے پانچوں نمازیں مراد لی ہیں حضرت مجاہد تابعی (رح) نے فرمایا کہ دن کے دونوں طرفوں سے صبح اور ظہر اور عصر مراد ہے اور رات کے حصوں میں مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ فجر اور ظہر سے دن کے ایک طرف کی نمازیں مراد ہیں اور عصر اور مغرب سے دن کی دوسری طرف کی نمازیں مراد ہیں۔ اور (زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ آیت شریفہ میں صرف فجر اور عصر کی نماز کا ذکر ہو چونکہ فجر کو اٹھنے میں دشواری ہوتی ہے اور عصر کا روبار کا وقت ہوتا ہے اس لئے ان کی پابندی کا خصوصی ذکر فرمایا اور زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ سے عشاء بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کی تاکید اس لئے فرمائی کہ یہ سونے کا وقت ہے اور نماز تہجد بھی مراد لی جاسکتی ہے کیونکہ وہ رات کے مختلف حصوں میں ادا کی جاتی ہے ضروری نہیں کہ آیت میں پانچوں ہی نمازوں کا ذکر ہو۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں سورة روم کی آیت (فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ ) میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (طَرَفَیِ النَّھَارِ ) سے صبح اور عصر کی نماز اور (زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے اور ظہر کی نماز سورة الاسراء کی آیت (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) میں مذکور ہے۔ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں : پھر فرمایا (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ) (بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے مدینے کے دور والے حصہ میں ایک عورت سے چھیڑ چھاڑ کی ہے اور یہ چھیڑنا جماع کرنے کی حد تک نہیں پہنچا میں حاضر ہوں آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔ حضرت عمر وہیں موجود تھے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری پردہ پوشی فرمائی تو بھی اپنی پردہ پوشی کرلیتا تو اچھا تھا (لیکن) رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا ‘ وہ شخص وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ‘ آنحضرت ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیجا وہ اسے بلا کر لایا ‘ آپ نے اسے یہ آیت پڑھ کر سنا دی۔ (وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی للذَّاکِرِیْنَ ) (ترجمہ اوپر دیکھ لیں) حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا اسی کے لئے خاص ہے آپ نے فرمایا بلکہ یہ تمام لوگوں کے لئے ہے) (رواہ مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 57) یوں تو ہر نیکی گناہوں کے معاف ہونے کا سبب ہے جو بھی کوئی نیکی کرسکتا ہو کرتا رہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈر اور گناہوں کے بعد نیکی کر وہ نیکی اس گناہ کو مٹا ڈالے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 432) ۔ اگر کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نہ کوئی نیکی بھی کرے اور توبہ بھی کرے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے ایک بڑا گناہ ہوگیا ہے کیا میرے لیے توبہ کا موقع ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تیری والدہ ہے ؟ عرض کیا نہیں ! فرمایا کیا تیری خالہ ؟ عرض کیا ہاں ہے۔ فرمایا تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کر (مشکوٰۃ المصابیح ص 420) توبہ تو دراصل اسی کا نام ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد ہو اور گزشتہ گناہوں میں پچھتاوا ہو اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی پختہ نیت ہو لیکن نیکیاں توبہ کی قبولیت میں معاون ہوجاتی ہیں اسی لئے توبہ کے لئے نماز مشروع کی گئی ہے یوں تو ہر نیکی گناہوں کا کفارہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس بارے میں بعض نیکیوں کا خصوصی تذکرہ بھی احادیث شریفہ میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو جس میں وہ پانچ وقت غسل کرتا ہو کیا اس کے بدن پر میل باقی رہ جائے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اس صورت میں تو اس کے بدن پر ذرا بھی میل نہیں رہے گا آپ نے فرمایا یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری ص 255 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایت بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کا یقین کرتے ہوئے شب قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کا یقین رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ص 255 ج 1) اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ ثواب کا یقین رکھتے ہوئے قیام کیا اس کے پیچھے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ص 269 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کے لئے حج کیا سو اس میں فحش باتیں نہ کیں اور گناہ نہ کئے تو ایسا واپس ہوگیا جیسا اس دن (گناہوں سے پاک وصاف) تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا۔ (صحیح بخاری ص 206 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرے عمرہ تک جو گناہ ہوجائیں یہ دونوں عمرے ان کا کفارہ ہوجاتے ہیں اور حج مبرور (جو مقبول ہوجائے) اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (صحیح البخاری ص 238 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچوں نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جو ان کے درمیان ہوجائیں جبکہ گناہ کبیرہ نہ کئے جائیں۔ (صحیح مسلم ص 122 ج 1) حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح پانی پہنچایا پھر فرض نماز کے لئے چلا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (صحیح مسلم ص 122 ج 1) حضرت عثمان ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی مسلمان کی موجودگی میں نماز کا وقت ہوگیا پھر اس نے اس کا وضو اچھی طرح سے کیا اور اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح کیا تو اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ جب تک کہ بڑے گناہوں سے بچتا رہے اور یہ ثواب ہمیشہ (یعنی ہر نماز کے موقع پر) ملتا رہے گا۔ (صحیح مسلم ص 121 ج 1) حضرت عثمان ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا تو اس کے جسم سے گناہ نکل جائیں گے یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے تک سے نکل جائیں گے۔ (صحیح مسلم ص 125 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کر کے پھر مسجد میں آئے اور اس کا یہ عمل کرنا صرف نماز ہی کے لئے ہو تو جو بھی قدم رکھے گا اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا اور اس کا ایک گناہ ختم کردیا جائے گا۔ مسجد میں داخل ہونے تک (اس کو یہی ثواب ملے گا) (صحیح مسلم ص 224 ج 1) حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرما دئیے جائیں گے اور اس کے دس درجات بلند کر دئیے جائیں گے۔ (نسائی ص 191 ج 1) فائدہ : جن حدیثوں میں گناہ معاف ہونے کا ذکر ہے اس سے چھوٹے گناہ مراد ہیں اور صحیح مسلم کی بعض روایات میں مَا لَمْ یُؤْتَ کَبِیْرَۃٌ کے الفاظ بھی آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے گناہوں کا کفارہ نیکیوں سے نہیں ہوتا ہے۔ فائدہ : علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی کے چھوٹے گناہ کم ہوں اور نیکیاں بہت زیادہ ہوں تو پھر چھوٹے گناہوں کے کفارہ کے بعد اس کے بڑے گناہ کی تخفیف کردی جاتی ہے۔ اگر بڑے گناہ نہ ہوں یا بہت تھوڑے ہوں کہ خفیف ہوتے ہوتے معاف ہوچکے ہوں تو پھر نیکیوں کے ذریعہ درجات بلند ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا (ذٰلِکَ ذِکْرٰی للذَّاکِرِیْنَ ) (نصیحت ہے یہ نصیحت ماننے والوں کے لیے) یعنی یہ قرآن ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے ذالک سے سورت کے مضامین کی طرف اشارہ ہے جن میں گذشتہ قوموں کی ہلاکت کے واقعات بھی ہیں اور قیامت ‘ جنت اور دوزخ کا تذکرہ بھی ہے اور نماز قائم کرنے کا حکم بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں ‘ جنہیں نصیحت ماننے کی طرف توجہ ہے وہی نصیحت مانتے ہیں اور جو لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں ان کے حق میں نصیحت کار گر نہیں ہوتی۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور آپ صبر کیجئے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ اللہ اچھے کام والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔

آخر میں فرمایا (وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ) کہ آپ صبر کیجئے جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے اسے انجام دیتے رہئے آپ کی دعوت کوئی قبول کرے یا نہ کرے آپ تو برابر اجر کے مستحق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

سو جو امتیں تم سے پہلے گزری ہیں ان میں ایسے سمجھدار لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے روکتے بجز چند آدمیوں کے جن کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کی راہ اختیار کی وہ اس عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جس میں وہ تھے اور یہ لوگ مجرم تھے۔

گزشتہ امتیں جو ہلاک ہوئیں ان میں اہل بصیرت نہ تھے جو زمین میں فساد کرنے سے روکتے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو گزشتہ امتیں گزری ہیں ان میں ایسے سمجھدار بصیرت والے کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے روکتے ‘ ہاں ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو فساد سے روکنے کے کام میں لگے انہیں ہم نے نجات دے دی یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ لَوْ لَا اپنے اصلی معنی میں ہو اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لو لا نفی کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں ایسے اہل رائے اور اہل فہم نہ تھے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے ان میں صرف تھوڑے سے لوگ تھے جنہوں نے یہ کام کیا ادھر تو نہی عن المنکر کرنے والوں کا فقدان اور ادھر مال والوں کے پاس مال کی فراوانی ان لوگوں نے ظلم کی راہ اختیار کی یعنی کفر اختیار کیا اور اپنی مستیوں اور لذتوں میں پڑے رہے اور جرم کا ارتکاب کرتے رہے لہٰذا ان کو ہلاک کردیا گیا بس چند ہی آدمی بچے جنہیں ہم نے نجات دیدی یہ لوگ ایمان پر اور ایمان تقاضوں پر قائم تھے منکرات سے بچتے تھے اور دوسروں کو بھی برائیوں سے روکتے تھے۔ اس میں اس امت حاضرہ کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی سمجھ اور بصیرت کو کام میں لائیں اور لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکیں۔ علامہ قرطبی تفسیر (ص 112 ج 9) میں لکھتے ہیں اولُوْا بَقِیَّۃٍ اَی اَصْحَاب طاعۃ ودین وعقل وبصرٍ ینھون قومھم عن الفساد فی الارض لِمَا اَعطاھم اللہ تعالیٰ من المعقول واَراھم من الایات وھذا توبیخ لکفار وقیل لو لا ھٰھُنا للنفی اَی ما کان من قبلکم۔ اُولُوْا بَقِیَّۃٍ یعنی فرمانبردار ‘ دیندار ‘ عقلمند ‘ بصیرت والے ‘ جو قوم کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے تھے اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھ عطا کی تھی اور انہیں نشانیاں دکھائی تھیں اور یہ کافروں کے لیے تنبیہ ہے۔ بعض نے کہا لو لا یہاں پر نفی کے لیے ہے یعنی تم سے پہلے نہیں تھے) ۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا نہیں ہے جو بستیوں کو بطور ظلم کے ہلاک فرما دے حالانکہ ان کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔

پھر فرمایا (وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ ) یعنی آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ لوگوں پر ظلم کرے وہ جو عذاب دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے اس کا سبب کفر اور شرک ہوتا ہے اور کبھی معاصی بھی ہوتے ہیں ان معاصی میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوں قدرت ہوتے ہوئے انہیں نہ روکا جائے جب لوگ اصلاح کے کام میں لگے ہوئے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہیں آئے گا ورنہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس کسی بھی قوم میں کوئی ایسا شخص ہو جو ان میں رہتے ہوئے گناہوں میں مبتلا ہو اور وہ قدرت ہوتے ہوئے اس کی حالت کو نہ بدلیں تو مرنے سے پہلے اللہ ان پر عذاب بھیجے گا۔ (رواہ ابو داؤد ‘ ص 240 ج 2) اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی قوم میں گناہ کئے جاتے ہوں پھر وہ قدرت ہوتے ہوئے گناہگاروں کی حالت نہ بدلیں تو اللہ ان سب پر عام عذاب بھیج دے گا۔ (رواہ ابو داؤد ‘ ص 240 ج 2) آیت کا معنی اور مفہوم بتانے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ احقر نے جو مطلب ترجمہ و تفسیر میں اختیار کیا ہے وہ اقرب الی الفہم ہے اس آیت کا دوسرا مفہوم علامہ قرطبی (رح) نے زجاج (رح) سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں : قال الزجاج یجوز ان یکون المعنی ما کان ربک لیھک احدا وھو بظلمہ وان کان علی نھایۃ الصلاح لانہ تصرف فی ملکہ اھ (زجاج نے کہا ہے ہوسکتا ہے یہ معنی ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ہلاک کرتا ہے تو یہ ظلم نہیں ہے اگرچہ وہ آدمی انتہائی نیک ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت میں تصرف کیا ہے۔ )
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا اور وہ برابر اختلاف میں رہیں گے

اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور سب ایک ہی دین پر ہوتے ‘ دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوتا اور وہ سب تکوینی طور پر قہراً وجبراً مسلمان ہوجاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہوا کہ حق اور باطل دونوں راستے بیان کر دئیے جائیں اور جسے ایمان قبول کرنا ہو وہ اپنے اختیار سے قبول کرے اور جسے کفر پر رہنا ہو وہ اپنے اختیار سے کفر پر رہے ‘ جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا (وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّا اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا) (اور آپ فرما دیجئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کی ہے) پس جب حق قبول کرنے پر جبر نہیں کیا با اختیاربنا دیا تو شیاطین کی کوششوں اور نفوس انسانیت کے تقاضوں پر چلنے والے کافر رہیں گے اور اس طرح سے اہل حق اور اہل باطل میں ہمیشہ اختلاف رہے گا ہاں جس پر اللہ کی مہربانی ہو وہ حق ہی کو اختیار کرے گا اور حق ہی پر رہے گا۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جس پر آپ کا رب رحم فرمائے اور اللہ نے انہیں اسی لئے پیدا فرمایا اور آپ کے رب کی بات پوری ہوگی کہ میں جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے دونوں جماعتوں سے بھر دوں گا۔

(وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ) (اور لوگوں کو اسی لئے پیدا فرمایا کہ وہ مختلف رہیں) اور اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک فریق جنت میں ایک فریق دوزخ میں ہوگا جیسا کہ سورة شوریٰ میں فرمایا : (فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ) (الایۃ) (ایک فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا) ۔ آخر میں فرمایا (وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ) (الآیۃ) اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگی کہ میں جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے بھر دوں گا جس میں سب دوزخی موجود ہوں گے۔ اس آیت کا مفہوم وہی ہے جو سورة ا آآ سجدہ میں فرمایا ہے۔ (وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا ولٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ) (اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو ہدایت دے دیتے لیکن میرا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ میں دوزخ کو جنات سے اور انسانوں سے بھر دوں گا جو اس میں اکٹھے موجود ہوں گے) جب یہ فیصلہ ہے تو اہل کفر کا وجود بھی تکوینی طور پر ضروری ہے کفر والے انسانوں میں سے بھی ہوں گے اور جنات میں سے بھی ہوں گے دونوں جماعتوں کے کفاروں سے جہنم بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اور سورة صٓ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو خطاب کر کے فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمِّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (میں تجھ سے اور ان سب جنات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گا جو تیرا اتباع کریں گے) ۔
Ayahs 11:120–123

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور رسولوں کے قصوں میں سے یہ قصے ہم ایسے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان قصوں میں آپ کے پاس حق آگیا ہے اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے فرما دیجئے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو ہم اپنی جگہ عمل کرتے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور اللہ ہی کیلئے ہے آسمان کی اور زمین کی غیب کی چیزوں کا علم۔ اور اسی کی طرف تمام امور جمع ہوں گے۔ سو آپ اس کی عبادت کریں اور اس پر توکل کریں اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات آپ کے لئے تقویت قلب کا باعث ہیں سورۂ ہود کا اکثر حصہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہے سورت کے ختم پر ارشاد ہے کہ اے رسول ﷺ ہم جب حضرات انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے قصے آپ کو سناتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ جو قصے آپ سے بیان کئے گئے ہیں ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب حق سچ ہے اس میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے اور یاد دہانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قصوں کا بیان کرنا قصہ گوئی کے طور پر نہیں ہے ان قصوں سے آپ کے دل کو مضبوط کرنا اور اہل ایمان کو نصیحت اور یاد دہانی کرانا مقصود ہے ‘ جو لوگ ان قصوں کو پڑھیں اور سنیں محض ایک قصہ پڑھ کر اور سن کر فارغ نہ ہوجائیں بلکہ ان سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں ‘ پھر فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں جو ایمان نہیں لائے کہ تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو ‘ ہم اپنی جگہ عمل کرتے ہیں اللہ کی بات میں نے پہنچا دی تم نہیں مانتے تو تم جانو، انکار اور کفر پر اصرار کے نتیجہ میں جو تمہیں سزا ملے گی اس کا انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ غیب کی چیزیں ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے تمام امور اسی کی طرف راجع ہیں یہاں دنیا میں تمہاری سمجھ میں حق بات نہیں آتی تو آخرت میں سمجھ لو گے جب اللہ تعالیٰ شانہ اپنے علم کے مطابق فیصلے فرمائے گا لیکن اس دن کا سمجھنا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ وہاں کہیں گے۔ (یٰلَیْتَنَا نُرَدُّوَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (ہائے کاش ہم واپس کر دئیے جاتے اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور ہم ایمان والوں میں سے ہوتے) اخیر میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب فرمایا (فَاعْبُدُہٗ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ ) کہ آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسا کریں (وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جنہیں تم کرتے ہو۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو اور مؤمنین کو اور کافرین سب کو خطاب ہے اللہ کو سب کے اعمال کا علم ہے وہ اس کے مطابق اہل ایمان کو ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کی اور ان کے اعمال بد کی سزا دے گا۔ جمعہ کے دن سورة ہود کی تلاوت کرنا حضرت کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن سورة ہود پڑھا کرو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 189 عن الدارمی) وَھٰذَا آخِرُ تَفسِیْرِ سُوْرَۃِ ھُوْدٍ عَلَیْہِ السَّلَام والْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی التَّمَامْ وَحُسْنِ الْخِتَامِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنَامْ وَعَلَی آلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الْکِرَامِ وَمَنْ یَّتَبِعَھُمْ باحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامِ ۔