11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور میں غیب کو نہیں جانتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں اور جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت کے ساتھ دیکھ رہی ہیں میں ان کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہرگز انہیں خیر عطا نہ فرمائے گا۔ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ خوب جاننے والا ہے اگر میں ایسا کروں تو میں بیشک ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔

وہ لوگ نبی کے اندر غیب دانی کی صفت بھی دیکھنا چاہتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی صاف فرما دیا کہ (وَلاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ ) (میں غیب نہیں جانتا) اور غیب کا جاننا بھی ان امور میں سے نہیں ہے جن کی بنیاد پر نبوت دی جاتی۔ یہ جو انہوں نے کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھ رہے ہیں اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نبی ہوتے تو ہماری طرح سے کیوں ہوتے ‘ بشری صفات سے خالی ہوتے تمہارے اندر فرشتوں جیسی صفات ہوتیں ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کا بھی جواب دے دیا اور فرمایا (وَلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ) (میں یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں) نبی ہونے کے لئے نہ فرشتہ ہونا ضروری ہے۔ نہ بشریت موانع نبوت میں سے ہے ‘ جو چیزیں لوازم نبوت میں سے نہیں ہیں ان کے ذریعے میرے دعوائے نبوت کو کیوں پرکھتے ہو ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے منکرین ان کو حقیر بھی جانتے تھے اور یوں بھی کہتے تھے کہ یہ لوگ یوں ہی بےسمجھے سرسری طور پر تمہارے ساتھ لگ لیے ہیں دل سے آپ پر ایمان نہیں لائے ‘ اس کے جواب میں فرمایا (وَلَا اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْ اَعْیُنُکُمْ لَنْ یُّؤْتِیَھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا) (کہ تمہاری نظریں جن بےسرمایہ مسکین لوگوں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھ رہی ہیں اور ان کے بارے میں تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ یہ دل سے ایمان نہیں لائے میں ان کے بارے میں تمہاری موافقت نہیں کرسکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ انہیں کوئی خیر نہیں دے گا) میں تو انہیں مؤمن سمجھتا ہوں ان کا ظاہر اچھا ہے اللہ سے ان کے لئے خیرو ثواب کی امید رکھتا ہوں۔ ایمان کا تعلق مال و دولت سے نہیں ہے بلکہ اخلاص کے ساتھ دل سے قبول کرنے سے ہے۔ (اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ اَنْفُسِھِمْ ) (اللہ کو خوب معلوم ہے کہ جو ان کے دلوں میں ہے) وہ اپنے علم کے مطابق جزا دے گا (اِنِّیْ اِذًا لَّمِنَ الظّٰمِیْنَ ) (اگر میں ان کے بارے میں ایسی بات کہہ دوں کہ اللہ انہیں ثواب عطا نہ فرمائے گا تو میں ظالموں میں سے ہوجاؤں گا) اس میں ان پر بھی ظلم ہوگا کہ ان کا مرتبہ گھٹانے کی بات کردی اور اپنی جان پر بھی ظلم ہوگا کہ جو بات کہنے کی نہ تھی وہ کہہ دی۔ دنیاوی مال اور عہدہ عند اللہ مقبول ہونے کی دلیل نہیں : اہل دنیا کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جس کے پاس دنیا دیکھتے ہیں اسی کو بڑا سمجھتے ہیں ‘ جس کے پاس دولت نہ ہو اسے حقیر جانتے ہیں۔ خواہ وہ اپنے ایمان اور اخلاص اور اخلاق حسنہ اور علم وعمل کے اعتبار سے کتنا ہی بلند ہو ‘ اصل بڑائی تو ایمان اور اخلاق کی ہے دنیافانی ہے پیسہ آنے جانے والی چیز ہے اس سے کسی انسان میں شرافت اور بلندی نہیں آتی چونکہ مالداروں میں اپنی دنیا اور مال کا گھمنڈ ہوتا ہے اور باوجود یکہ ان کے اخلاق پست ہوتے ہیں تکبر میں بد مست ہوتے ہیں پھر بھی اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں ان کا یہ غرور اور مال ‘ ملک انہیں حق نہیں قبول کرنے دیتا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) جب اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتے تھے تو عموماً پہلے غریب لوگ ان پر ایمان لے آتے تھے۔ مالداروں کے غرور کا کا یہ حال تھا کہ ان کے نزدیک معیار حق خود ان کی ذات تھی وہ کہتے تھے کہ جسے ہم قبول کرلیں وہی حق ہے کوئی غریب آدمی اگر حق قبول کرلیتا ہے تو کہتے تھے کہ یہ اس لئے حق نہیں کہ ہم نے قبول نہیں کیا۔ (کما ذکر اللہ تعالیٰ ) (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَا اِلَیْہِ ) (سورۂ الاحقاف رکوع 2) جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یوں کہا کہ تمہارے ساتھ گھٹیا لوگ لگ لئے ہیں دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتیں بھی یہ طعن کرتی رہی ہیں۔ جب حضرت خاتم النّبیین سیدنا الانبیاء والمرسلین ( علیہ السلام) نے ایمان کی دعوت دی جس کی ابتداء مکہ معظمہ میں ہوئی تھی تو سردار ان قریش نے اولاً اسلام قبول نہیں کیا اور برابر مخالفت کرتے رہے حتیٰ کہ ان میں سے ستر آدمی غزوہ بدر میں مقتول ہوگئے۔ جو لوگ غلام تھے پردیسی تھے بےپیسہ والے تھے ابتداء میں وہی لوگ اسلام کی طرف بڑھے جن میں حضرت بلال ‘ حضرت عمار بن یاسر ‘ حضرت خباب اور حضرت صہیب رومی ؓ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب قیصر کو دعوت اسلام کا خط بھیجا تو وہ اسے بیت المقدس میں ملا اس نے دریافت کیا کہ یہاں عربوں میں سے کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اس وقت وہاں کفار قریش کی ایک جماعت تجارت کے لئے پہنچی ہوئی تھی ‘ قیصر نے ان لوگوں کو بلایا اور ابو سفیان ؓ کو مخاطب کر کے بہت سی باتیں پوچھیں (اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے) ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ جنہوں نے مجھے یہ خط لکھا ہے اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے بڑے بڑے لوگ ان کا اتباع کرتے ہیں یا کم حیثیت کے لوگ ؟ اس پر ابو سفیان نے کہا کہ کم حیثیت کے لوگ ان کا اتباع کرتے ہیں) اس پر قیصر نے کہا کہ اللہ کے رسولوں کے پچھلے چلنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں (یعنی عموماً شروع میں یہی لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اتباع کرتے ہیں) قیصر نے یہ بھی پوچھا کہ ان کے دین کے قبول کرنے کے بعد کیا کوئی شخص مرتد بھی ہوجاتا ہے ؟ اس پر ابو سفیان نے کہا کہ ایسا نہیں ! یہ سن کر قیصر نے کہا جب ایمان کی بشاشت دلوں میں رچ جاتی ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے (یعنی بشاشت ایمانیہ حاصل ہونے کے بعد کوئی شخص اسلام سے نہیں پھرتا) یہ تو پرانی باتیں ہیں لیکن تاریخ اپنے کو دہراتی ہے آج بھی امیروں وزیروں اور مال داروں میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جو یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن قرآن حدیث پڑھنے والوں کو اور مدرسوں کے طلباء کو اماموں کو اور مؤذنوں کو اور غریب نمازیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے کو بلند اور برتر سمجھتے ہیں اپنے فسق وفجور پر نظر نہیں موت کی فکر نہیں اور صالحین پر پھبتیاں کستے ہیں۔ ھداھم اللّٰہ تعالیٰ الی ما یحب ویرضٰی۔
Ayahs 11:32–34

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور تم نے ہم سے زیادہ جھگڑا کرلیا۔ لہٰذا ہمارے پاس وہ لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے جواب دیا کہ اس چیز کو تمہارے پاس اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے۔ اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری خیر خواہی تمہیں فائدہ نہیں دے سکتی اگر میں تمہاری خیر خواہی کا ارادہ کروں۔ اگر اللہ کا یہ ارادہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کرے۔ وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

قوم کا مزید عناد اور عذاب کا مطالبہ ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم میں رہے اور انہیں سمجھاتے رہے۔ خوب سمجھایا اور بہت سمجھایا آپ جیسے جیسے ان کو سمجھاتے تھے وہ ضدو عناد میں آگے بڑھتے چلے جاتے تھے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے۔ کپڑے اوڑھ لیتے تھے تاکہ آپ کی آواز کانوں میں نہ پڑے ‘ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ تم ہم سے بہت جھگڑ لیے اور بہت زیادہ جھگڑا کرچکے جھگڑا بھی کرتے ہو اور یوں بھی کہتے ہو کہ تم نے توحید کو قبول نہ کیا اور شرک چھوڑ کر تنہا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نہ لگے تو عذاب آجائے گا اب بات یہ ہے کہ جھگڑے چھوڑو عذاب ہی بلا لو اگر تم سچے ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ میں تو اللہ کی طرف سے مامور ہوں۔ عذاب کی وعید بھی میں نے اسی کی طرف سے سنائی ہے میں خود عذاب نہیں لاسکتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا اور جب عذاب آئے گا تو تم اسے عاجز نہیں کرسکو گے یعنی نہ عذاب کو دفع کرسکو گے نہ بھاگ سکو گے ‘ میں نے تمہیں بہت کچھ سمجھایا ‘ تمہاری خیر خواہی کی لیکن میری خیر خواہی کا تم اثر نہیں لیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ تمہیں گمراہی پر ہی رکھے (جس کی وجہ تمہارا عناد و استکبار ہے) تو میری نصیحت تمہیں کوئی کارگر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے مالک ہے تم اس کے ساتھ شرک کر کے مجرم بنے ہوئے ہو اور پھر مرنے کے بعد بھی تمہیں اسی کی طرف جانا ہے ‘ اپنے مالک کے حقوق ضائع کرنے والے ہو دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے اور آخرت میں تو بہرحال منکرین کے لئے عذاب ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو جواب دے دیا کہ میں عذاب نہیں لاسکتا۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عذاب لائے گا۔ پھر ان کے لئے بد دعا کردی اور پانی کے طوفان نے انہیں گھیر کر ہلاک کردیا جیسا کہ سورة نوح کے آخری رکوع میں مذکور ہے اور یہاں بھی آئندہ رکوع میں اس کا ذکرآ رہا ہے۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کو اس نے قرآن کو اپنے پاس سے بنا لیا۔ آپ فرما دیجئے کہ اگر میں نے اس کو اپنے پاس سے بنا لیا ہے تو مجھ ہی پر اس کا جرم ہے اور میں اس سے بری ہوں جو جرم تم کرتے ہو۔

قرآن کو افتراء بتانے والوں کو جواب اس آیت کے بارے میں مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں ‘ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سوال و جواب کا تتمہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے یوں کہا تھا کہ نوح (علیہ السلام) نے جو دعویٰ نبوت کیا ہے یہ ان کی بنائی ہوئی بات ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں جواب دے دیں کہ اگر بالفرض میں نے اپنے پاس سے کوئی بات بنائی ہو تو یہ میرا جرم ہے جو مجھ پر عائد ہے اور تم میرے جرم سے بری ہو تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات کہی ہے مجھ پر بہتان لگا رہے ہو یہ تمہارا جرم ہے میں تمہارے جرم سے بری ہوں اس کی سزا تم خود بھگت لو گے۔ صاحب روح المعانی کا رجحان یہی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مکالمہ کا تتمہ ہے جو ان کی قوم سے ہوا۔ صاحب معالم التنزیل نے بھی یہ بات حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں مشرکین مکہ کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یوں کہتے تھے کہ یہ قرآن انہوں نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ بالفرض اگر یہ قرآن میں نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے تو میرا یہ جرم مجھ پر ہوگا اور میں تمہارے جرم سے بری ہوں ‘ مجھ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ تم جو ظلم کرتے ہو۔ شرک میں لگے ہوئے حق کو قبول نہیں کرتے تم اس کے وبال سے ڈرو کیونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں پر عذاب آیا کرتا ہے۔ میں تمہارے جرم سے بری ہوں اور بیزار ہوں۔ مفسر ابن کثیر نے ( ص 444 ج 2) اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ بطور جملہ معترضہ کے فرمایا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان ذکر کردیا گیا حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے بھی اسی کو اپنی تفسیر میں لیا ہے۔
Ayahs 11:36–39

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بلاشبہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی شخص ہرگز ایمان نہ لائے گا۔ سو یہ لوگ جو کام کرتے تھے آپ ان کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہمارے حکم سے کشتی بنا لیجئے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے خطاب نہ کرنا۔ بلاشبہ یہ لوگ غرق کئے جانے والے ہیں

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بنا رہے تھے اور جب ان کی قوم کے سرداران پر گزرتے تھے تو ان سے ہنسی کرتے تھے۔ وہ جواب دیتے تھے کہ اگر تم ہم پر ہنس رہے ہو تو بلاشبہ ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ تم ہنسی کر رہے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

۔ سو عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم اور کشتی کی تیاری کے وقت سردار ان قوم کا تمسخر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت زیادہ محنت کی اور طرح طرح سے اپنی قوم کو سمجھایا توحید کی دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کی محنت اور دعوت سے صرف چند افراد مسلمان ہوئے اور قوم کی طرف سے عذاب لانے کی فرمائش ہوتی رہی۔ بالآخر ظالموں پر عذاب آگیا اور ایمان والے محفوظ رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے اب ان کے علاوہ کوئی شخص ایمان نہ لائے گا آپ ان کے حال پر غمگین نہ ہوں کیونکہ توقع کی چیز کے واقع نہ ہونے سے رنج ہوتا ہے۔ جب ان سے ایمان لانے کی توقع ہی اٹھ گئی تو کیوں غم کیا جائے۔ کافروں پر عذاب آنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے نوح تم ہمارے سامنے ہمارے حکم سے ایک کشتی لو جس میں سوار ہو کر اہل ایمان ڈوبنے سے محفوظ ہوجائیں گے اور کافر سب غرق ہوں گے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ بھی فرمایا کہ ظالموں (یعنی کافروں) کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا۔ ان کو ڈوبنا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانے کیلئے تختے لئے ان میں کیلیں ٹھونکتے رہے جیسا کہ سورة القمر میں فرمایا۔ (وَحَمَلْنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ) (اور ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا) ۔ ادھر تو کشتی تیار ہو رہی تھی اور ادھر ان کی قوم کے سردار اور چودھری گزرتے تھے چونکہ انہیں عذاب آنے کا یقین نہیں تھا اس لئے حضرت نوح (علیہ السلام) پر ہنستے تھے اور ٹھٹھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جی ہاں تم تو اس کشتی میں بیٹھ کر محفوظ ہوجاؤ گے ‘ کبھی کہتے تھے کہ یہ کشتی خشکی میں کیسے چلے گی (کیونکہ وہ خشکی میں بنائی جا رہی تھی) کبھی کہتے تھے کہ اے نوح (علیہ السلام) ابھی تو تم نبی تھے اب تم بڑھئی ہوگئے حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو سمجھ لو کہ وہ دن بھی آنے والا ہے کہ ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ آج تم ہم پر ہنس رہے ہو۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔
Ayahs 11:40–41

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے کہا اس کشتی میں ایک ایک نر ایک ایک مادہ (یعنی ہر جنس سے دو عدد) سوار کر دو اور اپنے گھر والوں کو بھی سوار کر دو سوائے اس کے جس کے بارے میں پہلے سے فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی سوار کرلو جو ایمان لائے ہیں اور ان کے ساتھ کم آدمی ایمان لائے

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاؤ۔ اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا۔ بلاشبہ میرا رب بالیقین بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

پانی کا طوفان ‘ کافروں کی غرقابی ‘ اور اہل ایمان کی نجات حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنا کر تیار کرلی پانی کا طوفان آنا تھا اس کی ابتداء ہوگئی ‘ اہل ایمان کو غرق ہونے سے بچانا تھا اور چوپائے اور درند پرند کی بھی نسلیں چلانی تھیں اور بعد میں دنیا بھی آباد ہونی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو لوگ اہل ایمان ہیں انہیں اور اپنے گھر والوں کو کشتی میں سوار کر دو ‘ ہاں تمہارے گھر والوں میں جن کا ڈوبنا قضاء وقدر میں طے ہوچکا ہے ان کو سوار مت کرو ‘ ان میں ان کا ایک لڑکا تھا جو ایمان نہیں لایا تھا اور ایک بیوی تھی وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی ان دونوں کے کفر کی وجہ سے ان کے ڈوب جانے اور نجات نہ پانے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے فیصلہ ہوچکا تھا ‘ جو حضرات ایمان لائے تھے ان کی تعداد کم تھی یہ کتنے افراد تھے اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں جو کسی صحیح سند سے ثابت نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ اسی افراد تھے جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے اور ان بیٹوں کی تینوں بیویاں تھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا جو کافر تھا اسے کشتی میں سوار نہیں کیا گیا۔ حضرت نوح کی بیوی کو سورة التحریم کے آخری رکوع میں کافروں میں شمار فرمایا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ دوزخ میں داخل ہوگئی بعض حضرات نے یوں کہا ہے کہ ان کی دو بیویاں تھیں ایک مومنہ تھی اور دوسری کافرہ۔ کافرہ غرق ہوئی اور مومنہ کشتی میں سوار کرلی گئی تھی ‘ وہ بھی ڈوبنے سے محفوظ کرلی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ ظالموں (کافروں) کے بارے میں مجھ سے خطاب نہ کرنا۔ لہٰذا کافروں کے لئے سفارش کرنے اور نجات کی دعا کرنے کا موقع نہ تھا۔ بنی آدم اہل ایمان جو کشتی میں سوار ہوئے تھے ان کے علاوہ بحکم خدا وندی چرند اور پرند میں ایک ایک جوڑا بھی حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی میں سوار کرلیا تھا۔ پانی آیا جو پہلے تنور سے ابلنا شروع ہوا بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ تنور سے پانی ابلنا ابتدائے طوفان کی نشانی کے طور پر تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کو بتادیا گیا تھا کہ جب تنور سے پانی ابلنے لگے تو سمجھ لو کہ اب طوفان کی ابتداء ہوگئی۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ سارا پانی تنور ہی سے نکلا کیونکہ سورة قمر میں رمایا (فَفَتَحْنَا اَبْوَاب السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْھَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَاءُ عَلٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ) سو ہم نے خوب بہنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین سے چشمے جاری کردیے پھر پانی اس کام کے لیے مل گیا جو پہلے سے تجویز ہوچکا تھا۔ یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی دونوں مل گئے اور کفاروں کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا تھا پانی کی طغیانی کے ذریعے وہ فیصلہ پورا ہوگیا۔ یہ پانی بہت زیادہ تھا جس سے محفوظ رہنے کا اہل کفر کے لیے کوئی ذریعہ نہ تھا۔ سورة حاقہ میں فرمایا (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ لِنَجْعَلَھَا لَکُمْ تَذْکِرَۃً وَّتَعِیَھَا اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ) بیشک جب پانی میں طغیانی آگئی تو ہم نے تمہیں (یعنی تمہارے آبا و اجداد کو تم جن کی پشتوں میں تھے) کشتی میں سوار کردیا تاکہ اسے ہم تمہارے لیے نصیحت بنا دیں اور تاکہ اسے یاد کرنے والے کان یاد رکھیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے (یعنی اہل ایمان سے) فرمایا کہ کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (یعنی اس کے چلنے کی ابتداء اللہ کے نام سے ہے اور اس کا ٹھہر جانا بھی اللہ ہی کے نام سے ہوگا) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ دوران طوفان جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی کو روکنا چاہتے تھے تو (بِسْمِ اللّٰہِ ) کہہ دیتے تھے اور جب چاہتے تھے کہ چل پڑے تو بِسْمِ اللّٰہِ کہہ دیتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) (سو جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر بیٹھ جائیں تو یوں کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی) اور دعا کی تلقین فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا (وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ) (کہ دعا میں کہئے کہ اے رب مجھے برکت والی جگہ میں اتار اور تو بہترین اتارنے والوں میں سے ہے) کشتی سے اترتے وقت کیا دعا کریں اس کیلئے یہ دعا تلقین فرمائی۔
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ان سے ہٹا ہوا تھا کہ اے میرے چھوٹے سے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ مت ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ میں عنقریب کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے جواب دیا کہ آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر وہی جس پر وہی رحم فرمائے اور ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی سو وہ غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا موج کی لپیٹ میں : کشتی چل رہی ہے پہاڑوں کی طرح موجیں ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا موجوں کے تھپیڑوں سے دو چار ہو رہا ہے قریب ہے کہ ڈوب جائے وہ ان سے علیحدہ تھا ‘ کشتی میں سوار نہ تھا اور ایمانی اعتبار سے بھی ان کے ساتھ نہ تھا۔ آپ نے اسے آواز دی ‘ اے بٹوا ہمارے ساتھ سوار ہوجا کافروں کے ساتھ نہ ہو ان کے دین کو چھوڑ دے لیکن اس نے نہ مانا اور کہنے لگا میں کسی پہاڑ پر ٹھکانہ پکڑلوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لے گا اس کا خیال تھا کہ جیسے عام طور پر سیلاب آتے ہیں اسی طرح سے یہ بھی ایک سیلاب ہے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا تو بچ جاؤں گا کیونکہ عام طور سے سیلاب پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں جاتا وہ چونکہ ایمان نہیں لایا تھا اس لیے یہ بات مانتا ہی نہ تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے جب اللہ کی طرف سے عذاب آجائے تو کہیں پر بھی نہیں بچ سکتا۔ پہاڑوں کی چوٹیاں اسے نجات نہیں دے سکتیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں ہاں جس پر اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے ‘ وہی بچ سکتا ہے لیکن کافروں پر وہ رحم نہیں فرمائے گا ان سب کو ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک موج آئی جو دونوں باپ بیٹوں کے درمیان حائل ہوگئی سو وہ غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔
Ayahs 11:44–47

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی کم ہوگیا اور فیصلہ کردیا گیا اور کشتی جو دی پر ٹھہر گئی۔ اور کہہ دیا گیا کہ کافروں کے لیے دوری ہے

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور (نوح) نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو احکم الحاکمین ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح بلاشبہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ بیشک اس کا عمل درست نہیں سو تو مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں شامل نہ ہونا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب بیشک میں اس بات کی آپ سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں آپ سے وہ سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر آپ نے میری بخشش نہ فرمائی تو میں خسارہ والوں میں سے ہوجاؤں گا

طوفان کا ختم ہونا اور کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پانی پہنچ گیا اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مؤمن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا یہ طوفان کتنے دن رہا اس کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے اور آسمان کو حکم دیا کہ پانی برسانا بند کر دے لہٰذا پانی کم ہوگیا اور اہل کفر کی غرق آبی کا جو اللہ کی طرف سے حکم ہوا تھا اس کے مطابق وہ سب ہلاک ہوگئے کشتی چلتے چلتے جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ اللہ پاک کی طرف سے ندا دیدی گئی کہ ظالموں کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے کشتی تو پہاڑ پر ٹھہر گئی لیکن اس سے اترنا کب ہوا ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک ماہ تک جودی پہاڑ پر رہے جب حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ پانی ختم ہوگیا اور زمین اس لائق ہوگئی کہ اس پر قیام کیا جائے تو وہاں سے نیچے تشریف لے آئے اور پھر ان سے دنیا بسنی شروع ہوئی اور ان کے تینوں بیٹوں سے ( جو کشتی میں ساتھ تھے) آگے دنیا میں نسل چلی جن کے یہ نام مشہور ہیں۔ سام ‘ حام ‘ یافث۔ نوح ( علیہ السلام) کا ایک لڑکا جو کافر ہونے کی وجہ سے غرق ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کیا کہ (اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ ) کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے (وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ ) اور بیشک آپ کا وعدہ سچا ہے۔ (وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ ) اور آپ احکم الحاکمین ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کے اہل و عیال کو نجات دینے کا وعدہ فرما لیا تھا اس پر انہوں نے یہ دعا کی ‘ دعا میں ادب کو ملحوظ رکھا یوں نہیں کہا کہ میری لڑکے کو نجات دیجئے بلکہ یوں کہا میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے (جن کے نجات دینے کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے) یہاں مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو اہل ایمان کو نجات دینے کا وعدہ فرمایا تھا جن میں ان کے اہل و عیال بھی تھے پھر انہوں نے اپنے کافر بیٹے کو نجات کے وعدہ میں کیسے شامل سمجھا ؟ اس کے متعدد جواب لکھے گئے ہیں حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے لکھا ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ گویہ لڑکا سردست ایمان والا اور مستحق نجات نہیں ہے۔ لیکن یا اللہ اگر آپ چاہیں تو اس کو مؤمن بنادیں تاکہ یہ بھی وعدہ نجات کا محل بن جائے خلاصہ معروض کا اس کے مومن ہونے کیلئے دعا کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے انہیں جواب دیا گیا کہ اے نوح (علیہ السلام) تمہارا بیٹا ہمارے علم ازلی میں تمہارے ان گھر والوں میں سے نہیں جو ایمان لا کر نجات پائیں گے۔ اس کے اعمال درست نہیں ہیں اور انہیں اعمال میں سے یہ ہے کہ اسے کفر پر اصرار ہے اس کا خاتمہ ایمان پر ہونے والا نہیں تو اس کے لئے نجات کی دعا کرنے کا بھی کوئی موقع نہیں۔ (فَلَا تَسْءَلْنِ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ) (سو اے نوح مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں) تم جو یہ سمجھ رہے ہو کہ اس کے ایمان لا کر نجات پانے کا احتمال ہے قضاء وقدر کے فیصلے کے مطابق یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے۔ (اِنِّیْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ) (بےشک میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے مت بنو) (قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْءَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ) ( نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں ہے) (وَاِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں تباہ کاروں میں سے ہوجاؤں گا) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بیٹھے کی نجات کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب اور عتاب غرق ہونے کے بعد تھا تو پھر یہ کہنا صحیح نہیں کہ انہوں نے اس کے ایمان لانے کیلئے دعا کی تھی تاکہ ایمان لانے والوں میں شمار ہو کر نجات پا جائے کیونکہ اس کا موقع رہا ہی نہ تھا اور اگر اس کے غرق ہونے سے پہلے یہ دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل گیا تھا کہ اسے کفر پر مرنا ہے تو بیٹے سے یہ کیوں فرمایا کہ ایمان لا کر ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا۔ احقر کے خیال میں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ دعا اور سوال و جواب بیٹے کے جواب (سَاوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ ) اور اس کے غرق ہونے کے درمیانی وقفہ میں تھا کیونکہ ابھی موج ہی حائل ہوئی تھی اس کے غرق ہونے کا پتہ نہ چلا تھا بعد میں وہ غرق ہوا اور (وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) جو فرمایا تھا اس کا یہ مطلب تھا کہ کسی کافر کے کفر پر رہتے ہوئے اس کی نجات کا سوال نہ کرنا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اے نوح تم اتر جاؤ سلامتی کے ساتھ جو ہماری طرف سے ہے اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور ان جماعتوں پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں اور بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جنہیں ہم نفع پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔

اہل ایمان کا با سلامت کشتی سے اترنا : (قِیْلَ یٰنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَعَلٰی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ سلامتی کے ساتھ اتر جاؤ اور برکتوں کے ساتھ اتر جاؤ جو تم پر ہوں گی اور ان جماعتوں پر ہوں گی جو تمہارے ساتھ ہیں۔ جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور پانی اتر گیا جس کی وجہ سے زمین میں بسنے کی صورت حال پیدا ہوگئی تو اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ پہاڑ سے اترو تمہارے لئے ہماری طرف سے سلامتی ہے اور برکتیں ہیں اور جو جماعتیں تمہارے ساتھ ہیں ان پر بھی ہماری برکتیں ہیں۔ (وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِّنَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ) اور بہت سی جماعتیں ایسی بھی ہوں گی جو آگے چل کر دائرہ ایمان سے نکل جائیں گی ان لوگوں کو ہم دنیا میں ایسی زندگی دیں گے جس سے فائدہ اٹھالیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچ جائے گا۔ پہلے سے بتادیا تھا کہ اس وقت جو زمین پر تم اتر رہے ہو سب مسلمان ہو لیکن ان اترنے والوں کی نسلوں میں سے پھر اہل کفر پیدا ہوں گے ان کو ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچ جائے گا آخرت میں تو ہر کافر کے لئے سخت عذاب ہے اور بعض امتوں کو دنیا میں بھی اجتماعی عذاب ہوگا۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ قصہ غیب کی خبروں سے ہے ہم آپ کی طرف وحی بھیجتے ہیں۔ اس سے پہلے آپ ان کو نہیں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم مانتی تھی۔ سو آپ صبر کیجئے۔ بلاشبہ انجام کار متقیوں ہی کیلئے ہے۔

حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ عبرت اور نصیحت ہے اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی غرقابی اور ان کے ساتھ اہل ایمان کی نجات کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہیں اے محمد ﷺ آپ اور آپ کی قوم ان خبروں سے واقف نہیں تھے ان خبروں کا آپ کو علم ہونا جبکہ آپ نے کسی سے پڑھا بھی نہیں ‘ پرانی قوموں کے واقعات کسی نے بتائے بھی نہیں یہ سمجھ دار انسان کے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیج کر آپ کو مطلع فرمایا ہے۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کی نجات پانے سے آپ کو تسلی ہونی چاہئے آپ صبر کریں جیسے انبیاء سابقین ( علیہ السلام) صبر کرتے رہے ہیں اور انجام کار یہی ہوا کہ جو لوگ متقی تھے یعنی کفر اور شرک سے بچتے تھے انہوں نے نجات پائی اور ان کے دشمن ہلاک ہوئے اسی طرح آپ کے لیے بھی حسن عاقبت ہے ‘ اور آپ کے اصحاب کے لئے بھی۔ اہل مکہ اور دوسرے لوگ جو آپ کے مخالف ہیں ان کو بھی عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ چند دن کا کھانا پینا اور عیش کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ انجام اچھا ہونا چاہئے۔ جو متقین ہی کا حصہ ہے۔ فوائد ضروریہ (1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو طوفان آیا تھا اس کے بارے میں مشہور یہی ہے کہ طوفان نے ساری زمین کو گھیر لیا تھا جمہورکا یہی قول ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو دعا کی تھی۔ (رَبِّ لَا تَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا) (اے میرے پروردگار کافروں میں سے زمین پر ایک بھی باشندہ مت چھوڑ) اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری زمین کو طوفان نے گھیر لیا تھا لیکن بعض علماء کا کہنا یہ ہے ‘ کہ طوفان صرف اس علاقہ میں آیا تھا جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ یہ ایک شاذ قول ہے۔ جو جمہور کے خلاف ہے جن علماء نے اسے اختیار کیا ہے ان کے نزدیک سورة نوح کی آیت میں جو الارض آیا اور جو سورة قمر میں (وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا) فرمایا ہے ان دونوں میں الف لام عہد کے لیے ہے یہ احتمال بعید نہیں ہے لہٰذا یقین کے ساتھ ان کے قول کی تغلیط بھی نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ اس کی تحقیق سے کوئی شرعی حکم متعلق نہیں لہٰذا کاوش میں پڑنے کی بھی ضرورت نہیں۔ قصہ بیان کرنے کا مقصد ہر طرح حاصل ہے یعنی نصیحت اور عبرت وموعظت ہر طرح حاصل ہے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت ارض معمورہ ہی تھوڑی سی تھی جتنی زمین پر انسانوں کی آبادی تھی اتنے ہی حصہ پر طوفان آیا اور چونکہ تھوڑے سے اہل ایمان کے علاوہ سب ہی بنی آدم ہلاک کر دئیے گئے تھے اس لیے اس کو عالمی طوفان کہنا بھی صحیح ہے ‘ منکرین کو ہلاک فرمانا تھا ‘ وہ اتنی زمین پر طوفان آنے سے ہلاک ہوگئے جتنی زمین پر آباد تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (2) حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا (اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ ) (کہ وہ تمہارے اہل میں سے نہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مومن اور کافر میں کوئی رشتہ نہیں اگر نسبی اعتبار سے قرابت کا رشتہ ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، کسی نبی یا ولی کا بیٹا ہو اور اس کے عقائد کفریہ ہوں تو اس کا رشتہ اسے کوئی کام نہیں دے سکتا اور اس کے رشتہ کا اعتبار بھی نہیں حضرات مہاجرین کرام کا یہی جذبہ تھا کہ غزوہ بدر وغیرہ میں خونی رشتے کے لوگ سامنے آئے چونکہ وہ کافر تھے اس لئے انہیں قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا جیسا کہ کافروں نے بھی ان رشتہ داروں پر تلوار کشی کی جو اہل ایمان میں سے تھے بلکہ غزوہ بدر میں تو یہ ہوا کہ بعض انصار مقابلہ کے لئے نکلے تو مشرکین مکہ میں سے بعض افراد نے کہا کہ لا نرید ھولاء ولکن نبارز بنی عمنا من بنی عبد المطلب (کہ ہم ان کے مقابلہ کا ارادہ نہیں رکھتے ہم تو بنی عبد المطلب سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے چچا کے بیٹے ہیں) اس پر حضرت علی اور حضرت حمزہ اور حضرت عبیدۃ بن الحارث ؓ نکلے جن میں سے حضرت علی ؓ نے ولید بن عتبہ کو اور حضرت حمزہ ؓ نے شیبہ کو قتل کردیا اور حضرت عبیدۃ بن الحارث ؓ شہید ہوگئے (بدر میں زخمی ہوئے تھے پھر مدینہ منورہ واپس ہوتے ہوئے راستہ میں وفات ہوگئی) لیکن ان کے شہید کرنے والے کو (جس کا نام عتبہ تھا) بعد میں حضرت علی اور حضرت حمزہ ؓ نے قتل کردیا۔ (البدایہ) جب کافروں کے جذبۂ عداوت کا یہ حال ہے کہ قتل کرنے کے لیے اپنے عزیزوں کو خصوصیت کے ساتھ طلب کرتے ہیں تو اہل ایمان کیوں اہل کفر سے دشمنی نہ رکھیں اور کافروں کو اپنا کیوں سمجھیں۔ کوئی کافر اپنا نہیں خواہ کیسا ہی رشتہ دار ہو۔ (اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ ) میں اس کو واشگاف الفاظ میں واضح فرمایا ہے۔ حضرت سعدی ؓ نے کیا خوب فرمایا۔ فرماتے ہیں ؂ پسر نوح با بداں بنشت سگ اصحاب کہف روزے چند خاندان نبوتش گم شد پئے نیکاں گرفت مردم شد (3) جودی پہاڑ کہاں ہے جس پر کشتی ٹھہری تھی ‘ اس کے بارے میں معجم البلدان میں لکھا ہے کہ یہ ایک پہاڑ ہے جو دجلہ سے مشرقی جانب ہے جزیرہ ابن عمر پر محیط ہے اور یہ شہر موصل کے مضافات میں ہے (جو عراق کے شہروں میں سے ہے) یہ جزیرہ ابن عمر برقعبدی کی طرف منسوب ہے۔ محقق ابن جزری امام التجوید والقرأۃ کی نسبت بھی اسی کی طرف ہے۔ (4) آیت کریمہ (وَقِیْلَ یٰٓا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ ) میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت سی وجوہ اعجاز ہیں جن کو علامہ سکا کی (a) نے جمع کیا ہے پھر حافظ شمس الدین ابن الجزری صاحب مقدمہ الجزریۃ نے کفایۃ الالمعی فی اٰیَۃِ یَا اَرْضُ ابْلَعِیْ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں علامہ سکا کی کی بیان کردہ وجوہ اعجاز پر اضافہ کیا۔ (ذکرہ حاجی خلیفہ فی کشف الظنون)
Ayahs 11:50–60

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں تم صرف جھوٹ بولتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم میں تم سے اس پر کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا کیا تم سمجھ نہیں رکھتے

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

۔ اور اے میری قوم تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور میں توبہ کرو وہ تم پر خوب بارشیں بھیج دے گا اور تمہیں جو قوت حاصل ہے اس سے زیادہ قوت عطا فرمائے گا اور تم مجرم بن کر رو گردانی کرنے والے نہ بنو

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے اور ہم تمہارے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمہیں کوئی خرابی پہنچا دی ہے۔ ہود نے کہا کہ بیشک میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم گواہ ہوجاؤ کہ بیشک میں ان چیزوں سے بری ہوں جنہیں تم اللہ کے علاوہ شریک قرار دیتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

سو تم سب مل کر میرے بارے میں تدبیریں کرلو پھر مجھے مہلت نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

بیشک میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں ہے جس کی پیشانی اس کی گرفت میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب صراط مستقیم پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

سو اگر تم روگردانی کرو تو میں سب کچھ پہنچا چکا ہوں جو پیغام دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور میرا رب تمہارے سوا کسی دوسری قوم کو تمہارے قائم مقام کر دے گا۔ اور تم اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود کو اور ان لوگوں کو نجات دے دی جو ایمان لا کر ان کے ساتھ تھے اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات دے دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھے قوم عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور ہر سرکش ضدی کی بات کا اتباع کیا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ خبردار بلاشبہ قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ خبردار عاد کے لئے دوری ہے جو ہود کی قوم ہے۔

قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی جن کے شہروں میں ان جیسا پیدا نہیں کیا گیا) ۔ اور سورة حٰمٓ سجدہ میں ان کے غرور اور گھمنڈ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) لیکن قوم عادنے زمین میں تکبر کیا اور انہوں نے کہا کہ زور آوری میں ہم سے زیادہ بڑھ کر کون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ) (کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ جس نے انہیں پیدا فرمایا ان سے بڑھ کر قوت والا ہے) حضرت ھود (علیہ السلام) قوم عاد ہی میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی ‘ توحید کی دعوت دی شرک سے باز آنے کی تلقین فرمائی اور ان سے فرمایا کہ دیکھو میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرو اسی پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں ان کو تم اللہ کا شریک بتاتے ہو یہ تمہارا افتراء ہے اور جھوٹ ہے۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کی نعمتیں بھی یاد دلائیں اور ان سے فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین میں بسایا ہے ان کے بعد تم زمین میں رہتے سہتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ڈیل ڈول بھی خوب دیا ہے تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو لیکن انہوں نے کہا کہ تم تو بیوقوف آدمی ہو اور ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ (سورۂ اعراف رکوع 9) اور انہیں نے یہ بھی کہا کہ تم ہمارے پاس کوئی دلیل وحجت تو لائے نہیں ہو جس کی وجہ سے ہم تمہیں اللہ کا رسول مانیں (یہ انہوں نے عناداً کہا) اور ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ یہ جو تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی نے کچھ کردیا ہے۔ یعنی آسیب وغیرہ پہنچا کر دیوانہ بنا دیا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو ‘ اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو اب تو میرے اور تمہارے درمیان کھل کر دشمنی ہوگئی تم میرے دشمن ہو اپنی دشمنی میں کوئی کسر نہ اٹھا کر رکھو مجھے دکھ پہنچانے میں تم سے جو کچھ مکر حیلہ سازی ہو سکے تم سب مل کر اس پر عمل کرو پھر مجھے ذرا سی بھی مہلت نہ دو ‘ دیکھو تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ میں نے صرف اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تم اتنے سارے ہو قوت و شوکت والے ہو میں اکیلا ہوں اللہ کا توکل وہ چیز ہے جسے یہ چیز حاصل ہوجائے اس کے سامنے مخلوق کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا میں تمہیں کچھ نہیں سمجھتا۔ زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کی پیشانی اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ مالک ہے قادر ہے ‘ قاہر ہے تم بھی زمین پر چلتے پھرتے اس کی مخلوق ہو اور مقہورو مجبور ہو تمہیں اس سے ڈرنا چاہیے بیشک میرے رب کی رضا صراط مستقیم پر چلنے میں ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتیں بھی یاد دلائیں اور آئندہ نعمتیں ملتے رہنے کا عملی طریقہ بتایا اور وہ یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو یعنی ایمان لاؤ تمہارا گزشتہ سب کچھ معاف ہوجائے گا اس کے حضور میں توبہ بھی کرو اللہ تعالیٰ تم پر خوب بارش بھیج دے گا جو ضرورت کے وقت خوب برستی رہے گی اور تمہاری جو موجودہ قوت و طاقت وزور آوری ہے اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ تین سال تک بارشیں نہیں ہوئی تھیں اور عورتیں بانجھ ہوگئی تھیں اولاد پیدا نہ ہوتی تھیں مال واولاد نہ ہونے سے قوت میں کمی ہو رہی تھی حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایمان لاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کرو مال بھی ملے گا اور اولاد بھی ہوگی اور ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ ہوگا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح طور پر فرما دیا کہ دیکھو اگر تم رو گردانی کرو گے اور جو پیغام میں لے کر آیا ہوں اسے نہ مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے اور تمہارے بعد اللہ دوسری قوم کو زمین میں بسا دے گا اپنے زور وقوت پر جو تمہیں گھمنڈ ہے یہ بیجا ہے اللہ تعالیٰ عذاب بھیج دے گا تم اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکو گے اور یہ نہ سمجھنا کہ جب عذاب آئے گا تو سب پر آئے گا ‘ عذاب کافروں پر آئے گا اہل ایمان کو بچا لے گا۔ ان کی قوم نے کہا کہ تم ہمیں یہ پیغام دے رہے ہو کہ ہم صرف تنہا اللہ کی عبادت کریں اور اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں (یہ ہم سے نہیں ہوسکتا) تم جو یہ بار بار کہتے ہو کہ عذاب آئے گا ‘ عذاب آئے گا اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آؤ۔ ایک تو انہوں نے کفر و شرک کو نہیں چھوڑا دوسرے اپنے منہ سے عذاب طلب کیا۔ لہٰذا حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا (قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ) (تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہونے کا فیصلہ ہوچکا) چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان پر عذاب آیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں یعنی اللہ ایمان کو اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی اور باقی قوم کو سخت عذاب میں مبتلا فرمایا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی بھیجی جو سات رات اور آٹھ دن تک برابر چلتی رہی اور وہ ایسے رہ گئے گویا خالی کھجوروں کے تنے ہوں جیسا کہ سورة الحاقہ میں فرمایا ہے اور سورة احقاف میں فرمایا (فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیِتَھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْءٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰی اِلَّا مَسٰکِنُھُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ) (سو جب انہوں نے بادل کو دیکھا جو ان کی وادیوں کے سامنے آ رہا ہے تو کہنے لگے کہ یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسانے والا ہے ‘ یہ بات نہیں کہ وہ پانی برسائے گا بلکہ وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔ سو وہ لوگ صبح کے وقت اس حال میں ہوگئے کہ ان کے رہنے کے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ہم اسی طرح مجرمین کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ سورة حمٓ سجدہ اور سورة الذریات اور سورة الحاقہ میں بھی قوم عاد پر سخت ہوا کے عذاب آنے کا ذکر ہے۔ واقعہ عذاب بتا کر ارشاد فرمایا (وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) (اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ‘ اور قیامت کے دن بھی) یعنی وہ دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی ان پر لعنت ہوگی ‘ (اَلَا اِنَّ عَادًا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ) (خبردار عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا) (اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ) (خبردار اللہ کی رحمت سے قوم عاد کیلئے دوری ہے جو ہود کی قوم تھی) قوم ہود کی تکذیب اور ضدو عناد اور ہلاکت و بربادی کا واقعہ سورة اعراف رکوع نمبر 9 میں بھی گزر چکا ہے وہاں بھی دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 11:61–66

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور تمہیں اس میں آباد فرمایا سو تم اس سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والا ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے صالح اس سے پہلے تو ہمیں تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تم ہمیں ان چیزوں کی عبادت کرنے سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ اور بلاشبہ ہم اس بات کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں جس کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو یہ شک تر دد میں ڈالنے والا ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا اے میری قوم تم بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی ہو۔ پھر وہ کون ہے جو مجھے اللہ سے بچالے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ سو تم میرے لئے نقصان ہی کو بڑھا رہے ہو

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم یہ اللہ کی اونٹنی ہے یہ بطور نشانی کے ہے سو تم اسے چھوڑے رکھواللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا پھر تمہیں جلد آنے والا عذاب پکڑ لے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

سو انہوں نے اس کو مار ڈالا اس پر صالح نے کہا کہ تم تین دن اپنے گھروں میں بسر کرلو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا ہونے والا نہیں ہے

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ اہل ایمان تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے نجات دی۔ بیشک تیرا رب قوت والا ہے اور زبردست ہے۔

قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ) (اور تم یاد کرو جبکہ اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد آباد کیا اور زمین میں تمہیں رہنے کو ٹھکانہ دیا تم نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے ہو ‘ سو تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت مچاؤ) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو استغفار کرنے کے لیے یعنی ایمان لانے کے لیے فرمایا اور آئندہ باقی زندگی میں اللہ کی طرف رجوع کرنے اور توبہ کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ میرا رب قریب ہے جو دعا کرو گے سنے گا اور مجیب بھی ہے ‘ دعا کو قبول فرمائے گا اور انہیں بتادیا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ میاں تم تو بڑے سمجھدار ہو نہار تھے ہم تم کو اپنا سردار بناتے اور اپنے کاموں میں تمہیں آگے آگے رکھتے تم نے جو یہ باتیں نکالی ہیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور باپ دادے جن کی عبادت کرتے تھے انہیں یکسر چھوڑ بیٹھیں یہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ‘ تم ہمیں جس بات کی دعوت دے رہے ہو ہمیں تو اس کے صحیح ہونے میں شک بھی معمولی نہیں بڑا شک ہے جو بڑے تذبذب اور تردد میں ڈالنے والا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس نافرمانی میں میرا مؤاخذہ فرما لیا تو اللہ کے سوا کون میری مدد کرے گا۔ تمہارا اتباع کرنے سے برابر میرا نقصان ہی ہوتا رہے گا۔ ان لوگوں نے بیہودہ اور بےتکی باتیں کیں اور یوں بھی کہا کہ اچھا اگر تم پیغمبروں میں سے ہو تو عذاب لا کر دکھا دو جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو (کما فی سورة الاعراف) نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پہاڑ سے اگر اونٹنی نکل آئے تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اونٹنی نکال دی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو نشانی کے طور پر ہے اس کو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے ‘ اور یہ بھی فرمایا کہ اس اونٹنی کے پانی پینے اور تمہارے مویشیوں کے پانی پینے کے لیے باری مقرر کی جاتی ہے۔ (وَنَبِّءْھُمْ اَنَّ الْمَاءَ قَسِمَۃٌ م بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ) اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم اس اونٹنی کو برائی سے ہاتھ نہ لگانا یعنی اس کے در پے آزار نہ ہونا اور اسے قتل مت کرنا اگر تم نے ایسا کیا تو جلد ہی عذاب آجائے گا۔ ان لوگوں نے اول تو خود اپنے منہ سے فرمائشی معجزہ طلب کیا پھر معجزہ ظاہر ہوگیا تو ایمان نہ لائے بلکہ اوپر سے اس اونٹنی کے قتل کے مشورے کرنے لگے آپس میں مشورہ کر کے ایک آدمی کو تیار کیا کہ اس اونٹنی کو مار ڈالو ‘ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا (فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ دیکھو تم تین دن اپنے گھروں میں رہ لو اس کے بعد عذاب آجائے گا یہ وعدہ جھوٹ نہیں ہے۔ تین دن گزرنے کے بعد عذاب آگیا اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھیوں کو جو اہل ایمان تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے بھی نجات دے دی کیونکہ جس قوم پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ وہ ذلیل ورسوا بھی ہوتی ہے یہ اہل ایمان عذاب سے بھی محفوظ رہے اور ذلت سے بھی محفوظ رہے۔
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہیں چیخ نے پکڑ لیا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے رہ گئے جیسا کہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

خبردار قوم ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا خبردار دوری ہے ثمود کیلئے۔

قوم پر عذاب آیا اس کے لیے فرمایا (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) جن لوگوں نے ظلم کیا ان کو چیخ نے پکڑ لیا سو اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے رہ گئے گویا کہ ان میں رہے ہی نہ تھے (اَلَا اِنَّ ثَمُوْدَ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ) (خبردار قوم ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا) (اَلَا بُعْدًا الثَمُوْدَ ) (خبردار دوری ہے ثمود کیلئے) یہ قوم دنیا میں بھی اللہ کی رحمت سے دور ہوئی اور آخرت میں بھی۔ فائدہ : سورة اعراف میں ہے کہ ان لوگوں پر رجفہ یعنی زلزلے کا عذاب آیا تھا اور یہاں چیخ سے ہلاک ہونے کا ذکر ہے ان دونوں میں تعارض نہیں ہے زلزلہ اور چیخ دونوں ہی جمع ہوگئے تھے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اوپر سے چیخ آئی اور نیچے سے زلزلہ آیا دونوں انکی ہلاکت کا سبب بنے۔ مفسر بغوی معالم التنزیل (ص 391 ج 2) میں لکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک زور دار چیخ ماری جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔