11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 11:69–76

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے۔ انہوں نے سلام کے الفاظ بولے۔ ابراہیم نے سلام کا جواب دیا پھر دیر نہ لگائی کہ ایک تلا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

سو جب ابراہیم نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں پہنچ رہے ہیں تو ان کی طرف سے خوفزدہ ہوگئے انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں بیشک ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان کی بیوی کھڑی ہوئی تھی سو ہنس پڑی سو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کے پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

۔ وہ کہنے لگی ہائے خاک پڑے۔ میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں۔ اور میرے شوہر بڑے میاں ہیں۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

بیشک یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ وہ کہنے لگے کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ مستحق حمد ہے بڑائی والا ہے۔ پھر جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اس کے پاس خوشخبری آگئی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں جدال شروع کردیا

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بردبار۔ رحمدل۔ رجوع کرنے والے تھے۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم اس بات سے اعراض کرو۔ بیشک تمہارے رب کا حکم آچکا ہے اور بیشک ان پر عذاب آنے والا ہے جو واپس نہ ہوگا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ فلسطین میں آباد ہوگئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے بھتیجے تھے وہ بھی ساتھ آگئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تھی نیز حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے نوازا تھا۔ شام ہی کے علاقہ میں حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم آباد ہوئی تھی جہاں آج کل بحرمیت ہے ان کی قوم نے بڑی سرکشی کی اور بیہودگی اور بد فعلی اور بدکاری کو اپنا مقصد زندگی بنا رکھا تھا جب ان کی قوم پر عذاب بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا تو فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے جو انسانی صورتوں میں تھے انھوں نے آکر سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا اور جلدی سے اندر تشریف لے گئے اور بھنا ہوا بچھڑے کا گوشت ان کے لیے مہمانی کے طور پر لے آئے۔ یہ بچھڑا فربہ اور موٹا تازہ تھا جیسا کہ سورة الذریات میں فرمایا ہے (بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ ) حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مہمانی کی (اول الناس ضیف الضیف کما فی المشکوٰۃ ص 385) آنے والے مہمان فرشتے تھے وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ گوشت سامنے رکھا ہوا ہے لیکن ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ماجرا دیکھا تو خوف زدہ ہوگئے کہ یہ کون ہیں عجیب سے لوگ معلوم ہوتے ہیں کھانا سامنے رکھا ہے کھاتے نہیں ہیں ‘ نہ صرف دل سے خوف زدہ ہوئے بلکہ زبان سے بھی کہہ دیا اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ (کہ ہمیں تم سے ڈر لگ رہا ہے) فرشتوں نے کہا کہ ڈرو نہیں ہم تمہیں ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو صاحب علم ہوگا ‘ بیٹا ہونے کی بشارت دی اور اس کے ساتھ ہی پوتا ہونے کی بھی بشارت دے دی یہ بیٹا اسحاق اور پوتا یعقوب ( علیہ السلام) تھے بیٹے کی بشارت سنی تو کہنے لگے۔ (اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ) (کیا تم مجھے اس حالت میں بشارت دے رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا آچکا ہے سو کس چیز کی بشارت دے رہے ہو) (قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بالْحَقِّ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقَانِطِیْنَ ) (انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بشارت دی ہے سو تم ناامید ہوجانے والوں میں سے مت بنو) نیز ان فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں (تاکہ ان پر عذاب لے کر آئیں) وہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ بھی کھڑی تھیں انہیں ہنسی آگئی ‘ ہنسی کس بات پر آئی اس کے بارے میں صاحب معالم التنزیل نے کئی قول نقل کئے ہیں اس میں سے ایک قول یہ ہے کہ چونکہ فرشتوں نے یوں بھی کہہ دیا تھا کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے ہیں اس لئے مومنہ خاتون کو ان کی غفلت پر ہنسی آگئی کہ دیکھو وہ لوگ کیسے غافل ہیں عذاب قریب آچکا اور وہ اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں ‘ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو بھی بشارت دی اور کہا کہ تم سے لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا اور پھر اس لڑکے کا لڑکا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا وہ کہنے لگیں ہائے خاک پڑے (عورتیں تعجب کے وقت یہ لفظ بولا کرتی ہیں) کیا میں اب جنوں گی جب بڑھیا ہوچکی ہوں اور نہ صرف یہ کہ میں بڑھیا ہوں میرے یہ شوہر جو بیٹھے ہیں یہ بھی بوڑھے ہیں ‘ بوڑھے مرد بوڑھی عورت سے اولاد پیدا ہو یہ تو عجیب بات ہے ‘ فرشتوں نے اللہ کی رحمت اور اس کی برکتوں کی دعا دی اور کہا کہ (رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرََکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ) (کہ اے ابراہیم کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں) (اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام تعریفوں کا مستحق ہے اور بزرگ ہے) ۔ اس کے بعد اسی بیوی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) رکھا گیا اور بعد میں اس صاحبزادہ کا لڑکا پیدا ہوا ‘ جس کا نام یعقوب ( علیہ السلام) رکھا گیا۔ اس بیوی کا نام سارہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کی لڑکی تھی اور ہجرت کر کے ہمراہ آئی تھی۔ دوسری بیوی کا نام ہاجرہ تھا اس سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ ہاجرہ اور اسماعیل ( علیہ السلام) وہی دونوں ماں بیٹے ہیں جنہیں ابراہیم (علیہ السلام) مکہ معظمہ کے چٹیل میدان میں چھوڑ گئے تھے جس کا واقعہ سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (انوار البیان جلد اول) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف جاتا رہا تو اب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ سے یہ دعا مانگنے لگے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے کیونکہ ان کے اندر لوط (علیہ السلام) موجود ہیں ‘ اس کو یُجَادِلُنَا سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ جدال فرشتوں سے تھا کیونکہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے اس لئے یوں فرمایا کہ وہ ہم سے جدال کرنے لگے ‘ سورة عنکبوت میں ہے کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں تو اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (اِنَّ فِیْھَا لُوْطًا) (اس بستی میں لوط موجود ہیں) اس پر فرشتوں نے جواب دیا (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْھَا) ہمیں ان سب کا خوب علم ہے جو اس بستی میں ہیں۔ (لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَاَھْلَہٗ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) (ہم لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دے دیں گے بجز اس کی بیوی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خواہش تھی کہ عذاب نہ آئے انہوں نے عذاب رکوانے کے لیے وہاں لوط (علیہ السلام) کے موجود ہونے کو رحم لانے کے لیے پیش کیا ان کے اسی جذبہ کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَحِلیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ) (کہ بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) برد بار رحم دل تھے اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے) اللہ کی طرف سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور اسی لئے فرشتے آئے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اس بات کو جانے دو تمہارے رب کا فیصلہ ہوچکا ہے ان پر عذاب ضرور آئے گا جو ہٹنے اور واپس ہونے والا نہیں۔
Ayahs 11:77–83

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ سے رنجیدہ ہوئے اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے آج کا دن مصیبت کا دن ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس جلدی جلدی دوڑتے ہوئے آگئے۔ اور وہ اس سے پہلے برے کام کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا اے میری قوم یہ بیٹیاں ہیں وہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلامانس نہیں ہے۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

کہنے لگے کہ تمہیں تو معلوم ہے ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی سرو کار نہیں ہے اور تم تو جانتے ہو ہمارا کیا مطلب ہے۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کاش میرا تم پر زورچلتا ہوتا یا میں کسی مضبوط پائے کی پناہ لے لیتا۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا اے لوط بیشک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے سو تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جانا بیشک اسے وہی عذاب پہنچے گا جو ان کو پہنچنا ہے۔ بیشک صبح کا وقت ان کے عذاب کے لئے مقرر ہے کیا صبح قریب نہیں ہے۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

سو جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے زمین کے اوپر کے تختے کو نیچے کردیا اور ہم نے اس زمین پر کنکر کے پتھر برسا دئیے جو لگا تار گر رہے تھے

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر آپ کے رب کے پاس سے نشان لگائے ہوئے تھے اور یہ بستیاں ان ظالموں سے دور نہیں۔

فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع 10) میں گذر چکا ہے۔ فرشتے حسین اور خوبصورت مردوں کی صورت میں آئے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رنج ہوا اور تنگ دل ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مہمانوں کے ساتھ حرکت بد کرنے کا ارادہ کریں گے جب وہ لوگ جلدی جلدی دوڑے ہوئے آئے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا یہ دیکھو یہ میری بیٹیاں ہیں یعنی وہ عورتیں جو میری امت میں ہیں یہ تمہارے لئے بہتر ہیں ان سے نکاح کرو اور اپنا کام چلاؤ ‘ ان پاکیزہ عورتیں کو چھوڑ کر ایسے کام کا ارادہ نہ کرو جو اللہ کی ناراضی لانے والا کام ہے ‘ پھر یہ بھی دیکھ لو کہ یہ میرے مہمان ہیں تم ان سے اپنے مطلب برآری کا ارادہ کر کے مجھے ان میں رسوانہ کرو کیا تم سبھی کی عقلوں پر پتھر پڑگئے کیا تم میں کوئی اچھا آدمی صحیح رائے والا نہیں ہے ؟ ان کی قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی مطلب اور سروکار نہیں ہمارا جو مطلب ہے وہ تم جانتے ہو۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب ان کی ضد دیکھی اور ان کی طرف سے نصیحت قبول کرنے سے ناامید ہوگئے تو کہنے لگے کہ کاش تمہارے مقابلہ میں مجھے قوت حاصل ہوتی یا میں کسی مضبوط پائے کی طرف ٹھکانہ پکڑ لیتا یعنی میں کسی ایسی قوم کا فرد ہوتا جو کنبہ اور قبیلہ اور جتھہ والی ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد اللہ نے جو بھی کوئی نبی بھیجاوہ عزت اور زور آور اور عزت والی قوم میں سے تھا۔ (در منثور ص 343 ج 3) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ لوط پر رحمت فرمائے وہ مضبوط پائے کی طرف ٹھکانہ پکڑ رہے تھے۔ (رواہ البخاری ص 478 ج 1) فرشتوں نے جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی دیکھی تو انہوں نے کہہ دیا کہ بیشک ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ تمہارا کچھ نہ کرسکیں گے۔ آپ تک ان کی رسائی ہرگز نہ ہوگی اور یہ تو خود ہلاک ہونے والے ہیں ہم ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے گئے ہیں اور چونکہ اہل ایمان کو محفوظ رکھنا ( اور اہل ایمان صرف حضرت لوط کے گھر والے ہی تھے) ضروری ہے اس لئے آپ رات کے وقت میں انہیں لے کر باہر چلے جائیے اور برابر چلتے جائیں تم میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے مگر آپ کی جو بیوی ہے وہ ساتھ نہ جائے گی (وہ کافرہ تھی) اس پر بھی وہی عذاب آنے والا ہے جو بستی کے دوسرے لوگوں پر آئے گا اور یہ عذاب صبح کے وقت میں نازل ہوگا ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) چونکہ بہت ہی زیادہ تنگ آ چکے تھے اس لئے انہوں نے صبح تک مہلت دینا گوارانہ کیا اور فرمایا کہ ابھی عذاب آجائے (کما ذکر فی الدر المنثور عن ابن عباس ؓ فرشتوں نے کہا (اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ) (کیا صبح قریب نہیں) جب صبح ہوئی تو اللہ کا حکم آگیا جو فرشتے عذاب کے لئے بھیجے گئے تھے انہوں نے ان بستیوں کا تختہ اٹھا کر پلٹ دیا۔ نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی زمین نیچے ہوگئی وہ سب لوگ اس میں دب کر مرگئے اور اللہ تعالیٰ نے اوپر سے پتھر بھی برسا دئیے جو کنکر کے پتھر تھے وہ لگاتار برس رہے تھے اور ان پر نشان بھی لگے ہوئے تھے۔ بعض علمائے تفسیر نے فرمایا ہر پتھر جس شخص پر پڑتا تھا اس پر اس کا نام لکھا ہوا تھا اس کو مُسَوَّمَۃً یعنی نشان زدہ فرمایا۔ (کما ذکرہ فی معالم التنزیل وفیہ اقوال اخر) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس علاقہ میں موجود تھے ان پر زمین الٹنے کا عذاب آیا اور جو لوگ ادھر ادھر نکلے ہوئے تھے ان پر پتھر برسے اور وہ پتھروں کی بارش سے ہلاک ہوگئے۔ حضرت مجاہد تابعی (رح) سے کسی نے پوچھا کیا قوم لوط میں سے کوئی رہ گیا تھا انہوں نے جواب دیا کوئی باقی نہ رہا تھا ہاں ایک شخص زندہ بچ گیا تھا جو مکہ معظمہ میں تجارت کے لیے گیا ہوا تھا وہ چالیس دن کے بعد حرم سے نکلا تو اس کو بھی پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا ای علی شذاذھا ومسافریھا یعنی ان میں سے جو لوگ مسافر تھے ادھر ادھر نکلے ہوئے تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی بارش بھیج دی جس سے وہ ہلاک ہوگئے پھر لکھا ہے وقیل بعد ما قلبھا امطر علیھا (یعنی جب تختہ الٹ دیا تو اوپر سے پتھر برسا دئیے گئے) یہ قول صحیح ہے جو قرآن کے سیاق کے مطابق ہے۔ اور یہ اس کے معارض نہیں کہ جو لوگ ادھر ادھر گئے ہوئے تھے ان پر بھی پتھر آئے ہوں اور وہ پتھروں کے ذریعہ ہلاک کئے گئے ہوں ‘ ان لوگوں پر جو پتھر آئے تھے ان کے بارے میں (مِنْ سِجِّیْلٍ ) فرمایا ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ لفظ معرب ہے سنگ اور گل سے مرکب ہے فارس میں سنگ پتھر کو اور گل مٹی کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ پتھر ایسے تھے جو مٹی سے بنائے ہوئے تھے اسی لئے اس کا ترجمہ کنکر کیا گیا ہے حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے بیان القرآن میں فرمایا ہے کہ اس سے جھانوہ مراد ہے جو پک کر مثل پتھر کے ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ چند بستیاں تھیں جن کے نام مفسرین نے میعہ صعرہ عصرہ، دوما ‘ سدوم بتائے ہیں ان کے ناموں کے بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں ان میں سب سے بڑی بستی سدوم تھی حضرت لوط (علیہ السلام) اسی میں رہتے تھے ان کی قوم کے اعمال بد کی وجہ سے ان بستیوں پر عذاب آیا۔ یہ بستیاں نہرار دن کے قریب تھیں۔ ان بستیوں کا تختہ الٹ دیا گیا اور ان کی جگہ بحرمیت جاری کردیا گیا جو آج بھی موجود ہے یہ پانی کہیں دوسری جگہ سے نہیں آتا صرف ان بستیوں کے حدود میں رہتا ہے۔ یہ پانی بدبودار ہے جس سے انسانوں کو یا جانوروں کو یا کھیتوں کو کسی قسم کا انتفاع نہیں ہوتا۔ سورة حجر میں زمین کا تختہ الٹنے کے تذکرہ سے پہلے یہ بھی فرمایا (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ ) (سورج نکلتے نکلتے انہیں چیخ نے پکڑ لیا) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر تینوں طرح کا عذاب آیا ‘ چیخ نے بھی پکڑا اور ان کی زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا اور ان پر پتھر بھی برسائے گئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی وہ بھی ہلاک کردی گئی بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ نکلی ہی نہ تھی جب پوری قوم پر عذاب آیا تو وہ بھی انہی میں ہلاک ہوگئی اور بعض حضرات نے فرمایا ساتھ تو نکلی تھی لیکن جب اس نے عذاب آنے کی آہٹ سنی تو پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور اپنی قوم کی ہلاکت کا یقین کرتے ہوئے یوں کہا ” ہائے میری قوم “ اس وقت اسے ایک پتھر آکر لگا جس سے وہ ہلاک ہوگئی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا قصہ ہم نے تفصیل سے سورة انعام (ع 10) کی تفصیل کے ذیل میں بیان کیا ہے وہاں بھی ملاحظہ فرمالیں (انوار البیان جلد اول) وہاں یہ بھی بیان کردیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم والا عمل کرنے والوں کی امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے علماء نے کیا سزا بتائی ہے ‘ قصہ کے ختم ہونے پر فرمایا (وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ) (یہ بستیاں ظالموں سے دور نہیں ہیں) یعنی جو لوگ ایمان نہیں رکھتے کفر پر مصر ہیں ان لوگوں کو حضرت لوط والے واقعہ سے عبرت لینا چاہئے یہ بستیاں ان سے دور نہیں ہیں سورة حجر میں فرمایا (وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ) (یہ بستیاں ایک آباد سٹرک پر ہیں) عرب کے لوگ جب تجارت کے لئے شام کو جاتے تھے تو ان تباہ بستیوں کے پاس سے گزرتے تھے ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنا لازم تھا ‘ سورة صٰفّٰت میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (اور تم ان پر صبح کے وقت اور رات کے وقت گزرا کرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) ۔
Ayahs 11:84–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ آسودہ حال ہو بیشک میں تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں جو گھیر لینے والا ہوگا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچانے والے نہ بنو۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا دیا ہوا جو کچھ بچ جائے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور میں تم پر پہرہ دینے والا نہیں ہوں۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں۔ بیشک تم تو بڑے برد بار ہو نیک چلن ہو۔

مدین والوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور ان لوگوں کا الٹے جواب دینا اور استہزاء کرنا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا تھا اصحاب ایکہ کا ذکر سورة الشعرا (ع 10) میں ہے اور سورة اعراف (ع 11) میں اور یہاں سورة ہود میں اور سورة عنکبوت (ع 4) میں اصحاب مدین کا ذکر ہے۔ یہ لوگ بھی مشرک تھے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ‘ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان کے مال پورے پورے انصاف کے ساتھ دو ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو حلال مال بچ جائے تمہارے لئے بہتر ہے جو تم ناپ تول میں کٹوتی کرتے ہو۔ حلال میں برکت ہوتی ہے اگرچہ کم ہو اور حرام اگرچہ زیادہ ہو بےبرکت ہوتا ہے اور آخرت میں جہنم میں لے جانے والا ہے لہٰذا تم حلال پر اکتفا کرو اور زمین میں فساد نہ مچاؤ اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ میں تمہارا پہرہ دار نہیں ہوں کہ تم سے جبراً وہ عمل کروا کر ہی چھوڑوں جس کا میں حکم دے رہا ہوں۔ وہ لوگ بیہودگی پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ واہ میاں تم بڑے نمازی آئے کیا تمہاری نماز یہی بتاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کی عبادت چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے ہوئے آئے ہیں ‘ نماز کا ذکر انہوں نے استہزاء اور تمسخر کے طور پر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمہاری نماز عجیب ہے ‘ ہم جو سامان بیچتے ہیں اس پر پابندی لگاتی ہے ہمارا مال ہے ہم اس میں جو چاہیں تصرف کریں۔ یہی بات اس زمانہ کے لوگ بھی کہہ دیتے ہیں جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ سود نہ لو اور سود نہ دو ۔ رشوت کا لین دین نہ کرو بیمہ کمپنی میں رقم جمع نہ کرو۔ گناہ کی چیزیں نہ خریدو اور نہ انہیں فروخت کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ مولویوں کا عجیب ڈھنگ ہے ہر شخص کا اپنا مال ہے جیسے چاہے تصرف کرے مولویوں کو لوگوں کے معاملات میں بولنے اور زیادہ مال کمانے کے سلسلہ میں روڑے اٹکانے کی کیا ضرورت ہے ‘ یہ لوگ اول تو یہ بات غلط کہتے ہیں کہ مال ہمارا ہے ‘ تمہارا مال کہاں سے ہوگا تم خود اپنے نہیں ہو تم اور تمہارے اموال کو پیدا فرمایا اسے اختیار ہے کہ جو چاہے احکام نافذ فرمائے اور جس چیز سے چاہے منع کرے اور جس چیز کی چاہے اجازت دے اور جس عمل سے چاہے روکے۔ مولوی اپنے پاس سے کچھ کہیں تو قصور وار ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔
Ayahs 11:88–90

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب نے کہا کہ اے میری قوم تم بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک بڑی دولت عطا فرما دی ہے تو میں تمہیں حق کی دعوت دینا کیسے چھوڑ دوں اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میں اس طرح تمہاری مخالفت کروں کہ جن کاموں سے روکتا ہوں انہیں خود کرنے لگوں میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک مجھ سے ہو سکے۔ اور جو کچھ مجھے توفیق ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں اور اے میری قوم تمہیں میری مخالفت اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تمہیں اس طرح کا عذاب پہنچ جائے جو قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح کو پہنچا۔ اور قوم لوط تم سے دور نہیں ہے

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کے حضور میں توبہ کرو بیشک میرا رب رحم فرمانے والا ہے بڑی محبت فرمانے والا ہے۔

حضرت شعیب کا قوم سے فرمانا کہ جہاں تک ہو سکے میں اصلاح چاہتا ہوں اور میری مخالفت تم پر عذاب آنے کا سبب نہ بن جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب مدین والوں کو حق کی طرف بلایاتوحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا اور بےت کے جواب دئیے اور توحید قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی بتاؤ اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر ہوں حق بات کہتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت بڑی رحمت یعنی نبوت سے نوازا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تبلیغ کرنا اور حق کی دعوت دینا چھوڑ دوں اور پھر یہ بھی سمجھ لو کہ میں جو کچھ بتاتا ہوں خود اس کے خلاف نہیں کرتا ‘ اگر میرا قول وفعل ایک دوسرے کے مخالف ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ دیکھو دوسرے کو نصیحت اپنے کو فضیحت ‘ لیکن میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں میرا مقصد تمہاری ہمدردی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک میرے امکان میں ہے اصلاح کرتا رہوں اور جو کچھ میں نیک کام کرتا ہوں (جس میں نماز پڑھنا بھی داخل ہے) اور جو کچھ تبلیغ ہوتا ہوں یہ سب اللہ کی توفیق سے ہے میں نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مزید فرمایا دیکھو تم ضد نہ کرو عناد پر کمر بستہ نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ میری یہ مخالفت تمہارے لئے عذاب آنے کا ذریعہ بن جائے جیسے قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان پر عذاب آیا ‘ ان ہلاک شدہ قوموں میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جسے زیادہ زمانہ نہیں گزرا ان کے عذاب کے واقعات تمہیں معلوم ہیں ان سے عبرت حاصل کرو بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ (وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ ) سے دونوں مطلب لئے جاسکتے ہیں یعنی زمانے کے لحاظ سے بھی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم دور نہیں اور خطۂ ارضی کے اعتبار سے بھی۔ کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا علاقہ اصحاب مدین کے علاقے سے دور نہیں تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اپنے رب سے استغفار کرو۔ کفر کو چھوڑو ایمان پر آؤ۔ پھر باقی زندگی بھی اسی طرح سے گذارو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کے حضور میں توبہ کیا کرو۔ (اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ) (بےشک میرا رب بہت زیادہ رحمت اور بہت زیادہ محبت کرنے والا ہے) جو شخص اس کے حضور میں توبہ کرے اس پر رحم فرماتا ہے اور اسے دوست رکھتا ہے۔ فائدہ : (وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا) کی ایک تفسیر تو وہی ہے کہ میرے رب نے مجھے بڑی دولت یعنی نبوت عطا فرمائی اور بعض مفسرین نے اس کا معنی متبادلہ لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حلال مال عطا فرمایا ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر بھی ہوں اور اللہ نے مجھے حلال مال بھی عطا فرمایا اور یہ حلال مال کسی طرح کی خیانت کئے بغیر مجھے مل گیا ہے نہ میں ناپ تول میں کمی کرتا ہوں نہ کسی طرح سے کسی کا حق مارتا ہوں تو اس صورت میں میرے لئے یہ کیسے درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کروں اور تمہارے کاموں کی موافقت کروں۔
Ayahs 11:91–95

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے بہت سی باتیں ہم نہیں سمجھتے۔ اور بلاشبہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان کمزور ہو اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے اور ہمارے نزدیک تم کچھ عزت والے نہیں ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب نے کہا کہ اے میری قوم کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک عزت میں بڑھ کر اللہ سے زیادہ ہے۔ اور تم نے اسے پس پشت ڈال دیا۔ بلاشبہ میرا رب ان کاموں کا احاطہ کئے ہوئے ہے جنہیں تم کرتے ہو

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں بھی عمل کر رہا ہوں۔ تم عنقریب جان لو گے کہ کس کے پاس عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا۔ اور یہ بھی جان لو گے کہ وہ کون شخص ہے جو جھوٹا ہے۔ انتظار کرو بیشک میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب کو اور ان لوگوں کو نجات دیدی جو ان کے ساتھ ایمان لائے اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہیں سخت آواز نے پکڑ لیا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے گھرے ہوئے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کہ وہ ان میں رہے ہی نہ تھے خبردار مدین کے لیے دوری ہے جیسا کہ ثمود دور ہوئے۔

اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی پاس داری ہے اگر ان کا پاس نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے گو کہ تمہاری کچھ عزت اور وقعت ہمارے نزدیک نہیں ہے تمہارے خاندان کا خیال ہے جس کی وجہ سے ہم حملہ کرنے سے رکے ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں جو تمہیں تبلیغ کرتا ہوں یہ اس بناء پر ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جو میری نسبت ہے (کہ میں اس کا نبی ہوں) اس کا تمہیں کچھ خیال نہیں اور میرے خاندان کا تمہیں خیال ہے اگر میرا خاندان نہ ہوتا تو تم مجھے ہلاک کردیتے کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت والا ہے تم نے میرے خاندان کا تو خیال کیا اور اللہ تعالیٰ کو تم نے پس پشت ڈال دیا اسے راضی رکھنے کا تمہیں بالکل خیال نہ آیا بلاشبہ میرا رب تمہارے سب اعمال کو جانتا ہے تم عذاب کے مستحق ہوچکے ہو جب تم ایمان نہیں لاتے تو اب عذاب آنے ہی کو ہے وہ ایسا عذاب ہوگا جو رسوا کر دے گا اور بتادے گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا تم مجھے دعوائے نبوت میں جھوٹا بتا رہے ہو عذاب آنے سے واضح ہوجائے گا کہ میں جھوٹا نہیں ہوں بلکہ تم جھوٹے ہو۔ تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں اپنی جگہ اعمال میں مشغول ہوں تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں کہ دیکھیں عذاب کب آتا ہے اور کس پر آتا ہے ؟ ان لوگوں کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوچکا تھا اللہ کا عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے اپنی مہربانی سے بچا لیا اور ظالموں کو چیخ نے پکڑ لیا اس چیخ کی وجہ سے سب ہلاک ہوگئے یہ لوگ بھی اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے منہ پڑے رہ گئے کہ گویا وہ ان میں رہے ہی نہ تھے یہ لوگ بھی اللہ کی رحم سے دور ہوئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمانا اور انہیں دیگر نصیحتیں فرمانا پھر ان لوگوں کے سوال و جواب اور بالآخر ان کی ہلاکت اور بربادی کا مفصل واقعہ سورة اعراف (ع 11) میں گزر چکا ہے وہاں بعض باتیں زائد ہیں جو یہاں مذکور نہیں اس کو بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ ایک یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ وہاں فرمایا ہے (اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ ) (انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا) اور یہاں فرمایا ہے (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ ) (ظالموں کو چیخ نے پکڑ لیا) لیکن اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں ہے کیونکہ ان پر دونوں طرح کا عذاب آیا تھا زبردست چیخ آئی اور زلزلہ بھی آیا ناپ تول میں کمی کے بارے میں جو بعض احادیث مروی ہیں وہ سورة اعراف کی تفسیر میں ذکر کردی گئی ہیں۔
Ayahs 11:96–99

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف سو ان لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا اور فرعون کی بات صحیح نہ تھی

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا پھر وہ ان کو دوزخ میں اتار دے گا اور وہ بری جگہ ہے جس میں ان لوگوں کا اترنا ہوگا

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی ان پر لعنت ہوگی۔ برا انعام ہے جو انہیں دیا گیا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ‘ فرعون اور آل فرعون کی بغاوت اور دنیا و آخرت میں آل فرعون پر لعنت ان آیات میں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی بربادی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا وہ ان لوگوں کے پاس معجزات اور روشن دلیل لے کر آئے ان کے یہ معجزات سورة اعراف کے رکوع (13‘ 14) میں مذکور ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث تو ہوئے تھے فرعون کی پوری ہی قوم کیلئے لیکن خاص طور سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ قوموں کے سردار ہی اصل ہوتے ہیں عامۃ الناس انہیں کے پیچھے چلتے ہیں۔ اگر یہ لوگ حق قبول کرلیتے ہیں تو عوام بھی حق کو مان لیتے ہیں قوم کے سردار اگر حق کے منکر ہوں تو عوام دو وجہ سے حق قبول نہیں کرتے اول تو اس وجہ سے کہ سردار لوگ انہیں حق قبول نہیں کرنے دیتے اگر وہ حق قبول کریں تو یہ لوگ ان پر سختی کرتے ہیں اور انہیں اس سے باز رکھتے ہیں ‘ اور دوسری وجہ یہ کہ عامۃ الناس یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بڑے جس راہ پر ہیں ہمیں بھی اس راہ پر ہونا چاہئے اگرچہ ہوتا یہی رہا ہے کہ ضعفائے قوم ہی پہلے حق کی طرف بڑھتے ہیں لیکن یہ لوگ دوسروں کے مقابلہ میں تعداد کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ سرداروں کو خطاب کریں تاکہ وہ ہدایت قبول کرلیں اور عوام بھی ان کے ساتھ ہدایت پر آجائیں۔ فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون کی ہی بات مانی اور اسی کی رائے پر چلتے رہے اور ان کے عوام بھی انہیں کے پیچھے رہے فرعون ہی سب کا قائد تھا ‘ دنیا میں کفر وضلال کا قائد بنا قیامت کے دن بھی اپنی قوم کا قائد بنے گا یعنی انہیں آگے لے کر چلے گا خود بھی دوزخ میں جائے گا اور اپنی قوم کو بھی دوزخ میں اتار دے گا۔ یہ لوگ دنیا میں ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی مطعون ہوں گے یہ لعنت برا انعام ہے جو انہیں دیا گیا فرعون اور اہل فرعون کی ہلاکت کا واقعہ سورة بقرہ ع 14 اور سورة اعراف 16 میں اور سورة یونس (ع 9) میں گزر چکا ہے۔ یہ جو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے معجزات اور روشن دلیل دے کر بھیجا۔ اس میں روشن دلیل سے بعض حضرات نے ان کی عصا اور بعض نے ید بیضاء مراد لیا ہے۔
Ayahs 11:100–104

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ بستیوں کی خبریں ہیں جن کو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض بستیاں قائم ہیں اور بعض بالکل ختم ہوگئیں۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان کے معبودوں نے جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ جب آپ کے رب کا حکم آگیا اور انہوں نے ہلاکت کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں بیشک اس کی پکڑ درد ناک ہے شدت کی۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ یہ ایسا دن ہوگا جس میں تمام آدمی جمع کئے جائیں گے اور یہ وہ دن ہوگا جو سب کی حاضری کا دن ہے

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے ہیں مگر تھوڑی سی مدت کیلئے۔

اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن رکھے ہیں اور آپ نے بھی بتا دئیے اور صرف زبانی کہا سنا نہیں ہے ان میں سے بعض بستیوں کے آثار موجود ہیں اور یہ لوگ ادھر کو گزرتے بھی ہیں انہیں ان سے عبرت حاصل کرنا لازم ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا اور جب عذاب کا وقت آگیا تو ان کے معبودوں نے جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا اور ذرا بھی ان کے کام نہ آئے ان کی عقیدت اور تعظیم اور عبادت کی وجہ سے ان کے پرستاروں کو ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ملا ‘ ان عبادت کی وجہ سے اسباب ہلاکت میں اضافہ ہوتا رہا بالآخر ہلاک اور برباد ہوئے۔