Ayah 10:98عذاب دیکھ کر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا ایمان لانا اور عذاب سے بچ جانا
اس سے پہلے فرعون کے تذکرہ میں فرمایا کہ وہ ڈوبنے لگا تو ایمان لے آیا ‘ لیکن اس کا ایمان لانا نا مقبول ہوا۔ دوسری آیات میں واضح طور پر بتایا کہ وہ دوزخ میں جائے گا۔ سورة ہود میں فرمایا (یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ) (وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا) اور سورة والنازعات میں فرمایا (فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلیٰ ) (سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا) اور سورة قصص میں فرمایا (فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰھُمْْ فِی الْیَمّْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ وَجَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ۔ وَاَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) (ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ سو دیکھئے ظالموں کا کیا انجام ہوا اور ہم نے ان لوگوں کو ایسا پیشوا بنایا تھا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے۔ اور قیامت کے روز کوئی ان کا ساتھ نہ دے گا اور دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بد حال لوگوں میں سے ہوں گے) ۔
اور سورة والذاریات میں فرمایا (فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ وَھُوَ مُلِیْمٌ) (سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا اور اس نے کام ہی ملامت کا کیا تھا) اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جب عذاب نظر آجائے اس وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ سورة مومن میں فرمایا (فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ اِیْمَانَھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ ) (سو ان کو ان کا ایمان لانا نافع نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر فرمایا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے) ۔
اس قانون سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا استثناء فرمایا۔ ان لوگوں نے جب عذاب دیکھا تو ایمان قبول کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے عذاب ٹال دیا اور اس کے بعد ایک زمانہ تک وہ لوگ زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی چیزوں کے ذریعہ فائدہ پہنچایا ‘ ان میں سے ہر شخص اپنی اپنی موت پر مرتا رہا اور عذاب کے ذریعہ اجتماعی طور پر جو ہلاکت کا معاملہ تھا وہ ختم ہوگیا۔ آیت بالا میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نینویٰ بستی کے رہنے والوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو موصل کی سر زمین (عراق) میں ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) ان پر محنت کرتے رہے ایمان کی دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے ایمان قبول نہ کیا بالآخر حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تین دن کے اندر تم پر عذاب آجائے گا وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص نے کبھی جھوٹ تو بولا نہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ تیسری رات کو یہ یہاں رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ رات کو رہ گئے تو ہم سمجھیں گے کہ عذاب کچھ نہیں صرف دھمکی ہے اور انہوں نے ہمارے ساتھ رات نہ گزاری تو ہم سمجھ لیں گے کہ صبح کو عذاب آنے والا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اسی رات وہاں سے نکل گئے جب صبح ہوئی تو ان کی قوم نے اپنی آنکھوں سے عذاب کے آثار دیکھ لئے۔ آسمان پر سخت سیاہ بادل چھا گئے اور دھواں نازل ہونے لگا جو ان کی بستی اور ان کے گھروں کی چھتوں پر چھا گیا۔ جب ہلاکت کا یقین ہوگیا تو ان لوگوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا لیکن نہ پایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو توبہ کی طرف متوجہ فرما دیا۔ وہ اپنی جانوں ‘ عورتوں ‘ بچوں اور جانوروں کو لے کر میدان میں نکل گئے۔ ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور اخلاص کے ساتھ توبہ کی اور ایمان قبول کیا اور خوب زیادہ چیخے چلائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی کے ساتھ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ یونس جو کچھ لے کر آئے تھے ہم اس پر ایمان لائے۔ اللہ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی دعا قبول فرمائی اور عذاب روک دیا ‘ ادھر یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ عذاب سے قوم ہلاک نہ ہوئی تو قوم کے سامنے آنے میں حجاب محسوس ہوا۔ لہٰذا وہاں سے چلے گئے دریا کے کنارے پہنچے تو ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ کشتی حرکت کرنے لگی۔ ملاحوں نے کہا کہ تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ آیا ہے لہٰذا ہم قرعہ ڈال لیتے ہیں جس کا نام نکلے گا اسے دریا میں ڈال دیں گے۔ تین مرتبہ قرعہ ڈالا تو حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا انہوں نے فرمایا کہ میں وہ غلام ہوں جو اپنے آقا کے فرمان کا انتظار کئے بغیر بھاگ آیا ہوں ‘ لہٰذا انہوں نے اپنی جان کو سمندر میں ڈال دیا (چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم کو چھوڑ کر چلے جانے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ عبد آبق (بھاگنے والا غلام) میں ہی ہوں۔ کشتی کے سارے سواروں کو بچانے کے لئے مجھے ہی اپنی جان کو سمندر میں ڈال دینا چاہئے۔ لہٰذا سمندر میں خود سے چھلانگ لگا دی اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ وہیں اللہ کو یاد کرتے رہے اور تسبیح میں مشغول رہے۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ کی حفاظت فرمائی ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں کسی جگہ ذوالنُّوْنِ اور کسی جگہ صاحِبِ الْحُوْتِ فرمایا ہے (دونوں کا ترجمہ ہے مچھلی والا) ان کا مچھلی کے پیٹ میں رہنے کا واقعہ سورة انبیاء (ع 6) اور سورة صافات (ع 5) اور سورة ن والقلم (ع 2) میں مذکور ہے۔ سورة صافات میں کشتی میں سوارہونے اور قرعہ ڈالنے پھر سمندر سے باہر ڈال دئیے جانے اور ان کے اوپر کدو کا درخت اگا دینے کا تذکرہ ہے اور وہاں یوں فرمایا ہے (فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ) جیسا کہ یہاں ایمان لانے پر عذاب ٹل جانے اور بعد میں آئندہ کچھ زمانہ تک دنیا سے نفع حاصل کرنے کا تذکرہ فرمایا ہے ‘ تفصیل کے لئے سورة انبیاء اور سورة والصافات کی تفسیر دیکھئے۔
اللہ تعالیٰ نے عذاب کے آثار دیکھنے پر بھی حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی توبہ قبول فرمالی اور انہیں عذاب سے ہلاک نہ فرمایا۔ اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ مختار مطلق ہے اسے پورا اختیار ہے کہ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے تکوینی اور تشریعی قانون نافذ فرمائے ‘ اور جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے نجات دے۔
قال صاحب الروح (ص 193 ج 11) وظاھر الآیۃ یستدعی ان القوم شاھدوا العذاب لمکان (کشفنا) وھو الذی یقتضیہ اکثر الاخبار والیہ ذھب کثیر من المفسرین ‘ ونفع الایمان لھم بعد المشاھدۃ من خصوصیاتھم فان ایمان الکفار بعد مشاھدۃ ما وعدوا بہ ایمان باس غیر نافع لارتفاع التکلیف حینئذٍ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں آیت کا ظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انہوں نے عذاب دیکھا تھا لفظ ” کشفنا “ کی وجہ سے اور اکثر احادیث بھی اسی کا تقاضا کرتی ہیں اور اکثر مفسرین کی رائے بھی یہی ہے اور عذاب دیکھنے کے بعد ایمان کا نافع ہونا اسی قوم کی خصوصیات میں سے ہے کیونکہ عذاب موعود کے مشاہدہ کے بعد کافروں کا ایمان لانا ایمان باس ہے جو کہ نفع مند نہیں ہے کہ اس وقت شرعی تکلیف ختم ہوجاتی ہے)
Ayahs 10:99–102اگر اللہ چاہتاتو سب ایمان قبول کرلیتے !
ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں مومن بھی رہیں گے۔ کافر بھی رہیں گے۔ اللہ کی حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو زمین کے بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ جب اللہ کی حکمت اسی میں ہے کہ زمین پر کافر بھی بسیں اور مومن بھی رہیں تو آپ کو اس پر اصرار نہ ہونا چاہئے کہ سب لوگ مومن ہوجائیں۔ کیا آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنائیں گے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنالیں۔ جو شخص مومن ہوتا ہے اللہ کے اذن یعنی اس کی مشیت سے مومن ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات بھی ہے کہ جو لوگ عقل کو کام میں نہیں لاتے ایمان کی خوبی اور برتری انہیں ناپسند ہے اللہ تعالیٰ ان پر کفر کی گندگی واقع کردیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم غور کرلو اور دیکھ لو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا چیزیں ہیں ؟ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی توحید پر کھلی ہوئی دلیلیں ہیں۔ دلیلیں بھی ہیں اور ڈرانے والی وعیدیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ پہنچی ہیں لیکن جو لوگ ضد اور عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے ان کو یہ چیزیں فائدہ نہیں دیتیں۔ اب جبکہ دلائل سامنے آکر بھی ایمان نہیں لاتے تو انہیں کس چیز کا انتظار ہے ؟ کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ ایسے واقعات ان کے سامنے آجائیں جو ان سے پہلی امتوں کے واقعات گذر چکے ہیں۔ انہوں نے تکذیب کی اور کفر کو اختیار کیا۔ پھر عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے خطاب کر کے فرمایا (قُلْ فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ) (آپ فرما دیجئے کہ تم انتظار کرتے رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں) تکذیب کرنے والوں کا جو برا حال ہوگا وہ سامنے آجائے گا۔
Ayah 10:103آخر میں فرمایا (ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ ) جب ہمارا عذاب آتا ہے تو ہم مکذبین کو ہلاک کردیتے ہیں پھر اپنے رسولوں کو نجات دے دیتے ہیں اور اہل ایمان کو بھی اسی طرح نجات دیتے ہیں (حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں) اس میں اہل ایمان کو خوشخبری ہے اور مواقع عذاب سے نجات پانے کی بشارت ہے۔
Ayah 10:104اللہ تعالیٰ ہی لائق عبادت ہے وہی خیر اور ضرر کا مالک ہے اس کے فضل کو کوئی رد نہیں کرسکتا
ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرما دیں کہ تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی شک ہے تو یہ تمہاری جہالت اور گمراہی ہے ‘ حق میں شک کرتے ہو اور شرک سے چپکے ہوئے ہو ‘ تمہارے اس شک کا مجھ پر کوئی اثر کبھی بھی ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو میں کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کرسکتا۔ اگر تم اس بھول میں ہو کہ میں کبھی العیاذ باللہ تمہارا دین قبول کرلوں گا تو یہ تمہاری گمراہی اور خام خیالی ہے ‘ میں تو اس ذات پاک کی عبادت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا جو تمہیں موت دیتا ہے۔ تم اپنی جان کو عذاب سے بچانے کے لئے فکر کرو اگر تم نے دین توحید کو قبول نہ کیا اور دین شرک اور کفر پر تمہاری موت آگئی تو تمہارا موت کے بعد کیا بنے گا ؟ اس پر غور کرلو اور اس بارے میں بھی غور کرلو کہ خالق اور مالک کی عبادت چھوڑ کر مخلوق کو معبود بنانا بےسمجھی اور ناعقلی کی بات ہے۔ (یَتَوَفّٰکُمْ ) فرمایا اور یَتَوَ فَّانِیْ نہیں فرمایا کیونکہ جو لوگ مخاطب تھے انہیں احساس دلانا تھا کہ تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا نہیں ہے مرنا بھی ہے۔
ان کو بتانا یہ مقصود تھا کہ تم مرو گے اور موت کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور کفر کی سزا پاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا (وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) یعنی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کیا گیا ہے کہ میں اللہ کے ان بندوں میں شامل رہوں جو اہل ایمان ہیں۔ لہٰذا میں ایمان کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ تم کفر کو چھوڑ دو ۔
Ayah 10:105(وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنَ حَنِیْفًا) اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اپنی ذات کو اس دین (یعنی دین توحید) کی طرف اس طرح متوجہ رکھوں کہ دوسرے سب طریقوں سے علیحدہ رہوں۔ لہٰذا میں تمہاری طرف نہ مائل ہوسکتا ہوں اور نہ تم سے کوئی اونچ نیچ کر کے مصالحت اور مسامحت ہوسکتی ہے۔ (وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور میرے رب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہرگز مشرکین میں سے مت ہوجانا) لہٰذا میں تو ہمیشہ موحد ہی رہوں گا۔ وھذا کما فی سورة الانعام (قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُلْ لَّا اَتَّبِعُ اَھْوَآءَکُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ) (آپ فرما دیجئے کہ مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو آپ فرما دیجئے کہ میں تمہاری خواہشوں کا اتباع نہیں کرتا کیونکہ اس حال میں تو میں بےراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پر نہ رہوں گا)
Ayah 10:106اس کے بعد یوں فرمایا (وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکََ ) (اور اے مخاطب اسے مت پکار جو تجھے نفع نہ دے سکے اور نہ ضرر، جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس میں ان کی بےوقوفی اور حماقت بیان فرمائی ‘ نفع اور ضرر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو شخص غیر اللہ کی پرستش کرتا ہے اس نے غیر اللہ کو معبود بنا رکھا ہے جو ذرا بھی نفع یا ضرر نہیں دے سکتے۔ مزید فرمایا (فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (سوا گر تو نے ایسا کیا یعنی غیر اللہ کی عبادت کی جو نفع اور ضرر کا مالک نہیں تو ظالموں میں سے ہوجائے گا) مشرک اپنی جان پر ظلم کرتا ہے جس کی سزا دوزخ کا عذاب ہے اور اپنی عقل وفہم پر بھی ظلم کرتا ہے جو مشرکین کی اتباع کرتا ہے اور اپنی عقل سے نہیں سوچتا کہ میں کس کو پوجتا ہوں ‘ مجھے اس سے کیا فائدہ ہے ؟ اور اس کی عبادت نہ کروں تو مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ خالق اور مالک کو چھوڑ کر اپنے سے بھی کم حیثیت والی مخلوق کی عبادت کرنا جو نہ بولے اور نہ سنے اور جو اپنی تراشی اور بنائی ہوئی ہے۔ یہ اپنی جان اور اپنی عقل وفہم پر ظلم کرنا نہیں ہے تو کیا ہے ؟
Ayah 10:107پھر فرمایا (وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا ھُوَ ) (اور اگر اللہ تعالیٰ تجھے کوئی ضرر پہنچا دے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں)
(وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍفَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ ) (اور اگر وہ تجھے کوئی خیر پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس میں یہ بتایا ہے کہ جسے اللہ کی طرف سے جو بھی کوئی خیر پہنچ جائے وہ محض اللہ کا فضل ہے۔ اللہ پر کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ (یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) (وہ اپنافضل اپنے بندوں میں سے جسے چاہے پہنچا دے) فضل کا عموم دنیا وآخرت کی تمام نعمتوں کو شامل ہے۔
پھر فرمایا (وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) اور وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔ مغفرت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔ اس سے آخرت کی نجات ہوتی ہے۔ نیز حصول جنت کا ذریعہ ہے۔ جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ‘ اور وہ رحیم بھی ہے۔ رحمت کے عموم میں دنیاوی نعمتوں کا اور ہر دکھ تکلیف سے بچانے کا تذکرہ آگیا۔ اس میں بھی مشرکین پر تعریض ہے کہ ایسے غفور اور رحیم کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو جن سے کچھ بھی ملنے والا نہیں نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
Ayahs 10:108–109ہدایت کا نفع اور گمراہی کا نقصان انسان کو ذاتی طور پر خود پہنچتا ہے
یہ سورة یونس کی آخری دو آیات ہیں اس سے چار آیات پہلے تمام انسانوں کو خطاب تھا۔ اور اب سورت کے ختم پر آنحضرت سرور عالم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام انسانوں سے فرما دیں کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آپہنچا ہے اسے قبول کرو ‘ اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا ہوں کہ تم سے قبول کروا کے چھوڑوں ‘ جو شخص قبول کرے گا ہدایت کی طرف آئے گا اس کا نفع اس کی جان ہی کو ہوگا اور جو شخص گمراہی پر جما رہے اور حق کا ابتاع نہ کرے اس کا وبال اسی کی جان پر ہوگا۔ ہدایت پر آنا اور گمراہی پرجما رہنا یہ ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے ہدایت کا نفع ہدایت والے ہی کو پہنچے گا۔ وہ آخرت کی نعمتوں کا مستحق ہوگا ‘ اور جو شخص گمراہ ہوگا اس کی گمراہی اسے دوزخ میں پہنچادے گی ‘ لہٰذا اپنا نفع نقصان ہر شخص خودہی سمجھ لے ‘ اس کام کے کرنے پر لوگوں سے تکلیفیں پہنچتی ہیں۔ آپ ان تکلیفوں پر صبر کیجئے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کیجئے وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے ‘ جو لوگ حق کو قبول نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ اپنی حکمت وعدل کے مطابق ان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ دنیا میں اور آخرت میں یا صرف آخرت میں مبتلائے عذاب ہوں گے۔
قال صاحب الروح (ص 404 ج 11) ولا یخفی ما فی ھذہ الایات من الموعظۃ الحسنۃ وتسلیۃ النبی ﷺ ووعدالمومنین والوعید للکافرین والحمد للہ تعالیٰ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین ‘ الذی یؤنس ذکرہ قلوب الموحدین ‘ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔
(صاحب روح المعانی فرماتے ہیں ان آیات میں جو عمدہ نصیحت ہے اور حضور ﷺ کے لئے تسلی ہے اور مومنوں کے لیے وعدہ اور کافروں کیلئے وعید ہے وہ واضح ہے)