Ayahs 10:62–65اولیاء اللہ نہ خوف زدہ ہوں گے نہ غمگین
یہ تین آیات ہیں ان میں اولیاء اللہ کی فضیلت اور ولایت کی حقیقت بتائی اور یہ بتایا کہ اولیاء اللہ کے لئے دنیا میں اور آخرت میں بشارت ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے ‘ ولی دوست اور قریب کو کہتے ہیں۔ اولیاء کون لوگ ہیں اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں۔ ایمان کے بغیر تو اللہ کا کوئی دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ خواہ کیسی ہی ریاضت کرے اور عبادت کے نام سے کچھ بھی عمل کرے۔ کافر اور مشرک اللہ کا مقرب اور مقبول بندہ اور اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اہل ایمان کے درجات مختلف ہیں۔ ایمان کی صفات کے کم وبیش ہونے اور ایمانی تقاضوں پر عمل کرنے میں اور عبادت ‘ تلاوت ‘ ذکر کی کیفیات اور کمیات کے اختلاف سے فرق مراتب ہوجاتا ہے اور کون شخص کس درجہ کا ولی ہے بندے اس کے ظاہری حالات سے اندازہ لگا سکتے ہیں ‘ چونکہ ہر ایک کے ظاہر و باطن کا صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس لئے فرق مراتب کا صحیح علم بھی اسی کو ہے۔ فرائض اور واجبات کا اہتمام ابتاع سنت کا دھیان۔ نوافل کی کثرت۔ ذکر اللہ کی مشغولیت اور صفت احسان (اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ ) کا حصول۔ خشوع خضوع ‘ اخلاص ‘ مکارم اخلاق ‘ محاسن الافعال ان سب چیزوں کے ذریعہ حسب مراتب درجہ بدرجہ اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اسی کا نام ولایت ہے۔ صحیح مسلم (ص 47 ج 1) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً وَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَدْنَاھَا اَمَاطَۃُ الْاِذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَان ستر سے کچھ اوپر ایمان کے شعبے میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہہ لینا ہے ( یعنی سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ طیبہ پر ایمان لانا ہے) اور ان میں سب سے کم درجہ کی بات یہ ہے کہ راستے سے تکلیف دینے والی چیز ہٹا دی جائے ‘ اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
اس میں ایمان کے ستر سے کچھ اوپر شعبے بتائے ہیں جس میں ادنیٰ شعبہ یہ بتایا ہے کہ راستے سے تکلیف دینے والی چیز ہٹا دی جائے ‘ اور خصوصیت کے ساتھ حیاء کو ایمان کے شعبوں میں شمار فرمایا ہے ہر وہ عمل جو ایمان کے تقاضوں کے موافق ہو اور اللہ کی رضا کے لئے ہو وہ سب قرب خداوندی اور رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اولیاء اللہ کی تعریف میں جو اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فرمایا یہ ایمان کے تمام تقاضوں کو شامل ہے فرائض سے لے کر مستحبات تک جو بھی کرنے کے کام ہیں وہ سب اللہ کا قرب حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں۔ یہ تو ایمان کے تقاضوں کا ذکر ہوا جن پر عمل کرنا ہے ان کے علاوہ دوسرے تقاضے بھی ہیں جن کا تعلق ان اعمال سے ہے جن کے ارتکاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کو وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ میں بیان فرما دیا۔ حرام سے لے کر مکروہ تنزیہی تک جو اعمال ترک کرنے کے ہیں ان سے بچنا بھی رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اور یہ بھی عبادت ہے۔ ایک حدیث میں ہے۔
(اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبُدَ النَّاسِ ) کہ تو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچ ‘ ایسا کرنے سے تو دوسروں سے بڑھ کر عبادت گزار ہوگا (مشکوٰۃ المصابیح ص 440) جو شخص مامورات پر عمل کرتا رہے اور منھیات سے بچتا رہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کے اتباع کا اہتمام کرتا رہے جسے (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ) میں بیان فرمایا ہے ایسے شخص کو اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے قرب الٰہی حاصل ہوگا اور اسی درجہ کی ولایت حاصل ہوگی جس درجہ کے اعمال ہوں گے اور جس قدر دنیاوی اشغال و افکار سے ذہن فارغ ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے لو لگی ہوگی اسی قدر قرب الٰہی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان اللّٰہ تعالیٰ قال من عادی لی ولیًّا فقد آذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیء احب إلی مما افترضتہ علیہ وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتیٰ احببتہ فاذا احْبَبِتہٗ فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصرہ بہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا۔ (بےشک اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں نے اس سے اعلان جنگ کیا اور میرے بندے کا میرے فرائض کے ذریعے میرا قرب حاصل کرنا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ‘ اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب فرائض کی ادائیگی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ بھی تقرب بڑھتا رہتا ہے ان امور کو سامنے رکھ کر سمجھ لیا جائے کہ ولایت ‘ فرائض واجبات اور مستحباب اور مندوبات اور ابتاع سنت کے اہتمام اور ترک منہیات کا نام ہے یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ ولی وہ ہے جس سے کوئی کرامت صادر ہو یا صوفیہ کے کسی سلسلہ میں داخل ہو یا کسی خانقاہ کا گدی نشین ہو یا نسب کے اعتبار سے سید ہو وہ ولی ہے خواہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور کیسا ہی دنیا دار ہو اور کیسا ہی تارک فرائض اور مرتکب محرمات ہو۔ یہ جہالت کی بات ہے ‘ جو شخص متبع شریعت نہیں وہ اللہ کا دوست نہیں ہے۔ اب تو گدیاں عموماً جلب زرہی کے لئے رہ گئی ہیں۔
جہاں کہیں تھوڑا بہت ذکر و شغل اور ریاضت ہے وہ بھی منکرات کے ساتھ ہے۔ قلب جاری ہے لیکن اکل حلال کا اہتمام نہیں۔ بینک میں کام کرتے ہیں پھر بھی صوفی ہیں داڑھی کٹی ہوئی ہے پھر بھی بزرگ ہیں۔ نماز نہیں پڑھتے اور مریدوں سے کہہ دیتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں پڑھتا ہوں بزرگی کے ڈھنگ رہ گئے ہیں اور ایسے لوگوں کو ولی سمجھا جاتا ہے۔ ولایت اتباع شریعت کا نام ہے اور حضرات صوفیاء کرام اسی کے لئے محنت اور ریاضت کراتے تھے کہ شریعت طبیعت ثانیہ بن جائے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنا آسان ہوجائے۔ اب تو گدی نشینوں کے نزدیک ولایت اور بزرگی کا مفہوم ہی پلٹ گیا۔
یہاں تک تو ولایت کی حقیقت بیان کی گئی جس سے یہ معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کون ہیں ‘ اب یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اولیاء اللہ کے لئے جس انعام کا وعدہ فرمایا وہ (لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ہے۔ سورة بقرہ میں فرمایا ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا ثواب ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) اس آیت سے معلوم ہوا کہ (لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) کی خوشخبری مؤمنین صالحین کے لئے ہے اور دونوں آیتوں کے ملانے سے ولایت کا مصداق بھی معلوم ہوگیا (جس کی تشریح ہم اوپر کرچکے ہیں) حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں بہت سے ایسے بندے ہوں گے جو نہ نبی ہیں نہ شہید ہیں قیامت کے دن انبیاء اور شہداء بھی ان کے اس مرتبہ کی وجہ سے جو اللہ کے نزدیک ہے ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے قرآن کی وجہ سے محبت کریں گے ان کی آپس کی یہ محبت نہ آپس کی رشتہ داریوں کی وجہ سے ہوگی اور نہ اموال کے لین دین کی وجہ سے (یہ محبت صرف اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بنیاد پر ہوگی) اللہ کی قسم ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر بیٹھے ہوں گے جس دن لوگ خوف زدہ ہوں گے۔ یہ خوف زدہ نہ ہوں گے اور جس دن لوگ رنجیدہ ہوں گے اس دن یہ لوگ رنجیدہ نہ ہوں گے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہی آیت (لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) تلاوت فرمائی۔ (رواہ ابو داؤد کما فی المشکوٰۃ ص 426) اس حدیث سے معلوم ہوگیا کہ اولیاء اللہ کے بارے میں جو یہ فرمایا ہے کہ ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے اس سے قیامت کے دن بےخوف اور بہ اطمینان ہونا مراد ہے لہٰذا یہ اشکال دور ہوجاتا ہے کہ بعض مرتبہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو خوف لاحق ہوا اور بعض احوال میں غمگین ہوئے اسی طرح بہت سے اولیاء اللہ پر بعض حالات میں خوف اور حزن یعنی غم طاری ہوا کیونکہ یہ دنیاوی احوال ہیں آخرت میں یہ حضرات خوف وحزن سے محفوظ ہوں گے۔ یہ جو فرمایا کہ حضرات انبیاء اور شہداء بھی ان کا مرتبہ دیکھ کر ان پر رشک کریں گے اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرات انبیاء اور شہداء خوف زدہ اور غمگین ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے بارے میں گواہی دینے اور ان کی سفارشیں کرنے میں مشغول ہوں گے اور حضرات شہدا کرام بھی سفارش میں لگے ہوئے ہوں گے دوسرے اولیاء اللہ بےفکر بےغم ہوں گے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ رشک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرات ان لوگوں کی تعریف کریں گے جنہوں نے اللہ کے لئے آپس میں محبت کی۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ ہر مومن کو کچھ نہ کچھ ولایت کا درجہ حاصل ہے اس درجہ کی وجہ سے جنت کا داخلہ مل جائے گا اور جنہوں نے گناہوں کے ذریعے اس ولایت کو مکدر کردیا ان میں سے جو شخص سزا پانے کے لئے دوزخ میں جائے گا وہ بھی سزا پا کر اسی ولایت کی وجہ سے جو اسے حاصل تھی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اگر اپنی ولایت کی لاج رکھتا اور گناہوں سے بچتا جس سے اونچے درجہ کی ولایت حاصل ہوتی تو دوزخ میں نہ بھیجا جاتا۔
اولیاء اللہ کے لئے مزید انعام کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ) کہ اولیا کے لئے دنیا والی زندگی میں اور آخرت میں بشارت ہے۔ اس بشارت سے کیا مراد ہے اس بارے میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اس بشارت سے کیا مراد ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسی بات کا سوال کیا ہے جو اس سے پہلے مجھ سے کسی نے بھی دریافت نہیں کی پھر فرمایا کہ اس سے اچھی خوابیں مراد ہیں جنہیں آدمی خوددیکھ لے یا اس کے لیے دیکھ لی جائے (مسند احمد ص 315 ج 5)
مطلب یہ ہے کہ مومن بندے ایسے خواب دیکھ لیتے ہیں جن میں ان کے لئے خیر و خوبی کی اور حسن خاتمہ کی اور اعمال کے مقبول عند اللہ ہونے کی نیز جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری ہوتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو ایسی خوابیں دکھائی جاتی ہیں جن میں کسی مومن بندے کے لئے بشارت ہوتی ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بشارت کا ایک مصداق بیان فرما دیا ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائیے ایک شخص کوئی خیر کا کام کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں (اس کی وجہ سے اس کا ثواب ختم تو نہیں ہوجاتا جبکہ اس نے وہ عمل اللہ کے لئے کیا ہے) آپ نے فرمایا کہ یہ تو مومن کے لئے ایک بشارت ہے جو اس دنیا میں اسے مل گئی۔ (رواہ مسلم ص 332 ج 2) اس سے معلوم ہوا کہ کسی صالح بندہ سے لوگوں کا محبت کرنا ان کی تعریف کرنا اور ان کو اچھا سمجھنا اس میں اس بات کی بشارت ہے کہ وہ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ کا مقبول بندہ ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا کسی کو اچھا کہنا یہ اس کے اچھا ہونے کی دلیل ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ دنیا کی بشارت یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے بشارت لے کر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے جو ایک طویل حدیث موت اور مابعد الموت کے احوال کے بارے میں مروی ہے اس میں موت کے وقت اللہ کی رضا مندی کی بشارت کا ذکر ہے۔ نیز قبر میں بشارت دئیے جانے کا ذکر بھی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 142)
حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ بشارت مراد ہے جس کا اللہ نے مومنین سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں جنت کا داخلہ نصیب ہوگا اور ان کے اعمال کا بہت اچھا ثواب ملے گا۔ جیسا کہ سورة بقرہ (ع 3) میں فرمایا (وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تِحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) اور سورة بقرہ (ع 19) (وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ ) اور سورة بقرہ (ع 28) میں (وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ) فرمایا ہے۔ بشارتیں اس دنیا میں دے دی گئیں ‘ (لَاتَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ) اللہ کی باتوں یعنی اللہ کے وعدوں میں کوئی تبدیلی نہیں جو وعدے فرمائے ہیں وہ سب پورے ہوں گے جو بشارتیں دی ہیں وہ سچی ہیں ‘ ان کے مطابق انعام دیا جائے گا۔ (ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) ۔ (یہ بشارت بڑی کامیابی ہے)
Ayah 10:66مشرکین صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں انہوں نے اللہ کیلئے اولاد تجویز کر کے اللہ پر بہتان باندھا ہے
ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ ان کی باتیں سن کر غمگین اور دلگیر نہ ہوں ساری عزت اور ہر طرح کا غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ غالب ہے آپ کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ (لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ) (مجادلہ ع 3) میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ وہ ان کے اقوال اور اعمال کی سزا دے گا وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہیں) اس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ (وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ) (اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کرتے ہیں وہ کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں) (اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ) جو لوگ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں۔ اور محض اٹکل پچوباتیں کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے گمان ہی گمان ہے۔ حالانکہ معبود بنانا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد گمان اور اٹکل پر رکھ لی جائے۔ اس کیلئے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل وہی ہے جو خالق مالک جل مجدہ کی طرف سے ملے۔ اول تو اس نے عقل سلیم عطا فرمائی غورو فکر کی صلاحیت دی۔ یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے اگر کوئی شخص اس سے کام لے تو وہ سمجھ سکتا ہے اور یقین کے ساتھ جان سکتا ہے کہ پیدا کرنے والے کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا۔ پھر اس نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا انہوں نے صرف خالق جل مجدہ کی عبادت کرنے کو راہ مستقیم بتایا اور اسی کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ خالق کائنات ہے صرف وہی معبود وحدہ لاشریک ہے۔ مشرکین نہ دلیل عقلی سے کام لیتے ہیں نہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بتانے سے شرک چھوڑتے ہیں۔ صرف گمان کا ابتاع کرتے ہیں اور اٹکل کے پیچھے چلتے ہیں۔
Ayah 10:67پھر فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ ) (اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا فرمایا تاکہ تم اس میں آرام کرو) (وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا) (اور دن کو ایسی چیز بنایا جس میں دیکھ بھال کرتے ہو) اس میں چیزیں صاف واضح نظر آتی ہیں۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ (یعنی حق کو قبول کرنے کی نیت سے سنتے ہیں اور سنی کو ان سنی نہیں کردیتے) رات اور دن دونوں ایسی چیزیں ہیں جو نظروں کے سامنے ہیں۔ پوری دنیا ان دونوں وقتوں سے خالی نہیں ہوتی کہیں رات ہوتی ہے کہیں دن ہوتا ہے اور دنیا کے بسنے والوں میں کوئی ایسا نہیں جو رات میں یا دن میں نہ ہو ہر علاقہ میں یہ دونوں یکے بعد دیگرے گزرتے ہیں۔ ان دونوں کا الٹ پھیر کرنے والا اور آگے پیچھے لانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے آرام کرنے کیلئے بنایا اور دن کو بھی بہت بڑا فائدہ ہے اس میں لوگ چلتے پھرتے ہیں دیکھتے بھالتے ہیں۔ کسب معاش کرتے ہیں یہ سب اوقات اور سب حالات اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں پھر بھی مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کی نشانیاں سامنے ہیں وہ ان کے سامنے لائی جاتی ہیں تو انہیں سننا نہیں چاہتے اور سن لیتے ہیں تو ان کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلتے حق کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
Ayah 10:68پھر فرمایا (قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ) (ان لوگوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے وہ اس سے پاک ہے۔ ) (ھُوَ الْغَنِیُّ ) (وہ بےنیاز ہے) (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ) (اسی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) اول تو وہ بےنیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں کسی معاون ومدد گار کی ضرورت نہیں پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی مخلوق ہے اور اس کی مملوک ہے خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ رشتہ کے لئے ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اللہ جل شانہ کے لئے اولاد ہونا ہی محال ہے۔ اس کے لئے اولاد تجویز کرنا اس کے لئے عیب کی بات تجویز کرنا ہے۔ اور اس کی ذات کو محتاج بتانا ہے ‘ حالانکہ وہ ان سب باتوں سے پاک ہے اور بلند وبالا ہے۔
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ یوں کہتا ہے کہ اللہ صاحب اولاد ہوگیا حالانکہ میں بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔ (صحیح بخاری ص 744 ج 2)
پھر فرمایا (اِنْ عِنْدَکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ م بِھٰذَا) (تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں ہے) بےسند باتیں ہیں خود تراشیدہ خیالات ہیں (اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) (کیا تم اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہو جن کا تم علم نہیں رکھتے)
Ayah 10:69پھر فرمایا (قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ ) (آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے)
Ayah 10:70(مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) (دنیا میں تھوڑا سا نفع ہے پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب چکھا دیں گے) اس میں اس شبہ کا جواب ہے کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ مشرک اور کاذب اور مفتری آرام و راحت میں ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے حکومتیں بھی ہیں اس طرح تو وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ جو اب میں ارشاد فرمایا کہ یہ تھوڑی سی دنیاوی زندگی ہے اس میں تھوڑا سا عیش کرلیں گے پھر ہمارے پاس آئیں گے وہاں کفر کا سخت عذاب چکھیں گے۔ اس عذاب کے سامنے یہ ذرا سا چند روزہ دنیا کا عیش کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا ‘ جو دوزخ میں جائے (اور وہ بھی ہمیشہ کیلئے) وہ کیسے کامیاب ہوسکتا ہے۔
Ayahs 10:71–74حضرت نوح (علیہ السلام) کا جرأت کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق ہوجانا
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے تفصیل کے ساتھ آئندہ سورة ھود اور سورة نوح میں مذکور ہے۔ نیز سورة اعراف (رکوع 8) میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دوبارہ دیکھ لیں اور سورة ہود (رکوع 3) اور (رکوع 4) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال قیام فرمایا ان کو طرح طرح سے سمجھایا توحید کی دعوت دی شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی لیکن وہ لوگ برابر مخالفت کرتے رہے اور دشمنی پر اتر آئے اور یہاں تک کہہ دیا (لَءِنْ تَنْتَہِ یٰنُوْحُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ ) (کہ اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو تم سنگسار کئے جانے والے آدمیوں میں سے ہوجاؤ گے) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم اور تمہارے شرکاء (جن کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) سب مل کر میرے خلاف منصوبے بنا لو اور ایسا منصوبہ ہو جو ڈھکا چھپا نہ ہو پھر تم اپنے اس منصوبہ کے موافق میری ایذا رسانی کے لئے جو چاہو فیصلہ کرلو۔ مجھے تم سے کوئی ڈر نہیں۔ میں نے صرف اللہ پر بھروسہ کیا اور مجھے تم سے کوئی لالچ بھی نہیں۔ اگر مجھے تم سے کچھ لالچ ہوتا تو مجھے یہ خیال ہوتا کہ تم ناراض ہوجاؤ گے تو جس نفع کی امید ہے وہ حاصل نہ ہوگا تم اگر رو گردانی کرو اور اپنے اعراض پر باقی رہو تو میرا کچھ نہیں بگڑے گا۔ میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے اللہ کی طرف سے یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کے فرمانبرداروں میں سے رہوں میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔ وہ لوگ برابر جھٹلاتے رہے اور انہوں نے صاف کہہ دیا (فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) (کہ جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو تو اسے لے آؤ) حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنائی اور اپنے گھر والوں کو اور اہل ایمان کو اپنے ساتھ کشتی میں بٹھا لیا زبردست پانی کا طوفان آیا جس میں سارے کافر غرق ہوگئے (ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور ایک بیٹا بھی تھا) اور تمام اہل ایمان نے نجات پائی۔ کافروں کی ہلاکت کے بعد یہ نجات پانے والے اہل ایمان دنیا کے آباد کرنے والے بنے۔ (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ) اب دیکھنے والے دیکھ لیں اور غور کرلیں کہ جن لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا ‘ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور ہلاک ہوئے۔
Ayahs 10:75–86حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و معجزات لے کر پہنچے جب فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس ان دونوں حضرات نے حق پیش کیا اور توحید کی دعوت دی اور غیر اللہ کی عبادت چھوڑنے کا حکم فرمایا تو ان لوگوں نے تکبر کیا اور حق قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا ‘ جیسا کہ سورة مومنون میں ان کا قول نقل فرمایا ہے (اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ) (کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں حالانکہ ان کی قوم ہمارے زیر حکم ہے) یہ لوگ پہلے سے مجرم تھے کافر تھے اور کفر پر ہی پر جمے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حجت بازی کی ان سے کہا کہ اپنے رسول ہونے کی نشانی پیش کرو انہوں نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو بہت زیادہ سفید تھا اور اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اژدھا بن گئی ‘ اس پر وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم حق کو جادو کہتے ہو۔ ہوش کی دوا کرو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ اور یہ بھی سمجھ لو کہ جادو گر کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ تو دنیا میں ذلیل رہتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لئے تباہی ہے اور خاص کر جو شخص جادو کے ذریعہ نبوت کا دعویٰ کرے ‘ وہ تو اپنے دعویٰ میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ اس میں یہ بات بیان فرمائی کہ دیکھو میں تو کامیاب ہوں اور کامیاب رہوں گا اور جو شخص میرے مقابلہ میں آئے گا وہ ناکام ہوگا۔
فرعون اور اس کے درباری کہنے لگے جی ہاں ہم نے سمجھ لیاتمہارا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو جس دین پر پایا ہے اس سے تم ہمیں ہٹا دو اور جب ہم تم پر ایمان لے آئیں تو پھر زمین میں تمہارا ہی حکم چلے اور تمہیں ہی سرداری مل جائے اور تم ہی صاحب اقتدار ہوجاؤ۔ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔ اہل دنیا ‘ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور جس طرح خود دنیا کے طالب ہوتے ہیں اسی طرح دوسروں کے بارے میں ایسا ہی خیال کرتے ہیں کہ یہ بھی طالب دنیا ہے۔ اور اس کی ساری محنت کوشش اس لئے ہے کہ اسے ملک مل جائے۔ آخرت کی بڑائی اور بلندی ان کے سامنے ہوتی ہی نہیں۔ فرعون نے اور اس کی جماعت نے حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) سے یہی کہا کہ تم دنیا کے طالب ہو سر زمین مصر کی حکومت چاہتے ہو (والعیاذ باللہ)
چونکہ ان کی لاٹھی والا معجزہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں نے یوں کہا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے اس لئے جادو کا مقابلہ کرانے کے لئے جادو گروں کو طلب کرنے کی سوجھی۔ فرعون نے کہا میری قلم رو میں جتنے بھی ماہر جادوگر ہیں سب کو بلالو۔ چناچہ جادو گر بلائے گئے اور مقابلے کی بات چلی جب وہ لوگ سامنے آئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ بولئے آپ اپنی لاٹھی ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پہلے تم ڈالو ‘ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو ان کے جادو کی وجہ سے دوڑتے ہوئے سانپ معلوم ہو رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اژدھا بن گئی۔ اور ان کی ڈالی ہوئی چیزوں کو اس نے چٹ کرنا شروع کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ دیکھو تم جو کچھ لے کر آئے ہو جادو ہے اور میں جو کچھ لے کر آیا ہوں وہ جادو نہیں ہے۔ فرعون اسے جادو کہہ رہا ہے۔ بلاشبہ ابھی ابھی اللہ تمہارے جادو کو باطل قرار دے گا۔ چناچہ سب نے دیکھ لیا کہ جادوگر اپنی جادو گری میں ناکام ہوئے پھر وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس بات کا اقرار کیا کہ جو کچھ موسیٰ کے پاس ہے وہ جادو نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کا کام نہیں بننے دیتا) اللہ کے نبی کے مقابلہ میں جو شخص آئے گا وہ فسادی ہوگا وہ مقابلہ میں ٹک نہیں سکتا۔ (وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجِرْمُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے موافق حق کو ثابت فرماتا ہے اگرچہ مجرمین کو یہ ناگوار ہو) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو اللہ کا وعدہ تھا اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی وہ پورا ہوا۔ فرعون اور فرعونیوں کو اور جادوگروں کو شکست فاش ہوئی۔ فالحمد للّٰہ علی ماقضٰی۔
Ayahs 10:87–88مصر میں بنی اسرائیل کا بےبس ہونا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا انہیں توکل کی تلقین فرمانا اور گھروں میں نمازیں پڑھنے کا اہتمام کرنے کا حکم دینا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اپنی قوم کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ فرعون اور ان کی طرف بھی ان کی بعثت ہوئی تھی۔ فرعون کی قوم میں سے ایک شخص نے ایمان قبول کیا جس کا ذکر سورة مومن میں ہے اور فرعون کی بیوی بھی مسلمان ہوگئی تھی جس کا سورة تحریم میں ذکر ہے اور بعض لوگوں نے ماشطہ (فرعون کی لڑکی کی کنگھی کرنے والی) اور اس کے خزانچی اور اس کی بیوی کے مومن ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ‘ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا۔ مسلمان تو ہوگئے لیکن فرعون سے اور اس کی قوم کے سرداروں سے ڈرتے تھے کہ کہیں انہیں فتنے میں نہ ڈال دے۔ یعنی جو دین حق انہوں نے قبول کرلیا ہے اس سے ہٹا نہ دے۔ فرعون کو زمین میں اقتدار حاصل تھا۔ متکبر بھی تھا اور ظالم بھی ‘ جن لوگوں کو سزا دیتا تھا وہ بہت سخت سزا ہوتی تھی۔ ہاتھوں میں کیلیں گاڑ دیتا تھا۔ اسی لئے اسے سورة الفجر میں ذو الْاَوْتَاد فرمایا ہے۔
تکبر اور تجبر میں اتنا آگے بڑھ چکا تھا کہ اپنے بارے میں (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) کہتا تھا جو لوگ مومن ہوئے وہ اس سے ڈرتے رہتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اگر تم فرمانبردار ہو۔ ان لوگوں نے کا کہا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا پھر یوں دعا کی کہ اے اللہ ہمیں ظالموں کیلئے فتنہ نہ بنا جو ہمیں تکلیف دیں اور تختہ مشق بنائیں اور ہم پر رحم فرما اور کافر قوم سے نجات دے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے والے کو اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ توکل ہوگا تو دعا کی قبولیت کی امید زیادہ بندھ جاتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ توکل دعاء کے منافی نہیں ہے۔ توکل کا معنی یہ ہے کہ اسباب عادیہ پر نظر نہ رہے اور صرف خالق الاسباب پر بھروسہ ہوجائے۔ اور دعا بھی اسی ذات پاک سے مانگی جاتی ہے جس پر بھروسہ ہے اس لئے دونوں میں کوئی منافات نہیں۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کے لئے مصر ہی میں گھر بنائے رکھو اور گھروں ہی میں نمازیں پڑھتے رہو۔ یہ گھر ہی تمہارے لئے مسجدیں ہیں چونکہ فرعون کے ظلم کی وجہ سے باہر مسجدیں نہیں بنا سکتے تھے اور کھل کر نماز پڑھنے کا موقعہ نہ تھا اس لئے یہ حکم دیا کہ گھروں میں ہی نماز پڑھیں۔ اور نماز قائم رکھیں۔ (اس سے نماز کی اہمیت معلوم ہوئی کہ جہاں بھی ہوں مظلومیت کے جن حالات سے بھی گذر رہے ہوں نماز قائم کرنے میں سستی نہ کریں) ۔
آخر میں فرمایا (وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اہل ایمان کو بشارت دے دو ) اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا انہیں ظالموں سے نجات دے گا ‘ اور دشمن کے مقابلہ میں ان کی مدد فرمائے گا۔ اور ان کی مظلومیت کی جو حالت ہے اس سے نجات دے گا۔ جس کا ذکر آگے آ رہا ہے)
Ayahs 10:89–91فرعون اور آل فرعون کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا ‘ فرعون کا غرق ہونا ‘ اور عبرت کیلئے اس کی نعش کا باقی رکھا جانا
فرعون اور اس کی قوم مصر میں صاحب اقتدار تھے ان کے پاس اموال تھے ‘ زیب وزینت کے ساتھ رہتے تھے اور بنی اسرائیل جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر جا کر آباد ہوگئے تھے وہ وہاں پر دیسی تھے اور چونکہ اہل مصر یعنی قبطیوں کی قوم میں سے نہ تھے اس لئے ان سے محنت کے کام لئے جاتے تھے بلکہ ان سے بیگاریں لیتے تھے۔ بنی اسرائیل مال کے اعتبار سے بھی بہت کمزور تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو دنیاوی سازو سامان دیا ہے جو اس بات کا ذریعہ بن رہا ہے کہ وہ لوگوں کو آپ کے راستہ سے ہٹائیں اور گمراہ کریں۔ آپ ان کے مالوں کو ختم کردیجیے اور ان کے دلوں کو سخت کر دیجئے تاکہ یہ درد ناک عذاب دیکھنے تک ایمان نہ لائیں اور کفر کی سزا دنیا میں اور آخرت میں چکھ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے جاتے تھے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے۔ دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہنا بھی دعا میں شریک ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ سو تم ثابت قدم رہو اور استقامت کے ساتھ کار مفوضہ انجام دیتے رہو اور جو لوگ نادان ہیں ان کی راہ کا اتباع نہ کرو (تمہاری مدد کا وعدہ تو ہے لیکن اس کے ظہور میں جو دیر لگے اس دیر سے مت گھبرانا جیسا کہ وہ لوگ گھبرا جاتے ہیں جو عادۃ اللہ کو نہیں جانتے اور جن کی اللہ کی حکمتوں پر نظر نہیں ہوتی) صاحب روح المعانی نے (فََاسْتَقِیْمَا وَلَا تَتَّبِعٰنِ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ) کی یہی تفسیر کی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن جریج اور حضرت مجاہد ؓ سے نقل کیا ہے کہ چالیس سال کے بعد اس دعا کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ فرعون اور اس کا لشکر ہلاک ہوا ‘ اور بنی اسرائیل نے ان کے شر سے نجات پائی۔
جب دعاء کی قبولیت یعنی اس کا اثر ظاہر ہونے کا وقت آیا حسب فرمان باری تعالیٰ شانہ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے چل دئیے اور سمندر پر پہنچ گئے۔ سمندر پر لاٹھی ماری تو سمندر ٹھہر گیا اور اس کے ٹکڑے ہوگئے یعنی اس میں راستے نکل آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر اس میں سے گزر گئے۔ فرعون اور اس کی قوم کو یہ بھی گوارانہ ہوا کہ بنی اسرائیل کو مصر چھوڑ کر صحیح سالم جانے دیں۔ یہ لوگ سینکڑوں سال سے بنی اسرائیل پر ظلم و زیادتی کرتے آ رہے تھے ان کے چلے جانے سے متفکر ہوتے تھے کہ اب ہماری خدمت کون کرے گا ان کا تعاقب کرنے کے لئے فرعون اپنا لشکر لے کر آیا۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے پیچھے سمندر کے راستوں میں گھس گئے (جو اللہ نے پیدا فرما دئیے تھے) اور بنی اسرائیل کا پیچھا کیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے سمندر کو ملا دیا سارے راستے ختم ہوگئے اور سارا سمندر ایک ہوگیا ‘ لہٰذا فرعون اور اس کے لشکری سب اس میں ڈوب گئے جیسا کہ سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة دخان میں بیان فرمایا ہے۔ سورة بقرہ میں بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنا انعام یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَاِذْفَرَقْنَابِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) (اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا۔ سو ہم نے تمہیں نجات دے دی اور آل فرعون کو غرق کردیا اور حالت یہ تھی کہ تم دیکھ رہے تھے) ۔
جب فرعون ڈوبنے لگا تو بولا کہ بنی اسرائیل جس ذات کے معبود ہونے پر ایمان لائے میں اسی ذات پر ایمان لاتا ہوں اور میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں ‘ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کے دین کو قبول کر کے میں بھی غرق ہونے سے بچ جاؤں جیسا کہ یہ لوگ بچ گئے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب موت کے احوال نظر آنے لگیں اس وقت ایمان معتبر نہیں لہٰذا اس وقت اس کا ایمان لانا اس کے حق میں کچھ بھی مفید نہ ہوا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو یہ خطاب کیا گیا (آلْءٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (کیا اب تو ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد کرنے والوں میں سے ہے) روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس بات کے کہنے والے حضرت جبرائیل یا حضرت میکائیل ( علیہ السلام) تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرعون کو یہ بھی کہا گیا (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ) سو آج ہم تیرے بدن کو نجات دے دیتے ہیں۔ یعنی تیری لاش کو پانی میں بہا دینے کی بجائے پانی کے اوپر تیرا دیتے ہیں تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بن جائے۔ بعد میں آنے والے تجھ سے عبرت لیں اور دیکھیں کہ اللہ کے باغی کا کیا انجام ہوا۔ اور یہ بھی سمجھ لیں کہ دنیا میں کوئی شخص کیسا ہی سلطنت اور دبدبہ والا ہو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ کوئی شخص اپنی سلطنت پر گھمنڈ نہ کرے۔
Ayah 10:92(وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ ) (اور بلاشبہ بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں) جو فکر نہیں کرتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اس آیت سے اتنا تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا اور اس کی نعش کو پانی میں بہنے سے اور دریائی جانوروں کے کھانے سے محفوظ فرما دیا۔ اس نعش کو لوگوں نے دیکھا اور اس سے لوگوں کو بھی عبرت ہوئی کہ جو شخص اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور جسے معبود سمجھا جاتا تھا اس کا یہ انجام ہوا۔ سارا اقتدار تخت وتاج محلات سب دھرے رہ گئے اور سمندر میں ڈوب کر نہ صرف وہ تنہا بلکہ اس کے لشکری بھی ہلاک ہوگئے۔ بنی اسرائیل کو بھی یقین آگیا کہ ہمارا جو دشمن تھا وہ غرق ہوگیا اور جس کے ڈر سے بھاگے تھے اس کی ڈوبی ہوئی نعش کو نظروں کے سامنے دیکھ لیا اور حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) نے جو دعا کی تھی اس کی قبولیت واضح طور پر نظروں کے سامنے آگئی۔
لفظ خَلْفَکَ جو فرمایا (جس کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ تیرے پیچھے ہیں تو ان کیلئے عبرت بن جائے) اس کا عموم اس وقت کے موجودہ لوگوں کو بھی شامل ہے اور بعد میں آنے والوں کو بھی۔ لیکن قرآن مجید میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ کتنے عرصہ تک اس کی نعش کو محفوظ رکھا گیا۔ اس زمانہ کے لوگوں کو عبرت حاصل ہونے کے بعد اس کی نعش محفوظ نہ رہی ہو تو اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں اور اگر زمانہ دراز تک باقی رہی ہو تو یہ بھی ممکن ہے۔ اہل مصر کو نعشوں پر مصالحہ لگا کر باقی رکھنے کا شوق تھا اور اس کو مصالحہ لگا کر باقی رکھتے تھے اس مصالحہ کو ممی کہا جاتا تھا۔ تقریباً تین سو سال سے ممی لگائی ہوئی بہت سی نعشیں مصر میں نکل چکی ہیں اور ان میں فرعون کی نعش بھی بتائی جاتی ہے جو قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔ یقینی طور پر ایسا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں فرعون کی نعش بھی ہے جو حضرت موسیٰ کا تعاقب کرتے ہوئے غرق ہوا تھا۔ کیونکہ شرعی سند سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بعض ریسرچ کرنے والوں کا بیان ہے کہ مذکورہ عجائب گھر میں جو نعشیں محفوظ ہیں ان میں ایک نعش اس فرعون کی بھی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عصر تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
فائدہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور آل فرعون کے لئے جو بد دعا کی ‘ کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھیں۔
اس کے بارے میں یہ اشکال کیا جاسکتا ہے کہ وہ تو ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اپنے مخاطبین کے لئے گمراہی پر مرنے کی بد دعا کیسے فرمائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فرعون اور آل فرعون پر تبلیغ کی محنت کرنے اور ان سے ناامید ہوجانے کے بعد کی بات ہے اور یہ بد دعا ایسی ہے جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کیلئے بد دعا کی تھی۔ (رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا) (اے رب زمین پر ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) ۔
Ayah 10:93بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ اور پاکیزہ رزق ملنا
فرعون اور اس کے لشکر تو ڈبودئیے گئے اور بنی اسرائیل سمندر پار کر کے اپنے علاقہ فلسطین کے لئے روانہ ہوگئے۔ اپنی شرارتوں کی وجہ سے چالیس سال میدان تیہ میں گھومتے رہے اس کے بعد انہیں اپنے وطن میں ٹھکانہ مل گیا اور یہ لوگ وہاں صاحب اقتدار ہوگئے۔ ٹھکانہ بھی اچھا ملا اور کھانے پینے کیلئے پاکیزہ چیزیں نصیب ہوئیں۔ اللہ کی ان عظیم نعمتوں پر انہیں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے دین میں اختلاف شروع کردیا اور جہل کی وجہ سے نہیں بلکہ علم پہنچنے کے بعد آپس میں اختلاف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ فرما دے گا جن میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اس سے وہ یہودی مراد ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں تھے پہلے یہ لوگ آپ کی تشریف آوری کے انتظار میں تھے۔ جب آپ تشریف لے آئے اور قرآن مجید کو سن لیا اور آپ کے بارے میں جان لیا کہ آپ ہی اللہ کے آخری نبی ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے تو اختلاف کر بیٹھے۔ اکثر نے تو تکذیب کی اور معدودے چند ہی مسلمان ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا۔ مکذبین آتش دوزخ میں داخل ہوں گے اور اہل ایمان نجات پائیں گے۔
Ayah 10:94اس کے بعد فرمایا (فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ ) (اآایتین) ۔ اس میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے لیکن حقیقت میں اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو آپ کے بارے میں اور قرآن مجید کے بارے میں شک کرتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو وحی میں شک ہونے کا احتمال نہیں تھا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ ) اور (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ) کہہ کر خطاب فرمایا ان میں صورت خطاب تو آپ کو ہے لیکن معنوی طور پر خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اسی طرح آیت بالا میں ظاہری خطاب آپ کو ہے اور مقصود وہ لوگ ہیں جو شک کی دلدل میں پڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شک کرنے والے ان لوگوں سے پوچھ لیں جو پہلے سے کتاب پڑھتے تھے یعنی یہود و نصاریٰ سے معلوم کرلیں کہ تمہاری کتابوں میں نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کی خبر ہے یا نہیں۔ اور اس بارے میں جو تمہارے پاس علم ہے اس کے مطابق آپ پر وہ صفات منطبق ہوتی ہیں یا نہیں ؟ جو تم پڑھتے آئے ہو۔ اگر وہ ضد اور عناد کو چھوڑ کر حقیقت واقعہ کے مطابق بتائیں گے تو یہی بتائیں گے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور آپ پر جو کتاب نازل ہوئی واقعی اللہ کی کتاب ہے۔ بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ فَاِنْ کُنْتَ میں جو خطاب ہے اس سے عام انسان مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اے انسان اگر تجھے اس وحی میں شک ہے جو بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف بھیجی ہے تو ان لوگوں سے دریافت کرلے جو اس سے پہلے اللہ کی کتاب یعنی توریت و انجیل پڑھتے آ رہے ہیں وہ تجھے بتادیں گے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) نے آپ کی بعثت کی بشارتیں دی ہیں۔ اور ان کی کتابوں میں آپ کی تشریف آوری کی خبر موجود ہے۔ یہ بات دل کو زیادہ لگتی ہے۔
(لَقَدْ جَآءَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) (بلاشبہ تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آگیا سو تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو)
Ayah 10:95(وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور ہرگز ان لوگوں میں سے نہ ہوجا جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ورنہ تو تباہ کاروں میں سے ہوگا)
Ayah 10:96پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْھِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) بلاشبہ جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Ayah 10:97(وَلَوْ جَآءَتْھُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ) (اگرچہ ان کے پاس تمام دلیلیں آجائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھیں) اس وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا اور اس وقت کا ایمان عذاب سے نہ بچا سکے گا۔ جیسا کہ فرعون نے ڈوبتے وقت یوں کہا کہ میں اسی معبود پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے لیکن اس کا یہ ایمان اس کے لئے کچھ کام نہ آیا۔