10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں ' اے لوگو تمہاری سرکشی تمہاری ہی جانوں پر ہے دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہو پھر ہماری طرف تم کو لوٹ کر آنا ہے ' سو ہم تمہیں بتادیں گے جو تم کرتے تھے۔

اسی کو فرمایا (فَلَمَّا اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (سو جب اللہ نے انہیں نجات دے دی تو اچانک زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں) ۔ پھر فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ ) (اے لوگو تمہاری بغاوت اپنی ہی جانوں پر ہے ‘ کیونکہ اس کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑنے والا ہے) (مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (تم دنیا والی زندگی میں نفع حاصل کر رہے ہو) یہ تھوڑا سا نفع ہے اور تھوڑے دن کا نفع ہے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة النساء (قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ) پھر فرمایا (ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُکُمْ فَنُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) پھر ہماری طرف تمہارا لوٹنا ہوگا تو ہم تمہیں بتادیں گے جو کام تم کیا کرتے تھے (تمہارے اعمال تمہارے سامنے آئیں گے ‘ محاسبہ اور مواخذہ ہوگا۔ لہٰذا اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلو) ۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی اتارا ' پھر اس پانی کی وجہ سے زمین سے نکلنے والی ہری بھری چیزیں جنہیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں خوب گنجان ہو کر نکلیں ' یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی رونق کا پورا حصہ لے لیا اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کرلیا کہ ہم اس پر صاحب قدرت ہوچکے ہیں تو رات کو یا دن کو ہمارا حکم آگیا۔ سو ہم نے اسے ایسا بنا دیا جیسے کٹا ہوا ڈھیر ہو ' گویا کہ کل اس کا وجود ہی نہ تھا ' ہم اس طرح آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے جو سوچتے ہیں۔

دنیا کی بےثباتی کی ایک مثال اس آیت میں دنیا کی حالت بیان فرمائی ہے۔ دنیا کی ظاہری زیب وزینت اور ٹیپ ٹاپ پر جو لوگ ریجھے جاتے ہیں اور آخرت سے غافل رہتے ہیں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس تھوڑی سی حقیر دنیا کی وجہ سے آخرت سے غافل نہ ہوں ‘ ارشاد فرمایا کہ دنیا کی ایسی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اس پانی کی وجہ سے طرح طرح کے پودے اگے ‘ سبزیاں نکلیں ‘ گھاس برآمدہوئی ‘ اور ان چیزوں کی وجہ سے زمین ہری بھری اور دیکھنے میں خوب خوشنما ہوگئی ‘ سبزہ لہلہانے لگا ‘ نظروں کو بھانے لگے ‘ جن لوگوں کی زمینیں تھیں وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب تو یہ سب کچھ ہمارے قبضہ میں ہے اس سے طرح طرح کے منافع حاصل کریں گے اسی سوچ وبچار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رات میں یا دن میں کوئی مصیبت آگئی اور اس نے اسے ڈھیر کردیا۔ اب جب دیکھنے والے نظر ڈالتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہاں کل کچھ بھی نہ تھا اس دنیا میں جوہری بھری گھاس اور کھیتی کی حالت ہے کہ ابھی توہری بھری تھی اور ابھی کچھ بھی نہیں یہ ہی مثال پوری دنیا کی ہے ‘ افراد کی بھی یہ ہی مثال ہے اور قوموں کی بھی ‘ حکومتوں کی بھی اور مال وجائداد کی بھی ‘ کچھ دن لوگ منتفع ہوتے ہیں اور اپنے خیال میں اچھی زندگی گزارتے ہیں پھر افراد کو موت آجاتی ہے جماعتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ حکومتیں مٹ جاتی ہیں۔ تجارتیں تباہ ہوجاتی ہیں ‘ باغ اجڑ جاتے ہیں اور اس سب کے بعد قیامت کے دن حاضر ہونا ہے اور وہاں ابدالآباد کے فیصلے ہونے ہیں ‘ وہاں کی ابدی زندگی کے سامنے جتنی بھی بڑی زندگی ہو ہیچ ہے ‘ اور جنت کی نعمتوں کے سامنے یہ معمولی سی نعمتیں کچھ بھی نہیں ‘ اگر کوئی شخص دوزخ میں چلا گیا (العیاذ باللہ) تو دنیا کے سارے مال اور زینت اور سجاوٹ (جو تھوڑے دن کی تھی) کچھ بھی فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔ آخرت کے میدان میں پہنچیں گے تو (کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بالْاَمْسِ ) کا مظاہرہ ہوگا اور سمجھ میں آجائے گا کہ دنیا میں جو کچھ تھا وہ کچھ بھی نہ تھا۔ آخر میں فرمایا (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (ہم اسی طرح آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو فکر کرتے ہیں) جو فکر کرتے ہیں وہی منتفع اور مستفید ہوتے ہیں جو فکر نہیں کرتے وہ اپنی مستیوں ہی میں لگے رہتے ہیں ‘ اور اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے '

اہل جنت کی نعمتوں ‘ اور اہل دوزخ کی بد صورتی اور عذاب دائمی کا تذکرہ یہ تین آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دارالسلام (سلامتی کے گھر) یعنی جنت کی طرف بلاتا ہے جو دین اسلام اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور بندوں کے لئے منتخب فرمایا ہے سراپا سلامتی کا راستہ ہے اس میں دنیا میں بھی سلامتی ہے اور آخرت میں بھی ‘ چونکہ جنت میں جانے والے ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے ‘ وہاں نہ موت آئے گی نہ وہاں سے کہیں جانا ہوگا اور کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اس لئے اس کا ایک نام دارالسلام بھی ہے یعنی ” سلامتی کا گھر “ جنت میں لے جانے والے عقائد اور اعمال کو (سُبُلَ السَّلَامِ ) فرمایا ہے (کما فی سورة المائدہ رکوع 3) اور اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ آپس میں ملاقات کریں تو السلام علیکم کہیں اور جواب دینے والے وعلیکم السلام کہیں اس طرح آپس میں ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں۔ جنت میں بھی آپس کی ملاقات میں ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے کما قال تعالیٰ (تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلَامٌ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان کے لئے سلامتی کی خوشخبریاں آتی رہیں گی۔ کما فی سورة یٰس (سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ ) فرشتے اہل جنت والوں کے پاس آئیں گی تو وہ بھی سلام پیش کریں گے۔ کما فی سورة الرعد (وَالْمَلٰءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌَ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) رسول اللہ ﷺ نے قیصر روم کو دعوت اسلام کے لئے خط لکھا تو تحریر فرمایا اَسْلِمْ تَسْلِمْ یُؤْتِکَ اللّٰہُ اَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ تو اسلام لے آسلامت رہے گا اللہ تجھے دوہرا اجر عطا فرمائے۔ (صحیح بخاری ص 5 ج 1) الحاصل اسلام میں سلامتی ہی سلامتی ہے پھر فرمایا (وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) (اور اللہ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے) سیدھا راستہ جنت کا راستہ ہے جو عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کا جامع ہے۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے اچھائی کے کام کئے ان کیلئے خوبی ہے اور اس سے زائد بھی ہے ' اور ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی اور نہ ذلت ' یہ لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے '

دوسری آیت میں فرمایا (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُو الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) جن لوگوں نے اچھے کام کئے ان کے لئے حسنیٰ ہے اور زیادہ انعام ہے حسنیٰ فعلی کے وزن پر ہے جس کا لغوی ترجمہ ” خوبی “ سے کیا گیا ہے۔ حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ حسنی سے جنت مراد ہے اور زیادہ سے دیدار الٰہی مراد ہے۔ جنت میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی کسی کی کمی نہ ہوگی۔ وہ خود بہت بڑی جگہ ہے لیکن اس نعمت پر مزید نعمت یہ ہوگی کہ اہل جنت اپنے رب جل مجدہ کا دیدار بھی کریں گے۔ تفسیر در منثور (ص 305) میں حضرت صہیب ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت کعب بن عجرہ اور حضرت ابی بن کعب اور حضرت انس بن مالک ؓ سے متعدد کتب حدیث کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زِیَادَۃٌ کی تفسیر فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ زِیَادَۃٌ سے اللہ جل شانہ کا دیدار مراد ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ جل شانہ ‘ کا ارشاد ہوگا کیا تم کچھ اور چاہتے ہو جو تمہیں عطا کر دوں وہ عرض کریں گے (ہمیں اور کیا چاہئے) کیا آپ نے ہمارے چہرے سفید نہیں کر دئیے اور کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور کیا آپ نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی (یہ بہت بڑا انعام ہے) اس کے بعد پردہ اٹھا دیا جائے گا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے ‘ انہیں کوئی بھی ایسی چیز نہ دی جائے گی جو انہیں اپنے رب کے دیدار سے بڑھ کر محبوب ہو اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) (رواہ مسلم ص 100 ج 1) پھر اہل جنت کے ایک مزید انعام کا تذکرہ فرمایا (وَلَا یَرْھَقُ وُجُوْھَھُمْ قَتَرٌوَّلَا ذِلَّۃٌ) (ان کے چہروں پر کدورت چھائی ہوئی نہ ہوگی اور نہ ذلت) یعنی ان کے چہرے بد صورت نہ ہوں گے ان پر ذلت کا کوئی اثر نہ ہوگا سورة القیامہ میں فرمایا (وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ) (اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے) سورة المطفّفین میں فرمایا (تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ ) (اے مخاطب تو ان کے چہروں میں نعمت کی ترو تازگی کو پہچانے گا) جو شخص دارالسلام میں ہو اپنے رب کا دیدار کرتا ہوں اس کا چہرہ کیوں حسین و جمیل اور پر رونق نہ ہوگا ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ساری امتوں کے درمیان سے میں اپنی امت کو اس طرح پہچان لوں گا کہ ان کے چہرے روشن ہوں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے سفید ہوں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 40) پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ لوگ جنت والے ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کئے ان کی برائی کی سزا برائی کے برابر ملے گی اور ان پر ذلت چھا جائے گی ' انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا ' گویا کہ ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

تیسری آیت میں دوزخیوں کا تذکرہ فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍ م بِمِثْلِھَا) اور جن لوگوں نے برے کام کئے (جن میں سب سے زیادہ برا عمل کفر و شرک ہے) ان کی سزا ان کے اعمال جیسی ہوگی ان پر نہ کوئی ظلم ہوگا نہ زیادتی ہوگی۔ برابر سرابر کا بدلہ ہوگا (وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ) (اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی) (مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ) قیامت کے دن انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا) ان کی بد صورتی کا یہ حال ہوگا کہ گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دیا گیا ہے کافر دنیا میں کتنا ہی خوبصورت ہو قیامت کے دن نہایت ہی بدترین صورت میں ہوگا ‘ جس کا آیت بالا میں تذکرہ فرمایا ہے ‘ سورة زمر میں فرمایا (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْھُھُمْ مُّسْوَدَّۃٌ اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (اور اے مخاطب تو قیامت کے دن ان لوگوں کو دیکھے گا جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں کیا دوزخ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ سورة عبس میں فرمایا (وَوُجُوْہٌ یَّوْمَءِۃٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ اُولٰءِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ) (اور اس دن بہت سے چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر بد رونقی ہوگی ان پر بدصورتی چھائی ہوئی ہوگی۔ وہ لوگ کافر اور فاجر ہوں گے) ۔ پھر فرمایا (اُولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
Ayahs 10:28–29

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے شرک کیا کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ' پھر ہم ان کے آپس میں جدائی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو اللہ ہمارے تمہارے درمیان گواہ کافی ہے بیشک بات یہ ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے '

باطل معبود اپنے پرستاروں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے ان آیات میں روز قیامت کا ایک منظر بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ وہ دن قابل ذکر ہے جبکہ ہم سب کو جمع کریں گے۔ جمع ہونے والوں میں موحدین بھی ہوں گے اور مشرکین بھی ‘ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ بھی حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ شرک کرنے والو ! تم اور تمہارے وہ معبود جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو اور دیکھو تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی۔ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پرستش کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ضرور ہم تمہارے پر ستار تھے۔ اس پر ان کے معبود کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے۔ ہم تو تمہاری عبادت سے غافل تھے۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ اشکال کیا ہے کہ وہ دن سچ بولنے کا ہے وہاں ان سے جھوٹ کیسے صادر ہوگا ؟ یہ اشکال بےوزن ہے کیونکہ مشرکین کے جھوٹ بولنے کی تصریح سورة انعام میں موجود ہے پھر اسی ذیل میں یہ بات بھی آگئی کہ وہ جو اللہ تعالیٰ کو اس بات پر گواہ بنائیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے ان کا اللہ تعالیٰ کو گواہی کے طور پر پیش کرنا بھی جھوٹ ہوگا بہر صورت مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ تعلقات منقطع ہوجائیں گے (خواہ ایک ہی طرف سے ہوں جیسا کہ بتوں سے ان کا تعلق تھا اور بت جامد اور ناسمجھ تھے) اور یہ واضح ہوجائے گا کہ مشرکین کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ جن لوگوں کو سفارشی بنا کر عبادت کی تھی وہ خود دوزخ میں ہوں گے اور اپنے عبادت گزاروں سے بیزار ہوچکے ہوں گے ‘ کما فی سورة الانعام (وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّھُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (اور ہم تمہارے ہمراہ ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔ واقعی تمہارا آپس کا تعلق ختم ہوگیا اور تمہارا دعویٰ سب گیا گزرا ہوگیا۔ )
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس موقعہ پر ہر شخص اپنے ان کاموں کو جانچ لے گا جو اس نے پہلے کئے تھے ' اور وہ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹا دئیے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ تراش رکھا تھا وہ سب غائب ہوجائے گا۔

آخر میں فرمایا (ھُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّا اَسْلَفَتْ ) (الایۃ) وہاں یعنی روز قیامت ہر شخص اپنے کئے ہوئے اعمال کو جانچ لے گا۔ یعنی ہر ایک کے اپنے اپنے عمل کا نتیجہ سامنے آجائے گا جس میں مشرکین کے شرک کی حقیقت کھل جائے گی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم جن کی عبادت کرتے تھے ان سے ہمیں جو نفع کی امید تھی وہ غلط تھی وہ تو آج ہمارے خلاف بول رہے ہیں ان لوگوں کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو حقیقی مولا اور مالک ہے ‘ اور جو کچھ باتیں تراشتے تھے غیر اللہ کو معبود جانتے تھے وہ سب کچھ غائب ہوجائے گا۔ اور کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کا مولیٰ یعنی مالک حقیقی ہے۔ اور سورة محمد میں جو (وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ ) فرمایا ہے وہاں مولا مددگار کے معنی میں ہے یعنی کافروں کا وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Ayahs 10:31–32

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے وہ کون ہے جو تمہیں آسمان سے اور زمین سے رزق دیتا ہے ' یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر فرماتا ہے سو وہ ضرور یوں کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ' تو آپ فرما دیجئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ہو '

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

سو وہ اللہ تمہارا حقیقی رب ہے سو پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ پھر کہاں پھرے جا رہے ہو۔

مشرکین سے سوال کہ تمہیں کون رزق دیتا ہے اور تمہارے کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور تمام کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ دنیا میں جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان سے دریافت فرمائیے کہ آسمان سے اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے اور تمہارے سننے کی قوت اور دیکھنے کی قوت کا کون مالک ہے یعنی تمہارے کانوں اور آنکھوں پر کسے پورا اختیار ہے کون ہے جس نے یہ چیزیں تمہیں دی ہیں اور جو ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ وہ چاہتا ہے تو ان کو سلب کرلیتا ہے ‘ اور یہ بھی بتاؤ کہ مردہ سے زندہ کو کون نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو کون نکالتا ہے۔ اور یہ بھی بتاؤ کہ عالم میں جو تصرفات ہیں ان کی تدبیر کون فرماتا ہے جب ان لوگوں سے یہ سوالات کرو گے تو ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب نہ ہوگا کہ ان افعال کا مالک و مختار اور ان صفات سے متصف صرف اللہ ہی ہے۔ جب وہ یہ جواب دیں تو آپ فرما دیجئے کہ پھر تم اس رازق ‘ خالق اور مالک سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کو چھوڑ کر جو دوسروں کی عبادت کرتے ہو وہ تمہارے نزدیک بھی بےاختیار ہیں۔ ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ وہ ذات پاک جس کی یہ صفات ہیں جو اوپر ذکر کی گئیں وہی واقعی اور حقیقی رب ہے۔ اس کے مالک اور رب حقیقی ہونے کا اقرار بھی کرتے ہو اور پھر دوسروں کی عبادت کرتے ہو۔ یہ تو سراپا گمراہی ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوارہ ہی کیا گیا ؟ جانتے بوجھتے گمراہی میں پڑنا سب سے بڑی حماقت ہے۔ حق کو چھوڑ کر کہاں پھرے جا رہے ہو (باطل کو چھوڑو اور حق کی طرف واپس آؤ) حق اور ضلال یعنی حق اور گمراہی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں ہے جو حق نہ ہو وہ گمراہی ہے۔ دونوں میں تضاد ہے۔ حق اور گمراہی دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 10:33–35

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات نافرمانوں کے بارے میں ثابت ہوچکی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پیدا فرمائے پھر اسے دوبارہ زندہ کرے ؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ مخلوق کو ابتدائً پیدا فرماتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ سو تم کہاں پھرے جارہے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہ بتائے ؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ حق کی راہ بتاتا ہے ' سو جو حق کی راہ بتاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا مگر جبکہ اسے راہ بتائی جائے ' سو تمہیں کیا ہوا تم کیسی تجویزیں کرتے ہو '

مشرکین سے مزید سوالات اور توحید پر آنے کی دعوت ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ مشرکین نے جو شرک کو اپنا رکھا ہے اور سمجھانے کے باوجود توحید پر نہیں آتے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ ان کے بارے میں مغموم نہ ہوں ان کو ایمان لانا نہیں ‘ اس کے بعد فرمایا کہ ان سے دریافت کیجئے کہ وہ کون ہے جو ابتداءً مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر موت دے کر دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ اس بات کو جان لو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے اور موت دے کر وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو۔ پھر فرمایا کہ آپ ان سے سوال فرمائیے کہ بتاؤ تمہارے شرکاء میں وہ کون ہے جو حق کا راستہ بتاتا ہے آپ خود ہی فرما دیجئے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے جو حق کا راستہ بتائے وہ زیادہ لائق اتباع ہے یا وہ شخص جو خود ہدایت نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے ہدایت دی جائے ؟ مطلب یہ کہ اللہ کو چھوڑ کر جن لوگوں کی پوجا کرتے ہو ‘ وہ تو خود ہی بےراہ ہیں اور اس بات کے محتاج ہیں کہ انہیں راہ بتائی جائے۔ سو تمہیں کیا ہوگیا ؟ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو اور تم کیسی جاہلانہ تجویزیں کرتے ہو کہ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرتے ہو ؟ پھر مشرکین کا حال بیان فرمایا کہ ان میں اکثر وہ لوگ ہیں جو محض اٹکل ‘ گمان اور خیال کے پیچھے چلتے ہیں اپنے انہی خیالات کی وجہ سے اللہ کے سوا دوسروں کو معبودبناتے ہیں۔ گمان اور اٹکل سے حق واضح اور ثابت نہیں ہوتا اس کے لیے دلائل قطعیہ کی ضرورت ہوتی ہے بغیر علم اور بلا دلیل انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے باطل معبود بنا رکھے ہیں۔ جیسا کہ سورة نجم میں فرمایا (اِنْ ھِیَ اِلَّا اَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوْھَا اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُکُمْ مَّا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ ) (یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے تجویز کر لئے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ یہ لوگ صرف گمان اور اپنے نفسوں کی خواہشوں پر چل رہے ہیں) ۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر لوگ صرف اٹکل کے پیچھے چلتے ہیں بلاشبہ اٹکل حق کے بارے میں ذرا بھی مفید نہیں ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کاموں کو جاننے والا ہے جن کاموں کو وہ کرتے ہیں۔

آخر میں فرمایا (انَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) کہ بلاشبہ اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اپنے علم کے مطابق وہ انہیں سزا دے گا۔
Ayahs 10:37–41

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے جو افتراء کیا گیا ہو اللہ کی طرف سے نہ ہو۔ بلکہ وہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے ہیں ' اور احکام ضرور یہ کی تفصیل بیان کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے '

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس کو آپ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے۔ آپ فرما دیجئے کہ تم اس جیسی سورت لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو بلا سکتے ہو انہیں بلا لو اگر تم سچے ہو۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اسے جھٹلایا جسے اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ابھی اس کا نتیجہ ان کے سامنے نہیں آیا ' ایسے ہی جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے ' سو دیکھ لیجئے ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے اور بعض وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور آپ کا رب فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرما دیجئے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے ' تم اس سے بری ہو جو میں کام کرتا ہوں ' اور جن کاموں کو تم کرتے ہو میں ان سے بری ہوں۔

قرآن حکیم کی حقانیت پر واضح دلیل ‘ اور اس جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب کتاب اللہ کی حقانیت بیان فرمائی جس کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی مزید تصدیق ہوگئی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے اول تو ان کی تردید فرمائی کہ یہ ایسی کتاب نہیں ہے کہ جو غیر اللہ کی طرف سے ہو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جو اس سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجے ہیں اس میں ان کی بھی تفصیل ہے۔ پھر ان لوگوں کو چیلنج کیا اور فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ قرآن اپنے پاس سے بنا لیا ہے تو تم اس جیسی ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ اور اللہ کے سوا ساری مخلوق میں سے اس مقصد کے لئے جس جس سے مدد لے سکتے ہو ان سب سے مدد لے لو۔ سورة بقرہ کی آیت (رکوع 3) (وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا) کی تفسیر کے ذیل میں اس کی تشریح کی جا چکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) سورة ھود (رکوع 2) میں فرمایا ہے کہ تم اس جیسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ ‘ پہلے قرآن کے مقابلہ میں دس سورتیں بنا کر لانے کا چیلنج کیا گیا پھر ایک سورت تک بات آگئی ‘ آج تک کوئی بھی قرآن کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی سورت بھی بنا کر نہیں لاسکا ‘ اور نہ کبھی لاسکیں گے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰی اَنْ یَّأْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْآنِ لاَ یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا) (آپ فرما دیجئے کہ اگر سارے انسان اور سارے جنات اس بات کیلئے جمع ہوجائیں کہ قرآن جیسا بنا کرلے آئیں تو نہیں لاسکیں گے اگرچہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہوجائیں) ۔ جب قرآن کی سچائی ثابت ہوگئی تو قرآن لانے والا یعنی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی سچائی بھی ثابت ہوگئی اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں نے ایسی چیز کو جھٹلایا جو ان کے احاطہ علمی میں نہیں ہے۔ قرآن کو سمجھتے نہیں اور نہ سمجھنے کا ارادہ کرتے ہیں غور کرتے تو اس کی حقیقت اور حقانیت سمجھ میں آجاتی اب جبکہ جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں تو اس جھٹلانے کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔ یعنی ان کی اس تکذیب کا برا انجام سامنے آئے گا۔ دنیا میں ذلیل اور ہلاک ہوں گے اور کفر پر مرنے کی وجہ سے آخرت میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے ‘ ان سے پہلے تکذیب کرنے والوں پر عذاب آچکا ہے۔ دیکھ لیجئے ان کا انجام کیا ہوا ؟ پھر فرمایا ان میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور کچھ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ اپنا کام کئے جائیں۔ بہت سے لوگ وہ ہیں جنہیں ایمان لانا نہیں ہے آپ کو دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ جو ایمان نہ لائے گا اس کی سزا بھگت لے گا۔ اللہ تعالیٰ مفسدین کو خوب جانتا ہے۔ وہ ان کے کفر کی سزا دے دے گا۔ مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو تکذیب پر مصر ہیں حجت قائم ہونے پر بھی حق کو نہیں مانتے اور آپ کی تصدیق نہیں کرتے تو آپ ان سے فرمادیجئے کہ میرا عمل میرے لئے ہے تمہارا عمل تمہارے لئے ہے۔ تم میرے عمل سے بری ہو میں تمہارے عمل سے بری ہوں مجھے میرے عمل کا ثواب ملے گا تم اپنی بد عملی کی سزا بھگتو گے۔
Ayahs 10:42–43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں ' کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے اگرچہ وہ سمجھ بھی نہ رکھتے ہوں '

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں ' کیا آپ اندھوں کو راہ بتادیں گے اگرچہ وہ دیکھتے بھی نہ ہوں '

تکذیب کرنے والوں کی بےحسی ‘ قیامت کا منظر ‘ دنیا میں عذاب آنے کی وعید گزشتہ آیات میں مکذبین اور معاندین کا ذکر تھا ‘ ان آیات میں ان کے مزید عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا۔ اَوَّلًا تو یہ فرمایا کہ ان میں بعض ایسے لوگ ہیں جو بظاہر آپ کی طرف کان لگا کر بیٹھتے ہیں لیکن ان میں نہ حق طلبی ہے نہ ایمان لانے کا ارادہ ہے۔ ان کا سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ لہٰذا ان کی حالت بہرے انسانوں کی طرح ہوگئی۔ جیسے بہروں کو سنانا فائدہ مند نہیں ہوسکتا اسی طرح ان کو سنانا اور نہ سنانا برابر ہے۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ بہروں کی مانند ہیں بلکہ سمجھ سے بھی محروم ہیں۔ انہیں کان لگانے والوں کی طرح وہ لوگ ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں ان کا ارادہ بھی حق کے قبول کرنے کا نہیں۔ لہٰذا دیکھا ان دیکھا ان کے نزدیک برابر ہے۔ اندھوں میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ‘ آپ اندھوں کو کیسے ہدایت دیں گے۔ حالانکہ وہ دیکھ نہیں رہے۔ اس مضمون کو سورة انفال میں یوں بیان فرمایا (وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور تم لوگ ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے)
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ لوگوں پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں '

پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْءًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ لوگوں پر ذرا سا بھی ظلم نہیں فرماتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں) اسی ظلم میں سے یہ ہے کہ فکر ونظر سے کام نہیں لیتے اور اپنے حواس کو استعمال نہیں کرتے اور اگر حق سمجھ میں آجائے تو عناداً اس کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں یہ سب ان کی جانوں پر ظلم ہے اور وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن اللہ انہیں جمع فرمائے گا گویا کہ وہ دن کے حصہ میں سے صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں ' وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ' بیشک وہ لوگ خسارہ میں پڑگئے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔

اس کے بعد قیامت کے دن کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ ) (اور انہیں وہ دن یاد دلائیے جس میں اللہ ان کو جمع فرمائے گا گویا وہ دن کے ایک حصہ میں سے صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے) یعنی جب وہاں حاضر ہوں گے تو جو دنیا میں لمبی عمر گزری تھی اور برزخ میں جو عرصہ دراز تک رہے تھے اس سارے وقت کو یوں سمجھیں گے کہ گویا ہم صرف ذراسی ہی دیر دنیا میں اور برزخ میں رہے قیامت کے دن کی سختی کو دیکھ کر دنیا اور برزخ کی مدت دراز کو بھول کر یوں سمجھیں گے کہ گویا دن میں سے صرف ایک گھڑی ہی وہاں گزاری ہے۔ سورۂ روم میں فرمایا (وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ) (اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔ مجرمین قسمیں کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے) یہ جو فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ یہ صرف پہچاننے ہی کی حد تک ہوگا آپس میں ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔ مدد تو کجا ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور چھوٹے بڑوں پر اور بڑے چھوٹوں پر پھٹکار ڈالیں گے۔ اور سارے تعلقات وہاں ٹوٹ جائیں گے۔ پھر فرمایا (قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ) جن لوگوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا یعنی قیامت کے دن کا اور حساب اور جزا سزا کا انکار کیا یہ لوگ نقصان میں پڑگئے اور اپنی جانوں کو ہلاک کردیا۔ دنیا میں ہدایت یافتہ نہ ہوئے آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم اس میں سے کچھ حصہ آپ کو دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہماری طرف ان سب کو لوٹنا ہے پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو کام وہ لوگ کرتے ہیں

پھر فرمایا (وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ) (اور جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اگر اس میں سے تھوڑا سا حصہ ہم آپ کو دکھلا دیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے ہی پاس ان سب کو آنا ہے) رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جو عذاب میں مبتلا کئے جانے کی وعیدیں نازل ہوتی رہتی تھیں ان کے بارے میں فرمایا کہ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا عذاب اگر ہم آپ کو دکھا دیں یعنی آپ کی حیات ہی میں اس کا نزول ہوجائے یا ہم آپ کو اس سے پہلے وفات دے دیں سو یہ دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے سامنے ہی عذاب آجائے اور یہ بھی ضرورت نہیں کہ آپ کے بعدان پر عذاب آجائے یعنی دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں ‘ ہمارے پاس ان کو آنا ہی ہے جو بڑا عذاب ہے (یعنی آخرت کا عذاب) اس میں تو ہر منکر اور کافر کو مبتلا ہوناہی ہے (ثُمَّ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ ) پھر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے سب کاموں کا علم ہے وہ اپنے علم کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے سو جب ان کے پاس ان کا رسول آجاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

پھر فرمایا (وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَاءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کہ قیامت کے دن ہر امت کا رسول موجود ہوگا جو دنیا میں ان کی طرف مبعوث ہوا تھا امتیں موجود ہوں گی اور ان کے رسول بھی موجود ہوں گے جو اہل کفر کے کفر اور اہل ایمان کے ایمان پر گواہی دیں گے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ اس آیت کا یہ مفہوم سورة نساء کی یہ آیت (فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ ) اور سورة زمر کی آیت (وَجِایْءَ بالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْحَقِّ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کے موافق ہے۔ اور بعض مفسرین نے آیت بالا کا یہ مطلب بتایا ہے کہ دنیا میں جو رسول امتوں کے پاس آئے ان کی انہوں نے تکذیب کی اور اس تکذیب پر جو ان پر عذاب آیا اس آیت میں اسی کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر امت کے لئے ایک پیغمبر ہے وہ پیغمبر جب ان کے پاس آجاتا ہے اور احکام پہنچا دیتا ہے پھر اس کے بعد کچھ لوگ مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اہل ایمان کی نجات ہوجاتی ہے اور کافر ہلاک کر دئیے جاتے ہیں اور کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے اتمام حجت کے بعد ہوتا رہا ہے۔ 1 ؂ 1 ؂ خاتم النّبیین ﷺ سے پہلے جو امتوں کے احوال گزرے ان کا ذکر۔ 12۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو '

(وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُاِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) جب بار بار عذاب کی وعید سنتے تھے تو منکرین کہتے تھے کہ عذاب وعید کہاں تک سنیں ‘ کب ہوگا یہ عذاب ؟ ایک مرتبہ آ ہی جائے تو ہم بھی دیکھ لیں کیسا عذاب ہوتا ہے ‘ عذاب آنے میں جو دیر محسوس کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ڈھیل تھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید تکذیب میں آگے بڑھ جاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو تو اسے پورا کر کے دکھاؤ اور عذاب بھی لے آؤ۔ ان کا یہ قول استفہام انکاری کے طور پر تھا۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی جان کے لئے کسی بھی ضرر یا نفع کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کیلئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت مقرر آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّنَفْعًا اِلَّا مَا شَآء اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہوں مگر جو کچھ اللہ چاہے) جب اپنے بارے میں میرا یہ حال ہے تو تم پر عذاب لانا یہ میرے اختیار میں کیسے ہوسکتا ہے۔ مجھ سے تقاضا کرنا جاہلانہ بات ہے۔ (لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ اِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ) (ہر امت کیلئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا مقررہ وقت آپہنچے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں) ۔ عذاب کا وقت آجانے پر عذاب واقع ہوجائے گا جن امتوں کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب کا وقت مقرر ہے وہ دونوں میں مبتلائے عذاب ہوں گے اور جن کے لئے دنیا میں عمومی عذاب دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا آخرت میں تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کو عذاب ہونا ہی ہے۔ اجل مقرر پر عذاب سامنے آ ہی جائے گا۔ یہ جو جلدی مچاتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ عذاب کب آئے گا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ شانہ اپنی مقرر کردہ اجل سے پہلے عذاب نہیں لائے گا۔ یہ جو جلدی مچاتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ عذاب کب آئے گا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ شانہ اپنی مقرر کردہ اجل سے پہلے عذاب نہیں لائے گا۔ ان لوگوں کے قول متی ھذا الوعد کا پہلا جواب یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ اعلان کرا دیا کہ میرے بس میں عذاب لانا نہیں ‘ اور دوسرا جواب یہ دے دیا کہ عذاب اپنے مقرر وقت پر آئے گا۔ تمہارے جلدی مچانے سے اجل مقرر سے پہلے نہیں آئے گا۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ اگر اللہ کا عذاب رات کے وقت آجائے یا دن کے وقت آجائے تو اس میں وہ کون سی چیز ہے جس کی مجرمین جلدی مچا رہے ہیں '

پھر فرمایا (قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُہٗ ) (الآیۃ) آپ ان سے فرما دیجئے یعنی سوال کیجئے کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو آجائے تو عذاب میں ایسی کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے مجرمین عذاب کے جلدی لانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب تو رات یا دن میں کسی وقت بھی نازل ہوسکتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ عذاب سخت چیز ہے اس کے آنے کی جلدی کیوں مچاتے ہیں ‘ عذاب میں ایسی کون سی چیز مرغوب ہے جسے جلد بلانا چاہتے ہیں۔ جب حقیقۃً عذاب مطلوب نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ عذاب لانے کی جلدی مچانے سے وعدہ عذاب کی تکذیب مقصود ہے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب وہ واقع ہو ہی جائے تو اس پر ایمان لاؤ گے۔ اب ایمان لاتے ہو حالانکہ تم اس کے جلد آنے کا تقاضا کرتے تھے '

(اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖ ) کیا جب عذاب واقع ہوجائے گا اس وقت ایمان لاؤ گے ؟ (اس وقت ایمان لانا بےفائدہ ہوگا اور اس وقت تصدیق نافع نہ ہوگی) (اآلْءٰنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) جب عذاب آجائے گا تو سوال ہوگا کیا اب تصدیق کرتے ہو حالانکہ تم (بقصد تکذیب) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔ اس وقت کا ایمان لانا اور تصدیق کرنا فائدہ مند نہ ہوگا
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ان لوگوں سے کہا جائے گا جنہوں نے ظلم کیا کہ ہمیشگی کا عذاب چکھ لو ' تمہیں انہیں اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جن کی تم کمائی کرتے تھے

(ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ) پھر ان لوگوں سے کہا جائے گا جنہوں نے ظلم کیا کہ ہمیشگی والا عذاب چکھو (ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) (تمہیں انہیں کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کسب کرتے تھے) یعنی دنیا میں جن کاموں کو کیا کرتے تھے ان ہی کی جزا ملے گی۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا یہ حق ہے ؟ آپ فرما دیجئے ہاں میرے رب کی قسم بلاشبہ وہ حق ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

پھر فرمایا (وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ ) اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا عذاب واقعی چیز ہے ؟ (قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہٗ لَحَقٌّ) آپ فرما دیجئے کہ ہاں میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ بلاشبہ حق ہے واقعی ہوجانے والی چیز ہے۔ (وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) (اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو) یعنی جب عذاب آجائے گا تو تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ‘ یہ نہ سمجھو کہ جب عذاب آئے گا تو ہم بھاگ نکلیں گے اور کہیں پناہ لے لیں گے۔ سارا ملک اللہ ہی کا ہے کہیں بھی فرار ہو کر نہیں جاسکتے۔ سورة عنکبوت میں فرمایا (وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ) (اور تم آسمان میں اور زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں ہے جو اس کے عذاب سے بچا دے) ۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

ہر وہ شخص جس نے ظلم کیا اگر اس کے لئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اپنی جان کو عذاب سے چھڑانے کیلئے اس سب کو خرچ کر ڈالے گا۔ اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے ' اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ظالم لوگ جان چھڑانے کیلئے زمین بھر کر فدیہ دینے کو تیار ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا منکرین اور معاندین دنیا میں حق کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور راہ کفر اختیار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اس کی آخرت میں سزا ملے گی۔ اور جب وہاں عذاب سامنے آئے گا تو جان کا بدلہ دے کر عذاب سے بچنے کے لئے سب کچھ خرچ کردینے کو راضی ہوں گے۔ اگر بالفرض انہیں پوری زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب اور اس جیسا اور بھی ان کو مل جائے وہ اس سب کو اپنی جان کے بدلہ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ وہاں کچھ بھی پاس نہ ہوگا اور اگر بالفرض کچھ پاس ہو اور جان کے بدلہ دینے لگیں تو قبول نہ ہوگا۔ اس مضمون کی تفسیر سورة آل عمران کی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ ) اور سورة مائدہ کی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ ) کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) (وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُ الْعَذَابَ ) قیامت کے دن جب عذاب دیکھیں گے تو ندامت اور پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے اور دل ہی دل میں پشیمان ہوتے رہیں گے کہ کاش مومن ہوتے تو آج مبتلائے عذاب نہ ہوتے۔ (وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) (اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا)
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

خبردار بیشک اللہ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے خبردار بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے '

(اَلَا اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (خبردار اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے) سب کچھ اس کی ملکیت ہے ‘ یہ مجرمین بھی اس کی مخلوق اور مملوک ہیں۔ اسے ہر طرح تصرف کرنے کا حق ہے۔ مجرمین کو عذاب دینا اس کے لئے آسان ہے۔ اس کی قدرت اور تصرف سے کوئی باہر نہیں۔ (اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) (خبردار اللہ کا وعدہ سچا ہے) قیامت ضرور آنی ہے۔ انکار کرنے سے اور شک کرنے سے وہ رک نہ جائے گی۔ (وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے جو قیامت کے آنے میں شک کرتے ہیں
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ فرماتا ہے وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

(ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (وہ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) اس میں منکرین بعث کے استبعاد کی تردید ہے جو یوں کہتے تھے کہ موت کے بعد کیسے زندہ ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے اور یہ تمہاری نظروں کے سامنے ہے ‘ اسی سے سمجھ لو کہ وہ موت کے بعد بھی زندہ فرما دے گا۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے اور ایسی چیز آئی ہے جس میں سینوں کے لئے شفا ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے مومنین کے لئے '

قرآن موعظت ہے ‘ سینوں کیلئے شفا ہے ‘ اور ہدایت ورحمت ہے منکرین سے خطاب کرنے کے بعد مومنین کو خطاب فرمایا لیکن اسے یایھا الناس سے شروع فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتاب بھیجی ہے اور ہدایت نازل فرمائی ہے وہ تمام انسانوں کیلئے ہے سب انسان اسے قبول کریں۔ جن لوگوں نے اسے قبول کرلیا ان کے لئے خوشخبری ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل وانعام اور رحمت واکرام پر خوش ہونا چاہئے کہ ہمیں اللہ نے وہ کچھ عطا فرمایا جس کے مقابلہ میں ساری دنیا ہیچ ہے ‘ دنیا میں لوگ جو کچھ جمع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قرآن مجید کو موعظت (نصیحت) اور سینوں کے لئے شفا اور مومنین کے لئے ہدایت اور رحمت بتایا۔ موعظت ‘ نصیحت کو کہتے ہیں جس میں برائیوں کو چھوڑنے اور حکام پر عمل کرنے اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال اختیار کرنے کی تلقین اور تعلیم ہو اور آخرت کے احوال اور اہوال کی تذکیر ہو۔ قرآن مجید میں بار بار ان سب امور کے اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ قرآن مجید کو (شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ) بھی فرمایا یعنی اس کے ذریعہ دلوں کی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے اور جو شخص اس کی ہدایات پر عمل کرے اس کا دل روحانی بیماریوں سے شفا یاب ہوجاتا ہے۔ حسد ‘ کینہ ‘ تکبر ‘ بخل ‘ خود پسندی اور حب دنیا اور وہ سب امور جو انسان کے دل کو تباہ کرتے ہیں قرآن مجید میں ان سب کا علاج ہے اس علاج کو اختیار کرے تو شفا حاصل ہوگی۔ نیز قرآن مجید کو ہدایت اور رحمت بھی فرمایا اس میں لفظ لِلْمُؤْمِنِیْنَ کا اضافہ فرما دیا۔ قرآن مجید ہدایت اور رحمت تو سبھی کے لئے ہے لیکن چونکہ اس سے اہل ایمان ہی مستفید ہوتے ہیں اور اسے اپنے لئے ذریعہ ہدایت اور رحمت بنا لیتے ہیں۔ اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہونے کا تذکرہ فرمایا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں قرآن کے لئے (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا ہے مزید فرمایا کہ اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہوجائیں۔ صاحب مدارک التنزیل لکھتے ہیں کہ فضل اور رحمت سے کتاب اللہ اور دین اسلام مراد ہے۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے اللہ کے فضل اور اللہ کی رحمت سے خوش ہوجاؤ۔ سو وہ اس پر خوش ہوں ' یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ شانہ نے فضل فرمایا کہ قرآن مجید نازل فرمایا اور دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی جو رحمت عظیمہ ہے اور انعام برانعام ہے۔ اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کا حکم فرمایا۔ کیونکہ یہ بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ ان پر جتنی بھی خوشی کی جائے اور مسرت کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ دنیا میں ہدایت پر ہونا اور آخرت میں نعمتوں سے مالا مال ہونا اس پر خوش ہونا اور چیز ہے اور دنیاوی نعمتوں پر اترانا دوسری چیز ہے پہلی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور دوسری چیز سے منع فرمایا ہے۔ دنیاوی مال اور جاہ پر اترانا مست ہونا اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بھلا دیتا ہے اور اس میں دوسروں کی تحقیر بھی ہوتی ہے۔ اس لئے اس سے منع فرمایا جیسا کہ سورة انعام میں ہے۔ (حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوْتُوْا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً ) اور سورة قصص میں فرمایا (اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ) آخرت سے متعلقہ اعمال اور نعمتوں پر خوش ہونے میں چونکہ حب دنیا کا دخل نہیں اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا ذریعہ ہے اس لئے محمود ہے آیت بالا میں اسی کا حکم فرمایا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اہل دنیا جو کچھ جمع کرتے ہیں نعمت اسلام اور نعمت قرآن کے سامنے اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں کیونکہ دنیا تھوڑی ہے اور فانی ہے۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ جو رزق اللہ نے تمہارے لئے نازل فرمایا تم نے اس میں سے خود ہی بعض کو حرام اور بعض کو حلال تجویز کرلیا۔ آپ فرما دیجئے کہ اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا اللہ پر افتراء کرتے ہو '

اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے اللہ جل شانہ نے بندوں کو پیدا فرمایا ان کو رزق بھی عطا فرمایا۔ ان کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی کتابوں نے احکام بتائے اور حلال و حرام کی وہ تفصیلات بتائیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہیں خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر دین کو کامل فرما دیا اور آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا قرآن و حدیث میں حرام و حلال کی تفصیلات موجود ہیں۔ مشرکین نے جو اپنی طرف سے حرام و حلال تجویز کر رکھا ہے اس کی بھی تردید فرمائی اور امت محمد یہ علیہ صاحبہ الصلوات والتحیہ کیلئے بھی پیش بندی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے ہٹ کر اپنے طور پر حرام و حلال قرار نہ دیں اور واضح طور پر بتادیا کہ تحلیل وتحریم یعنی حلال و حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے بندوں کو اس میں دخل دینا حرام ہے اور اصول بندگی کے خلاف ہے۔ اللہ نے جو رزق نازل فرمایا ہے تم نے اس میں سے بطور خود بعض کو حلال اور بعض کو حرام کیوں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کا حق تم نے کیسے استعمال کرلیا۔ کیا اللہ نے تمہیں تحلیل وتحریم کی اجازت دی ہے۔ یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ حلال وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ حلال قرار دے اور حرام وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ حرام قرار دے۔ تمہارا اپنے پاس سے یوں کہنا کہ فلاں چیز حلال اور فلاں چیز حرام ہے یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت باندھنا اور افتراء کرنا ہے۔ جو کچھ اس نے حلال و حرام قرار دیا ہے اس کے خلاف جو تم کہتے ہو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ تحلیل وتحریم اللہ نے کی ہے کیونکہ تحلیل وتحریم کا حق اسی کو ہے۔ مخلوق کے حرام کہنے سے کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی اور مخلوق کے حلال کہنے سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔ مشرکین عرب نے بعض جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ جس کا ذکر سورة مائدہ کی آیت (مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ م بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَآءِبَۃٍ ) کی تفسیر میں اور سورة انعام کی آیت (وَقَالُوْا ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ) (الآیۃ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ امت محمد یہ علی صاحبہ الصلوٰۃ والتحیہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے تحلیل وتحریم کو دانستہ یا نا دانستہ طور اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو عقیدۃً تو حلال کو حرام نہیں سمجھتے لیکن ان کا عمل اس کے خلاف ہوتا ہے۔ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں اور ان سے اسی طرح بچتے ہیں جیسے حرام سے بچا جاتا ہے۔ نیاز فاتحہ کا جن لوگوں میں رواج ہے وہ لوگ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ؓ کے ایصال ثواب کے عنوان سے جو کھانا پکاتے ہیں وہ اول تو بدعت ہے پھر اس کے بارے میں یہ قانون بنا رکھا ہے کہ اس سے صرف لڑکیاں کھائیں گی ‘ لڑکے نہیں کھائیں گے۔ اللہ کی شریعت میں جو چیز سب کے لئے حلال ہے اسے لڑکوں کے لئے حرام قرار دینا وہی مشرکین والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں تغییر اور تبدیلی کردی اور حلال کو اپنے پاس سے حرام قرار دے دیا ‘ اس طرح کی بہت سی چیزیں پیروں ‘ فقیروں اور اہل بدعت میں مروج ہیں۔ دوسری آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کے قوانین میں تصرف کرتے ہیں۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے۔ کیا انہیں روز قیامت کا یقین نہیں ہے ؟ اسی یقین کے نہ ہونے کی بنیاد پر اللہ کے نازل فرمودہ رزق میں اپنی طرف سے حلت و حرمت تجویز کرتے ہیں ایسے نڈر ہوگئے ہیں کہ انہیں آخرت کے مؤاخذہ کا کچھ بھی دھیان نہیں۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور قیامت کے دن کے بارے میں ان لوگوں کا کیا گمان ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے اور لیکن ان میں سے بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَشْکُرُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل فرماتا ہے رزق حلال عطا فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں) حلال کو حرام قرار دے دیتے ہیں۔ اللہ کا یہ فضل بھی ہے کہ اس نے لوگوں کو دولت عقل سے نوازا پیغمبر بھیجے کتابیں نازل فرمائیں جنہوں نے حق اور ناحق واضح کر کے بتایا جس میں حرام و حلال کی تفصیلات بھی ہیں لیکن اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فضل کی قدر دانی نہیں کرتے اور شکر کے بجائے کفر ان نعمت کی راہ اختیار کرتے ہیں اس کفران نعمت میں معصیت اور کفرو شرک کا اختیار کرنا سب داخل ہے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ جس کسی حال میں بھی ہوں اور قرآن مجید کا جو بھی کوئی حصہ تلاوت کر رہے ہوں اور تم لوگ جو بھی کوئی عمل کرتے ہو ہم ضرور اس سے باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور زمین اور آسمان میں ذرہ کے برابر کوئی چیز ایسی نہیں جو تیرے رب کے علم میں نہ ہو۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس سے چھوٹی ہو یا بڑی ہو جو کتاب مبین میں نہ ہو

اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے کوئی ذرہ اور چھوٹی بڑی چیز اور مخلوق کا کوئی حال اس سے پوشیدہ نہیں ان آیات میں اللہ جل شانہ کی صفت علم کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ آپ جس حال میں بھی ہوں اور اسی حال میں سے یہ بھی ہے کہ آپ قرآن کے کسی حصہ کی تلاوت کر رہے ہوں اور آپ کے علاوہ دوسرے اشخاص اور افراد جو بھی کوئی عمل کرتے ہوں یہ سب حالات اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں کسی کی کوئی حالت اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ اور آسمان میں اور زمین میں جو بھی ذرہ کے برابر کوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ شانہ کو اس کا علم ہے اور اس کے علم سے غائب نہیں ہے آسمان و زمین کے علاوہ بھی مخلوق ہے اور وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ آسمان و زمین کو چونکہ سبھی لوگ جانتے ہیں اور نظروں کے سامنے ہیں اس لئے خصوصی طور پر ان کا ذکر فرما دیا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ارض وسماء سے علوی اور سفلی دونوں جہتیں مراد لی گئی ہیں۔ مزید فرمایا کہ ذرہ سے کوئی چیز چھوٹی ہو یا کوئی چیز اس سے بڑی ہو کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا علم اس کو محیط ہے ‘ جو چیزیں وجود میں آئیں یا بعد میں پیدا ہوں گی ان سب کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے اور جو چیزیں پیدا نہ ہوں گی ان کا بھی اللہ تعالیٰ کو علم ہے ‘ بلکہ اس کو ممتنعات کا بھی علم ہے۔