ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allahs Messenger said, ‘If anyone emancipates his share (he said either or in a jointly-owned slave then if he is wealthy he must get him released wholly, but if he does not have enough wealth then a fair price of the slave must be determined. After that the slave must be made to work only to the extent of the share(s) not emancipated, without burdening him. [Bukhari 2526, Muslim Th02, Abu Dawud 3934, Ibn e Majah 2527, Ahmed 10875] --------------------------------------------------------------------------------
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ ١ ؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے ، یا فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے ۔
Sayyidina Samurah reported that the Prophet ﷺ said, “Umraa (donating a home to someone for a lifetime) is allowed. The house belongs to one to whom it is givin.” Or, he said, ‘it is a legacy for its occupants.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1349
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمریٰ کہتے ہیں، مثلاً یوں کہے کہ میں نے تمہیں یہ گھر تمہاری عمر بھر کے لیے دے دیا۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو عمریٰ دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کے گھر والوں یعنی ورثاء کا ہے کیونکہ وہ اسی کا ہوجاتا ہے جس کو دیا جاتا ہے، عمری دینے والے کی طرف نہیں لوٹتا ہے اس لیے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث ثابت ہوگئی ہے ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone is given a home to himself for life and for his family then it belongs to whom it is given and it will not return to the donor, for he gave something over which the heirs have right.’ [Bukhari 2625, Muslim 1625] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2380)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1350
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسی طرح معمر اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے مالک کی روایت ہی کی طرح روایت کی ہے اور بعض نے زہری سے روایت کی ہے، مگر اس نے اس میں «ولعقبه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣ - اور یہ حدیث اس کے علاوہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے اور اس میں «لعقبه» کا ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب دینے والا یہ کہے کہ یہ تیری عمر تک تیرا ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہوگا جس کو دیا گیا ہے۔ اور دینے والے کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اور جب وہ یہ نہ کہے کہ (تیری اولاد) کا بھی ہے تو جسے دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد دینے والے کا ہوجائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے ١ ؎، ٥ - اور دیگر کئی سندوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجائے گا ، ٦ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس کو گھر دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد وہ گھر اس کے وارثوں کا ہوجائے گا اگرچہ اس کے وارثوں کو نہ دیا گیا ہو۔ سفیان ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا کہنا ہے کہ اس نے اس آدمی کو اس چیز سے فائدہ اٹھانے کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا اسے مالک بنادیا تھا۔ ٢ ؎: عمرہ کی تین قسمیں ہیں: ایک ہمیشہ ہمیش کے لیے دینا، مثلاً یوں کہے کہ یہ مکان ہمیشہ کے لیے تمہارا ہے یا یوں کہے کہ یہ چیز تیرے اور تیرے وارثوں کے لیے ہے، تو یہ اس کی ملکیت میں دینا اور ہبہ کرنا ہوگا جو دینے والے کی طرف لوٹ کر نہیں آئے گا، دوسری قسم وہ ہے جو وقت کے ساتھ مقید ہو، مثلاً یوں کہے کہ یہ چیز تمہاری زندگی تک تمہاری ہے اس صورت میں نہ یہ ہبہ شمار ہوگی نہ تملیک بلکہ یہ عارضی طور پر ایک مخصوص مدت تک کے لیے عاریۃً دینا شمار ہوگا، مدت ختم ہونے کے ساتھ یہ چیز پہلے کی طرف لوٹ جائے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس شرط کے ساتھ عمریٰ صحیح نہیں، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس طرح مشروط طور پر عمریٰ کرنا صحیح ہے مگر شرط فاسد ہے، پہلے کی طرف نہیں لوٹے گی، لیکن راجح قول پہلا ہی ہے، آخری دونوں قول مرجوح ہیں، اور تیسری قسم بغیر کسی شرط کے دینا ہے، مثلاً وہ یوں کہے کہ میں نے اپنا مکان تمہارے لیے عمریٰ کیا، جمہور نے اس صورت کو بھی تملیک پر محمول کیا ہے، اس صورت میں بھی وہ چیز پہلے کی طرف واپس نہیں ہوگی، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ منافع کی ملکیت کی صورت ہے، رقبہ کی ملکیت کی نہیں، لہٰذا جسے یہ چیز عمریٰ کی گئی ہے اس کی موت کے بعد وہ پہلے کی طرف لوٹ آئے گی، لیکن راجح جمہو رہی کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٣٢ (٢٦٢٥)، صحیح مسلم/الہبات ٤ (١٦٢٦)، سنن ابی داود/ البیوع ٨٧ (٣٥٥٠-٣٥٥٢)، و ٨٨ (٣٥٥٣- ٣٥٥٧) و ٨٩ (٣٥٥٨)، سنن النسائی/العمری ٢ (٣٧٥٨، ٣٧٦٠-٣٧٦٢، و ٣٧٦٦-٣٧٧٠)، و ٣ (٧٧١-٣٧٧٣، ٣٧٨٢)، ٤ (٣٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الہبات ٣ (٢٣٨٠)، و ٤ (٢٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ١ ؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Umra is lawful (and it belongs to him to whom it is given), and ruqba is also lawful (and is his to whom it is donated).” [Abu Dawud 3558, Nisai 3742] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2383)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1351
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع نہیں کیا ہے، ٣ - رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مرگئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہوگا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر (جس کے نام چیز دی گئی تھی) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہوگا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «رقبیٰ»، «رقب» سے ہے جس کے معنی انتظار کے ہیں۔ اسلام نے اس میں اتنی تبدیلی کی کہ وہ چیز موہوب لہ (جس کو وہ چیز دی گئی) کی ہی رہے گی۔ موہوب لہ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو وراثت میں تقسیم ہوگی۔ واہب کو بھی نہیں لوٹے گی، جیسے عمریٰ میں ہے۔ رقبیٰ میں یہ ہوتا تھا کہ ہبہ کرنے والا یوں کہتا کہ یہ چیز میں نے تم کو تمہاری عمر تک دے دی، تمہاری موت کے بعد یہ چیز مجھے لوٹ آئے گی، اور اگر میں مرگیا تو تمہاری ہی رہے گی، پھر تم مرجاؤ گے تو میرے وارثوں کو لوٹ آئے گی۔ اب ہر ایک دوسرے کی موت کا انتظار کیا کرتا تھا۔
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہوگی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال ۔
Kathir ibn Abdullah ibn Umar ibn Awf al-Muzani reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “Reconciliation between Muslims is lawful, but not the reconciliation whereby lawful is made unlawful or the forbidden is declared permissible. And, the Muslims must fulful their conditions except the condition that turns the lawful into unlawful and the unlawful into lawful.” [Ibn e Majah 2353, Ahmed 8792]
صحيح، ابن ماجة (2353)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1352
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٣ (٢٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٥) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” کثیر بن عبداللہ “ ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: الارواء رقم ١٣٠٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “If one of you seeks permission of his neighbour to keep a piece of wood on his wall then he should not disallow him.” When Abu Hurayrah narrated this hadith, the people bowed down their heads. He asked, “What is wrong? Why do you turn away from it? By Allah, I will strike with it (the hadith) between your shoulders.” (He meant that he would compel them to abide by it). [Bukhari 2463]
صحيح، ابن ماجة (2335)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اسی چیز پر واقع ہوگی جس پر تمہارا ساتھی (فریق مخالف) قسم لے رہا ہے (توریہ کا اعتبار نہیں ہوگا) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The oath is to be on what your companion will confirm you.” [Muslim 1653, Abu Dawud 3255] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2121)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1354
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن ابی صالح، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٤ (١٦٥٣)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ٨ (٣٢٥٥)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٦)، و مسند احمد (٢/٢٢٨)، و سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ (چوڑا) رکھو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When you quarrel about the road, then keep it seven cubits (wide).” [Bukhari 2473, Muslim 1613, Ahmed 9542] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1356
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ (سابقہ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سات ہاتھ راستہ آدمیوں اور جانوروں کے آنے جانے کے لیے کافی ہے، جسے دونوں فریق کو مل کر چھوڑنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (البیوع ٥٢)، (١٦١٣)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٦ (٢٣٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، و مسند احمد (٢/٤٦٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ gave choice to a child between his father and his mother (to stay with one of them). [Abu Dawud 2277, Ibn e Majah 235]
صحيح، ابن ماجة (2351)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہوجائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، و مسند احمد (٢/٤٤٧)، وسنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of what you eat is from your (own) earnings and surely, your children are part of your earnings.” [Abu Dawud 3528, Nisai 4461, Ibn e Majah 2290, Ahmed 25351] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1358
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے اپنی ماں سے اور ان کی ماں نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، لیکن اکثر راویوں نے «عن أمّه» کے بجائے «عن عمته» کہا ہے یعنی عمارہ بن عمیر نے اپنی پھوپھی سے اور انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کے مال میں کلی اختیار ہے وہ جتنا چاہے لے سکتا ہے، ٥ - اور بعض کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بوقت ضرورت ہی لے سکتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی معنی کی ایک حدیث مروی ہے، «أَنْتَ وَ مَالُكَ لأَبِيْكَ» یعنی تم اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے (سنن ابی داود رقم: ٣٥٣٠ /صحیح) اس میں بھی عموم ہے، ضرورت کی قید نہیں ہے، اور عائشہ ؓ کی اس حدیث میں سنن أبی داود میں (برقم: ٣٥٢٩ ) جو «إذا احتجتم» جب تم ضرورت مند ہو کی زیادتی ہے وہ بقول ابوداؤد منکر ہے، لیکن لڑکے کی وفات پر (پوتے کی موجودگی میں) باپ کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے، اس سے حدیث کی تخصیص ہوجاتی ہے۔ یعنی بیٹے کا کل مال باپ کی ملکیت نہیں، صرف بقدر ضرورت ہی لے سکتا ہے۔ «واللہ اعلم»۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ ؓ نے (غصے میں) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: One of the honourable wives of the noble Prophet ﷺ sent to him some food in a bowl as a gift. Sayyidah Ayshah struck it with her hand and its contents fell down. The Prophet ﷺ said, “Food for food and vessel for vessel.” [Bukhari 2481]
صحيح، ابن ماجة (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1359
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی کوئی چیز کسی سے تلف ہوجائے تو وہ ویسی ہی چیز تاوان میں دے اور جب اس جیسی چیز دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ قَصْعَةً، فَضَاعَتْ فَضَمِنَهَا لَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي سُوَيْدٌ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أصح اسم أبي داود عمر بن سعد.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that the Prophet ﷺ borrowed a bowl from someone. But it was misplaced, so he returned another bowl as a replacement. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد جداصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1360
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، ٢ - سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ١ ؎، ٣ - ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیز کو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے «أن النبي صلی اللہ عليه وسلم استعار قصعة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کردیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے «أهدت بعض أزواج النبي صلی اللہ عليه وسلم» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٨٨) (ضعیف جداً ) (سند میں ” سوید بن عبد العزیز “ سخت ضعیف ہے، صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکور ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کرلیا۔ نافع کہتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہوجائیں (مال غنیمت سے) ان کو حصہ دیا جائے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated, “I was presented to Allah’s Messenger ﷺ for an army while I was fourteen years old. He did not accept me (in the army). Then, I was presented to him next year for the army while I as fifteen years old and he accepted me.” Nafi said that he narrated this hadith to Umar ibn Adul Aziz and he said, “This is the distinction between childhood and adulthood.” And he wrote to his officers that the fifteen years-olds must be given a share of the booty. [Bukhari 2664, Muslim 1868, Ibn e Majah 2543] .
براء ؓ کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ بن نیار ؓ میرے پاس سے گزرے اور ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی (دوسری) بیوی سے شادی کر رکھی ہے تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔
Sayyidina Bara narrated : My maternal uncle, Abu Bardah ibn Niyar passed by me. He had a spear in his hand. I asked him, “Where are you going?” He said, “Allah’s Messenger ﷺ has sent me to a man who has married his father’s wife that I may bring him this man’s head.” [Abu Dawud 4457] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2607)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1362
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - براء کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عدی بن ثابت سے اور عدی نے عبداللہ بن یزید سے اور عبداللہ نے براء ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث اشعث سے بھی مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن براء سے اور یزید نے براء ؓ سے روایت کی ہے، ٤ - نیز یہ اشعث سے مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن البراء سے اور یزید نے اپنے ماموں سے اور ان کے ماموں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٥ - اس باب میں قرہ مزنی سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٧ (٤٤٥٦)، ٤٤٥٧)، سنن النسائی/النکاح ٥٨ (٣٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٥ (٢٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٤)، و مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥، ٢٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ کے پاس زبیر سے حرہ کی نالیوں کے بارے میں جس سے لوگ اپنے کھجور کے درخت سینچتے تھے جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ بہتا رہے، زبیر نے اس کی بات نہیں مانی، تو دونوں نے رسول اللہ کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے زبیر سے فرمایا: زبیر! (تم اپنے کھیت کو) سیراب کرلو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو ، (یہ سن کر) انصاری غصہ ہوگیا اور کہا: اللہ کے رسول! (ایسا فیصلہ) اس وجہ سے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے؟ (یہ سنتے ہی) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: زبیر! تم اپنے کھیت سیراب کرلو، پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے ١ ؎، زبیر کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میرا گمان ہے کہ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فلا وربک لا يؤمنون حتی يحكموک فيما شجر بينهم» آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں (اے نبی) وہ آپ کو حکم نہ مان لیں (النساء: ٦٥ ) ۔
Urwah reported that Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) told him that there was an altercation between an ansar and him concerning the streamlets with which they watered their date palms and the ansar complained to Allah’s Messenger ﷺ . The ansar said, “Let the water flow,” but Zubayr refused to do so. So, they came to Allah’s Messenger ﷺ who said to Zubayr, “Water your ground, O Zubayr, then let the water run to your neighbour.” The ansar was angered at that and said, “It is because he is the son of your aunt.” The colour of the face of Allah’ Messenger ﷺ changed and he said, “O Zubayr, Water your ground and hold the water, till it returns to the parapet.” Zubayr said (afterwards), “By Allah, I understand that this verse was revealed concerning this very issue: But no, by your Lord! they will not believe until they make you the judge of what is in dispute between them, then find no vexation in their hearts over what you decide, and submit with full submission). (4:65) [Bukhari 2359, Muslim 2357] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اور زہری نے عروہ بن زبیر سے اور عروہ نے زبیر سے روایت کی ہے اور شعیب نے اس میں عبداللہ بن زبیر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور عبداللہ بن وہب نے اسے پہلی حدیث کی طرح ہی لیث اور یونس سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان اور اگلے فرمان میں فرق یہ ہے کہ آپ نے زبیر سے اپنے پورے حق سے کم ہی پانی لے کر چھوڑ دینے کا حکم فرمایا، اور بعد میں غصہ میں زبیر کو پورا پورا حق لینے کے بعد ہی پانی چھوڑ نے کا حکم دیا۔ اور اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٦ (٢٣٦٠)، و ٨ (٢٣٦٢)، والعلم ١٢ (٢٧٠٨)، وتفسیر سورة النساء ١٢ (٥٣٨٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧)، سنن النسائی/القضاة ١٩ (٥٣٢٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، والرہون ٢٠ (٢٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، و مسند احمد (١/١٦٥) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے مرتے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا جبکہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر ملی تو آپ نے اس آدمی کو سخت بات کہی، پھر ان غلاموں کو بلایا اور دو دو کر کے ان کے تین حصے کئے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور جن (دو غلاموں) کے نام قرعہ نکلا ان کو آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Sayyidina Imran lbn Husayn (RA) narrated : A man of the Ansar set free his six slaves when he was about to die and he had no other property besides them. This news was conveyed to the Prophet ﷺ and he spoke sternly about him. He summoned the slaves and divided them into groups. Thereafter, he cast lots among them, and emancipated two of them and retained four. [Muslim 1668] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2345)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1364
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمران بن حصین ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور یہ اور بھی سندوں سے عمران بن حصین سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ لوگ یہ اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر قرعہ اندازی کو درست کہتے ہیں، ٥ - اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم قرعہ اندازی کو جائز نہیں سمجھتے، اس موقع پر لوگ کہتے ہیں کہ ہر غلام سے ایک تہائی آزاد کیا جائے گا اور دو تہائی قیمت کی آزادی کے لیے کسب (کمائی) کرایا جائے گا۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ (رشتہ دار) آزاد ہوجائے گا ۔
Sayyidina Samurah reported that Allahs Messenger ﷺ said, “If anyone becomes owner of one of his dhu-mahram relatives then he is free.” [Abu Dawud 3949, Ibn e Majah 2524, Ahmed 20187] --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے مسنداً (مرفوعاً ) جانتے ہیں، ٢ - اور بعض لوگوں نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے عمر ؓ سے (موقوفاً ) روایت کیا ہے۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے ۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone sows in another’s field without his permission then there is nothing in the field for him. Of course, he can claim his expenses (on sowing, but the field and cultivation belong to the owner of the land).” [Abu Dawud 3403, Ibn e Majah 2466, Ahmed 19270] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2466)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1366
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک بن عبداللہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ١ ؎ ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے، انہوں نے کہا: میں اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک ہی کے طریق سے جانتا ہوں، ٥ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے معقل بن مالک بصریٰ نے بسند «عقبة بن الأصم عن عطاء عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہوگی اور زمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا، مگر اس قول پر کوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جاسکے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٣٣ (٣٤٠٣)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٣ (الأحکام ٧٤)، (٢٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٠)، و مسند احمد (٣/٤٦٥) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (بشیر) نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام دیا، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو ایسا ہی غلام عطیہ میں دیا ہے ١ ؎ جیسا اس کو دیا ہے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے واپس لے لو ۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that his father made a gift of a slave to one of his sons. He came to the Prophet ﷺ to request him to witness the gift. The Prophet ﷺ asked him, ‘Have you made a like gift to all your children as you have given him?” He said, No’ Then he said, “In that case, take him back (from him).” [Bukhari 2586, Muslim 1623] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2375 - 2376)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1367
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ٢ - یہ اور بھی سندوں سے نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے۔ ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ اولاد کے درمیان (عطیہ دینے میں) برابری کو ملحوظ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو کہا ہے کہ بوسہ لینے میں بھی اپنی اولاد کے درمیان برابری برقرار رکھے، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: بخشش اور عطیہ میں اپنی اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی کے درمیان بھی برابری برقرار رکھے۔ یہی سفیان ثوری کا قول ہے، ٥ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: اولاد کے درمیان برابری یہی ہے کہ میراث کی طرح لڑکے کو لڑکی کے دوگنا دیا جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اولاد کو ہبہ کرنے میں مساوات کا یہ حکم جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے، موطا میں صحیح سند سے مذکور ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے مرض الموت میں عائشہ ؓ سے فرمایا تھا «إني كنت نحلت نحلا فلو کنت اخترتيه لکان لک وإنما هو اليوم للوارث» میں نے تم کو کچھ ہبہ کے طور پر دینا چاہا تھا اگر وہ تم لے لیتی تو وہ تمہارا ہوجاتا، اور اب تو وہ وارثوں ہی کا ہے، اسی طرح عمر ؓ کا واقعہ طحاوی وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے عاصم کو کچھ ہبہ کے طور پر دیا تھا، امام احمد بن حنبل وغیرہ کی رائے ہے کہ اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے اور ایک کو دوسرے سے زیادہ دینا حرام ہے، یہ لوگ شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) کے ان اقدامات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ان اقدامات پر ان کے دیگر بچے راضی تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ١٢ (٢٥٨٦)، والشہادات ٩ (٢٦٥٠)، صحیح مسلم/الہبات ٣ (١٦٢٣)، سنن ابی داود/ البیوع ٨٥ (٣٥٤٢)، سنن النسائی/النخل ١ (٣٧٠٢)، ٣٧٠٣)،، ٣٧٠٤، ٣٧٠٩-٣٧١٢) سنن ابن ماجہ/الہبات ١ (الأحکام) (٢٣٧٥-٢٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٧ و ١١٦٣٨)، و موطا امام مالک/الأقضیة ٣٣ (٣٩)، و مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧٦) (صحیح )