اس سند سے بھی معاذ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Muhmmad ibn Ja’far and Abdur Rahman ibn Mahdi and both of them from Shu’bah who from Abu Awn who from Harith ibn Amir, nephew of Mughirab ibn Shu’bah, from Mu’adh who from the Prophet ﷺ a hadith like that in marfu’ form.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1328
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢ - اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے، ٣ - ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہوگا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہوگا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The dearest of men to Allah and the nearest to Him in station on the Day of Resurrection will be a just imam. And, the most hated of all men to Allah and the farthest of them from Him in station will be an oppressive imam.” [Ahmed 11174]
ضعيف، الروض النضير (2 / 356 - 357)، الضعيفة (1156)، المشکاة (3704 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1363) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1329
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٢٨) (ضعیف) (سند میں ” عطیہ عوفی “ ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ١ ؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abu Awfa reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Allah is with the qadi as long as he is not unjust. When he becomes tyrannical, Allah separates from him and the devil attaches to him. --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (2312)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1330
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢ (٢٣١٢)، (تحفة الأشراف: ٥١٦٧) (حسن )
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ١ ؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو ۔ علی ؓ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger said to him, “If two people bring to you a dispute then do not judge for the first until you have heard the disposition of the second. So, soon you will know how to decide.” Sayyidina Ali said, “I did not cease to be a qadi after that.” [Abu Dawud 3582, Ibn e Majah 2310, Ahmed 535] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، الإرواء (2600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1331
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اگر دوسرا فریق خاموش رہے، عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے، نہ اقرار کرے نہ انکار یا دوسرا فریق عدالت کی طلبی کے باوجود عدالت میں بیان دینے کے لیے حاضر نہ ہو تو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجاز ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٦ (٣٥٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨١) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” حنش “ ضعیف ہیں، دیکھئے: الإرواء رقم: ٢٦٠٠ )
عمرو بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ ؓ سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو بھی حاکم حاجت مندوں، محتاجوں اور مسکینوں کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضرورت، حاجت اور مسکنت کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے ، جب معاویہ ؓ نے یہ سنا تو لوگوں کی ضرورت کے لیے ایک آدمی مقرر کردیا۔
Sayyidina Amr ibn Murrah (RA) said to Sayyidina Mu’awiyah (RA) that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If a ruler shuts his door to the needy, the helpless and the poor then Allah shuts the doors of the heaven to his (the ruler’s) helplessness, need and poverty.” So, Mu’awiyah (RA) appointed a man to look into the needs of the people. [Ahmed 18055]
صحيح، المشکاة (3728 / التحقيق الثانی)، الصحيحة (629)، صحيح أبي داود (2614)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1332
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمرو بن مرہ ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - عمرو بن مرہ جہنی کی کنیت ابومریم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر مسند احمد (٤/٢٣١) (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٩) (صحیح) (اگلی حدیث اور معاذ ؓ کی حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابوالحسن جزری “ مجہول اور ” اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر “ ضعیف ہیں ۔ )
ابومریم ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ یزید بن ابی مریم شام کے رہنے والے ہیں اور برید بن ابی مریم کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ابومریم کا نام عمرو بن مرہ جہنی ہے۔
A hadith of the same meaning is reported by All ibn Hujr from Yahya ibn Hamzah, from Yazid ibn Abu Maryam, from Qasim ibn Mughirah, who from Abu Maryam, a sahabi. --------------------------------------------------------------------------------
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جو قاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Abu Bakrah ﷺ narrated: My father wrote to Ubaydullah ibn Abu Bakrah who was a qadi, “Do not judge between two people while you are angry, for, I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that a ruler must not judge between two people while he is in anger.” [Bukhari 7158, Muslim 1717, Abu Dawud 3589, Nisai 5421, Ibn e Majah 2316, Ahmed 20401]
صحيح، ابن ماجة (2316)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1334
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوبکرہ کا نام نفیع ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ غصے کی حالت میں فریقین کے بیانات پر صحیح طور سے غور و فکر نہیں کیا جاسکتا، اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہر اس حالت میں جو فکر انسانی میں تشویش کا سبب ہو فیصلہ کرنا مناسب نہیں اس لیے کہ ذہنی تشویش کی حالت میں صحیح فیصلہ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٣ (٧١٥٨)، صحیح مسلم/الأقضیة ٧ (١٧١٧)، سنن النسائی/آداب القضاة ١٨ (٤٥٠٨)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٤ (٢٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٦)، و مسند احمد (٥/٣٦، ٣٧، ٤٦، ٥٢) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (قاضی بنا کر) یمن بھیجا، جب میں روانہ ہوا تو آپ نے میرے پیچھے (مجھے بلانے کے لیے) ایک آدمی کو بھیجا، میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں بلانے کے لیے آدمی کیوں بھیجا ہے؟ (یہ کہنے کے لیے کہ) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا، اس لیے کہ وہ خیانت ہے، اور جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن خیانت کے مال کے ساتھ حاضر ہوگا، یہی بتانے کے لیے میں نے تمہیں بلایا تھا، اب تم اپنے کام پر جاؤ۔
Sayyidina Muaz ibn Jabal (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ sent me to Yaman. When I had begun the journey, he sent after me and I was brought back to him. He asked, ‘Do you know why I sent for you? Do not take anything (from anyone) without my permission, for that is treachery. And he who is treacherous will come on the Day of Ressurrection with his treachery. This is why I had called you. Go now to your work.’ --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1335
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - معاذ ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے اس طریق سے بروایت ابواسامہ جانتے ہیں جسے انہوں نے داود اودی سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عدی بن عمیرہ، بریدہ، مستور بن شداد، ابوحمید اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٥٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” داود بن یزید اودی “ ضعیف ہیں، لیکن دیگر احادیث سے اس کا معنی ثابت ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the receiver of bribe and its giver, in litigation (brought to the qadi).
صحيح، ابن ماجة (2313)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1336
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بھی مروی ہے انہوں عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣ - اور ابوسلمہ سے ان کے باپ کے واسطے سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ٤ - میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو کہتے سنا کہ ابوسلمہ (ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ اچھی اور سب سے زیادہ صحیح ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔ ٥ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن حدیدہ اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
Abu Musa Muhammad ibn Muthanna reported from Abu Aamir Aqadiy, from Abu Zib, from his uncle, Harith ibn Abdur Rahman, from Abu Salamah (RA) from Abdullah ibn Amri that the Prophet ﷺ cursed both the receiver and the giver of bribe. [Abu Dawud 3580, Ibn e Majah 2313, Ahmed 7003] --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٤ (٣٥٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢ (٢٣١٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٦٤)، و مسند احمد (١٦٤، ١٩٠، ١٩٤، ٢١٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے کھر بھی ہدیہ کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a sheeps trotter was presented to me, I would accept it and if I were invited over it then I would surely go. [Ahmed 10247]
صحيح صحيح الجامع (5257 و 5268)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1338
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ، سلمان، معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ غریب آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ کو بھی قبول کیا جائے، اسے کم اور حقیر سمجھ کر رد نہ کیا جائے، اس سے نبی اکرم ﷺ کی تواضع اور سادگی کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے سادہ اور متواضع تھے، اپنے لیے آپ کسی تکلف اور اہتمام کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنا مقدمہ لے کر میرے پاس آتے ہو میں ایک انسان ہی ہوں، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنا دعویٰ بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ١ ؎ تو اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا کوئی حق دلوا دوں تو گویا میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، لہٰذا وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ٢ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said. “You bring your disputes to me (to judge between you) while I am only a human being. And, perhaps, some of you may be more eloquent in their arguments than others. So, if I decide for one of you (giving him) even a little bit of the right of his brother then I am only cutting out for him a piece of the fire, hence, let him not take anything of it.” [Muslim 1713] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1339
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی دلیل دوسرے کے مقابلے میں زیادہ اچھے طریقے سے پیش کرسکتا ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ ظاہری بیانات کی روشنی میں فیصلہ واجب ہے، حاکم کا فیصلہ حقیقت میں کسی چیز میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا، اور نفس الامر میں نہ حرام کو حلال کرسکتا ہے اور نہ حلال کو حرام، جمہور کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کا کہنا ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح نافذ ہوجاتا ہے مثلاً ایک جج جھوٹی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ دے دیتا ہے کہ فلاں عورت فلاں کی بیوی ہے باوجود یہ کہ وہ اجنبی ہے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ اس مرد کے لیے حلال ہوجائے گی۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس (کندی) نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے، اس پر کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے، اس پر اس (حضرمی) کا کوئی حق نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ ، اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو ، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہا ہے۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے، آپ نے فرمایا: اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو ۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا فرمایا: اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہوگا۔
Alqamah ibn Wail reported from his father that a man from Hadramawt and a man from Kinda came to the Prophet ﷺ The Hadrami pleaded, “O Messenger of Allah, this man has seized my land.” The Kindi said, “It is my land and in my hands; he has no right over it.” The Prophet ﷺ said to the Hadrami, “Do you have a witness?” He said, “No.” The Prophet ﷺ said, “Then you can ask him to state on an oath.” He said, “O Messenger of Allah, this man is a profligate, an immoral. He will not mind swearing at anything. He is not righteous.” The Prophet ﷺ said, “You haveno way but to get him to swear.” So, the man turned to take an oath. When he turned, Allah’s Messenger i’ said, “If he swears over his property to sieze it unjustly then when he meets Allah (on the Day of Resurrection), He will turn away from him.” [Muslim 139, Abu Dawud 3245]
صحيح، الإرواء (2632)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1340
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، اور اشعث بن قیس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (٢٢٣)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ٢ (٣٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٨)، و مسند احمد (٤/٣١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے ۔
Amr ibn Shu’ayb reoported from his father who reported from his grandfather that the Prophet ﷺ said during a sermon, “The plaintiff must present a witness while the respondent must take an oath.”
اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٩٤) (حسن) (شواہد اور متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” محمد بن عبیداللہ عزرمی “ ضعیف ہیں، دیکھئے الارواء رقم: ٢٦٤١ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ gave verdict that the defendant must swear. [Bukhari 1239, Muslim 1711] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (2641)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1342
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرہن ٦ (٢٥١٤)، والشہادات ٢٠ (٢٦٦٨)، وتفسیر سورة آل عمران ٣ (٤٥٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ١ (١٧١١)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٢٣ (٣٦١٩)، سنن النسائی/القضاة ٣٦ (٥٤٤٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩٢)، و مسند احمد (١/٢٠٣، ٢٨٨، ٣٤٣، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں: مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد ؓ کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah ﷺ rerported that Allah’s Messenger ﷺ passed judgernent on the testimony of one witness and the oath of the defendant. Rabi’ah said that a son of Sad ibn Ubadahh (RA) told him that they found in his book that the Prophet ﷺ had decided that an oath must be taken along with the presentation of a witness. [Abu Dawud 3610, Ibn e Majah 2369] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2368 - 2671)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1343
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو دوسرے گواہ کے بدلے مدعی سے قسم لے کر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ درست ہے۔
ابو جعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا، راوی کہتے ہیں: اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔
Ja’far ibn Muhammad reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ judged on the basis of an oath and a single witness, And, he said, “Ali also decided between you on that basis.” --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، ٢ - اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (مرفوعاً ) روایت کیا ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلانا جائز ہے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ٤ - اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی یہ احادیث اہل کوفہ کے خلاف حجت ہیں، ان کا استدلال «وأشهدوا ذوي عدل منکم إذا استشهدوا شهدين من رجالکم» سے استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام (پورا) آزاد ہوجائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہوگا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone sets free his share in a slave and he has enough property that is equal to the market price of the slave then that slave is free, otherwise only to the extent of his share.” Sometimes Njafi narrated this hadith with the word (that is). The narrator was unsure what word the Prophet ﷺ used, but the meaning is nearly the same, ‘share. [Bukhari 2524, Muslim 1501, AD3941, Ibn e Majah 2528, Ahmed 5927]
صحيح، ابن ماجة (2528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق: «عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو (تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔
Saalim reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ said, If anyone sets free the portion of his slave (who belongs in partnership) and he ha.s enough wealth as covers the price of the slave then the slave is free (meaning), that he must pay tie’ other partners the price of the slave and liberate him wholly.
صحيح، ابن ماجة (2528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1347