Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 63 of 199

1308Sunan At-Tirmidhi

مال دار کی قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرناظلم ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ، فَلْيَتْبَعْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ١ ؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Procrastination by the rich (in repaying debts) is injustice to someone (and it is to oppress him). And, if one of you is directed to a rich person then he must go (and recover from him).” (This is explained as a transfer of debt by the debtor to his own debtor who is rich, so the creditor must approach him). [Bukhari 3287, Muslim 1564] Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, ‘Procrastination by the rich is unjust. When one of you is referred to a rich person then he must go. And he must not interfere between two (bargaining) parties with his quotation.

صحيح، ابن ماجة (2403)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1308
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابن عمر اور شرید بن سوید ثقفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قرض کی ادائیگی کے باوجود قرض ادا نہ کرنا ٹال مٹول ہے، بلا وجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا کبیرہ گناہ ہے۔ ٢ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنی چاہیئے، اس میں گویا حسن معاملہ کی ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ٢ (٢٢٨٨)، والاستقراض ١٢ (٢٤٠٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (البیوع ٢٨) (١٥٦٤)، سنن ابی داود/ البیوع ١٠ (٣٣٤٥)، سنن النسائی/البیوع ١٠٠ (٤٦٩٢)، و ١٠١ (٤٦٩٥)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٨ (الأحکام ٤٨)، (٢٤٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦٢)، وط/البیوع ٤٠ (٨٤)، و مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٤، ٢٦٠، ٣١٥، ٣٧٧، ٣٨٠، ٤٦٣، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )
1309Sunan At-Tirmidhi

مال دار کی قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرناظلم ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ، فَاتْبَعْهُ، وَلَا تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَاهُ: إِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى مَلِيءٍ، فَاحْتَالَهُ، فَقَدْ بَرِئَ الْمُحِيلُ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْمُحِيلِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا تَوِيَ مَالُ هَذَا بِإِفْلَاسِ الْمُحَالِ عَلَيْهِ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْأَوَّلِ، وَاحْتَجُّوا بِقَوْلِ عُثْمَانَ وَغَيْرِهِ، حِينَ قَالُوا: لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى، قَالَ إِسْحَاق: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوِيَ هَذَا إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى آخَرَ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ مَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ مُعْدِمٌ، فَلَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مالدار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کرلو، اور ایک بیع میں دو بیع نہ کرو ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، ٣ - بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کرلے تو حوالے کرنے والا بری ہوجائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں کہ پھر حوالے کرنے والے کی طرف پلٹے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: کہ «محتال علیہ» جس آدمی کی طرف تحویل کیا گیا ہے ، کے مفلس ہوجانے کی وجہ سے اس کے مال کے ڈوب جانے کا خطرہ ہو تو قرض خواہ کے لیے جائز ہوگا کہ وہ پہلے کی طرف لوٹ جائے، ان لوگوں نے اس بات پر عثمان ؓ وغیرہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے، ٥ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اس حدیث «ليس علی مال مسلم توي» مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قرض خواہ کسی کے حوالے کیا گیا اور اسے مالدار سمجھ رہا ہو لیکن درحقیقت وہ غریب ہو تو ایسی صورت میں مسلمان کا مال ضائع نہ ہوگا (اور وہ اصل قرض دار سے اپنا مال طلب کرسکتا ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ٨ (الأحکام ٤٨)، (٢٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٥)، و مسند احمد (٢/٧١) (صحیح )
1310Sunan At-Tirmidhi

بیع منابذہ اور ملامسہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا لَمَسْتَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَرَى مِنْهُ شَيْئًا مِثْلَ مَا يَكُونُ فِي الْجِرَابِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade the transactions under munabazah and mulamasah. [Bukhari 268, Muslim 1511]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1310
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوسعید اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں تمہاری طرف یہ چیز پھینک دوں تو میرے اور تمہارے درمیان بیع واجب ہوجائے گی۔ (یہ منابذہ کی صورت ہے) اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں یہ چیز چھولوں تو بیع واجب ہوجائے گی اگرچہ وہ سامان کو بالکل نہ دیکھ رہا ہو۔ مثلاً تھیلے وغیرہ میں ہو۔ یہ دونوں جاہلیت کی مروج بیعوں میں سے تھیں لہٰذا آپ نے اس سے منع فرمایا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، «مبیع» (سودا) مجہول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٨)، ومواقیت الصلاة ٣٠ (٥٨٤)، والبیوع ٦٣ (٢١٤٦)، واللباس ٢٠ (٥٨١٩)، و ٢١ (٥٨٢١)، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥١١)، سنن النسائی/البیوع ٢٣ (٤٥١٣)، و ٢٦ (٤٥١٧ و ٤٥٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٢ (٢١٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦١)، وط/البیوع ٣٥ (٧٦)، واللباس ٨ (١٧)، و مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤١٩، ٤٦٤)، ٤٧٦، ٤٨٠)، ٤٩١)، ٤٩٦، ٥٢١)، ٥٢٩) (صحیح )
1311Sunan At-Tirmidhi

غلہ اور کھجور میں بیع سلم (یعنی پیشگی قیمت ادا کرنا)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ، فَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَجَازُوا السَّلَفَ فِي الطَّعَامِ، وَالثِّيَابِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، مِمَّا يُعْرَفُ حَدُّهُ، وَصِفَتُهُ، وَاخْتَلَفُوا فِي السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ جَائِزًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، أَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں سلف کیا کرتے تھے یعنی قیمت پہلے ادا کردیتے تھے، آپ نے فرمایا: جو سلف کرے وہ متعین ناپ تول اور متعین مدت میں سلف کرے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ came to Madinah, the Madinans used to pay in advance for dates. So he instructed, “If anne receives advance payment then it is necessary to specify the weight or measure and the time of delivery.” [Bukhari 2239, Nisai 1604, Abu Dawud 3463, Ibn e Majah 2280, Ahmed 2458]

صحيح، ابن ماجة (2280)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1311
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی اور عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غلہ، کپڑا، اور جن چیزوں کی حد اور صفت معلوم ہو اس کی خریداری کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں، ٤ - جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے میں اختلاف ہے، ٥ - بعض اہل علم جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور خریدنے کے لیے پیشگی دینے کو مکروہ سمجھا ہے۔ سفیان اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ١ (٢٢٣٩)، و ٢ (٢٢٤٠)، و ٧ (٢٢٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٥ (١٦٠٤)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٧ (٣٤٦٣)، سنن النسائی/البیوع ٦٣ (٤٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٤٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٠)، و مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٢، ٢٨٢، ٣٥٨) (صحیح )
1312Sunan At-Tirmidhi

مشترکہ زمین سے کوئی اپنا حصہ بیچنا چاہے؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ، فَلَا يَبِيعُ نَصِيبَهُ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَى شَرِيكِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ، يُقَالُ: إِنَّهُ مَاتَ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَتَادَةُ، وَلَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا نَعْرِفُ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ سَمَاعًا مِنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَلَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا يُحَدِّثُ قَتَادَةُ، عَنْ صَحِيفَةِ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، وَكَانَ لَهُ كِتَابٌ .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کرلے ۔

Sayyiidinaa Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone owns a share in a garden then he must not sell his share in that without informing his (other) partner(s).” [Muslim 1608]

صحيح، الإرواء (5 / 373)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1312
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مرگئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی
Takhrij · تخریج
تفرد بہ مؤلف، وانظر مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح لغیرہ) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/المساقاة ٢٨ (البیوع ٤٩)، (١٦٠٨)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٣)، سنن النسائی/البیوع ٨٠ (٤٦٥٠)، و ١٠٧ (٤٧٠٤، ٤٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٢)، و مسند احمد (٣/٣١٢، ٣١٦، ٣٩٧)، وسنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) معناہ في سیاق حدیث ” الشفعة “
1313Sunan At-Tirmidhi

بیع مخابرہ اور معاومہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع محاقلہ، مزابنہ ١ ؎، مخابرہ ٢ ؎ اور معاومہ ٣ ؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ٤ ؎ کی اجازت دی ہے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade transactions (known as) muhaqalah, muzabanah, mukhabarah and mu’awamah but permitted araya. [Bukhari 2189, Muslim 1536]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1313
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ اور مزابنہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ( ١٢٢٤ )۔ ٢ ؎: مخابرہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ( ١٢٩٠ )۔ ٣ ؎: عرایا کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ( ١٣٠٠ )۔ ٤ ؎: «بیع سنین» کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کو کئی سالوں کے لیے بیچ دے، یہ بیع جائز نہیں ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع کی قبیل سے ہے، اس میں دھوکہ ہے، ممکن ہے کہ درخت میں پھل ہی نہ آئے، یا آئے مگر جتنی قیمت دی ہے اس سے زیادہ پھل آئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦/٨٥)، سنن ابی داود/ البیوع ٣٤ (٣٤٠٤)، سنن النسائی/الأیمان والمزارعة ٤٥ (٣٩١٠)، والبیوع ٧٤ (٤٦٣٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٦٦٦)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٦، ٣٦٠، ٣٦٤، ٣٩١، ٣٩٢) وانظر ما تقدم برقم ١٢٩٠، وما عند صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢٣٨١) (صحیح )
1314Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ، يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ، وَلَا مَالٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (غلہ وغیرہ کا) نرخ بڑھ گیا، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے، آپ نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم (کے بدلے) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔

Sayyidina Anas ﷺ reported that the price increased in the times of Allah’s Messenger ﷺ So they pleaded, ‘O Messenger of Allah! ﷺ Do fix prices for us. He said, ‘Indeed, Allah is the One Who fixes prices Who withholds Who bestows and Who gives provision And I hope that I meet my Lord in such a condition that none of you has a demand over me for an injustice regarding blood and property.” [Abu Dawud 3451]

صحيح، ابن ماجة (2200)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1314
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٥١ (٣٤٥١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٧ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨ و ٦١٤ و ١١٥٨)، و مسند احمد (٣/٢٨٦) (صحیح )
1315Sunan At-Tirmidhi

بیع میں دھوکہ دینا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا ، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا: الْغِشُّ حَرَامٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کردیا، آپ کی انگلیاں تر ہوگئیں تو آپ نے فرمایا: غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں ، پھر آپ نے فرمایا: جو دھوکہ دے ١ ؎، ہم میں سے نہیں ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ passed by a heap of grain. He put his hand into it and his fingers detected some dampness in it. He asked, ‘O owner of the provision, what is this?” He said, “O Messenger of Allah, it is from rain from the sky. He said, “Then why did you not put it on top of the heap of grain that people might see? He added, “He who deceives is not one of us.” [Abu Dawud 3452]

صحيح، ابن ماجة (2224)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1315
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا، اچھے مال میں ردی اور گھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا، سودے میں کسی اور چیز کی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: ہم میں سے نہیں، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٣ (١٠٢)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٢ (٣٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٦ (٢٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٩)، و مسند احمد (٢/٢٤٢) (صحیح )
1316Sunan At-Tirmidhi

اونٹ یا کوئی جانور قرض لینا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا، فَأَعْطَاهُ سِنًّا خَيْرًا مِنْ سِنِّهِ، وَقَالَ: خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي رَافِعٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وُسُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَمْ يَرَوْا بِاسْتِقْرَاضِ السِّنِّ بَأْسًا مِنَ الْإِبِلِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور آپ نے اسے اس سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا: تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ borrowed a young camel. When repaying, he returned a better camel young in years. He said,‘The best of you are they who repay debts in an exceillent manner.” [Bukhari 2305, Muslim 160]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1316
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شعبہ اور سفیان نے بھی سلمہ سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابورافع ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کسی بھی عمر کا اونٹ قرض لینے کو مکروہ نہیں سمجھتے ہیں، ٥ - اور بعض لوگوں نے اسے مکروہ جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٥ (٢٣٠٥)، و ٦ (٢٣٠٦)، والاستقراض ٤ (٢٣٩٠)، و ٦ (٢٣٩٢)، و ٧ (٢٣٩٣)، والہبة ٢٣ (٢٦٠٦)، و ٢٥ (٢٦٠٩)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (البیوع ٤٣) (١٦٠١)، سنن النسائی/البیوع ٦٤ (٤٦٢٢)، و ١٠٣ (٤٦٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٦ (الأحکام ٥٦)، (٢٣٢٢)، (مقتصراً علی قولہ المرفوع) (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٣)، و مسند احمد (٢/٣٧٤، ٣٩٣، ٤١٦، ٤٣١)، ٤٥٦، ٤٧٦، ٥٠٩) (صحیح )
1317Sunan At-Tirmidhi

اونٹ یا کوئی جانور قرض لینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ، ثُمَّ قَالَ: اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، فَقَالَ: اشْتَرُوهُ، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے (قرض کا) تقاضہ کیا اور سختی کی، صحابہ نے اسے دفع کرنے کا قصد کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار کو کہنے کا حق ہے ، پھر آپ نے فرمایا: اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو ، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں ایسا ہی اونٹ ملا جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، آپ نے فرمایا: اسی کو خرید کر دے دو، کیونکہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that a man demanded repayment of his loan from the Prophet ﷺ ‘ and was rude in his demand. The sahabah (RA) were annoyed at that, but Allah’s Messenger i’ said, “Leave him alone, for the owner of a right may speak. Buy for him a camel and give it to him.” So they sought one, but could not find save one of better age than his. He said, “Buy it and give it to him, for, the best of you is he who excels over others in repaying his debt”

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1317
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1318Sunan At-Tirmidhi

اونٹ یا کوئی جانور قرض لینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ ، فَقُلْتُ: لَا أَجِدُ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کا اونٹ آیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا اونٹ ادا کر دوں، میں نے آپ سے عرض کیا: مجھے چار دانتوں والے ایک عمدہ اونٹ کے علاوہ کوئی اور اونٹ نہیں مل رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Rafi the freed man of Allah’s Messenger narrated: Allah’s Messenger ﷺ borrrowed a young camel. Afterwards, when he received some camels of zakah, he commanded me to repay the man his young camel. So, I told him that I could not find a camel except one with four teeth, better than the man’s. He said, “Give it to him, for, the best of men is he who repays his debt in the best manner.” [Muslim 1600, Abu Dawud 3346, Nisai 4617, Ibn e Majah 2285]

صحيح، ابن ماجة (2285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1318
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقروض اگر خود بخود اپنی رضا مندی سے ادائیگی قرض کے وقت واجب الادا قرض سے مقدار میں زیادہ یا بہتر اور عمدہ ادا کرے تو یہ جائز ہے، اور اگر قرض خواہ قرض دیتے وقت یہ شرط کرلے تو یہ سود ہوگا جو بہر صورت حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (البیوع ٤٣) (١٦٠٠)، سنن ابی داود/ البیوع ١١ (٣٣٤٦)، سنن النسائی/البیوع ٦٤ (٤٦٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٥)، وط/البیوع ٤٣ (٨٩)، و مسند احمد (٦/٣٩٠)، وسنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٥٠٧) (صحیح )
1319Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ سَمْحَ الْبَيْعِ، سَمْحَ الشِّرَاءِ، سَمْحَ الْقَضَاءِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیچنے، خریدنے اور قرض کے مطالبہ میں نرمی و آسانی کو پسند کرتا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Indeed, Allah loves politenes while selling, politeness while buying and politeness in repayment of debt.”

صحيح، الصحيحة (8909)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1319
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو بسند «عن يونس عن سعيد المقبري عن أبي هريرة» روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٦) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ حسن بصری کا سماع ابی ہریرہ ؓ سے نہیں ہے، انہوں نے تدلیساً ان سے یہ روایت کر سنن الدارمی/ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة: ٨٩٠٩ )
1320Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ للَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ، كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانَ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا، إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا، إِذَا اقْتَضَى . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو تم سے پہلے تھا بخش دیا، جو نرمی کرنے والا تھا جب بیچتا اور جب خریدتا اور جب قرض کا مطالبہ کرتا ۔

Sayyidina jabir reported that Allah’s Messenger said, “Allah forgave a man who lived before you because he was mild when selling, mild when buying and mild when demanding repayment.” [Bukhari 2076, Ibn e Majah 2203, Ahmed 4664]

صحيح، ابن ماجة (2203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1320
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس طریق سے حسن، صحیح، غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠١٨) وہو عند صحیح البخاری/البیوع ١٦ (٢٠٧٦)، وق في التجارات ٢٨ (٢٢٠٣)، بسیاق آخر و مسند احمد (٣/٣٤٠) (صحیح )
1321Sunan At-Tirmidhi

مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ، أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً، فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْبَيْعَ، وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اسے) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said When you see a man selling or buying in a mosque, tell him, May Allah not make your business profitable. And, when you see anyone announcing loss of something, tell him, ‘May Allah, never return it to you.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (733)، الإرواء (1495)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1321
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣ - بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، یعنی نہ بیچنا بہتر ہے، مگر یہ نری تاویل ہے، جب صحیح حدیث میں بالصراحت ممانعت موجود ہے تو پھر مساجد میں خرید و فروخت سے باز رہتے ہوئے بازار اور مساجد میں فرق کو قائم رکھنا چاہیئے، پہلی قومیں اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے احکام کی نافرمانیوں اور غلط تاویلوں کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں۔ «اللهم أحفظنا بما تحفظ به عبادک الصالحين »
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٦٨ (١٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٩١) (صحیح )
1322Sunan At-Tirmidhi

قاضی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے منقول احادیث

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ، فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعَافِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ، يَقْضِي، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ كَانَ قَاضِيًا، فَقَضَى بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ، أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا، فَمَا أَرْجُو بَعْدَ ذَلِكَ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ الْمُعْتَمِرُ هَذَا هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ.

عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان ؓ نے ابن عمر ؓ سے کہا: جاؤ (قاضی بن کر) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان ؓ نے کہا: تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے (یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا) ، اس کے بعد میں (بھلائی کی) کیا امید رکھوں، حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔

Abdullah ibn Mawhib reported that Sayyidina Uthman (RA) said to Sayyidina Ibn Umar (RA) , ‘Go and judge between people.” He said, Will you not excuse me from it, Amir ui-Mu mineen?’ He said, “Why do you detest it while your father used to judge?” He said, “I have heard Allah’s Messenger say, He who is a judge and judges with justice, then it is hoped that he will just manage to get over (on the Day resurrection), So shall I entertain hope even after that?” There is a in story this hadith.

ضعيف تخريج المشکاة (3743 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (2 / 132)، التعليق علی الأحاديث المختارة رقم (348 و 349) // ضعيف الجامع الصغير (5799) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1322
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث غریب ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ اور عبدالملک جس سے معتمر نے اسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٢٨٨) (ضعیف) (سند میں عبد الملک بن ابی جمیلہ مجہول ہیں )
1323Sunan At-Tirmidhi

قاضی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے منقول احادیث

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ يُنْزِلُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا، فَيُسَدِّدُهُ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کردیا جاتا ہے (اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, If anyone applies for the office of qadi then he is left to himself (and Allah does not help him), but if anyone is compelled to this office then an angel comes down to guide him (away from error). [Abu Dawud 3578, Ibn e Majah 2309, Ahmed 12185]

ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (507)، ضعيف الجامع الصغير (5614) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1323
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٣ (٣٥٧٨)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١ (٢٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٥٦)، و مسند احمد (٣/١١٨) (ضعیف) (سند میں بلال لین الحدیث ہیں )
1324Sunan At-Tirmidhi

قاضی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے منقول احادیث

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ، وَسَأَلَ فِيهِ شُفَعَاءَ، وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا، يُسَدِّدُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کردیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے ۔

Khaythama who was of Basra repoted from Sayyidina Anas (RA) that the Prophet ﷺ said, If anyone craves for the office of judge and seeks to be recommended for it then he is left to tend for himself (and does not get Divine help). But if one is coerced into this office, then Allah sends down to him an angel who directs him (to help him).’ --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف الجامع الصغير (5320)، الضعيفة (1154) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1324
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور یہ اسرائیل کی (سابقہ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٨٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی وہی بلال ہیں جو لین الحدیث ہیں، نیز ” خیثمہ بصری “ بھی لین الحدیث ہیں )
1325Sunan At-Tirmidhi

قاضی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے منقول احادیث

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ، أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone is appointed to the office of qadi, or made a qadi over people, then he is slaughtered without a knife. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1325
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ٢ - اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگر اس نے صحیح فیصلہ دیا تو دنیا والے اس کے پیچھے پڑجائیں گے اور اگر غلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہوگا، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ اسے خبردار اور متنبہ کیا جائے کہ اس ہلاکت سے مراد اس کے دین و آخرت کی تباہی و بربادی ہے، بدن کی نہیں، یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیر چھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اور طرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ذکر سے ڈرانے اور خوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ١ (٣٥٧١)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١ (٢٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٠٢)، و مسند احمد ٢/٣٦٥) (صحیح )
1326Sunan At-Tirmidhi

قاضی کا فیصلہ صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ البَصْريَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْر بن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ١ ؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہوجائے تو (بھی) اس کے لیے ایک اجر ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a ruler endeavours to be just when giving a command and emerges correct then he gets a dual reward (one for securing the due of the owner of right and the other for his endeavour). But if he does not emerge correct then he gets (just) one reward (nevertheless).” [Bukhari 7352, Muslim 1716, Abu Dawud 3574, Ibn e Majah 2314, Ahmed 17789]

صحيح، ابن ماجة (2314)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1326
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند «سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الأنصاري» إلا من حديث «عبدالرزاق عن معمر عن سفيان الثوري» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک غور وفکر کرنے اور حق تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا اور دوسرا صحیح بات تک پہنچنے کا ٢ ؎: اسے صرف اس کی جدوجہد اور سعی و کوشش کا اجر ملے گا جو حق کی تلاش میں اس نے صرف کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢١ (٧٣٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ٦ (١٧١٦)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٢ (٣٥٧٤)، سنن النسائی/القضاة ٣ (٥٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣ (٢٣١٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٧)، و مسند احمد (٤/١٩٨) (صحیح )
1327Sunan At-Tirmidhi

قاضی کیسے فیصلے کرے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي ؟ فَقَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

معاذ بن جبل ؓ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو (قاضی بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ ، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: اگر (اس کا حکم) اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہ ہو تو؟ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی (اس کا حکم) موجود نہ ہو تو؟ ، معاذ نے کہا: (تب) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو (صواب کی) توفیق بخشی ۔

Sayyidina Mu’adh (RA) reported that (when) Allah’s Messenger sent him to Yarnan, he asked him how he would decide (cases). He said, “I will decide in accordance with Allahs Book (the Qur’an).” He asked, “What, if it is not in the Book of Allah?” He said, “Then according to the sunnah of Allah’s Messenger ----: .“ He asked, “And if it is not in the sunnah of Allah’s Messenger?” He said, “I will make ijtihadO through my judgemenet.” The Prophet ﷺ - said, “Praise belongs to Allah Who has made the messenger of the Messenger of Allah ﷺ consistent with what pleases him.” [Abu Dawud 3592, Ahmed 22161]

ضعيف، الضعيفة (881) //، ضعيف أبي داود (770 / 3592) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1327
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ١١ (٣٥٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٣)، وسنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٧٠) (ضعیف) (سند میں ” الحارث بن عمرو “ اور ” رجال من اصحاب معاذ “ مجہول راوی ہیں )