Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 66 of 199

1368Sunan At-Tirmidhi

شفعہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الشَّرِيدِ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَلَا نَعْرِفُ حَدِيثَ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ، هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھر کا پڑوسی گھر (خریدنے) کا زیادہ حقدار ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The neighbour of the house has a greater right over the house.” [Abu Dawud 3517] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (1539)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1368
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اور قتادہ نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز سعید بن ابی عروبہ سے مروی ہے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں شرید، ابورافع اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اور اہل علم کے نزدیک صحیح حسن کی حدیث ہے جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے۔ اور ہم قتادہ کی حدیث کو جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہے، صرف عیسیٰ بن یونس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن الطائفی کی حدیث جسے انہوں نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس باب میں حسن حدیث ہے۔ اور ابراہیم بن میسرہ نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «شفعہ» اس استحقاق کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ شریک (ساجھے دار) سے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہو قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے پڑوسی کے لیے حق شفعہ کے قائلین نے ثبوت شفعہ پر استدلال کیا ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس جگہ پڑوسی سے مراد ساجھے دار ہے پڑوسی نہیں، کیونکہ اس حدیث میں اور حدیث «إذا وقعت الحدود وصرفت الطريق فلا شفعة» یعنی جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو شفعہ نہیں، جو آگے آرہی ہے میں تطبیق کا یہی معنی لینا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥٧١)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٨)، و مسند احمد (٥/١٢، ١٣، ١٨) (صحیح )
1369Sunan At-Tirmidhi

غائب کے لئے شفعہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ: هُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَكَلَّمَ فِيهِ غَيْرَ شُعْبَةَ، مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى وَكِيعٌ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، هَذَا الْحَدِيثَ، وَرُوِي عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: مِيزَانٌ يَعْنِي: فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا فَإِذَا قَدِمَ فَلَهُ الشُّفْعَةُ وَإِنْ تَطَاوَلَ ذَلِكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی (ساجھی) کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا ١ ؎ اگرچہ وہ موجود نہ ہو ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The neighbour has a greater right of shuf’ah. Wait for him if he is absent provided their path is the same.” [Abu Dawud 3518, Ibn e Majah 2494, Ahmed 14257] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2494)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1369
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم عبدالملک بن سلیمان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے اس حدیث کو عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہو، ٢ - شعبہ نے عبدالملک بن سلیمان پر اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک عبدالملک ثقہ اور مامون ہیں، شعبہ کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عبدالملک پر کلام کیا ہو، شعبہ نے بھی صرف اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ اور وکیع نے بھی یہ حدیث شعبہ سے اور شعبہ نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ہے۔ اور ابن مبارک نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: عبدالملک بن سفیان میزان ہیں یعنی علم میں، ٢ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ آدمی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غائب ہی کیوں نہ ہو، جب وہ (سفر وغیرہ) سے واپس آئے گا تو اس کو شفعہ ملے گا گرچہ اس پر لمبی مدت گزر چکی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ غیر حاضر شخص کا شفعہ باطل نہیں ہوتا، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شفعہ کے لیے مجرد ہمسائیگی ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے راستے میں اشتراک بھی ضروری ہے، اس کی تائید ذیل کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا جدا ہوجائیں تو پھر شفعہ کا استحقاق نہیں رہتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٣٤)، و مسند احمد (٣/٣٠٣) (صحیح )
1370Sunan At-Tirmidhi

جب حدود مقرر ہوجائیں اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو حق شفعہ نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ، فَلَا شُفْعَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ مُرْسَلًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، مِثْلَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَغَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَرَوْنَ الشُّفْعَةَ إِلَّا لِلْخَلِيطِ، وَلَا يَرَوْنَ لِلْجَارِ شُفْعَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ خَلِيطًا، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: الشُّفْعَةُ لِلْجَارِ، وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ ، وَقَالَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ کردیے جائیں تو شفعہ نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When limits are defined and roads are separated then there is no option (that is, shuf’ah is not applicable).” [Bukhari 2213, Abu Dawud 3514, Ibn e Majah 2499, Ahmed 14159] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1370
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے بعض لوگوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا جن میں عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے اور بعض تابعین فقہاء جیسے عمر بن عبدالعزیز وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، جن میں یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور مالک بن انس شامل ہیں، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ صرف ساجھی دار کے لیے ہی حق شفعہ کے قائل ہیں۔ اور جب پڑوسی ساجھی دار نہ ہو تو اس کے لیے حق شفعہ کے قائل نہیں۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوسی کے لیے بھی شفعہ ہے اور ان لوگوں نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حقدار ہے ٢ ؎، نیز فرماتے ہیں: پڑوسی اپنے سے لگی ہوئی زمین یا مکان کا زیادہ حقدار ہے اور یہی ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ شفعہ صرف اس جائیداد میں ہے جو مشترک ملکیت میں ہو، محض پڑوسی ہونا حق شفعہ کے اثبات کے لیے کافی نہیں، یہی جمہور کا مسلک ہے اور یہی حجت و صواب سے قریب تر بھی ہے، حنفیہ نے اس کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ شفعہ جس طرح مشترک جائیداد میں ہے اسی طرح پڑوس کی بنیاد پر بھی شفعہ جائز ہے، ان کی دلیل حدیث نبوی «جار الدار أحق بالدار» ہے۔ ٢ ؎: جمہور اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث میں مراد شریک (ساجھی) ہے، مطلق پڑوسی کا تو کبھی راستہ الگ بھی ہوتا ہے، جب کہ راستہ الگ ہوجانے پر حق شفعہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣)، و ٩٧ (٢٢١٤)، والشفعة ١ (٢٢٥٧)، والشرکة ٨ (٢٤٩٥)، والحیل ١٤ (٦٩٧٦)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٤)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٣ (٢٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٣)، و مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
1371Sunan At-Tirmidhi

ہرشریک شفعہ کا حق رکھتا ہے۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّرِيكُ شَفِيعٌ، وَالشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساجھی دار کو حق شفعہ حاصل ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every partner is a shafi (meaning, he has a right and option) and shuf’ah covers everything.”

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو اس طرح (مرفوعاً ) صرف ابوحمزہ سکری ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٢ - اس حدیث کو کئی لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
1374Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَأَخَذْتُهُ قَالَا: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا أَدَعُهُ تَأْكُلْهُ السِّبَاعُ، لَآخُذَنَّهُ فَلَأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ وَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فقال: أحسنت وجدت على عهد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لِي: عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَمَا أَجِدُ مَنْ يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ ، فَعَرَّفْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ ، وَقَالَ: أَحْصِ عِدَّتَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَأَخْبَرَكَ بِعِدَّتِهَا، وَوِعَائِهَا، وَوِكَائِهَا، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو مجھے (راستے میں) ایک کوڑا پڑا ملا - ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ میں نے پڑا ہوا ایک کوڑا پایا - تو میں نے اسے اٹھا لیا تو ان دونوں نے کہا: اسے رہنے دو، (نہ اٹھاؤ) میں نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑ سکتا کہ اسے درندے کھا جائیں، میں اسے ضرور اٹھاؤں گا، اور اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ پھر میں ابی بن کعب کے پاس آیا، اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان سے پوری بات بیان کی تو انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، میں نے ایک تھیلی پائی جس میں سو دینار تھے، اسے لے کر میں آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، میں نے ایک سال تک اس کی پہچان کرائی لیکن مجھے کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا، پھر میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ، میں نے اس کی پہچان کرائی، پھر اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ تو آپ نے فرمایا: ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ ١ ؎، اور فرمایا: اس کی گنتی کرلو، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کو خوب اچھی طرح پہچان لو اگر اسے تلاش کرنے والا آئے اور اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کے بارے میں بتائے تو اسے دے دو ورنہ تم اسے اپنے کام میں لاؤ۔

Suwayd ibn Ghafalah narrated that he went out with Zayd ibn Suhan and Salman ibn Rahiab. He found a whip. Ibn Numayr said in his hadith that he found a whip lying down. So he picked it up. His companions said, “Leave it alone”, but he said, “No, I will not leave it that beasts eat it. I will take it and benefit from it.” Afterwards, he went to Ubayy ibn Kab and asked him about it, narrating what had happened. He said, “You did well. In the times of the Prophet ﷺ I had found a purse containing a hundred dinars. I took it to him and he said to me, Publicise it for a year.’ I announced about it through one year but did not find anyone knowing about it, so I went back to him, and he said, ‘Publicise it one more year.’ I did it for a year and went to him and he asked me to publicise another year, saying ‘Count them and remember the purse and the string with which it is tied.’ He said that I should hand it over to the claimant when he identifies it, otherwise I should retain it and use it.” [Bukhari 2426, Muslim 1723, Abu Dawud 1701, Ibn e Majah 2506, Ahmed 21225] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2506)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1374
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تین سال تک پہچان کرانے کا حکم دیا، اس کی تاویل پچھلی حدیث کے حاشیہ میں دیکھئیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ١ (٢٤٢٦)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٣)، سنن ابی داود/ اللقطة ١ (١٧٠١)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ٢ (٢٥٠٦)، و مسند احمد (٥/١٢٦) (صحیح )
1372Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا، وَسِقَاؤُهَا، حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا . حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: سال بھر تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کا سر بند، اس کا برتن اور اس کی تھیلی پہچان لو، پھر اسے خرچ کرلو اور اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو ، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ کر باندھ لو، کیونکہ وہ تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے ۔ اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ اس پر نبی اکرم ﷺ ناراض ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے گال لال پیلا ہوگئے۔ یا آپ کا چہرہ لال پیلا ہوگیا اور آپ نے فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور اس کی مشک ہے ١ ؎ (وہ پانی پر جاسکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے) یہاں تک کہ اپنے مالک سے جا ملے ۔

Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni (RA) reported that a man asked Allah’s Messenger ﷺ about luqatah. He said, “Make announcement about it for a year. Thereafter, bear in mind the item, its string, etc. And then spend (use) it. If its owner comes later then give it to him.” He submitted, “O Messenger of Allah, what about a lost sheep?” He said, “Take it. It is yours, or your brother’s, or for the wolf.” He asked, “O Messenger of Allah, and a lost camel?” This angered the Prophet ﷺ till his cheeks turned red or his face turned red and he said, “What is it to you? It has its feet and its water till its owner finds it.” [Bukhari 2429, Muslim 1722]

صحيح، ابن ماجة (2504)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1372
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ان سے اور بھی طرق سے یہ حدیث مروی ہے۔ منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث جسے انہوں نے زید بن خالد سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، ٣ - اور ان سے یہ اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور باربار پانی پینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیئے وغیرہ کا خوف نہیں وہ خود اپنا دفاع کرلیتا ہے اس لیے اسے پکڑ کر باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٨ (٩١)، والشرب والمساقاة ١٢ (٢٣٧٢)، واللقطہ ٢ (٢٤٢٧)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٢)، سنن ابی داود/ اللقطة ١ (١٧٠٤-١٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ١ (٢٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٣)، وط/الأقضیة ٣٨ (٤٦)، و مسند احمد (٤/١١٥) (صحیح )
1373Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَاعْرِفْ وِعَاءَهَا، وَعِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ هَذَا الْحَدِيثُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَرَخَّصُوا فِي اللُّقَطَةِ إِذَا عَرَّفَهَا سَنَةً، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يُعَرِّفُهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا تَصَدَّقَ بِهَا، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ، لَمْ يَرَوْا لِصَاحِبِ اللُّقَطَةِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا إِذَا كَانَ غَنِيًّا، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: يَنْتَفِعُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا، لِأَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَصَابَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعَرِّفَهَا، ثُمَّ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَكَانَ أُبَيٌّ كَثِيرَ الْمَالِ، مِنْ مَيَاسِيرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعَرِّفَهَا، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَهَا، فَلَوْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ لَمْ تَحِلَّ إِلَّا لِمَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ، لَمْ تَحِلَّ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، لِأَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصَابَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَّفَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهِ، وَكَانَ لَا يَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَتِ اللُّقَطَةُ يَسِيرَةً أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَلَا يُعَرِّفَهَا وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ دُونَ دِينَارٍ يُعَرِّفُهَا قَدْرَ جُمْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ: إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سال بھر اس کی پہچان کراؤ ١ ؎، اگر کوئی پہچان بتادے تو اسے دے دو، ورنہ اس کے ڈاٹ اور سربند کو پہچان لو، پھر اسے کھا جاؤ۔ پھر جب اس کا مالک آئے تو اسے ادا کر دو ۔

Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked about luqatah.He said, “Make an announcement for it for a year and if it is claimed then hand it over otherwise bear in mind the quantity, the kind and the string, etc. and put it to use. If the owner comes after that, give it to him.” [Bukhari 2427, Muslim 1722]

صحيح، ابن ماجة (2507)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زید بن خالد کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ٢ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس باب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے، ٣ - یہ ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو جائز سمجھتے ہیں، جب ایک سال تک اس کا اعلان ہوجائے اور کوئی پہچاننے والا نہ ملے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ ایک سال تک لقطہٰ کا اعلان کرے اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسے صدقہ کر دے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے۔ اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے، ٦ - لقطہٰ اٹھانے والا جب مالدار ہو تو یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو اس کے لیے جائز نہیں سمجھتے ہیں، ٧ - شافعی کہتے ہیں: وہ اس سے فائدہ اٹھائے اگرچہ وہ مالدار ہو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ابی بن کعب کو ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس کا اعلان کریں پھر اس سے فائدہ اٹھائیں، اور ابی بن کعب صحابہ میں خوشحال لوگوں میں تھے اور بہت مالدار تھے، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے انہیں پہچان کرانے کا حکم دیا اور جب کوئی پہچاننے والا نہیں ملا تو آپ ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا۔ (دوسری بات یہ کہ) اگر لقطہٰ صرف انہیں لوگوں کے لیے جائز ہوتا جن کے لیے صدقہ جائز ہے تو علی ؓ کے لیے جائز نہ ہوتا، اس لیے کہ علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار ملا، انہوں نے (سال بھر تک) اس کی پہچان کروائی لیکن کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا حالانکہ ان کے لیے صدقہ جائز نہیں تھا، ٨ - بعض اہل علم نے رخصت دی ہے کہ جب لقطہٰ معمولی ہو تو لقطہٰ اٹھانے والا اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس کا پہچان کروانا ضروری نہیں ٢ ؎، ٩ - بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ ایک دینار سے کم ہو تو وہ اس کی ایک ہفتہ تک پہچان کروائے۔ یہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا قول ہے، ١٠ - اس باب میں ابی بن کعب، عبداللہ بن عمرو، جارود بن معلی، عیاض بن حمار اور جریر بن عبداللہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی ان دونوں روایتوں میں ایک سال پہچان کرانے کا ذکر ہے اور باب کی آخری حدیث میں تین سال کا ذکر ہے، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب وورع ہے ان روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا جائے، پہچان کرانے کی صورت یہ ہوگی کہ بازار اور اجتماعات میں جہاں لوگوں کا ہجوم ہو اعلان کیا جائے کہ گمشدہ چیز کی نشانی بتا کر حاصل کی جاسکتی ہے، اگر کوئی اس کی نشانی بتادے تو مزید شناخت اور گواہوں کی ضرورت نہیں بلا تأمل وہ چیز اس کے حوالے کردی جائے۔ ٢ ؎: اس کی دلیل ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «إني لأنقلب إلى أهلي فأجد التمرة ساقطة علی فراشي فأرفعها لآكلها ثم أخشی أن تکون صدقة فألقيها» یعنی میں کبھی گھر میں جاتا ہوں تو کھجور کا کوئی دانہ ملتا ہے، اس کو کھا لینا چاہتا ہوں، پھر خیال آتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ و زکاۃ کا نہ ہو، تو اسے پھینک دیتا ہوں، اس سے ثابت ہوا کہ آپ نے اس کو پہچان کروانے کا کام کیے بغیر کھا لینے کا ارادہ کیا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٣٧٤٨) (صحیح )
1375Sunan At-Tirmidhi

وقف کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ، أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ، أَنَّهَا لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُوهَبُ، وَلَا يُورَثُ، تَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثَنِي بِهِ رَجُلٌ آخَرُ، أَنَّهُ قَرَأَهَا فِي قِطْعَةِ أَدِيمٍ أَحْمَرَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَأَنَا قَرَأْتُهَا عِنْدَ ابْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَكَانَ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا فِي إِجَازَةِ وَقْفِ الْأَرَضِينَ وَغَيْرِ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خیبر میں (مال غنیمت سے) کچھ زمین ملی، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خیبر میں مجھے مال ملا ہے اس سے زیادہ عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ (اس کے بارے میں) آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اسے (پیداوار کو) صدقہ کر دو، تو عمر ؓ نے اسے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے ١ ؎، اور اسے فقیروں میں، رشتہ داروں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے (جہاد) میں، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے۔ اور جو اس کا والی (نگراں) ہو اس کے لیے اس میں سے معروف طریقے سے کھانے اور دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے اسے محمد بن سیرین سے بیان کیا تو انہوں نے «غير متمول فيه» کے بجائے «غير متأثل مالا» کہا۔ ابن عون کہتے ہیں: مجھ سے اسے ایک اور آدمی نے بیان کیا ہے کہ اس نے اس وقف نامے کو پڑھا تھا جو ایک لال چمڑے پر تحریر تھا اور اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اس وقف نامے کو عبیداللہ بن عمر کے بیٹے کے پاس پڑھا، اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Sayyidina Umar (RA) got a piece of land in Khaybar. He said, “O Messenger of Allah, I have acquired property in Khaybar more dear than I have never received, so what do you command me to do with it?” He said, “If you wish, retain the original with yourself and make sadaqah of its profit.” So Umar -‘ made a sadaqah of that. Thus, the land could never be sold, gifted or inherited. Its produce was a sadaqah for the poor, relatives, setting slaves free, the path of Allah, the travellers and the guests. There was no sin on its trustee if he ate something from it in a reasonale manner, or fed a friend, other than hoarding it. The narrator said that when he narrated the hadith to Muhammad ibn Sirin, he said, instead of meaning, “May not amass wealth for himself.” Ibn Awf said: Another man narrated the hadith to me and he had read the document of endowment inscribed on a red hide and it had the words (other than amassing wealth). [Muslim 1632]

صحيح، ابن ماجة (2396)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1375
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ متقدمین میں سے ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے زمین وغیرہ کو وقف کرنے میں اختلاف کیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز وقف کردی گئی ہو وہ نہ بیچی جاسکتی ہے اور نہ اسے ہبہ اور وراثت میں دیا جاسکتا ہے، امام ابوحنیفہ (رح) وقف کے فروخت کو جائز سمجھتے ہیں، ان کے شاگرد امام یوسف فرماتے ہیں کہ امام صاحب کو اگر یہ حدیث مل گئی ہوتی تو وہ اپنی رائے سے رجوع فرما لیتے (دیکھئیے: فتح الباری کتاب الوصایا، باب ٢٩ ( ٢٧٧٣ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧)، والوصایا ٢٢ (٢٧٦٤)، و ٢٨ (٢٧٧٢)، و ٢٩ (٢٧٧٣)، و ٣٢ (٢٧٧٧)، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢)، سنن ابی داود/ الوصایا ١٣ (٢٨٧٨)، سنن النسائی/الإحب اس ٢ (٣٦٢٧)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٤ (٢٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٢)، و مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
1376Sunan At-Tirmidhi

وقف کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ١ ؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ٢ ؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ٣ ؎ جو اس کے لیے دعا کرے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a person dies, his deeds are cut off from him except three: perpetual sadaqah, knowledge from which benefit is derived and righteous children who pray for him.” [Muslim 1631, Abu Dawud 2880, Nisai 3651, Ahmed 8853] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1376
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صدقہ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کردیا جائے، مثلاً سرائے کی تعمیر، کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مساجد و مدارس اور یتیم خانوں کی تعمیر کروانا، اسپتال کی تعمیر، پل اور سڑک وغیرہ بنوانا، ان میں سے جو کام بھی وہ اپنی زندگی میں کر جائے یا اس کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ سب صدقہ جاریہ میں شمار ہوں گے۔ ٢ ؎: علم میں لوگوں کو تعلیم دینا، طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس دعوت و تبلیغ کا سلسلہ قائم کرنا، مدارس کی تعمیر کرنا، دینی کتب کی طباعت اور ان کی نشر و اشاعت کا بندوبست کرنا وغیرہ امور سبھی داخل ہیں۔ ٣ ؎: نیک اولاد میں بیٹا، بیٹی پوتا، پوتی، نواسا نواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہے جنہیں علم دین سکھایا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١)، سنن ابی داود/ الوصایا ١٤ (٢٨٨٠)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨١)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٥)، و مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢)، وسنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (صحیح )
1377Sunan At-Tirmidhi

اگر حیوان کسی کو زخمی کردے تو اس کا قصاص نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بےزبان (جانور) کا زخم رائیگاں ہے، کنویں اور کان میں گر کر کوئی مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ١ ؎، اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no retaliation for a wound caused by an animal, accident in a well or in a mine. Zakah is payable at one-fifth on buried treasure.” [Bukhari 6912, Muslim 1710] --------------------------------------------------------------------------------

1379Sunan At-Tirmidhi

بنجر زمین کو آباد کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص غیر آباد زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کرے تو وہ اسی کی ہے ۔

Sayyidina Sa’eed ibn Zayd (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone cultivates barren land then it belongs to him and if anyone plants a tree wrongfully (on someone else’s land) then that does not give him a right.” [Abu Dawud 3073]

صحيح، الإرواء (1550)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأخرجہ النسائي في الکبریٰ (تحفة الأشراف: ٣١٢٩)، و مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨١) (صحیح )
1378Sunan At-Tirmidhi

بنجر زمین کو آباد کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا لَهُ: أَنْ يُحْيِيَ الْأَرْضَ الْمَوَاتَ بِغَيْرِ إِذْنِ السُّلْطَانِ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْيِيَهَا إِلَّا بِإِذْنِ السُّلْطَانِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرٍ، وَسَمُرَةَ،

سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی بنجر زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who makes barren land fertile owns it.” [Ahmed 14270] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (1520)، الضعيفة تحت الحديث (88)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1378
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ٤ - بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ٥ - اس باب میں جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٦ - ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ولید طیالسی سے نبی اکرم ﷺ کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الإمارة ٣٧ (٣٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٣)، وط/الأقضیة ٢٤ (٢٦) (صحیح )
1380Sunan At-Tirmidhi

جاگیر دینے کے بارے میں

قَالَ: قُلْتُ لِقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ: حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْسُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، فَقَطَعَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ، إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، قَالَ: مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافُ الْإِبِلِ ، فَأَقَرَّ بِهِ قُتَيْبَةُ، وَقَالَ: نَعَمْ. حَدَّثَنَا ابْنِ أَبِي عُمَرَ.

ابیض بن حمال ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے جاگیر میں نمک کی کان مانگی تو آپ نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے جاگیر میں اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاگیر میں ایسا پانی دیا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا ہے۔ (اس سے برابر نمک نکلتا رہے گا) تو آپ نے اس سے اسے واپس لے لیا، اس نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ (بطور رمنہ) گھیری جائے؟ آپ نے فرمایا: جس زمین تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچے (جو آبادی اور چراگاہ سے کافی دور ہوں) ۔

Sayyidina Abyad ibn Hammal reported that he went to Allah’s Messenger ﷺ and requested that a salt mine be assigned to him. So, he gave him the mine. When he turned to go, someone in the assembly asked, “Do you know what you have given him. It is a perpetual source of ready water,” (meaning that it would produce plenty of salt). The narrator said that the Prophet ﷺ took it back from him. He then asked about the land of thorny trees that could be surrounded. The Prophet ﷺ said, “The land where the camels cannot go”, (meaning that place which is away from grazing ground). [Abu Dawud 3064, Ibn e Majah 2475]

حسن، ابن ماجة (2475)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابیض کی حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے قتیبہ سے پوچھا کیا آپ سے محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اقرار کیا اور کہا: ہاں -
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج ٣٦ (٣٠٦٤)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٧ (٢٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ١) (حسن) (یہ سند مسلسل بالضعفاء ہے: ” ثمامہ “ لین الحدیث، اور ” سمیر “ مجہول ہیں، لیکن ابوداود کی دوسری روایت (رقم ٣٠٦٥) سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، اس کی تصحیح ابن حبان اور تحسین البانی نے کی ہے (مالم تنلہ خفاف کے استثناء کے ساتھ) دیکھئے: صحیح ابی داود رقم ٢٦٩٤ )
1381Sunan At-Tirmidhi

جاگیر دینے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَال: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، عَنْ شُعْبَةَ، وَزَادَ فِيهِ: وَبَعَثَ لَهُ مُعَاوِيَةَ لِيُقْطِعَهَا إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حضر موت میں ایک زمین بطور جاگیر دی۔ آپ ﷺ نے معاویہ ؓ کو بھیجا تاکہ وہ زمین انہیں بطور جاگیر دے دیں۔

Sayyidina Wail ibn Hujr ‘ reported that the Prophet ﷺ assigned to him a piece of land in Hadramawt. [Abu Dawud 3058, Ahmed 27308]

صحيح التعليق علی الروضة الندية (2 / 137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1381
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج ٣٦ (٣٠٥٨، ٣٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٣)، و مسند احمد (٣٩٩٦)، و سنن الدارمی/البیوع ٦٦ (٢٦٥١) (صحیح )
1382Sunan At-Tirmidhi

درخت لگانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ، أَوْ طَيْرٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَجَابِرٍ، وَأُمِّ مُبَشِّرٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند یا چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a Muslim plants a tree or cultivates land and a man, a bird or an animal eats from it then that is a sadaqah on his behalf. [Bukhari 2320, Muslim 1553, Ahmed 12497] --------------------------------------------------------------------------------

**، الصحيحة (7 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1382
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوایوب، جابر، ام مبشر اور زید بن خالد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث المزارعة ١ (٢٣٢٠)، والأدب ٢٧ (٦٠١٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٢ (البیوع ٢٣) (١٥٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٣١)، و مسند احمد (٣/١٤٧، ١٩٢، ٢٢٩، ٢٤٣) (صحیح )
1383Sunan At-Tirmidhi

کھیتی باڑی کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، لَمْ يَرَوْا بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا عَلَى النِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَكُونَ الْبَذْرُ مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمُزَارَعَةَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَلَمْ يَرَوْا بِمُسَاقَاةِ النَّخِيلِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَصِحَّ شَيْءٌ مِنَ الْمُزَارَعَةِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْجِرَ الْأَرْضَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر والوں کے ساتھ خیبر کی زمین سے جو بھی پھل یا غلہ حاصل ہوگا اس کے آدھے پر معاملہ کیا ١ ؎۔

Sayyidina lbn Umar reported that the Prophet ﷺ gave land to the people of Khaybar on condition that they give to him half share of the produce, whether fruit or other cultivation. [Bukhari 2329, Muslim 1551] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2467)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1383
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس، ابن عباس، زید بن ثابت اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدھے، تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ٤ - اور بعض اہل علم نے یہ اختیار کیا ہے کہ بیج زمین والا دے گا، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٥ - بعض اہل علم نے تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کو مکروہ سمجھا ہے، لیکن وہ تہائی یا چوتھائی کی شرط پر کھجور کے درختوں کی سینچائی کرانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے، ٦ - بعض لوگ مطلقًا مزارعت کو درست نہیں سمجھتے البتہ سونے یا چاندی (نقدی) کے عوض کرایہ پر زمین لینے کو درست سمجھتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا جواز ثابت ہوتا ہے، ائمہ ثلاثہ اور دیگر علمائے سلف و خلف سوائے امام ابوحنیفہ کے جواز کے قائل ہیں، احناف نے خیبر کے معاملے کی تاویل یہ کی ہے کہ یہ لوگ آپ کے غلام تھے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ آپ کا ارشاد گرامی ہے «نقرکم ما أقرکم الله» ہم تمہیں اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک اللہ تمہیں برقرار رکھے گا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے غلام نہیں تھے، نیز احناف کا کہنا ہے کہ یہ معدوم یا مجہول پیداوار کے بدلے اجارہ ہے جو جائز نہیں، اس کا جواب جمہوریہ دیتے ہیں کہ اس کی مثال مضارب کی ہے کہ مضارب جس طرح نفع کی امید پر محنت کرتا ہے اور وہ نفع مجہول ہے اس کے باوجود وہ جائز ہے، اسی طرح مزارعت میں بھی یہ جائز ہوگا، رہیں وہ روایات جو مزارعت کے عدم جواز پر دلالت کرتی ہیں تو جمہور نے ان روایات کی تاویل کی ہے کہ یہ روایات نہی تنزیہی پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب صاحب زمین کسی مخصوص حصے کی پیداوار خود لینے کی شرط کرلے «واللہ اعلم» حاصل بحث یہ ہے کہ مزارعت کی جائز شکل یہ ہے کہ مالک اور بٹائی پر لینے والے کے مابین زمین سے حاصل ہونے والے غلہ کی مقدار اس طرح متعین ہو کہ دونوں کے مابین جھگڑے کی نوبت نہ آئے اور غلہ سے متعلق نقصان اور فائدہ میں طے شدہ امر کے مطابق دونوں شریک ہوں یا روپے کے عوض زمین بٹائی پر دی جائے اور مزارعت کی وہ شکل جو شرعاً ناجائز ہے وہ حنظلہ بن قیس انصاری کی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین کی بٹائی کا معاملہ اس شرط پر کرتے تھے کہ زمین کے اس مخصوص حصے کی پیداوار میں لوں گا اور باقی حصے کی تم لینا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرما دیا کیونکہ اس صورت میں کبھی بٹائی پر لینے والے کا نقصان ہوتا کبھی دینے والے کا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٨ (٢٣٢٨)، ٩ (٢٣٢٩)، صحیح مسلم/المساقاة ١ (البیوع ٢٢)، (١٥٥١)، سنن ابی داود/ البیوع ٣٥ (٣٤٠٨)، سنن النسائی/الأیمان والمزارعة ٤٦ (٣٩٦١، ٣٩٦٢)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٤ (٣٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨١٣٨)، و مسند احمد (٢/١٧، ٢٢، ٣٧) (صحیح )
1384Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِنَا أَرْضٌ، أَنْ يُعْطِيَهَا بِبَعْضِ خَرَاجِهَا، أَوْ بِدَرَاهِمَ، وَقَالَ: إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِكُمْ أَرْضٌ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لِيَزْرَعْهَا .

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا، وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہوتی تو وہ اس کو (زراعت کے لیے) کچھ پیداوار یا روپیوں کے عوض دے دیتا۔ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنے بھائی کو (مفت) دیدے۔ یا خود زراعت کرے ١ ؎۔

Sayyidina Rafi’ ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade them from something that was profitable to them. When one of them had a piece of land he would let it out against part of its Kharaj or some dirhams. He said, “When one of you has a piece of land then he must either give it to his brother to cultivate without asking for a return or he must cultivate it himself.” [Bukhari 2339, Muslim 1548]

صحيح - لکن ذکر الدراهم شاذ -، الإرواء (5 / 298 - 300)، غاية المرام (355)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1384
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے پچھلی حدیث اور اس کا حاشیہ۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٨)، (وانظر أیضا: أحادیث النسائي من الأرقام: ٣٨٩٣- إلی -٣٩٠٣) (صحیح )
1385Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بنُ غَيْلَانَ، أَخْبَرنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانيُّ، أَخْبَرنَا شَرِيك، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْ الْمُزَارَعَةَ، وَلَكِنْ أَمَرَ أَنْ يَرفْقَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وحَدِيثٌ رَافِعٍ فِيِه اضْطِرابٌ، يُروى هَذَا الْحَدِيثٌ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ، عَنْ عُمُومَتِه، ويُروى عَنْهُ، عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعِ، وَهُوَ أَحَدُ عُمُومَتِه، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثٌ عَنْه عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، وَفيِ الْبَاب: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ رَضِى اللهُ عَنْهُمَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ did not disallow crop sharing, but commanded them to bemild to each other. [Bukhari 2342, Muslim 1550]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1385
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - رافع کی حدیث میں (جو اوپر مذکور ہوئی) اضطراب ہے۔ کبھی یہ حدیث بواسطہ رافع بن خدیج ان کے چچاؤں سے روایت کی جاتی ہے اور کبھی بواسطہ رافع بن خدیج ظہیر بن رافع سے روایت کی جاتی ہے، یہ بھی ان کے ایک چچا ہیں، ٣ - اور ان سے یہ حدیث مختلف طریقے پر روایت کی گئی ہے، ٤ - اس باب میں زید بن ثابت اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٠ (٢٣٣٠)، و ١٨ (٢٣٤٢)، والہبة ٣٥ (٢٦٣٤)، صحیح مسلم/البیوع ٢١ (١٥٤٧)، سنن ابی داود/ البیوع ٣ (٣٣٨٩)، سنن النسائی/المزارعة ٤٥ (٣٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١١ (٢٤٥٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٥) (صحیح )
1386Sunan At-Tirmidhi

دیت میں کتنے اونٹ دئے جائیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ حِقَّةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْقُوفًا، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الدِّيَةَ تُؤْخَذُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَرَأَوْا أَنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ الْعَاقِلَةَ قَرَابَةُ الرَّجُلِ مِنْ قِبَلِ أَبِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الدِّيَةُ عَلَى الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ مِنَ الْعَصَبَةِ، يُحَمَّلُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ رُبُعَ دِينَارٍ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِلَى نِصْفِ دِينَارٍ، فَإِنْ تَمَّتِ الدِّيَةُ، وَإِلَّا نُظِرَ إِلَى أَقْرَبِ الْقَبَائِلِ مِنْهُمْ فَأُلْزِمُوا ذَلِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: قتل خطا ١ ؎ کی دیت ٢ ؎ بیس بنت مخاض ٣ ؎، بیس ابن مخاض، بیس بنت لبون ٤ ؎، بیس جذعہ ٥ ؎ اور بیس حقہ ٦ ؎ ہے ۔ ہم کو ابوہشام رفاعی نے ابن ابی زائدہ اور ابوخالد احمر سے اور انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔

Khashf ibn Maalik(RA) reported that he heard Sayyidina Ibn Mas’ud(RA) say that in a case of killing by mistake. Allah’s Messenger ( had passed judgement that blood-money should be paid thus: twenty she-camells and twenty he-camels in their second year, twenty she-camels in their third year, twenty she-camels in their fifth year and twenty she-camels in their fourth year. [Abu Dawud 4545, Nisai 4816, Ibn e Majah 2531]

ضعيف، ابن ماجة (2631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1386
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود سے یہ حدیث موقوف طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٤ - اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دیت تین سال میں لی جائے گی، ہر سال دیت کا تہائی حصہ لیا جائے گا، ٥ - اور ان کا خیال ہے کہ دیت خطا عصبہ پر ہے، ٦ - بعض لوگوں کے نزدیک عصبہ وہ ہیں جو باپ کی جانب سے آدمی کے قرابت دار ہوں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے، ٧ - بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عصبہ میں سے جو مرد ہیں انہی پر دیت ہے، عورتوں اور بچوں پر نہیں، ان میں سے ہر آدمی کو چوتھائی دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ٨ - کچھ لوگ کہتے ہیں: آدھے دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ٩ - اگر دیت مکمل ہوجائے گی تو ٹھیک ہے ورنہ سب سے قریبی قبیلہ کو دیکھا جائے گا اور ان کو اس کا مکلف بنایا جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل کی تین قسمیں ہیں: ١ - قتل عمد: یعنی جان بوجھ کر ایسے ہتھیار کا استعمال کرنا جن سے عام طور سے قتل واقع ہوتا ہے، اس میں قاتل سے قصاص لیا جاتا ہے، ٢ - قتل خطا،: یعنی غلطی سے قتل کا ہوجانا، اوپر کی حدیث میں اسی قتل کی دیت بیان ہوئی ہے۔ ٣ - قتل شبہ عمد: یہ وہ قتل ہے جس میں ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عام طور سے قتل واقع نہیں ہوتا جیسے لاٹھی اور کوڑا وغیرہ، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے اور یہ سو اونٹ ہے ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ ٢ ؎: کسی نفس کے قتل یا جسم کے کسی عضو کے ضائع کرنے کے بدلے میں جو مال دیا جاتا ہے اسے دیت کہتے ہیں۔ ٣ ؎: وہ اونٹنی جو ایک سال کی ہوچکی ہو ٤ ؎، وہ اونٹنی جو دو سال کی ہوچکی ہو۔ ٥ ؎؎ وہ اونٹ جو چار سال کی ہوچکا ہو ٦ ؎؎، وہ اونٹ جو تین سال کا ہوچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ١٨ (٤٥٤٥)، سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٩٨)، و مسند احمد (١/٤٥٠) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الوہم ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز خشف بن مالک کی ثقاہت میں بھی بہت کلام ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: ٤٠٢٠ )
1387Sunan At-Tirmidhi

دیت میں کتنے اونٹ دئے جائیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ لِتَشْدِيدِ الْعَقْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ١ ؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔

Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father on the authority of his grandfather that the Prophet ﷺ said, “If anyone slays a Believer wilfully then he should be handed over to the heirs of the slain. If they wish, they may kill him or if they wish, take bloodmoney from him. Bloodmoney is thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their fifth year and forty pregnant camels and that which the heirs have decided. This (diyat) is severe for the aaqilah. [Abu Dawud 4506. Ibn e Majah 2626, Ahmed 6729]

حسن، ابن ماجة (2626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1387
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حاملہ اونٹنی اس کی جمع خلفات و خلائف آتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٤ (٤٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٨) (حسن )