زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ بن یمان (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں، میں نے کہا : بیشک پڑھی تھی، انہوں نے کہا : اے گنجے سر والے، تم ایسا کہتے ہو ؟ کس بنا پر تم ایسا کہتے ہو ؟ میں نے کہا : میں قرآن کی دلیل سے کہتا ہوں، میرے اور آپ کے درمیان قرآن فیصل ہے۔ حذیفہ (رض) نے کہا : جس نے قرآن سے دلیل قائم کی وہ کامیاب رہا، جس نے قرآن سے دلیل پکڑی وہ حجت میں غالب رہا، زر بن حبیش نے کہا : میں نے «سبحان الذي أسری بعبده ليلا من المسجدالحرام إلى المسجد الأقصی» ١ ؎ آیت پیش کی، حذیفہ (رض) نے کہا : کیا تم اس آیت میں کہیں یہ دیکھتے ہو کہ آپ نے نماز پڑھی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، انہوں نے کہا : اگر آپ ( ﷺ ) نے وہاں نماز پڑھ لی ہوتی تو تم پر وہاں نماز پڑھنی ویسے ہی فرض ہوجاتی جیسا کہ مسجد الحرام میں پڑھنی فرض کردی گئی ہے ٢ ؎، حذیفہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس لمبی چوڑی پیٹھ والا جانور (براق) لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا جہاں اس کی نظر پہنچتی اور وہ دونوں اس وقت تک براق پر سوار رہے جب تک کہ جنت جہنم اور آخرت کے وعدہ کی ساری چیزیں دیکھ نہ لیں، پھر وہ دونوں لوٹے، اور ان کا لوٹنا ان کے شروع کرنے کے انداز سے تھا ٣ ؎ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے (یعنی براق کو بیت المقدس میں) باندھ دیا تھا، کیوں باندھ دیا تھا ؟ کیا اس لیے کہ کہیں بھاگ نہ جائے ؟ (غلط بات ہے) جس جانور کو عالم الغیب والشھادۃ غائب و موجود ہر چیز کے جاننے والے نے آپ کے لیے مسخر کردیا ہو وہ کہیں بھاگ سکتا ہے ؟ نہیں۔
Zirr ibn Hubaysh narrated: I asked Sayyidina Hudhayfah (RA) ibn Yaman whether Allah’s Messenger had offered salah in Bayt al-Maqdis He said, “No.” I said to him, “Yes, indeed” He remarked “You say that O Bald man, How do you say so?” I said “By the Qur’an. Between you and me is the Qur’an.” He said, “He who cites evidence from the Qur’an, indeed, prospers.” Sufyan narrated that the sub-narrator said (perhaps), “He has indeed given an argument” - or he said, “He has prospered.” Then Hudhayfah recited: "Glorified be He who carried His servant (Muhammad) by night from the Sacred Mosque (of Makkah) to the Remote Mosque (of Jerusalem)." (17: 1) Then he asked, “Do you trump up from this that he offered salah there?” I said, “No.” He said, “If he had offered salah there then that would have become wajib on you to offer salah there just as it is wajib to offer salah in the Masjid al-Haram.” Hudhayfah said further that a long-backed animal was brought to Allah’s Messenger ﷺ . Its stride was as long as the reach of its sight. And both of them did not dismount from the Buraq’s back till they had seen Paradise and Hell and the promises of the Hereafter. Then it returned leaving both of them to where they had begun. He said, “People say that it was tied in Bayt al-Maqdis (though it was not necessary). Why? Would it have escaped? Indeed, the Knower of the unknown and the known had subjected it to him, (the Prophet).
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3147
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک۔ ٢ ؎ : حذیفہ (رض) کا یہ بیان ان کے اپنے علم کے مطابق ہے ، ورنہ احادیث میں واضح طور سے آیا ہے کہ آپ ﷺ نے وہاں انبیاء کی امامت کی تھی ، اور براق کو وہاں باندھا بھی تھا جہاں دیگر انبیاء اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے ( التحفۃ مع الفتح ) ۔ ٣ ؎ : یعنی جس برق رفتاری سے وہ گئے تھے اسی برق رفتاری سے واپس بھی آئے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی گھمنڈ نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد (و شکر) کا پرچم ہوگا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی (اور میں برآمد ہوں گا) اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : (قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہوگی، لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت (سفارش) کر دیجئیے، وہ کہیں گے : مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوچکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، مگر نوح (علیہ السلام) کہیں گے : میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کرچکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے : میں تین جھوٹ بول چکا ہوں ، آپ نے فرمایا : ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے : میں ایک قتل کرچکا ہوں، لیکن تم عیسیی (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے : اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، آپ نے فرمایا : لوگ میرے پاس (سفارش کرانے کی غرض سے) آئیں گے، میں ان کے ساتھ (دربار الٰہی کی طرف) جاؤں گا ، ابن جدعان (راوی حدیث) کہتے ہیں : انس نے کہا : مجھے ایسا لگ رہا ہے تو ان میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا : میں جنت کے دروازے کا حلقہ (زنجیر) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا : کون ہے ؟ کہا جائے گا : محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں (اندر پہنچ کر اللہ کے حضور) سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے، مانگیے (جو کچھ مانگنا ہو) آپ کو دیا جائے گا۔ (کسی کی سفارش کرنی ہو تو) سفارش کیجئے آپ کی شفاعت (سفارش) قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ (جہاں یہ باتیں ہوں گی) مقام محمود ہوگا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «عسی أن يبعثک ربک مقاما محمودا» توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے (بنی اسرائیل : ٧٩) ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں : انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
Sayyidina Abu Saa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said : I will be the chief of the children of Aadam on the Day of Resurrection - no boast about it. And, in my hand will be the standard of hamd (praise) and this is no boast. There will be no Prophet ﷺ that day, including Aadam, but will be under my standard, and I will be the first for whom the earth will be split open (on resurrection) - and this is no boast. People will be terrified three times. They will come to Aadam and say, “You are our father. So intercede for us with your Lord.” He will say, “I committed a sin for which I was sent down to the earth. But go to Nuh. So, they will come to Nuh and he will say. “I had prayed against the people of the earth (to be punished) and they were destroyed. But, go to Ibrahim.” They will come too Ibrahim and he will say, “I lied three times.” Allah’s Messenger ﷺ said: None of that was a lie except that he helped Allah’s religion with it. (Ibrahim will tell them.) “But, go to Musa.” So, they will come to Musa and he will say, “I had killed a soul. But go to Eesa.” They will go to Eesa. He will say, “I was worshipped at the exclusion of Allah. But go to Muhammad ﷺ .“ So, they will come to me and I will go with them. Ibn Jad’an reported that Anas said, “As though I see Allah’s Messenger!" (The Prophet’s saying continues:) I will take hold of the latch of the gate of Paradise and knock at it. It will asked, “Who is there?” Someone will answer, “(He is) Muhammad.” So, it will be opened for me and I will be welcomed. They will say, “Welcome!” And I will fall down in prostration and Allah will inspire me with (words of His) praise and glorification. I will be told, “Raise your head and ask. You will be given. Intercede and t will be accepted. And say, your word will be heard.” This is al-Maqaam al-Mahmud (Praised Station) about which Allah has said: "Soon your Lord will raise you to a Station Praised." (17: 79) Sufyan said that the version of Anas also has the Prophet’s ﷺ saying. “I will take hold of the latch of the gate of Paradise and knock at it.” [Ahmed 10987, Ibn e Majah 4308, Muslim 2278]
صحيح، ابن ماجة (4308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3148
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣٠٨) (تحفة الأشراف : ٤٣٦٧) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ خضر والے موسیٰ (علیہما السلام) نہیں ہیں، ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا، میں نے ابی بن کعب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں ایک دن تقریر کی، ان سے پوچھا گیا (اس وقت) لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ کہا : میں سب سے زیادہ علم والا ہوں، یہ بات اللہ کو ناگوار ہوئی کہ انہوں نے «اللہ اعلم» (اللہ بہتر جانتا ہے) نہیں کہا، اللہ نے ان کی سرزنش کی اور ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ «مجمع البحرین» (دو سمندروں کے سنگم) کے مقام پر ہے، وہ تم سے بڑا عالم ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! میری ان سے ملاقات کی صورت کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ نے کہا : «زنبیل» (تھیلے) میں ایک مچھلی رکھ لو پھر جہاں مچھلی غائب ہوجائے وہیں میرا وہ بندہ تمہیں ملے گا، موسیٰ چل پڑے ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی تھے، موسیٰ نے ایک مچھلی ٹوکری میں رکھ لی، دونوں چلتے چلتے صخرہ (چٹان) کے پاس پہنچے، اور وہاں سو گئے، (سونے کے دوران) مچھلی تڑپی، تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا گری، ابن عباس (رض) کہتے ہیں : مچھلی کے گرتے ہی اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا، یہاں تک کہ ایک محراب کی صورت بن گئی اور مچھلی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کا راستہ بن گیا، موسیٰ اور ان کے خادم کے لیے یہ حیرت انگیز چیز تھی، وہ نیند سے بیدار ہو کر باقی دن و رات چلتے رہے، موسیٰ کا رفیق سفر انہیں یہ بتانا بھول گیا کہ فلاں مقام پر مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا چکی ہے، صبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا : بھئی ہمارا ناشتہ لاؤ، ہم تو اس سفر میں بہت تھک چکے ہیں، ابن عباس (رض) کہتے ہیں : موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکان اس جگہ سے آگے بڑھ جانے کے بعد ہی لاحق ہوئی جس جگہ اللہ نے انہیں پہنچنے کا حکم دیا تھا، غلام نے کہا : بھلا دیکھئیے تو سہی (کیسی عجیب بات ہوئی) جب ہم چٹان پر فروکش ہوئے تھے (کچھ دیر آرام کے لیے) تو میں آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول ہی گیا، اور شیطان کے سوا مجھے کسی نے بھی اس کے یاد دلانے سے غافل نہیں کیا ہے، وہ تو حیرت انگیز طریقے سے سمندر میں چلی گئی، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : یہی تو وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے تھے، پھر وہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے پلٹے، وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر چل رہے تھے (تاکہ صحیح جگہ پر پہنچ جائیں) (سفیان (راوی) کہتے ہیں : کچھ لوگ سمجھتے ہیں اس چٹان کے قریب چشمہ حیات ہے، جس کسی مردے کو اس کا پانی چھو جائے وہ زندہ ہوجاتا ہے) ، مچھلی کچھ کھائی جا چکی تھی۔ مگر جب پانی کے قطرے اس پر پڑے تو وہ زندہ ہوگئی، دونوں اپنے نشانات قدم دیکھ کر چلے یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہنچ گئے وہاں سر ڈھانپے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سلام عرض کیا، انہوں نے کہا : تمہارے اس ملک میں سلام کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : میں موسیٰ ہوں، (اور میری شریعت میں سلام ہے) انہوں نے پوچھا : بنی اسرائیل والے موسیٰ ؟ کہا : ہاں، انہوں نے کہا : اے موسیٰ اللہ کے (بےشمار اور بےانتہائی) علوم میں سے تمہارے پاس ایک علم ہے، اللہ نے تمہیں سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا، اور مجھے بھی اللہ کے علوم میں سے ایک علم حاصل ہے، اللہ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں تو کیا آپ مجھے اللہ نے آپ کو رشد و ہدایت کی جو باتیں سکھائیں ہیں انہیں سکھا دیں گے ؟ انہوں نے کہا : آپ میرے پاس ٹک نہیں سکتے، اور جس بات کا آپ کو علم نہیں آپ (اسے بظاہر خلاف شرع دیکھ کر) کیسے خاموش رہ سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، میں ان شاء اللہ جموں (اور ٹکوں) گا اور کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی (اور مخالفت) نہیں کروں گا۔ ان سے خضر (علیہ السلام) نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ رہنا ہی چاہتے ہیں تو (دھیان رہے) کسی چیز کے بارے میں بھی مجھ سے مت پوچھیں اور حجت بازی نہ کریں جب تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دوں، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہاں ہاں، (بالکل ایسا ہی ہوگا) پھر خضر و موسیٰ چلے، دونوں سمندر کے ساحل سے لگ کر چلے جا رہے تھے کہ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری، ان دونوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ ہمیں بھی کشتی پر سوار کرلو، (باتوں ہی باتوں میں) انہوں نے خضر کو پہچان لیا، ان دونوں کو کشتی پر چڑھا لیا، اور ان سے کرایہ نہ لیا، مگر خضر (علیہ السلام) کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اسے اکھاڑ دیا، (یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوا) بول پڑے، ایک تو یہ (کشتی والے شریف) لوگ ہیں کہ انہوں نے بغیر کرایہ بھاڑا لیے ہمیں کشتی پر چڑھا لیا اور ایک آپ ہیں کہ آپ نے ان کی کشتی کی طرف بڑھ کر اسے توڑ دیا تاکہ انہیں ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑا برا کام کیا، انہوں نے کہا : کیا میں آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے ؟ (خاموش نہیں رہ سکتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آپ اس پر میری گرفت نہ کریں میں بھول گیا تھا (کہ میں نے آپ سے خاموش رہنے کا وعدہ کر رکھا ہے) اور آپ میرے کام و معاملے میں دشواریاں کھڑی نہ کریں، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر ساحل کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ایک لڑکا انہیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا، خضر نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کی کھوپڑی سر سے اتار کر اسے مار ڈالا، (موسیٰ سے پھر رہا نہ گیا) موسیٰ نے کہا : آپ نے بغیر کسی قصاص کے ایک اچھی بھلی جان لے لی، یہ تو آپ نے بڑی گھناونی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا : میں تو آپ سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے۔ (کچھ نہ کچھ ضرور بول بیٹھیں گے راوی) کہتے ہیں اور یہ تو پہلے سے بھی زیادہ سخت معاملہ تھا، (اس میں وہ کیسے خاموش رہتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (یہ بھول بھی ہو ہی گئی) اب اگر میں اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے، میرے سلسلے میں آپ عذر کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ دونوں آگے بڑھے، ایک گاؤں میں پہنچ کر گاؤں والوں سے کہا : آپ لوگ ہماری ضیافت کریں مگر گاؤں والوں نے انہیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کردیا، وہاں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو گری پڑتی تھی، راوی کہتے ہیں : جھکی ہوئی تھی تو خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ (بڑھا کر) دیوار سیدھی کھڑی کردی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : یہ تو (ایسی گئی گزری) قوم ہے کہ ہم ان کے پاس آئے، مگر انہوں نے ہماری ضیافت تک نہ کی، ہمیں کھلایا پلایا تک نہیں، آپ چاہتے تو ان سے دیوار سیدھی کھڑی کردینے کی اجرت لے لیتے۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا : اب آ گئی ہے ہماری تمہاری جدائی کی گھڑی، جن باتوں پر تم صبر نہ سکے میں تمہیں ان کی حقیقت بتائے دیتا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے، ہمارے لیے تو یہ پسند ہوتا کہ وہ صبر کرتے تو ہم ان دونوں کی (عجیب و غریب) خبریں سنتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلی بار تو موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول ہوئی تھی ، آپ نے فرمایا : (اسی موقع پر) ایک گوریا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر سے اپنی چونچ مار کر پانی نکالا، خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو متوجہ کر کے کہا : اس چڑیا کے سمندر میں چونچ مارنے سے جو کمی ہوئی ہے وہی حیثیت اللہ کے علم کے آگے ہمارے اور تمہارے علم کی ہے، (اس لیے متکبرانہ جملہ کہنے کے بجائے «اللہ اعلم» کہنا زیادہ بہتر ہوتا) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں : ابن عباس «وكان أمامهم ملك يأخذ کل سفينة صالحة غصبا وکان يقرأ وأما الغلام فکان کافرا» ٢ ؎ پڑھا کرتے تھے۔
Sa’eed ibn Jubayr said that he told Ibn Abbas (RA) that Nawf al-Bikali believed that Musa of the Banu Israel was not (the same as) Musa of Khidr, He replied, “The enemy of Allah lies.” Then he said that he had heard Ubayy ibn Ka’b say that he heard Allah’s Messenger ﷺ say: Musa stood up among the Banu Israel to deliver a sermon. He was asked, “Which of mankind is the most learned?” He said, “I am the most learned.” Allah admonished him for not attributing knowledge to Him (Allah). So Allah revealed to him, “A slave among My slaves at the meeting point of the two seas is more learned than you.” Musa said, “O Lord! How can I go to him?” He said to him, “Take a fish in your basket. Wherever you lose the fish - that is the place where he is” So he went with him went his servant he was Yusha’ ibn Nun Musa placed the fish in the basket and he and his servant departed. They walked till they came to a rock. Musa and his servant lied down there. The fish stirred within the basket and came out of it and dropped into the sea. Allah stopped the current of the water so that it was like a tunnel and there was a passage for the fish. For Musa and his servant it was strange. They departed walking the remainder of their day and their night, and the servant of Musa forgot to inform him. When it was morning, Musa said to his servant: "Bring us our breakfast, certainly we have encountered fatigue from this journey of ours.” (18:62) Indeed, Musa did not feel fatigued but only after they had gone past the place which they had been commanded to seek. The servant said: "Did you see when we took refuge on the rock, then I indeed forgot the fish - and none but Satan made me forget that I should speak of it - and it took its way into the sea; what a wonder!"(18:63) Musa said: "That is what we were seeking." (18: 64) “So they returned retracing their footsteps.” (18: 64) They both returned retracing their footsteps. Sufyan said that people imagine that at this rock lies the spring of life to which no dead thing is brought but it revives. The fish had been eaten partly but drops of; ter poured on it, it revived. So they retraced their footsteps till they were at the rock. They observed a man covered with a garment. Musa greeted him (with salaam). He asked, “is there (a greeting like) salaam on your land?’ He said, “I am Musa.” He asked, “Musa of Banu Israel?” He said, “Yes.” He said, “Musa, you have knowledge from Allah that Alalh taught you but He did not teach me. And, I possess knowledge from Allah that He taught me but did not teach you.” Musa pleaded: "May I follow you, so that you may teach me of what you have been taught of right judgment." (18:66) He said: "Surely you will not be able to bear with me patiently. And how can you have patience in that you have not encompassed in (your) knowledge?’ He said, “If Allah will you shall find me patient; and I shall not disobey you in any affair.” (18: 67-69) Khidr said in response to him: "If you follow me, question me not about anything until I muself mention it to you about it."(18: 70) He said, “Yes. So they - Khidr and Musa - departed walking along the coast, when a boat passed by them. They requested them to let them board it and they recognized Khidr and took them on board without any fare. Khidr pulled out a plank of the boat. Musa said to him, “These people took us in without fare but you damaged it with a hole that it may drown.” He added: "In order to drown its occupants. You have certainly done a grievous thing." (18: 71) He said: "Did I not say that you would not be able to bear with me patiently?" He (Musa) said: Reproach me not for what I forgot, and oppress me not in my affair distressingly." (18: 73) Then they came out of the boat. While they were walking along the coast, they came across a boy playing with other two lads. Khidr grabbed him by his head and jerked him by his hand and killed him. So, Musa said to him: "Have you slain an innocent person who has slain no one. Certainly you have done a horrible thing." (18: 74) He said reminding him: "Did I not say to you that you would not be able to bear with me patiently?" (18: 75) And, indeed, this was more severe than the first time. He (Musa) pleaded: If I question you about anything after this, keep not company with me; indeed you have received an excuse from me. ”So they departed until, when they came to the people of a township, they asked its people for food, but they refused to entertain them as guests. Then they found therein a wall about to fall down." (18: 76-77) That is, leaning down and Khidr gestured to it with his hand like this, "and so he set it up." (18:77) So, Musa protested, “A people to whom we came but they did not play host to us and did not serve us food.” And, also: if you had wished you could have taken a wage for it.” He (Khidr) said, “This is the parting between me and you. Now I will inform you the interpretation of that you were not able to bear patiently." (18: 77-78). (Allah’s Messenger’s ﷺ narration continues :) May Allah have mercy on Musa! We wish that Musa had shown patience until (Allah) described to us more about the two of them! The first - it was from Musa’s forgetfulness. Then a swallow came and sitting on the edge of the boat, dipped its beak in the sea. Khidr thereupon said to Musa, “My knowledge and your knowledge have not lessened Allah’s knowledge even so much as this sparrow has withdrawn from the sea.” Sa’eed ibn Jubayr said that Ibn Abbas (RA) recited: "And there was before them a king who seized every perfect boat forcibly." And he recited: "And as for the lad, he was a disbeliever." [Ahmed 21167, Bukhari 74, Muslim 2380, Abu Dawud 4707]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کو زہری نے عبیداللہ بن عتبہ سے عبیداللہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب (رض) کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور اس حدیث کو ابواسحاق ہمدانی نے بھی سعید بن جبیر سے، سعید نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣- میں نے ابومزاحم سمرقندی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے علی ابن مدینی کو سنا وہ کہتے تھے : میں نے حج کیا، اور میرا حج سے مقصد صرف یہ تھا کہ میں سفیان سے خود سن لوں کہ وہ اس حدیث میں خبر یعنی لفظ «اخبرنا» استعمال کرتے ہیں (یا نہیں) چناچہ میں نے سنا، انہوں نے «حدثنا عمرو بن دینار …» کا لفظ استعمال کیا۔ اور میں اس سے پہلے بھی سفیان سے یہ سن چکا تھا اور اس میں خبر (یعنی «اخبرنا» ) کا ذکر نہیں تھا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک ( صحیح سالم ) کشتی کو جبرا ضبط کرلیتا تھا ( الکہف : ٧٩) ، ( موجودہ مصاحف میں «صالحۃ» کا لفظ نہیں ہے۔ ٢ ؎ : اور وہ لڑکا کافر تھا جیسا کہ قرآن میں ہے : «وأما الغلام فکان أبواه مؤمنين فخشينا أن يرهقهما طغيانا وکفرا» (الكهف : 80 ) اور جہاں تک اس لڑکے کا تعلق ہے تو اس کے ماں باپ ایمان والے تھے ، چناچہ ہم ڈر گئے کہ ایسا نہ ہو یہ لڑکا بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو بھی شرارت و سرکشی اور کفر میں ڈھانپ دے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خضر نام اس لیے پڑا کہ وہ سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھے، تو وہ ہری گھاس میں تبدیل ہوگئی (یہ اللہ کی طرف سے معجزہ تھا) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘He was named Khidr because he sat down on barren land which turned green below him.” (Khidr means ‘green.) [Ahmed 8119, Bukhari 3402]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3151
ابورافع، ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیث میں سے «سد» (سکندری) سے متعلق حصہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں شگاف ڈال دینے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کا نگراں (جو ان سے کام کرا رہا ہوتا ہے) ان سے کہتا ہے : واپس چلو کل ہم اس میں سوراخ کردیں گے، ادھر اللہ اسے پہلے زیادہ مضبوط و ٹھوس بنا دیتا ہے، پھر جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی اور اللہ ان کو لوگوں تک لے جانے کا ارادہ کرے گا، اس وقت دیوار کھودنے والوں کا نگراں کہے گا : لوٹ جاؤ کل ہم اسے ان شاء اللہ توڑ دیں گے ، آپ نے فرمایا : پھر جب وہ (اگلے روز) لوٹ کر آئیں گے تو وہ اسے اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے ١ ؎، پھر وہ اسے توڑ دیں گے، اور لوگوں پر نکل پڑیں گے (ٹوٹ پڑیں گے) سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے بھاگیں گے، وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھیکیں گے، تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آ گئے اور آسمان والے سے بھی ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس سے وہ مرجائیں گے ، آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہوجائیں گے اور اینٹھتے پھریں گے ٢ ؎۔
Abu Rafi’ reported on the authority of Sayyidina Abu Hurayrah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said about the Sadd: They (Yajuj and Majuj) dig it every day till they nearly bore a hole in it. Then he who is over them (their chief) says, “Return. We shall bore the hole tomorrow.” So, (they go away and) Allah replaces it stronger than before (This) till the term appointed arrives and Allah intends that they should go and overpower mankind, and the one who is over them will say, “Return. We shall bore the hole tomorrow if Allah wills” - included this proviso. Thus, they will return and find it exactly as they had left it and they will bore the hole and pounce on the people. They will drink all their water (and dry them out). The people will flee from them. They (Yajuj Majuj) will shoot arrows towards the sky and the arrows will come back to them with blood thereon. They will boast, “We have subdued those on earth and have overpowered those in the sky”, showing their hard-heartedness and pride. Then, Allah will grow a worm in their necks and they will perish. And by Him in Whose Hand is the soul of Muhammad the beasts of the earth will fatten and flourish and give thanks on (eating) their flesh. [Ahmed 10637, Ibn e Majah 4080]
صحيح، ابن ماجة (4080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3153
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے ایسے ہی جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ اس نے اس بار «إن شاء اللہ» کہا ہوگا ، پہلے وہ ایسا کہنا بھول جایا کرے گا کیونکہ اللہ کی یہی مصلحت ہوگی۔ ٢ ؎ : مؤلف یہ حدیث ارشاد باری : «إن يأجوج ومأجوج مفسدون في الأرض » (الکہف : ٩٤) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٨٠) (تحفة الأشراف : ١٤٦٧٠) ، و مسند احمد (٢/٥١٠-٥١١) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے اس لیے کہ قتادہ کا سماع ابو رافع سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم : ١٧٣٥)
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا : جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کرلیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بےنیاز ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed ibn Abu Fadalah al-Ansari.who was One of the sahabah reported that he heard Allah’s Messenger say, “When- Allah will gather -mankind on the Day of Resurrection- a day of which there is no doubt - a crier will proclaim, “He who associated in his deeds (someone) which is done for Allah alone, must demand its reward from (that) other than Allah - for, Allah is independent of partners and of association.” [Ahmed 15838, Ibn e Majah 4203, Muslim 2985]
حسن، ابن ماجة (4203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3154
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مؤلف یہ حدیث ارشاد باری «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرک بعبادة ربه أحدا» (الكهف : 110 ) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢١ (٤٢٠٣) (تحفة الأشراف : ١٢٠٤٤) (حسن)
ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «وكان تحته كنز لهما» ان دونوں یتیم بچوں کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن تھا (الکہف : ٨٢) ، کے بارے میں فرمایا : کنز سے مراد سونا چاندی ہے ۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported from the Prophet ﷺ about Allah’s words: "And there was beneath it a treasure belonging to them." (18:82)
(الحديث الذي في سنده : يزيد بن يوسف عن مکحول) ضعيف جدا، (الحديث الذي في سنده يزيد بن يزيد بن جابر عن مکحول) ضعيف جدا، الروض النضير (940)
(الحديث الذي في سنده : يزيد بن يوسف عن مکحول) ضعيف جدا، (الحديث الذي في سنده يزيد بن يزيد بن جابر عن مکحول) ضعيف جدا، الروض النضير (940)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3152
اس سند سے یزید بن یزید بن جابر کے واسطہ سے مکحول سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3152
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٩٩٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن یوسف الصنعانی ضعیف راوی ہیں)
* تخريج (م) : انظر ماقبلہ (ضعیف)
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نجران بھیجا (وہاں نصاریٰ آباد تھے) انہوں نے مجھ سے کہا : کیا آپ لوگ «يا أخت هارون» ١ ؎ نہیں پڑھتے ؟ جب کہ موسیٰ و عیسیٰ کے درمیان (فاصلہ) تھا جو تھا ٢ ؎ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں انہیں کیا جواب دوں ؟ میں لوٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا : تم نے انہیں کیوں نہیں بتادیا کہ لوگ اپنے سے پہلے کے انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھا کرتے تھے ٣ ؎۔
Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent him to Najran (to the Christians there). They asked him, “Do you not recite: "O sister of (the household of) Harun!. (19:28 in reference to Sayyidah Maryam (AS)). While there has been a long period between Sayyidina Musa and Eesa ?“ He did not know how to answer them, so he returned to the Prophet ﷺ and informed him (about it). He asked him, “Did you not tell them that they used to name (their children) after their Prophets and righteous people who had preceded them?” [Ahmed 18226, Muslim 2135]
حسن مختصر تحفة الودودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3155
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے، اور ہم اسے صرف ابن ادریس ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اے ہارون کی بہن تیرا باپ غلط آدمی نہیں تھا ، اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔ ٢ ؎ : پھر تو یہ بات غلط ہے کیونکہ یہاں خطاب مریم سے ہے مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے ، ہارون موسیٰ کے بھائی تھے ، اور موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کے زمانوں میں ایک لمبا فاصلہ ہے ، پھر مریم کو ہارون کی بہن کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟۔ ٣ ؎ : یعنی آیت میں جس ہارون کا ذکر ہے وہ مریم کے بھائی ہیں ، اور وہ ہارون جو موسیٰ کے بھائی ہیں وہ اور ہیں۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» اے نبی ! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ (مریم : ٣٩) ، پڑھی (پھر) فرمایا : موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کردی جائے گی، پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا : اے جہنمیو ! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے، پوچھا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ سب کہیں گے : ہاں، یہ موت ہے، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کردیا جائے گا، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو وہ خوشی سے مرجاتے، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو وہ غم سے مرجاتے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) is reported that Allah’s Messenger ﷺ recited: "And warm them of the day of anguish." (19: 39) He said, Death will be brought in the form of a black and white ram and stopped at the fence between Paradise and Hell. A crier will call out, “O people of Paradise!” They will raise their heads and look carefully. Then he will call out, “O People of Hell!” They will stretch their necks and look carefully. He will ask, “Do you recognize this?” They will answer, “Yes, this is death.” Then it will be made to lie down and slaughtered." Thus had Allah not decreed eternal life for the ‘ people of Paradise, they would have died of joy?d, had he not decreed eternal life for the inhabitants of Hell, there, they would have died of grief. [Ahmed 11066, Bukhari 4730]
صحيح دون قوله : فلولا أن اللہ قضی ... انظر الحديث (2696، 2683) // (465 - 2696) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3156
قتادہ آیت «ورفعناه مکانا عليا» ١ ؎ کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ہم سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریس (علیہ السلام) کو چوتھے آسمان پر دیکھا ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3157
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور سعید بن ابی عروہ، ہمام اور کئی دیگر راویوں نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے اور انس نے مالک بن صعصعہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے حدیث معراج پوری کی پوری روایت کی، اور یہ ہمارے نزدیک اس سے مختصر ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری خدری (رض) بھی نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا : جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے ؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں (مریم : ٦٤) ، نازل ہوئی۔
Sayyifina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ asked Jibril “What prevents you from visiting us more often than you do?” So, this verse was revealed: "And we (the angels) descend no ut by the command of your Lord. To Him belongs whatsoever is before us, and whatsoever is behind us." (19: 64)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3158
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا اور وکیع نے عمر بن ذر سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
سدی کہتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منکم إلا واردها» یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا (مریم : ٧١) ، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ جہنم میں جائیں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے، پہلا گروہ (جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا۔ پھر ہوا کی رفتار سے، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے، پھر دوڑتے شخص کی، پھر پیدل چلنے کی رفتار سے ۔
Suddi reported that he asked Murrah Hamdani about the saying of Allah, the Glorious, the Majestic: "And there is not one of you, but shall come to it." (19: 77) So, he narrated that Abdullah ibn Mas’ud had narrated to him that Allah’s Messenger ﷺ , said, “People will pass by Hell and go away from it according to their deeds. The first of them will go away as fast as the spark of lightning, the second batch like wind, the next at horse speed, the next like a camel-rider and then like a man running away and then as one who walks. [Ahmed 4128]
عبداللہ بن مسعود (رض) نے «وإن منکم إلا واردها» کے تعلق سے فرمایا : لوگ جہنم میں جائیں گے پھر اپنے اعمال (صالحہ) کے ذریعہ نکل آئیں گے ۔
Muhammad ibn Bashaar reported from Yahya ibn Sa’eed, from Shu’bah, from Suddi, from Murrah that Abdullah said about: "And there is not one of you, but shall come to it." (19: 77) They will come to it and then go away from it relative to their deeds. [Ahmed 4141] Muhammad Muhammad ibn Bashshar reported from Abdur Rahman, from Shu’bah, from Suddi a similar hadith. Abdur Rahman said to Shu’bah that Israel reported to him from Suddi, from Murrah, from Abdullah from the Prophet. Shu’bah said that he heard that from Suddi in a marfu’ manner.
صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع
صحيح موقوف وهو في حکم المرفوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3160
سدی نے مرہ سے اور مرہ نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے اسے سدی سے مرفوعاً ہی سنا ہے، لیکن میں جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہوں۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3160
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے : میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ ﷺ نے فرمایا : پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کردیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول : «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا (مریم : ٩٦) ، کا مطلب و مفہوم۔ اور اللہ جب کسی بندے کو نہیں چاہتا (اس سے بغض و نفرت رکھتا ہے) تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے، میں فلاں کو پسند نہیں کرتا پھر وہ آسمان میں پکار کر سب کو اس سے باخبر کردیتے ہیں۔ تو زمین میں اس کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) نفرت و بغض پیدا ہوجاتی ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: "When Allah loves a slave, He calls Jibril (and says), “I love so-and-so, Thus, you too love him.” So, he proclaims that in heaven. Then love for him is sent down among the inhabitants of earth. That is the saying of Allah: "Surely those who believe and do righteous deeds, for them the Compassionate (Allah) shall assign love." (19:96) And when Allah hates anyone, He says to Jibril, “I detest so-and-so.” Thus, he proclaims that in the heaven and then hate for him descends on earth. [Ahmed 10679, Bukhari 3209, Muslim 2637]
صحيح الضعيفة تحت الحديث (2207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3161
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی جیسی حدیث عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے خباب بن ارت (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں عاص بن وائل سہمی (کافر) کے پاس اس سے اپنا ایک حق لینے کے لیے گیا، اس نے کہا : جب تک تم محمد ( ﷺ کی رسالت) کا انکار نہیں کردیتے میں تمہیں دے نہیں سکتا۔ میں نے کہا : نہیں، میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار نہیں کرسکتا۔ چاہے تم یہ کہتے کہتے مرجاؤ۔ پھر زندہ ہو پھر یہی کہو۔ اس نے پوچھا کیا : میں مروں گا ؟ پھر زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا ؟ میں نے کہا : ہاں، اس نے کہا : وہاں بھی میرے پاس مال ہوگا، اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارا حق تمہیں لوٹا دوں گا۔ اس موقع پر آیت «أفرأيت الذي کفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا میں مال و اولاد سے بھی نوازا جاؤں گا (مریم : ٧٧) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Khabbab ibn Arat narrated: I went to Aas ibn Wail Sahmi to demand my right over him. He said, “I will not give it to you till you reject Muhammad.” I said, “No – not even if you die and come back to life.” He asked, “Will I die and be resurrected.” I replied, “Yes”, So, he said, “Surely, I will have wealth and children there and will give you (there).” So, this was revealed: "Have you (O Prophet) considered him who disbelieves in Our revelations and says, ‘I shall certainly be given wealth and children?" (19: 77) [Ahmed 21125, Bukhari 2091, Muslim 2751]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3162
اس سند سے بھی ابومعاویہ نے اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3162
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی (مجبور ہو کر) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال (رض) سے فرمایا : بلال ! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : بلال نے (جاگنے کی صورت یہ کی کہ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی (ذرا سی) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا : بلال ! (یہ کیا ہوا ؟ ) بلال نے عرض کیا : میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا : یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کرلے چلو، پھر آپ ( ﷺ ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو (طہٰ : ١٤) ، پڑھی۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that while returning from Khaybar to Madinah in the night, Allah’s Messenger ﷺ felt sleepy. He made the camel kneel down and went to sleep. He said, “O Bilal (RA) , keep vigil tonight.” Bilal (RA) offered salah and reclining on his camel-saddle, waited for dawn. But his eyes were overcome by sleep and he (too) slept. Then, none of them woke up until the Prophet ﷺ was the first to wake up and he said, “O Bilal (RA) !” Bilal (RA) said, “May my parents be ransomed to you, O Messenger of Allah! ﷺ The same thing took over me as took over you.” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Saddle the camels.” After a little journey, they stopped the camels again, made ablution and stood up for salah. He offered salah like the salah at its time with gentle pauses. Then he said: "Establish salah for my remembrance." (20: 14) [Muslim 680, Ibn e Majah 697, Abu Dawud 435]
صحيح، صحيح أبي داود (461 - 463) ، الإرواء (263)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3163
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، میرا ان کا نپٹارا کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہوگا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہوگا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر سرابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہوگا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، (یہ سن کر) وہ شخص روتا پیٹتا ہوا واپس ہوا، آپ نے فرمایا : کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے (اللہ نے فرمایا ہے) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن کان مثقال» الآية اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہوگا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے (الانبیاء : ٤٧) ، اس شخص نے کہا : قسم اللہ کی ! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔
Sayyidah Ayshah reported that a man sat down opposite Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have some slaves. They lie to me and cheat me and disobey me. So, I abuse them and beat them. So, how am I with them?’ He said, “Their treachery with you, disobedience to you and lying to you will be reckoned against your punishing them. Thus, if your punishment is commensurate with their crime then it would be squared up-nothing for you and nothing against you. But if your punishment is softer than their crime then that would be favourable to you. If your punishment is harsher than their crime then favour will be cut off from you for them.” The man wept and shrieked and set off to go. Allah’s Messenger said, “Have you not read Allah’s Book?” (He recited: "We shall set up scales of justice for the Day of Judgment, so that not a soul will be dealt with unjustly in the least, and if there be (no more than) the weight of a mustard seed, We will bring it (to account): and enough are We to take account." (21:47) The man submitted. “O Messenger of Allah, I could not find anything better for myself and for them than separating them. Be witness that they are free-all of them.’ [Ahmed 2661]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3165
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے (اور اتنی گہری ہے کہ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘There is a valley in Hell called "wayl." The disbeliever will drop down into it for forts’ years before reaching its bottom. [Ahmed 11712]
ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 229) // ضعيف الجامع الصغير (6148) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3164
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم ابن لہیعہ کے سوا کسی اور کو نہیں جانتے کہ وہ اسے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث مولف ارشاد باری «ولکم الويل مما تصفون» (الأنبیاء : ١٨) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٠٦٢) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ اور دراج دونوں ضعیف راوی ہیں)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا : میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، (دوسرا) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا : (جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں) (تیسرا، آپ نے بت توڑا) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا : بڑے (بت) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، (ان سے پوچھ لیں) ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: Ibrahim never lied in anything except on three occasions : When he said, “I am sick” though he was not sick, and when he said about Sarah, “She is my sister,” and when he said, “Rather, the biggest of them has done it.” [Ahmed 9252, Bukhari 2217, Muslim 2371, Abu Dawud 2212]
صحيح، صحيح أبي داود (1916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3166
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مولف یہ حدیث ارشاد باری : «قال بل فعله كبيرهم هذا» (الانبیاء : ٦٤) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : تم لوگ قیامت کے دن اللہ کے پاس ننگے اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ نے آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے (پیدا فرما دیں گے) (الانبیاء : ١٠٤) ، آپ نے فرمایا : قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، (قیامت کے دن) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں چھانٹ کر بائیں جانب (جہنم کی رخ) کردیا جائے گا، میں کہوں گا پروردگار ! یہ تو میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا : آپ کو نہیں معلوم ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں (خرافات) دین میں پیدا (داخل) کردیں۔ (یہ سن کر) میں بھی وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہی ہے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت علی كل شيء شهيد إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم» میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ ان کے محافظ و نگہبان بن گئے، آپ ہر چیز سے واقف ہیں۔ اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے و غلام ہیں۔ (آپ انہیں سزا دے سکتے ہیں) اور اگر آپ انہیں معاف کردیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں (المائدہ : ١١٨) ، کہا جائے گا : یہ وہ لوگ ہیں کہ آپ نے جب سے ان کا ساتھ چھوڑا ہے یہ اپنی پہلی حالت سے پھرگئے ہیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood up to deliver admonition. He said, “O people, you will be assembled before Allah naked, and uncircumcised.” Then he recited: "As we originated the first creation so We shall restore it." (21:104) He said “The first one who will be clothed on the Day of Resurrection will be Ibrahim Then some men of my ummah will be brought and taken away to the left and I will plead, “My Lord! (They are) my companions.” It will be said, “You do not realize what they innovated (in religion) after you.” So I will say as the righteous slave (Eesa) said: "And I was a witness over them, while I dwelt among them; but when you did take me, You were the watcher over them. And You are Witness over everything. If You chastise them, surely they are Your slaves; and if you forgive them." (5:117-118) It will be said, These people never ceased to be apostates turning their backs since (the day) you separated from them.’ [Ahmed 1950, Bukhari 3319, Muslim 2869, Nisai 2083]
صحيح وهو مکرر الحديث (2552)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3167