Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 154 of 199

3126Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت حجر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ: لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ 92 عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ 93 سورة الحجر آية 92-93، قَالَ: عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما کانوا يعملون» ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے (الحجر : ٩٢) ، کے متعلق فرمایا : یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہوگا ۔

ُ ُSayyidina Anas ibn Maalik reported the Prophet’s ﷺ explanation of this verse: "We shall certainly question them all together concerning what they used to do. He said, “This means (There is no God but Allah).”

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٤٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں)
3128Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت النحل

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَيْسَ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَيُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ سورة النحل آية 48 الْآيَةَ كُلَّهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ.

عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں سحر (تہجد) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں ، آپ نے فرمایا : کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی (یعنی زوال کے وقت) اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو ۔ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں (النحل : ٤٨) ، پڑھی ۔

Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Four rakat before zuhr after za’val are counted like the salah of tahajjud.” Allah’s Messenger ﷺ also said, “There is nothing but glorifies Allah at that hour.” And he recited: Their shadows inclining to the right and to the left, prostrating before Allah while being lowly. (16: 48 more till verse 50. This verse calls for prostration).

ضعيف الصحيحة تحت الحديث (1431) // ضعيف الجامع الصغير (754) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٥٧٣) (ضعیف) (سند میں یحییٰ البکاء ضعیف اور علی بن عاصم غلطیاں کر جاتے تھے، لیکن تعدد طرق کی بناء پر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے)
3129Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت النحل

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا، وَمِنَ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فِيهِمْ حَمْزَةُ فَمَثَّلُوا بِهِمْ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا مِثْلَ هَذَا لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرينَ سورة النحل آية 126، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ إِلَّا أَرْبَعَةً ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.

ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ ( ٦٤) اور مہاجرین کے چھ کام آئے۔ ان میں حمزہ (رض) بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کردیا تھا، انصار نے کہا : اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کردیں گے۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين» ١ ؎ نازل فرما دی۔ ایک صحابی نے کہا : «لا قريش بعد اليوم» (آج کے بعد کوئی قریشی وریشی نہ دیکھا جائے گا) ٢ ؎ آپ نے فرمایا : (نہیں) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو ٣ ؎۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b narrated: In the Battle of Uhud, sixty-four Ansar and six Muhajirs were martyred, Hamzah among them. They (the polytheists) mutilated his body. And if you (0Believers) have to punish them, then punish them with the like of that where with you were afflicted. But if you endure patiently, that is certainly better for the persevering. (16:126) A man said, “There will be no Quraysh after today.” Allah’s Messenger ﷺ said, “Spare the people, but four (of them).” [Ahmed 21288]

حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابی بن کعب کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اگر تم ان سے بدلہ لو ( انہیں سزا دو ) تو انہیں اتنی ہی سزا دو جتنی انہوں نے تمہیں سزا ( اور تکلیف ) دی ہے اور اگر تم صبر کرلو ( انہیں سزا نہ دو ) تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے ( النحل : ١٢٦) ۔ ٢ ؎ : یعنی مسلم قریشی کسی کافر قریشی کا خیال نہ کرے گا کیونکہ قتل عام ہوگا۔ ٣ ؎ : ان چاروں کے نام دوسری حدیث میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں : ( ١) عکرمہ بن ابی جہل ( ٢) عبداللہ بن خطل ( ٣) مقیس بن صبابہ ( ٤) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ، ان کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے ملیں تب بھی انہیں قتل کر دو ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٣) (حسن صحیح الإسناد)
3130Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حِينَ أُسْرِيَ بِي، لَقِيتُ مُوسَى، قَالَ فَنَعَتَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ، قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، قَالَ: وَلَقِيتُ عِيسَى، قَالَ فَنَعَتَهُ، قَالَ: رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ، قَالَ: وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ لِلْفِطْرَةِ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (معراج کی رات) جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : موسیٰ لمبے قد والے تھے : ہلکے پھلکے روغن آمیز سر کے بال تھے، شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے ، آپ نے فرمایا : میری ملاقات عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی ، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا : عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ (سفید) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیم اس (غسل خانہ) سے نہا دھو کر نکل کر آ رہے ہوں، میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی دیکھا، میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہہ ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک دودھ کا پیالہ تھا اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا : جسے چاہو لے لو، تو میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور دودھ پی گیا، مجھ سے کہا گیا : آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی مل گئی، یا آپ نے فطرت سے ہم آہنگ اور درست قدم اٹھایا، اگر آپ نے شراب کا برتن لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When I was taken for the isra, I met Musa.” The narrator reported that the Prophet ﷺ then described him and also thought that he said, “Musa’s hairs were disheveled as though he was a member of the shanu’ah.” He then said, “And I met Eesa,” and he described him, “He is medium-height, red complexioned as though he has just emerged from the bath. And, I saw Ibrahim. I resemble his offspring. Then, two vessels were brought to me, one containing milk and the other wine. I was told, ‘Pick whichever one you like. So, I chose milk and drank it. I was told, “You are guided or nature or, ‘you walked the path of guidance. If you had chosen wine then your ummah would have gone astray’.” [Ahmed 10652, Bukhari 3394, Muslim 168, Nisai 5657]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3130
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی تباہی و بربادی کا شکار ہوتی اس لیے کہ شراب کا خاصہ ہی یہی ہے۔ ( مولف نے ان احادیث کو اسراء اور معراج کی مناسبت کی وجہ سے ذکر کیا جن کا بیان اس باب کے شروع میں ہے )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٤) ، و ٤٩ (٣٤١٣) ، وتفسیر الإسراء ٣ (٤٧٠٩) ، والأشربة ١ (٥٥٧٦) ، و ١٢ (٥٦٠٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٨) ، سنن النسائی/الأشربة ٤١ (٥٦٦٠) (تحفة الأشراف : ١٣٢٧٠) ، و مسند احمد (٢/٥١٢) (صحیح)
3131Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُلْجَمًا مُسْرَجًا فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ، قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ جس رات آپ ﷺ کو معراج حاصل ہوئی آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر کاٹھی کسی ہوئی تھی، آپ نے اس پر سوار ہوتے وقت دقت محسوس کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا : تو محمد ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہوگیا۔

Sayyidina Anas reported that the Buraq was brought for the Prophet ﷺ on the night of the isra (mi’raj, ascension), bridled and saddled. It showed some resistance, so, Jibril asked it, “Will you do that with Muhammad? No one nobler than he in Allah’s sight has ridden you.”That brought it perspiration. [Ahmed 12672]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٤١) (صحیح الإسناد)
3132Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ جِبْرِيلُ: بِإِصْبَعِهِ فَخَرَقَ بِهِ الْحَجَرَ وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (معراج کی رات) جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی انگلی کے اشارے سے پتھر میں شگاف کردیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When we came to Bayt al-Maqdis, Jibril gestured with his finger. So, he made (thereby) a hole in a stone and tied the Buraq to it.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٧٥) (صحیح) (تراجع الالبانی ٣٥، السراج المنیر ٤١٢٠)
3133Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب قریش نے مجھے (معراج کے سفر کے بارے میں) جھٹلا دیا کہ میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہوا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر کردیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں (پہچان) بتانے لگا ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the Quraysh rejected me, I stood by the stone. The Bayt al-Maqdis was brought before me and I informed them of its details (signs) while I looked at it.” [Bukhari 3886, Muslim 170, Ahmed 15038]

صحيح تخريج فقه السيرة (145)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مالک بن صعصعہ ابوسعید، ابن عباس، ابوذر اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤١ (٣٨٨٦) ، وتفسیر الإسراء ٢ (٤٧١٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٥ (١٧٠) (تحفة الأشراف : ٣١٥١) ، و مسند احمد (٣/٣٧٧) (صحیح)
3134Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ: هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت کریمہ : «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے (یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے (بنی اسرائیل : ٦٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد (کھلی) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ١ ؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the words of Allah, the Exalted: "And We made not the vision We showed you but as a trial for mankind." (17: 60) He said, “This is a vision that the Prophet ﷺ saw with his eyes on the night of isra to Bayt al_Maqdis.” And he said about: “As also the tree cursed in the Qur’an. (He said,) “It is tree of zaqqum." [Ahmed 1916, Bukhari 3888]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی خواب میں سیر نہیں ، بلکہ حقیقی و جسمانی معراج تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٢ (٣٨٨٨) ، وتفسیر الإسراء (٤٧١٦) ، و القدر ١٠ (٦٦١٣) (تحفة الأشراف : ٦١٦٧) (صحیح)
3135Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ قُرَشِيٌّ كُوفِيٌّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78 قَالَ: تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا» صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہوتا ہے (بنی اسرائیل : ٧٨) ، کے متعلق فرمایا : اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر (و موجود) ہوتے ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported the Prophet’s ﷺ explanation of the words of Allah: "And the recital of the Quran at dawn surely the recital of the Quran at dawn is witnessed."(17: 78) (He said,) The angels of the night and the angels of the day witness it.’ [Ahmed 10139, Ibn e Majah 670]

صحيح الإسناد صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3135 اس سند سے اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٠) (تحفة الأشراف : ١٢٣٣٢) (صحیح) انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ١٢٤٤٤) (صحیح)
3136Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ سورة الإسراء آية 71، قَالَ: يُدْعَى أَحَدُهُمْ فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا وَيُبَيَّضُ وَجْهُهُ وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَتَلَأْلَأُ، فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ ائْتِنَا بِهَذَا وَبَارِكْ لَنَا فِي هَذَا، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ فَيَقُولُ: أَبْشِرُوا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلُ هَذَا، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُسَوَّدُ وَجْهُهُ وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ فَيُلْبَسُ تَاجًا، فَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا اللَّهُمَّ لَا تَأْتِنَا بِهَذَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ، فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ أَخْزِهِ، فَيَقُولُ: أَبْعَدَكُمُ اللَّهُ فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو کل أن اس بإمامهم» جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام (اگوا و پیشوا) کے ساتھ بلائیں گے (بنی اسرائیل : ٧١) ، کے بارے میں فرمایا : ان میں سے جو کوئی (جنتی شخص) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کردیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہوگا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے : اے اللہ ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا : تم سب خوش ہوجاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہوگا ؟ کافر کا چہرہ کالا کردیا جائے گا، اور اس کا جسم ساٹھ گز کا کردیا جائے گا جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کا تھا، اسے تاج پہنایا جائے گا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اس کے شر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ ! ہمیں ایسا تاج نہ دے، کہتے ہیں : پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا وہ لوگ کہیں گے : اے اللہ ! اسے ذلیل کر، وہ کہے گا : اللہ تمہیں ہم سے دور ہی رکھے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported the Prophet’s ﷺ saying about these words of Allah: "On the day when We shall summon every people with their record."(17: 71) He said, “A man will be summoned and his body made sixty cubits tall and his face will be brightened and a crown will be placed on his head. It will be made of rubies, shining. He will go towards his people and they will see him from afar and say, O Allah, give us like this and bless with this’. He wil come nearer to them and say to them, ‘Good news for each one of you like this’. But, as for the disbeliever, his face will be blackened, his height increased to sixty cubits on the pattern of Aadam and he will be made to wear a crown. His people will see him and say, ‘We seek refuge in Allah from the mischief of this one. O Allah, do not give us this’. He will come closer to them and they will say, ‘O Allah, put him away’. He will say, ‘May Allah put you away and for each of you be the like of it’.”

ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (6424) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٦١٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں عبد الرحمن ابن ابی کریمہ والد سدی مجہول الحال راوی ہے)
3137Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الزَّعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي قَوْلِهِ: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 سُئِلَ عَنْهَا، قَالَ: هِيَ الشَّفَاعَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَدَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ هُوَ دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ عَمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : «عسی أن يبعثک ربک مقاما محمودا» عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا (بنی اسرائیل : ٧٩) ، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا : اس سے مراد شفاعت ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked about Allah’s words: "Soon your Lord will raise you to a Station Praised." (17: 79) He said, “It is intercession.”

صحيح، الصحيحة (2639 و 2370) ، الظلال (784)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3137
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور داود زغافری : داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٨٤٨) ، و مسند احمد (٢/٤٤١، ٤٤٤، ٥٢٨) (صحیح) (سند میں داود ضعیف اور ان کے باپ یزید عبد الرحمن الأودی الزعافری لین الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم : ٢٣٦٩، ٢٣٧٠)
3138Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء آية 81 جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ سورة سبأ آية 49 ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے (عبداللہ نے کبھی ایسا کہا) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل کان زهوقا» حق آگیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا (بنی اسرائیل : ٨١) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» حق غالب آگیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا (سبا : ٤٩) ۔

Sayyidina lbn Masud (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ entered Makkah with its conquest while three hundred and sixty idols were rooted around the Ka’bah. He began to strike them with his staff or a stick, as the narrator was unsure, he recited at the same time. "The Truth has come, and falsehood has vanished away; surely falsehood is ever certain to vanish."(17:81) He also said, “And falsehood would never return now.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3138
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٨) ، والمغازي ٤٩ (٤٢٨٧) ، وتفسیر الإسراء ١١ (٤٧٢٠) ، صحیح مسلم/الجھاد ٣٢ (١٧٨١) (تحفة الأشراف : ٩٣٣٤) (صحیح)
3139Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا سورة الإسراء آية 80 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت : «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنک سلطانا نصيرا» دعا کر، اے میرے رب ! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما (بنی اسرائیل : ٨٠) ، نازل ہوئی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ was in Makkah. Then he was commanded to migrate to Madinah. This verse was revealed to him at that time. "And say, ‘O my Lord, cause me to enter a truthful entrance, and cause me to go forth a truthful out-going, and grant me from your presence an authority to help (me)." (17: 30)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٤٠٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں قابوس لین الحدیث ہیں)
3140Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبَي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِيَهُودَ: أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ هَذَا الرَّجُلَ، فَقَالَ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85، قَالُوا: أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا، أُوتِينَا التَّوْرَاةُ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا، فَأُنْزِلَتْ: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ سورة الكهف آية 109 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص (یعنی محمد ﷺ ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا : اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا (روح کی حقیقت کیا ہے ؟ ) اس پر اللہ نے آیت «ويسألونک عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو ! روح امر الٰہی ہے، تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے (بنی اسرائیل : ٨٥) ، انہوں نے کہا : ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربي لنفد البحر» کہہ دیجئیے : اگر میرے رب کی باتیں، کلمے، معلومات و مقدرات لکھنے کے لیے سمندر سیاہی (روشنائی) بن جائیں تو سمندر ختم ہوجائے (مگر میرے رب کی حمد و ثناء ختم نہ ہو) (الکہف : ١٠٩) ، نازل ہوئی ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Quraysh requested the Jews, Teach us something about which we may ask this man.’ They said, Ask him about the spirit (Ruh).” So, Allah, the Exalted, revealed:" And they ask you concerning the spirit Say "The Spirit is by the command of my Lord and you have not been given of knowledge except a little." (17: 85) They said, “We have been given plenty of knowledge. Indeed, we are given the Torah and he who is given the Torah is given much good.” So, this verse was revealed: "Say, If the sea were ink for the words of my Lord, the sea would certainly be exhausted before the words of my Lord are exhausted - though we brought the like of it for support." (18: 109) [Ahmed 2309]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٦٠٨٣) (صحیح)
3141Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ سَأَلْتُمُوهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَسْأَلُوهُ فَإِنَّهُ يُسْمِعُكُمْ مَا تَكْرَهُونَ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنِ الرُّوحِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، حَتَّى صَعِدَ الْوَحْيُ، ثُمَّ قَالَ: الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ آپ (کبھی کبھی) کھجور کی ایک ٹہنی کا سہارا لے لیا کرتے تھے، پھر آپ کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے (چہ میگوئی کی) کہا : کاش ان سے کچھ پوچھتے، بعض نے کہا : ان سے کچھ نہ پوچھو، کیونکہ وہ تمہیں ایسا جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا (مگر وہ نہ مانے) کہا : ابوالقاسم ! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، (یہ سوال سن کر) آپ کچھ دیر (خاموش) کھڑے رہے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی آنے والی ہے، چناچہ وحی آ ہی گئی، پھر آپ نے فرمایا : «الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» روح میرے رب کے حکم سے ہے، تمہیں بہت تھوڑا علم حاصل ہے ۔

Sayyidina Abdullah - narrated: I was walking with the Prophet ﷺ in a field of Madinah. He leaned on a branch of a date tree (as he walked). We came across a company of Jews. Some of them said to the others, “Would that you ask him something”,some others said, “Do not ask him, for he makes you hear what you dislike.” But, they said, “O Abul Qasim, tell us about the spirit.” So, the Prophetd ﷺ paused for a moment, raised his heard towards the sky and I realised that he was receiving a revelation till the (bringer of) revelation went up and he recited: "The Spirit is by the command of my Lord and you have not been given of knowledge except a little." (17: 85) [Ahmed 3688, R 125, Muslim 2794]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3141
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٧ (١٢٥) ، وتفسیر الإسراء ١٢ (٤٧٢١) ، والإعتصام ٤ (٧٢٩٧) ، والتوحید ٢٨ (٧٤٥٦) ، و ٢٩ (٧٤٦٢) ، صحیح مسلم/المنافقین ٤ (٢٧٩٤) (تحفة الأشراف : ٩٤١٩) (صحیح)
3142Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى وُهَيْبٌ، عَنِ ابْن طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا ۔ پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو (یہی نہیں ہوگا کہ وہ چلیں گے بلکہ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی (نشیب و فراز) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the Day of Resurrection, mankind will be gathered in three categories - a category of those walking on foot, another of riders and the third of those walking on their faces.” Someone asked, “O Messenger of Allah, how would they walk on their faces?” He said, ‘Surely, he who makes them walk on their feet is Able to make them walk on their faces. Know that they will walk on their faces safeguarding from every ascent and thorn.” [Ahmed 8763]

ضعيف، المشکاة (5546 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (4 / 194) // ضعيف الجامع الصغير (6417) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ « ونحشرهم يوم القيامة علی وجوههم» (الإسراء : ٩٧) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٢٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)
3143Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا وَيُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم (قیامت میں) جمع کئے جاؤ گے : کچھ لوگ پیدل ہوں گے، کچھ لوگ سواری پر، اور کچھ لوگ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر اکٹھا کئے جائیں گے ۔

Bahz ibn Hakim reported from his father who from his grand father that Allah’s Messenger , said, “You will be assembled (on the Day of Resurrection) walking, riding and dragging on your face.” [Ahmed 20051]

حسن، التعليق الرغيب أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٤٢٤ (حسن)
3144Sunan At-Tirmidhiضعیف

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَاللَّفْظُ لَفْظُ يَزِيدَ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَنَا نَقُولُ نَبِيٌّ كَانَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ سورة الإسراء آية 101، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى سُلْطَانٍ فَيَقْتُلَهُ، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ شَكَّ شُعْبَةُ وَعَلَيْكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودَ خَاصَّةً أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ، فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تُسْلِمَا ؟، قَالَا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا اللَّهَ أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ أَسْلَمْنَا أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

صفوان بن عسال (رض) سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا : اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے (کچھ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا : انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو (مارے خوشی کے) ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسیٰ تسع آيات بينات» ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں (اسرائیل : ١٠١) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری (بےگناہ) شخص کو (مجرم بنا کر) بادشاہ کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، سود نہ کھاؤ، کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ، دشمن کی طرف بڑھتے ہوئے بڑے لشکر سے نکل کر نہ بھاگو ۔ شعبہ کو شک ہوگیا ہے (کہ آپ نے نویں چیز یہ فرمائی ہے) اور تم خاص یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی (الٹ پھیر) نہ کرو، (یہ جواب سن کر) ان دونوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا : پھر تمہیں اسلام قبول کرلینے سے کیا چیز روک رہی ہے ؟ دونوں نے جواب دیا داود (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی ہوگا (اور آپ ان کی ذریت میں سے نہیں ہیں) اب ہمیں ڈر ہے کہ ہم اگر آپ پر ایمان لے آتے ہیں تو ہمیں یہود قتل نہ کردیں۔

Sayyidina Safwan ibn Assal al-Muradi reported that of two Jews one said to the other, “Come let us go to this Prophet ﷺ that we may question him.” The other said, “Do not call him a Prophet, for, if he hears you say Prophet ﷺ he will be overjoyed.’ So they came to him and asked him about the words of Allah the Exalted: "And certainly we gave Musa nine manifest signs." (17:101) He said that they were: (1) Associate nothing with Allah, (2) Do not commit fornication, (3) Do not unjustly take the life of one whose killing has been forbidden by Allah, (4) Do not steal, (5) Do not practice magic, (6) Do not take an innocent to the king with false charges) that he might execute him, (7) Do not devour interest, (8) Do not accuse a chaste woman falsely of fornication, (9) And, do not desert the battlefield. Shu’bah was unsure if this was included: And particularly for you, O Jews, that you do not contravene (the injunctions on) the Sabbath (Saturday). So, they kissed his hand and his feet, saying, “We bear testimony that you are a Prophet. He asked. ‘Then what prevents you from submitting (in Isaim)?” They said, ‘Dawood had prayed that Prophets should not cease to come in his offspring and we fear that if we submit the Jews will kill us.’ [Ahmed 18814]

ضعيف، ابن ماجة (3705) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (808) ، وتقدم برقم (517 - 2889) ، ضعيف سنن النسائي (275 / 4078) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٣٣، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٦ (٣٧٠٥) ، والنسائی فی الکبری فی السیر (٨٦٥٦) وفی المحاربة (٣٥٤١) (تحفة الأشراف : ٤٩٥١) وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٣٩) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ صدوق ہیں، لیکن حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی)
3145Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 قَالَ: نَزَلَتْ بِمَكَّةَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ سَبَّهُ الْمُشْرِكُونَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ بِأَنْ تُسْمِعَهُمْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت کریمہ : «ولا تجهر بصلاتک» اپنی صلاۃ بلند آواز سے نہ پڑھو (بنی اسرائیل : ١١٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں : یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ جب بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین اسے اور جس نے قرآن نازل کیا ہے اور جو قرآن لے کر آیا ہے سب کو گالیاں دیتے تھے، تو اللہ نے «ولا تجهر بصلاتک» نازل کر کے نماز میں قرآن بلند آواز سے پڑھنے سے منع فرما دیا تاکہ وہ قرآن، اللہ تعالیٰ اور جبرائیل (علیہ السلام) کو گالیاں نہ دیں اور آگے «ولا تخافت بها» نازل فرمایا، یعنی اتنے دھیرے بھی نہ پڑھو کہ آپ کے ساتھی سن نہ سکیں بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ سے قرآن سیکھیں (بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو) ۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported about the verse: "And speak not your prayer aloud, nor speak it low." (17:110) He said, “This was revealed at Makkah. When Allah’s Messenger ﷺ raised his voice while reciting the Qur’an, the idolaters reviled it and him who revealed it and Him who brought it. So Allah revealed: "And do not raise your voice in your salah." Lest they abuse the Quran, Him who has revealed it and him who brought it. "And do not keep your voice low." from your companions that they do not hear you. Keep it such that they take the Qur’an from you. [Ahmed 1853, Bukhari 4772, Muslim 446, Nisai 1007]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3145
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الإسراء ١٤ (٤٧٢٢) ، والتوحید ١٣٤ (٧٤٩٠) ، و ٤٤ (٧٥٢٥) ، و ٥٢ (٧٥٤٧) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣١ (٤٤٦) ، سنن النسائی/الإفتتاح ٨٠ (١٠١٢) (تحفة الأشراف : ٥٤٥١) ، و مسند احمد (١/٢٣، ٢١٥) (صحیح)
3146Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مختف بمكة، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوهُ شَتَمُوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَوَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت کریمہ : «ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بين ذلک سبيلا» صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے (الاسراء : ١١٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں : یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا : «ولا تجهر بصلاتک» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو (یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو (کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said about the words of Allah: "And speak not your prayer aloud, not speak it low, but seek a middle course between." (17:110) That it was revealed to Allah’s Messenger ﷺ when he was hiding in Makkah and raised his voice when he offered salah with his sahabah while reciting the Quran. When the idolaters heard him, they abused the Qur’an and him who brought it, Allah said to His Prophet: "And do not raise your voice in your salah, that is in your recital." Lest the idolaters hear it and revile the Qur’an, "And do not speak low", with your sahabah, but "Seek a middle course between." [Ahmed 1853, Bukhari 4722, Muslim 446, Nisai 1007]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)