Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 115 of 199

2346Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَحِيزَتْ: جُمِعَتْ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ نَحْوَهُ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.

عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی ١ ؎۔

Ubaydullah ibn Mihsan Khatami (RA) reported from his father who was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who wakes up in the morning peaceful among his people, healthy in body, his provision for the day with him, then it is as though the world is brought together for him.” [Ibn e Majah4141]

حسن، ابن ماجة (4141) حسن، ابن ماجة (4141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346 اس سند سے بھی عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اس باب میں ابوالدرداء ؓ سے بھی روایت ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف مروان بن معاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور «حيزت» کا مطلب یہ ہے کہ جمع کی گئی۔
Notes · وضاحت
؎: مفہوم یہ ہے کہ امن و صحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جو امن و صحت والی نہ ہو، گویا انسان کو مال و دولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ امن و سکون اور راحت و آسائش اسی میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٤١) (تحفة الأشراف: ٩٧٣٩) (حسن ) انظر ماقبلہ (حسن )
2347Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ نَفَضَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ .

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اور اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، نماز میں جسے راحت ملتی ہو، اپنے رب کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرنے والا ہو، اور خلوت میں بھی اس کا مطیع و فرماں بردار رہا ہو، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہا ہو کہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اور اس کا رزق بقدر «کفاف» ہو پھر بھی اس پر صابر رہے، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور فرمایا: جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو ۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The most enviable of my friends to me is the believer with a light property, much devoted to salah , excellent in worship of his Lord, obeying Him in private, obscure among people, not pointed out with fingers, and his provision is enough and he is content over that.” Then, he snapped his fingers and said, “His time comes soon, there being few women to mourn him and his legacy is little.”--From the same sanad from the Prophet.--He said, “My Lord offered me to make the valley atha of Makkah full of gold for me. I said: O Lord, but I wish to be satiated one day and hungry the next day--or, he said: three days, or something like that--”when I am hungry, let me beseech You and remember You and when I am satiated, let me thank you and praise you.” [Ibn e Majah 4117, Ahmed 22252]

ضعيف، المشکاة (5189 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1397) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2347
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٩٠٩) (ضعیف) (یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، عبیداللہ بن زحرعن علی بن یزید عن القاسم سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ٣٦٤ )
2348Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «کفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنادیا ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He has succeeded who has submitted to Islam, given enough provision with which Allah has made him content.” [Ahmed 6583, Muslim 1054, Ibn e Majah4138]

صحيح، ابن ماجة (4138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2348
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آخرت کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اسلام ہے، اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتے، اسی طرح بقدر ضرورت اور برابر سرابر والی زندگی میں جو امن و سکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، گویا بقدر کفاف روزی کے ساتھ قناعت و استغنا کامل جانا امن و سکون کی ضمانت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٤)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٨) (تحفة الأشراف: ٨٨٤٨)، و مسند احمد (٢/١٦٨، ١٧٣) (صحیح )
2349Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّأَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ ، قَالَ: وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ: حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مبارکبادی ہو اس شخص کو جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اسے بقدر «کفاف» روزی ملی پھر وہ اسی پر قانع و مطمئن رہا ۔

Sayyidinah Fadalah ibn Ubayd reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Blessed is he who is guided to Islam and his sustenance is enough and he shows contentment.’ [Ahmed 2399]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 11)، الصحيحة (1506)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2349
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوہانی کا نام حمید بن ہانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١١٠٣٣) (صحیح )
2350Sunan At-Tirmidhi

فقر کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ .

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو ، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو ، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اسی طرح تین دفعہ کہا تو آپ نے فرمایا: اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو فقر و محتاجی کا ٹاٹ تیار رکھو اس لیے کہ جو شخص مجھے دوست بنانا چاہتا ہے اس کی طرف فقر اتنی تیزی سے جاتا ہے کہ اتنا تیز سیلاب کا پانی بھی اپنے بہاؤ کے رخ پر نہیں جاتا ۔

Sayyidina Abdullah ibn Muhghaffal reported that a man said to the Prophet ﷺ “O Messenger of Allah! ﷺ By Allah, I love you.” He said, “Think over what you say.., He said, “By Allah, I do love you.” He said that three times. He said, “If you love me then be prepared for poverty as your armour, for, poverty comes running to one who loves me more swiftly than the flood that flows down to its outlet.”

ضعيف، الضعيفة (1681) // ضعيف الجامع الصغير (1297) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2350
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٦٤٧) (ضعیف) (سند میں ” جابر بن عمرو ابو الوازع “ وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اور اسی لیے یہ منکر حدیث روایت کردی، دیکھیے الضعیفہ رقم: ١٦٨١ )
2351Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The poor of the muhajirs will enter Paradise preceding their rich by five hundred years.” [Ibn e Majah4123]

صحيح، ابن ماجة (4123)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2351
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس لیے کہ غریب مہاجر کے پاس چونکہ مال کم تھا، اس لیے انہیں حساب و کتاب میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی، جب کہ مالدار مہاجرین کو مال کے حساب میں بہت تاخیر ہوگی، اس سے غریب کی فضیلت معلوم ہوئی۔ آخرت کا آدھا دن دنیا کے پانچ سو سال کے برابر ہوگا، اس لحاظ سے جس حدیث میں آدھے دن کا ذکر ہے اس سے آخرت کا آدھا دن مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٦ (٤١٢٣) (تحفة الأشراف: ٤٢٠٧) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
2352Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساکين يوم القيامة» یا اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا ، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا ٢ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed: (O Allah, cause me to live among the poor and to die among them, and on the day of resurrection, gather me among the group of the poor. Sayyidah Ayshah (RA) asked, “Why, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “They will enter Paradise, preceding their rich by forty years. O Ayshah, do not turn away the poor even if you give her half a date. O Ayshah, love the poor and draw them near, Allah will draw you near on the day of resurrection.”

(حديث أنس: اللهم أحيني ... ) صحيح، (من أول قول عائشة: لم يا رسول الله؟ قال: إنهم يدخلون .... ) ضعيف جدا (حديث أنس: اللهم أحيني ... )، ابن ماجة (4126) // صحيح سنن ابن ماجة باختصار السند برقم (3328) //، (من أول قول عائشة: لم يا رسول الله؟ .... )، الإرواء (3 / 359) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (861) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2352
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Notes · وضاحت
٢ ؎: اس حدیث میں تواضع کے اپنانے اور کبر و نخوت سے دور رہنے کی ترغیب ہے، ساتھ ہی فقراء مساکین سے محبت اور ان سے قربت اختیار کرنے کی تعلیم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥١٩) (صحیح )
2353Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو برس پہلے داخل ہوں گے اور یہ قیامت کے آدھا دن کے برابر ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The poor will enter Paradise preceding the rich by five hundred years (which is) half of that day.” [Ibn e Majah4122, Ahmed 9830]

حسن صحيح، ابن ماجة (4122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے، جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے، مدت میں فرق فقراء کے درجات و مراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے، معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب و درجات کے لحاظ سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٦ (٤١٢٢) (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٩) (حسن صحیح )
2355Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The poor of the Muslims will enter Paradise preceding their rich by forty years.” [Ahmed 14483]

صحيح بلفظ: ... فقراء المهاجرين ... // ضعيف الجامع الصغير (6423) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2355
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٥٠٣)، وانظر مسند احمد (٣/٣٢٤) (صحیح) (فقراء المہاجرین کے لفظ سے صحیح ہے )
2354Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “They poor of the Muslims will enter Paradise before their rich half a day ahead and that is five hundred years.” [Ahmed 10659]

حسن صحيح انظر الحديث (2472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2354
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٩) (حسن صحیح )
2356Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِي، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىعَائِشَةَ فَدَعَتْ لِي بِطَعَامٍ، وَقَالَتْ: مَا أَشْبَعُ مِنْ طَعَامٍ فَأَشَاءُ أَنْ أَبْكِيَ إِلَّا بَكَيْتُ، قَالَ: قُلْتُ: لِمَ ؟ قَالَتْ: أَذْكُرُ الْحَالَ الَّتِي فَارَقَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا وَاللَّهِ مَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمارے لیے کھانا طلب کیا اور کہا کہ میں کسی کھانے سے سیر نہیں ہوتی ہوں کہ رونا چاہتی ہوں پھر رونے لگتی ہوں۔ میں نے سوال کیا: ایسا کیوں؟ عائشہ ؓ نے کہا: میں اس حالت کو یاد کرتی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا، اللہ کی قسم! آپ روٹی اور گوشت سے ایک دن میں دو بار کبھی سیر نہیں ہوئے۔

Masruq narrated: I visited Sayyidah Ayshah (RA) and she ordered food to be served to me. She said, “Never do I eat to a full stomach but feel like crying and I cry.” I asked her, “Why?” She said, “I recall the condition in which Allah’s Messenger (RA) departed from this world. By Allah, he never had bread and meat to a full belly twice a day.” [Muslim 2974]

ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 109)، مختصر الشمائل (128)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2356
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي بعدہ (تحفة الأشراف: ١٧٦٢٧) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، اگلی روایت صحیح ہے جس کا سیاق اس حدیث کے سیاق سے قدرے مختلف ہے )
2357Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَيُحَدِّثُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو روز متواتر جو کی روٹی کبھی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ never had barley bread to his content for two successive days till he died. [Muslim 2970]

صحيح مختصر الشمائل (123)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٧٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٩ (٣٣٤٦) (تحفة الأشراف: ١٦٠١٤) (صحیح )
2358Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ العَلاءِ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثًا تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل خانہ نے مسلسل تین دن تک گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ and his family never had wheat bread for three consecutive days to a full stomach till he died. [Muslim 2976, Ibn e Majah3343]

صحيح، ابن ماجة (3343)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2358
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١٤) نحوہ)، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٧٦)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٨ (٣٣٤٣) (تحفة الأشراف: ١٣٤٤٠) (صحیح )
2359Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ هَذَا كُوفِيٌّ، وَأَبُو بُكَيْرٍ وَالِدُ يَحْيَى رَوَى لَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ مِصْرِيٌّ صَاحِبُ اللَّيْثِ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے گھر سے جو کی روٹی (اہل خانہ کی) ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that in the house of Allah’s Messenger ﷺ there never was more barley bread than necessary.

صحيح مختصر الشمائل (124)، التعليق الرغيب (4 / 110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2359
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یحییٰ بن ابی بکیر کوفی ہیں، ابوبکیر جو یحییٰ کے والد ہیں سفیان ثوری نے ان کی حدیث روایت کی ہے، ٣ - یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر مصری ہیں اور لیث کے شاگرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گھر میں آٹے کی مقدار اتنی کم ہوتی تھی کہ اس سے بمشکل آپ کے گھر والوں کی ضرورت پوری ہوتی، کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو ہمیشہ اپنے پر ترجیح دیتے تھے اور «ويؤثرون علی أنفسهم ولو کان بهم خصاصة» (الحشر: ٩ ) کا کامل نمونہ تھے، بقدر کفاف زندگی گزارنا پسند کرتے تھے، اسی لیے جو کی روٹی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٧٠)، وانظر مسند احمد (٥/٢٥٣) (صحیح )
2360Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً وَكَانَ أَكْثَرُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والے مسلسل کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے، اور رات کا کھانا نہیں پاتے تھے۔ اور ان کی اکثر خوراک جو کی روٹی ہوتی تھی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ passed many nights together on an empty stomach and his family did not find food for the evening meal. And most of their diet consisted of barley bread. [Ibn e Majah3347]

حسن، ابن ماجة (3347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2360
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٩ (٣٣٤٧) (تحفة الأشراف: ٦٢٣٣) (حسن )
2361Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ! محمد ﷺ کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed (O Allah, let the provision of the family of Muhammad be enough for subsistence). [Bukhari 6460, Muslim 1055, Ibn e Majah4139, Ahmed 10241]

صحيح، ابن ماجة (4136)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2361
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ ایسی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے جو دنیوی آلائشوں اور آرام و آسائش سے پاک ہو، کیونکہ بعثت نبوی کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا کے ہنگاموں، مشاغل اور زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کریں، اسی لیے آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں مذکورہ دعا فرمائی، آپ کی اس دعا سے علماء اور داعیان اسلام کو نصیحت حاصل کرنا چاہیئے کہ ہماری زندگی سادگی کا نمونہ اور دنیاوی تکلفات سے پاک ہو، اگر اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو مالدار صحابہ کرام کا کردار ہمارے پیش نظر ہونا چاہیئے تاہم مال و دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ اس کے لیے ہر قسم کا حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرنا چاہیئے خواہ اس حربے اور ہتھکنڈے کا استعمال کسی دینی کام کے آڑ میں ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٥)، والزہد ١ (١٠٥٥/١٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٦) (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٢، ٤٤٦، ٤٨١) (صحیح )
2362Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ never stored anything for next day

صحيح مختصر الشمائل (304)، التعليق الرغيب (2 / 42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2362
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - یہ حدیث «عن جعفر بن سليمان عن ثابت عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٧٣) (صحیح )
2363Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چوکی (یا میز) پر کھانا کبھی نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی باریک آٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کر گئے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ never ate on a (small) table and he never ate thin bread till he died. [Bukhari 6450, Ibn e Majah3293]

صحيح، ابن ماجة (3292 و 3293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث سعید بن ابی عروبہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٧٨٨ (تحفة الأشراف: ١١٧٤) (صحیح )
2364Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ يَعْنِي الْحُوَّارَى، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ، قِيلَ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ ؟ قَالَ: كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ ثُمَّ نُثَرِّيهِ فَنَعْجِنُهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی میدہ کی روٹی کھائی ہے؟ سہل نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ نے میدہ کی روٹی دیکھی بھی نہیں یہاں تک کہ رحلت فرما گئے۔ پھر ان سے پوچھا گیا: کیا آپ لوگوں کے پاس عہد نبوی میں چھلنی تھی؟ کہا ہم لوگوں کے پاس چھلنی نہیں تھی۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جو کے آٹے کو کیسے صاف کرتے تھے؟ تو کہا: پہلے ہم اس میں پھونکیں مارتے تھے تو جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا تھا پھر ہم اس میں پانی ڈال کر اسے گوندھ لیتے تھے۔

Sayyidina Sahl ibn Sad was asked whether Allah’s Messenger ﷺ ever ate white flour and he said “Allah’s Messenger did not see white flour till he met Allah.” He was asked “Did you have a sieve in the Prophet’s times?” He said, “We did not have a sieve (in his times).” He was asked. “Then how did you sift barley flour?” He said, “We used to blow, so what had to blow off below away and we poured water on the rest and kneaded the mixture.” [B5413, Ibn e Majah3335]

صحيح، ابن ماجة (3335)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2364
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو مالک بن انس نے بھی ابوحازم سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١٣) (وانظر أیضا: ٥٤١٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٤ (٣٣٣٥) (تحفة الأشراف: ٤٧٠٤)، و مسند احمد (٥/٣٣٢) (صحیح )
2365Sunan At-Tirmidhi

صحابہ کرام کے رہن سہن کے بارے میں

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ أَهْرَاقَ دَمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَغْزُو فِي الْعِصَابَةِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَأْكُلُ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ وَالْحُبُلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ أَوِ الْبَعِيرُ وَأَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي فِي الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں خون بہایا (یعنی کافر کو قتل کیا) اور میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا، میں نے اپنے آپ کو محمد ﷺ کے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے دیکھا ہے، کھانے کے لیے ہم درختوں کے پتے اور «حبلہ» (خاردار درخت کے پھل) کے علاوہ اور کچھ نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ ہم لوگ بکریوں اور اونٹوں کی طرح قضائے حاجت میں مینگنیاں نکالتے تھے، اور قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں طعن و تشنیع کرتے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے تمام اعمال ضائع و برباد ہوگئے ١ ؎۔

Sayyidina Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) narrated: I was the first person to to shed blood in he path of Allah and I was the first person to shoot an arrow in the path of Allah. Indeed. I remember well that I participated in battles with a group of the companions of Muhammad and we did not eat but leaves of trees and bean (or acacia) so that we passed stool like the droppings of sheep and camels. Then the people of Banu Asad censured me about religion and I feared that in that case my deeds were wasted.

صحيح مختصر الشمائل (114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2365
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد ؓ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب بعض جاہل لوگوں نے آپ پر چند الزامات لگائے تھے، ان الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ کو ٹھیک سے نماز پڑھنا نہیں آتی، یہ آپ کے کوفہ کے گورنری کے وقت کی بات ہے، اور شکایت خلیفہ وقت عمر فاروق ؓ سے کی گئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٥ (٣٨٢٨)، والأطعمة ٢٣ (٥٤١٢)، والرقاق ١٧ (٦٤٥٣)، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٣١) (تحفة الأشراف: ٣٩١٣)، و مسند احمد (١/١٧٤، ١٨١، ١٨٦) (صحیح )