نماز میں کنکریاں ہٹانا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ .
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے ١ ؎ کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When one of you stands up for prayer, he must not brush aside the pebbles, for, indeed, the mercy is in front of him.
ضعيف، ابن ماجة (1027)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوذر کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں معیقیب، علی بن ابی طالب، حذیفہ، جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے، ٤- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ نمازی نماز میں نماز کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ نہ ہو، اس لیے کہ اللہ کی رحمت اس کی جانب متوجہ ہوتی ہے، اگر وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ کرتا ہے تو اندیشہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس سے روٹھ جائے اور وہ اس سے محروم رہ جائے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٥ (٩٤٥)، سنن النسائی/السہو ٧ (١١٩٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٣ (١٠٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١١٩٩٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (ابو الأحوص لین الحدیث ہیں)