Sunan At-Tirmidhi 373

نماز کا بیان

373Sunan At-Tirmidhi

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا . وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ . قَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: وَالْعَمَلُ عَلَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ كَأَنَّهُمَا رَأَيَا كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا مَعْمُولًا بِهِمَا.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہوجاتی۔

Sayyidah Hafsah (RA) the Prophet’s wife, said, “I had never seen Allah’s Messenger ﷺ offer the optional salah sitting down till one year before his death he began to offer it sitting down and whichever surah he recited in it, he recited with pauses till it became lengthier than it was.”

صحيح، صفة الصلاة // 60 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حفصہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہے، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔ ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آپ ﷺ کا اجر امتیوں کی طرح آدھا نہیں ہے، یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٩ (١٦٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨١٢)، موطا امام مالک/الجماعة ٧ (٢١)، مسند احمد (٦/٢٨٥) (صحیح)