Sunan At-Tirmidhi 362

نماز کا بیان

362Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا . وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) said that in his illness before death.Allahs Messenger ﷺ prayed sitting down by the side of Sayyidina Abu Bakr

صحيح، ابن ماجة (1232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 362
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے ابوبکر ؓ کے پہلو میں نماز پڑھی، لوگ ابوبکر ؓ کی اقتداء کر رہے تھے اور ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٨ (٧٨٧)، ولیس عندہ ” قاعداً “ ( تحفة الأشراف: ١٧٦١٢)، مسند احمد (٦/١٥٩) (صحیح)