Sunan At-Tirmidhi 2975

قرآن کی تفسیر کا بیان

2975Sunan At-Tirmidhi

سورت بقرہ کے متعلق

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ سورة البقرة آية 203، وَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ 63 الثَّوْرِيُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ.

عبدالرحمٰن بن یعمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ (میں قیام) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ٢ ؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا ۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Ya’mar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hajj is Arafat. The Hajj is Arafat. The Hajj is Arafat. The days of Mina are three days. “But if any one hastens to leave in two days, there is no blame on him, and if any one stays on, there is no blame on him” (2:203) And, he who reaches Arafat before rise of dawn has indeed performed Hajj. [Abu Dawud 1949,Nisai 3016, Ibn e Majah 3015]

صحيح ومضی برقم (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2975
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ٣ - اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ٤ - اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں ارشاد باری تعالیٰ: «واذکروا اللہ في أيام معدودات فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه» کی طرف اشارہ ہے (البقرہ: ٢٠٣ )۔ ٢ ؎: یعنی: بارہ ذی الحجہ ہی کو رمی جمار کر کے واپس ہوجائے یا تین دن مکمل قیام کر کے تیرہ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی (کنکری مار) کر کے واپس ہوجائے حاجی کو اختیار ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٨٨٩ (صحیح )