Sunan At-Tirmidhi 2739

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2739Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ چھینکنے والے کے جواب میں کیا کہا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَيَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ ﷺ ان کے لیے «يرحمکم الله» اللہ تم پر رحم کرے کہیں گے۔ مگر آپ (اس موقع پر صرف) «يهديكم اللہ ويصلح بالکم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کر دے فرماتے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Jews would sneeze in the presence of the Prophet ﷺ hoping that he would say to them “May Allah have mercy on you.” but he only said: “May Allah guide you and correct you condition.” [Ahmed 23914, Abu Dawud 5031]

صحيح، المشکاة (4740 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابوایوب، سالم بن عبید، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی چھینک کے جواب میں صرف «يهديكم اللہ ويصلح بالکم» کہا جائے۔ اور «یرحکم اللہ» (اللہ تم پر رحم کرے) نہ کہا جائے کیونکہ اللہ کی رحمت اخروی صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٠١ (٥٠٣٨)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٨٧ (٢٣٢/م) (تحفة الأشراف: ٩٠٨٢)، و مسند احمد (٤/٤٠٠) (صحیح )